الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.
اِنْ یَّنْصُرْكُمُ اللّٰهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْۚ-وَ اِنْ یَّخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِیْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِهٖؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ(160) وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(161) اَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَ اللّٰهِ كَمَنْۢ بَآءَ بِسَخَطٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُؕ-وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ(162) هُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ اللّٰهِؕ -وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ(163) لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَۚ-وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍٜ (164) اَوَ لَمَّاۤ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْهَاۙ-قُلْتُمْ اَنّٰى هٰذَاؕ-قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ(165)
صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ.
اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب آنے والا نہیں، اور اگر وہ تمہیں تنہا چھوڑ دے تو کون ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کرے؟ اور مؤمنوں کو چاہئے کہ وہ اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں ﴿160﴾ اور کسی نبی سے یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ مالِ غنیمت میں خیانت کرے
شاید اس بات کو یہاں ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ مالِ غنیمت اکٹھا کرنے کے لئے اتنی جلدی کی ضرورت نہیں تھی، کیونکہ جو مال بھی حاصل ہوتا، خواہ وہ کسی نے جمع کیا ہو، بالآخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی اسے شرعی قاعدے سے انصاف کے ساتھ تقسیم فرماتے، اور ہر شخص کو اس کا حصہ مل جاتا، کیونکہ کوئی نبی مالِ غنیمت میں خیانت نہیں کرسکتا۔
یہ جیسے کل میں نے عرض کیا تھا کہ بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے—نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ—مال کے لالچ میں مالِ غنیمت کی تقسیم کے وقت اپنے مستقر کو چھوڑ دیا، حالانکہ وہ صرف ایک اجتہادی خطا تھی اور وہ خطا یہ تھی کہ وہ سمجھے کہ اب فتح ہو چکی ہے، لہٰذا ہم اپنے بھائیوں کی مدد کر لیں کیونکہ جو مالِ غنیمت جمع ہوتا تھا، جو بھی جمع کرتے تھے وہ اکٹھا ہو جاتا۔ پھر اس کے بعد وہ تقسیم ہوتا اور تقسیم کرنے والے آپ ﷺ ہوتے تھے۔
تو اس کا مطلب ہے کہ آپ ﷺ تو ظاہر ہے خیانت نہیں فرما سکتے تھے اور ظاہر ہے اگر کسی نے جمع نہ بھی کیا ہوتا تو مال تو ان کو بھی ملتا ان کے حصے کے مطابق۔ مطلب جمع کرنے کی بنیاد پر نہیں ہوتا تھا کہ کس نے کتنا جمع کیا بلکہ اس بنیاد پر ہوتا کہ اس کا کتنا حق ہے۔ اور وہ آپ ﷺ طے فرماتے تو یہ بھی اشکال دور ہو جاتا ہے جو لوگوں نے ویسے ہی رکھا ہوا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس لیے جو ہے نا وہ کیا ہوا ہے۔ کچھ ایسے لوگ بدبخت ہیں جو اس قسم کی باتیں کرتے ہیں تو ان کو سمجھانے کے لیے اس چیز کی ضرورت ہے کہ ان کو یہ بتا دیا جائے۔
اور جو کوئی خیانت کرے گا وہ قیامت کے دن وہ چیز لے کر آئے گا جو اس نے خیانت کر کے لی ہوگی، پھر ہر شخص کو اس کے کئے کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا، اور کسی پر کوئی ظلم نہیں ہوگا ﴿161﴾ بھلا جو شخص اللہ کی خوشنودی کا تابع ہو وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو اللہ کی طرف سے ناراضی لے کر لوٹا ہو، اور جس کا ٹھکانا جہنم ہو؟ اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے! ﴿162﴾ اللہ کے نزدیک ان لوگوں کے درجات مختلف ہیں، اور جو کچھ یہ کرتے ہیں اللہ اس کو خوب دیکھتا ہے ﴿163﴾حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مؤمنوں پر بڑا احسان کیا کہ اُن کے درمیان اُنہی میں سے ایک رسول بھیجا جو اُن کے سامنے اللہ کی آیتوں کی تلاوت کرے، اُنہیں پاک صاف بنائے اور اُنہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے، جبکہ یہ لوگ اس سے پہلے یقیناً کھلی گمراہی میں مبتلا تھے ﴿164﴾ جب تمہیں ایک ایسی مصیبت پہنچی جس سے دُگنی تم (دشمن کو) پہنچا چکے تھے۔
یعنی جنگِ بدر کی طرف ہے جس میں کفارِ قریشِ مکہ کے ستر آدمی مارے گئے تھے اور ستر گرفتار ہو چکے تھے
تو کیا تم ایسے موقع پر یہ کہتے ہو کہ ”یہ مصیبت کہاں سے آگئی؟“ کہہ دو کہ ”یہ خود تمہاری طرف سے آئی ہے۔“ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے ﴿165﴾
تو یہاں پر جو مشہور آیت ہے وہ آگئی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ:
لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَۚ-وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍٜ (164)
یعنی یہاں پر یہ فرمایا کہ
حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مؤمنوں پر بڑا احسان کیا کہ اُن کے درمیان اُنہی میں سے ایک رسول بھیجا جو اُن کے سامنے اللہ کی آیتوں کی تلاوت کرے۔
گویا کہ نبی کا ایک شعبہ قرآن کی آیتیں تلاوت کرنا ہے۔
انہیں پاک و صاف بنائے،
یعنی ان کا تزکیہ کرے۔ تزکیہ سے مراد یہ ہے کہ جو گند ہے انسان کے اندر نفسِ امارہ کی صورت میں اس کو دور فرما دے۔ اور ان کے عقیدے کو درست کر لے۔
اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے۔
تو یہ دوسرا شعبہ یہ ہو گیا کتاب اور حکمت کی تعلیم دینا۔ تو گویا کہ یہاں پر تین شعبے ہو گئے، اگرچہ چار ہیں لیکن ملا کے تین ہو جاتے ہیں۔
ایک قرآن پاک کی تلاوت کرنا، دوسرا تزکیہ کرنا، اور تیسرا کتاب و حکمت کی تعلیم دینا۔ کتاب و حکمت کی تعلیم دینے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ حکمت جو ہے نا آپ ﷺ کی، وہ احادیث شریفہ ہیں، جس میں آپ ﷺ نے دین کی باتیں بتائی ہیں۔ اور کتاب اللہ تو کتاب اللہ ہے مطلب جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہے یعنی قرآن۔ تو یہ دونوں چیزیں، وہ ہمیں علمائے کرام کے ذریعے سے پہنچتی ہیں۔ اور جو پہلا ہے وہ قاری صاحبان کے ذریعے سے پہنچتا ہے۔ اور جو تیسرا ہے تزکیہ، یہ صوفیائے کرام کے ذریعے۔ تو یہ شعبے جو ہے نا اللہ پاک نے گویا کہ ان کا ذکر کیا، نبیوں کا شعبہ۔
اب اس پر آج کل بعض لوگ جو دعوت دیتے ہیں تو وہ کہتے ہیں ہم نبیوں کا کام کرتے ہیں۔ اور اس پر سمجھتے ہیں کہ ہم دوسروں سے ممتاز ہیں کہ ہم نبیوں کا کام کرتے ہیں باقی لوگ جو ہے نا... حالانکہ نبیوں کے جو شعبے ہیں یہ بتا دیے گئے، قرآن میں یہ بتا دیے گئے۔ تو ہم یہ نہیں کہتے کہ دعوت الی اللہ نبیوں کا کام نہیں ہے کیونکہ وہ اس میں صاف قرآن پاک کی آیتیں آئی ہوئی ہیں جس میں یہ بات فرمائی گئی کہ یہ میرا طریقہ ہے اور میرے متبعین کا طریقہ بھی ہے:
قُلْ هٰذِهٖ سَبِیْلِیْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ قف عَلٰى بَصِیْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْؕ (سورة یوسف: آیت 108)
تو کہہ دے کہ میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں بصیرت کے ساتھ اور یہ میرا طریقہ بھی ہے اور میرے اتباع کرنے والوں کا طریقہ بھی ہے۔
تو اس کا مطلب ہے کہ وہ تو اس چیز سے ثابت ہو گیا۔
وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ (سورة حم السجدة: آیت 33)
تو وہ بھی قرآن سے ثابت ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ دعوت الی اللہ بھی قرآن سے ثابت ہے۔ اور کتاب اللہ اور حکمت کی تعلیم جو ہے نا، یہ بھی قرآن سے ثابت ہے۔ تزکیہ بھی ثابت ہے۔ اور قرآن پاک کی تلاوت، یہ بھی ثابت ہے۔ تو یہ چاروں شعبے یہ قرآن پاک سے ثابت ہیں لہٰذا جو جو شعبہ کر رہا ہے وہ نبیوں کا کام کر رہا ہے۔ ہاں البتہ تبعاً کر رہا ہے۔ جیسے یہاں فرمایا:
قُلْ هٰذِهٖ سَبِیْلِیْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ قف عَلٰى بَصِیْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْؕ (سورۃ یوسف: آیت 108)
تو مطلب یہ ہے کہ تبعاً کر رہا ہے۔
تو بہرحال ہم لوگوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہم کسی بھی دین کے شعبے کی تنقیص نہ کریں۔ بلکہ ہم سمجھیں کہ جو جس شعبے میں بھی کام کر رہا ہے اس پر اللہ کا شکر ادا کریں اور باقی شعبوں کے ساتھ محبت رکھیں۔ اور ان کے کرنے والوں کے لیے دعا کیا کریں۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔