الحمد للہ رب العالمین، اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
معزز خواتین و حضرات!
ہمارے ہاں جو سوال کیے جاتے ہیں ان کے جوابات دینے کی کوشش کی جاتی ہے اور ساتھ ساتھ جو احوال بتائے جاتے ہیں ان کے بارے میں بھی تحقیق عرض کی جاتی ہے۔
سوال: السلام علیکم حضرت جی! میں سب سے زیادہ اللہ پاک کو یاد کرتا ہوں کیونکہ نماز، ذکر، تلاوت سب اللہ کے لیے ہوتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد کرتا ہوں۔ پھر آپ حضرت جی کو یاد کرتا ہوں۔ پھر وقتاً فوقتاً ضرورت، بہت سی کچھ اور فکریں بھی رہتی ہیں لیکن یاد کرنے کے درجے میں نہیں بلکہ صرف فکر اور ضرورت کے درجے میں۔ اب اللہ پاک کو اختیاری بھی یاد کرتا ہوں جس سے اور یاد آتی ہے اور پھر ایسے بھی ہوتا ہے کہ دل کرتا ہے کچھ اور یاد ہی نہ رہے بس اللہ ہی یاد رہے۔ جیسے کہ آپ نے فرمایا ہے اختیاری کو چھوڑنا نہیں اور غیر اختیاری کے درپے نہیں ہونا۔ اللہ پاک کی یاد کی اس حالت میں اختیاری غیر اختیاری کو کیسے بیلنس کروں؟ جبکہ اللہ پاک کی یاد تو اب بفضل تعالیٰ ہے، یہ بھی نہیں کسی اور کام میں خود کو مصروف کروں، کیونکہ جس کام میں جاؤں گا اس میں اللہ کی یاد ہوگی، اس لحاظ سے پھر مزید یاد آئے گی۔ جو غیر اختیاری ہوگی پھر اس کا اپنا لطف ہوتا ہے، پھر اس لطف میں مزید یاد ہوتی ہے۔
سوال جواب مجلس 22 جنوری 2024 ، مجلس نمبر 657
جواب: مجھے نہیں معلوم کہ آپ پوچھنا کیا چاہتے ہیں؟ تو ساری باتیں آپ جو بتا رہے ہیں محمود حالات ہیں لیکن اس میں پوچھنے کی کیا بات ہے؟ کیونکہ اختیاری، غیر اختیاری کا آپ کو پتا ہے۔ تو اختیاری وہ ہوتی ہے جو انسان اپنے اختیار اور ارادے سے کرتا ہے۔ اور غیر اختیاری وہ ہوتا ہے جو خود بخود ہوتا ہے۔ اس میں کسی کے عمل کا وہ نہیں ہوتا۔ مثلاً اچھے خوابوں کا آنا، یہ غیر اختیاری ہے۔ کسی چیز کا کشف ہو جانا، یہ غیر اختیاری ہے۔ اس طریقے سے طبیعت کا اچھا ہونا، یہ بھی غیر اختیاری ہے۔ کوئی اپنی طبیعت کو خود مرضی سے، اختیار سے اچھا نہیں کر سکتا۔ بیماری کا آ جانا غیر اختیاری ہے۔ مطلب ظاہر ہے اگر آپ پرہیز وغیرہ نہیں کرتے تو وہ علیحدہ بات ہے، لیکن ویسے بیماری کسی وقت بھی آ سکتی ہے۔ تو جو غیر اختیاری ہیں وہ من جانب اللہ جو ہوتے ہیں، اس میں بڑی اللہ تعالیٰ کی حکمتیں ہوتی ہیں۔ اور جو اختیاری ہیں وہ یہ ہیں جن کا حکم ہے۔ جن کا حکم ہے۔ اوامر و نواہی یہ اختیاری ہیں، اور اسی کو شریعت کہتے ہیں۔ تو ظاہر ہے شریعت کے ہم مکلف ہیں، اس کے علاوہ کسی چیز کے مکلف نہیں۔ لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا۔ تو بس ہم سیدھے سیدھے شریعت پر رہیں، درمیان میں کنفیوز ہونے کی کیا ضرورت ہے؟
سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! اے اللہ! مجھے اپنے آپ کے سوا اپنے کسی بندے کا محتاج نہ بنا۔
Please explain the following
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ایک دعا وارد ہے: اَللّٰھُمَّ لَا تُحْوِجْنِيْ إِلٰی أَحَدٍ مِّنْ خَلْقِكَ یعنی اے اللہ! مجھے اپنی مخلوق میں سے کسی کا محتاج نہ بنا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سنی تو فرمایا: ایسا مت کہنا، بلکہ کہو: اَللّٰهُمَّ لَا تُحْوِجْنِيْ إِلٰی شِرَارِ خَلْقِكَ اے اللہ! مجھے اپنے بندوں میں سے برے آدمی کا محتاج نہ بنا۔ دراصل یہ ہے کہ اصل روایات میں ہے، جیسے کہ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے۔
سوال جواب مجلس 22 جنوری 2024 ، مجلس نمبر 657
جواب: (تو ہے کہ یعنی مجھے وہ کہہ رہے ہیں کہ آپ کے سوا اپنے کسی بندے کا محتاج نہ بنا، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے تو پھر یہ بات کیوں ہے؟ مجھ سے پوچھنا چاہتی ہیں۔ ٹھیک ہے نا!)
تو میں نے جو جواب دیا ہے وہ بھی ایک سوال ہی ہے۔ سوال کا جواب سوال۔ تو میں نے سوال کیا لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنَ اللّٰهِ إِلَّا إِلَيْهِ کا کیا مطلب ہے؟ کیا مطلب ہے؟ لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنَ اللّٰهِ إِلَّا إِلَيْهِ (کوئی پناہ نہیں ہے اللہ تعالیٰ کے سوا) کوئی ٹھکانہ نہیں ہے نا اللہ تعالیٰ کے سوا، تو محتاجی اسی کی ہے نا! تو ظاہر ہے ہے کہ اگر کوئی مانگتا ہے کہ اے اللہ! مجھے کسی کا محتاج نہ بنا، تو یہ جو محتاجی ہے اس طرح ہے کہ اصل محتاجی اللہ کی ہے، جیسے اصل قدرت اللہ کی ہے، یہ اس معنی میں ہے۔ یہ نہیں کہ مثال کے طور پر آپ کسی سے کچھ مانگ نہیں سکتے، یہ نہیں ہے۔ اصل ارادہ اللہ کا ہے، اصل فیصلہ اللہ کا ہے۔ کیونکہ حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث شریف ہے، وہ بالکل اچھی طرح اس کو explain کرتی ہے۔ کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے معاذ! یاد رکھو اگر ساری دنیا جمع ہو جائے اور تجھ سے کوئی چیز روکنا چاہے تو وہ نہیں کر سکتے، اگر اللہ نہ چاہے۔ اور اگر ساری دنیا جمع ہو جائے تمہیں کچھ چیز دینا چاہے اور اللہ کا ارادہ نہ ہو تو تمہیں وہ چیز نہیں دے سکتے۔ اب اس کا مطلب کیا ہے؟ تو اصل ارادہ اللہ کا ہے، اس لحاظ سے یہ کہنا لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنَ اللّٰهِ إِلَّا إِلَيْهِ یہ بھی صحیح ہے اور جو معاذ رضی اللہ عنہ والی روایت ہے وہ بھی صحیح ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ عمومی طور پر ایک دوسرے سے مانگنا، ایک دوسرے کے کام آنا، پوری دنیا جو ہے اس کا جو پورا setup ہے وہ دو چیزوں پر چل رہا ہے، کمال کی بات ہے۔ یعنی ہماری جتنی بھی سوشل activites ہیں وہ صرف دو چیزوں پر چل رہی ہیں ظاہری طور پر، ایک پیسے پر اور ایک محتاجی پر۔ اس کے علاوہ تیسرا بتا دو؟ ایک پیسے پر، اور دوسرا محتاجی پر۔ اگر ایک دوسرے کے محتاج ہم نہ ہوتے، تو ایک دوسرے کے کام آ سکتے؟ ایک دوسرے کے کام نہ آ سکتے۔ ایک دوسرے کے کام نہ آ سکتے تو ہمارے کام ہو سکتے؟ کیونکہ سارے کام سارے لوگ تو نہیں کر سکتے۔ ہر ایک سارے کام نہیں کر سکتا۔ مثلاً میں ڈاکٹر نہیں ہوں، انجینئر ہوں۔ میں دکاندار نہیں ہوں۔ میں سویپر نہیں ہوں۔ میں پتا نہیں کیا کیا چیز نہیں ہوں۔ تو جو نہیں ہوں، اس میں ان کا محتاج ہوں۔ ایک دن سویپر نہ آئے تو کیا مسئلہ ہوتا ہے؟ محتاجی ہو گئی نا۔ بھئی جب سڑک پر جاتے ہیں ٹریفک پولیس کے محتاج ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اگر وہ نہ ہو تو رش ہو جاتا ہے اور ساری گاڑیاں آپس میں پھنس جاتی ہیں۔ کہتے ہیں جی پولیس والے کدھر چلے گئے؟ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کے محتاج ہیں ظاہری طور پر۔ لیکن اصل محتاجی اللہ کی ہے، سب کی۔ اللہ کے سب محتاج ہیں اور ہم ایک دوسرے کے محتاج ہیں۔ اور اسی بل پر ہی ساری دنیا چل رہی ہے۔ اور اس کے لیے ذریعہ اللہ پاک نے medium پیسے کو بنایا ہوا ہے، ڈاکٹر فیس لیتا ہے، ڈاکٹر دکاندار سے سودا لیتا ہے۔ ڈاکٹر ممکن ہے اس کو گاڑی میں جانا پڑے، جہاز میں جانا پڑے، ان کو پیسے دیتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو پیسے وہ کماتا ہے وہ خرچ کرتا ہے، تو جہاں خرچ کرتا ہے وہاں محتاج ہے وہ۔ اور جہاں لوگ ان کے پاس آتے ہیں تو لوگ ان کے محتاج ہیں۔ تو اس طرح ہر آدمی دوسرے کا محتاج ہے۔ اور اس کے لیے medium اللہ پاک نے پیسے کو اپنایا ہوا ہے کہ اس کے ذریعے سے سارے۔۔۔ تو وہ جو انگریزوں نے کہا ہے نا
"Money makes the mare go"
یعنی دولت سے کام چلتے ہیں، تو اس کا ظاہری معنی یہی ہے۔ کہ مطلب دولت ایک medium ہے جس کے ذریعے سے ایک دوسرے کی محتاجی کو پورا کیا جاتا ہے اور سب کے کام ہوتے رہتے ہیں۔ تو یہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، وہ یہی بات ہے کہ کسی شریر کا مجھے محتاج نہ بنا۔ کیوں؟ اس میں عزت نفس کا سوال آ جاتا ہے، مسئلہ ہو جاتا ہے، پریشانی ہو جاتی ہے۔ تو اب بتاؤ سوال کس سے کیا گیا ہے؟ مجھے کسی شریر کا محتاج نہ بنا، یہ سوال کس سے ہے؟ محتاجی میں اللہ تعالیٰ سے مانگتے ہیں نا۔ ٹھیک ہے نا! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جو بات فرمائی وہ بھی، اخیر میں ادھر ہی جاتی ہے۔
سوال: کسی نے مجھے کہا تھا کہ میری طرف سے درخواست ہے کہ آپ میرے لیے دعا کرو کہ میری جاب مل جائے۔ اگر آپ کے پاس کوئی وظیفہ ہے، آپ مجھے بتائیں۔
سوال جواب مجلس 22 جنوری 2024 ، مجلس نمبر 657
جواب: بعض لوگ اسی لیے رابطہ کرتے ہیں لوگوں کو کوئی اور مقصد نہیں ہوتا۔ تو پھر میں نے جواب دیا کہ تہجد کے بعد اللہ تعالیٰ سے مانگنے سے بڑا وظیفہ میرے پاس نہیں ہے۔ ہم تو یہی بتاتے ہیں۔ اگر کسی کو اس پر اعتقاد ہے تو ان شاء اللہ اس کے سارے کام اس کے ذریعے سے ہوں گے جو اللہ کرنا چاہے گا۔ کیونکہ بعض چیزیں جیسے انسان کہتا ہے میں مروں نہیں، تو وہ تو كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ، مرنا تو ایک دن ہے۔ تو مطلب یہ ہے کہ جو چیز اللہ پاک کرنا چاہے تو وہ اللہ پاک سے مانگیں گے تو اللہ پاک کرے گا۔
سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! جی میں فلاں، کراچی سے دورہ حدیث میں پڑھنے والا طالب علم ہوں۔ شاید آپ حضرت کے علم میں ہوگا، وفاق کے امتحان قریب ہیں اور میرا ذکر دو سو بار لا الہ الا اللہ، چار سو بار لا الہ الا ھو، چھ سو بار حق، اور سو بار اللہ، اللہ ہے، اور دس منٹ کا مراقبہ ہے۔ تو وقت کا مسئلہ ہے اور کام زیادہ ہے۔ تو اس حوالے سے رہنمائی فرمائیں۔ دوسری بات یہ کہ دورہ حدیث اللہ کی توفیق سے پورا ہونے والا ہے تو میرے لیے اللہ پاک سے دعا مانگیں کہ اللہ مجھے دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے اور مجھ سے دین کا کام لے اور دنیا و آخرت دونوں جہانوں کی ذلت اور رسوائی سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔
سوال جواب مجلس 22 جنوری 2024 ، مجلس نمبر 657
جواب: حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں چار Categories تھیں، ایک عامی مشغول، عامی فارغ، ایک عالم مشغول، عالم فارغ۔ وہ تھے نا چار؟ تو آپ درمیان میں ہیں، نہ عامی ہیں، نہ عالم ہیں۔ کیونکہ ابھی طالب علم ہیں۔ تو نہ عامی ہیں نہ عالم ہیں۔ لہٰذا فی الحال آپ یہی کر لیں کہ دو سو مرتبہ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، دو سو مرتبہ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ، دو سو مرتبہ حق، اور سو مرتبہ اللہ۔ یہ کر لیں۔
لیکن ایک بات میں آپ کو بتاؤں، وہ یہ ہے کہ تقسیم کار ہے۔ کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے، یہ تو ہے۔ ٹائم ہمارے پاس محدود ہے۔ اور اس محدود ٹائم کو ہم لگاتے ہیں مختلف کاموں میں۔ تو ربڑ کی طرح جب ہم اس کو کھینچیں گے تو اس کی لمبائی تو بڑھتی ہے لیکن چوڑائی اور موٹائی کم ہوتی ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کچھ چیزیں پانے کے لیے آپ کچھ چیزوں کو چھوڑتے ہیں۔ تو لہٰذا میں نے وظیفہ جو کم کر لیا تو اس سے آپ کا یہ کام تو ہو گیا کہ امتحان میں آپ کو تیاری کا اچھا موقع ملے گا لیکن اس کے حساب سے پیچھے تو ہونا پڑے گا۔ ظاہر ہے کہ اس لائن میں۔ تو فی الحال آپ اس پر صبر کر سکتے ہیں، اس کی تلافی پھر بعد میں آپ کریں۔ یعنی ایسا ہوتا ہے بعض دفعہ، آدمی کسی چیز کے سیزن میں وہ آدمی ایک چیز پر زیادہ فوکس کرتا ہے لیکن بعد میں جو دوسری چیزیں ہوتی ہیں ان کی طرف توجہ زیادہ کرتا ہے کہ وہ بھی پوری ہو جائیں۔ کیونکہ وہ بھی ضرورت ہوتی ہے۔ تو اصلاح بھی ضرورت ہے، علم بھی ضرورت ہے۔ اصلاح بھی ضرورت ہے، علم بھی ضرورت ہے۔ تو آپ علم کے لیے اصلاح کو فی الحال Postpone کرنا چاہتے ہیں۔ تو میں یہ نہیں کہتا کہ آپ ایسا کریں۔ ہاں البتہ تھوڑی سی سپیڈ آپ کی کم ہو جائے گی تو ٹھیک ہے میں آپ کو یہ بتا دیتا ہوں، دو سو مرتبہ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، دو سو مرتبہ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ، دو سو مرتبہ حق اور سو مرتبہ اللہ کریں لیکن جیسے آپ فارغ ہو جائیں، تو پھر آپ پوری توجہ کے ساتھ، جیسے ہمارے گزشتہ بزرگانِ دین جو گزرے ہیں، وہ فارغ التحصیل ہونے کے بعد مکمل اس کو وقت دیتے تھے۔ باقاعدہ جا کے خانقاہوں میں بیٹھ جاتے تھے۔ تو پھر ان کو کچھ ملا نا۔ ان کو کچھ ملا نا۔ تو اس طریقے سے کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا تو پڑتا ہے، کچھ کرنا پڑتا ہے۔ خیر فی الحال آپ یہی کریں۔ ان شاء اللہ، اور دعا میں نے کی ہے جیسے کہ آپ نے فرمایا ہے۔
سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
حضرت جی میں فلاں بات کر رہا ہوں جہلم سے، ان شاء اللہ آپ خیریت سے ہوں گے۔
حضرت میں نے قرآن پاک حفظ کیا ہوا ہے، الحمد للہ، لیکن قرآن پاک کا ترجمہ اور تفسیر اور باقی دینی علوم کے بارے میں اتنا علم نہیں ہے۔ میں سیکھنا چاہتا ہوں لیکن مدرسے میں باقاعدہ داخلہ نہیں لے سکتا کیونکہ گھر کی کچھ ذمہ داریاں ہیں۔ میری رہنمائی فرمائیں کہ میں کیسے علم حاصل کر سکتا ہوں؟ اور کیا مدرسے میں داخلہ لینا ضروری ہے؟ جزاک اللہ۔
سوال جواب مجلس 22 جنوری 2024، مجلس نمبر 657
جواب: اب اگر کوئی آسان سی بات بتا دوں تو آپ کو سمجھ نہیں آئے گی، مشکل بات آپ کر نہیں سکتے۔ تو کیا خیال ہے، کیا کریں؟ درمیان میں کوئی رستہ بتا دیتا ہوں۔ تو درمیان والا رستہ یہ ہے کہ فرضِ عین علم حاصل کرو۔ جو فرض ہے۔ طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلٰى كُلِّ مُسْلِمٍ یہ فرض ہے۔ مدرسے میں پورا درس نظامی کرنا فرض نہیں ہے۔ کیوں کوئی مفتی فتویٰ دے سکتا ہے کہ یہ فرض ہے؟ تو وہ فرضِ عین نہیں ہے، وہ فرضِ کفایہ ہے۔ ٹھیک ہے نا! لیکن جو فرضِ عین علم ہے وہ سب کے اوپر فرض ہے۔ تو آپ فرضِ عین علم حاصل کر لیں، بتدریج، ان شاء اللہ۔ آپ کو اللہ پاک جتنا اس علم سے نوازیں گے اس پر عمل کی آپ کوشش کریں تو آپ کی بنیادی ضرورت پوری ہو جائے گی۔ اس کے بعد پھر مزید، سبحان اللہ! اس کی کوئی حد نہیں ہے۔ وہ تو جتنا، علم تو کبھی بھی کوئی پورا نہیں کر سکتا۔ میں تو نہیں سمجھتا کہ کوئی عالم کہہ سکتا ہے کہ میں مکمل عالم ہو گیا ہوں۔ یہ تو ہو نہیں سکتا۔ تو جب ہو نہیں سکتا تو ساری عمر ہی کرنا ہے نا۔ وہ کہتے ہیں مہد سے لحد تک علم حاصل کرنا ہوتا ہے۔ تو اس کے لیے تو آپ پھر کوشش کر لیں، لیکن یہ بات ضرور ہے کہ فی الحال فرضِ عین علم وہ آپ کے لیے لازم ہے، due ہے۔ اس کے لیے آپ آسان طریقہ یہ ہے کہ بہشتی زیور اور تعلیم الاسلام، یہ دونوں آپ مکمل طور پر پڑھیں۔ بہشتی زیور اور تعلیم الاسلام یہ دونوں مکمل طور پر پڑھیں۔ پھر اس کے علاوہ، ان شاء اللہ ان دو کے پڑھنے سے آپ کو مزید خود ہی پتا چل جائے گا کہ اور کچھ، کیا کرنا ہے۔ ان شاء اللہ اس کے اندر رستے موجود ہیں۔ تو فی الحال آپ یہ کر لیں، باقی ان شاء اللہ پھر بعد میں ہو جائے گا، ان شاء اللہ۔
سوال: السلام علیکم! میرے لیے دعا کیجیے کہ میں تہجد کی نماز میں اٹھ سکوں۔
سوال جواب مجلس 22 جنوری 2024، مجلس نمبر 657
جواب: اللہ تعالیٰ آپ کی اس خواہش کو پورا فرما دے۔ لیکن دعاؤں پہ آپ چیز چھوڑیں گے نہیں، اسباب اختیار کرنا لازمی ہوتے ہیں۔ ورنہ وہ دعا تمنا بن جاتی ہے۔ اور تمنا سے کوئی چیز حاصل نہیں ہوتی۔ تمنا میں اور ارادے میں فرق یہی ہے۔ تمنا میں اور ارادے میں فرق یہ ہے کہ تمنا میں محض خواہش ہوتی ہے، عمل نہیں ہوتا۔ اور ارادے میں اسباب کو اختیار کرنے کا ما شاء اللہ نظام ہوتا ہے اور جتنا وہ اس وقت کر سکتا ہے وہ شروع کر لیتا ہے۔ اب مثال کے طور پر ایک شخص ہے، میں ڈاکٹر بننا چاہتا ہوں، اور نہ وہ میٹرک کرے، نہ ایف ایس سی کرے، نہ medical proficiency test وغیرہ دے، تو ٹھیک ہے اس کی خواہش ہے لیکن تمنا ہے۔ وہ ارادہ نہیں ہے۔ ارادہ تب ہو گا جب یہ پڑھنا شروع کرے گا۔ تو اس وجہ سے آپ تہجد کے لیے جو اسباب ہیں نا ان کو اختیار کرنا شروع کر لیں۔ اور وہ کیا ہیں؟ جلدی سو جانا۔ جلدی سو جانا۔ اور دن کے وقت اگر ممکن ہو قیلولہ کرنا، بیس پچیس منٹ۔ یہ دو کام آپ شروع کر لیں ان شاء اللہ تہجد کے لیے اٹھنا نصیب ہو جائے گا۔ اللہ پاک نصیب فرمائے۔
سوال: السلام علیکم! میں فلاں شانگلہ KPK سے ہوں۔ میں آپ سے اپنی اصلاح کروانا چاہتا ہوں۔ آپ سے ملاقات کرنا بھی چاہتا ہوں۔ مجھے ایک بڑا مسئلہ ہے کہ میرا حافظہ کمزور، اور دماغ میں ڈپریشن ہے، جس کی وجہ سے بستر پر ہوتا ہوں۔ آپ میری صحت یابی کے لیے دعا کیجیے گا تاکہ جلد از جلد آپ کی خانقاہ میں آ جاؤں۔ جواب کا منتظر رہوں گا۔
سوال جواب مجلس 22 جنوری 2024 ، مجلس نمبر 657
جواب: اللہ تعالیٰ آپ کو جلد سے جلد صحت یابی عطا فرما دے اور آپ کی اس خیالی بیماری کو جلد سے جلد درست فرما دے۔ یہ ڈپریشن جو ہے نا، یہ خیالی بیماری ہوتی ہے۔ تو اگر انسان کا خیال اور تصور درست ہو جائے تو یہ بیماری درست ہو سکتی ہے۔ مثلاً، ایک شخص ہے کسی چیز سے گھبرا جائے، تو جو کر سکتا ہے وہ بھی نہیں کر سکے گا۔ تو ہمارے پٹھان لوگ جو ہیں نا اس مسئلے میں ذرا تھوڑے سے different ہیں۔ تو ان کی ایک ضرب المثل ہے۔ کہتے ہیں
"چې د کومې بلا نه نه خلاصېږې، غاړې غټې ورته ځه"۔
کہتے ہیں جس بلا سے مفر نہیں ہے پھر اس کے گلے لگ جاؤ۔ مطلب ظاہر ہے گلے لگا لو بس ظاہر ہے وہ کیا کرے گا پھر؟ جو ہونا ہے وہ تو ویسے بھی ہونا ہے نا، تو پھر میں ڈر کے کیوں مر جاؤں؟ پھر میں ڈر کے کیوں مر جاؤں؟ میں اپنی طرف سے جتنا کر سکتا ہوں تو کرو نا! یہ ایک بہادری والی بات ہے۔ اللہ کرے کہ آپ اس خیالی بیماری سے جلد سے جلد صحت یاب ہو جائیں۔
باقی اصلاح کا جو ہے کام آپ نے فرما دیا نا، وہ چاہے آپ بیمار ہیں، چاہے صحت مند ہیں، اصلاح ضروری ہے۔ چاہے آپ بیمار ہیں، چاہے صحت مند ہیں، اصلاح ضروری ہے۔ اس کے لیے آپ کو انتظار نہیں کرنا کہ مجھے صحت حاصل ہو جائے پھر میں اپنی اصلاح کروں گا۔ کیوں؟ وجہ کیا ہے؟ اصلاح کا تعلق آخرت کے ساتھ ہے۔ تو کیا بیمار کو آخرت نہیں چاہیے؟ بیمار کو بھی آخرت اچھی چاہیے، صحت مند کو بھی۔ کسی کو شکر کے ذریعے سے ملتی ہے، کسی کو صبر کے ذریعے سے ملتی ہے، کسی کو کس ذریعے سے ملتی ہے، کسی کو کس ذریعے سے۔ تو اس وجہ سے یہ بات آپ بھول جائیں کہ آپ صحت مند ہو جائیں گے تو پھر آپ اپنی اصلاح کریں گے۔ اگر آپ کے خیال میں یہ ہے تو یہ بھی خیالی بیماری ہے۔ اس خیال کو بھی درست کرنا ضروری ہے۔ اللہ جل شانہٗ تمام خیالی بیماریاں آپ کی درست فرما دے۔
سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! حضرت جی انسان کی زندگی میں کبھی ایسے ادوار آ جاتے ہیں کہ وہ بہت مشکل میں ہوتا ہے اور ماحول میں بھی کچھ ایسے عناصر ہوتے ہیں جو اس کی زندگی کو اور بھی مشکل بنا دیتے ہیں۔ ایسے حالات میں جب وہ صبر سے کام لیتا ہے اور ایک ایسا دور آ جاتا ہے کہ مشکلات زیادہ تر حل ہو جاتی ہیں اور آسان دور شروع ہو جاتا ہے اور زندگی پہلے سے سہل ہو جاتی ہے۔ تو انسانی فطرت میں ہے کہ ایک وقت سے وہ لوگ زیادہ جنہوں نے مشکل دور کو اور بھی مشکل بنایا تھا، انسان کے دل میں ایک چھپی ہوئی نفرت ہوتی ہے۔ اور جب دیکھتا ہے کہ اب اس دوسرے انسان پر برا وقت ہے تو خوش ہوتا ہے کہ اللہ نے اس سے بدلہ لے لیا اور خود بھی کوشش کرتا ہے کہ میں بھی کسی طریقے سے بدلہ لوں۔
حضرت! سلوک جو لوگ طے کرتے ہیں، تو ان کے لیے اس قسم کے احساسات کہ دوسروں سے بدلہ لینا، ان پر برا وقت آنے پر خوش ہونا، ان احساسات کو تو ختم کرنا چاہیے نا؟ تو حضرت، ایسے احساسات اکثر مجھے بھی ہو جاتے ہیں۔ اب چونکہ میں تصوف کی پہلی سیڑھی پر ہوں تو میں پھر دل میں ہی توبہ کر لیتی ہوں اور استغفار بھی پڑھ لیتی ہوں۔ ایسے احساسات کو ہمیشہ کے لیے کیسے ختم کیا جا سکتا ہے کہ بندہ سب کچھ، جو بھی برا ہو، بھول جائے اور ایسا ہو جائے کہ دل میں بھی برا خیال نہ آئے؟ میرے تو چونکہ دل میں برا خیال آتا ہے پھر خفا ہوتی ہوں کہ کسی کو نہیں مگر اللہ کو تو پتا چل گیا کہ اگر اللہ خفا ہو جائے تو پھر کیا ہوگا؟ اور اللہ خفا بھی ہوتا ہے اور مجھے پتا بھی دیتا ہے اور ذرا ڈرا بھی دیتا ہے۔ اب حضرت! میں اپنے دل کی گندگی کو کیسے ختم کروں کہ جب دل ٹھیک ہو گا تو پورا بدن ٹھیک ہو گا۔ میرا تو دل ہی گندا ہے تو اس کو صاف کیسے کروں؟ آپ اصلاح فرمائیں۔
سوال جواب مجلس 22 جنوری 2024، مجلس نمبر 657
جواب: ما شاء اللہ اچھے احساسات ہیں لیکن تھوڑی سی ناسمجھی بھی ہے۔ اور وہ ناسمجھی یہ ہے کہ غیر اختیاری اور اختیاری کا پتا معلوم نہیں ہے۔ یہ جو باتیں ہو رہی ہیں، یہ غیر اختیاری ہیں۔ کیونکہ دیکھیں، اگر اختیاری ہوتیں تو پھر اس پہ تکلیف کیوں ہو رہی ہے؟ پھر اس پر شرمندگی کیوں ہو رہی ہے؟ تو اختیاری نہیں ہے نا، غیر اختیاری ہے۔ یعنی روکنا چاہتی ہیں لیکن روک نہیں پا رہیں۔ تو اس کا مطلب ہے یہ غیر اختیاری چیز ہے۔ تو جو غیر اختیاری چیز ہے، اس کے درپے نہیں ہونا چاہیے۔ اس پہ اللہ پاک پکڑتا نہیں ہے۔ اور آپ اس کی پروا نہ کریں۔ ہاں! حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ، اللہ تعالیٰ نے حضرت کو بہت اونچا مقام دیا تھا۔ بہت ٹیڑھے مسئلے حل کیا کرتے تھے۔ فرمایا کہ حکم تو یہی ہے کہ غیر اختیاری کے پیچھے نہ پڑو، کہ خیالات ہی نہ آئیں اس کے بارے میں آپ سوچیں نہیں، ارادہ بھی نہ کریں۔ بس اس کو بھول جائیں چھوڑیں، جو ہوتا ہے بس ہوتا ہے۔ آپ نے وہ کرنا ہے جو اللہ پاک کا حکم ہے ارادے کے ساتھ۔ فرمایا کہ، ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں جن کے لیے سڑک خالی کر دی جاتی ہے، لیکن وہ لوگ سارے نہیں ہوتے۔ تھوڑے لوگ ہوتے ہیں۔ تو اگر اللہ نے چاہا تو آپ کے لیے بھی کسی وقت سڑک کو خالی کر دیں گے، دل تو سڑک ہے۔ فرمایا اب اس وقت آپ ایسا مراقبہ کر سکتے ہیں، حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ صاحب نے جو بتایا ہے، کہ آپ کہیں، کمال ہے، کیا بات ہے، اللہ نے کیسا دل بنایا ہے کہ اس میں مختلف قسم کی چیزیں خود بخود آ رہی ہیں اور میں اس پر قابو بھی نہیں پاتا، اور اللہ پاک اس پر پکڑتے بھی نہیں ہیں۔ کیا بات ہے! تو اللہ کے شکر کی توفیق ہو جائے گی۔ تو جو چیز آپ اس سے ڈر رہی ہیں وہی آپ کے لیے خیر کا ذریعہ بن جائے گی۔ کیونکہ شکر اختیاری ہے۔ شکر اختیاری ہے۔ اور وہ حالات جو ہیں نا وہ کیا ہیں؟ وہ غیر اختیاری ہیں، تو آپ نے غیر اختیاری چیز کے ذریعے سے اجر کما لیا۔ اس لیے باقاعدہ ایک دعا ہے: اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ وَسَاوِسَ قَلْبِيْ خَشْيَتَكَ وَذِكْرَكَ۔ اے اللہ! میرے دل کے وسوسوں کو اپنی خشیت بنا دے اور اپنا ذکر بنا دے۔ تو آپ بھی یہ دعا کر لیا کریں ان شاء اللہ آپ کے لیے بھی امید ہے کہ اس میں بڑا خیر ہوگا۔
سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مجھے امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ برائے کرم واضح کریں کہ اگر ولایت اور اعلیٰ روحانی مقامات کے لیے بیعت ضروری نہیں، تو شیخ عبدالقادر جیلانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ جیسے لوگوں نے بیعت کیوں کی؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ شیخ کی توجہ کے بغیر آدمی کا عروج نہیں ہو سکتا اور ان کے لطائف اپنے اصل عروج کے مزید مقامات تک نہیں پہنچا سکتا۔ کیا یہ سچ ہے؟ کہتے ہیں اگر آپ پچاس ہزار سال تک اپنے دل پر کام کریں تو پھر بھی یہ ذاکر نہیں ہوگا یا آپ روحانی مقام تک نہیں پہنچ پائیں گے، لیکن ایک تو توجہ سے یہ ممکن ہے۔
سوال جواب مجلس 22 جنوری 2024 ، مجلس نمبر 657
جواب: اللہ اکبر! کنفیوژن کنفیوژن کنفیوژن، آج کل لوگوں کو کنفیوژن بہت ہو رہی ہے۔ چیز کوئی ہوتی ہے اس کو کچھ اور بنایا جاتا ہے۔ دیکھیں میں آپ کو ایک بات بتاؤں۔ اصل بات تو اصلاحِ نفس ہے۔
قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں واضح فرمایا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے،
"عقلمند وہ ہے جس نے اپنے نفس کو قابو کیا اور آخرت کے لیے کام کیا۔ بے وقوف وہ ہے جس نے اپنے نفس کو کھلا چھوڑ دیا جو کرنا چاہے کرلے، اور محض تمنائیں اللہ پر کر لے"
تو یہ تو بات قرآن سے بھی ثابت ہے، حدیث شریف سے بھی ثابت ہے، اپنی تربیت اور اپنی اصلاح، اپنے نفس کی، یہ بنیادی بات ہے۔
اب اس کے لیے ذرائع ہیں۔ تو ذرائع سب کے لیے ایک نہیں ہوتے، نمبر ایک۔ اور اس میں تغیر بھی آسکتا ہے۔ اب یہ بات ضرور ہے کہ اصلاح بغیر کسی مرشد کے نہیں ہوا کرتی، یہ بات بالکل صحیح ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بغیر مرشد کے جو اصلاح ہوتی ہے وہ اخیار کا طریقہ ہے اور اخیار کے طریقے میں بہت کم لوگ کامیاب ہوتے ہیں۔ یہ بات تو ہے۔ اور یہ جو بیعت ہو کر یا اپنے کسی خاص شخص کی تربیت میں رہ کر اپنی اصلاح کروانا، یہ ابرار کا طریقہ ہے۔ تو اس تربیت کے لیے جو کہ اصل ضروری ہے اس کے لیے بیعت ایک ذریعہ ہے۔
تو اس کو ذریعہ کے درجے میں رکھ سکتے ہو۔ اس سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ آدمی اپنا سارا کچھ اس شخص کے ساتھ وابستہ کر لیتا ہے، ادھر ادھر نہیں دیکھتا، لہٰذا اس کو کنفیوژن نہیں ہوتی۔ اور وہ یکسوئی کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔ یہ بات تو صحیح ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص بغیر اس کے یکسوئی کر سکتا ہے تو کیا اس پر بھی لازم ہوگا؟ اس وجہ سے بعض ایسے لوگ ہیں جو بیعت نہیں ہوتے لیکن بیعت والوں سے زیادہ شیخ کے معتقد ہوتے ہیں۔ بعض لوگ بیعت ہو کر اپنے آپ کو فارغ سمجھ لیتے ہیں، بس ٹھیک ہے میری اصلاح ہو گئی، مجھے کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔ ان سے یہ لوگ زیادہ بہتر ہوتے ہیں جو بیعت تو نہیں کرتے لیکن اپنی تربیت کرواتے رہتے ہیں باقاعدہ۔
تو اس وجہ سے آپ سب کے اوپر ایک حکم نہیں لگا سکتے، subjective to condition ہے، person to person اس میں فرق ہے۔ لہٰذا دونوں باتیں صحیح ہو سکتی ہیں کہ بعض لوگوں کے لیے بیعت بہت مفید ہے بغیر اس کے وہ نہیں کر سکتے، کیونکہ ان کے دل میں یکسوئی نہیں ہوتی، تو لہٰذا یکسوئی اس کے ذریعے سے اس کو ملتی ہے، لہٰذا اس کے لیے ضروری ہے۔ لیکن بعض لوگ بغیر اس کے بھی... عقل ان کی اتنی زیادہ کامل ہوتی ہے کہ وہ اپنی عقل کے ذریعے سے فوکس کر لیتے ہیں کسی ایک شخص پر۔ اور تربیت میں رہ کر وہ اپنا مقصد پورا کر لیتے ہیں۔
تو حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ چونکہ اس صدی کے مجدد ہیں اور اس فن کو میرے خیال میں آج کل کے دور میں سب سے زیادہ جانتے تھے، تو انہوں نے یہ فرمایا کہ بیعت ضروری نہیں، تربیت ضروری ہے۔ بیعت ضروری نہیں ہے، تربیت ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص تربیت حاصل کرتا ہے، بے شک وہ بیعت نہ بھی ہو تو اس کا کام بن جائے گا۔
دوسرا شخص ہے جس نے بیعت کر لی لیکن تربیت حاصل نہیں کر رہا تو اس کا کام نہیں ہوگا۔ اور جس نے بیعت بھی کی اور تربیت پہ بھی فوکس کر رہا ہے وہ نورٌ علیٰ نور ہے۔ سبحان اللہ۔ اب اپنے لیے راستہ ڈھونڈیں اس میں جو بھی ہوگا۔ ان شاء اللہ۔
شیخ عبدالقادر جیلانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بھی بیعت کی ہے، خواجہ معین الدین چشتی اجمیری صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بھی بیعت کی ہے، بہت بڑے بڑے لوگوں... میں نے بھی بیعت کی ہے۔ سبحان اللہ۔ ہمارے شیخ نے بھی بیعت کی تھی۔ تو بیعت کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔ البتہ بیعت کرنا لازم نہیں ہے۔
سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ حضرت جی! جب کبھی کوئی پریشانی ہوتی ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ اللہ پاک سے تعلق ٹوٹ گیا ہے۔ یہ لفظ ٹوٹ جانا سخت لفظ ہے لیکن محسوس ایسا ہی ہوتا ہے۔ اگر نماز پڑھتا ہوں تو صرف اٹھک بیٹھک محسوس ہوتی ہے، اگر ذکر کروں تو کچھ اثر نہیں لیتا۔ پھر کچھ وقت کے بعد حالت کچھ بہتر ہوتی ہے اور بہت بے چینی ہوتی ہے۔ ان منفی کیفیات کو کس طرح کنٹرول کیا جا سکتا ہے؟
سوال جواب مجلس 22 جنوری 2024، مجلس نمبر 657
جواب: دیکھیں غیر اختیاری والی بات کا میں پہلے کئی دفعہ بتا چکا ہوں کہ اس کی پروا نہ کریں۔ یعنی اگر آپ کے اوپر ایسی بھی حالت آ جائے کہ کفر کے وسوسے آجائیں، پھر بھی اس سے کافر کوئی نہیں ہوتا۔ کیونکہ وسوسہ، وسوسہ ہے۔ تو کبیرہ کے اگر وسوسے آجائیں تو پھر بھی اس سے کوئی کبیرہ گناہ نہیں ہوتا۔ کیونکہ وہ وسوسہ ہے۔ یعنی جب انسان اس میں ارادہ شامل کر لیتا ہے پھر وہ چیز غلط ہو جاتی ہے پھر وہ گرفت ہے اس پر۔ جب تک وہ ارادہ اس کے ساتھ شامل نہیں ہے بس وہ خیال آگیا اور آپ نے پروا نہیں کی، وہ ختم ہو گیا۔ لہٰذا اس کی ایسی کوئی بات نہیں ہے۔
تو آپ یہ بات چھوڑ دیں کہ وسوسہ بھی کوئی چیز ہے۔ بس اس کی آپ پروا نہ کریں۔ باقی نماز تو ہمیں ہر حالت میں پڑھنی ہے۔ چاہے ہمارا دل کرے نہ کرے چاہے ہمیں آسان لگے چاہے مشکل لگے۔
سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ حضرت جی! کچھ عرصے سے محسوس ہو رہا ہے کہ مجھ سے کوشش کے باوجود غیبت ہو جاتی ہے۔ اس پر اللہ کریم سے معافی مانگنا بھول جاتا ہوں۔ اللہ کا احسان، کریم ہے کہ غیبت کا احساس ہونے پر تلافی کے طور پر شخص کی جائز، بے حد تعریف بھی کر دیتا ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ غیبت کی وجہ سے حسد ہے۔ کیا حسد انسانی جبلت کا حصہ ہے؟ حسد اور غیبت سے نکلنے کا حل تجویز فرما دیں۔
سوال جواب مجلس 22 جنوری 2024، مجلس نمبر 657
جواب: حسد جبلت کا حصہ نہیں ہے۔ حسد نفس کی ایک شرارت ہے۔ اخلاقِ ذمیمہ ہے۔ اور بہت بری بات ہے۔ مِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ، قرآن پاک میں اس کی مذمت آئی ہے۔ ایک تو حسد کا وسوسہ ہوتا ہے، ایک حسد ہوتا ہے۔ حسد کا وسوسہ کچھ بھی نہیں ہے۔ ہوتا رہے کوئی بات نہیں۔ لیکن حسد اس کو کہتے ہیں کہ باقاعدہ آپ اس کے لیے بری پلاننگ کرنا شروع کر لیں، بری خواہش آپ کی شروع ہو جاتی ہے۔ اس کے لیے آپ کا ارادہ بھی شامل ہو جاتے ہیں وہ حسد ہے۔ یا اس کے ساتھ پھر کینہ بننا شروع ہو جاتا ہے۔ تو وہ چیزیں نہیں ہونی چاہیے۔ یعنی اس میں کوئی عملیت نہیں آنی چاہیے؟ تو بس اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ جو اس کی تعریف کر لیتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کو نہیں ہے۔
باقی یہ ہے کہ غیبت ہو نہیں جاتی، غیبت کی جاتی ہے۔ کیونکہ یہ اختیاری چیز ہے، غیر اختیاری نہیں ہے۔ غیبت کیا ہے؟ اختیاری چیز ہے، غیر اختیاری نہیں ہے۔ تو غیبت ہونا... یہ غیر اختیاری والی بات ہے۔ اور غیبت کرنا، یہ اختیاری والی بات ہے۔ تو غیبت کی جاتی ہے، غیبت ہو نہیں جاتی۔