استقامت کی برکات، دیدارِ الٰہی اور جنت کی بے مثال مہمان نوازی

درس نمبر 126- باب الاستقامۃ - استقامت کا بدلہ جنت ہے - اشاعتِ اول: 24 نومبر، 2022 بمطابق 29 ربیع الثانی 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

·      سورۂ فصلت کی آیات کی روشنی میں استقامت اور اس کے انعام (جنت) کا بیان۔

·      صحابۂ کرام (حضرت ابوبکر، عمر، عثمان، علی رضی اللہ عنہم) اور تابعین کے اقوال کے مطابق استقامت کا مفہوم۔

·      حدیثِ جبریل کے تناظر میں ایمان، اسلام اور احسان کے درجات اور ان میں استقامت کی اہمیت۔

·      فرشتوں کے نزول کے تین مقامات: موت کا وقت، قبر سے اٹھتے وقت اور میدانِ حشر۔

·      جنت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندۂ مومن کی بے مثال مہمانی اور عطا کردہ نعمتوں کا بیان۔

·      دیدارِ الٰہی کا تذکرہ، جو انسانی تصور اور گمان سے ماورا ہے، اور اس کے سامنے جنت کی تمام نعمتوں کا ماند پڑ جانا۔

·      تجلیِ مسجودی اور تجلیِ اعظم کا فرق

·      بارگاہِ الٰہی میں حضوری اور دیدارِ ربانی کے شوق پر مبنی نعتیہ/عارفانہ کلام۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔


استقامت کا بدلہ جنت ہے

وَقَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی: ﴿اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ(30) نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِۚ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَدَّعُوْنَ (31) نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ۠ (32)﴾

"جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار خدا ہی ہے پھر وہ اس پر قائم رہے ان پر فرشتے اتریں گے (اور کہیں گے) نہ خوف کرو نہ غمناک ہو اور بہشت کی جس کا تمہیں وعدہ کیا جاتا ہے خوشی مناؤ، ہم دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے دوست تھے اور آخرت میں بھی تمہارے رفیق ہیں اور وہاں جس نعمت کو تمہارا جی چاہے گا تم کو ملے گی اور جو چیز طلب کرو گے تمہارے لئے موجود ہوگی۔ خدا غفور رحیم کی طرف سے مہمان نوازی ہوگی۔"

یہاں پر جنت کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ تو استقامت کی جو تعریف ہے وہ تو کل ہو چکی ہے۔ البتہ اس کی مزید تفصیل یہ بتائی جا رہی ہے کہ

حضرت ابو بکر صدیقؓ سے استقامت کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا: استقامت یہ ہے کہ تم کسی کو اللہ کا شریک نہ قرار دو۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے استقامت کے بارے میں فرمایا: "الْإِسْتِقَامَةُ أَنْ تَسْتَقِيمَ عَلَى الْأَمْرِ وَالنَّهْيِ وَلَا تَرُوغَ رَوَغَانَ الثَّعَالِبِ" استقامت یہ ہے کہ تم اللہ کے تمام احکام اوامر اور نواہی پر سیدھے جمے رہو اس سے راہ فرار لومڑیوں کی طرح نہ نکالو۔

حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اخلاص عمل فرمائی ہے، حضرت علی، ابن عباس رضی اللہ عنہم، حسن بصریؒ، قتادہؒ، وغیرہ فرماتے ہیں استقامت سے مراد اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے اور فرائض کو ادا کرنا۔ مجاہدؒ اور عکرمہؒ کے بقول مرتے دم تک کلمہ توحید پر جمے رہنا۔ مقاتلؒ کے نزدیک معرفت پر قائم رہنا۔


ان سب کا جو مجموعہ ہے وہ اصل میں استقامت ہے۔ کیونکہ استقامت کی تعریف جو کل کی گئی ہے، وہ یہ کی گئی ہے کہ جیسا ہونا چاہیے اس طرح ہو۔ مطلب بالکل سیدھا اگر ہم کہتے ہیں سیدھا، تو بالکل اسی طرح سیدھا ہو، اس میں ذرا بھر کجی کسی طرف بھی نہ ہو۔ نہ اس طرف، نہ اس طرف، نہ اس طرف، نہ اس طرف۔ تو اس کا مطلب ہے کہ یہاں جتنی بھی چیزیں ہیں اس میں کمی کسی چیز میں بھی نہ ہو۔ مطلب یہ بات ہے۔ تو مطلب شرک بھی نہ کرے، اوامر و نواہی ان کا بھی پورا خیال رکھے اور اخلاص کے ساتھ بھی کر لے۔ تو یہ سب جو ہے نا، پورا دین ہے۔ پورا دین ہے۔

یعنی گویا میں یوں کہہ سکتا ہوں واللہ اعلم بالصواب، حدیثِ جبریل کے مطابق، یہ فرمایا ایمان کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے ایمان کے شعبے بتا دیے۔ پھر اسلام کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے اسلام کے ارکان بتا دیے۔ پھر آپ ﷺ سے پوچھا گیا احسان کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ﴿أَنْ تَعْبُدَ اللهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ﴾۔

تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایمان بھی کامل ہو، یعنی ذرہ بھر بھی اس میں کسی وقت بھی خلل نہ ہو۔ تو شرک ظاہر ہے خلل ڈال سکتا ہے،وہ بھی نہ ہو، کفر بھی خلل ڈال سکتا ہے، وہ بھی نہ ہو۔ ایمان مکمل موجود ہو، کامل۔

اور اسلام کیا ہے؟ یہ اوامر و نواہی کا مجموعہ ہے۔ تو اوامر و نواہی پر قائم رہنا یہ، یہ اسلام ہے۔ تو ایمان میں استقامت یہ ہو گئی، اسلام میں استقامت یہ ہو گئی،

اور احسان میں استقامت یہی ہے کہ آدمی ہر کام اللہ کے لیے کرے اور مطلب یہ ہے کہ ایسا محسوس کرے جیسے میں اللہ کو دیکھ رہا ہوں اللہ مجھے دیکھ رہے ہیں۔ اب یہ ساری چیزیں اس پر پوری ہو جاتی ہیں ان شاء اللہ العزیز۔

تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ: خوشخبری کب ہوگی؟ ابن عباسؓ کے بقول یہ فرشتوں کا نزول موت کے وقت ہوگا۔ قتادہؒ نے فرمایا قبروں سے نکلتے وقت ہوگا۔ وکیع بن جراحؒ نے فرمایا کہ موت کے وقت قبروں سے نکلتے وقت اور پھر محشر میں جمع ہوتے وقت تین وقتوں میں ہوگی۔ ابو نعیمؒ نے حضرت ثابت بنانیؒ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے حم السجدہ کی تلاوت کی اور جب "تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ" پر پہنچے تو فرمایا کہ مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ مؤمن جب قبر سے اٹھے گا تو دو فرشتے جو دنیا میں اس کے ساتھ ہوتے تھے وہ اس کو ملیں گے اور کہیں گے کہ تم خوف اور غم نہ کرو اور جنت کی بشارت سنو۔

وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں بہت سی وہ نعمتیں بھی ملیں گی جس کی آدمی صرف خواہش کریگا اور وہ نعمتیں مل جائیں گی۔

نُزُلًا مِنْ غَفُورٍ الرَّحِيمِ: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت کی بہت سی نعمتیں ایسی بھی ہوں گی جو بغیر خواہش کے اس کو ملیں گی۔

یعنی مہمان نوازی میں، مہمان کو پتا تو نہیں ہوتا کہ مجھے کیا کیا چیز ملے گی کہ کیا تیاری ہو چکی ہے۔ اس کو تو یہ پتا نہیں ہوتا، لیکن اس کو جو میزبان ہے وہ دیتا ہے۔

تو اس وجہ سے یہ مہمانی اور میزبانی جو ہے، اگر میزبان اللہ ہو، اور مہمان مومن ہو، تو کیسی میزبانی ہوگی؟ ظاہر ہے اس کا ہم تصور ہی نہیں کر سکتے۔ ہاں البتہ، البتہ، البتہ، البتہ ایک بات ہے۔ وہ بات یہ ہے کہ مہمانی جو ہوگی پہلے چیزوں کے ساتھ ہوگی۔ یعنی چیزیں دی جائیں گی بہت۔ مانگو، مانگو، مانگو! لوگ مانگیں گے، اللہ پاک دے گا۔ اپنی طرف سے بھی دے گا، مانگنے پہ بھی دے گا، سارا کچھ۔ آخیر میں لوگ حیران ہوں گے اب مزید کیا مانگیں؟ یعنی ان کے تصور میں بھی نہیں ہوگا کہ مزید کیا چیز مانگی جا سکتی ہے؟

تو علمائے کرام سے پوچھیں گے جو ان کے درمیان ہوں گے، کہ اب کیا کریں؟ فرمائیں گے کہ ایک چیز ابھی تک نہیں ہوئی، کہ اللہ پاک کا دیدار ابھی نہیں ہوا۔ مطلب وہ مانگو۔ تو جب وہ مانگا جائے گا تو پھر وہ، اس کے لیے تمام انتظامات کر دیے جائیں گے۔ اور اللہ پاک کا دیدار شروع ہو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نصیب فرمائے۔

وہ ظاہر ہے اس کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے وہ کیسے حالات ہوں گے۔ وہ تو اللہ تعالیٰ کو ہی پتا ہوگا۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ لوگ ایسے، ایسے، ایسے، ایسے بالکل، پتا ہی نہیں چلے گا ٹائم کا۔ تو بعد میں کہیں گے کہ یہ پہلے ہمیں کیا ملا تھا؟ اصل چیز تو یہی تھی۔ اگر یہ نہ ہوتی تو ہمیں کیا ملتا؟ اس سے پتا چلتا ہے کہ جنت کا ادراک تو پہلے سے ہے۔ دنیا کی چیزوں کی وجہ سے ہے۔ دنیا کی چیزیں جو ہیں، وہ جنت کا نمونہ ہوتی ہیں۔ آپ آم کھاتے ہیں تو وہاں بھی ہوگا۔ آپ سیب کھاتے ہیں تو وہاں بھی ہوگا۔ تو اس کا ادراک تو ہے مطلب اس کی خوشی کیسی ہوتی ہے؟ اس کا ادراک تو ہے۔

لیکن اللہ جل شانہٗ کے دیدار کا ادراک پہلے نہیں ہو سکتا، شوق تو ہو سکتا ہے، ادراک نہیں ہو سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ پاک کی ذات وراء الوراء ہے۔ تو اللہ پاک کی ذات کے دیدار کا ادراک نہیں ہو سکتا کہ کیسے یہ تو مطلب یہ ہے کہ انسان جو بھی تصور کر لے تو اس تصور سے ماورا ہے۔ جو بھی انسان تصور کرے اللہ کے بارے میں کہ اللہ ایسے ہیں، تو وہ ہمارے تصور سے ماورا ہے۔ جو ہمارے تصور میں آئے وہ خدا نہیں ہے۔ یعنی خدا تعالیٰ ہمارے تصور سے ماورا ہے۔ تو جب ایسی صورت ہے تو وہاں پر جب دیدار ہوگا، تو پھر پتا چلے گا کہ اوہ، وہ چونکہ کسی کے خواب و خیال میں بھی نہیں ہوگا، کوئی بات نہیں ہوگی تو اس کے سامنے پھر جنت کی جو نعمتیں ہیں وہ ساری کی ساری ماند پڑ جائیں گی۔ اور وہ کہیں گے کہ ہم نے ابھی تک پہلے کیا۔

اب دیکھیں، دیدار سے پہلے چیزیں دی، دیدار کے بعد جو چیزیں دیں گے تو ان میں پھر فرق ہوگا۔ مطلب ان میں پھر فرق ہوگا۔ تو یہ بات ہے اللہ تعالیٰ ہمیں نصیب فرمائے۔ یہ بہت عجیب بات ہے۔ دیکھو خانہ کعبہ میں جا کے انسان جو تجلیِ مسجودی ہے، اس سے سرشار ہو جاتے ہیں۔ تجلیِ مسجودی سے، سرشار ہو جاتے ہیں۔ اور اس کی کیفیت جو صاحبِ کیفیت ہیں، اصحاب القلوب ہیں، ان سے پوچھیں تو ان کو پتا ہوتا ہے کہ کیا ہے۔

تو یہاں پر یہ ہے، اور جس وقت انسان اس میں چلا جائے یعنی برزخ میں، تو وہاں پر جو نیک روحیں ہیں وہ تجلیِ اعظم کی طرف وہ ہوں گی۔ تو یہاں تجلیِ مسجودی ہے، وہاں تجلیِ اعظم ہے۔ تو اسی میں سرشار ہوں گی۔ لیکن دیدار جو اللہ پاک کا وہاں ہوگا، تو ان کی بات الگ ہے۔ تو میرے خیال میں ایک دیدار کے بارے میں ہمارا کلام بھی ہے شاید۔ اللہ ہمیں نصیب فرمائے۔ آمین۔


اف کیا خوب نظارہ ہوگا

سامنے محبوب ہمارا ہوگا


ہم تو مر مر کے جینا چاہیں گے

اذن جینے کا جو پایا ہوگا


اف کیا خوب نظارہ ہوگا

سامنے محبوب ہمارا ہوگا


وہ کیا مدہوشی کا عالم ہوگا

ھو کا عالم ہی جو چھایا ہوگا



(یہ یہاں پر ایک بات نوٹ کر لیں، 'ھو کا عالم' یہ یہاں پر اچھے sense میں نہیں لیا جاتا۔ یعنی کوئی نہ ہو تو کہتے ہیں ھُو کو عالم سناٹا لیکن وہاں یہ حقیقی معنوں میں ہے کیونکہ وہاں تو اور کسی چیز کا احساس نہیں ہوگا، صرف انہی کا، مطلب اللہ پاک ہی کو دیکھیں گے، تو 'ھو کا عالم' وہیں صحیح معنوں میں ہوگا۔)


ھو کا عالم ہی جو چھایا ہوگا


اف کیا خوب نظارہ ہوگا

سامنے محبوب ہمارا ہوگا


وقت گزرنے کا تو احساس ختم

چہرہ اپنا جو دکھایا ہوگا


اف کیا خوب نظارہ ہوگا

سامنے محبوب ہمارا ہوگا


سمجھے ہم کیا پھر اس عالم کو شبیؔر

سب کیسے ہوں گے اور کیا ہوگا


اف کیا خوب نظارہ ہوگا

سامنے محبوب ہمارا ہوگا


اللہ اکبر!



استقامت کی برکات، دیدارِ الٰہی اور جنت کی بے مثال مہمان نوازی - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور