قسم کا شرعی حکم، کفارہ اور معصیت کی اقسام: حدیث و فقہ کی روشنی میں

درس نمبر 102- باب فی التقوی - حدیث نمبر 72 (اشاعتِ اول) 30 اکتوبر، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

اہم موضوعات:

قسم توڑنے اور کفارہ ادا کرنے سے متعلق حدیثِ نبوی ﷺ کی تشریح۔

نیکی اور اطاعت کی قسم کے مقابلے میں معصیت (گناہ) کی قسم کا حکم۔

قسم اور نذر کے بارے میں فقہاء (امام مالکؒ، امام شافعیؒ، اور امام ابو حنیفہؒ) کے مذاہب اور آراء کا بیان۔

معصیت لِعَیْنِھَا (بذاتِ خود گناہ، جیسے قتل یا زنا) اور معصیت لِغَیْرِھَا (کسی عارضی شرعی رکاوٹ کی وجہ سے منع، جیسے ایامِ تشریق کے روزے) میں بنیادی فرق۔

لغو قسم کی حقیقت اور کفارے کا وجوب۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.

معصیت کی نذر پوری نہ کی جائے

(72) الرَّابِعُ: وَ عَنْ أَبِي طَرِيْفِ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: ”مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِيْنٍ ثُمَّ رَأَى أَتْقَى لِلّٰهِ مِنْهَا فَلْيَأْتِ التَّقْوَى“ (رواه مسلم)

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے جو شخص قسم اٹھاتا ہے پھر اس سے کسی اور چیز کو زیادہ بہتر پاتا ہے تو وہ بہتر کام کرے۔‘‘

مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی کہتا ہے، میں نے یہ کام نہیں کرنا۔ تو ایک تو اس میں بالکل ظاہر ایک صحیح بات ہوتی ہے، جیسے نماز پڑھنا ہے، روزہ رکھنا ہے، زکوٰۃ دینی ہے، حج کرنا ہے، تو وہ تو سوال ہی نہیں پیدا ہو سکے گا کہ کوئی کرے، وہ تو اللہ کا حکم ہے۔ تو کوئی قسم کھا بھی لے تو اس سے کوئی فرق تو... وہ صرف قسم ہی توڑے گا اور اس کا کفارہ دے گا۔ لیکن ایسی چیزیں ہوتی ہیں بعض دفعہ کہ سمجھ میں نہیں ہوتیں، تو انسان اپنے اندازے کے مطابق قسم کھاتا ہے کہ میرے لیے یہ بہتر ہے۔ بعد میں پتہ چل جائے کہ بہتر یہ نہیں ہے، بہتر یہ دوسری چیز ہے۔ اس وقت اس دوسری چیز کا، اس حدیث شریف سے جو براہ راست ہمیں سبق ملتا ہے، تو وہ تو یہ ہے کہ اگر ہمیں کوئی مزید بہتر چیز مل جائے، تو ہمیں وہ قسم پوری نہیں کرنی چاہیے، بلکہ اس کا کفارہ دینا چاہیے۔

اپنی قسم کے خلاف خیر پائے تو وہ قسم کا کفارہ دے دے

اس طرح، یہ فرمایا کہ:

جو شخص قسم کھائے پھر اس سے کوئی اور چیز کو بہتر پائے تو بہتر کام کرے۔ اس بات پر فقہاء کا اتفاق ہے کہ اطاعت کی قسم کو پورا کرنا چاہیے اور معصیت والی قسم کو پورا کرنا جائز نہیں ہے۔ جیسے کہ روایات میں آتا ہے: "فَرَأٰى غَيْرَهَا خَيْرًا مِّنْهَا، فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَّمِيْنِهٖ، وَلْيَفْعَلْ".

کیا معصیت کی نذر ماننے کے بعد پوری نہ کرنے پر کفارہ ہے یا نہیں؟

اس میں فقہاء کے مختلف مذاہب ہیں مثلاً امام مالک اور امام شافعی فرماتے ہیں کہ اس پر کوئی کفارہ نہیں آئے گا امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں اس معصیت کو دیکھیں گے وہ معصیت ”لعینھا“ ہو گی یا ”لغیرھا“۔ اگر ”لعینھا“ ہے مثلاً قتل، زنا وغیرہ تو اس کو پورا کرنا جائز بھی نہیں اور نہ ہی اس پر کوئی کفارہ آئے گا۔

اور اگر وہ "لغیرھا" ہے مثلاً عید کے دن یا ایام تشریق میں روزہ رکھے تو اس صورت میں اس کو پورا کرنا تو جائز نہیں ہوگا مگر اس صورت میں کفارہ یمین آئے گا۔

یعنی وہ ایک واقعی معصیت ہے۔ تو اس میں اس کو تو پورا ہی نہیں کرنا، اور لیکن اس کا کفارہ نہیں ہوگا۔ اور دوسرا یہ ہے کہ اس طرح ہے کہ اس کو ایک وجہ سے اس کو روک دیا گیا ہے۔ مطلب Special Case ہے۔ ویسے تو روزہ رکھنے کا حکم ہے نا؟ کہ روزہ رکھنا چاہیے، چاہے وہ فرض ہو، جیسے رمضان کا ہے، یا پھر نفل کی کوئی نیت کر لے۔ تو اس کو پورا کرنا پھر لازمی ہے۔ لیکن اگر وہ رکاوٹ پہلے سے ایک موجود ہے، کہ وہ نیت کی ہی نہیں جا سکتی، جیسے ایامِ تشریق میں روزہ رکھنا ہے۔ یعنی عام طور پر۔۔ جیسے زنا اور قتل تو کسی بھی وقت میں جائز نہیں ہے نا؟ تو اس کو اگر کوئی قسم کھائے گا تو وہ نہیں کرے گا، اس کا کفارہ نہیں ہے۔ لیکن دوسری، وہ لغو قسم میں شمار ہوگی۔

اور جبکہ یہ چیز چونکہ ممکن تو ہے دوسرے حالات میں، صرف ایک Special Case میں روک دیا گیا ہے، تو اس کا یہ بات ہے کہ اس کو پورا تو نہیں کرے گا، لیکن اس کا کفارہ لازم آئے گا۔

صحیح مسلم، کتاب الایمان، بَابُ نَدْبِ مَنْ حَلَفَ يَمِيْنًا فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِّنْهَا، رَوَاهُ النَّسَائِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ أَيْضًا۔

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ، وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ.

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ، بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ.