سنتِ ابراہیمی، شعائرِ اللہ کی تعظیم اور حقیقی حج کے تقاضے

اشاعتِ اول: 2 جون، 2023

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

اہم موضوعات (Key Topics):

بیان میں درج ذیل اہم موضوعات پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے:

  • قربانی کا قرآنی حکم اور حکمت: سورۃ الحج کی آیات (34-37) کی تفسیر، جس میں واضح کیا گیا کہ قربانی کا خون اور گوشت نہیں، بلکہ دلوں کا تقویٰ اللہ تک پہنچتا ہے۔
    • سنتِ ابراہیمی اور تسلیم و رضا: حضرت ابراہیم علیہ السلام کا خواب، حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا واقعہ، شیطان کی رکاوٹیں اور رمی جمرات کا پس منظر۔
      • شعائرِ اللہ کی تعظیم: توحید کا درست فہم اور یہ وضاحت کہ اللہ کے احکامات (خانہ کعبہ، نماز، قرآن، قربانی کے جانور) کی تعظیم دراصل اللہ ہی کے حکم کی تعظیم ہے اور یہ شرک نہیں بلکہ دلوں کے تقویٰ کی علامت ہے۔
        • جدید دور کے فلاسفروں کا رد: سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے اس مغالطے کا مدلل جواب کہ "قربانی کے بجائے پیسے غریبوں کو دے دیے جائیں"۔
          • نبی کریم ﷺ کی عظیم الشان قربانی: حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم ﷺ کا 100 اونٹوں کی قربانی پیش کرنا (جن میں سے 63 اپنے مبارک ہاتھوں سے ذبح فرمائے) جو کہ اس عمل کی محبوبیت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
            • مکینیکل حج بمقابلہ روحانی حج: موجودہ دور میں حج کے دوران موبائل فونز، سیلفیوں، اور غیر ضروری گفتگو (مکینیکل حج) کی مذمت، اور خشوع و خضوع کے ساتھ حقیقی روحانی حج ادا کرنے کی تلقین۔
              • حجاج کے لیے قیمتی نصائح: حرمین شریفین میں پیسوں کے بجائے "وقت" بچانے اور اسے زیادہ سے زیادہ عبادات میں صرف کرنے کا سنہری مشورہ، نیز احرام کی حالت میں سادگی اور فقیری اختیار کرنے کی اہمیت۔
                • ذوالحجہ کے مستحبات: قربانی کرنے والوں کے لیے یکم ذوالحجہ سے بال اور ناخن نہ کاٹنے کا مستحب عمل (تاکہ حاجیوں سے مشابہت ہو)، اور عید کے دن اپنے قربانی کے گوشت سے کھانے کی ابتدا کرنا۔
                  • کتب کا مطالعہ: حجاج کرام کو "فضائلِ حج"، "معلم الحجاج" اور حضرت تھانویؒ کے وعظ "روح الحج" کے مطالعے کی خاص تاکید۔

                    اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ

                    وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ

                    أَمَّا بَعْدُ!

                    فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ

                    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

                    وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّیَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ ؕ-فَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗۤ اَسْلِمُوْا ؕ-وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَ ۙ (34) الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَصَابَهُمْ وَ الْمُقِیْمِی الصَّلٰوةِ ۙ-وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ(35) وَ الْبُدْنَ جَعَلْنٰهَا لَكُمْ مِّنْ شَعَآىٕرِ اللّٰهِ لَكُمْ فِیْهَا خَیْرٌ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا صَوَآفَّ ۚ-فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُهَا فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَ الْمُعْتَرَّ ؕ-كَذٰلِكَ سَخَّرْنٰهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ(36) لَنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰـكِنْ یَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ ؕ-كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ ؕ-وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ(37) 

                    صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ.

                    معزز خواتین و حضرات! یہ میں نے آپ کے سامنے سورۃ الحج کی چند آیات مبارکہ تلاوت کی ہیں، اور آپ حضرات جانتے ہیں کہ یہ ایامِ حج ہیں۔ یعنی حجاج حج کے لیے جا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی بار بار نصیب فرمائے۔ آمین۔ تو حج میں بھی قربانی ہوتا ہے۔ اور جو حج پہ نہیں جاتے، وہ صاحبِ استطاعت ہوتے ہیں، ان کے اوپر بھی قربانی واجب ہوتی ہے۔

                    تو اس قربانی کے بارے میں اللہ جل شانہ نے کیا ارشاد فرمایا ہے، ان آیات مبارکہ میں اس کا تذکرہ ہے۔ اللہ جل شانہ ارشاد فرماتے ہیں، 

                    اور ہم نے ہر امت کے لیے قربانی اس غرض کے لیے مقرر کی ہے کہ وہ ان مویشیوں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نے انہیں عطا فرمائے ہیں۔ لہٰذا تمہارا خدا بس ایک ہی خدا ہے، چنانچہ تم اسی کی فرمانبرداری کرو، اور خوشخبری سنا دو ان لوگوں کو جن کے دل اللہ کے آگے جھکے ہوئے ہیں۔ جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دلوں پر رعب طاری ہو جاتا ہے، اور جو اپنے اوپر پڑنے والی ہر مصیبت پر صبر کرنے والے ہیں، اور نماز کو قائم کرنے والے ہیں، اور جو رزق ہم نے انہیں دیا ہے، اس میں سے اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں۔

                    اور قربانی کے اونٹ اور گائے کو ہم نے تمہارے لیے اللہ کے شعائر میں شامل کیا ہے۔ تمہارے لیے ان میں بھلائی ہے، چنانچہ جب وہ ایک قطار میں کھڑے ہوں تو ان پر اللہ کا نام لو، پھر جب ذبح ہو کر ان کے پہلو زمین پر گر جائیں، تو ان کے گوشت میں سے خود بھی کھاؤ اور محتاجوں کو بھی کھلاؤ۔ جو صبر سے بیٹھے ہوں ان کو بھی، جو اپنی حاجت ظاہر کریں، ان کو بھی۔ ان جانوروں کو ہم نے اسی طرح تمہارے تابع بنا دیا ہے تاکہ تم شکر گزار بنو۔ اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے نہ ان کا خون، لیکن اس کے پاس تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ اس نے یہ جانور اس طرح تمہارے تابع بنا دیے ہیں تاکہ تم اس بات پر اللہ کی تکبیر کرو کہ اس نے تمہیں ہدایت عطا فرمائی۔ اور جو لوگ خوش اسلوبی سے نیک عمل کرتے ہیں، انہیں خوشخبری سنا دو۔ 

                    سبحان اللہ!

                    یہ قربانی کا جو عمل ہے، یہ شروع کہاں سے ہوا ہے؟ اس کا تذکرہ ایک اور جگہ بہت تفصیل کے ساتھ ہے، لیکن چونکہ وقت کم ہوتا ہے تو اس کا تذکرہ میں مختصر طور پہ کروں گا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام جن کا لقب خلیل اللہ بھی ہے، اور اللہ پاک نے ان کو بہت طرح سے آزمایا۔ تو اسماعیل علیہ السلام جو کہ اس وقت بہت چھوٹا تھا اور بس چلنا شروع کیا تھا، باتیں کرنی شروع کی تھیں۔ اس وقت بچہ بہت پیارا بھی ہو جاتا ہے، اور والدین کے لیے تو انتہائی پیارا ہوتا ہے۔ ایک تو یہ موقع تھا کہ ہاجرہ بی بی اور اسماعیل علیہ السلام بچہ تھا، infant، اور ان کو لق و دق صحرا میں چھوڑ دیا اللہ کے حکم سے، وہ واقعہ الگ ہے۔ لیکن جس وقت وہ بچہ اتنا بڑا ہو گیا کہ چلنا پھرنا شروع کر لیا، تو ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ میں اپنے بیٹے کو، اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کر رہا ہوں۔ چونکہ نبیوں کا خواب جو ہوتا ہے وہ وحی ہوتی ہے۔ لہٰذا ابراہیم علیہ السلام نے یہی سمجھا کہ یہ مجھے حکم ہے کہ میں بیٹے کو ذبح کرلوں، قربانی کر لوں۔

                    اس حکم پر عمل کرنے کے لیے اسماعیل علیہ السلام کو روانہ کر لیا۔ اب شیطان سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ تو اس کو بہت زیادہ تکلیف ہوئی کہ یہ تو بہت بڑا واقعہ ہونے والا ہے۔ تو آیا اور ہاجرہ بی بی سے کہا کہ آپ کو پتہ ہے کہ یہ کس لیے لے جا رہے ہیں؟ یہ تو ذبح کرنے کے لیے لے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، باپ بھی اس طرح کرتے ہیں؟ جا، دفع ہو جا۔ اس نے دفع کر دیا۔ پھر اسماعیل علیہ السلام کے سامنے ظاہر ہوئے۔ تجھے پتا ہے تیرا باپ کس لیے لے جا رہا ہے؟ اسماعیل علیہ السلام نے کنکریاں لے کے ان کو مار دیں، اور وہ دفع ہو گیا، وہ جو بڑا شیطان ہے، جمرہ عقبہ، اس جگہ پہ۔ پھر اس کے بعد دوسری جگہ پہ ظاہر ہوئے۔ وہاں پر بھی اسماعیل علیہ السلام نے ایسے کیا۔ تیسری جگہ پہ ظاہر ہوئے، وہاں بھی اسماعیل علیہ السلام نے ایسے کیا، تو یہ تین نشانیاں بن گئیں، جہاں پر آج کل ہم، جن کو جمرات کہتے ہیں، کہ وہ شیطان کو کنکریاں ماری جاتی ہیں۔

                    اب ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے سے کہتے ہیں۔ کہ بیٹا! میں نے تجھے اس طرح خواب میں دیکھا ہے کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، تو تو کیا کہتا ہے؟ اب اسماعیل علیہ السلام چھوٹا ہے، وہ خوابوں کی تعبیر کیا جانتا ہے؟ لیکن اللہ کی طرف سے نظام تھا، اور ان کو بھی پیغمبر بنانے والے تھے۔ تو جواب میں اسماعیل علیہ السلام کہتے ہیں کہ ابا جان! تو وہ کر گزر جس کا تجھے حکم ہے، تو مجھے صابرین میں سے پائے گا۔ جیسے ہاجرہ بی بی نے کہا تھا نا۔ کہ اگر اللہ نے حکم دیا ہے تو پھر ہمیں کوئی فکر نہیں، اللہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا، آپ جا سکتے ہیں۔ تو وہ ایک تاریخی فقرہ تھا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب آج بھی ہاجرہ بی بی کے سنت کے مطابق مروہ صفا کے درمیان سعی ہوتی ہے، اور سات چکر لگاتے ہیں حاجی، اور عمرہ میں بھی۔ اور ایک یہ تاریخی فقرہ ہے اسماعیل علیہ السلام کا۔

                     اِفْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ۔

                    تو یہ ایک تاریخی بات ہو گئی۔ اب مزید اسماعیل علیہ السلام فرماتے ہیں اپنے والد صاحب سے۔ اے میرے ابا جان! جب آپ مجھے ذبح کریں، تو مجھے الٹا لٹا دیں، اور اپنی آنکھوں پہ پٹی باندھ لیں۔ اور تیز چھری سے مجھے ذبح کر دیں تاکہ اللہ کے حکم میں دیر نہ ہو جائے پورا کرنے میں۔ تو ابراہیم علیہ السلام نے ایسے ہی کیا۔

                    اور پھر اس کے بعد، ماشاءاللہ، عجیب واقعہ ہوا کہ ابراہیم علیہ السلام ذبح کرنا چاہتے ہیں، لیکن ذبح ہو نہیں رہا۔ حیران ہوئے کہ کیا بات ہے؟ میں نے چھری تو بہت تیز کی ہے لیکن ذبح نہیں ہو رہا۔ اس دوران اللہ جل شانہ نے جبرائیل علیہ السلام سے فرما دیا کہ بہت تیزی کے ساتھ جنت سے مینڈھا لے جاؤ، اور اسماعیل علیہ السلام کی جگہ اس کو لٹا دو۔ اور ایسے ہی ہوا، جبرائیل علیہ السلام وہ مینڈھا لے آئے اور اسماعیل علیہ السلام کو کھڑا کر دیا۔ پلک جھپکتے میں یہ سارے کام ہو گئے۔ اب چھری کو حکم ہو گیا کہ اب ذبح کر و، چونکہ اللہ نے روکا تھا۔ اب جو ہے چھری چل گئی۔ تو ابراہیم علیہ السلام سمجھے کہ ذبح ہو گیا۔ تو آنکھیں کھولیں۔ جب آنکھیں کھولیں تو سامنے ایک مینڈھا پڑا ہے۔ بڑے حیران ہوئے۔ اتنے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آ گئی۔ اے ابراہیم! تو نے اپنا خواب سچا کر کے دکھا دیا۔ یعنی جو تجھے کہا گیا تھا، تو نے وہ کر دیا۔ اس سے پتہ چلا کہ انسان جب اللہ کا حکم پورا کرتا ہے اختیاری طور پر، اور وہ غیر اختیاری طور پر نہیں ہو جاتا، تو وہ ہو جاتا ہے۔ وہ ہو جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے ہاں وہ قبول ہو جاتا ہے۔

                    اس وجہ سے یہ چونکہ اسماعیل علیہ السلام کی جگہ مینڈھا ذبح ہوا، اور اس مینڈھے کی نسبت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ تھی، یعنی اسماعیل علیہ السلام جو ایسے ذبح ہوا، قرآن اس پہ گواہ ہے کہ تو نے اپنا خواب سچا کر کے دکھا دیا، تو اس کا مطلب اس کی جگہ یہ قربان ہو گیا۔ اور اب چونکہ یہی آیت مبارکہ جو ابھی آپ نے سن لی ہیں، اس میں اللہ پاک سب کو حکم دے رہے ہیں کہ تم بھی جانور کو ذبح کر لو۔ اور یہ اللہ کے نام کی تکبیر کو کرنے کے لیے آپ کو حکم ہے۔

                    اور دوسری بات یہ ہے کہ اس کا جو گوشت اور خون ہے، یہ اصل نہیں ہے۔ اصل یہ نہیں ہے قربانی کا گوشت اور خون۔ اصل جو ہے وہ ہے وہ تقویٰ۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو پورا کرنے کا جذبہ، وہ بنیادی بات ہے۔ ہاں ہے بڑا محترم۔ یہ خون بھی بڑا محترم ہے۔ یہ گوشت بھی بڑا محترم ہے۔  اور یہ قربانی کا جانور بھی بڑا محترم ہے۔  شَعَائِرَ اللهِ ان کو فرمایا گیا ہے، شَعَائِرَ اللهِ۔ اور کمال کی بات ہے، اس سے پہلے آیت گزری ہے، وہ میں نے تلاوت نہیں کی کیونکہ اس سے پہلے کے رکوع میں تھی۔ جس میں اللہ پاک فرماتے ہیں کہ پہلے شرک کا سخت مذمت کرتے ہیں، کہ جس نے شرک کیا، وہ ایسا ہے جیسے کہ آسمان سے کوئی گرا۔ اور اس کو کسی پرندے نے اچک لیا یا کسی گہری وادی میں گر کر پاش پاش ہو گیا۔ یعنی دونوں صورتوں میں تباہی ہے شرک میں۔

                    تو اس کے فوراً بعد جو آیت کریمہ ہے:

                    ذَٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ۔

                    اور یہی بات ہے، جو شَعَائِرَ اللهِ کی تعظیم کرتے ہیں، وہ ان کے دلوں کے تقویٰ کی وجہ سے ہے۔ 

                    یعنی یہ جانور کی تعظیم نہیں ہے، یہ تو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعظیم ہے۔ شَعَائِرَ اللهِ، یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعظیم ہے۔ جو خانہ کعبہ کی تعظیم کرتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعظیم کرتے ہیں۔ جو نماز کی تعظیم کرتے ہیں، وہ اللہ کے حکم کی تعظیم کرتے ہیں۔ جو قرآن کی تعظیم کرتے ہیں، وہ اللہ کے حکم کی تعظیم کرتے ہیں۔ اور بعض بیچارے ناسمجھ لوگ یہاں پر گڑبڑ کر لیتے ہیں۔ یہ آیت بہت عجیب، مثالی آیت ہے، مثالی آیت ہے۔ بعض بے وقوف لوگ توحید کو اس معنی میں سمجھ لیتے ہیں کہ گویا کہ کسی اور چیز کی تعظیم توحید کے خلاف ہے۔ بھئی جب اللہ نے حکم دیا ہے تو پھر وہ کیسے خلاف ہو گیا؟ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہے۔ تو اس کو ہمیں سمجھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو پورا کرنے میں کوئی توحید کی خلاف ورزی نہیں ہوتی، بلکہ وہ تو دلوں کا تقویٰ ہے۔ ذٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ۔

                    ایک دفعہ میں طواف کر رہا تھا، اوپر۔ تو نیچے آ رہا تھا، تو دیکھا کہ دو مصری حضرات ہیں، ایک سوئے ہوئے ہیں اس کے بالکل پیر خانہ کعبہ کی طرف ہیں۔ اور دوسرا جو ہے نا، بیٹھا ہوا ہے ساتھ تلاوت کر رہا ہے۔ اب جو سویا ہوا ہے اس کو تو آپ کچھ نہیں کہہ سکتے، جو جاگ رہا تھا، تلاوت کر رہا تھا، میں نے اس کے کان میں یہ آیت پڑھ لی۔ ذٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ۔ صرف اتنا کہا، میں نے نہ کوئی تشریح کی، نہ کوئی بات کی، نہ کوئی reference اور دیا۔ بس صرف یہی بات کی۔ اور وہ اٹھا فوراً، اور اپنے ساتھی کو جگایا، اس کے پیر خانہ کعبہ سے ہٹا دیے، پھر اس کے بعد اطمینان کے ساتھ بیٹھ گئے۔ سمجھ میں آ گئی نا اس کو بات؟ بھئی ظاہر ہے عرب تھے، سمجھ تو گئے کہ یہ کیا کہا جا رہا ہے۔

                    صرف استحضار نہیں ہوتا، صرف استحضار نہیں ہوتا۔ قرآن کو سمجھنا یہ بہت بڑی دولت ہے، بہت بڑی دولت ہے۔ ذٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ ۛ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ۔ تو یہ تو ہدایت سراپا ہدایت ہے۔ لیکن اگر کوئی سرسری طور پر دیکھ لے، اور اس کے اندر جو معانی اور معارف ہیں، وہ اس کے سامنے نہ ہوں، تو پھر کام خراب ہو جاتا ہے۔ پھر نہیں اس کو سمجھ آتی کہ میں کیا پڑھ رہا ہوں۔ اس کے لیے بھی قرآن میں یہ آیت ہے۔

                    إِنَّ فِي ذٰلِكَ لَذِكْرَىٰ لِمَن كَانَ لَهُ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ۔

                    بیشک اس قرآن کے اندر نصیحت ہے اس شخص کے لیے، جس کا دل بنا ہو، یعنی بنے ہوئے دل سے سنتا ہو۔ اور اگر ایسا نہیں ہے تو جو بنا ہوا دل اس کو پڑھ رہا ہے اس کو اہتمام کے ساتھ سننے والا ہو۔ یعنی دونوں باتوں میں سے ایک ہو تو کم از کم ہدایت مل جاتی ہے۔ یا خود سمجھ رہا ہو، یا پھر یہ ہے کہ جو اس کو سمجھ کے پڑھ رہا ہے اور سمجھا رہا ہے پھر اس کو اس پر عمل کر لو تو یہ روشنی ہے۔

                    بہرحال بات دوسری طرف نکل جائے گی۔ صرف میں قربانی کے بارے میں عرض کرنا چاہتا تھا کہ قربانی وہ عمل ہے جو اللہ کو بہت محبوب ہے۔ احادیث شریفہ میں اس کے بارے میں بہت کچھ آیا ہوا ہے۔ تفصیلات بہت ہیں، زیادہ تفصیلات تو بیان نہیں کی جا سکتیں۔ لیکن یہ جو قربانی کا عمل ہے اللہ کو اتنا محبوب ہے، اِھراقُ الدَّم اس کو کہتے ہیں، یعنی خون بہانا قربانی کا۔ یہ اتنا محبوب ہے کہ ان دنوں میں، تین دنوں میں کوئی اور عمل جو واجبات میں سے ہے، اس سے زیادہ نہیں ہے۔ اللہ کو اتنا زیادہ پیارا ہے۔ اور یہاں تک ہے کہ قربانی کا خون ابھی پہنچا نہیں ہوتا زمین پہ کہ اللہ کے ہاں قبول ہو جاتا ہے۔

                    یہ تو ہو گیا قرآن سے اشارہ اور احادیث شریفہ۔ ایک ہے عملی طور پر۔ ذرا تھوڑا سا غور کر لیں، آج کل میں اس لیے یہ باتیں کر رہا ہوں کہ آج کل یہ عجیب و غریب چیزیں آ رہی ہیں social media پر اور لوگ جو ہے نا وہ عجیب عجیب باتیں کرتے ہیں۔ خود بھی سمجھتے نہیں اور دوسروں کو بھی غلط باتیں بتاتے ہیں۔ تو وہ کہتے ہیں جی یہ قربانیاں کرنے کی کیا ضرورت ہے، گوشت ضائع ہو جاتا ہے، یہ پیسے کسی غریب کو دے دو۔ کسی غریب کو دے دو، بہت ساری بیٹیاں بیچاری بغیر جہیز کے ہوتی ہیں، ان کی شادیاں نہیں ہوتیں، تو ان کی شادی کروا دو۔  بہت لوگوں کو کھانا نہیں ملتا، آپ ان کو کھانا کھلا دو، یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ مقبول ہے۔ اپنی طرف سے بڑے فلاسفر بنتے ہیں۔

                    اچھا اب آپ سے میں ایک بات عرض کر رہا ہوں۔ بہت مشہور بات ہے اس کے لیے مجھے references دینے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ کہ آپ ﷺ نے حج کے موقع پر کتنے اونٹ ذبح فرمائے تھے؟ سو، سو، 100، 100۔ سو اونٹ ذبح فرمائے تھے۔ واجب صرف ایک تھا، حصہ۔ ایک اونٹ کے سات حصوں میں سے ایک حصہ واجب تھا۔ یعنی سات سو گنا کر لیا، ایک تو یہ بات سمجھ لو، اچھی طرح یاد رکھو۔ دوسری بات، آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے 63 اونٹ ذبح فرمائے، 63 اونٹ اپنے ہاتھ سے ذبح فرمائے اور 37 علی رضي الله عنه کے حوالے کیے۔ اس 63 کے ہندسے میں کچھ نظر آ رہا ہے؟  آپ ﷺ کی عمر اس وقت کتنی تھی؟ 63 سال۔ 63 سال عمر تھی۔ تو گویا کہ آپ ﷺ نے ہر سال کے لیے ایک اونٹ ذبح کر لیا۔ حکم تو آیا تھا چند سال پہلے ہی، یعنی اتنا محبوب عمل ہے، کہ آپ ﷺ نے چونکہ 63 عمر تھی تو 63 اونٹ اپنے ہاتھ سے ذبح فرما دیے اور باقی حضرت علی كرم الله وجهه کو دیے۔

                    کیا یہ آپ ﷺ غریب صحابہ کو نہیں دے سکتے تھے یہ پیسے؟ کیا اس وقت غریب صحابہ نہیں تھے؟ اکثر غریب تھے۔ مالدار صحابہ تو انگلیوں پہ گننے والے ہیں۔ اکثر غریب تھے، اتنے غریب تھے کہ بعض کے پاس پورے کپڑے بھی نہیں ہوتے تھے۔ تو کیا یہ پیسے آپ ﷺ ان کو نہیں دے سکتے تھے؟ پھر آپ ﷺ خیرات کرتے تھے۔ یہ نہیں کہ خیرات نہیں کرتے تھے، جو چیز بھی آپ ﷺ کے پاس آتی تھی وہ اپنے پاس نہیں چھوڑتے تھے۔ وہ ایک دفعہ بہت جلدی جلدی نماز پڑھ کے پیچھے گئے تو پھر جب پوچھا گیا کہ حضرت کیوں جلدی میں؟ فرمایا بس کچھ رہ گیا تھا، میں نے کہا کہ رات اس پہ نہ گزرے۔

                    تو یہ سخاوت کا یہ حال تھا۔ لیکن قربانی کے معاملے میں کیا طریقہ تھا؟ ایک تو یہ بات۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ بعد میں صحابہ کرام نے کیا کیا ہے؟ جو اللہ والے، بزرگانِ دین گزرے ہیں انہوں نے کیا کیا ہے؟ تھوڑا سا اس پر غور فرمائیں۔ اب ہم آج کل کے چند نام نہاد فلاسفروں کی بات مانیں؟  یا ان کی، جن کے اوپر دین اتارا گیا ہے، ان کی بات مانیں؟ اس میں بالکل وہ نہ کریں، علمائے کرام نے لکھا ہے، اگر کسی پہ قربانی واجب نہیں بھی ہے، اس کی محبت اتنی ہونی چاہیے کہ جس طریقے سے بھی ہو کچھ کر ہی لے۔ تاکہ اس میں حصہ ہو جائے، ویسے واجب نہیں ہوگا اس کے اوپر۔

                    اب ذرا ایک اور عجیب بات بتاتا ہوں جس کی ایک فقہی توجیہ اور ایک ذرا قلبی توجیہ ہے۔ مسئلہ ہے۔ اگر کسی نے قربانی کا ایک جانور لے لیا، مثلاً مینڈھا لے لیا، وہ ذبح کرنے کے لیے۔ اور وہ گم ہو گیا۔ اور اس کے بعد اس نے دوسرا لے لیا۔ اور جب دوسرا لے لیا تو پہلے والا بھی مل گیا۔ اب دو ہو گئے۔ قربانی کی نیت سے اُس کو بھی لیا ہے، قربانی کی نیت سے اِس کو بھی لیا ہے۔ اب مسئلہ ہے کہ اگر غریب تھا جس پہ قربانی واجب نہیں تھی، وہ دو ذبح کرے گا، وہ دونوں ذبح کرے گا۔ اگر مالدار ہے اس پہ صرف ایک ہے۔ جس کو بھی ذبح کر لے، پہلے والا ذبح کر لے یا دوسرے والا ذبح کر لے۔

                    اب اس کی فقہی توجیہ یہ ہے کہ اگر کسی پہ واجب نہیں تھا تو جو اس نے لے لیا، وہ اس پہ واجب ہو گیا۔ اس نیت سے، جیسے کہ ہم نفل کی نیت باندھ لیں، اور اگر وہ ٹوٹ جائے پھر اس کی قضا کرنی پڑتی ہے، کیونکہ ہمارے اوپر وہ فرض ہو گیا، پورا کرنا فرض ہو گیا۔ تو پہلا بھی لے لیا وہ بھی فرض ہو گیا، دوسرا لے لیا وہ بھی فرض ہو گیا، کیونکہ اس کے اوپر ایک بھی نہیں تھا نا۔ یہ تو فقہی توجیہ ہے۔ لیکن اس کی جو قلبی توجیہ ہے، محبت والی توجیہ ہے، کہ اللہ جل شانہ کو اس کا یہ عمل اتنا پیارا ہے کہ اس کی دونوں قبول فرما رہے ہیں۔ اور وہ جو پہلے والا جو مالدار ہے، اس کے اوپر تو صرف ایک ہی ہے، تو وہ تو کرنا ہی تھا اس کو، لہٰذا اس کو صرف ایک کرنے کا حکم ہے۔

                    تو بہرحال میں عرض کر رہا ہوں کہ قربانی کا جو عمل ہے نا، اس میں سستی نہیں ہونی چاہیے۔ بہت سارے لوگ کہتے ہیں جی آج کل کیا کریں جی بس مہنگائی بھی ہے۔ یقین جانیے میں آپ کو ایک بات عرض کروں، کچھ چیزیں ایسی ہیں جو دلائل سے نہیں سمجھائی جا سکتیں، کیونکہ اس کا تعلق... یعنی مثلاً برکت۔ برکت کو دلیل سے کوئی ثابت کر سکتا ہے؟ برکت کیسی ہوتی ہے؟ کوئی ثابت کر سکتا ہے؟ نہیں۔ لیکن ہوتی ہے۔ کوئی بھی اس سے انکار نہیں کر سکتا۔ ہوتی ہے۔ کسی کے مال میں برکت ہوتی ہے، کسی کی اولاد میں برکت ہوتی ہے، کسی کے علم میں برکت ہوتی ہے۔ کسی کے اور کسی چیز میں برکت ہوگی۔ تو برکت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا، لیکن برکت کیسی ہوتی ہے، کوئی بھی نہیں جان سکتا۔ تو اللہ جل شانہ کا جو حکم انسان محبت کے ساتھ پورا کرتا ہے، تو اس میں برکت آ جاتی ہے۔

                    اور وہ برکت کیسی ہے؟ وہ اللہ کو پتہ ہے کہ اس وقت کس طریقے سے اس کو پہنچاتا ہے۔ مثلاً میں آپ کو ایک بات بتاؤں۔ حدیث شریف ہے، کہ جو عمرہ اور حج تواتر سے کریں، تو وہ ایسے گناہوں سے پاک کرتا ہے اور فقر سے پاک کرتا ہے، جیسے بھٹی یہ میل کچیل کو دور کرتی ہے۔ اب اس سے پتہ کیا چلا؟ کہ حج اور قربانی سے مال کم نہیں ہوتا، بلکہ ماشاءاللہ، بڑھتا ہے، بڑھتا ہے۔

                    اب میرے سامنے ایک واقعہ ہے، میرے ساتھی ہیں، پارلیمنٹ میں رپورٹر ہیں۔ ہمارے دوست ہیں۔ عمرے کے لیے چلے گئے۔ عمرہ کر لیا، واپس آ گئے۔ کچھ پیسے اس کے پاس اور جمع ہو گئے تو اس کا ارادہ ہوا کہ میں دوسرا عمرہ کرنا چاہتا ہوں۔ تو لوگوں نے کہا بس آپ نے ایک عمرہ کر لیا ہے نا، اب کچھ گھر بھی بناؤ، پلاٹ لے لو، مطلب آخر بچوں کے لیے بھی کچھ کرنا ہے۔ مجھ سے بھی پوچھا، میں نے کہا بھئی اس پہ شرح صدر آپ کا جس طرح ہو جائے تو اس طرح کر لینا۔ ایک دن مجھے کہتے ہیں، شاہ صاحب! میں نے ایک خواب دیکھا ہے، میں خوابیں نہیں دیکھتا، لیکن خواب بھی بڑا عجیب ہے، اتنا مختصر ہے کہ میں نے ایک کتاب کھولی ہے، اس کتاب پہ صرف دو سطریں لکھی ہیں یعنی سامنے صفحوں پہ۔ اس پہ لکھا ہے کہ جو حج اور عمرہ میں پیسے خرچ کرتے ہیں، وہ پیسے خرچ نہیں ہوتے، وہ پھر دوبارہ ان کو لوٹا دیے جاتے ہیں۔ یہ اس پہ لکھا ہے۔ میں نے کہا یہ تو پھر آپ کو message ہے، یہ تو آپ کے لیے message ہے۔ خیر بہرحال وہ چلے گئے پھر عمرے کے لیے۔ عمرے کے لیے چلا گیا، اب میں اتفاق سے اسی دن گاڑی پہ اس کے ساتھ جا رہا ہوں، گاڑی وہ چلا رہے ہیں، موبائل پہ اس کو فون آ گیا۔ فون پہ اس نے بات کر لی، مجھے کیا پتہ کہ وہ کیا بات کر رہا ہے۔ خیر، جب وہ فون ختم ہوا، کہتے ہیں مجھے اپنے دفتر والوں نے بتایا کہ آپ کا فلاں جگہ پہ پلاٹ نکل آیا۔ دفتر کی طرف سے کوئی انتظام ہوگا۔ تو آپ کا فلاں جگہ پہ پلاٹ نکل آیا، عمرے کے بعد کی بات ہے۔ تو پلاٹ کے لیے وہ کچھ manage کر رہا تھا، تو اللہ پاک نے پلاٹ مفت میں دے دیا۔ رستہ بن گیا۔

                    تو اس طرح اللہ پاک دیتے ہیں۔ میں اور مثالیں نہیں دیتا، مجھے بہت ساری مثالیں اس کی معلوم ہیں، لیکن میں اور مثالیں ٹائم کی وجہ سے نہیں دے سکتا۔ اگر کوئی سننا چاہتا ہے، بعد میں مجھ سے سن لے۔ لیکن بہرحال بہت عجیب عجیب چیزیں ہیں۔ یعنی اس کا پورا نظام ایسا ہے کہ قربانیوں والا نظام ہے۔ یہ حج جو ہے نا یہ کیا ہے؟ قربانیوں والا نظام ہے۔ اب دیکھو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی ہے، ابراہیم علیہ السلام کی قربانی ہے، ہاجرہ بی بی کی قربانی ہے۔ اب ان قربانیوں کے پورے نظام کے اندر جب آپ جائیں گے، اور آپ کا دل اس کے ذریعے سے بدلتا ہے۔ اس کے دل کے بدلنے کا کیا حال ہو گا اور پھر اس کے اوپر جو اثرات ہوں گے اس کا کیا حال ہو گا؟

                    اصل میں آج کل لوگ حج mechanical کرتے ہیں، مکینیکل حج کرتے ہیں، اس وجہ سے پتہ نہیں چلتا۔ مکینیکل حج اور صحیح حج میں فرق ہے۔ مکینیکل حج یہ ہوتا ہے کہ بس جاکر آپ نے طواف کر لیا، اور طواف کا پتہ بھی نہیں کہ طواف کیا ہوتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا ہوں کہ اس کو طواف کے مسائل کا پتہ نہیں، طواف کے مسائل کا پتہ ہے، لیکن طواف کا پتہ نہیں۔ آپ حیران ہوں گے کہ بھئی میں کیا کہہ رہا ہوں۔ طواف کے مسائل کا پتہ ہے، لیکن طواف کا پتہ نہیں۔ اب بتاتا ہوں کیسے ہوتا ہے۔ جو حج پہ گئے ہیں ان کو اس چیز کا علم ہو گا کہ طواف کر رہے ہوتے ہیں، اتنے میں فون آتا ہے۔ یا اس کو خود ملاتے ہیں موبائل پہ۔ اور فون پہ بات کرتے جاتے ہیں، کرتے جاتے، کرتے جاتے۔ ختم ہی نہیں کرتے وہ، کبھی، اور سناؤ، اب مجھے بتاؤ، یہ "اور سناؤ" سے کیا مطلب ہے؟ اس کا مطلب ہے بات تو اس نے ختم کر لی نا، اس کی بات ختم ہو گئی ہے، اب مزید کیا کر رہا ہے؟ یہ خود بات بڑھانا چاہتا ہے۔ اب یہ خود جو بات بڑھانا چاہتا ہے اس کا مطلب کیا ہے؟ یہ طواف میں ہے؟ یہ طواف میں نہیں ہے۔ اس کا دل تو ادھر ہے جس کے ساتھ وہ بات کر رہا ہے۔ اور تصویریں بنا رہے ہوتے ہیں، سیلفیاں بنا رہے ہوتے ہیں۔ کیا یہ طواف میں ہیں؟ یہ طواف میں نہیں ہیں۔ ان کو طواف کا کیا فائدہ ہو گا؟ 

                    یہ تو سیر سپاٹے کے لیے چلے گئے ہیں۔ سیر سپاٹا ہو گیا۔ اور یہی حدیث شریف میں آیا ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ علماء فخر کے لیے جائیں گے، فقراء بھیک مانگنے کے لیے جائیں گے، اور مالدار لوگ سیر سپاٹے کے لیے جائیں گے، حج پہ۔ اور ایسا آج کل ہو رہا ہے۔ آپ ذرا دیکھ لیں، tour operator نام ہوتا ہے اس کا، جو حج کا انتظام کرتا ہے اس کو کیا نام دیتے ہیں؟ ٹور آپریٹر کیا یہ tour ہے؟ اے خدا کے بندو! کیا کر رہے ہو؟ حج کا سارا روح نکال دیا۔ تو جو حج کا روح ہے، جس کے ساتھ کوئی حج کر لے، اس میں اگر تبدیلی نہیں آئے تو پھر بتا دینا۔ بھئی طواف کے ساتھ تبدیلی نہیں آئے گی؟ سبحان اللہ! خانہ کعبہ بالکل سامنے آئے گا، تبدیلی نہیں آئے گی؟ منیٰ کے اندر کوئی گزرے گا، تبدیلی نہیں آئے گی؟ عرفات پہنچے گا، تو تبدیلی نہیں آئے گی؟ کہاں تبدیلی آئے گی پھر؟ یہی تو چیز ہے جو کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں دیا ہوا ہے جس کے ذریعے سے ہم اپنے آپ کو بدل سکتے ہیں۔

                    تو اگر صحیح معنوں میں کوئی حج کر لے، صحیح معنوں میں کوئی حج کر لے، اس کی زندگی بدل جاتی ہے۔ اور اگر صحیح معنوں میں حج نہ کرے تو پھر کیا ہوتا ہے؟ وہ بھی بتاتا ہوں۔ پھر جو اس کی اصلیت ہوتی ہے وہ ظاہر ہو جاتی ہے۔ یہ میں اپنی طرف سے باتیں نہیں کر رہا ہوں، ساری کتابی باتیں ہیں۔ جو اس کی اصلیت ہوتی ہے وہ ظاہر ہو جاتی ہے۔ اس وجہ سے جو بھی حضرات حج پہ جا رہے ہیں، مجھے نہیں پتہ کون کون جا رہے ہیں۔ جو بھی حضرات حج پہ جا رہے ہیں، میری درخواست ہے کہ ایک کتاب ہے فضائلِ حج، حضرت مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی۔ اس کو ضرور پڑھیں۔ اور ایک مسائلِ حج والی، معلم الحجاج ہے، اس کو بھی اپنے ساتھ رکھ لیں۔ معلم الحجاج میں آپ کو مسائل کا پتہ چلے گا اور فضائلِ حج میں، مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی جو فضائل حج ہے، اس میں آپ کو اس کی حقیقت کا پتہ چلے گا۔ کہ حج ہے کیا؟

                    اگر کوئی اور مزید پڑھنا چاہے تو حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک وعظ ہے، "روح الحج"۔  وہ پڑھ لیں۔ مطلب یہ ہے، یہ وہ چیزیں ہیں جو کہ اس کے اندر ہیں، لیکن ہمیں اگر کوئی بتائے نہیں تو ویسے ہی چلے جائیں گے۔  اور ویسے ہی آ جائیں گے۔ میں آپ کو بات عرض کروں، ایک صاحب تھے، وہ سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ ملاقات ہوئی، اس نے کہا جی آپ کا کیا نام ہے؟ کہتے ہیں، حاجی فلاں۔ ذرا ایسے رعب سے کہہ دیا نا۔ کہ، حضرت آپ کا کیا نام ہے؟ کہتے ہیں، نمازی فلاں۔ اس نے کہا، یہ کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا، یہ کیا بات ہے؟ بھئی نماز بھی فرض ہے، حج بھی فرض ہے۔ تو نے حج کر لیا تو تو حاجی ہو گیا، میں نے نماز پڑھ لی، میں نمازی ہو گیا۔ بھئی فرض حج ہے، اس پر آپ کیا فخر کر رہے ہیں؟

                    تو اس وقت صورتحال یہ ہے کہ اپنے ساتھ اس قسم کے الحاج اور فلانا اور اس قسم کی چیزیں لگانا، اور پھر وہاں سے اطلاع آجاتی ہے کہ یہ انتظام کر لینا، میں آ رہا ہوں۔ پورا زور شور اور جاتے میں بھی کافی ہنگامہ، بھئی خدا کے بندو! یہ حج ہے، اس میں تو انسان کو اپنی بندگی دکھانی ہے۔

                    دیکھو آپ نے بالکل صاف ستھرے کپڑے پہنے ہوئے ہیں، بہت معزز کپڑے پہنے ہوئے ہیں، آپ بہت معزز آدمی ہیں، لیکن جب حج پہ جا رہے ہیں، اور اس وقت مکہ مکرمہ براہ راست جا رہے ہیں، حکم یہ ہے کہ سارے کپڑے یہ اتار دو، صرف دو چادریں پہن لو۔ صرف دو چادریں پہن لو، اور وہ چادریں کیا ہیں؟ بس ستر چھپانے کی بات ہے اور وہ بات۔ باقی جتنی فقیری اس میں آئے گی اتنا ہی اللہ پاک خوش ہو گا۔ یعنی یہاں تک کہ آپ احرام کی حالت میں، یعنی ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے تو نہا سکتے ہیں، ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے تو نہا سکتے ہیں، لیکن میل کچیل دور کرنے کے لیے نہیں نہا سکتے۔ کیا صفائی اللہ کو پسند نہیں ہے؟ اَلطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ، پسند ہے، سنت ہے، لیکن یہاں معاملہ اور ہے، یہاں کچھ اور چیز اللہ تعالیٰ دیکھنا چاہتا ہے۔ 

                    ویسے اللہ تعالیٰ آپ کے خاموش ذکر کو پسند کرتا ہے۔ یعنی جو ہم ثوابی ذکر کرتے ہیں، خاموش۔ لیکن حج کے اندر لبیک خوب زور اور شور کے ساتھ، لَبَّيْكَ اللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ۔ کیوں؟ اللہ کو یہ پسند ہے۔ اس طرح خون بہانا اللہ پاک کو پسند ہے۔ تو اب یہ چیزیں جو ہیں نا اس کے اندر ایک عجیب روحانیت ہے، اس روحانیت کو حاصل کرنے کے لیے آپ ﷺ کے طریقے پر اور صحابہ کے طریقے پر ہمیں حج کرنا پڑے گا۔ جس طریقے سے انہوں نے کیا ہے، اس طریقے سے ہم کریں گے تو پھر سبحان اللہ حج کی جو نورانیت اور روحانیت ہے، ان شاءاللہ ہمارے اندر آئے گی۔

                    اور قربانی کے بارے میں میں نے عرض کیا کہ قربانی میں کبھی پیسہ درمیان میں نہ لاؤ۔ اور میں جب حج پہ جا رہا تھا تو مجھے ایک بزرگ نے فرمایا، شبیر بات یہ ہے کہ وہاں پیسے نہ بچانا، وہاں وقت بچانا۔ وہاں پیسے نہ بچانا۔ وہ ایک ایسے آدمی تھے کہ اس نے کتاب لکھی اسلامیات کی، بہت بڑے عالم تھے۔ اور دعا کی اللہ تعالیٰ سے کہ یا اللہ، یہ کتاب اس کو منظور کروا لے۔ اس پہ جو پیسے مجھے ملیں، اس پر مجھے حج کروائے۔ یہ دعا کی۔ اور دعا قبول ہو گئی۔ اور اتنے پیسے ملے جس پہ سیکنڈ کلاس کا حج ہو سکتا تھا، یعنی سفر، وہ ship کے ذریعے سے حج ہوتا تھا نا، اس میں سیکنڈ کلاس میں حج ہو سکتا تھا۔ لوگوں نے اس سے کہا آپ تھرڈ کلاس میں کر لیں عرشے پہ تو کچھ پیسے آپ کے بچ جائیں گے۔ کہتے ہیں اللہ نے مجھے ٹکٹ سیکنڈ کلاس کا بھیجا ہے، میں نے تھرڈ کلاس میں نہیں کرنا۔

                    تو اس نے مجھے فرمایا کہ شبیر، پیسے وہاں نہ بچائیں، وہاں پر وقت بچائیں۔ اگر آپ بس کے ذریعے سے جا سکتے ہیں کسی جگہ، دو ریال دے دو، لیکن پیدل نہ جانا، آپ کا وقت جو لگے گا وہ اس کو حرم شریف میں گزار لینا۔ اور فرمایا کہ اگر دو ریال بچا رہے ہو نا سستی چیز کے لیے، خدا کے بندے اس کو نہ دیکھو، جو ملے بس اس کو لو، اپنا وقت حرم شریف میں زیادہ گزارو۔ یہی اصل میں روحانیت ہے۔ وہ چیز بار بار تو نہیں ملا کرتی نا۔ وہ تو ایک دفعہ آپ چلے گئے ہیں اللہ تعالیٰ نے، ایک دفعہ ایک بزرگ تھے وہ برآمدے میں سے باہر آئے، میں جا رہا تھا، مجھے کہا کہ، مجھے نہیں جانتے تھے، مجھے کہتے ہیں، جو کرنا ہے نا یہاں پر، وہ کر لو۔ بعد میں پچھتاؤ گے کہ میں یہ کر سکتا تھا، میں نے کیوں نہیں کیا؟ یہاں وہ کر لو۔

                    اس وجہ سے وہاں کی جو جگہیں ہیں، وہ عجیب جگہیں ہیں، وہاں پر تعلق جو اللہ پاک سے ملتا ہے، وہ ایک عجیب انداز سے ملتا ہے، وہاں پر جو دعائیں ہوتی ہیں وہ عجیب انداز سے ہوتی ہیں، اس وجہ سے وہاں کی تمام چیزوں سے فائدہ حاصل کر لو۔ اور ساتھ یہ قربانی کے ایام ہیں۔ 

                    ہاں ایک اور مسئلہ ہے یاد کرنا، اب حضرت بتا دیں گے آپ کو دوسری دفعہ، لیکن میرا تو نمبر بعد میں آئے گا۔ تو اس میں یہ بات ہے کہ جو قربانی کرنا چاہتے ہیں، یعنی جن پہ قربانی واجب ہے، ان کو چاہیے کہ یکم ذوالحج کا جس وقت اعلان ہو جائے، تو ناخن تراشنا، بال تراشنا، ان ساری چیزوں کو چھوڑ دیں۔ حاجیوں کی مشابہت کرنے کے لیے، حاجیوں کی مشابہت کرنے کے لیے، اس کو چھوڑ دیں، یہ مستحب ہے۔ یہ مستحب ہے۔ جس وقت قربانی ہو جائے، اس کے بعد پھر اس کو وہ لے لیں۔ اور دوسرا جب قربانی کا جو گوشت ہے نا، اس سے اس دن کھانے کی ابتدا کر لیں۔ یہ بھی مستحب ہے۔ کیونکہ یہ بہت اعلیٰ درجے کی دعوت ہے۔ لہٰذا اسی کو سب سے پہلے رکھو۔

                     اور بعض لوگوں نے اس کو روزہ کہا ہے، روزہ نہیں بھئی روزہ تو عیدین کے دنوں میں حرام ہے۔ عید الاضحیٰ میں تین دن حرام ہے اور عید الفطر میں ایک دن۔ اس میں تو روزہ نہیں رکھا جا سکتا۔ لیکن یہ احترام ہے اس گوشت کا کہ اللہ پاک ہمیں گوشت کھلا رہے ہیں تو اس کو خود بھی کھاؤ، جیسے یہاں پر ہے نا، خود بھی کھاؤ، اور ان کو بھی کھلاؤ جو خاموش بیٹھے ہیں، ان کو بھی جو جلدی مچاتے ہیں، یعنی گویا کہ اس میں سب کو کھلاؤ، اور خود بھی کھاؤ، رشتہ داروں کو بھی، دوستوں کو بھی، اور مطلب یہ ہے کہ فقیروں کو بھی، اور اپنے آپ کو بھی۔

                    اللہ مجھے بھی توفیق عطا فرمائے، آپ کو بھی۔

                    وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ. رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ.

                    سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ.


                    سنتِ ابراہیمی، شعائرِ اللہ کی تعظیم اور حقیقی حج کے تقاضے - جمعہ بیان (اشاعت دوم)