فہم و تدبر:
نماز میں جو کچھ پڑھا جائے اس کے سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اگر بے پروائی کی وجہ سے معنوں کی طرف دل متوجہ نہ ہوا تو اس سے دل پر کچھ اثر نہ ہوگا اسی لئے نشے کی حالت میں نماز پڑھنے کی ممانعت کی گئی ہے کہ اس حالت میں سمجھنے والا دل شرابی کے پہلو میں نہیں، فرمایا:
﴿لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنتُمْ سُكَارٰى حَتّٰى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ﴾ (سورة النساء: 43)
نماز کے قریب نہ جاؤ جب تم نشے میں ہو یہاں تک کہ (اتنا ہوش آ جائے کہ) جو تم کہو اس کو سمجھو۔
اس آیت پاک نے یہ واضح کیا کہ نماز میں جو کچھ پڑھا جائے اس کے سمجھنے کی بھی ضرورت ہے اسی بنا پر آپ ﷺ نے نیند کے غلبہ کی حالت میں نماز پڑھنے کی ممانعت فرمائی ہے کہ اس میں بھی انسان فہم اور تدبر سے عاری ہو جاتا ہے۔ چنانچہ حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ نماز میں جب تم پر نیند غالب آئے تو سو جاؤ کیوں کہ اگر نیند کی حالت میں نماز پڑھو گے تو ممکن ہے کہ دعا کی بجائے اپنے آپ کو برا بھلا کہنے لگو (1) دوسری روایت میں ہے کہ فرمایا نمازی کو جب نیند آئے تو سو جانا چاہئے تا کہ وہ جو کہتا ہے وہ سمجھے (2) حاکم کی مستدرک میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص اچھی طرح وضو کرے پھر اس طرح نماز پڑھے کہ جو وہ کہتا ہے اس کو سمجھتا بھی ہے یہاں تک کہ نماز ختم کر لے تو وہ ایسا ہو
جاتا ہے کہ گویا اسی دن وہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا۔
اب ذرا اس میں ایک بات عرض کرنا چاہوں، دن بھر کے کاموں میں انسان تھک گیا ہے، بدن چور چور ہے اور بس اس وقت اس کے لیے بیڈ ہی سب سے بڑا ٹکور ہے۔ اب یہ حدیث شریف سامنے ہے اس وجہ سے میں عرض کرتا ہوں۔ اب جو فرمایا کہ سو جاؤ اس وقت میں، تو کیا خیال ہے عشاء کی نماز چھوڑ دو گے اس کے لیے؟ تو اس کا مطلب فرض نماز کے لیے نہیں ہے، یہ نفل نماز کے لیے ہے۔ سمجھ میں آگئی نا بات؟ فرض نماز جو ہے اس کے حالات، اس کے لیے اپنے آپ کو جس کو کہتے ہیں نا بس کسی طریقے سے تیار کرنا پڑتا ہے، ہمت کر کے کرنا پڑتا ہے۔ لیکن نفلوں میں یہ بات ہوگی کہ آپ اس وقت پڑھیں جب آپ Fresh ہوں، جب آپ سمجھ سکیں۔ ہاں یہ بات ہے کہ عشاء کی نماز اگر آپ انفرادی ادا کر رہے ہیں مختصر پڑھ لو، مختصر ترین نماز پڑھ لو، اور جماعت کے ساتھ کر رہے ہیں تو جماعت میں تو پھر جو امام جو کر رہا ہے اس کے ساتھ کرتے رہو۔ میرے ساتھ ایسے ہوا ہے ایک دفعہ اس وجہ سے میں کہہ رہا ہوں۔
حضرت مولانا زکریا صاحب رحمتہ اللہ علیہ فیصل آباد تشریف لائے تھے، حضرت کی زیارت کے لیے ہم جا رہے تھے۔ ان دنوں فیصل آباد پہنچنے میں آٹھ گھنٹے لگتے تھے، اب تو ساڑھے تین گھنٹے چار گھنٹے لگتے ہیں نا، ان دنوں آٹھ گھنٹے حافظ آباد کے راستے سے جانا ہوتا تھا۔ بیچارے پورا دن ہمارا اور روزہ بھی تھا، حضرت اعتکاف میں تھے، روزہ بھی تھا۔ آٹھ گھنٹے سفر ہوا، عصر کے وقت ہم پہنچ گئے۔ اب اس کے بعد تو اسی وقت سے ہم پر تھکاوٹ تو طاری تھی. کچھ دیر کے بعد روزہ افطار ہو گیا، افطار ہونے کے بعد پھر نماز پڑھی، تھکاوٹ یقیناً بہت زیادہ تھی، لیکن نماز تو پڑھنی تھی، نماز نہ پڑھتے تو کیا کرتے؟ اچھا اس کے بعد پھر کھانا لگ گیا، درمیان میں آرام کرنے کا تو موقع ہی نہیں مل سکتا تھا۔ پھر کھانے کے بعد پھر عشاء کی نماز کا وقت آگیا، اب عشاء کی نماز کے لیے تیار ہو گئے۔ اب عشاء کی نماز ہم نے کیسی حالت میں پڑھی ہے؟ التحیات میں مجھے صرف "التحیات" کا لفظ یاد ہوتا تھا، التحیات للہ بس، پھر مجھے کچھ یاد نہیں ہوتا تھا کہ میں نے کیا پڑھا ہے۔ پھر اس کے بعد امام کے ساتھ السلام علیکم ورحمۃ اللہ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ، اس حالت میں میں نے پوری تراویح پڑھی۔ ٹھیک ہے نا؟ اب پوری تراویح پڑھی، تو اس کے بعد وہ کتاب پڑھی جا رہی تھی، وہ نہیں ہوتی فضائل والی، کتاب پڑھی جا رہی تھی۔ تو ڈاکٹر مشتاق صاحب تھے ہمارے ساتھ، تو میں تو تعلیم میں سو گیا تھا، تو ڈاکٹر صاحب نے مجھے کہا کہ دعا شروع ہو گئی۔ تو میں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے، تو پھر ڈاکٹر صاحب ہنس کر کہنے لگے دعا ختم ہو گئی۔ نہ مجھے شروع کا پتہ، وہ بھی مجھے بتا رہے ہیں، اور نہ مجھے ختم ہونے کا پتہ وہ بھی وہی بتا رہے ہیں۔ اب میں نے جب اس کو دیکھا نا تو میں بڑا گھبرا گیا، میں نے کہا پتہ نہیں میں نے نماز کیسے پڑھی ہے؟ یہ نماز ہوئی بھی ہے یا نہیں ہوئی؟ تو مسرت شاہ صاحب جا رہے تھے، تو میں نے ان سے کہا کہ میں نے تو نماز ایسی پڑھی ہے، تو نماز میں دوبارہ پڑھ لوں؟ انہوں نے کہا نہیں نہیں بس نماز ہوگئی سو جاو سو جاو، آرام کرو، میں بھی سو رہا ہوں۔ کیونکہ ان کو پتہ تھا کہ اگر یہ دوبارہ نماز پڑھے گا تو پہلے تو امام کے ساتھ نماز ہو رہی تھی، نماز میں تو امام کے ساتھ جو نماز میں بڑی گنجائشیں ہوتی ہیں نا، بس صرف اللہ اکبر آپ کہتے رہیں تو کام آپ کا ہو رہا ہے۔ لیکن انفرادی نماز میں تو یہ مزے نہیں ہیں، اس میں تو آپ کو سب کچھ پڑھنا پڑے گا، آپ کے اوپر ساری ذمہ داری خود آ جائے گی۔ تو انہوں نے فقاہت سے کام لیا، مجھے کہتے ہیں نہیں نہیں بس میں بھی سو رہا ہوں تم بھی سو جاؤ یہ نماز ہوگئی ہے۔ تو پھر میں سو گیا۔
اس لئے میں کہتا ہوں یہ فرض نماز کے لیے نہیں، کس کے لیے؟ نفل نماز کے لیے ہے۔ نفل نماز کے لیے ہے، فرض نماز کے لیے تو جیسے بھی ہو آپ نے نماز پڑھنی ہے، کیونکہ إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا (النساء: 103)۔ یہ وقت پر ہے، وقت پر ہے، وقت گزر گیا پھر وہ قضا ہو گیا، اور قضا اور ادا میں بہت زیادہ فرق ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ یہ بات اس لیے میں نے عرض کی میں نے کہا ایسا نہ ہو کہ آپ کہیں جی بس وہ جی Job سے آگئے اور جی تھکاوٹ ہے چلو جی عشاء کو پھر صبح پڑھنی ہے۔
یہ نماز کے وہ باطنی آداب ہیں جن کے بغیر نماز کامل نہیں ہوتی۔ جس طرح نماز کے ظاہری شرائط سے غفلت برتنا نماز سے غفلت ہے اسی طرح نماز کے ان باطنی آداب کا لحاظ نہ کرنا بھی نماز سے غفلت ہے اور اس لئے اس آیت ذیل کے مصداق دونوں ہیں۔
﴿فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ ◌ الَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ ◌ الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ﴾ (سورة الماعون: 4-6)
"پھٹکار ہو ان نمازیوں پر جو اپنی نماز سے غفلت برتتے ہیں جو دکھاوے کی نماز پڑھتے ہیں"۔
ذرا ان الفاظ پر غور کیجئے ”ان نمازیوں پر جو اپنی نماز سے غافل ہیں پھٹکار ہو“ نمازی ہونے کے باوجود نماز سے غافل ہونے کے یہی معنی ہیں کہ نماز کے لئے جو ظاہری آداب مثلاً وقت کا لحاظ اور ادائے ارکان میں اعتدال وغیرہ اور جو باطنی آداب مثلاً خشوع و خضوع، تضرع و زاری اور فہم و تدبر وغیرہ ضروری ہیں ان سے نماز میں تغافل برتا جائے۔
نماز کے گذشتہ آداب کے مطابق آنحضرت ﷺ کی ہدایاتِ تعلیمات اور عملی مثالیں ہیں جن میں آپ ﷺ نے نماز کی اصلی حقیقت کو آشکارا کیا ہے۔ ایک دفعہ مسجد نبوی میں ایک شخص نے آ کر نہایت عجلت میں نماز پڑھی آپ ﷺ نے فرمایا اے شخص اپنی نماز پھر پڑھ کیوں کہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ اس نے دوبارہ اسی طرح نماز ادا کی آپ ﷺ نے پھر وہی ارشاد فرمایا جب تیسری دفعہ بھی ایسا ہی ہوا تو اس نے عرض کی یا رسول اللہ کیسے نماز پڑھوں؟ فرمایا اس طرح کھڑے ہو اس طرح قراءت کرو، اس طرح اطمینان و سکون کے ساتھ رکوع اور سجدہ کرو۔ (2)
نماز میں نظر اٹھا کر ادھر ادھر دیکھنا خشوع کے خلاف ہے اس سے انسان کی توجہ بٹتی ہے اور حضورِ قلب میں خلل پڑتا ہے اس لئے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ نماز میں ادھر ادھر نہ دیکھا کرو کیا تمہیں یہ ڈر نہیں کہ تمہاری نظر واپس نہ آ سکے۔ (3) آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ جب تک بندہ نماز میں دوسری طرف ملتفت نہیں ہوتا خدا اس کی طرف ملتفت رہتا ہے اور جب وہ خدا کی طرف سے منہ پھیر لیتا ہے تو خدا بھی اپنا منہ اس کی طرف سے پھیر لیتا ہے۔ (4) طبرانی میں ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لئے کھڑا ہو تو وہ خدا کی طرف پوری طرح متوجہ رہے یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہو جائے اور نماز میں منہ پھیر کر ادھر ادھر نہ دیکھو کیوں کہ جب تک تم نماز میں ہو خدا سے باتیں کر رہے ہو (5) مسند بزار میں ہے کہ جب بندہ نماز میں ادھر ادھر دیکھتا ہے تو خدا فرماتا ہے تو کدھر دیکھتا ہے؟ کیا تیرے نزدیک مجھ سے بھی بہتر
کوئی چیز ہے، تو میری طرف دیکھ دوسری دفعہ بھی خدا یہی فرماتا ہے پھر تیسری دفعہ جب اس سے یہ حرکت صادر ہوتی ہے تو خدا اس کی طرف سے اپنا منہ پھیر لیتا ہے۔
ایک دفعہ آپ ﷺ نے فرمایا سب سے بڑا چور وہ ہے جو نماز کی چوری کرتا ہے۔ صحابہؓ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! نماز کی چوری کیا ہے؟ فرمایا رکوع اور سجدہ اچھی طرح نہ کرنا اور خشوع نہ ہونا۔ (2) ایک دفعہ آپ ﷺ نے نماز سے فارغ ہو کر آخری صف کے ایک شخص کو آواز دی کہ اے فلاں! تو خدا سے نہیں ڈرتا کس طرح نماز پڑھتا ہے۔ جب کوئی شخص نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے تو اپنے رب سے باتیں کرتا ہے پس سوچنا چاہئے کہ اس سے کس طرح باتیں کرے۔ (3) صحیح مسلم میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تو نماز بھی اچھی طرح نہیں پڑھتا۔ کیا نماز پڑھنے والا جب نماز پڑھتا ہے تو نہیں سمجھتا کہ وہ کس طرح نماز پڑھ رہا ہے تو اپنے ہی فائدہ کے لئے نماز پڑھتا ہے۔ (4) نماز کی حالت میں تھوکنا اور خصوصاً سامنے تھوکنا ادب کے خلاف ہے۔ آپ ﷺ نے صحابہؓ سے فرمایا کہ نماز کی حالت میں خدا تمہارے سامنے ہوتا ہے تو کیا تم پسند کرتے ہو کہ تم اس کے سامنے تھوکو۔ (5) دوسری روایتوں میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا نماز میں کوئی شخص سامنے نہ تھوکے کہ اس وقت وہ خدا سے باتیں کرتا ہوتا ہے۔ (6) مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا نماز میں خدا تمہارے منہ کے سامنے ہوتا ہے۔ (7)
نماز میں سکون اور اطمینان پیدا کرنے کی بھی آپ ﷺ نے ہدایتیں فرمائی ہیں۔ ارشاد ہوا کہ جب نماز ہو رہی ہو اور تم باہر سے آؤ تو دوڑ کر مت آؤ بلکہ اس طرح آؤ کہ تم پر سکون اور وقار طاری ہو (8) اس سے اول تو یہ مقصود ہے کہ خود اس شخص پر سکون و اطمینان طاری رہے، دوسرے یہ کہ اس کی دوڑ یا چال سے دوسرے نمازیوں کے سکون میں خلل نہ آئے اسی طرح بے اطمینانی کے اگر طبعی اسباب ہوں تو نماز سے پہلے ان سے بھی فراغت کر لی جائے۔ مثلاً بھوک ہو اور کھانا رکھا ہو اور ادھر جماعت کھڑی ہو رہی ہو تو پہلے کھانا کھا لینا چاہئے تا کہ نماز اطمینان سے ادا ہو۔ (9) اسی طرح اگر استنجا یا قضائے حاجت کی ضرورت ہو تو پہلے اس سے فراغت کر لی جائے تب نماز پڑھی جائے۔
آغازِ اسلام میں لوگ نماز کی حالت میں ہاتھ اٹھا کر سلام کا جواب دیتے تھے۔ لیکن مدینہ آ کر یہ اجازت منسوخ ہوگئی ایک صحابیؓ نے جن کو اس کی خبر نہ تھی آنحضرت ﷺ کو کئی دفعہ نماز میں سلام کیا اور جب آپ ﷺ نے جواب نہ دیا تو نماز کے بعد انہوں نے اس کا ذکر کیا فرمایا۔ (1)
﴿إِنَّ فِي الصَّلَاةِ شُغْلًا﴾
نماز میں اور ہی مصروفیت ہوتی ہے۔
نماز پڑھتے وقت ایسے کپڑے پہننا یا سامنے ایسا پردہ لٹکانا جن کے نقش و نگار میں دل محو ہو جائے اور توجہ بٹ جائے مکروہ ہے۔ ایک دفعہ آنحضرت ﷺ نے گل بوٹوں کی ایک چادر اوڑھ کر نماز پڑھی پھر فرمایا اس کے گل بوٹوں نے مجھے اپنی طرف متوجہ کر لیا اس کو ابوجہم (تاجر کا نام) کے پاس لے جاؤ اور انجبانی سادہ چادر لے آؤ۔ (2) اسی طرح ایک دفعہ حضرت عائشہؓ نے سامنے دیوار پر ایک منقش پردہ لٹکا دیا تھا آپ ﷺ نے نماز پڑھی تو خیالات میں یکسوئی نہ رہی آپ ﷺ نے اس کو اتروا دیا۔
اب ذرا ایک نقطے کی بات ہے، ایک نقطے کی بات ہے۔ وہ یہ ہے کہ حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک بات فرمائی ہے کہ جس وقت انسان کو رجوع حاصل ہو جاتا ہے، تو جب تک اس کو نزول حاصل نہیں ہوتا وہ لوگوں میں دین کا کام نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے نزول کا حاصل ہونا ضروری ہے۔ عروج جو ہے عروج، عروج میں انسان کام نہیں کر سکتا لوگوں میں، عروج میں انسان اپنے آپ میں نہیں ہوتا۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ اس کا مطلب کہ نزول میں جب انسان آتا ہے واپس دنیا میں، تو اس کے نفسانی تقاضے سارے کے سارے فعال ہوتے ہیں۔ لیکن اس کو اتنا تعلق اللہ کے ساتھ حاصل ہو چکا ہوتا ہے اور نفس کے اوپر اتنا قابو ہو چکا ہوتا ہے کہ باوجود ان کے فعال ہونے کے ان کو قابو رکھتا ہے۔ مثلاً آپ ایک جانور کو سدھاتے ہیں تو آپ اس سے کام لینا چاہتے ہیں۔ تو کام لینے کے لیے کیا کریں؟ آپ اس کو کمزور کریں گے؟ کمزور ہو جائے؟ اگر وہ اڑی کرتا ہے کیا کریں گے آپ اس کو؟ اس کی اڑی کو ختم کریں گے اس کو کمزور نہیں کریں گے، کیونکہ کام تو آپ کا وہ طاقت سے کرے گا نا، سمجھ میں آئی بات؟ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ تربیت میں یہ ضروری ہے کہ نفس قابو میں ہو، نفس ختم ہونا نہیں ہے۔ نفس ختم ہونا محسوس ہوتا ہے عروج میں، لہٰذا وہ کام نہیں کر سکتا لوگوں میں۔ جب نزول میں آتا ہے تو پھر وہ کام کر سکتا ہے کہ اس کے نفس کے تمام چیزیں فعال ہوتی ہیں۔ اگر آپ ﷺ کا ان چیزوں کے اندر دل نہ بٹتا تو آپ ﷺ پھر فرماتے؟ سمجھ میں آگئی نا بات؟ ایک آدمی کہتا ہے آپ ﷺ تو ان کو تو پھر کیسے ہو سکتا ہے؟ مطلب یہ ہے کہ اس وقت دیکھو نا، کہتے ہیں اللہ سے دل کے ذریعے سے لیتے روح کے ذریعے سے لیتے ہیں اور نفس کے ذریعے لوگوں کو دیتا ہے، حضرت مجدد صاحب نے فرمایا نفس کے ذریعے لوگوں کو دیتا ہے، وہ یہ وہ نقطہ ہے۔ کہ نفس کے ذریعے سے کیسے دیتا ہے؟ کیونکہ نفس کے ذریعے سے وہ لوگوں کے حالات کو بھی sense کرتا ہے۔ اس کو پتہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے کیا جذبات ہو سکتے ہیں کیا خیالات ہو سکتے ہیں کیونکہ کن حالات سے وہ دوچار ہے، اس کے مطابق وہ اس کا علاج کرتا ہے۔ اگر اس چیز سے ڈس کنکشن ہو جائے تو فرشتہ بن جائے، فرشتہ بن جائے گا تو فرشتہ تو انسانوں کا علاج نہیں کر سکتا۔ کیونکہ فرشتے کو تو نہ بھوک ہے نہ پیاس ہے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ