حصولِ رزق کی حقیقت اور خدمتِ دین کی برکت

درس نمبر 124- باب فی الیقین والتوکل حدیث نمبر 84 - اشاعتِ اول: 22 نومبر، 2022 بمطابق 27 ربیع الثانی 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

·      طالبِ علمِ دین کا مقام: دین سیکھنے اور سکھانے والوں کو کام چور یا بوجھ سمجھنا اور طعنہ دینا درست نہیں۔

·      رزق کی برکت کا راز: بسا اوقات انسان کو ملنے والا رزق اس کی اپنی محنت کے بجائے کسی کمزور، نیک یا خادمِ دین کی برکت سے ملتا ہے۔

·      احسان جتلانے کی ممانعت: کمانے والے کو کبھی اپنی محنت پر غرور نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ اصل دینے والی ذات اللہ کی ہے۔

·      اسباب اور مسبب الاسباب: دنیاوی اسباب (Cause & Effect) محض ظاہری پردہ ہیں، ان کے پیچھے اصل طاقت اور ارادہ صرف اللہ کا چلتا ہے۔

·      کسبِ حلال کی عظمت: ظاہری اسباب میں صرف حلال ذرائع اختیار کرنے کی تلقین اور مزدور کے ہاتھ کی فضیلت۔

·      حرام ذرائع کی مذمت: سود اور رشوت بظاہر مال بڑھاتے ہیں، لیکن حقیقت میں رزق اور برکت کو ختم کر دیتے ہیں۔

·      معاشرتی تقسیمِ کار: دنیا میں پیشوں کی تقسیم اللہ کی حکمت ہے، ایک کماتا ہے اور دوسرا دین کی خدمت کرتا ہے، دونوں مل کر نظام چلاتے ہیں۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔


خدمت کرنے کی برکت

(84) ﴿الْحَادِيَ عَشَرَـ وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ أَخَوَانِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ أَحَدُهُمَا يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْآخَرُ يَحْتَرِفُ، فَشَكَا الْمُحْتَرِفُ أَخَاهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "لَعَلَّكَ تُرْزَقُ بِهِ"﴾ (رواه الترمذي باسنادٍ صحيح على شرط مسلم)

”يَحْتَرِفُ“ يَكْتَسِبُ وَيَتَسَبَّبُ.

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عہدِ رسالت میں دو بھائی تھے، ایک رسولِ کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر رہتا اور دوسرا کوئی کام کرتا تھا۔ چنانچہ کام کرنے والے نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے بھائی کی شکایت کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: شاید تجھ کو اس کی وجہ سے رزق دیا جا رہا ہے۔

اسے ترمذی نے صحیح سند کے ساتھ شرطِ مسلم پر روایت کیا ہے۔


اس سے معلوم ہوا جیسے فرمایا

فَشَكَا الْمُحْتَرِفُ: ”ایک بھائی نے دوسرے بھائی کی شکایت کی“ یہ سمجھتے ہوئے کہ میرا بھائی کام چور ہے کہ محنت ومزدوری سے بچنے کی وجہ سے آپ ﷺ کے پاس بیٹھتا ہے۔ اس شکایت پر آپ ﷺ نے اس بھائی کی بدگمانی دور فرمائی، اس میں دو باتیں اہم ارشاد فرمائی۔ پہلی بات دین کی خدمت کرنا یہ بڑے لوگوں کا کام ہے، ان لوگوں کو کام چور کہنا صحیح نہیں کیونکہ علم دین کو حاصل کرنا اور پھر اس کو مخلوق تک پہنچانا یہ امت کا اہم فریضہ ہے، اس لئے ایسے لوگوں کو کچھ نہ کہو ورنہ گنہگار ہوگے۔

دوسری بات ارشاد فرمائی: ”لَعَلَّكَ تُرْزَقُ“ شاید تم کو اسی کی برکت سے رزق ملتا ہے۔

اس ارشاد سے معلوم ہوا کہ آدمی یہ سمجھتا ہے کہ میں خود محنت کر کے روزی کما رہا ہوں مگر ممکن ہے کہ اس روزی کا ذریعہ اور سبب کوئی دوسرا ہی ہے، خاص کر کے ایسے لوگ جو کہ کمزور اور ضعیف ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ان پر رحم کھا کر دوسرے کو بھی ان کی برکت سے روزی دے دیتے ہیں، اس لئے جو روزی کما رہا ہے اس کو احسان نہیں جتلانا چاہئے، کہ کماتا تو میں ہوں اور یہ لوگ کماتے نہیں اور کھاتے ہیں۔

اصل میں اللہ پاک اپنی قدرتوں کو اسباب میں چھپا دیتے ہیں۔ اور یہ وہ چیز ہے جس سے بعض لوگوں کو غلط فہمی ہو جاتی ہے۔ یہ جو atheist ہیں، ان کو یہی تو اسباب ہی صرف نظر آتے ہیں نا، وہ سمجھتے ہیں کہ cause and effect یہ مسئلہ چلتا ہے، space and time یہ چل رہا ہے۔ اسی کے اندر سب کچھ ہو رہا ہے، ہر چیز کا اپنا ایک سبب ہے۔ وہ ان اسباب ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں۔ جبکہ مسلمان اسباب کو اختیار کرتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کی حکمت کی وجہ سے۔ کیونکہ اللہ پاک نے ایسی حکمت کا اجراء فرمایا ہے کہ اسباب سامنے رکھتے ہیں اور اپنا ارادہ اور اپنی قدرت کو اس کے درمیان میں رکھتے ہیں، وہ اسباب میں چھپ جاتے ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں اسباب سے ہو رہا ہے حالانکہ اللہ کے حکم سے ہو رہا ہوتا ہے۔

اور کبھی کبھی اس چیز کو ظاہر کرنے کے لیے اسباب کو فیل کر دیتے ہیں۔ یعنی سمجھ میں بالکل آ رہا ہوتا ہے کہ دیکھو سبب میں نے اختیار کیا لیکن نہیں ہوا۔ تو یہ اللہ پاک کبھی کبھی دکھاتے ہیں اور کبھی کبھی بغیر سبب کے دے دیتے ہیں۔ تو یہ بھی پتہ چل جاتا ہے، یعنی اللہ پاک کے لیے سبب کا اختیار کرنا ضروری نہیں ہے۔

وہ جو ظاہری اسباب ہیں، اس میں اللہ کی حکمت ہے اور جو اصل میں اللہ پاک کا ارادہ اور قدرت ہے، اس کے ذریعے سے کام ہوتے ہیں۔

کہتے ہے شریعت ظاہر پر عمل کرتی ہے۔ تو ظاہری اسباب کو دیکھ کر ہمیں جائز ناجائز کو دیکھنا ہوتا ہے کہ کون سی چیز جائز ہے کون سی چیز ناجائز ہے۔ مثلاً دیکھیں رشوت ناجائز سبب ہے، سود ناجائز سبب ہے کمانے کا۔ اللہ نے حکم دیا ہے، اب بے شک آپ کو اس سے پیسہ ملتا ہوا نظر آتا ہو، اسباب اس کے پیسے کے ملنے کے ہیں لیکن اللہ پاک فرماتے ہیں اس سے تو پیسہ کم ہوتا ہے۔ سود سے۔ تو اگر کسی کو اس پر یقین ہو تو وہ سود نہیں لے گا، اللہ کا حکم سمجھ کر۔ رشوت نہیں لے گا، اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھ کر۔

اور جو جائز اسباب ہیں وہ اختیار کرے گا۔ آپ ﷺ نے ایک مزدور کے ہاتھ کو بوسہ دیا اور فرمایا کہ داؤد علیہ السلام بھی اپنے ہاتھ کا کمایا ہوا کھاتے تھے۔ اب دیکھیں، یعنی اس سبب کو جو اس مزدور نے اختیار کیا تھا، اس کو اتنی اہمیت دی کہ آپ ﷺ نے اس کے ہاتھ کو بوسہ دے دیا۔ یعنی بجائے کسی چوری کے، بجائے کسی ناجائز ذریعے کے کمانے کے، اس نے ایک ایسا طریقہ اختیار کیا جس میں مشقت زیادہ ہے، کمائی کم ہے۔ تو اس پر آپ ﷺ نے ان کے ہاتھ کو بوسہ دیا۔

جبکہ دوسرے لوگ جو ہوتے ہیں کرپشن کی وجہ سے اور سود کی وجہ سے، رشوت کی وجہ سے بہت کچھ کماتے ہیں لیکن اس پر وعیدیں ہیں۔ تو اگر یہ بات سمجھ میں آ جائے نا، کہ اصل دینے والی ذات تو اللہ کی ہے۔ يَرْزُقُ مَن يَّشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ۔وَ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُؕ تو اگر یہ چیز کسی کو سمجھ میں آ جائے تو وہ ناجائز طریقوں کو اختیار نہ کرے اور جائز طریقوں میں سستی نہ کرے۔

اب ایک انسان اس وقت نکھٹو بنتا ہے جب وہ جائز اسباب میں سستی کرتا ہے۔ اور دوسری یہ بات ہے کہ کاموں کی تقسیم ہوئی ہے۔ مختلف لوگوں نے کاموں کی تقسیم کی ہے۔ کوئی ڈاکٹر ہے، کوئی انجینئر ہے، کوئی پروفیسر ہے، کوئی سائنٹسٹ ہے، کوئی مزدور ہے، کوئی دکاندار ہے، کوئی گاڑی چلا رہا ہے، کوئی رکشہ میں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ تمام چیزیں تقسیم کی ہوئی ہیں۔ تو ہر ایک کو اپنے اپنے طریقے سے مل رہا ہے۔

تو اگر یہ بات ہے تو دین کو حاصل کرنا بھی تو ایک کام ہے۔ اب دین کو حاصل کرنا دو طریقوں سے ہو سکتا ہے کہ آدمی کوئی ذریعہ آمدنی کا جاری رکھے جیسے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے کیا تھا اور دوسرے اکابر نے، بعض صحابہ نے۔ اور کچھ حضرات توکل علی اللہ بیٹھ جاتے ہیں کہ بے شک کچھ بھی ہو، میں نے تو دین کو سیکھنا ہے۔ وہ توکل علی اللہ، وہ جو ملتا ہے کھا لیتے ہیں، جو نہیں ملتا تو صبر کرتے ہیں۔ تو اس کے لیے پھر ہے: وَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهُ۔ تو اللہ پاک ان کو دیتے ہیں۔ لیکن کن کے ذریعے سے دیتے ہیں؟ ان لوگوں کے ذریعے سے دیتے ہیں جو کہ دوسرے کام کر رہے ہیں۔ ان کی کمائی کو قبول کرتے ہوئے، اللہ پاک ان کے ذریعے ان کو پہنچاتے ہیں۔

اب یہاں پر یہ اصل میں اس صحابی کا واقعہ آتا ہے۔ کہ اس ایک صحابی نے دین کو سیکھنا سب سے اپنے لیے ضروری سمجھا اور دوسرے نے کمائی بھی ساتھ رکھی۔ تو ان کو غلط فہمی ہوئی کیونکہ دین تو آ رہا تھا نا، ظاہر ہے اس وقت تو ساری چیزیں فائنل نہیں ہوئی تھیں۔ تو اس وجہ سے ان کو یہ خیال ہوا کہ یہ میرا بھائی جو ہے یہ کام نہیں کر رہا۔ تو آپ ﷺ نے وہ جو مخفی بات ہے، جو باطن کی بات ہے وہ بتا دی، کہ شاید آپ کو اسی کے ذریعے سے رزق مل رہا ہے۔ یہ بات ہے۔

یعنی آپ کو دینے کا مقصد یہ ہے کہ آپ ان تک پہنچا دیں۔ تو یہ بات یعنی سامنے آ گئی۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو اللہ پاک کے منشاء کے مطابق شریعت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور جو باطنی ذرائع ہیں ان کے اوپر بھی یقین کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہر حالت میں اپنا بنائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔



حصولِ رزق کی حقیقت اور خدمتِ دین کی برکت - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور