الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ.
أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا ٭ وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا﴾
وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى:
﴿فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ﴾
وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى:
﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ ٭ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَٰذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾
وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ:
«حُبُّ الدُّنْيَا رَأْسُ كُلِّ خَطِيئَةٍ»
صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ.
معزز علمائے کرام، مشائخ کرام، اساتذہ کرام اور میرے بزرگوں اور دوستو!
الحمد للہ، علمائے کرام موجود ہیں، میں کوئی علمی بات نہیں چھیڑنا چاہتا۔ وہ ساری چیزیں آپ حضرات کو معلوم ہیں۔ بزرگوں سے سنی ہوئی باتیں، یا بزرگوں کی باتیں کچھ آپ کے سامنے لانا چاہوں گا، وہ بھی اس لیے کہ وہ امانت ہیں۔
ابھی حضرت نے انتہائی خوبصورت انداز میں سلاسل کے جوڑ بتائے۔ یہ سلاسل آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اور ہر سلسلے کا دوسرے سلسلے پہ اثر ہے۔ اس وجہ سے آج کل کے دور میں کوئی سلسلہ خالص مل ہی نہیں سکتا۔ کوئی خالص نقشبندی نہیں ملے گا، کوئی خالص چشتی نہیں ملے گا، کوئی خالص سہروردی نہیں ملے گا، کوئی خالص قادری نہیں ملے گا، کوئی خالص کبروی نہیں ملے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سارے سلسلے آپس میں ملے ہوئے ہیں۔
اب نقشبندی حضرات کے سرخیل حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ خود چشتی بھی تھے، نقشبندی تو تھے ہی، قادری بھی تھے، اور کبروی بھی تھے۔ تو کیا کہیں گے؟ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ، کیا ایک سلسلہ تھا ان کا؟ حضرت شیخ عبدالقدوس گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ، کیا ایک سلسلہ ان کا تھا؟ حضرت مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ، کیا ان کا ایک سلسلہ تھا؟ حضرت مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ، کیا ان کا ایک سلسلہ تھا؟ نہیں، ایک سے زیادہ۔ تو یہ جو ایک سے زیادہ سلسلے ہوتے ہیں، یہ اس بات کی علامت اور دلیل ہے کہ سلسلوں کی جو تفضیل کی بات کرتے ہیں بعض حضرات اپنے سلسلے کے ساتھ محبت کی وجہ سے... تو یقیناً محبت تو اچھی بات ہے۔ وحدتِ مطلب اچھی بات ہے۔ اپنے شیخ کی مدح کرنا اچھی بات ہے، اس کو اپنے لیے انتہائی مفید سمجھنا اچھی بات ہے۔ لیکن کسی کو یہ حق نہیں کہ اپنے شیخ کو سب سے افضل سمجھے۔ کیونکہ یہ فیصلہ اللہ جل شانہٗ کرے گا، یہ ہم نہیں کر سکتے۔
تو اسی طریقے سے سلسلے کی بات ہے کہ ہم کسی بھی سلسلے سے فیض لے سکتے ہیں۔ یہ کہہ سکتے ہیں کہ فلاں پر اس سلسلے کا غلبہ تھا یا اس سلسلے کے ساتھ مناسبت تھی۔ یہ بات تو ہونی بھی چاہیے اور ہوتی بھی ہے۔ اب حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ پر آخر وقت میں نقشبندی سلسلے کا غلبہ تھا اور نقشبندی سلسلے کو فروغ بہت زیادہ دیا ہے۔ اسی طریقے سے حضرت ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ، ان پہ چشتی سلسلے کا غلبہ تھا۔ لیکن کمال کی بات یہ ہے کہ حضرت مجھے خود ارشاد فرماتے ہیں ایک موقع پہ کہ میں پہلے بھی یہ سمجھ رہا تھا اور اب تو یقین ہو گیا کہ آپ کی مناسبت نقشبندی سلسلے سے ہے۔ اور پھر دعائیں شروع کر لیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو نقشبندی سلسلے کے جملہ فیوض و برکات دے، اور یہ دے دے، اور یہ دے دے، اور یہ... دل سے دعائیں کر رہے ہیں۔
یہ کیا چیز ہے؟ یہ اخلاص ہے۔ اور وجہ یہ ہے کہ یہ سلسلے بذاتِ خود مقصود ہیں نہیں، یہ تو ذرائع ہیں۔ مقصود کیا ہے؟ اللہ جل شانہٗ کو راضی کرنا، اللہ جل شانہٗ کو راضی کرنا۔
حضرت مولانا عبدالحفیظ مکی صاحب رحمۃ اللہ علیہ اپنی سوانح میں لکھتے ہیں کہ میرے والد صاحب نے حضرت سے کہا تھا کہ عبدالحفیظ میرے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔ اس کے بعد England چلا جائے گا اور پھر میرے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ حضرت نے فرمایا ان شاء اللہ ہمارے پاس آئے گا۔ جماعت میں وقت لگانے کے بعد حضرت کے پاس چلے گئے اور بقولِ خود بہت سارے سوالات ذہن میں رکھے ہوئے تھے۔ کہ حضرت یہ فرمائے گا تو میں یہ کہوں گا، یہ فرمائے گا تو میں یہ کروں گا، یہ فرمائے گا تو میں یہ کہوں گا۔
حضرت کے پاس جب پہنچ گئے تو حضرت لیٹے ہوئے تھے۔ علیک سلیک کے بعد پوچھا، حضرت! بیعت کرنا ضروری ہے؟ فرمایا نہیں، بالکل نہیں۔ اب جو سوالات کا تسلسل ذہن میں بنایا تھا وہ تو ٹوٹ گیا۔ ذہن میں تو یہ تھا کہ فرمائیں گے ضروری ہے، آخر ایک صوفی سے یہی توقع رکھی جا سکتی ہے۔ اب سارا بالکل جو سلسلہ تھا ختم ہو گیا۔ لیکن ساتھ بیٹھ گئے، فرمایا لیکن تمہاری چلت پھرت بھی ضروری نہیں ہے۔ اور یہ بھی ضروری نہیں، یہ بھی ضروری نہیں، اصل چیز تو اللہ تعالیٰ کی رضا ہے۔
اب ذرا دیکھ لیں، بات صحیح ہے۔ تو یہ جتنے بھی سلسلے ہیں سارے کے سارے ذرائع ہیں، اور ذریعے کے بغیر مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ لہٰذا ذرائع کی ناقدری بھی نہیں کی جا سکتی، لیکن ذریعے کو مقصد بھی نہیں بنایا جا سکتا۔ کیونکہ ذریعے کو اگر مقصد بنایا گیا تو یہ دین میں اضافہ ہو جائے گا۔ اور دین میں اضافہ کیا چیز ہے؟ بدعت۔ تو دین میں تو اضافہ نہیں کیا جا سکتا۔ اللہ پاک فرماتے ہیں:
﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا﴾
اس وجہ سے آج کل بعض حضرات پر یہ حال طاری ہے کہ وہ اپنے سلسلے کی فضیلت بیان کر کے دوسرے سلسلوں کی تنقیص کرتے ہیں۔ فضیلت بیان کرنا چاہیے، اچھی بات ہے۔ چشتی حضرات کو چشتی سلسلے کی فضیلت بیان کرنا چاہیے، حق ہے۔ نقشبندی حضرات کو حق ہے نقشبندی سلسلے کی فضیلت بیان کریں۔ سہروردی سلسلے والے کو سہروردی سلسلے کی فضیلت بیان کرنا چاہیے۔ لیکن سہروردی نہیں کہہ سکتا کہ نقشبندی سلسلہ کم ہے۔ اس طرح نقشبندی سلسلے والا نہیں کہہ سکتا کہ چشتی سلسلہ کم ہے۔
مجھے بہت افسوس ہوا جب میں ایک نقشبندی حضرات کے اجتماع میں شامل ہوا ان کی دعوت پر، اور وہاں ممبر پر بیٹھ کے کہا گیا کہ جہاں دوسروں کی انتہا ہے، وہاں سے ہماری ابتدا ہے۔ ﴿إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ﴾! کیا شیخ خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کی انتہا سے نقشبندی سلسلے کی ابتدا ہو رہی ہے؟ کیا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی انتہا سے نقشبندی سلسلے کی ابتدا ہو رہی ہے؟ کیا مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ایسی باتیں کی ہیں؟ میں آپ حضرات کے سامنے ایک واقعہ بتانا چاہتا ہوں آپ کو۔
حضرت نے مجھے یہ ارشاد فرمایا تھا کہ تمہاری مناسبت نقشبندی ہے، میں خود تو نہ اس کا دعویٰ کرتا ہوں نہ کر سکتا تھا۔ اور میرے مکتوبات شریف کا مطالعہ سوائے تین صفحات کے زیادہ نہیں تھا۔ ساری عمر میں نے انفاسِ عیسیٰ پڑھائی ہے۔ لیکن اس کے بعد اشارہ ہوا مکتوبات شریف کی طرف، جب انفاسِ عیسیٰ ختم ہوا، اب مکتوبات شروع کیے۔ تو پہلے چار مکتوبات، بلکہ اس کے بعد بھی حضرت کے اپنے شیخ خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ کے نام ہیں۔ اب خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ اور پھر حضرت مجدد صاحب کے احوال، وہ کتنے اونچے رفیع احوال ہوں گے، تو ظاہر مطلب ہے بہت مشکل۔ نیچے Footnote میں چوتھے نمبر پہ لکھا تھا کہ اس کی باقی تفصیل آپ کو مکتوب نمبر 287 میں ملے گی۔
مکتوب نمبر 287 اٹھایا تو مدتوں سے جو سوالات میرے ذہن میں تھے، ان سب کے جوابات اس میں موجود تھے۔ اور میں حیران ہو گیا کہ حضرت نے 400 سال پہلے کیسے لکھے ہیں! ابتدا حضرت ایسے فرما رہے ہیں، موجود ہے، فارسی میں موجود ہے، تقریباً 29 صفحات کا خط ہے۔ حضرت ارشاد فرما رہے ہیں ابتدا میں، اپنے بھائی کو خط لکھا ہے: "میں دیکھ رہا ہوں کہ لوگ سلوک اور جذب کے اندر کچھ سمجھنے میں غلطیاں کر رہے ہیں۔ میرے خاطر فاتر میں آتا ہے" دیکھو ایسے الفاظ، "میرے خاطر فاتر میں آتا ہے کہ اس کے بارے میں کچھ لکھوں، تو آپ کو خط لکھ رہا ہوں۔" اور اس سے ان کے دل کی جو کڑھن ہے اس کا اندازہ ہوتا ہے کہ کس کڑھن سے خط لکھ رہے ہیں۔
پھر ایک عجیب تمہید بنائی ہے۔ تمہید یہ بنائی کہ ایک شخص ہے وہ خانہ کعبہ جا رہے ہیں طواف کے لیے، اعتکاف کے لیے، عمرے کے لیے۔ اس کو خانہ کعبہ کا پتہ نہیں کہ خانہ کعبہ کیسا ہے۔ راستے میں کسی مکان کو خانہ کعبہ سمجھ کے ادھر بیٹھ کے طواف اور اعتکاف شروع کر لیا۔ فرمایا یہ علماً بھی محروم ہے، عملاً بھی محروم ہے۔ دوسرا شخص ہے، اس کو خانہ کعبہ کا پتہ ہے، پوری ذرا تفصیلات معلوم ہیں، لیکن خود نہیں پہنچے، خود گئے نہیں۔ تو یہ علماً تو محروم نہیں لیکن عملاً محروم ہے۔ تیسرا شخص ہے جو کہ خانہ کعبہ کی طرف چل بھی پڑے، خانہ کعبہ معلوم بھی ہے، لیکن پہنچے ابھی نہیں ہیں۔ یہ نہ علماً محروم ہے نہ عملاً محروم ہے، لیکن پہنچے بھی نہیں۔ اور چوتھا پہنچ گیا، یہی کامل ہے، یہی پہنچا سکتے ہیں۔
حضرت نے فرمایا، ہمارے بڑے خواجہ بہاء الدین نقشبند رحمۃ اللہ علیہ نے... آج میں الحمد للہ حضرت کی تحریر سے بہت بڑی بات، جو اہم بات ہے عرض کرنا چاہتا ہوں۔ ہمارے بڑے حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند رحمۃ اللہ علیہ نے جذبِ وہبی جو ہوتا تھا، اس کو ضرورتاً پہلے لے آئے جذبِ کسبی کے طور پر اس کا طریقہ دریافت کر لیا۔ گویا کہ جو سب سلسلوں کو اخیر میں مل رہا تھا، وہ اس کو ابتدا میں کر لیا انتظامی طور پر۔ یہ صورتاً جذب ہے، حقیقتاً جذب کے ساتھ اس کا کوئی وہ نہیں... یہ زمین و آسمان کا فرق ہے۔ پتہ چل گیا نا؟
اب جو کہتے ہیں دوسروں کی انتہا... دوسروں کی انتہا کیا تھی؟ جذبِ وہبی تھا، اور ہماری جذبِ کسبی سے ابتدا ہوتی ہے۔ تو لہٰذا ہمارے ہاں سے ابتدا ہوتی ہے، کتنی بڑی غلط فہمی ہے! حضرت فرماتے ہیں کہ صورتاً تو ہے اُس طرح، لیکن حقیقتاً یہ 180 درجے کا فرق ہے۔ اس جیسا نہیں ہے، صورتاً ہے، حقیقتاً نہیں ہے۔ اور یہ صرف ضرورتاً ہے۔
اب جب یہ پہلے کر دیا تو اس کے بعد یہ جذبِ کسبی جب حاصل ہوجائے تو بعض لوگوں کو یہ خیال ہوتا ہے، یہ حضرت فرما رہے ہیں، الفاظ کچھ میرے ہیں لیکن آپ اس کو پڑھ سکتے ہیں۔ بعض لوگوں کو خیال ہوتا ہے کہ وہ جو جذب کے اندر جو تبدیلیاں آتی ہیں مختلف حالات میں، وہ سمجھتے ہیں سلوک بھی ساتھ طے ہو گیا ہے۔ حالانکہ سلوک ابھی طے نہیں ہوا۔ سلوک تو جذبِ کسبی کے بعد طے کرنا پڑے گا۔ اور جب تک کسی نے دس مقامات تفصیلی طے نہیں کیے، وہ کامل نہیں ہے۔
اگر کسی میں ہوشیاری آجائے اس دوران، ہوشیاری، کیونکہ جذب کے ساتھ سکر آتا ہے، صحو نہیں آتا۔ لیکن اگر کسی میں صحو آجائے کسی وجہ سے، Control کر لے اپنے آپ کو، اور آگے نہ جائے، تو یہ شخص مجذوبِ متمکن ہے۔ یہ لفظ میں نے حضرت کے مکتوبات میں دیکھا، کسی اور جگہ نہیں پڑھا۔ یہ مجذوب متمکن ہے۔ یہ شخص نہ خود پہنچا ہے، نہ دوسروں کو پہنچا سکتا ہے۔ اس کو چاہیے کہ راستے کا ڈاکو نہ بنے، بلکہ اس کو منتہیٰ مرجوع کی طرف لوگوں کو بھیجنا چاہیے۔ بس اس طرح شیخِ تعلیم بن سکتا ہے کہ منتہیٰ مرجوع کی طرف لوگوں کو بھیج دے، خود جو ہے نا یہ شیخِ کامل نہ بنے۔
پھر تفصیل کے ساتھ ساری باتیں بتائی ہیں، اور یہاں تک بتایا کہ ایسے شخص... اس کی توجہ کی قوت زیادہ ہوتی ہے، لوگ زیادہ متاثر ہوتے ہیں اس سے، لیکن اس پہ دھوکہ نہیں کھانا چاہیے۔ پتہ چل گیا کہ بعض حضرات ذرا جلدی مچا لیتے ہیں، نتیجتاً وہ جذبِ کسبی کو جذبِ وہبی سمجھنے لگتے ہیں۔ اور پھر اپنے آپ کو کامل سمجھ کر، نفس ان کا فعال ہوتا ہے، نفس کی اصلاح نہیں ہو چکی ہوتی ہے، اپنی اس جذب کو اپنی خواہشات کے لیے استعمال کرنا شروع کر لیتے ہیں۔ یہ بہت خطرناک بات ہے۔
یہ بات جس وقت آئی سامنے تو میں تو تھرا گیا۔ یقیناً بہت ڈرانے والی بات بھی تھی اور ذمہ داری کی بات بھی تھی۔ اب جیسے میں آپ کے سامنے عرض کروں، تو یہ میرا مقام تو نہیں کہ آپ کے سامنے عرض کروں، لیکن کہا گیا ہے، اب میں کیا کروں؟ ایسا ہوا کہ اس کے بعد میں گومگو کی حالت میں ہو گیا کہ ایک، دو، تین، چار کے بعد میں 287 کا درس کیسے دوں؟ یہ تو ہو نہیں سکتا، لوگ کیا کہیں گے؟
حضرت کی زیارت ہوئی، حضرت نے فرمایا یہ نمبر میں نے نہیں لگائے، لوگوں نے لگائے ہیں، آپ جس ترتیب سے پڑھانا چاہیں اس ترتیب سے پڑھائیں۔ اس سے پتہ چلا کہ ایک تو حضرت کی منشا ہے کہ اس کو آگے کیا جائے۔ دوسرا یہ کہ ترتیب کا خیال رکھنا ضروری نہیں ہے، مقصد کو سامنے رکھنا ضروری ہے کہ کس وقت کس چیز کی ضرورت ہے۔ تو توکلتُ علی اللہ ہم نے شروع کیا اور 16 درس اس کے ہو گئے۔ چار دفعہ یہ پڑھا گیا، Group discussions ہو گئے، اس کے بعد یہ کتاب اس سے وجود میں آگئی، جس کا نام الحمد للہ، ثم الحمد للہ حضرت کی زیارت ہوئی تھی انہوں نے رکھا 'حقیقتِ جذب و سلوک'۔ یہ وہ کتاب ہے۔
اللہ کا شکر ہے، الحمد للہ اس سے بہت فائدہ ہوا، سامنے چیزیں آگئیں۔ پھر اس کے بعد 209 نمبر مکتوب آگیا۔ اس کے بارے میں فرمایا گیا 'حقیقتِ محمدی' کے بارے میں، کہ ممکن ہے اللہ پاک اس سے ہمیں ایک کتاب عطا فرما دے۔ پتہ چلا کہ اس میں کتاب بنانے کا ہے... اور پھر اس کے بعد مکتوب نمبر 234 میں توحید کے بارے میں تھا۔ تو اس وقت فرمایا کہ اس کو مکتوب نمبر 234 میں جو توحید ہے اور وہاں جو مقامِ محمدی ہے، اس کو ملا کے 'حقیقتِ توحید و رسالت' نام سے شائع کیا جائے۔ ابھی چھپی نہیں ہے وہ، ان شاء اللہ چھپ جائے گی، ابھی تقریظوں کے لیے دی ہوئی ہے۔
مقصد میں عرض کرتا ہوں کہ دیکھیں جو چیزیں چلی آ رہی تھیں جس کی وجہ سے لوگ confuse ہو رہے تھے، یہ حضرت کی طرف سے اصلاح ہو گئی۔ آپ حضرات شاید جانتے ہوں گے مولانا عبدالحفیظ مکی صاحب صاحبِ کشف تھے تو گئے تھے نظام الدین، وہاں گئے تو ادھر سے حضرت کے مزار پر بھی چلے گئے۔ تو حضرت کے مزار پر بیٹھے ہوئے تھے تو بہت زیادہ اس طرح ادب سے بیٹھے ہوئے تھے کیونکہ نقشبندی حضرات کا وقار مشہور ہے۔ تو حضرت کی طرف سے اشارہ ہوا، میں چشتی بھی ہوں سیدھی طرح بیٹھو! میں چشتی بھی ہوں سیدھی طرح بیٹھو!
یہ اصل میں درمیان میں جو فاصلے قائم کیے گئے ہیں نا یہ ٹھیک نہیں ہے۔ فاصلے قائم نہیں ہونے چاہیے۔ اصل میں حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی فرمایا ہے، نقشبندی شیخ کے سامنے کچھ چشتی بھی ہونے چاہیے اور چشتی شیخ کے پاس کچھ نقشبندی بھی ہونے چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ تشکیل اللہ کی ہوتی ہے کہ مزاج کیا دیتے ہیں۔ مثلاً ایک بچہ ہے اس میں doctor بننے کی صلاحیت ہے، دوسرے بچے میں، اس کا بھائی ہے، اس میں engineer بننے کی صلاحیت ہے۔ اب اگر engineer والے کو doctor بنا دیں اور doctor والے کو engineer بنا دیں، نتیجہ کیا ہوگا؟ ظاہر ہے اس کا فائدہ کم ہوگا۔
تو اسی طریقے سے اگر کسی کو نقشبندی مزاج دیا گیا تو اس کو نقشبندی طریقے سے چلانا چاہیے، اور اگر کسی کو چشتی بنایا گیا ہے تو اس کو چشتی طریقے سے چلانا چاہیے، تو ماشاء اللہ۔ اور اس کی مثال ہمارے اکابر نے یہ بھی دی کہ مرغی کے نیچے بطخ کا انڈا رکھا جائے نا تو اس سے بطخ ہی نکلے گا۔ مرغی کے نیچے اگر بطخ کا انڈا رکھا جائے تو اس سے بطخ ہی نکلے گا۔ لہٰذا یہ نسبتیں جو ہے نا خود اللہ پاک نے چونکہ تقسیم کی ہوتی ہیں، اس میں یہ نہیں ہونا چاہیے۔ اس وجہ سے ہمارے جیسے جس مقصد کے پیش نظر ہمارے حضرات نے چاروں سلسلوں میں اجازتیں دینی شروع کیں، تاکہ لوگ آپس میں ان کو الجھائیں نہیں، اور بلکہ سارے سلسلوں کو اہم سمجھیں، تو چاروں سلسلوں میں اجازت دیتے تھے، اور کسی ایک سلسلے میں تربیت فرماتے تھے۔
تو اسی طریقے سے الحمد للہ، اللہ جل شانہٗ کے فضل و کرم سے حکم سے ہم نے بھی ذکر جو شروع کیا ہے، وہ چاروں سلسلوں کا شروع کیا ہے۔ ہم عرصہ دراز تک چشتی سلسلے کا ذکر کراتے رہے ہیں اجتماعی۔ ایک اور بات بھی عرض کرتا ہوں، بہت سارے حضرات سوچتے ہیں اور بلکہ کہتے بھی ہیں کہ اجتماعی ذکر تو نہیں ہے، ہمارے صوفی اقبال صاحب رحمۃ اللہ علیہ نہیں کرتے تھے، حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ نہیں کرتے تھے، اس طریقے سے ہمارے اور اکابر نہیں کرتے تھے۔ تو ایک صاحب وہ میرے ساتھ آتے تھے اور بقول اس کے اس کو بڑا فائدہ ہوا تھا، لیکن اس نے خط لکھا مولانا مشرف علی تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو کہ شبیر صاحب ذکر اجتماعی کرا رہے ہیں تو کیا یہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا طریقہ تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں تھا، اور بات تو صحیح تھی۔ پھر انہوں نے حضرت حکیم اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو لکھا کہ مولانا مشرف علی تھانوی صاحب یہ فرما رہے ہیں، فرمایا ٹھیک فرما رہے ہیں۔
بات صحیح تھی۔ مجھے انہوں نے وہ خط دکھائے دونوں، میں نے کہا آپ نے بڑی تکلیف کی، مجھ سے پوچھتے میں بھی یہ جواب دیتا۔ یہ تو کوئی نیا جواب نہیں ہے، یہ تو حضرت تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا طریقہ نہیں ہے۔ لیکن میں آپ سے ایک سوال کرتا ہوں، کیا حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ اسی طرح چشتی ہیں جس طرح خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ تھے؟ فرمایا نہیں۔ میں نے کہا قادری بھی ہیں نا؟ کہتے ہیں ہاں۔ میں نے کہا اس طرح قادری ہیں جس طرح شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ تھے؟ کہتے نہیں، میں نے کہا کیا نقشبندی تھے؟ کہتے ہاں۔ میں نے کہا اس طرح نقشبندی جس طرح حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ؟ کہتے نہیں۔ میں نے کہا اس طرح سہروردی تھے جس طرح خواجہ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ تھے؟ کہتے نہیں۔ میں نے کہا ان چیزوں کی طرح نہ ہونے کے باوجود چشتی بھی ہیں، قادری بھی ہیں، سہروردی بھی ہیں، نقشبندی بھی ہیں، تو اس کا کیا مطلب ہے؟
مطلب اس کا یہ ہے کہ اس میں تبدیلی آتی رہتی ہے تصوف میں۔ تصوف ذریعہ ہے مقصود نہیں ہے، تو ذریعے میں تو تبدیلی آتی رہتی ہے۔ آج سے پانچ سو سال پہلے جس طریقے سے علاج ہوتا تھا جن دوائیوں سے، آج کل وہ دوائیاں ہم استعمال کر سکتے ہیں اس بیماری کے لیے؟ ظاہر ہے یہ تو Medicine ہے۔ تو تبدیلی تو آئے گی، تو تبدیلی آتی رہے گی۔ تو میں نے کہا جیسے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ چشتی بھی ہیں، نقشبندی بھی ہیں، قادری بھی ہیں، سہروردی بھی ہیں، باوجود اس کے کہ ان میں سے کسی ایک کی طرح بھی نہیں ہیں، اسی طرح میں اشرفی ہوں۔
میں اشرفی ہوں اور آپ سے زیادہ اشرفی ہوں، کیونکہ میں نے حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے اصول پر عمل کیا ہے۔ حضرت نے مقصد اور ذرائع کا جو باب بنایا ہوا ہے، انہوں نے کہا مقصد مقصد ہوتا ہے، ذریعہ ذریعہ ہوتا ہے، ذریعے کو مقصد نہیں بنانا چاہیے۔ ذریعے میں تغیر ہوتا ہے اور تغیر اس طرح چلتا رہتا ہے، اور شیخ جو ہوتا ہے وہ مجتہد ہوتا ہے، جیسا حکیم مجتہد ہوتا ہے۔ اس کو علاج کتابی نہیں کرنی چاہیے، اس کو علاج اپنے شرحِ صدر سے کرنی چاہیے۔ اب یہ باتیں ہیں یا نہیں؟ سمجھ میں آگئی بات؟
تو میں نے کہا اسی طریقے سے میں اشرفی ہوں۔ بہرحال یہ تو خیر درمیان میں ضمناً بات آگئی۔ تو ہم نے چار الحمد للہ سلسلے جو ہمارے بزرگ چلاتے تھے ان کا نمائندہ ایک ایک ذکر لے لیا۔ اور اس کو کیا۔ خدا کی شان الحمد للہ اس کی بھی تائید ہو گئی، ہمارے ایک صاحب کو چشتی سلسلے کے بڑے خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کی تائید ہو گئی، تو انہوں نے ڈرتے ڈرتے پوچھ لیا کہ حضرت ہم تو اب وہ ذکر اب کر رہے ہیں جو پہلے آپ کرتے تھے اس طرح نہیں کرتے؟
حضرت نے فرمایا وہ بھی ہمارا ہی ذکر ہے۔ ہاں اس میں ہر شخص کو اپنی اپنی نسبت کا بھی مل جاتا ہے اور شاید ساتھ اجتماعی طور پر بھی مل جاتا ہے۔ اس میں ایک حکمت ہے، مثلاً میرے سامنے جتنے آپ حضرات بیٹھے ہوئے ہیں ان میں سارے ایک تو نہیں ہوں گے نا نسبت کے لحاظ سے؟ کوئی نقشبندی نسبت کا ہو گا، کوئی چشتی ہو گا، کوئی قادری ہو گا، کوئی سہروردی ہو گا۔
اب میں اگر مراقبہ کراؤں سب کو، تو مراقبہ تو سب کو آتا نہیں۔ مراقبہ تو سب کو آتا نہیں۔ اور اگر میں اجتماعی ذکر کراؤں تو اجتماعی ذکر میں کون سا والا کراؤں؟ مختلف لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔ تو ظاہر ہے سب کا خیال اگر رکھوں گا تو سب کو فائدہ بھی ہو جائے گا۔
باقی جو اجتماعی ذکر ہے تعلیمی ذکر ہے۔ یہ اصلاحی ذکر کی کنجی آپ کہہ سکتے ہیں، تعلیمی ذکر ہے، جیسے قاری حضرات پوری کلاس کو مخارج اگر سکھانا چاہیں اور کہہ دیں ہیں 'اَب' اور سب لوگ کہتے ہیں 'اَب' اور وہ بَ کا مخرج سیکھ لیں اکٹھے ایک ہی وقت میں، تو وقت بچے گا کہ نہیں بچے گا؟ اسی طریقے سے اجتماعی ذکر جو کرایا جاتا ہے صرف سکھانے کے لیے کیا جاتا ہے، باقی اصل ذکر وہی ہوتا ہے جو شیخ دے دے کسی کو۔
اور مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے مکتوب میں یہ بات واضح فرمائی ہے، یہ بات بھی آپ کے علم میں لانا چاہتا ہوں، حضرت نے فرمایا کہ عام ذکر سے درود شریف افضل ہے، کیونکہ اس میں درود بھی ہے، ذکر بھی ہے اور دعا بھی ہے۔ اور فرمایا: مشائخ جو ذکر دیتے ہیں، وہ درود شریف سے بھی افضل ہے! مشائخ جو ذکر دیتے ہیں وہ درود شریف سے بھی افضل ہے، کیونکہ درود شریف اس طرح پڑھنا مستحب ہے، اور یہ تو فرض کو پورا کرنا ہے۔
تو اس کا مطلب ہے جو مشائخ ذکر دیتے ہیں اس کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے، اس کا اہتمام کرنا چاہیے، ہاں یہ الگ بات ہے کہ جیسے جیسے وہ کہیں اسی طریقے سے کرنا چاہیے، اور باقی اجتماعی ذکر جو ہے یہ صرف تعلیمی ذکر ہے، اس سے بعض چیزیں انسان سیکھ لیتا ہے، وقت پر بعد میں وہ کام آتی ہیں۔
تو اب ہم یہ ذکر کرتے ہیں اور یہی ذکر جیسے میں نے ابھی عرض کیا، ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق ہے وہ بھی میں آپ حضرات کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں۔ تاکہ اگر کسی کو اس کا فائدہ ہو تو کر لے، کیونکہ ضروری نہیں ہے کہ میری بات سب مان لیں، کیونکہ ہر شخص اس میں اپنے اپنے لحاظ سے چونکہ جیسے فرمایا مشائخ مجتہد ہوتے ہیں تو اس وجہ سے وہ اپنے اپنے شرحِ صدر کے پابند ہوتے ہیں۔ لیکن یہ والی بات ضرور ہے، علم میں کوئی بات آجائے تو بعض دفعہ اس کو مفید سمجھ کر اختیار بھی کیا جا سکتا ہے۔
تو اس میں یہ ہے کہ حضرت کی تحقیق یہ تھی کہ جو پہلے زور سے ضرب لگاتے تھے، فرمایا کہ آج کل قویٰ اتنے مضبوط نہیں ہیں، اور ضرب صحیح بھی نہیں لگتا، اس وجہ سے بعض دفعہ خشکی آجاتی ہے۔ لہٰذا جو مختصر ضرب ہے اندرونی، وہ حضرت نے چلایا ہوا تھا، تو ان شاء اللہ میں وہ چیز پہلے سے بتا کے پھر اس کے بعد ان شاء اللہ ذکر کریں گے۔
تو لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه کس طرح کرتے ہیں؟ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه۔
یعنی صرف اِدھر ہی زور ہو، باقی ادھر ادھر کوئی زور نہ ہو۔ اور اس کے ساتھ مراقبہ بھی آسانی کے ساتھ کیا جا سکتا ہے کہ دنیا کی محبت دل سے نکل رہی ہے اور اللہ کی محبت دل میں آ رہی ہے۔
پھر إِلَّا اللّٰه، إِلَّا اللّٰه، إِلَّا اللّٰه، إِلَّا اللّٰه، إِلَّا اللّٰه، إِلَّا اللّٰه،
پھر اللہُ اللہ، اللہُ اللہ،اللہُ اللہ،
پھر اللہ، اللہ، اللہ، اللہ، اللہ
یہ تو چشتی سلسلے کا جو طریقہ حضرت نے بتایا تھا اس کے لحاظ سے۔
اس طرح ہمارے پاس قادری ذکر جو ہے لَا إِلٰهَ إِلَّا هُو، لَا إِلٰهَ إِلَّا هُو، لَا إِلٰهَ إِلَّا هُو، لَا إِلٰهَ إِلَّا هُو۔
حَق، حَق، حَق، حَق، حَق، حَق، یہ سہروردی ذکر ہے۔
اور اس طرح اَللّٰهُ، اَللّٰه، اَللّٰه، یہ تو اس میں ہے،
لیکن اس کے ساتھ ہم مراقبہ بھی کرتے ہیں تاکہ نقشبندی سلسلے کا ذکر بھی ساتھ آجائے۔