زندگی کے ہر شعبے میں اللہ کی بندگی اور استقامت

اشاعت اول: اتوار، 14 جنوری، 2024، 2بمطابق رجب 1445 ھ

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

·      انسان کی آزادی اور تکوینی و تشریعی قوانین کی پابندی

·      عبادت کا حقیقی مفہوم اور سنتِ نبوی ﷺ کی اہمیت

·      خواہشاتِ نفس کے بجائے رضائے الٰہی کو ترجیح دینا

·      روزمرہ کے معمولات (نیند، خوراک، ٹریفک) میں اسلامی تعلیمات اور فطری قوانین کا لحاظ

·       دین پر استقامت کی فضیلت اور فرشتوں کی جانب سے جنت کی بشارت

·      عبادات میں حقوق العباد کا خیال رکھنا (مثلاً نفل نماز میں راستہ نہ روکنا)

·      اعمال میں اخلاص اور خود نمائی (القاب کے استعمال) سے اجتناب

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْد:

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ.

وَقَالَ اللّٰهُ تَعَالَى: ﴿اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ(30) نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِۚ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَدَّعُوْنَ (31) نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ (32)﴾

معزز خواتین و حضرات!

ہر شخص اس دنیا میں آزاد ہے، جو کرنا چاہے کر سکتا ہے۔ لیکن قوانین بھی ہوتے ہیں۔ مثلاً ایک شخص راستے پہ چل رہا ہے تو آزاد ہے جس طرف جانا چاہے چلا جائے، لیکن جہاں ممانعت کا board لگا ہوگا کہ یہاں داخلہ ممنوع ہے، وہاں اگر داخل ہوگا تو پکڑا جائے گا۔ وہ کہے گا کہ میں تو آزاد ہوں، کہے گا وہاں تک آزاد ہے جب تک کوئی پابندی نہیں لگی۔

اسی طرح ہمیں اللہ جل شانہٗ نے اس دنیا میں بھیجا اور اس دنیا میں کچھ احوال بھیجے، تکوینی احوال۔ اور کچھ اعمال بھیجے، تشریعی اعمال۔ ان احوال میں، ان تشریعی اعمال کو کرنے کا جو حکم ہے اس پر ہم کتنا عمل کرتے ہیں، یہ دیکھا جائے گا۔ تو اس کے لیے اللہ جل شانہٗ نے جو ہمیں پیدا فرمایا ہے اس چیز کو سمجھنا ضروری ہے۔ ابھی جو میں نے آیتِ کریمہ تلاوت کی ہے اس میں اللہ جل شانہٗ ارشاد فرماتے ہیں: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ،

نہیں پیدا کیا میں نے جنات کو اور انسانوں کو مگر اپنی عبادت کے لیے۔

عبادت کیا ہے؟ عبادت بندگی کی وہ صورت ہے جو اللہ جل شانہٗ نے بھیجا ہے۔ یعنی جیسے نماز ہے، یہ عبادت ہے۔ تو جس طرح اللہ پاک نے اس کو کرنے کا فرمایا ہے اسی طریقے سے کریں گے تو نماز ہے ورنہ پھر نماز نہیں ہے۔ مثلاً سجدہ، جو نماز کی بہترین جگہ ہے، اگر کوئی ایک رکعت میں تین سجدے کر لے تو اس کی نماز خراب ہو گئی۔ حالانکہ اس نے سجدے تین کیے اور سجدہ سب سے افضل مقام ہے نماز کا۔ کیوں؟ اس کی وجہ ہے کہ اس نے نماز اس طریقے کے مطابق نہیں پڑھی جس طریقے سے اللہ پاک چاہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کس طریقے سے ہم سے چاہتے ہیں؟ اس کے لیے اللہ پاک نے پیغمبر بھیجا ہے، کہ پیغمبر کے طریقے پر سارے اعمال کرنے پڑیں گے۔ جیسا کہ نماز کے لیے آپ ﷺ نے خصوصی طور پر ارشاد فرمایا: صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي، نماز پڑھو اس طرح جس طرح مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھو۔ تو نماز کو ہم اس طریقے سے پڑھیں گے جس طرح آپ ﷺ نے پڑھی ہے تو پھر تو نماز ہے ورنہ پھر وہ نماز کے حکم میں نہیں ہوگا۔ مثلاً ورزش تو ہو جائے گی لیکن نماز نہیں۔

تو اسی طریقے سے باقی عبادات کو بھی لے لیں۔ روزہ، اب روزے میں بھوک لگتی ہے، پیاس لگتی ہے، لیکن روزہ رکھنا ہے۔ اب اگر روزہ پانچ بجے سے لے کے ساڑھے پانچ بجے تک ہے شام کو، اس دوران کوئی چیز بھی کھانا پینا ممنوع ہے۔ اور مباشرت۔ اب اگر کوئی ہوشیار عقلمند آدمی یہ سوچے، نام نہاد ہوشیار، کہ میں یوں کرتا ہوں کہ میں پانچ بجے سے شروع نہیں کرتا، میں تین بجے سے شروع کر لیتا ہوں۔ اور افطار میں شام کو چار بجے کر لیتا ہوں۔ اب ساڑھے پانچ بجے تک time تھا روزہ رکھنے کا، لیکن یہ کہتا ہے میں افطار چار بجے کر لیتا ہوں، شروع میں تین بجے کر لیتا ہوں۔ دو گھنٹے پہلے شروع کرتا ہوں، ڈیڑھ گھنٹے پہلے ختم کر لیتا ہوں۔ یہ روزہ نہیں ہوگا! حالانکہ بھوک پیاس اس سے زیادہ ہوگی کیونکہ پہلا جو روزہ تھا وہ ساڑھے بارہ گھنٹے کا تھا، اب یہ تیرہ گھنٹے کا ہو گیا۔ تیرہ گھنٹہ بھوکا پیاسا رہ کر یہ روزہ نہیں ہوا۔ کیوں نہیں ہوا؟ اللہ پاک کے حکم کی خلاف ورزی ہو گئی۔ جیسے اللہ نے چاہا تھا اس طرح روزہ نہیں رکھا گیا، جس طرح انسان کے نفس نے چاہا تھا اس طرح روزہ رکھا۔ تو نفس کی چاہت اللہ کے مقابلے میں لینا یہ ممنوع ہے۔

اس طرح زکوٰۃ کو لے لو۔ ایک شخص ہے، پورا مال خیرات کر دیتا ہے لیکن اس پہ زکوٰۃ کی نیت نہیں کرتا۔ دوسرا شخص ہے، صرف اتنا سا مال خیرات کرتا ہے زکوٰۃ کے نام پر، زکوٰۃ کی نیت سے جتنی اس پہ زکوٰۃ ہے، مثلاً ڈھائی فیصد۔ اب یہ پہلا شخص گنہگار ہے حالانکہ اس نے پورا مال خرچ کیا ہے، اور دوسرا شخص یہ محفوظ ہے اس نے گناہ نہیں کیا، اس نے اللہ کے حکم پر عمل کیا۔

حج ہے۔ حج کے بارے میں فرماتے ہیں: الْحَجُّ عَرَفَةُ، یومِ عرفات کی جو حاضری ہے وہ حج ہے۔ ایک خاص وقت، دن میں، ایک خاص وقت سے خاص وقت تک، اس کی تفصیل احادیث شریفہ میں ملتی ہے، تو اس کو حج کہتے ہیں۔ اب مثال کے طور پر، حج 9 ذوالحج کے زوال کے وقت سے شروع ہو جاتا ہے۔ 9 ذوالحج کے زوال کے وقت سے حج شروع ہو جاتا ہے اور صبحِ صادق تک، آنے والی رات جو ہے، 9 اور 10 کے درمیان، اس کے صبحِ صادق تک وہ ہے، time ہے۔ اگر 9 ذوالحج کے زوال کے وقت سے لے کر آنے والے فجر کے وقت تک درمیان میں اگر کوئی شخص ایک لمحے کے لیے بھی عرفات پہنچ گیا تو اس کا حج ہو جائے گا۔ اگرچہ اس کو دم دینا پڑے گا کیونکہ زوال سے لے کے غروبِ آفتاب تک عرفات میں رہنا واجب ہے۔ زوال سے لے کر غروبِ آفتاب تک یہ عرفات میں رہنا واجب ہے۔ یعنی آپ بے شک کبھی بھی داخل ہو جائیں عرفات میں زوال کے بعد، لیکن غروب سے پہلے پہلے نکلنا نہیں ہے۔ اگر نکلے گا تو فوراً واپس... اگر سورج غروب ہو گیا آپ کے اوپر اس حالت میں کہ آپ عرفات سے باہر ہیں تو دم آ جائے گا۔ اب دیکھ لیں اگر ایک شخص ہے، وہ چوبیس گھنٹے عرفات میں رہے ایک دن پہلے، تو کیا اس کا حج ہو جائے گا؟ نہیں، اس کا حج نہیں ہوگا۔ کیونکہ اس نے اللہ کے حکم کے مطابق حج نہیں کیا، اپنی مرضی کے مطابق کیا۔

تو پس پتہ چلا کہ عبادات میں اصل چیز اللہ کی بات ماننا ہے۔ اللہ کی بات ماننے کو کیا کہتے ہیں؟ بندگی۔ بندگی۔ تو اللہ پاک نے ہمیں اپنی بندگی کے لیے پیدا کیا ہے۔ کہ ہم اللہ تعالیٰ کی بندگی کریں۔ جیسے اللہ چاہے اس طرح زندگی گزاریں، جن چیزوں سے اللہ روکے ان چیزوں سے رک جائیں۔ اب دیکھو traffic میں دائیں طرف جانا یا بائیں طرف جانا، دونوں طریقے ممکن ہیں۔ اگر سارے لوگ دائیں طرف چلیں، بھی کوئی نقصان نہیں ہے۔ امریکا میں اور سعودی عرب میں، وغیرہ میں دائیں طرف ہی چلتے ہیں۔ تو سارے لوگ چلتے ہیں، لہٰذا کوئی مسئلہ نہیں۔ لیکن اگر قانون دائیں طرف چلنے کا ہو تو بائیں طرف چلنے والا خلاف ورزی ہوگی، اور قانون بائیں طرف چلنے کا ہو تو دائیں طرف چلنا خلاف ورزی ہوگی۔ کیوں؟ وجہ کیا ہے؟ کہ مختلف سمتوں میں لوگ جانے سے پھر مسائل پیدا ہوتے ہیں، accident ہوتے ہیں۔ لہٰذا ایک قانون پر سب کو عمل کرنا ہوتا ہے۔ تو اسی وجہ سے ہم لوگوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اللہ پاک نے ہمیں اپنی بندگی کے لیے پیدا کیا ہے۔

اور یہ نہیں کہ بس ایک دفعہ بندگی اور پھر اس کے بعد پرواہ نہیں، نہیں۔ استقامت کی بھی ضرورت ہے۔ جس کے لیے دوسری آیتِ کریمہ ہے: إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ ۝ نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۖ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ ۝ نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ.

بے شک وہ لوگ جنہوں نے کہا رب ہمارے اللہ ہیں اور پھر اس پر قائم رہے، استقامت اختیار کی۔ یعنی ساری زندگی اس پر چلے۔ دیکھیں کسی بھی ملک کے ساتھ جو اپنے شہری ہوتے ہیں ان کی وفاداری لازمی ہوتی ہے۔ اور جس لمحے وہ وفاداری نہیں کرتا اور ثابت ہو جائے تو یہ باغی ہوتا ہے۔ مثلاً کسی اور کا وفادار بن جائے، دشمن کا وفادار بن جائے تو باغی ہوتا ہے۔ اور باغی کی سزا موت ہے۔

اب دیکھیں اس دنیا کے اندر دو باتیں چل رہی ہیں۔ ایک بات اللہ کی ہے اور ایک بات نفس کی ہے۔ ہر وقت۔ پس اگر کوئی اللہ پاک کی تابعداری کرتا ہے، بندگی کرتا ہے، تو اللہ پاک اس سے راضی ہے۔ اور جو لوگ نفس کی مانتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ ان سے ناراض ہیں۔ بلکہ قرآنِ پاک میں آیا ہے: کیا تو نے نہیں دیکھا وہ لوگ جنہوں نے اپنی خواہشاتِ نفس کو اپنا إلہ بنایا ہوا ہے۔ اِلٰهَهٗ هَوٰٮهُ یعنی اس نے اپنے نفس کو اپنا إلہ بنایا ہوا ہے۔ تو إلہ کا حکم چلتا ہے۔ تو جس کا إلہ اللہ ہے، یعنی لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ پر عمل ہے، وہ تو مومن ہے۔ اور جس کا إلہ نفس ہے، تو یقیناً وہ نافرمان ہے۔ اس وجہ سے اپنے نفس کی بات کو چھوڑنا لازمی ہے۔

نفس کی پھر مختلف خواہشات ہوتی ہیں۔ بعض خواہشات جائز بھی ہیں اور وہ ماننی پڑیں گی۔ مثلاً بھوک لگ جائے اور حلال کھانا موجود ہے، تو کھانے کا حکم ہے۔ کیونکہ بھوک ہڑتال وغیرہ جو ہوتا ہے، یہ جائز نہیں۔ اگر کوئی اس سے مر گیا تو حرام موت مر گیا۔ تو اتنا کھانا کہ انسان اپنی زندگی کو اس سے قائم رکھ سکے لازم ہے۔ یہاں تک لازم ہے کہ اگر کوئی شخص ہے اس کو حلال رزق نہیں ملتا اور بھوک اتنا ہے کہ اس سے مر سکتا ہے، اس وقت حرام رزق سے بھی وہ بقدرِ ضرورت کہ اس کی زندگی بچ جائے، کھا لینا جائز ہے۔ اضطراری حالت اس کو کہتے ہیں۔ تو نفس کی یہ جو خواہش ہے، یہ تو اللہ پاک نے اس میں لگایا ہوا ہے ہماری حفاظت کے لیے۔ اگر سردی لگ جائے تو نفس کی بات ماننا لازم ہے کہ اپنے آپ کو گرمی پہنچاؤ۔ یعنی کپڑوں وغیرہ سے، یا ایسی جگہ سے جہاں گرمی پہنچ سکتی ہے۔ چلے جانا، یہ ضروری ہے، یہ بات تو ماننی ہے۔ نیند کی حالت ہے، انسان کو نیند آ رہی ہے۔ اور ابھی نماز کا وقت نہیں ہے، نماز خطرے میں نہیں آتا، تو سونا چاہیے تاکہ fresh ہو کر اعمال صحیح طور پر کر سکے۔

اس وقت ہم لوگوں نے الٹا کام کیا ہوا ہے۔ الٹا کام۔ اللہ جل شانہٗ نے رات بنائی ہے آرام کے لیے۔ وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ لِبَاسًا ۝ وَجَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا۔ لیکن ہم لوگ رات کو جاگتے ہیں اور پھر جب جاگنے کا وقت آ جاتا ہے اس وقت سوتے ہیں۔ الٹا کام ہے یا نہیں؟ اس کی پھر سزا بھی ہے، دنیا میں بھی ہے۔ آخرت میں تو جو ہے، وہ تو ہے، وہ تو حساب کتاب ہوگا۔ دنیا میں بھی ہے کہ ایسے لوگ بیمار ہو جاتے ہیں۔ وجہ کیا ہے؟ اللہ پاک نے جو نظام بنایا ہے وہ ہمارے... اب دیکھیں نا، اللہ پاک نے فضا کے اندر 14.7 psi کا pressure رکھا ہوا ہے۔ یہ ہمارے لیے designed ہے بالکل، مطلب ہمارے لیے مناسب ہے۔ ہم اس میں normal زندگی گزار سکتے ہیں۔ اب اگر یہ pressure کم ہو جائے تو ہمارے اندرونی pressure ہمیں پریشان کرے گا، blood pressure بڑھ جائے گا۔ تو اللہ پاک نے جو چیز بنائی ہے اس کا تو آپ مقابلہ نہیں کر سکتے، وہ ہماری ضرورت ہے۔

تو اس طرح رات کو جلدی سونا اور پھر جلدی اٹھنا، صبح، یہ، یہ عین مطلوب ہے۔ یہ تہجد کی نماز کے لیے جو لوگ اٹھتے ہیں ان کے چہروں پر ایک خاص قسم کی روشنی ہوتی ہے جو جاننے والے جان لیتے ہیں۔ یہ اُس وقت کی بھی برکت ہے کہ ایک تو اللہ پاک کی طرف سے رحمتیں نازل ہو رہی ہيں اس وقت، دوسرا آپ ایک نیچرل زندگی گزار رہے ہیں، جیسے ہونا چاہیے اس طرح کر رہے ہیں اور اگر آپ رات کو دیر سے سوتے ہیں اور پھر دیر سے جاگتے ہیں، یہ آپ خلافِ فطرت کام کر رہے ہیں۔ نتیجتاً ایک تو آپ کی دینی ذمہ داریوں میں خلل آتا ہے، تو دوسری طرف آپ کی دنیاوی ذمہ داریوں میں بھی خلل آتا ہے اور صحت کے اوپر بھی اثر پڑتا ہے۔ بہت سارے لوگوں کے heart attacks اس وجہ سے ہوئے ہیں کہ دن کو ناشتہ ان کا گیارہ بجے ہوتا ہے۔ کھانا ان کا چار پانچ بجے ہوتا ہے دوپہر کا۔ اور رات کا کھانا دس گیارہ بجے ہوتا ہے۔ پھر اگر بارہ بجے سو جائے، تو تبخیرِ معدہ ان کو پھر پریشان کرتا ہے۔ نتیجتاً بعض دفعہ وہ زیادہ ہو کر وہ heart attack کی طرف چلا جاتا ہے۔ تو کیوں ہم اپنے دشمن ہیں؟ کیوں ایسا کرتے ہیں؟ ایک قدرتی زندگی ہم کیوں نہیں گزارتے؟ کیا مسئلہ ہے؟

ایک آدمی کی مجبوری ہو، اس کی duty ایسی ہو تو چلیں وہ تو اپنے آپ کو adjust کر لے پھر کسی طریقے سے۔ لیکن جس کی مجبوری نہیں ہے، وہ جلدی سو سکتا ہے تو پھر کیوں نہیں جلدی سوتا؟ student حضرات جو ہوتے ہیں نا طالبِ علم، ان کے بھی اپنے اپنے timings ہوتے ہیں پڑھنے کے timing اس طرح سونے کے time۔ تو بعض لوگ رات کو پڑھتے ہیں۔ کافی دیر تک پڑھتے ہیں۔ اور اس کو سمجھا جاتا ہے کہ ہم بہت زیادہ اچھا کام کر رہے ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ اللہ کا شکر ہے الحمدللہ کہ میں پوری اپنی study life میں رات کو late نہیں سویا۔ عموماً میری یہی بات ہوتی تھی کہ بس عشاء کے بعد سو جائیں پھر جلدی اٹھ جائیں۔ اور یہ میرا تجربہ ہے کہ صبح سویرے جب انسان تہجد کے وقت اٹھتا ہے، وہ تہجد پڑھ کر جب وہ study کے لیے بیٹھتا ہے، اس وقت وہ اتنا fresh ہوتا ہے کہ ایک گھنٹے میں اتنا کام ہو سکتا ہے کہ باقی وقت میں چھ گھنٹے میں اتنا کام نہیں ہو سکتا۔ تجربہ کر لے کوئی۔ ہمارا تو تجربہ ہے۔ اتنا بہترین وقت ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس وقت آپ کو disturb کرنے والا کوئی نہیں۔ اگر آپ رات کو study کرتے ہیں تو بہت سارے لوگ جاگ رہے ہوتے ہیں، کبھی کوئی آتا ہے، کبھی کوئی آتا ہے، کبھی کسی کے پاس آپ جاتے ہیں، کبھی کسی کے پاس جاتے ہیں، کبھی telephone اتے ہیں۔ کبھی کیا، کبھی کیا، وقت اس طرح ہی گزرتا ہے۔ جس میں میرا خیال میں چھ گھنٹے اگر آپ لگا دیں تو اس میں بمشکل آپ دو اڑھائی گھنٹے پڑھ چکے ہوں گے۔ اور وہ بھی اتنا efficiency کے ساتھ نہیں۔

جبکہ وہ جو تہجد کے وقت آپ پڑھتے ہیں وہ بہترین وقت ہوتا ہے۔ بہت زبردست اس وقت کام ہوتا ہے۔ تو حیرت ہے یہ option تو سب کے پاس ہے۔ کس کے پاس نہیں ہے؟ تو بہرحال میں عرض یہ کرتا ہوں کہ قدرتی زندگی گزارنی چاہیے ورنہ پریشانی ہوتی ہے۔

تو میں عرض کر رہا تھا کہ اللہ پاک نے رات آرام کے لیے بنایا ہے، اور دن کام کے لیے بنایا ہے۔ ایک مصری doctor ہے، اس نے پوری تحقیق اس پہ کی ہے۔ اس نے کہا قرآنِ پاک کی تین آیات پر عمل کر لو تو بس ساری زندگی ماشاءاللہ کامیاب رہو گے۔ ایک: كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا، کھاؤ پیو مگر اسراف نہ کرو۔ اور ایک: وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ لِبَاسًا ۝ وَجَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا۔ اور تیسرا یہ: وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ، پانی کافی پیو۔ یہ تین باتیں وہ کہتا ہے تین قرآنی آیات ہیں اگر اس پر کوئی عمل کرتا ہے تو پریشانی اس کے قریب نہیں آئے گی۔ تو میں عرض کر رہا تھا کہ اللہ پاک نے فطری قوانین بھی بنائے، شرعی قوانین بھی بنائے۔ فطری قوانین کی بھی خلاف ورزی نہ کرو، شرعی قوانین کی بھی خلاف ورزی نہ کرو۔ فطری قوانین کی خلاف ورزی کرو گے سزا ادھر ملے گی۔ کیونکہ تکوینیات ہیں اس کا تعلق یہاں سے ہے۔ شرعی قوانین کی خلاف ورزی کی سزا ادھر ملے گی، ہاں کچھ حصہ ادھر بھی آ سکتا ہے۔ تو اگر کوئی شخص فطری قوانین پر بھی چلتا ہے، شرعی قوانین پر بھی چلتا ہے، سبحان اللہ مزے ہیں اس کے۔ لیکن اس میں استقامت چاہیے۔

میں دیکھتا ہوں exercise میں لوگ جاتے ہیں exercise کے لیے۔ دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک سمجھدار لوگ ہوتے ہیں۔ ایک اناڑی ہوتے ہیں۔ ان کو کسی نے بتایا ہوتا ہے exercise کے یہ فائدے ہیں، یہ فائدے ہیں، یہ فائدے۔ آ کر جوش میں آ کر خوب زور سے exercise کرتے ہیں۔ پہلے دن، دوسرے دن، تیسرے دن، چوتھے دن لیٹ جاتے ہیں۔ اور پھر بعد میں کسی چیز کے قابل نہیں ہوتے۔ لیکن اگر کوئی سمجھدار ہوتا ہے تو ان کو سکھاتا ہے کہ بھئی اس طرح نہ کرو، آہستہ آہستہ لے جاؤ۔ آہستہ آہستہ اوپر لے جاؤ۔ کیونکہ آپ کی body کے ساتھ adjustment ضروری ہے۔ ورنہ body بدلہ لیتی ہے۔ body بدلہ لیتی ہے۔ تو پھر مطلب ظاہر ہے کہ آپ وہ کریں... وہ ایک صاحب تھے، بڑے تیز تیز جا رہے تھے یہ normal جوتوں میں۔ تو صوفی صاحب تھے مطلب داڑھی رکھی ہوئی تھی۔ سلام بھی کیا اس نے ماشاءاللہ۔ تو میں نے ازراہِ تلطف میں نے کہا کہ یہ جوتے walk کے لیے نہیں ہیں۔ یہاں کے walk کے لیے نہیں ہیں۔ اس کے لیے بُوٹ چاہئیں، ورنہ آپ کی پنڈلیوں پہ بوجھ پڑے گا۔ آپ کو تکلیف ہو جائے گی۔ کہنے لگے نہیں نہیں، ہم تو وہ ہیں مطلب یہ نہیں جو مویشی چرانے والے... گجر، ہمیں۔ ہمیں کوئی کچھ نہیں ہوتا۔ وہ ہنس کے گزر گیا۔ تقریباً دو تین ہفتے کے بعد دیکھا تو بوٹ پہنے ہوئے اور آنکھ بھی نہیں ملا رہے ہیں۔ میں سلام کرتا ہوں، وعلیکم السلام، اس طرح گزر جاتے ہیں۔ آنکھ بھی نہیں ملا رہے۔ کیونکہ جو کچھ اس کے ساتھ ہو چکا ہوگا تو ہو چکا ہوگا۔

تو مطلب یہ ہے کہ بھئی یہ قدرتی قوانین ہیں، اب اس میں ہم کیا کریں؟ اس میں کسی کی بات نہیں چلتی، دیکھو ڈاکٹر لوگ جو ہوتے ہیں وہ قدرتی قوانین کو دریافت کرتے ہیں، وہ بناتے نہیں ہیں۔ بنا سکتے ہی نہیں ہیں۔ بنائے کس نے ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے بنائے ہیں۔ ہاں، ڈاکٹر لوگ دریافت کرتے ہیں کہ کس چیز میں فائدہ ہے کس چیز میں نقصان ہے۔ پھر لوگوں کو اس طرح guide کرتے ہیں۔ تو یہ بات ہے کہ یہ بُوٹ جو ہے نا یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے مطلب یہ تو ایک تجربے سے پتہ چل گیا کہ پاؤں کے جو ساخت ہے اس کے حساب سے جب تیز چلیں گے تو کیا، کیا ہونا چاہیے، وہ اس کا ایک طریقہ کار ہے۔ خیر، تو استقامت کی ضرورت ہے۔ تو میں عرض کر رہا تھا کہ کچھ لوگ exercise کرتے ہیں دو تین دن کر لیتے ہیں پھر چھوڑ دیتے ہیں مجبوراً۔ نہیں بھئی، استقامت کرو، استقامت اختیار کرو۔ استقامت سے پھر فائدہ ہوتا ہے۔ تو اس طرح جو شرعی اعمال ہیں اس پر بھی استقامت کا حکم ہے۔

إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ، بے شک جنہوں نے کہا رب ہمارا اللہ ہے۔ یہ صرف words میں کہنے والی بات نہیں ہے۔ words میں تو سب مسلمان کہتے ہیں کہ رب ہمارا اللہ ہے۔ کون ہے جو کہہ سکتا ہے کہ رب ہمارا اللہ نہیں ہے، جو مسلمان ہے؟ دل و جان سے کہنا۔ یعنی آپ کا علم و عمل دونوں ایک ہو جائیں۔ آپ جب کہتے ہیں رب ہمارے اللہ ہیں تو پھر آپ رب اللہ کو ہی سمجھیں۔ کسی اور کو نہ سمجھیں۔ کیونکہ جس کو آپ نے رب سمجھا تو اس کی بات آپ مانیں گے۔ جس کو آپ نے رب سمجھا اسی کی بات آپ مانیں گے۔ تو نتیجتاً اگر اللہ کے ساتھ کسی اور رب کو بھی آپ نے شریک کر لیا تو پھر ظاہر ہے مطلب پھر آپ اس کی بات مانیں گے، نتیجتاً آپ گمراہ ہو جائیں گے۔ تو إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ، بے شک جنہوں نے کہا رب ہمارے اللہ ہیں، ثُمَّ اسْتَقَامُوا، پھر اس پر قائم رہے (موت تک)۔ موت تک۔ تو نتیجہ کیا ہوگا؟ پھر موت کے ساتھ، یعنی موت تک اس کا کام ہے، موت کے بعد نتیجہ ہے۔ موت کے ساتھ نتیجہ شروع ہو جاتا ہے۔

نتیجہ کیا ہے؟ تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ. فرشتے اتریں گے، ان سے کہیں گے۔ أَلَّا تَخَافُوا، کوئی خوف نہ کرو۔ وَلَا تَحْزَنُوا، اور غم بھی نہ کرو۔ خوف کا تعلق ہے مستقبل کے ساتھ۔ کہ مستقبل میں آپ کو کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔ آپ پرواہ نہ کریں۔ وَلَا تَحْزَنُوا، حزن کا تعلق ہے ماضی کے ساتھ۔ جو کچھ چھوڑ دیا پرواہ نہ کرو، غم نہ کرو۔ اللہ پاک اس کا بہت ہی زبردست حساب کرنے والے ہیں۔ آپ پرواہ نہ کریں۔ وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ، حال کی بات کیا ہے؟ بشارت حاصل کرو۔ ماضی سے کاٹ دیا، مستقبل سے بے پرواہ کر دیا، ہاں کیا؟ بشارت حاصل کرو۔ اس جنت کی جس کا تمہارے ساتھ وعدہ تھا۔ پھر فرشتے اپنی اپنائیت کا اظہار کرتے ہیں۔ نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا، ہم تمہارے ساتھ تھے اس دنیا میں۔ تمہارے دوست تھے۔ وَفِي الْآخِرَةِ، اور آخرت میں بھی ساتھ تمہارے جانے والے ہیں۔ فرشتوں کے لیے ادھر جانے کے لیے موت ضروری نہیں ہے۔ وہ جو ہے نا مطلب ہے کہ وہ تمہارے ساتھ جانے والے ہیں۔

وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ. اور تمہارے لیے اس جنت میں ہر وہ چیز ہوگی جو تمہارا جی چاہے گا۔ یعنی تم دل میں جس چیز کی خواہش کرو گے وہ تمہیں ملے گا۔ من چاہی۔ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ، اور تمہیں ہر وہ چیز ملے گی جو تم مانگتے ہو، یعنی منہ سے۔ وہ بھی تمہیں ملے گا۔ نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ، غفور الرحیم کی مہمانی۔ یہ بات ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا یہ فرمانبرداری، تابعداری اور بندگی کی جو زندگی ہے، اس کو ہم نے اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق، حضور ﷺ کے طریقے کے مطابق گزارنی ہے۔ یہ ہماری assignment ہے۔ یہ ہمیں کرنے کا حکم ہے۔

جیسے میں نے آپ سے عرض کیا کہ traffic کے جو قوانین ہیں، ہمیں پتہ ہے کہ اس میں ہمارا فائدہ ہے۔ کیونکہ اگر ہم اس پر عمل نہیں کریں گے تو accident ہوں گے۔ آپ نے دیکھا ہوگا جہاں پر یہ جمگھٹا ہو جاتا ہے گاڑیوں کا اور راستہ بند ہوتا ہے، تو لوگ کہتے ہیں police کدھر ہے؟ traffic police کدھر ہے؟ traffic police کیا کرتے ہیں؟ اس کے پاس قانون کا ڈنڈا ہوتا ہے۔ لہٰذا جس کو کہتے ہیں رک جاؤ تو وہ رکنا پڑے گا اس کو، جس کو کہتے ہیں چلے جاؤ تو اس کو چلنا پڑے گا، وہ رک نہیں سکتا۔ تو وہ پھر arrangement کر لیتا ہے، کیونکہ ایک مرکز پر جب کوئی آتا ہے تو امن ہو جاتا ہے۔ دیکھیں نا، اب دیکھو ہر ایک شخص کی اپنی خواہش ہے۔ تو اس کی جو اپنی خواہش ہے وہ باقی کی خواہش کے ساتھ ٹکرا رہی ہے۔ نتیجتاً امن نہیں ہو سکتا۔ ہر ایک اپنی اپنی چاہے گا، لہٰذا ٹکراؤ ہوگا۔ accident کی جو تعریف ہے وہ یہ کی جاتی ہے کہ دو یا دو سے زیادہ افراد اگر ایک ہی وقت میں ایک ہی جگہ پہنچنا چاہیں تو accident ہے۔ ایک ہی وقت میں ایک ہی جگہ پہنچنا چاہیں تو کیا ہے؟ accident ہے۔ تو اسی طریقے سے آپ جا رہے ہیں، ایک آدمی ادھر جانا چاہتا ہے، دوسرا بھی ادھر آنا چاہتا ہے تو کیا ہوگا؟ accident ہوگا نا۔ تو police والے کیا کیا کرتے ہیں؟ وہ یہی نہیں ہونے دیتے۔ کچھ کو روک دیتے ہیں، کچھ کو کہتے ہیں جاؤ۔ پھر بعد میں ان کو روک دیتے ہیں، دوسروں کو کہتے ہیں جاؤ۔ اسی سے امن ہو جاتا ہے، کام بن جاتا ہے۔

تو جب ہمیں معلوم ہے کہ دیکھو ایک دنیاوی نظام ہے، اس کی ماننے سے فائدہ ہوتا ہے۔ تو جس نے اس پوری کائنات کو پیدا کیا ہے۔ اور اس کائنات کے الف سے لے کر ی تک تمام چیزیں اس کو معلوم ہیں۔ اور ہم لوگوں کی خیر و شر سے بھی وہ واقف ہے۔ اور ہماری عادتوں سے بھی واقف ہے۔ وہ ساری باتیں جانتا ہے۔ اس نے جو قانون بنایا ہوگا وہ کتنا پکا ہوگا؟ اس میں کتنا فائدہ ہوگا؟ یہ ہماری جو عبادات ہیں، اس میں دنیاوی فائدہ بھی ہے۔ اگرچہ ہم اس کو بیان نہیں کرتے۔ کیونکہ مسلمانوں سے بیان کرنے کا اس کا فائدہ کی بجائے نقصان ہے۔ کیونکہ مسلمانوں کو اس وقت فائدہ ہوتا ہے جب وہ یہ کام اللہ کے لیے کریں۔ جب وہ دنیا کے لیے کریں گے تو وہ دنیا بن جائے گی۔ تو اگر وہ فائدہ جو دنیاوی اس کے اندر ہے، اگر اس کے لیے کریں گے تو پھر کیا بن جائے گا؟ وہ تو دنیا بن جائے گی، وہ تو اللہ تعالیٰ کے لیے نہیں کر رہے ہوں گے۔ تو ان سے فائدے بیان کرنے کی کوئی فائدہ نہیں۔

ہاں، غیر مسلموں سے بیان کیے جا سکتے ہیں۔ ان کو، پتہ چلتا ہے ان کو ان کے اعتراضات کا جواب بھی دیا جانا چاہیے۔ اور ان کو جو ہے نا سمجھانا بھی چاہیے کیونکہ ظاہر ہے وہ ابھی ایمان نہیں لایا ہے۔ ان کو اس چیز سے فائدہ ہوتا ہے۔ لیکن مسلمان جو ہے، مسلمان کو تو یہ سمجھانا چاہیے کہ بھئی تم بے شک تمہیں نقصان ہی نظر کیوں نہ آئے، کوتاہ نظری کی وجہ سے، لیکن جب اللہ کا حکم ہے تو مانو۔ اس کو نہ دیکھو کہ خود تولو کہ اس میں میرا فائدہ ہے یا میرا نقصان ہے، نہیں۔ اللہ پاک مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔ یہ معاملات کی جو بات ہوتی ہے، میں آپس میں معاملات جو ہم کرتے ہیں۔ ایک شخص ہے، ایک معاملے کے مطابق، اللہ کے حکم کے مطابق عمل نہیں کرتا، اس کو مثال کے طور پر پچاس ہزار روپے فائدہ ہے۔ فائدہ ہے دنیاوی۔ اور اگر عمل کرتے ہیں تو پچاس ہزار روپے کا نقصان ہے۔ دنیاوی۔ لیکن اگر وہ یہ پچاس ہزار روپے لیتا ہے، مثلاً سود آتا ہے نا، اس سے بچتا ہے، وہ نہیں لیتا۔ تو بظاہر تو نقصان ہے، لیکن حقیقت میں اس کا فائدہ ہے۔ کیونکہ وہاں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ گیا۔ اور یہاں پر بے برکتی سے بچ گیا۔

برکت ایک ایسی چیز ہے جس کا پردہ اللہ رکھتے ہیں، نہیں پتہ چلتا کہ کس طرح ہوتا ہے۔ لیکن ہوتا ضرور ہے، کوئی بھی اس کا انکار نہیں کر سکتا۔ ہوتا ضرور ہے۔ انکار کوئی نہیں کر سکتا، لیکن اللہ پاک نے اس کو ایسا رکھا ہوتا ہے کہ سب کے سامنے ہوتا ہے اور پتہ نہیں چلتا کہ یہ کیسے ہے۔ یہ ایسی زبردست چیز ہے۔ برکت۔ تو اللہ تعالیٰ برکت اٹھا دیتے ہیں۔ حرام مال سے برکت اٹھا دیتے ہیں۔ میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں۔ ایک شخص ہے، بیمار ہو گیا۔ اب اللہ پاک اس کے مال میں برکت دیتے ہیں۔ وہ تھوڑے سے علاج سے اس کا فائدہ ہو جائے گا۔ اور اگر برکت نہ ڈالے تو اپنا گھر بھی بیچے، زمین بھی بیچے، لوگوں سے قرض بھی لے۔ اور پھر ڈاکٹروں کے وہ تمام چیزیں کریں، معاملہ حل ہوتا نظر نہیں آئے گا۔ یہ کیا چیز ہے؟ بھئی کمایا بہت ہے لیکن اخراجات بڑھا دیے تو پھر کیا کر سکتے ہو تم؟ اور اخراجات ایسے جو ہمارے unseen اخراجات ہوں۔ unseen اخراجات سے مراد ہے کہ آپ کو پتہ ہی نہیں کہ یہ کیسے اخراجات ہیں۔ اور ہوں! بہت سارے لوگوں کے ساتھ ایسا ہوتا ہے لیکن وہ سمجھتے نہیں۔

مثلاً کسی پر ظلم کر لیا، کسی سے پیسے ہتھیا لیے، گھر پہنچ کر پتہ چلا کہ بیٹا گر گیا ہے۔ ہسپتال جلدی جلدی پہنچا دیا۔ جتنا اس سے ہتھیا لیا تھا اس سے زیادہ خرچ ہو گئے۔ پھر؟ پھر کیا ہے؟ کام تو خراب ہو گیا۔ اس سے زیادہ پیسے لگ گئے۔ اور پیسے کی بڑی بات نہیں ہے، پیسے تو لگ جاتے ہیں، اصل وہ سکون ہے دل کا۔ جب وہ اللہ تعالیٰ چھین لیتا ہے پھر آپ کیا کر سکتے ہیں؟ بے سکون زندگی، کہ بعض لوگ موت کو ترجیح دیتے ہیں، خودکشیاں کر لیتے ہیں۔ بے سکونی سے خودکشیاں ہوتی ہیں نا۔ تو اس پر موت کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس وجہ سے ہمیں اپنی زندگی کو پاک رکھنا چاہیے ایسی چیزوں سے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی بندگی کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہیے۔ یہ ہمارے لیے لازمی بات ہے۔ کہ ہم ہر وقت اللہ تعالیٰ کی بندگی کریں۔ یہی ہمارے لیے کمال کی بات ہے۔

تو بہرحال میں عرض کر رہا تھا کہ اس زندگی میں جو ہم آئے ہیں، اس زندگی سے جانا تو ہوگا۔ کوئی بھی شخص ایسا نہیں جو آیا ہو اور پھر گیا نہ ہو یا جائے گا نہیں۔ جانا تو ہے۔ اور یہ بات بھی طے شدہ ہے کہ ہر چیز کا حساب دینا پڑے گا۔ اور حساب بھی ایسا کہ لینے والا بہت تیز حساب لینے والا ہے۔ سَرِيعُ الْحِسَابِ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ اس کے لیے کوئی چیز مشکل نہیں ہے کرنا۔ وہ لوگ، ہم computer کو دیکھتے ہیں نا، computer کو، کہتے ہیں اتنی جلدی جلدی حساب کر دیا۔ تو computer کو بنانے والا انسان، انسان کو بنانے والا اللہ، اس کا حساب کتنا تیز ہوگا؟ کیا کچھ ہوگا؟ وہ تمام تفصیلی چیزیں سب اس کے اندر آ چکی ہوں گی۔ تو یہ بھی سب مسلمانوں کو معلوم ہوتا ہے کہ حساب بھی ہوگا۔

اور پھر یہ بات ہے کہ اللہ جل شانہٗ کسی پر ظلم نہیں فرماتے، لیکن اگر حساب لے لیں تو اس کے حساب کا جواب بھی کوئی نہیں دے سکتا۔ تو اس وجہ سے اللہ کی ماننے میں ہی خیر ہے۔ کہ اللہ کی ہم مان لیں۔ اور زندگی ہم اسی طرح گزاریں جس طریقے سے اللہ پاک ہم سے گزروانا چاہتے ہیں۔ سب سے زیادہ خبردار جو تھے اس چیز سے، وہ آپ ﷺ تھے، سب سے زیادہ خبردار۔ اس وجہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا آپ ﷺ تھے۔ میں آپ کو ایک واقعہ بتاتا ہوں ذرا تھوڑا سا غور فرمائیں۔ سچا واقعہ ہے۔ آپ ﷺ کی زندگی کا۔ آخری اوقات میں، آپ ﷺ نے سارے جتنے صحابی آ سکتے تھے ان کو بلایا۔ اور فرمایا کہ میں نے اگر کسی کے ساتھ کوئی زیادتی کی ہو، کسی کو کچھ کہا ہو، کچھ مارا ہو، جو بھی، وہ مجھ سے بدلہ لے۔ قیامت کے لیے میں اس کو نہیں چھوڑنا چاہتا۔ وہ مجھ سے بدلہ لے لے۔ صحابہ کرام رو پڑے کہ یا رسول اللہ آپ کیا فرما رہے ہیں؟ آپ نے تو ہمیں دیا ہے۔ آپ نے تو ہمیں راحتیں پہنچائی ہیں۔ آپ کے ذریعے سے تو ہمیں سب کچھ ملا ہے۔ کیسے آپ نے ہمیں تکلیف دی ہوگی، یہ سمجھ میں نہیں آتا۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں جو بھی ہو لیکن اگر کوئی ایسا ہو تو میں بعد میں اس کو وہ نہیں کر سکتا، برداشت نہیں کر سکتا۔ بس ابھی لے لو۔

ایک صحابی کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ایک دفعہ میں نے قمیص نہیں پہنی ہوئی تھی، آپ نے ایک چپت ماری تھی میری کمر پر۔ ظاہر ہے محبت میں ماری ہوگی، کوئی بات کرنے کے لیے۔ میں اس کا بدلہ لینا چاہتا ہوں۔ صحابہ کرام حیران ہو گئے کہ یہ کیسا عجیب ادمی ہے؟ سب نے کہا آپ ہم سے لے لیں لے بدلہ۔ بدلہ ہی لینا ہے تو ہم سے لے لو۔ وہ کہتے ہیں نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ ٹھیک کہتا ہے۔ اس کو خود لینا چاہیے۔ مجھ سے لینا چاہیے۔ اچھا آ جاؤ، بدلہ لے لو۔ یا رسول اللہ، اس وقت میرے بدن پہ قمیص نہیں تھی، آپ ﷺ نے اپنا قمیص اتارا دیا۔ جب قمیص اتارا، تو فوراً آیا اور جو مہرِ نبوت نظر آ گئی تو اس کو چومنا شروع کر دیا۔ یا رسول اللہ میں تو صرف اس کے لیے کر رہا تھا۔ مجھے آپ سے کیا بدلہ لینا تھا؟ میں تو صرف اس کے لیے کہہ رہا تھا، میں اس کی زیارت کر لوں، اس کو چوم لوں۔ صحابہ کو پتہ چل گیا کہ ہاں یہ تو ایک طریقہ تھا اس کا۔

لیکن آپ ﷺ کا عمل دیکھیں کہ آپ ﷺ نے واقعی اپنے آپ کو پیش کیا۔ اپنی قمیص تک اتاری۔ تو یہ بات ہے کہ سب سے زیادہ ڈرنے والے تو آپ ﷺ تھے۔ اور یہاں تک فرماتے تھے کہ جو مجھے نظر آ رہا ہے اگر تمہیں نظر آئے، جو مجھے نظر آ رہا ہے اگر تمہیں نظر آئے، تو بہت کم ہنسو، بلکہ زیادہ روؤ۔ یہ بات ہے۔ تو بات تو صحیح ہے۔ آپ ﷺ بہت کم تبسم فرمایا کرتے تھے، وہ بھی بس اشارے کے ساتھ ہی۔ کھلکھلا کے ہنسنا تو آپ ﷺ سے ثابت ہی نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ ﷺ کو ساری چیز کا پتہ تھا۔ آخرت کے تمام چیزوں کا پتہ تھا۔

کیونکہ دیکھیں نا یہ تو کم از کم ہمیں معلوم ہے، آپ ﷺ سچے ہیں، صادق اور امین۔ کافر بھی کہتے تھے۔ سچے تو ہیں۔ تو جو آپ ﷺ نے فرمایا ہمارے لیے وہ بالکل پکی بات ہے۔ تو لہٰذا آپ ﷺ کے اس فرمانے پر ہم اس طرح یقین کر لیں کہ بالکل جیسے اس طرح ہونے والا ہے۔ تو اپنی حفاظت کر لیں۔ اب جو معاملات والی بات ہے۔ اس معاملات میں ہم لوگ اول تو مسائل سیکھیں۔ معاملات کے۔ اور پھر مسائل پر عمل کریں۔ اور اس کو نہ دیکھیں کہ اس میں ہمارا دنیاوی نقصان ہے۔ ہر ایک میں دو پارٹیاں ہوں گی تو ایک کو تو فائدہ ہی ہوگا نا کم از کم، دوسرے کو ظاہری طور پر نقصان ہو سکتا ہے، دوسرے کو جو غلطی پر ہے۔ اس کو نقصان ہو سکتا ہے۔ تو اب وہ جو اس کو نقصان ہو رہا ہے، تو دنیا کا نقصان ہو رہا ہے نا، آخرت کا تو نہیں ہو رہا، آخرت کا تو فائدہ ہو رہا ہے۔ تو دونوں پارٹیاں جو ہیں یہ اس بات کو مان لیں کہ بھئی ہمارا فائدہ اسی میں ہے کہ شریعت کے مطابق کام ہو۔ تو ایک تو ہم لوگ اس کو اچھی طرح...

جو عبادات ہیں، تو عبادت کا چونکہ براہِ راست تعلق معبود کے ساتھ ہوتا ہے۔ عبادت کا تعلق براہِ راست کس چیز کے ساتھ ہوتا ہے؟ یا ایک عابد ہوتا ہے، ایک معبود ہوتا ہے۔ تو عابد کی عبادت کا تعلق معبود کے ساتھ ہے۔ اس میں کسی اور کو شامل نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ عبادت میں اگر آپ نے کسی اور کو شامل کر لیا تو وہ عبادت نہیں رہتی پھر۔ تو اس وجہ سے عبادات کے اندر کم از کم ہم یہ مان لیں کہ بھئی اب نماز میں پڑھ رہا ہوں تو اس میں کسی اور کی نیت نہیں۔ بس صرف اللہ کی بس، اللہ اکبر، جب اللہ اکبر کہہ دیا، سب کچھ پیچھے ڈال دیا۔ اس میں اب کسی اور کا خیال نہیں ہے، یعنی کسی اور کو راضی کرنے کا۔ شرعی قوانین کو cross کرکے نہیں، بلکہ شرعی قوانین کو مان کر۔ یہ میں اس لیے کہتا ہوں کہ آپ کو اللہ جل شانہٗ نے جو اختیار دیا ہے اس کے مطابق، مثلاً اپنے گھر میں آپ نماز پڑھ رہے ہیں جہاں پڑھنا چاہیں پڑھیں۔ مسجد میں جماعت کی نماز ہے جہاں آپ کو جگہ ملے پڑھیں۔ واجبات اور سنتِ مؤکدہ ٹھیک ہے، لیکن جو نفلیں ہیں، اس میں بہت خیال رکھنا پڑے گا۔ کیونکہ نفلوں کے لیے، چونکہ آپ کی ایک زائد... نفل کہتے ہی زائد چیز کو ہیں۔ نفل کس چیز کو کہتے ہیں؟ زائد چیز کو کہتے ہیں، تو یہ جو زائد چیز ہے وہ آپ کسی کے حق کو اس سے نہیں مار سکتے۔ مطلب اپنی زائد چیز کے ذریعے سے کسی کا حق نہیں مار سکتے۔ مثلاً آپ دروازے میں کھڑے ہو گئے، نفل آپ پڑھ رہے ہیں، جائز نہیں ہے۔ دروازے سے سب کا گزرنے کا حق ہے۔ آپ نے لوگوں کا حق غصب کر لیا، ایک زائد چیز کے لیے۔ نہیں بھئی، جائز نہیں۔ لوگوں کے راستے میں کھڑے ہونا ٹھیک نہیں ہے۔ تھوڑی سی تکلیف کرنی پڑتی ہے، میں تو حیران ہوتا ہوں پتہ نہیں مسئلے لوگ کب سیکھیں گے اور کس طرح سیکھیں گے اور کس سے سیکھیں گے؟ یعنی مثال کے طور پر میں نفل پڑھنا چاہتا ہوں، آگے صفوں میں جگہ ہے۔ میں ادھر کیوں نہیں جانا چاہتا؟ آگے جاؤں تاکہ لوگ میرے سامنے سے نہ گزریں نا۔

کیا ضروری ہے کہ میں نے ادھر ہی نفلیں پڑھنی ہیں جہاں میں نے فرض پڑھی ہے؟ کیا یہ ضروری ہے؟ تو میں نے کیا کرنا ہے، میں نے نفل ادھر پڑھنا ہے جو محفوظ جگہ ہو، جس میں میرے سامنے کوئی نہ گزر رہا ہو۔ مجھے خود اس کا احساس ہو۔ اب تو صورتحال یہ ہے کہ نفلیں لوگوں نے لازم کر دیا ہے۔ بوڑھا بھی ہو، جوان بھی ہو، بیٹھ کر پڑھتے ہیں۔ حالانکہ صاف مسئلہ ہے کہ نفل ہو جاتی ہے بیٹھ کر لیکن ثواب آدھا ہو جاتا ہے۔ ثواب آدھا ہو جاتا ہے۔ اب اول تو آدھے ثواب کو اتنے دھڑلے کے ساتھ قربان کرنا مجھے اس پر حیرت ہوتی ہے۔ بھئی دنیا میں کبھی آپ اس طرح قربان کر سکتے ہیں کسی چیز کو؟ یکدم 50 فیصد cut لگ جائے۔ آپ کی تنخواہ اگر 50 فیصد cut لگ جائے، آپ کیسے، کیا سمجھیں گے؟ ایک دن کی تنخواہ آپ کی 50 فیصد cut لے، بھئی آج آپ کی تنخواہ 50 فیصد ہے۔ مان لے گا کوئی؟ یہاں پر اتنی فیاضی ہے!

تو بھئی نوجوان ہو، پڑھ سکتے ہو، فائدہ ہے۔ پڑھو نا، کھڑے ہو کر پڑھو۔ ایک تو یہ بات۔ اب بیٹھ کر پڑھنے سے یہ نقصان ہوتا ہے دوسرے کا، اپنا تو ادھا نقصان ہے نا، تو اس سے کیا نقصان ہوتا ہے، دوسرے کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ اگر آپ کھڑے ہو کر پڑھیں نا تو اس میں کچھ time لگتا ہے۔ وہ آگے آنے والے کو alarm ہو جاتا ہے بھئی یہاں پر کھڑا ہونا چاہتا ہے۔ اس کو chance مل سکتا ہے بھئی تھوڑی دیر، میں آگے گزر جاؤں۔ اس کو ممکن ہے نا، chance مل رہا ہے۔ لیکن آپ نے فوراً بیٹھ کر نیت پڑھ لی، اس کے پاس کیا chance رہ گیا؟ وہ تو بیچارہ lock ہو گیا۔ اب وہ کیا کر سکتا ہے؟ تو غلط کام ہے نا۔

تو یہ بات ہے کہ اول تو انسان کسی ستون کے پیچھے، اگلے صفوں میں، بہتر تو ہے کہ جا کے گھر میں پڑھیں۔ گھر میں رہنے کا اندیشہ ہو کہ بھئی گھر میں نہیں موقع ملے گا تو اگلی صفوں میں پڑھ لے، دوسروں کو تکلیف نہ دے، بھئی قرآن پاک کی تلاوت ہے نا، قرآن پاک کی تلاوت کتنی اچھی چیز ہے، اس کے لیے بھی حکم ہے کہ اگر کسی کو اس سے تکلیف ہو رہی ہو، مثلاً بیمار ہو کوئی، سونا چاہتا ہو، اس وقت زور سے تلاوت نہ کرے۔ اس وقت خاموش تلاوت کر لے، زیرِ لب۔ ذکر کا بھی یہی حال ہے۔ کہ ذکر بھی اگر کسی کو تکلیف ہوتی ہے، کوئی سو رہا ہے، تو اس کی نیند میں مخل ہو رہا ہے، تو اس کو خاموش کرے۔ آہستہ کرے۔ وجہ کیا ہے؟ آپ اپنے زائد عمل کی وجہ سے کسی کا واقعی حق جو ہے اس سے نہیں محروم نہیں کر سکتے، یہ آپ کو یہ آزادی نہیں ہے۔

ویسے وہ کہتے ہیں کہ پاکستان جب آزاد ہو گیا نا، تو لوگ اپنے آپ کو آزاد سمجھنے لگے، تو یہ، وہ گوپیا نہیں ہوتا جس میں پتھر رکھتے ہیں، اس طرح گھماتے ہیں۔ تو ایک شخص اس طرح گھما رہا تھا نا اس طرح۔ تو دوسرے آدمی کے ناک کے ساتھ لگ گیا۔ اس نے کہا یہ کیا کر دیا؟ کہتا ہے آزادی ہے۔ اس نے کہا آپ کی آزادی ادھر ختم ہوتی ہے جہاں سے میری ناک شروع ہوتی ہے۔ جہاں سے میری ناک شروع ہوتی ہے وہاں تمہاری آزادی ختم ہو جاتی ہے۔ تو اس طریقے سے بھئی تم آزاد ہو، تم جو کچھ بھی کر سکتے ہو، لیکن کسی کا حق مار کر نہیں۔ وہ پابندی ہے۔ اور یہی معاملات ہیں۔ اور یہی معاشرت ہے۔ اس میں۔

تو اس کے لیے ہمیں بہترین قوانین ملے ہیں۔ آج کل الحمدللہ ہم لوگ پشتو میں جو ہے نا فرضِ عین علم بیان کرتے ہیں پیر کے دن۔ تو سبحان اللہ! دیکھتے ہیں ہم، اتنی چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے بھی مسئلے بیان ہوئے ہیں نا کہ یہ ٹھیک ہے، اور یہ غلط ہے، اور یہ جائز ہے، اور یہ ناجائز ہے۔ چھوٹی چھوٹی چیزوں کے بارے میں! بڑا مزہ آتا ہے۔ یہ دیکھو نا شریعت میں کتنی چیزوں کی تفصیلات ماشاءاللہ موجود ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں اتنے آسانی کے ساتھ یہ سارے platform دیے ہوئے ہیں، سب چیزیں ہمارے پاس موجود ہیں، پھر ہم عمل کیوں نہیں کرتے؟ تو ہمیں عمل کرنا چاہیے۔

تو میں عرض کر رہا تھا کہ عبادات، اس میں تو شریک بالکل کسی کو نہیں کرنا چاہیے۔ خالصتاً لِوَجْهِ اللهِ۔ نماز کی نیت، ہم لوگ جو کرتے ہیں نا وہ تو بڑی تفصیلی نیت ہوتی ہے نا۔ ویسے فقہ میں تو نیت الفاظ، زبان سے ادا کرنے کا نہیں ہے حکم۔ کیا ہے؟ دل سے نیت کرنے کا ہوتا ہے نا۔ تو آپ اپنے نیت وہ کر لیتے ہیں، لیکن الفاظ کون سے ادا ہوتے تھے؟ إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا ۖ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ۔ اب دیکھو نا، کیا مطلب ہے؟ یعنی نیت کون سی ہے؟ میرا سب کچھ اللہ کے لیے ہے۔ میں نے اللہ کی طرف رخ کر دیا۔ جس نے زمین و آسمان بنایا ہے۔ تو اب اس کا مطلب ہے کہ یعنی نماز میں جو نیت ہے وہ خالصتاً لِوَجْهِ اللهِ۔ روزہ بھی رکھنا خالصتاً لِوَجْهِ اللهِ۔ ایک بات یاد رکھنا چاہیے، عبادات میں دنیاوی فائدے ہیں جیسے میں نے پہلے عرض کیا، لیکن نیت نہیں کرنی چاہیے۔ وہ خود بخود ملیں گے۔ اس کے لیے نیت کی ضرورت نہیں ہے۔ اور فائدوں کے حصول کے لیے نیت کی ضرورت نہیں ہے، چاہے وہ آپ اس پہ نیت کریں نہ کریں، آپ کو وہ فائدے ملیں گے۔ لیکن نماز کے لیے نیت کی ضرورت ہے۔ نماز کے لیے، روزے کے لیے، ان تمام چیزوں کے لیے نیت کی ضرورت ہے۔ تو آپ جس چیز کے لیے نیت کی ضرورت ہے اس میں آپ کیوں ان چیزوں کو شامل کرتے ہیں؟ ان چیزوں کو شامل نہ کریں۔ وہ خود بخود ہو جائیں گی۔ علیحدہ آپ کو اس کی نیت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بس روزہ کے ساتھ جو فوائد ہیں، بس آپ کہتے ہیں میں dieting کے لیے روزہ رکھتا ہوں، اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ، کیا عجیب بات ہے! بھئی dieting الگ کرو۔ اس کے لیے نیت کی کیا ضرورت ہے، آپ روزے رکھتے ہیں وہ dieting ہو جائے گی نا۔ اس کے لیے نیت کی ضرورت ہے۔

اس طرح زکوٰۃ، واہ جی واہ کیا بات ہے۔ اس میں بھی صرف خالصتاً لِوَجْهِ اللهِ نیت کر لو کہ میں اللہ کے لیے کر رہا ہوں۔ کوئی اور چیز نہیں۔ مشہوری یا کوئی اس قسم کی بات نہ ہو۔ یہ تو اللہ کا حکم ہے، اللہ کا حکم نہیں پورا کرو گے تو پتہ چل جائے گا۔ اس طرح حج ہے۔ حج میں بھی کوئی اور نیت نہیں کرنی چاہیے۔ خالصتاً لِوَجْهِ اللهِ۔ بھئی حج سبحان اللہ ایک فرض ہے۔ وہ ایک دفعہ سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ ایک صاحب سے ملے۔ تو ان سے پوچھا جی آپ کا نام کیا ہے؟ اس نے کہا حاجی عطاء اللہ خان۔ اس طرح بڑا رعب سے کہا نا۔ آپ کا نام کیا ہے؟ کہتے ہیں نام تو میرا بھی عطاء اللہ ہے۔ لیکن یہ نہیں... مطلب یہ کہ فرمایا کہ میں عطاء اللہ نمازی ہوں۔ تو اس نے کہا عطاء اللہ نمازی کا کیا مطلب ہے؟ اس نے کہا بھئی نماز بھی فرض ہے حج بھی فرض ہے، تو نے فرض حج کر لیا تو کون سا کمال کر دیا؟ فرض تھا تو فرض کر لیا نا، اگر ایسی بات ہے پھر میں عطاء اللہ نمازی ہوں۔ تو مطلب یہ ہے کہ ہم لوگوں کو یہ نہیں، اس کے لیے کہ میں حاجی بن گیا، الحاج بن گیا۔ الحاج! خود اپنے ساتھ القاب لکھنا، یہ کس چیز کی طرف وہ کرتے ہیں مولانا صاحب؟ جو اپنے القاب خود لکھتا ہے اپنے ساتھ؟ مولانا، میں حیران ہوتا ہوں کہ لوگ کیسے اپنے آپ کے ساتھ مولانا لکھیں گے؟ مولانا فلاں، بھئی کیا مولانا نام فلاں، بس۔ باقی مولانا تو آپ کو لوگ کہیں گے نا، حاجی آپ کو بے شک لوگ کہیں، لیکن تم اپنے آپ کو کیوں سمجھتے ہو؟ تو نے ایک فرض ادا کیا ہے۔ بس وہ کافی ہے نا۔ اس طرح کچھ اور چیز وہ شاہ جی اور پتہ نہیں کیا، بعض دفعہ میرے ساتھ یہ مسئلہ ہو جاتا ہے۔ میں telephone کر لیتا ہوں نا کسی کو، تو کون؟ تو میں کہتا ہوں شبیر۔ تو مجھے اس نام سے کوئی جانتے نہیں ہیں مثلاً، شاہ صاحب ہی کہتے ہیں۔ اب میں کیا کہوں؟ اب خود کو شاہ صاحب کہنا مجھے بڑا عجیب لگتا ہے۔ اور نہیں کہوں تو مجھے جانتا نہیں ہے۔ تو پھر مجبوراً کہتا ہوں وہ لوگ جس کو شاہ صاحب کہتے ہیں۔ پھر کیا کہتا ہوں؟ وہ مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ بھی ایسا واقعہ ہوا تھا۔ وہ انگریز جج نے کہا کہ کسی مسلمان عالم کو بلاؤ، میں ان سے کچھ باتیں پوچھنا چاہتا ہوں۔ تو حضرت کو لوگوں نے کہا جی حضرت آپ تشریف لے جائیں، کیونکہ وہ کچھ مسئلے پوچھنا چاہتا ہے۔ حضرت تشریف لے گئے۔ تو انگریز جج نے اس سے کہا، کیا تم عالم ہو؟ مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ میں حیران ہو گیا کہ اب اس کو کہتا ہوں عالم ہوں تو یہ دعویٰ ہے۔ اگر کہتا ہوں کہ عالم ہوں، تو یہ دعویٰ ہے۔ نہیں کہتا ہوں تو کہتا ہے پھر آئے کیوں ہو؟ میں نے تو عالم کو بلایا تھا۔ تو حضرت تو بہت ہوشیار تھے نا، فرمایا، لوگ مجھے عالم کہتے ہیں۔ تو بات تو صحیح تھی، لوگ تو عالم کہتے تھے۔ لوگ مجھے عالم کہتے ہیں۔ تو بس پھر انگریز نے وہ سوالات وغیرہ کیے، جوابات حضرت نے دے دیے۔

تو مطلب یہ ہے کہ اپنے آپ کو القاب سے یاد کرنا یہ تو، میں اس کو خساست کہتا ہوں، بھئی یہ خسیس حرکت ہے۔ مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے۔ وجہ کیا ہے، مطلب جو کام تو نے اللہ کے لیے کیا اس میں تیرا کیا رہ گیا؟ اس میں تیرا تو کچھ بھی نہیں رہا نا۔ تیرا تو کچھ بھی نہیں رہا۔ تو تم کیوں خوامخواہ اس کو claim کرتے ہو؟ تو بس یہ ہے کہ ہم لوگوں کو اعمالِ شرعی خالص لِوَجْهِ اللهِ کرنے چاہئیں۔ باقی جو اس کے فوائد ہیں نا، وہ فوائد خود بخود ملیں گے۔ اس کے لیے باقاعدہ علیحدہ نیت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

تو اس کے جو فوائد ہیں وہ آپ کو خود بخود مل جائیں گے۔ آپ معاملات صاف کر لیں، اس کے جو فوائد ہیں آپ کو خود بخود مل جائیں گے، اس کی نیت کیوں کرتے ہو؟ نیت تو صرف اللہ کی کرو۔ اس طرح نماز ہے، نماز کی بھی نیت صرف اللہ کی کرو۔ اس میں جو اللہ پاک نے چیزیں رکھی ہیں، blood circulation اور پتہ نہیں کیا کیا لوگ کہتے ہیں کہ اچھی ہو جاتی ہے، یہ ہوتا ہے، وہ ہوتا ہے، وہ خود بخود ہو جائے گا نا۔ اس کی نیت کرنے کی تو ضرورت نہیں ہے۔ روزے میں بھی اس طرح ہے، روزے میں بھی ماشاءاللہ آپ کو جو فوائد ہوتے ہیں، وہ دوسرے لوگ کہہ سکتے ہیں لیکن ہم نہیں۔ ہاں البتہ اگر کسی کا اعتراض ہو پھر ہم جواب دے سکتے ہیں۔

اور جیسے میں ایک دفعہ جا رہا تھا رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس کے لیے کراچی۔ راستے میں جہاز میں میرے ساتھ ایک پولش (Polish) انجینئر بیٹھا ہوا تھا۔ تو چونکہ اس کو بھی پتہ تھا کہ رمضان شریف ہے، عید کے چاند کے لیے ہم جا رہے تھے۔ تو مجھ سے پوچھتا ہے: "آپ نے بھی روزہ رکھا ہے؟" میں نے کہا: "ہاں روزہ رکھا ہے۔" کہتا ہے: "مسلمانوں کا یہ روزہ بڑا عجیب ہے، روزہ ویسے اچھی چیز ہے، لیکن مسلمانوں کا روزہ اس لیے عجیب ہے کہ پانی بھی نہیں پیتے۔ پانی پینا تو بہت ضروری ہے جسم کے لیے۔ وہ لوگ کرتے ہیں نا وہ تو پرواہ نہیں کرتے۔"

تو میں نے کہا کہ: "دیکھو بات یہ ہے کہ ڈاکٹر حضرات کہتے ہیں کہ ایک ہوتا ہے Reversible damage اور ایک ہوتا ہے Irreversible damage۔

Reversible damage وہ ہوتا ہے کہ اگر پانی نہ ملے تو اس سے جو damage ہوتا ہے، جس وقت پانی مل جائے تو damage ختم ہو جاتا ہے۔ تو ڈاکٹر حضرات تو 72 گھنٹے (72 hours) کہتے ہیں لیکن میں نے اس کو 48 کہہ دیا، میں نے کہا اعتراض کا موقع ہی نہ رہے۔ میں نے کہا 48 گھنٹے کے اندر اندر اگر پانی مل جائے نا، تو وہ جو damage اس کے ساتھ ہو چکا ہوتا ہے Kidneys اور Liver کو، وہ ختم ہو جاتا ہے۔ تو اگر اس سے زیادہ ہو تو پھر بات ہو سکتی ہے، تو میں نے کہا ہمارا تو کوئی روزہ بھی 24 گھنٹے سے زیادہ نہیں ہو سکتا۔"

کہتا ہے: "Then it is okay، پھر صحیح ہے۔"

اب یہ مجبوری تھی، اس کو جواب دینا لازمی تھا کیونکہ اس میں دین پہ بات ہو رہی تھی۔ اس وقت میری ذاتی بات نہیں تھی کہ میں اپنے روزے کو defend کر رہا تھا، بلکہ میں پورے رمضان شریف کے روزوں کو defend کر رہا تھا ایک شخص کا جو کہ غیر مسلم ہے، اس کے اعتراض کا جواب دے رہا تھا تو میں اس کو یہ بات سمجھا سکتا تھا۔

لیکن مسلمان مجھ سے کہے کہ روزے میں کیا فوائد ہیں؟ مجھے کیا کیا فائدے ہوں گے؟ پتہ نہیں ڈائٹنگ ہو جائے گی، یہ ہو جائے گا، وہ ہو جائے گا، میں کہتا ہوں بھئی اس سے تمہارا کام نہیں۔ جو ہونا ہے وہ واقعی ہو جائے گا، بلکہ اس سے زیادہ ہو جائے گا ان شاءاللہ۔ اللہ تعالیٰ کے اس مبارک کام کی برکت سے اس سے زیادہ ہو جائے گا لیکن ہمیں اس کی نیت کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ ہم تو صرف اللہ کے لیے کرتے ہیں، اس لیے ہم کو ہر چیز کے اندر وہ ابراہیم علیہ السلام والی بات یاد رکھنی چاہیے۔ خلیل اللہ تھے نا؟ ان کی بات ہے نا کہ ہر قسم کا میرا روزہ، میری نماز، میری قربانی، سب کچھ اللہ کے لیے ہے، میری حیات و ممات، وہ سب کچھ اللہ کے لیے ہے۔ بس، ہمیں نیت یہ کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ایسا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آپ سب کو بھی، سارے مسلمانوں کو اس کی توفیق عطا فرمائے اور جو مسلمان نہیں، اللہ تعالیٰ ان کو مسلمان بنائے۔

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ۔

اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُكَ حُبَّكَ، وَحُبَّ مَنْ يُّحِبُّكَ، وَالْعَمَلَ الَّذِيْ يُبَلِّغُنِيْ حُبَّكَ۔

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔

اَللّٰهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وَحَبِيْبُكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وَحَبِيْبُكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنْتَ الْمُسْتَعَانُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ۔

سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔




زندگی کے ہر شعبے میں اللہ کی بندگی اور استقامت - خواتین کے لیے اصلاحی بیان - اشاعت دوم