اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔
دنیا دار عورتوں سے پرہیز کرو
(70) ❖ الثَّانِي: عَنْ أَبِي سَعِيْدِ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ، وَإِنَّ اللهَ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيْهَا فَيَنْظُرُ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ، فَاتَّقُوا الدُّنْيَا وَ اتَّقُوا النِّسَاءَ، فَإِنَّ أَوَّلَ فِتْنَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَتْ فِي النِّسَاءِ“ ❖ (رواه مسلم)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا دنیا شیریں، ہری بھری چیز ہے اور اللہ نے تم کو زمین میں اپنا خلیفہ بنایا ہے وہ دیکھ رہا ہے کس طرح کے اعمال تم کرتے ہو، پس دنیا اور عورتوں سے بچاؤ اختیار کرو اس لئے کہ بنی اسرائیل کا پہلا فتنہ عورتوں کا تھا۔‘‘
یہ دنیا کے اندر جو مزے ہیں، اس کی طرف اشارہ ہے کہ اس دنیا کے اندر دلفریبی بہت زیادہ ہے۔ یعنی انسان کا دل اس میں لگ جاتا ہے۔ إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ: دنیا بڑی شیریں اور سبز ہے۔ جس طرح تروتازہ پھل ذائقے میں میٹھا اور دیکھنے میں خوش رنگ اور دلوں کو لبھانے والا لگتا ہے تو یہی حال دنیا کے مال واسباب کا ہے انسان کو یہ بھی بہت ہی خوش رنگ اور دلوں کو لبھانے والا لگتا ہے۔ تو جس طرح تروتازہ پھل چند گھنٹوں کے بعد اس کی تروتازگی خراب ہو جاتی ہے تو اسی طرح یہ دنیا کا حال ہے آج تو بہت ہی سرسبز معلوم ہوتی ہے مگر جلد ہی اس کی سرسبزی ختم ہو جانے والی ہے۔
باقی یہ ہے کہ جہاں تک عورتوں کی بات ہے، تو ظاہر ہے یہ بات کی گئی ہے مردوں سے۔ تو اس میں یہ والی بات ہے کہ عورتوں کے ذریعے سے شیطان فتنہ ڈالتا ہے۔ عورتوں کے ذریعے سے شیطان فتنہ ڈالتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ساری عورتیں خراب ہیں۔ انہی عورتوں میں بڑی پاک عورتیں بھی موجود ہیں، صحابیات وہ بھی عورتیں تھیں، ہماری مائیں ازواج مطہرات آپ ﷺ کی (زوجات)، وہ بھی عورتیں تھیں، آپ ﷺ کی بنات وہ بھی عورتیں تھیں، فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالی عنہا سیدۃ نساء اہل الجنۃ، وہ بھی عورت تھی۔ لیکن حکم جو کیا جاتا ہے، وہ کثرت پہ کیا جاتا ہے۔
جیسے کسی علاقے کے لوگ بہت ظالم مشہور ہوں تو سارے ظالم نہیں ہوتے، آخر وہ جو ظلم کرتے ہیں کسی پہ کرتے ہیں نا تو وہاں تو وہ لوگ مظلوم ہوتے ہیں۔ تو مطلب یہ ہے کہ ساری عورتیں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ لیکن بہرحال خرابی جو ڈالتا ہے مردوں کے اندر، وہ عورتوں کے ذریعے سے بہت زیادہ ڈالا جاتا ہے۔
اب بھی ذرا اندازہ کر لیں کہ عورتوں کے فساد کو اگر دیکھو، تو جو بے حیائی جس حد تک عورتیں اپنے آپ میں کرتی ہیں، حیران ہو جاتا ہے کہ آخر وہ کرنا کیا چاہتی ہیں؟ سردی کو بھی نہیں دیکھتیں، گرمی کو بھی نہیں دیکھتیں۔ تو یہی اصل میں یہ بے حیائی کے سبب سے ہے۔
پھر دوسری بات، لڑائی جھگڑے میں بنیادی کردار اکثر عورتوں کا ہوتا ہے۔ گھروں کے اندر جو لڑائیاں ہوتی ہیں، زیادہ تر وہ عورتوں کی وجہ سے ہوتی ہیں، کیونکہ معمولی معمولی چیزوں کو بہت بڑا سمجھ لیتی ہیں۔ اور بڑی بڑی چیزوں کو چھوٹی سمجھ لیتی ہیں۔ یعنی مثال کے طور پر اگر پورا گھر کوئی بنا کر دے دے، تو اس کو نہیں دیکھتی، بلکہ اس کو دیکھتی ہے کہ فلاں جگہ اس میں خراب ہے۔ اس پر وہ شور مچا دیتی ہیں۔ تو اس کا مطلب ہے کہ یہ جو ہے نا شیطان کے لیے بہت جلدی استعمال ہو جاتی ہیں۔
اس کا میرا خیال میں اصل analysis اگر میں عرض کرنا چاہوں تو یہ ہو گا، کہ ان کے اندر اللہ پاک نے انفعالیت کا مادہ ڈالا ہوا ہے۔ انفعالیت! اب انفعالیت جو ہوتی ہے وہ ایسی چیز ہوتی ہے کہ متاثر ہوتی ہے چیزوں سے۔ اور جلدی متاثر ہوتی ہیں۔ تو اب یہ ہے کہ اگر اچھا ماحول ہو گا تو اچھا تاثر جلدی لے گی، اور اگر برا ماحول ہو گا تو برے ماحول کا اثر جلدی لے گی۔ تو آج کل زیادہ تر اچھا ماحول ہے یا برا ماحول ہے؟
برا ماحول ہے۔ تو برے ماحول سے جب اثر لے گی تو پھر کیا ہو گی؟ ظاہر ہے جلدی برائی کھینچے گی۔ تو اسی وجہ سے عورتوں کو اچھے ماحول میں لانے کی زیادہ ضرورت ہے۔ اچھے ماحول میں ان کو لانے کی بہت زیادہ کیونکہ وجہ یہ ہے کہ اگر تھوڑا سا بھی ان کو برے ماحول میں چھوڑ دیا گیا، تو ساری کیے کرائے سارا کچھ ختم ہو جاتا ہے۔ تو اس وجہ سے وہ ان کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ فتنہ جلدی پکڑتی ہیں، تو اس وجہ سے ان کے بارے میں محتاط رہنا چاہیے مردوں کو کہا۔
البتہ مردوں میں جو خراب لوگ ہیں، ان کے لیے پھر اور احادیث شریفیں ہیں۔ اور قرآن پاک کی آیات ہیں، تو اس لحاظ سے پھر ان کو کہا جائے گا۔ لیکن یہ بات ہے کہ یہ جو چیز ہے اس میں چونکہ فرمایا گیا کہ یہ اس وجہ سے ہے کہ ان میں انفعالیت کا مادہ ہے۔ اور انفعالیت کے مادے کی وجہ سے برائی سے بھی جلدی متاثر ہو جاتی ہیں، اور شیطان ان پر محنت کر کے جلدی اپنے راہ پہ لگا لیتا ہے، تو اس وجہ سے وہ، مثال کے طور پر دیکھیں نا یہ فرمایا گیا کہ جو عورت خوشبو لگا کے راستے میں جائے گی تو فرشتے ان کے اوپر لعنت کرتے ہیں۔ اب مجھے بتاؤ کہ کون سی عورت ہے جو، بہت کم ایسی ہوں گی جو خوشبو لگا کے باہر نہیں جاتی ہوگی۔ اصل میں بات یہ ہے کہ صرف تأثر کی بات بتائی ہے، کہ یہ اثر جلدی لیتی ہیں، تو اگر ان کو اچھے ماحول میں لایا جائے، تو ان سے اثر دور ہو جائے گا۔
تو ہمیں بجائے اس کے کہ اس پر وہ کریں، بلکہ اس پر ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہم لوگ ان کو اچھے ماحولوں میں لے آئیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب سے راضی ہو جائے اور ہمیں صحیح معنوں میں، صحیح معنوں میں مومنین بنا دے، اور اس کے لیے جن چیزوں سے ہمیں نقصان ہے، ان چیزوں سے بچنے کی ہمیں توفیق عطا فرما دے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔