آزمائش کی گھڑی: منافقین کا پردہ چاک اور شہداء کی حیاتِ جاوداں

درس نمبر 160، سورۃ آل عمران: آیات:166 تا 171- (اشاعتِ اول) 6 مئی، 2022، بمطابق 4 شوال 1443 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

·      آزمائش کی حکمت: جنگی مصیبت کا مقصد مومنوں اور منافقوں کے درمیان فرق کرنا تھا۔

·      نفاق کی حقیقت: جنگ سے فرار اور بہانے ان کے دلی کفر کا ثبوت تھے۔

·      موت کا اٹل وقت: موت مقررہ وقت پر آنی ہے، اسے کسی صورت ٹالنا ممکن نہیں۔

·      حیاتِ شہداء: شہید مردہ نہیں، وہ رب کے ہاں زندہ اور رزق پاتے ہیں۔

·      شہداء کی خوشی: وہ فضلِ الٰہی پر خوش اور بقیہ مومنوں کے لیے پُرامید ہیں۔

·      حیاتِ انبیاء کا ثبوت: جب شہداء زندہ ہیں تو بلند مرتبے والے انبیاء یقیناً زندہ ہیں۔

الحمد للہ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیَعْلَمَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۙ (166) وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ نَافَقُوْا ۚۖوَ قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوِ ادْفَعُوْا ؕقَالُوْا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّا اتَّبَعْنٰكُمْ ؕهُمْ لِلْكُفْرِ یَوْمَىٕذٍ اَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلْاِیْمَانِ ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ ؕوَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یَكْتُمُوْنَ ۚ (167) اَلَّذِیْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ وَ قَعَدُوْا لَوْ اَطَاعُوْنَا مَا قُتِلُوْا ؕقُلْ فَادْرَءُوْا عَنْ اَنْفُسِكُمُ الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (168) وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا ؕبَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُوْنَ ۙ (169) فَرِحِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ ۙوَ یَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِهِمْ مِّنْ خَلْفِهِمْ ۙاَلَّا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ ۘ (170) یَسْتَبْشِرُوْنَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ ۙوَّ اَنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ (171)

صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ۔

اور تمہیں جو مصیبت اُس دن پہنچی جب دونوں لشکر ٹکرائے تھے، وہ اللہ کے حکم سے پہنچی، تاکہ وہ مؤمنوں کو بھی پرکھ کر دیکھ لے ﴿166﴾ اور منافقین کو بھی دیکھ لے۔ اور ان (منافقوں) سے کہا گیا تھا کہ "آؤ اللہ کے راستے میں جنگ کرو یا دفاع کرو" تو انہوں نے کہا تھا کہ: "اگر ہم دیکھتے کہ (جنگ کی طرح) جنگ ہوگی تو ہم ضرور آپ کے پیچھے چلتے۔"

یعنی ان کا مطلب یہ تھا کہ اگر کوئی برابر کی جنگ ہوتی تو ہم ضرور اس میں شریک ہوتے، لیکن یہاں تو مسلمانوں کا دشمن سے کوئی مقابلہ ہی نہیں۔ دشمن کی تعداد تین گنے سے بھی زیادہ ہے، لہٰذا یہ جنگ نہیں، خودکشی ہے، اس میں ہم شامل نہیں ہو سکتے۔

اُس دن (جب وہ یہ بات کہہ رہے تھے) وہ ایمان کی بہ نسبت کفر سے زیادہ قریب تھے۔ وہ اپنے منہ سے وہ بات کہتے ہیں جو اُن کے دلوں میں نہیں ہوتی

یعنی زبان سے تو یہ کہتے ہیں کہ اگر برابر کی جنگ ہوتی تو ہم ضرور شامل ہوتے، لیکن یہ صرف ایک بہانہ ہے، درحقیقت ان کے دل میں یہ ہے کہ برابر کی جنگ میں بھی مسلمانوں کا ساتھ نہیں دینا۔

مطلب یہ محض ایک بہانہ کر رہے ہیں نہ جانے کا۔ تو ظاہر ہے اللہ پاک کو تو سب کا پتہ ہے۔

اور جو کچھ یہ چھپاتے ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے ﴿167﴾ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے (شہید) بھائیوں کے بارے میں بیٹھے بیٹھے یہ باتیں بناتے ہیں کہ اگر وہ ہماری بات مانتے تو قتل نہ ہوتے۔ کہہ دو کہ: "اگر تم سچے ہو تو خود اپنے آپ ہی سے موت کو ٹال دینا" ﴿168﴾ اور (اے پیغمبر!) جو لوگ اللہ کے راستے میں قتل ہوئے ہیں، انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھنا، بلکہ وہ زندہ ہیں، انہیں اپنے رب کے پاس رزق ملتا ہے ﴿169﴾ اللہ نے ان کو اپنے فضل سے جو کچھ دیا ہے، وہ اس پر مگن ہیں، اور ان کے پیچھے جو لوگ ابھی ان کے ساتھ (شہادت میں) شامل نہیں ہوئے، اُن کے بارے میں اس بات پر بھی خوشی مناتے ہیں کہ (جب وہ ان سے آ ملیں گے تو) نہ اُن پر کوئی خوف ہوگا، اور نہ وہ غمگین ہوں گے ﴿170﴾ وہ اللہ کی نعمت اور فضل پر بھی خوشی مناتے ہیں اور اس بات پر بھی کہ اللہ مؤمنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا ﴿171﴾

یعنی یہاں پر وہ جو آیت ہے مشہور... وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ۔ یعنی ان کو مردہ گمان بھی نہ کرو جو اللہ کے راستے میں شہید کیے جائیں۔ تو... بلکہ وہ اپنے رب کے ساتھ زندہ ہیں اور انہیں رزق دیا جاتا ہے۔

تو یہ وہی والی بات ہے نا حیات والی بات۔ کہ اللہ جل شانہ شہیدوں کو یہ اعزاز دیتے ہیں کہ وہ زندہ ہوتے ہیں۔ یعنی ان کا جو ہے نا جسم اس کو مٹی نہیں کھاتی اور اور بھی بہت ساری چیزیں ہیں جیسے یہاں فرمایا کہ ان کو رزق دیا جاتا ہے۔ بارہا اس قسم کے واقعات ہوئے ہیں کہ کسی شہید کی قبر کھول دی گئی تو ان سے بالکل تازہ خون نکلا۔ اور اس طریقے سے اور بہت ساری باتیں ہیں۔

تو اللہ جل شانہ سب چیزوں پر قادر ہیں۔ اللہ جل شانہ مشکل سے مشکل حالات میں آسانی پیدا فرمائے، آسانی کی حالت کو مشکل پیدا فرمائے، زندہ سے مردہ نکالے، مردہ سے زندہ نکالے، جو مردہ نظر آ رہے ہیں وہ زندہ ہوں، جو زندہ نظر آ رہے ہیں وہ مردہ ہوں، مطلب یہ ہے کہ وہ لاش کی طرح ہوں۔ تو مقصد یہ ہے کہ یہ اللہ پاک کی قدرت میں ہے۔

تو جو شہیدوں کو زندہ رکھ سکتا ہے تو انبیاء کو کیسے نہیں؟ انبیاء کا درجہ تو ان سے اونچا ہے۔ صدیقوں کا، انبیاء کا درجہ تو ان سے اونچا ہے۔ تو جو لوگ کہتے ہیں کہ انبیاء زندہ نہیں ہیں اپنی قبروں میں، تو وہ اسی غلطی میں مبتلا ہیں، کہ ان کو یہ پتہ نہیں ہے کہ شہیدوں سے تو ان کا مقام اونچا ہے۔

تو اللہ جل شانہ ہم سب کو سمجھ کی توفیق عطا فرما دے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الحمد للہ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔


آزمائش کی گھڑی: منافقین کا پردہ چاک اور شہداء کی حیاتِ جاوداں - درسِ قرآن - دوسرا دور