اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ. أَمَّا بَعْدُ، فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.
وَلَا تُؤْمِنُوْٓا إِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِيْنَكُمْ قُلْ إِنَّ الْهُدٰى هُدَى اللهِ أَنْ يُؤْتٰٓى أَحَدٌ مِّثْلَ مَآ أُوْتِيْتُمْ أَوْ يُحَآجُّوْكُمْ عِندَ رَبِّكُمْ ۗ قُلْ إِنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَشَآءُ ۗ وَاللهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ ﴿73﴾ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ يَشَٓاءُ ۗ وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ ﴿74﴾ وَمِنْ أَهْلِ الْكِتٰبِ مَنْ إِنْ تَأْمَنْهُ بِقِنْطَارٍ يُّؤَدِّهٖ إِلَيْكَ وَمِنْهُمْ مَّنْ إِن تَأْمَنْهُ بِدِيْنَارٍ لَّا يُؤَدِّهٖ إِلَيْكَ إِلَّا مَا دُمْتَ عَلَيْهِ قَٓائِمًا ۗذٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوْا لَيْسَ عَلَيْنَا فِی الْأُمِّيّٖنَ سَبِيْلٌ وَيَقُوْلُوْنَ عَلَى اللهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُوْنَ ﴿75﴾ بَلٰى مَنْ أَوْفٰی بِعَهْدِهٖ وَاتَّقٰی فَإِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ ﴿76﴾ إِنَّ الَّذِيْنَ يَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيْلًا أُولٰٓئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَلَا يُزَكِّيْهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيْمٌ ﴿77﴾ وَإِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِيْقًا يَّلْوٗنَ أَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتٰبِ لِتَحْسَبُوْهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَمَا هُوَ مِنَ الْكِتٰبِ وَيَقُوْلُوْنَ هُوَ مِنْ عِندِ اللهِ وَمَا هُوَ مِنْ عِندِ اللهِ وَيَقُوْلُوْنَ عَلَى اللهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُوْنَ ﴿78﴾
صَدَقَ اللّٰهُ العَلِيُّ العَظِيْم، وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الكَرِيْم.
مگر دل سے ان لوگوں کے سوا کسی کی نہ ماننا جو تمہارے دین کے متبع ہیں۔
یعنی یہ آیت اس کے ساتھ ہے:﴿وَقَالَتْ طَّٓاۗىِٕفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اٰمِنُوْا بِالَّذِيْٓ اُنْزِلَ عَلَي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَجْهَ النَّهَارِ وَاكْفُرُوْٓا اٰخِرَهٗ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ﴾یعنی ان لوگوں نے سازش کی تھی کہ اہل کتاب کے ایک گروہ نے ایک دوسرے سے کہا کہ جو کلام مسلمانوں پر نازل کیا گیا ہے، اس پر دن کے شروع میں تو ایمان لے آؤ اور دن کے آخری حصے میں اس سے انکار کر دینا، شاید اس طرح مسلمان بھی اپنے دین سے پھر جائیں۔
یعنی یہ سازش ان لوگوں نے کی کہ اس طریقے سے ہم ان کو اپنے دین سے برگشتہ کر لیں۔ اور ساتھ کہتے ہیں:
مگر دل سے ان لوگوں کے سوا کسی کی نہ ماننا جو تمہارے دین کے متبع ہیں۔آپ ان سے کہہ دیجیے کہ ہدایت تو وہی ہدایت ہے جو اللہ کی دی ہوئی ہو۔ یہ ساری باتیں تم اس ضد سے کر رہے ہو کہ کسی کو وہ چیز یعنی نبوت اور آسمانی کتاب کیوں مل گئی جیسے کبھی تمہیں دی گئی تھی، یا یہ مسلمان تمہارے رب کے آگے تم پر غالب کیوں آ گئے۔ آپ کہہ دیجیے کہ فضیلت تمام تر اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، وہ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بڑی وسعت والا ہے، ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔
وہ کل شاید اس کی بات ہوئی تھی کہ کسی کو کوئی فضیلت حاصل ہو یعنی کل کا جو مثنوی شریف کا درس تھا۔ کسی کو اگر کوئی فضیلت حاصل ہو تو اس فضیلت کی وجہ سے اگر اس کی نظر اپنے اوپر پڑ گئی، یعنی اس نے اپنے آپ کو باکمال سمجھا، تو وہ تباہ ہو جائے گا۔ یعنی وہ اصل مقصد حاصل نہیں کر سکے گا۔ اور جس کی نظر اللہ پہ پڑ گئی، تو وہ کامیاب ہو جائے گا۔ اللہ پہ نظر پڑنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ پاک کا شکر کرے اس کا، کہ اللہ پاک نے مجھے فضیلت دی ہے، اور پھر اس کی اطاعت کرے۔ تو ماشاءاللہ وہ کامیاب ہو جائے گا۔ اور اگر ایسا نہیں، اس نے اپنے اوپر لے لیا کہ دیکھو میں باکمال ہوں، میں نے یہ کر لیا، میں نے یہ کر لیا۔ اب مثال کے طور پر اللہ پاک نے ایک شخص کو خوبصورت بنایا، تو اس میں اس شخص کی اپنی کیا Contribution ہے؟ یا کسی کو ایک اچھی نسل میں پیدا کیا، تو اس میں اس کی کیا Contribution ہے؟ کسی کو صحت مند بنایا، تو اس میں اس کی کیا Contribution ہے؟ اللہ تعالیٰ اگر تمہیں بنا سکتا ہے، تو وہ کسی اور کو بھی بنا سکتا ہے۔ اب اگر تمہیں بنانا ٹھیک ہے تمہیں پسند ہے، تو باقیوں کے لیے کیوں ناپسند ہے؟ اللہ پاک ان کو بھی بنا سکتا ہے۔
تو گویا کہ یوں سمجھ لیجیے کہ جو شخص اچھی چیز کو صرف اپنے لیے سمجھے اور کسی اور کے لیے اس کو مناسب نہ سمجھے، تو اس کے دل میں کجی ہے، اور وہ نقصان اٹھائے گا اپنے تمام اعمال سے۔ کیونکہ جو ان کے اعمال ہیں وہ اس کے دل کے تابع ہیں، تو دل میں اگر کجی ہے تو اعمال میں بھی کجی ہوگی۔ اب مثلاً یہ ہے کہ اگر کسی کے ساتھ حسد ہے اور اللہ تعالیٰ اس کو کوئی فضیلت دے دے، تو یہ معاملہ کہاں جائے گا؟ یہ معاملہ اللہ تعالیٰ کی طرف جائے گا اگر یہ حسد کرے گا اس کے ساتھ، کہ اس نے اس کو کیوں دی؟ اس نے اللہ کے فعل پہ اعتراض کر لیا، نتیجتاً یہ تباہی کا راستہ ہے۔ یہی ان کے ساتھ ہوا ہے، اور ہمارے لیے قرآن میں اس لیے آیا ہے کہ ہم لوگ بھی اس سے بچیں، ہم ایسا نہ کریں۔
تو اللہ پاک فرماتے ہیں:
آپ ان سے کہہ دیجیے کہ ہدایت تو وہی ہدایت ہے جو اللہ کی دی ہوئی ہو۔
تمہارے کہنے سے، تمہارے نہ کہنے سے کچھ نہیں ہوتا۔
یہ ساری باتیں تم اس ضد میں کر رہے ہو کہ کسی کو وہ چیز یعنی نبوت اور آسمانی کتاب کیوں مل گئی جیسے کبھی تمہیں دی گئی تھی، یا یہ مسلمان تمہارے رب کے آگے تم پر غالب کیوں آ گئے؟ آپ کہہ دیجیے کہ فضیلت تمام تر اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بڑی وسعت والا ہے اور ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ وہ اپنی رحمت کے لیے جس کو چاہتا ہے خاص طور پر منتخب کر لیتا ہے، اور اللہ فضلِ عظیم کا مالک ہے۔
اہل کتاب میں کچھ لوگ تو ایسے ہیں اگر تم ان کے پاس دولت کا ایک ڈھیر بھی امانت کے طور پر رکھوا دو تو وہ تمہیں واپس کر دیں گے، اور انہی میں سے کچھ ایسے ہیں کہ اگر ایک دینار کی امانت بھی ان کے پاس رکھواو تو وہ تمہیں واپس نہیں دیں گے، الا یہ کہ تم ان کے سر پر کھڑے رہو۔ ان کا یہ طرزِ عمل اس لیے ہے کہ انہوں نے یہ کہہ رکھا ہے کہ امّیوں (یعنی غیر یہودی عربوں) کے ساتھ معاملہ کرنے میں ہماری کوئی پکڑ نہیں ہوگی۔
یہ ان کی کتابوں میں تحریفاً درج ہے، تحریفاً، کہ باقی لوگ تو کیڑے مکوڑوں کی طرح ہیں۔ جیسے مثال کے طور پر ہم یہ جانوروں کو ذبح کرتے ہیں، تو کیا ہمارے دل میں کبھی آتا ہے کہ ہم ظلم کر رہے ہیں؟ گوشت کھانے والے جتنے بھی حضرات ہیں، آخر ان کو تو کسی نہ کسی جانور کو ذبح کرنا پڑتا ہے نا، بس صرف اتنا ہے کہ اس کو صحیح طریقے سے ذبح کر لے، باقی اس پر جرم تو نہیں ہے۔ وہ بالکل ایسے ہی سمجھتے ہیں کہ ہم نے اگر کسی غیر یہودی کو مارا تو ایسا ہی ہے، اس پر کوئی پکڑ نہیں۔ یہ ان کا وہ ہے، اس وجہ سے یہ جتنے بھی ظلم کرتے ہیں فلسطین میں یا دوسری جگہوں پہ، وہ سب اسی Context میں ہیں، ان کا Concept ہی یہی ہے۔
اور اس طرح وہ اللہ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھتے ہیں۔ بھلا پکڑ کیوں نہیں ہوگی؟ قاعدہ یہ ہے کہ جو اپنے عہد کو پورا کرے گا اور گناہ سے بچے گا، تو اللہ ایسے پرہیزگاروں سے محبت رکھتا ہے۔ اس کے برخلاف جو لوگ اللہ سے کیے ہوئے عہد اور اپنی کھائی ہوئی قسموں کا سودا کر کے تھوڑی سی قیمت حاصل کر لیتے ہیں، ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ اور قیامت کے دن نہ اللہ ان سے بات کرے گا، نہ انہیں عنایت کی نظر سے دیکھے گا، نہ انہیں پاک کرے گا، ان کا حصہ تو بس عذاب ہوگا انتہائی دردناک۔
اور انہی میں سے ایک گروہ کے لوگ ایسے ہیں جو کتاب یعنی تورات پڑھتے وقت اپنی زبانوں کو مروڑتے ہیں تاکہ تم ان کی مروڑ کر بنائی ہوئی اس عبارت کو کتاب کا حصہ سمجھو۔
بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے نا کہ ایک بات ہوتی ہے اور اس کو اس انداز سے پڑھتے ہیں یا کہتے ہیں کہ اس سے دوسرا مطلب لیا جا سکتا ہے۔ تو وہ دوسرے کو دوسرا سمجھاتے ہیں گویا کہ اس کا۔ تو یہ تو ظاہر ہے جرم ہے کیونکہ اللہ کی کتاب کے ساتھ تو ایسا کوئی نہیں کر سکتا۔
حالانکہ وہ کتاب کا حصہ نہیں ہوتی۔ اور وہ کہتے ہیں کہ یہ (عبارت) اللہ کی طرف سے ہے، حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے نہیں ہوتی۔ اور (اس طرح) وہ اللہ پر جانتے بوجھتے جھوٹ باندھتے ہیں ﴿78﴾
اللہ جل شانہ ہمیں اس قسم کی شرارتوں سے محفوظ فرمائے۔
یہ جب معاملہ اللہ کے ساتھ ہوتا ہے اور انسان اس قسم کی گڑبڑ کرتا ہے تو اس کا نتیجہ بہت ہی خراب ہوتا ہے۔ تو اس میں جو علمی لوگ ہیں، ان کو بہت احتیاط کرنا ہوتا ہے کہ کہیں وہ اپنے نفس کی بات کو دین کی بات نہ بنائیں۔ کہیں اپنے نفس کی بات کو وہ اس کو دین کی بات نہ دکھائیں۔ وہ کہا تھا نا کسی نے کہ مولانا فضل الرحمن کو مولانا کہنا گناہ ہے۔ اب یہ کون سی کتاب میں اور کس طریقے سے اس نے کہہ دیا؟ تصور کر لیں یہ گناہ اور ثواب کا مطلب کیا ہے؟ یہ تو اللہ کی طرف سے ہے نا، یہ تو انسان خود نہیں کہہ سکتا کسی کے بارے میں کہ یہ چیز گناہ ہے اور یہ چیز ثواب ہے۔ اب گناہ جب کہہ دیا تو اس کی بھی دلیل دینی پڑے گی، اور اگر ثواب کہے گا تو اس کی بھی دلیل دینا پڑے گا، جیسے حلال کو حرام نہیں کہا جا سکتا، حرام کو حلال نہیں کہا جا سکتا۔ تو اس طریقے سے جو لوگ تحریف کرتے ہیں بہت خطرناک ہے۔
وہ ایک تھے وہ پتہ نہیں مولانا فضل الرحمن صاحب کے ساتھ ایسی باتیں ہوتی ہیں کے پی کے کے کچھ متشدد لوگ ہیں جو ان کے مخالف ہیں مولویوں میں، تو وہ درس دے رہا تھا سورہ عصر کا ﴿وَالْعَصْرِ. اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِيْ خُسْرٍ﴾ تو زمانے کی قسم "إِنَّ لَفَضْلَ الرَّحْمٰنِ لَفِيْ خُسْرٍ" ﴿اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ﴾۔ کتنی بڑی جسارت ہے! اللہ کو کیا جواب دیں گے؟ کیا جواب دیں گے؟ یہ بغض و عناد۔
تو میں نے آپ سے عرض کیا نا کہ اصل میں ہم میں وہ چیزیں آتی ہیں، ہمیں پتہ نہیں چلتا۔ وہی یہود کی اور نصاریٰ کی جو باتیں ہیں نا، وہ آتی ہیں کچھ ایسے لوگ جیسے میں نے پہلے بھی بتایا تھا، کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جو یہود کی طرح پیغمبروں کو، اولیاء اللہ کو اپنے برابر کے لوگ سمجھتے ہیں، اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو عیسائیوں کی طرح ان کو خدائی صفات میں شریک کر لیتے ہیں، دونوں مجرم ہیں۔ جو ان کو عام لوگ سمجھتے ہیں، وہ بھی مجرم ہیں کیونکہ اللہ پاک نے ان کو عام لوگوں کی طرح نہیں رکھا۔ ٹھیک ہے انسانیت کے لحاظ سے تو ایک ہیں، لیکن پھر اللہ پاک کا ان کے ساتھ جو تعلق ہے، اس کے لحاظ سے وہ دوسرے ہیں۔ وہ ہر ایک آدمی دوسرے سے مختلف ہے۔ جس کا تعلق زیادہ ہے، اس کا تعلق زیادہ ہے اور جس کا تعلق کم ہے، اس کا تعلق کم ہے۔ اب مثال کے طور پر ایک شخص ہے، سارے انسان ایک جیسے ہیں، ایک بہت مالدار ہے ایک بہت غریب ہے۔ تو مال کے لحاظ سے کیا یہ دونوں برابر ہیں؟ مال کے لحاظ سے تو مختلف ہیں، ہاں انسانیت کے لحاظ سے ایک جیسے ہیں۔ تو اسی طریقے سے انسانیت کے لحاظ سے پیغمبر اور عام لوگ ایک جیسے ہیں، لیکن مقام کے لحاظ سے، اللہ کے قرب کے لحاظ سے پیغمبر تک صحابہ بھی نہیں پہنچ سکتے، اور صحابہ تک اولیاء نہیں پہنچ سکتے باقی۔
تو کہاں پیغمبر اور کہاں ہم جیسے لوگ؟ یہی بڑا مسئلہ ہوتا ہے کہ انسان کو یہ دیکھنا چاہیے کہ کہیں ہمارے اندر وہ یہود و نصاریٰ والی باتیں تو نہیں آگئیں؟ یا مشرکوں کی باتیں؟ یا دہریوں کی باتیں؟ یہ ہمیں اپنا احتساب کرنا پڑے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ اپنے آپ کے ساتھ حساب کرو اس سے پہلے کہ تمہارے ساتھ حساب کیا جائے۔ تو اپنے آپ کے ساتھ حساب کرنا چاہیے، احتساب اپنا کرنا چاہیے، ورنہ پھر یہ ہے کہ وہاں تو کچھ نہیں ہو سکتا، وہاں تو جو ہوگا وہی تو اللہ پاک کے ہاتھ میں ہے۔
اس وجہ سے ہمیں بہت احتیاط کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایتِ تامہ عطا فرما دے دائمی طور پر۔وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔