توکل علی اللہ اور اسباب کا صحیح استعمال (حسبنا اللہ ونعم الوکیل کی تفسیر)

درس نمبر 103- باب فی الیقین والتوکل - (اشاعتِ اول) 2 نومبر، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

اہم موضوعات:

  • قرآنی آیت ﴿حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ﴾ کا شانِ نزول اور پس منظر۔
    • غزوہ بدر صغریٰ اور حمراء الاسد میں صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کا توکل۔
      • اللہ کی طرف سے توکل کرنے والوں کے لیے تین عظیم انعامات (دشمن پر رعب، مالی فضل، اور اللہ کی رضا)۔
        • ظاہری اسباب کو اختیار کرنے اور ان پر بھروسہ نہ کرنے کے درمیان فرق۔
          • کامیابی کا تین نکاتی طریقہ: اللہ پر نظر، اسباب کا استعمال، اور دعا۔


            الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.

            مسلمانوں کے لئے اللہ ہی کافی ہے

            وَقَالَ تَعَالٰی: ﴿اَلَّذِيْنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ اِيْمَانًا ۖ وَّقَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ۔ فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَفَضْلٍ لَّمْ یَمْسَسْهُمْ سُوْٓءٌ وَّاتَّبَعُوْا رِضْوَانَ اللّٰهِ ؕ وَاللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَظِیْمٍ﴾ (آل عمران: 173-174)

            ترجمہ: ارشادِ باری تعالیٰ: ”جب ان سے لوگوں نے آکر بیان کیا کہ کفار نے تمہارے (مقابلہ) کے لئے (لشکر کثیر) جمع کیا ہے تو ان سے ڈرو تو ان کا ایمان اور زیادہ ہوگیا اور کہنے لگے ہم کو خدا کافی ہے اور وہ بہت اچھا کارساز ہے پھر وہ خدا کی نعمتوں اور اس کے فضل کے ساتھ (خوش وخرم) واپس آئے تو ان کو کسی قسم کا ضرر نہ پہنچا اور وہ خدا کی خوشنودی کے تابع رہے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے۔“

            «اَلَّذِيْنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا»: جب ان سے لوگوں نے آکر بیان کیا کہ کفار نے تمہارے لئے لشکر جمع کیا ہے۔ اس آیت سے مراد مجاہد، عکرمہ، مقاتل وغیرہ کے نزدیک نعیم بن مسعود اشجعی ہے جو ابوسفیان اور اس کے مشرک ساتھیوں کی خبر لے کر مدینہ میں اس وقت آئے جب آپﷺ غزوہ بدر صغریٰ کی تیاری میں مصروف تھے۔

            بعض مفسرین کہتے ہیں کہ ”النَّاس“ سے مراد عبدالقیس کے وہ شتر سوار ہیں جو ابوسفیان کی طرف سے اس وقت خدمت میں آئے جب آپﷺ حمراء اسد میں تھے۔

            اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَكُمْ: یہاں پر ”النَّاس“ سے مراد ابوسفیان اور اس کے ساتھی ہیں۔

            قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَکِیْلُ: اس موقع پر مسلمانوں نے کہا کہ خدا کافی ہے اور وہ بہت اچھا کارساز ہے اس سفر میں صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم تمام راستہ اسی کا ورد کرتے رہے۔ اللہ کے کافی ہونے سے یہ مراد نہیں کہ آدمی اسبابِ دنیا کو چھوڑ دے اسبابِ ظاہری یہ بھی اللہ کا انعام ہے اس کی ناشکری نہیں کرنا چاہئے بلکہ ان اسبابِ ظاہری پر اعتماد نہ کرے کہ اس سے ہوگا بلکہ اعتماد اللہ کی ذات پر کرے کہ جو کچھ بھی ہوگا وہ ایک ہی اللہ کرے گا۔

            «فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ»: اس آیت میں ”حسبنا اللہ و نعم الوکیل“ کہنے کے فوائد اور ثمرات اور برکات کا بیان ہے کہ اس کے بدلے میں اللہ نے تین انعامات دیئے:

            1- کافروں کے دل میں رعب ڈال دیا وہ بھاگ گئے۔

            2- ان صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو حمراء الاسد کے بازار میں تجارت کا موقع ملا جس سے منافع بھی حاصل ہوئے اس کو لفظ فضل سے تعبیر کیا گیا ہے۔

            3- جو یقینی انعام ہے وہ یہ کہ ان صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو اللہ تعالیٰ کی رضا مندی نصیب ہوئی اس کو ”وَاتَّبَعُوْا رِضْوَانَ اللّٰهِ۔“ سے تعبیر کیا گیا ہے۔

            تو اس کا مطلب ہے کہ ہمیں ہر حال میں سب سے پہلے نظر کس پر رکھنی چاہیے؟ اللہ پر۔ پھر اس کے بعد اسباب اختیار کرنے چاہییں۔ اسباب اختیار نہ کرنا، یہ سنتِ الٰہی سے دور کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کو اللہ پاک نے جو اسباب دیے ہیں، ان کو اختیار کرے گا۔ مثلاً کوئی آدمی کہے گا کہ میں کان سے نہیں سننا چاہتا، میں آنکھ سے سننا چاہتا ہوں۔ تو کیا کرے گا؟ ظاہر ہے فضول بات ہوگی۔

            تو اللہ پاک نے سننے کے لیے کون سا سبب بنایا ہے؟ کان بنایا ہے۔ تو کان سے سنے گا۔ کسی کی طرف بات سنے گا تو کیا کرے گا، آنکھ کرے گا یا کان کرے گا؟ کان کرے گا۔

            تو اب یہ بات ہے، یہ ظاہری اسباب قطعی ہیں۔ لہٰذا اس کا انکار تو بہت دور لے جاتا ہے۔ بعض اسباب ایسے ہوتے ہیں جن کی فوری طور پر، وقتی طور پر ضرورت پڑتی ہے۔ تو ایسی صورت میں جتنا انسان سوچ سکتا ہے بہتر، اس کے مطابق وہ اسباب اختیار کرے۔ لیکن اللہ پاک سے نظر ہٹا کر نہیں، بلکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف نظر کر کے کہ اللہ پاک ہی مجھے فائدہ پہنچائے گا۔ ﴿حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ نِعْمَ الْمَوْلٰی وَنِعْمَ النَّصِيْرُ﴾ میں مطلب یہی ہے کہ اللہ پاک ہمارے لیے کافی ہے۔

            ہمیں جو اسباب اللہ نے دیے ہیں وہ کافی ہیں۔ ہم اوروں کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلائیں گے۔ بلکہ ہم اللہ کے دیے ہوئے اسباب پر عمل کر کے اس کے مطابق کام کریں گے۔ اصل میں تو اللہ ہی کافی ہے۔ اصل میں تو اللہ ہی کافی ہے۔ وہ انہی اسباب کے ذریعے سے ہمیں کامیابی عطا فرما دے گا۔

            تو بس یہی طریقۂ کار ہے کہ سب سے پہلے اللہ پر نظر، پھر اس کے بعد اسباب کا اختیار کرنا، پھر اس کے لیے دعا کرنا۔ تین باتیں ہو گئیں۔ ٹھیک ہے نا؟ اللہ تعالیٰ ہم سب سے راضی ہو جائے۔

            ﴿سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ ۝ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ ۝ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ﴾ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔