امت میں "جوڑ" کی اہمیت اور "ملتِ ابراہیمی" کا حقیقی تصور

درس نمبر 133، سورۃ آل عمران: آیات: 62 تا 67- (اشاعتِ اول) 04 اپریل، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • کلمۂ سواء: اہل کتاب کے ساتھ مشترکات پر اتحاد کی دعوت
    • امتِ مسلمہ میں "جوڑ" پیدا کرنے کی اہمیت اور فضیلت
      • حضرت مولانا یوسف کاندھلویؒ کا پیغام: امت میں "امت پنا" پیدا کرو
        • حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دینِ حنیف کی حقیقت
          • منطقی دلیل: حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہودیت و نصرانیت سے تقدم
            • اسلام کا تصور: اللہ کے سامنے غیر مشروط سرِ تسلیم خم کرنا
              • جدید "دینِ ابراہیمی" کے نام پر ہونے والی سیاسی تحریفات کا رد
                •  

                   

                  الحمد للہ رب العالمین، والصلوٰۃ والسلام علی خاتم النبین، اما بعد! فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم۔ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

                  إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ وَمَا مِنْ إِلٰهٍ إِلَّا اللهُ وَإِنَّ اللهَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴿62﴾ فَإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ ﴿63﴾ قُلْ يَآ أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَآءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهٖ شَيْئًا وَّلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللهِ فَإِن تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ ﴿64﴾

                  يَآ أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تُحَآجُّونَ فِي إِبْرَاهِيمَ وَمَا أُنزِلَتِ التَّوْرَاةُ وَالْإِنجِيلُ إِلَّا مِن بَعْدِهٖ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ﴿65﴾ هَآ أَنتُمْ هَٓؤُلَاءِ حَاجَجْتُمْ فِيمَا لَكُم بِهٖ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَآجُّونَ فِيمَا لَيْسَ لَكُم بِهٖ عِلْمٌ وَاللهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ﴿66﴾ مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَّلَا نَصْرَانِيًّا وَّلَكِنْ كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا وَّمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ﴿67﴾

                  صدق اللہ العلی العظیم، وصدق رسولہ النبی الکریم۔

                  یقین جانو کہ واقعات کا سچا بیان یہی ہے۔ اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اور یقیناً اللہ ہی ہے جو اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک ﴿62﴾ پھر بھی اگر یہ لوگ منہ موڑیں تو اللہ مفسدوں کو اچھی طرح جانتا ہے ﴿63﴾ (مسلمانو! یہود و نصاریٰ سے) کہہ دو کہ: "اے اہل کتاب! ایک ایسی بات کی طرف آجاؤ جو ہم تم میں مشترک ہو، (اور وہ یہ) کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، اور اللہ کو چھوڑ کر ہم ایک دوسرے کو رب نہ بنائیں۔" پھر بھی اگر وہ منہ موڑیں تو کہہ دو: "گواہ رہنا کہ ہم مسلمان ہیں۔" ﴿64﴾

                  اے اہل کتاب! تم ابراہیم کے بارے میں کیوں بحث کرتے ہو حالانکہ تورات اور انجیل ان کے بعد ہی تو نازل ہوئی تھیں؛ کیا تمہیں اتنی بھی سمجھ نہیں ہے؟ ﴿65﴾ دیکھو! یہ تم ہی تو ہو جنہوں نے ان معاملات میں اپنی سی بحث کر لی ہے جن کا تمہیں کچھ نہ کچھ علم تھا۔ اب ان معاملات میں کیوں بحث کرتے ہو جن کا تمہیں سرے سے کوئی علم ہی نہیں ہے؟ اللہ جانتا ہے، اور تم نہیں جانتے ﴿66﴾ ابراہیم نہ یہودی تھے، نہ نصرانی، بلکہ وہ تو سیدھے سادھے مسلمان تھے، اور شرک کرنے والوں میں کبھی شامل نہیں ہوئے ﴿67﴾

                  صدق اللہ العلی العظیم، وصدق رسولہ النبی الکریم۔

                  یہ ابھی جو ایک بات گزری ہے کہ مسلمانوں کو فرمایا گیا کہ یہود و نصاریٰ سے کہہ دو اے اہلِ کتاب! ایک ایسی بات کی طرف آ جاؤ جو ہم اور تم میں مشترک ہے، اور وہ یہ ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، اور اللہ کو چھوڑ کر ہم ایک دوسرے کو، ہم ایک دوسرے کو رب نہ بنائیں۔ تو یہ تین باتیں فرمائی گئی ہیں کہ ان پر سب کو جمع کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ یہ بنیادی باتیں ہیں تمام اہلِ کتاب میں، یہود، تورات والے، اور نصاریٰ انجیل والے اور مسلمان قرآن والے۔ تو ان تینوں کے اندر یہ بات مشترک ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، اور اللہ کو چھوڑ کر ایک دوسرے کو رب نہ بنانا۔ تو اگر وہ اس پر نہیں آتے تو پھر اپنا اعلان کر دو کہ ہم تو مسلمان ہیں۔ یعنی ہم لوگ اس میں تمہارے ساتھ پھر جو deviations ہیں اس میں شامل نہیں ہو سکتے۔

                  یہ گزشتہ آیات میں مباہلے کی بات تھی۔ مباہلے میں یہ ہوتا ہے کہ دونوں فریق اکٹھے ہو جائیں اور یہ دعا کریں کہ ہم میں جو جھوٹا ہے، باطل پر ہے وہ ہلاک ہو جائے۔ تو اس کے بعد پھر یہ بات فرمائی گئی ہے کہ جو مسلمان ہیں وہ ان کو کہہ دیں کہ ہم ایسی بات کی طرف آتے ہیں جو ہم میں اور آپ میں مشترک ہے۔ تو اس سے ہمیں ایک قانون مل گیا کہ ہم لوگوں کو ایک مشترک بات کی طرف دعوت دے سکتے ہیں۔ آج کل مسئلہ یہ ہے کہ لوگ آپس میں صرف اختلافی باتیں چھیڑتے ہیں۔ وہ مشترک باتیں پچانوے، چھیانوے فیصد ہوتی ہیں اس کی طرف نہیں آتے، بلکہ جو اختلافی باتیں ہوتی ہیں وہ ان کو چھیڑتے ہیں۔ تو اس طرح تقسیم در تقسیم ہوتے جاتے ہیں۔

                  حالانکہ حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم جو آپس میں مشترک باتیں ہیں، اس کی بات کر لیں تو ہم سب آپس میں مل سکتے ہیں۔ مثلاً قادیانی ہیں، تو قادیانیوں کے خلاف جتنے بھی دوسرے لوگ ہیں، جیسے مثال کے طور پر دیوبندی ہیں، بریلوی ہیں اور شیعہ ہیں، ان سب کو اکٹھا کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس بات میں مشترک ہیں کہ قادیانی کافر ہیں۔ تو ان کے خلاف اکٹھا کیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے سے جن کے خلاف بات ہو رہی ہو، تو ان کے خلاف جو مشترک لوگ ہیں ان کو اکٹھا کیا جا سکتا ہے، اور اس کام کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

                  اس طریقے سے مثال کے طور پر دین کے جتنے شعبے ہیں، ان شعبوں میں بھی جو اصل بات ہے وہ آپس میں مشترک ہے، یعنی "اللہ کی طرف بلانا"۔ جیسے دعوت ہے، حضرت نے فرمایا تھا، مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے، اس کا بالکل فضائلِ تبلیغ کے ابتدائی فصلِ اول، اس کا پہلا صفحہ ہے۔ اس میں اللہ پاک نے، قرآن کی ایک آیت، فرمایا کہ: وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّن دَعَا إِلَى اللهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ (فُصِّلَت: 33) اس کی بات سے اچھی بات کس کی ہو سکتی ہے جو اللہ کی طرف بلائے، عملِ صالح کرے اور کہے کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں۔

                  تو فرمایا کہ علماء دلائل کے ساتھ، مجاہدین تلوار کے ساتھ دعوت دیتے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف۔ اور جو مشائخ اعمالِ قلب کی طرف دعوت دیتے ہیں، وہ بھی دعوت الی اللہ ہی ہے۔ اب دیکھو مشترک بات آ گئی نا! تو اب ہم اگر کہہ دیں نہیں نہیں وہ تو جہاد کر رہے ہیں وہ تو ہمارے نہیں، نہیں نہیں وہ تو تبلیغ کر رہے ہیں وہ ہمارے نہیں، نہیں نہیں وہ تو مدرسے میں بیٹھے ہیں ہمارے نہیں، نہیں وہ تو خانقاہ میں بیٹھے ہیں ہمارے نہیں۔ یہ توڑ ہے، ٹھیک ہے نا۔ اور اگر سب کے بارے میں کہہ دیں کہ بھئی سب اللہ کی طرف دعوت دے رہے ہیں، تو یہ جوڑ ہے۔ تو جوڑ پیدا کرنا بہت ضروری ہے۔

                  حضرت مولانا یوسف کاندھلوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا آخری بیان جو تھا جس کے بعد حضرت فوت ہوئے، وہ یہ تھا کہ حضرت نے خطبۂ مسنونہ کے بعد ارشاد فرمایا: "افسوس! امت میں امت پنا ختم ہو گیا ہے۔" افسوس! امت میں امت پنا ختم ہو گیا ہے۔ پھر فرمایا کہ جو کوئی شخص اچھے کام کر رہا ہے لیکن اس کی زبان سے کوئی ایسی بات نکلے جس سے امت میں توڑ پیدا ہوا، تو وہ جہنم جائے گا۔ اور جو اتنے اچھے کام نہیں کر رہا، مطلب عام زندگی گزار رہا ہے لیکن اس کی زبان سے ایسی بات نکلی کہ وہ امت میں جوڑ پیدا کر رہا ہے تو وہ جنت میں جائے گا۔ یہ بالکل حضرت کا آخری بیان ہے۔ تو اس سے پتا چلا کہ ہم لوگوں کو امت میں جوڑ کی فکر کرنی چاہیے۔ بالخصوص اس وقت تو بہت زیادہ ضرورت ہے کیونکہ کفر ہمارے خلاف متحد ہے۔ اور ہم اگر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں تو فائدہ کس کا؟ نقصان کس کا؟ مطلب اس چیز کو ہمیں یاد رکھنا چاہیے۔

                  تو ذاتی مفادات ہی بنیاد ہوتے ہیں توڑ کے۔ تو ہم ذاتی مفادات کو پیچھے کر کے، مثلاً "میری بات"، "میری جماعت"، "میرا کام"، یہی مسئلہ ہے۔ جب اس میں انسان کی اپنی طرف توجہ ہو جاتی ہے نا تو کام خراب ہو جاتا ہے۔ اور جب اللہ پاک کی طرف توجہ ہوتی ہے تو کام ٹھیک ہو جاتا ہے۔ ایک تو یہ بات آج کے سبق سے ہمیں مل گئی کہ ہم لوگ امت پنا اپنے اندر پیدا کریں۔

                  اور دوسری بات یہ ہے کہ اہلِ کتاب سے کہا ہے کہ تم ابراہیم کے بارے میں کیوں بحث کرتے ہو حالانکہ تورات اور انجیل ان کے بعد ہی تو نازل ہوئی تھیں؛ کیا تمہیں اتنی بھی سمجھ نہیں ہے؟

                  مطلب یہ ہے کہ یہودی کہتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام یہودی تھے اور عیسائی کہتے ہیں عیسائی تھے۔ اب اس وقت نہ یہودی تھے، نہ عیسائی تھے تو ابراہیم علیہ السلام کیسے یہودی اور عیسائی ہوتے؟ یعنی اللہ پاک ان سے فرما رہے ہیں کہ اس وقت تو نہ یہودی موجود تھے کیونکہ یہودی تو ان کی اولاد میں سے ہیں اور عیسائی بھی ان کی اولاد میں سے ہیں۔ تو اولاد کے مذہب پہ تو کوئی نہیں ہوتا، اولاد اس کے مذہب پہ ہوتی ہے۔ بہت logical point اس میں بیان کی گئی ہے کہ وہ (حضرت ابراہیم علیہ السلام) تو بہت پہلے گذر چکے تھے، لہٰذا یہ انتہائی احمقانہ بات ہے کہ انہیں یہودی یا عیسائی کہا جائے۔ اس کے بعد قرآن کریم نے فرمایا کہ جب تمہارے وہ دلائل جو کسی نہ کسی صحیح حقیقت پر مبنی تھے، تمہارے دعووں کو ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں، تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں یہ بے بنیاد اور جاہلانہ بات کیسے تمہارے دعوے کو ثابت کر سکتی ہے؟ مثلاً تمہیں یہ معلوم تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے، اور اس کی بنیاد پر تم نے ان کی خدائی کی دلیل پیش کر کے بحث کی، مگر کامیاب نہ ہو سکے کیونکہ بغیر باپ کے پیدا ہونا کسی کی خدائی کی دلیل نہیں ہو سکتا۔ (کیوں کہ) حضرت آدم علیہ السلام تو ماں اور باپ دونوں کے بغیر پیدا ہوئے تھے، مگر ان کو تم بھی خدا یا خدا کا بیٹا نہیں مانتے۔ جب تمہاری وہ دلیلیں بھی کام نہ آ سکیں جو اس صحیح واقعے پر مبنی تھیں تو یہ سراسر جاہلانہ بات کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نصرانی یا یہودی تھے، کیسے تمہارے لئے کارآمد ہو سکتی ہے؟

                  اخیر میں فرمایا کہ بلکہ وہ تو سیدھے سادھے مسلمان تھے۔ اب دیکھیں، مسلمان کس کو کہتے ہیں؟ یعنی اس پر بہت اچھی طرح بات کرنی چاہیے۔ اسلام وہ ہے جو کہ ہم کہتے ہیں اللہ کے حکم کے سامنے اپنے آپ کو مکمل جھکانا، Unconditional surrender before Allah. اللہ کے سامنے اپنے آپ کو مکمل جھکانا، بغیر شرط کے۔ یہ اسلام ہے۔ تو سارے پیغمبروں میں یہ بات شریک ہے، سب پیغمبر ایسے ہی کرتے تھے۔ یعنی کچھ باتیں ان کی ایسی تھیں جو ایک دوسرے سے فرق کرتی تھیں حالات کی وجہ سے۔ لیکن جو بات سب میں مشترک تھی جو بار بار سب پیغمبر وہ کرتے تھے، تو یہ بات تھی کہ جو اللہ کی بات تھی ان کے سامنے اپنی بات نہیں کرتے تھے بس وہ وہی بات اللہ کی بات ہی پہنچاتے تھے۔

                  تو یہ بات ابراہیم علیہ السلام بھی یہی کرتے تھے، موسیٰ علیہ السلام بھی یہی کرتے تھے، عیسیٰ علیہ السلام بھی یہی کرتے تھے۔ یہ بات تو سب کے اندر تھی۔ اب جس وقت بعد میں جب موسیٰ علیہ السلام آئے، تو موسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے یہودی کہلائے۔ تورات ان کے لیے نازل ہوئی، تو تورات میں وہ احکام آ گئے جو یہودی اس پر عمل کرتے تھے۔ اب ٹھیک ہے، اس وقت یہودی بھی صحیح مذہب پر تھے جو موسیٰ علیہ السلام کو مانتے تھے۔ اور جس مسئلے میں موسیٰ علیہ السلام سے اختلاف کیا وہ مسلمان نہیں رہے۔

                  تو جب موسیٰ علیہ السلام کی بات نہیں مانی تو ابراہیم علیہ السلام تو ان سے پہلے کی بات تھی ان کی بات تو بالکل نہیں مانی۔ چونکہ موسیٰ علیہ السلام ابراہیم علیہ السلام کی تعلیم پر تھے، اور جب بعد میں وہ لوگ جو موسیٰ علیہ السلام کے دین پر نہیں رہے تو نہ موسیٰ علیہ السلام کے دین پر رہے، نہ ابراہیم علیہ السلام کے دین پہ رہے۔ بات ختم ہو گئی! کیونکہ موسیٰ علیہ السلام نے تو بتایا تھا نا کہ بھئی میرے بعد ایک پیغمبر آنے والے ہیں اس کو ماننا ہے۔ تو اب انہوں نے اپنے موسیٰ علیہ السلام کی بات نہیں مانی تو لہٰذا وہ دین سے نکل گئے۔

                  عیسیٰ علیہ السلام نے بھی یہی بات کی تھی۔ وہ تو قرآن پاک میں بھی هے، (يَأْتِي مِن بَعْدِیْ اسْمُهٗ أَحْمَدُ) تو وہ تو انہوں نے بھی بات کی۔ اب عیسائیوں نے عیسیٰ علیہ السلام کی بات نہیں مانی تو لہٰذا عیسیٰ علیہ السلام کے مذہب پہ بھی نہیں رہے اور ابراہیم علیہ السلام کے مذہب پر بھی نہیں رہے۔ تو یہ بات ہے کہ مسلمان ابراہیم علیہ السلام کے مذہب پر بھی رہے، موسیٰ علیہ السلام کے مذہب پہ بھی رہے، عیسیٰ علیہ السلام کے مذہب پہ بھی رہے، اس لحاظ سے کہ اللہ کے سامنے اپنی condition کو surrender کیا۔ اور آپ ﷺ کے مذہب پر تو ہیں۔ تو اس وجہ سے اسلام ان سب کو مانتا ہے۔ اور ان میں سے جو یہودی ہیں وہ نہ عیسیٰ علیہ السلام کو مانتے ہیں، نہ آپ ﷺ کو مانتے ہیں، عیسائی آپ ﷺ کو نہیں مانتے لہٰذا وہ تو دین سے نکل گئے سارے۔

                  اب آج کل یہ بہت بڑا ڈرامہ ہو رہا ہے اور اس کے لیے وہ استعمال ہو رہے ہیں امارات، یہ ہمارے جو دبئی وغیرہ، کہ "دینِ ابراہیمی" کا وجود میں لایا جا رہا ہے۔ دینِ ابراہیمی، کہ ابراہیم علیہ السلام چونکہ سب کے باپ ہیں لہٰذا ہم ابراہیم علیہ السلام کے سارے جو ماننے والے ہیں وہ سب ایک ہیں یعنی یہودی، عیسائی، مسلمان سب ایک ہیں۔ یہ ایک جس کو کہتے ہیں ظاہری طور پر، حالانکہ یہودی ابراہیم علیہ السلام کے مذہب پہ نہیں رہے، عیسائی ابراہیم علیہ السلام کے مذہب پہ نہیں رہے جیسے ابھی میں نے عرض کیا، صرف مسلمان رہے ہیں۔ صرف مسلمان ابراہیم علیہ السلام کے مذہب پر بھی ہیں، موسیٰ علیہ السلام کے مذہب پر بھی ہیں، عیسیٰ علیہ السلام کے مذہب پر بھی ہیں، اور رسول اللہ ﷺ کے مذہب پر بھی ہیں، کیونکہ وہ سب کو مانتے ہیں۔ باقی ان میں سے کوئی بھی سب کو نہیں مانتا۔

                  تو لہٰذا وہ کیسے اکٹھے ہو سکتے ہیں؟ یہ باتیں آپس میں مختلف ہیں۔ تو یہ بات ہے کہ یہ آج کل یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ گویا کہ مسلمانوں کو اپنے مذہب سے ہٹانے کے لیے... دیکھو مسلمان ایسے ہیں نا جو صحیح مذہب پر ہیں۔ تو ان میں سے جو بھی باطل کی بات مانے گا وہ مسلمان نہیں رہیں گے۔ یعنی ہم اپنے عقیدوں میں کسی کے لیے ذرہ برابر بھی کمی کریں گے، تو ہم اللہ نہ کرے اللہ نہ کرے تو وہ ظاہر ہے وہ والی بات ہو جائے گی۔

                  قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ‎﴿١﴾‏ لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ ‎﴿٢﴾‏ وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ ‎﴿٣﴾‏ وَلَا أَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدتُّمْ ‎﴿٤﴾‏ وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ ‎﴿٥﴾‏ لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ ‎﴿٦﴾‏

                  یہ فیصلہ کیا گیا کہ ہم کسی کے ساتھ compromise نہیں کر سکتے ان چیزوں پر جس کا ہمیں اللہ پاک نے حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حکم میں ہم کسی باطل گروہ کی بات نہیں مان سکتے۔ یہ دو ٹوک بات ہے۔ اس سے پتا چلا کہ وہ جو پہلی بات تھی کہ جوڑ پیدا کرو، وہ ان باتوں میں ہے جو مشترک ہیں۔ ٹھیک ہے نا، وہ ان باتوں میں ہے جو مشترک ہیں، ان میں جوڑ پیدا کیا جا سکتا ہے۔ تو اس کے بارے میں تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جتنے بھی مذہب والے ہیں، وہ غیر مذہب والوں کے خلاف اکٹھے ہو جائیں۔ مثلاً کمیونسٹوں کے خلاف، دوسرے ایسے لوگ، ان کے خلاف اکٹھے ہو جائیں جو خدا کو نہیں مانتے، کیونکہ ہم سب خدا کو مانتے ہیں لہٰذا اس مسئلے میں ہم اکٹھے ہو سکتے ہیں۔ لیکن اس مسئلے میں اکٹھے نہیں ہو سکتے جو مختلف ہیں۔ اب ہمیں مسلمانوں کو اگر کوئی کہتا ہے کہ نہیں، تم یہودیوں کے مذہب پر آ جاؤ تو مسلمان تو نہیں رہیں گے پھر، یا عیسائیوں کے مذہب پر آ جاؤ تو مسلمان تو نہیں رہیں گے۔

                  تو یہ بات مطلب ہمیں اچھی طرح سمجھ (لیں)۔ تو اس، دیکھو نا اس دو تین آیات میں ماشاءاللہ بہت بڑا علم ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو سمجھ کی توفیق عطا فرما دے۔

                  وما علینا الا البلاغ۔ ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم، وتب علینا انک انت التواب الرحیم۔ سبحان ربک رب العزت عما یصفون وسلام علی المرسلین والحمد للہ رب العالمین

                  برحمتک یا ارحم الراحمین۔


                  امت میں "جوڑ" کی اہمیت اور "ملتِ ابراہیمی" کا حقیقی تصور - درسِ قرآن - دوسرا دور