عقیدہِ توحید اور انبیاء کرام کی اصل تعلیمات

درس نمبر 137، سورۃ آل عمران: آیات: 79 تا 80- (اشاعتِ اول) 08 اپریل، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • انبیاء کرام کا مقصدِ بعثت
  • رَبّانی (اللہ والے) بننے کا مفہوم
  • یہود و نصاریٰ کے باطل عقائد کی تردید
  • اللہ تعالیٰ کی ذات اور مخلوق کی صفات میں فرق
  • فرشتوں اور نبیوں کو رب ماننے کی ممانعت
  • صحیح عقیدے پر استقامت اور حسنِ خاتمہ کی دعا

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ۔ أَمَّا بَعْدُ۔

أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيْمِ۔

مَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُؤْتِيَهُ اللهُ الْكِتٰبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُوْلَ لِلنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّیْ مِنْ دُوْنِ اللهِ وَلٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰنِيّٖنَ بِمَا كُنتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَبِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ ﴿79﴾ وَلَا يَأْمُرَكُمْ أَن تَتَّخِذُوا الْمَلٰٓئِكَةَ وَالنَّبِيّٖنَ أَرْبَابًا ۗ أَيَأْمُرُكُمْ بِالْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ﴿80﴾

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ

یہ کسی بشر کا کام نہیں کہ اللہ تو اسے کتاب اور حکمت اور نبوت عطا کرے، اور اس کے باوجود لوگوں سے کہے کہ اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ۔ اس کے بجائے، وہ تو یہی کہے گا کہ اللہ والے بن جاؤ۔ کیونکہ تم جو کتاب پڑھاتے رہے ہو اور جو کچھ پڑھتے رہے ہو، اس کا یہی نتیجہ ہونا چاہیے۔

اصل میں عیسائیوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا کہا، بلکہ بعض نے خدا کہا، تین میں سے ایک کہا۔ تو۔۔

یہ عیسائیوں کی تردید ہو رہی ہے، جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا یا خدا کا بیٹا مان کر گویا یہ دعویٰ کرتے تھے کہ خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ہی ان کو اپنی بات کا حکم دیا ہے۔ یہی حال ان بعض یہودی فرقوں کا تھا جو حضرت عزیر علیہ السلام کو خدا کا بیٹا مانتے تھے۔

اصل میں اللہ جل شانہ کی ذاتِ عالی، وراء الوریٰ ذات ہے۔ اور اللہ پاک کے لیے وہ چیزیں نہیں ثابت کی جا سکتیں جو کہ انسان کے لیے ہیں۔ انسان کے لیے بعض اچھائیاں، جو سمجھی جاتی ہیں، وہ اللہ پاک کے لیے اگر کوئی ثابت کرے گا تو عیب ہوگا۔ جیسے، ایک آدمی کو اچھی نیند آتی ہے، تو medically fit ہے، کہتے ہیں کہ اچھا ہے۔

لیکن اللہ پاک کو نیند نہیں آتی۔ اللہ پاک کو اونگھ بھی نہیں آتی۔ اچھا، اللہ جل شانہ کی اب ظاہر ہے، اس کی بیوی بھی نہیں، اللہ پاک کی اولاد بھی نہیں ہے۔ اللہ پاک کو نہ کسی نے جنا، نہ اس نے کسی کو جنا۔ تو یہ ساری باتیں جو ہیں نا، یہ مخلوق کی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے لیے ان کو کہنا، یہ اللہ تعالیٰ کی شان میں بہت بڑی بے ادبی ہے اور بہت بڑی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے بچائے۔

بہر حال عیسائیوں میں اور یہودیوں میں اس قسم کی باتیں چلی تھیں، تو اللہ پاک نے اس کی تردید فرمائی ہے۔

اور نہ وہ تمہیں یہ حکم دے سکتا ہے کہ فرشتوں اور پیغمبروں کو خدا قرار دے لو

ظاہر ہے پیغمبر آتا اس لیے ہے کہ اللہ پاک کا حکم لوگوں کو سمجھائے، اللہ پاک کا حکم لوگوں کو بتائے۔ یہ تو، ظاہر ہے کہ ان کا کام ہے۔ تو وہ کیسے یہ کر سکتا ہے کہ کسی اور کے بارے میں کہہ دے کہ ان کو خدا بنا لو؟ یہ تو پیغمبرانہ وظیفے کے خلاف ہے۔ تو یہ جنہوں نے بھی کیا ہے، یہ لوگوں کی حماقت اور جہالت اور قساوت ہے۔

اور جب تم مسلمان ہو چکے، تو کیا اس کے بعد وہ تمہیں کفر اختیار کرنے کا حکم دے گا؟

اللہ پاک ہم سب کو ایسے غلط عقائد اور غلط نظریات سے محفوظ فرمائے، اور صحیح عقائد پر استقامت نصیب فرمائے۔ اور ہمارے تمام عقیدوں کو بہترین کر لے، اور پھر اسی پہ قائم رکھے، اور ہماری موت بھی اسی پر کرے، اور اللہ جل شانہ ہم سے اس پر راضی ہو، اور ایسے راضی ہو کہ کبھی ناراض نہ ہو۔

اَللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ۔

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا وَرِزْقًا وَاسِعًا وَشِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ۔ اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنِي شَهَادَةً فِي سَبِيلِكَ وَاجْعَلْ مَوْتِي فِي بَلَدِ رَسُولِكَ۔ اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنِي شَهَادَةً فِي سَبِيلِكَ وَاجْعَلْ مَوْتِي فِي بَلَدِ رَسُولِكَ۔ اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنِي شَهَادَةً فِي سَبِيلِكَ وَاجْعَلْ مَوْتِي فِي بَلَدِ رَسُولِكَ۔

سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ


حضرت کی آج کی نئی تشریح (ملفوظات و حکمتیں)

مدینہ منورہ کا بابرکت سفر اور پابندیِ وقت

حضرت والا دامت برکاتہم نے فرمایا کہ آج کا یہ درسِ قرآن مدینہ منورہ میں سفرِ عمرہ کے دوران دیا گیا تھا، جس کے پس منظر میں مسجدِ نبوی کی روح پرور صدائیں بھی سنی جا سکتی ہیں۔ پاکستان اور مدینہ منورہ کے اوقات میں دو گھنٹے کا فرق ہونے کے باوجود اس بات کا خاص اہتمام کیا گیا کہ درس اپنے مقررہ وقت پر ہو تاکہ ناغہ نہ ہو۔ یہ محض اللہ کا فضل ہے کہ سفر ہو یا حضر، معمولات میں تسلسل برقرار رکھا جاتا ہے، کیونکہ عمل میں ناغہ کرنا روحانی اعتبار سے شدید نقصان دہ ہے۔

تسلسل اور استقامت کی اہمیت (فرشتوں کا مانوس ہونا)

حضرت شیخ نے استقامت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ کسی بھی عمل میں تسلسل (consistency) اور مداومت بے پناہ برکات کا سبب بنتی ہے۔ احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے کہ جب انسان نوافل، ذکر یا کسی نیک عمل کا وقت مقرر کر لیتا ہے، تو فرشتے ان اوقات اور اعمال کے عادی ہو جاتے ہیں اور اس بندے سے مانوس ہو جاتے ہیں۔ اگر بلاوجہ اور بغیر کسی شرعی عذر کے وہ معمولات چھوڑ دیے جائیں یا ان میں ناغہ کیا جائے، تو فرشتے بے چین ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں اعمال کی برکت میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ جیسا کہ صحیح بخاری کی حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کو وہ عمل سب سے زیادہ محبوب ہے جو مستقل مزاجی سے کیا جائے، خواہ وہ مقدار میں تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔

اجتماعی دینی کاموں میں باقاعدگی کی ضرورت

انفرادی اعمال کی طرح اجتماعی دینی کاموں میں بھی ناغے سے بچنا ازحد ضروری ہے۔ ایک دن کا ناغہ انسان کو روحانی طور پر بہت پیچھے دھکیل دیتا ہے، جس سے سراسر نقصان ہوتا ہے۔ جو لوگ مسلسل کسی بیان یا درس سے جڑے ہوتے ہیں، ان کی روحانیت اور توجہ کا ایک خاص دائرہ اور مزاج (tempo) بن چکا ہوتا ہے۔ اگر وہ درمیان میں ناغہ کر لیں، تو وہ کیفیت ٹوٹ جاتی ہے اور دوبارہ اسی روحانی کیفیت کو پانے کے لیے انہیں مزید محنت کرنی پڑتی ہے۔ باقاعدگی نہ ہونے سے فرشتوں کے اصول کے تحت مجالس میں بے برکتی پیدا ہوتی ہے اور بتدریج لوگوں کا رجحان بھی کم ہونے لگتا ہے، جیسا کہ بسا اوقات محسوس کیا گیا ہے کہ ایک دن کے ناغے کی وجہ سے شرکاء کی تعداد میں نمایاں کمی آ جاتی ہے۔

درسِ قرآن کے آغاز کا مبارک پس منظر

حضرت والا نے اپنے درسِ قرآن شروع کرنے کا پس منظر بیان کرتے ہوئے انتہائی عاجزی کا اظہار فرمایا کہ جب محترم ڈاکٹر ارشد صاحب نے انہیں درسِ قرآن کا مشورہ دیا، تو حضرت نے ابتداً یہ کہہ کر گریز کیا کہ یہ کام جید علماءِ کرام کا ہے۔ تاہم، ان کے مسلسل اصرار پر حضرت نے یہ طے فرمایا کہ جو تلاوت وہ روزانہ انفرادی طور پر کرتے ہیں، اسی کو باآوازِ بلند پڑھ لیا کریں گے تاکہ دیگر احباب بھی مستفید ہوں۔ اس درس میں کوئی بات اپنی طرف سے نہیں کی جاتی، بلکہ مستند تفاسیر، بالخصوص حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب کی "آسان ترجمہ قرآن"، حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ اور دوسرے علمائے کرام کے ارشادات کو ہی بنیاد بنایا جاتا ہے۔

دورِ حاضر کے بیانات اور اکابرین کے طرزِ عمل کا فرق

حضرت شیخ نے موجودہ دور کے خطبات پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ آج کل کے بیانات عموماً لفاظی اور جذباتی ہوتے ہیں، جن کا مقصد صرف عوام سے "واہ واہ" وصول کرنا ہوتا ہے، مگر ان میں حقیقی علمی یا اصلاحی فائدہ مفقود ہوتا ہے۔ حضرت نے اس ضمن میں خیبر پختونخوا کی ایک مشہور پشتو ضرب المثل کا حوالہ دیا کہ لوگ کہتے ہیں: "د ظالم ملا کافرې مسلې بیان کړې" جس کا واضح ترجمہ ہے کہ "ظالم ملا نے کافر مسئلے بیان کر دیے۔" اس کا مقصود یہ ہے کہ بعض خطباء خواہ مخواہ کی جذباتیت میں ایسے کٹھن اور غیر متعلقہ مسائل چھیڑ دیتے ہیں جن کا عوام کی ضرورت اور اصلاح سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے بیانات دو دو، تین تین گھنٹے طویل ہوتے تھے، جن میں عوام اور خواص یکسوئی سے جم کر بیٹھتے تھے۔ انہیں روحانی اور اصلاحی فائدہ پہنچ رہا ہوتا تھا، اسی لیے وہ وہاں جڑے رہتے تھے۔ واعظ کا مقصد محض لوگوں کی خوشنودی یا اپنی پسند کی باتیں سنانا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ وہی بات کرنی چاہیے جو وقت کی ضرورت ہو اور جس میں امت کا حقیقی فائدہ پوشیدہ ہو۔

سورۃ القلم کا واقعہ: سچی بات کی تاثیر

حضرت نے اس ضمن میں اپنے صاحبزادے کی طفولیت کا ایک نہایت سبق آموز واقعہ بیان فرمایا۔ وہ بچپن میں پرجوش اور جذباتی تقریریں سننے کا عادی تھا۔ ایک دن حضرت نے اسے اپنا بیان سننے کی دعوت دی تو اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے "قلم" کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ اگر آپ اس قلم پر بیان کریں تو میں آؤں گا۔ حضرت نے اسے قبول کیا اور اللہ کی مدد پر بھروسہ کرتے ہوئے بیان کا آغاز سورہ القلم کی آیت "نٓ ۚ وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ" سے کیا اور پورا بیان اسی موضوع کے گرد گھومتا رہا۔ جب بعد میں حضرت نے بیٹے سے پوچھا کہ اس بیان اور ان جذباتی تقریروں میں کیا فرق محسوس ہوا؟ تو اس نے ایک نہایت پختہ بات کہی کہ: "آپ کا بیان یاد رہتا ہے، جبکہ ان کا بیان بعد میں بھول جاتا ہے۔" پرجوش بیانات میں وقتی طور پر انسان خود کو ہوا میں اڑتا ہوا محسوس کرتا ہے، لیکن بیان ختم ہوتے ہی وہ تاثر زائل ہو جاتا ہے، جبکہ اخلاص اور علم پر مبنی بات سیدھی دل میں اترتی ہے اور دیرپا اثر رکھتی ہے۔

آج کے اس بابرکت درس اور مدینہ منورہ کے نورانی ماحول سے ہمیں دو بنیادی اور حتمی اسباق ملتے ہیں جنہیں ہمیشہ پیشِ نظر رکھنا چاہیے: اول یہ کہ دینی معمولات، مجالسِ علم اور ذکر میں ہرگز ناغہ نہ ہو، بلکہ ان میں استقامت اور تسلسل برقرار رکھا جائے تاکہ انسان فرشتوں کی معیت اور روحانی برکات کے حصار میں رہے۔ دوم یہ کہ بیان اور دعوتِ دین کا منصب سراسر امانت ہے؛ اس لیے خطباء کی گفتگو اپنی مرضی یا عوام کی وقتی واہ واہ کے لیے نہیں ہونی چاہیے، بلکہ بیان میں ہمیشہ وہ بات ہو جو وقت کی ضرورت اور دینی تقاضوں کے عین مطابق ہو، جس سے لوگوں کا حقیقی فائدہ ہو۔

علمِ نافع اور ذکرِ الٰہی کی ان نورانی مجالس تک رسائی اللہ رب العزت کا ایک ایسا عظیم انعام ہے جو صرف خوش نصیبوں کے حصے میں آتا ہے۔ ایسے پرفتن دور میں جہاں عقائد کا تحفظ اور روحانیت کی بقا ایک کٹھن مرحلہ بن چکا ہے، عارفین اور اہلِ اللہ کی صحبت اختیار کرنا اور ان کے دروس سے باقاعدگی کے ساتھ مستفید ہونا ہر مسلمان کی اولین روحانی ضرورت ہے۔ یہ مجالس محض معلومات کا ذریعہ نہیں، بلکہ قلب و روح کے زنگ اتارنے اور ایمان کو جلا بخشنے کی وہ اکثیر ہیں جن کی قدردانی ہی میں ہماری دنیاوی اور اخروی سعادت مضمر ہے۔ جو نفوس لائیو (live) بیانات سے تسلسل کے ساتھ جڑتے ہیں، وہ درحقیقت اپنی اصلاح، اپنے عقائد کے تحفظ اور اپنی آخرت کی کامیابی کی ضمانت فراہم کر رہے ہوتے ہیں۔

عقیدہِ توحید اور انبیاء کرام کی اصل تعلیمات - درسِ قرآن - دوسرا دور