حبِ دنیا کے نقصانات اور صحابہ و اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کا مقام و مرتبہ

اشاعتِ اول: 5 جولائی، 2024 بمطابق 28 ذو ذی الحج ، 1445 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

·       دنیا کی محبت کی اقسام (عہدہ، لذت اور مال) اور ان کی ناپائیداری۔

·       آخرت کی تیاری کی اہمیت اور ہر سانس کے ساتھ ذکر کی تلقین (ایک نومسلم انگریز خاتون کا واقعہ)۔

·       سورۃ الفاتحہ کی تفسیر اور صالحین (جن پر اللہ کا انعام ہوا) کی صحبت تلاش کرنے کی ضرورت۔

·       سوشل میڈیا کے فتنوں اور من گھڑت تاریخ کے مقابلے میں قرآن و حدیث کی اہمیت و حفاظت۔

·       محرم الحرام کی آمد پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اہلِ بیت عظام کے بارے میں اہلِ سنت والجماعت کا متوازن عقیدہ۔

·       صحابی (حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ) اور تابعی (یزید) کے درمیان فرق اور یزید کے فاسق و فاجر ہونے کی تاریخی وجوہات۔

·       افراط و تفریط اور "Reaction Group" (صحابہ کی محبت میں اہلِ بیت کی گستاخی کرنے والوں) کا رد۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.

﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ۝ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ۝ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾.

وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: «اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي، لَا تَتَّخِذُوهُمْ مِنْ بَعْدِي غَرَضًا، فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ».

صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ.

معزز خواتین و حضرات! امتِ مسلمہ اس وقت بہت انتشار کی حالت میں ہے۔ کچھ اپنے اعمال کی شامت ہے اور کچھ بیرونی سازشوں کے شکار ہیں۔ جو ہدایت کے راستے ہیں، وہ روز بروز بند کیے جا رہے ہیں اور جو گناہ اور انتشار کے، فسق و فجور کے راستے ہیں، وہ کھولے جا رہے ہیں۔

اللہ جل شانہٗ نے قرانِ پاک میں بہت وضاحت کے ساتھ ہمیں اپنا آئینہ دکھایا ہے کہ اللہ پاک نے فرمایا: ﴿كَلَّا بَلْ تُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ ۝ وَتَذَرُونَ الْآخِرَةَ﴾۔ ہرگز نہیں! بلکہ تم فوری جو چیز ہے، اس کو چاہتے ہو اور جو بعد میں آنے والی چیز ہے اس کو چھوڑتے ہو۔ یعنی دنیا کی محبت ہمارے دلوں میں ہے اور آخرت سے غفلت ہے۔ نتیجتاً اس دنیا کی محبت کی وجہ سے ہم بہت سارے گناہوں کو اپنے لیے مان لیتے ہیں۔

لیکن جنہوں نے بچنا ہے، تو ان کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ ہم لوگ جو فوری چیزیں ہیں، اس پہ غور کر لیں کہ ہمارے وہ کتنے کام آ سکتی ہیں؟ اور جو بعد میں چیزیں ہیں، آخرت کی، وہ ہمارے کتنے کام آ سکتی ہیں؟

تھوڑا سا غور فرمائیں، تین باتیں ہیں جس کی وجہ سے انسان دنیا کی محبت حاصل کرتا ہے۔ ایک یہ کہ انسان اپنے آپ کو بڑا ظاہر کرنا چاہتا ہے، دوسروں کی نظروں میں، اس کو حبِ جاہ کہتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ انسان لذات کا طالب ہوتا ہے، لذتوں کو حاصل کرنا چاہتا ہے، تو یہ بھی دنیا کی محبت کا ایک بہت بڑا source ہے۔ اور تیسری یہ کہ مال کی محبت میں ہم مبتلا ہو جاتے ہیں۔

اب ان تینوں کی حقیقت کیا ہے؟ شیطان ہم سے اس کی حقیقت کو چھپا دیتا ہے، لہذا ہم اس پر پھر غور نہیں کرتے۔ جہاں تک جاہ کا تعلق ہے، یہ ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے، یہ دوسرے کے ہاتھ میں ہے۔ ہم عزت دوسروں سے چاہتے ہیں، اگر وہ ہماری عزت نہ کریں تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟ بے شک ہم کچھ بھی کریں لیکن اگر لوگوں کی نظروں میں ہماری عزت نہ ہو تو ظاہر ہے، اور وہ کسی وقت بھی ختم ہو سکتی ہے۔ تو یہ چیز بہت ناپائیدار ہے۔

اب دیکھ لیں یہ جو بڑے بڑے عہدوں پہ لوگ ہوتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ لوگ ہماری بہت عزت کرتے ہیں، سامنے کرتے ہیں، اپنے مفادات کے لیے کرتے ہیں، لیکن پیٹھ پیچھے ان کے پیچھے کیا بولتے ہیں؟ ان کو گالیاں دیتے ہیں، ان کو بہت ہی کمینہ سمجھتے ہیں۔ تو اصل عزت تو ان کی نہیں ہے نا، صرف سامنے کی بات ہے۔ یہ جو بڑے بڑے عہدوں والے retire ہو جاتے ہیں، کوئی ان کو سلام بھی نہیں کرتا، حتیٰ کہ ان کے دفتر والے لوگ جو ہوتے ہیں ان کو کرسی بھی پیش نہیں کرتے۔ کیا وجہ ہے؟ اصل عزت نہیں ہے، صرف وقتی بات ہے، خوشامد والی عزت ہے۔ جب تک مفادات ہیں، اس وقت تک ہے، جب مفادات ختم، سب کچھ ختم۔ تو عزت کی تو یہ حالت ہے۔

لذات کی بات سنو۔ کھانا، ہماری ہونٹوں سے لے کے حلق تک، بس یہ مزہ ہے۔ جیسے حلق سے نیچے کوئی چیز گزر گیا، میٹھا، کڑوا، پھیکا، سب برابر، کوئی فرق نہیں۔ گویا کہ اتنے مختصر وقت کے لیے ہم کسی چیز کی لذت حاصل کرتے ہیں۔ یہ کھانے کی لذت کی بات کر رہا ہوں۔ آنکھوں کی لذت، جب وہ چیز سامنے ہے لذت ہے، نظر اس سے ہٹ گئی ختم، کچھ بھی نہیں۔ کانوں کی لذت، جب وہ سنائی دے رہا ہے تو ہے، سنائی نہ دے بس ختم۔ یعنی اتنی عارضی ہے کہ اس کو ہم خود محسوس کر سکتے ہیں اگر ہم سوچیں تو۔ یہ لذات کی بات ہے۔

مال کی بات۔ مال کی یہ حالت ہے کہ بہت سارے لوگوں کی جو ضرورتیں ہوتی ہیں وہ تو ٹھیک ہے، مثلاً ایک شخص کی پانچ لاکھ روپے سے ضرورتیں پوری ہو جاتی ہیں، سب کی بات نہیں کر رہا ہوں، کچھ ذرا بڑے لوگوں کی بات کر رہا ہوں، کہ ان کی پانچ لاکھ روپے سے ضرورتیں پوری ہو جاتی ہیں، ہمارے تو الحمدللہ اس سے بہت کم کی پوری ہو جاتی ہیں۔ اور وہ پانچ ارب روپے اس کے پاس ہیں، اب وہ پانچ ارب میں پانچ لاکھ سے تو اس کی ضرورت پوری ہے، اس کے علاوہ باقی پیسوں کا کیا ہے؟ صرف بینکوں میں پڑے ہیں، اس کو احساس ہے کہ میرے پاس اتنے روپے ہیں، اور اس کی حقیقی فائدہ اس کو کچھ بھی نہیں۔ عین ممکن ہے ابھی مر جائے، اور سارے پیسے شاید ان کے ورثاء کو بھی نہ ملیں۔ کیونکہ بعض لوگ پیسے بھیجتے ہیں نا باہر ملکوں میں، وہ لوگ کھا جاتے ہیں۔ یہ ہماری حالت ہے۔

تو جو مال کی محبت ہے، جاہ کی محبت ہے، باہ کی محبت ہے، یہ سب عارضی چیزیں ہیں، اور بہت ہی وقتی ہیں۔ لیکن اگر آخرت کے لحاظ سے میں دیکھوں، اور میں نے ایک دفعہ 'سبحان اللہ' پڑھا، تو میرے لیے ایک ایسا درخت جنت میں لگایا جائے گا جس کے نیچے پانچ سو سال گھوڑا دوڑتا جائے، دوڑتا جائے، دوڑتا جائے، اس کے سائے کو پورا نہیں کر سکے گا، اور یہ ہمیشہ کے لیے ہوگا۔ سال کے لیے نہیں، دس سال کے لیے نہیں، ہزار سال کے لیے نہیں، کروڑ سال کے لیے نہیں، ارب سال کے لیے نہیں، ہمیشہ کے لیے ہوگا۔ اور بعض کاموں سے ماشاءاللہ محلات بنتے ہیں، بعض کاموں سے وہاں بڑی بڑی چیزیں بنتی ہیں، اور وہ ہمیشہ کے لیے! اور جتنی زندگی اللہ نے ہمیں دی ہے، ہر سانس پہ ماشاءاللہ ہم ذکر کر سکتے ہیں۔

ایک انگریز عورت تھی، مسلمان ہو گئی، الحمدللہ۔ شاہی خاندان کی تھی۔ ہمارے ایک دور کے رشتہ دار ہیں، ان کے ساتھ ان کی شادی ہو گئی۔ وہ بڑے بزرگ تھے۔ اس کا پہلی بیوی سے ایک بیٹا تھا، ان کا نام تھا عبدالرؤف، دس سال کا تھا۔ اس انگریز خاتون نے جو بڑی اچھی مسلمان تھی، اس کو سانس کے ساتھ ذکر سکھایا، سانس کے ساتھ، ہر سانس کے ساتھ ذکر، یہ سکھایا۔ اور اس کو اپنے سامنے چارپائی پہ لٹا کے کہتی ہے کہ بیٹا یہ ذکر سیکھو، اتنی سانسیں بغیر ذکر کے لو گی؟ اتنی سانسیں بغیر ذکر کے لو گے؟ تو اس نے وہ طریقہ سیکھ لیا۔ الحمدللہ ہماری ان کے ساتھ ملاقات ہوئی، وہ صاحب 70 سال کی عمر میں فوت ہوئے۔ 10 سال کی عمر میں اس نے ذکر سیکھا، 70 سال کی عمر میں فوت ہوئے، تو 60 سال میں کتنی سانسیں بنتی ہیں؟ وہ ہر سانس کے ساتھ ذکر کرتے رہے۔ کتنی خوش قسمتی ہے! یہ ہے صحبتِ صالحین کی برکت، یہ ہے صحبتِ صالحین کی برکت۔ نیک لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا نصیب ہو جائے، تو یہ نعمتیں ملتی ہیں۔

تو بہرحال میں عرض کر رہا ہوں کہ دیکھیں، اللہ جل شانہٗ نے ہمیں قران میں سورۂ فاتحہ میں ایک دعا سکھائی ہے۔ وہ دعا کیا ہے؟ ﴿اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ۝ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾۔ سب لوگ اس کو پڑھتے ہیں، اور اگر میں پوچھوں کہ جتنے لوگ میرے سامنے ہیں، ان میں سے کتنوں کو پتہ ہے کہ اس میں ہم کیا پڑھتے ہیں؟ ہم کیا مانگتے ہیں؟ جواب کتنے لوگوں کا صحیح ہوگا؟ اندازہ کریں۔ ہر رکعت میں اس کا پڑھنا واجب، نہ پڑھے گا تو سجدہ سہو کرنا پڑے گا، انفرادی نماز اگر ہے۔ تو اب دیکھیں، اتنی اہم چیز اللہ نے ہمیں دی ہے کہ ہر رکعت کے اندر اس کو واجب قرار دیا، اور بہت سارے لوگوں کو، میں تو کہتا ہوں 90 فیصد سے زیادہ لوگوں کو پتہ نہیں ہوگا کہ ہم کیا پڑھ رہے ہیں۔ کہ ہم کیا پڑھ رہے ہیں، یہ ہے ہماری غفلت اپنے دین سے۔

اس میں ہم اللہ پاک سے کیا مانگ رہے ہیں؟ اللہ تعالیٰ سے ہم مانگ رہے ہیں کہ اے اللہ ہمیں سیدھا راستہ ہدایت فرما دے، ہمیں سیدھا راستہ ہدایت فرما دے۔ راستہ ان لوگوں کا جن پر تو نے انعام فرمایا ہے، نہ کہ ان لوگوں کا راستہ جن پر تیرا غضب ہے اور نہ ان لوگوں کا راستہ جو گمراہ ہو چکے ہیں۔ تین قسم کے لوگوں کی بات ہو گئی، تین قسم کے لوگوں کی۔ اعمال کی بات یہاں پر نہیں ہے، بات کس چیز کی ہے؟ تین قسم کے لوگوں کی بات ہے۔ ایک وہ لوگ ہیں جن پر انعام ہوا ہے جن کے پیچھے چلنا ہے ان کا راستہ اپنانا ہے۔ ایک وہ لوگ ہیں جن سے دور بھاگنا ہے، مغضوب علیھم سے دور بھاگنا ہے اور ضالین کے پیچھے نہیں چلنا۔ ضالین کے پیچھے نہیں چلنا۔

اب انعمت علیھم کون ہیں؟ میں اور آپ بتائیں تو بات صحیح نہیں ہوگی۔ اللہ پاک نے قران میں بتایا ہے کہ جن لوگوں پر انعام ہوا ہے، وہ انبیاء ہیں، صدیقین ہیں، شہداء ہیں، صالحین ہیں۔ چار قسم کے حضرات۔ انبیاء کرام، صدیقین عظام، شہداء اور صالحین۔ اب دیکھ لیں انبیاء کرام تو اب نہیں آ رہے۔ لیکن ان کی تعلیمات موجود ہیں، بالخصوص آپ ﷺ کی۔ صدیقین بہت تھوڑے ہوتے ہیں، شہداء کا پتہ ہی اس وقت چلتا ہے جب وہ دنیا سے رخصت ہو چکے ہوتے ہیں۔ اب کون درمیان میں رہ گیا؟ صالحین۔ صالحین درمیان میں رہ گئے۔ تو صالحین کے پیچھے چلنے کا اللہ پاک ہمیں فرما رہے ہیں۔ صالحین کے پیچھے چلنے کا اللہ پاک ہمیں فرما رہے ہیں۔

ایک بہت بڑے عالم ہیں، اس نے فتویٰ دیا، میں فتویٰ دیتا ہوں کہ صحبتِ صالحین فرضِ عین ہے، کیونکہ اس کے بغیر ایمان بھی بچتا نہیں ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر ایمان بھی نہیں بچتا۔ تو آج کل کے دور میں تو صحبتِ صالحین کی اور بھی زیادہ ضرورت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گمراہ لوگوں کی صحبت بہت زیادہ ہو گئی ہے۔ دفتر میں جائیں گمراہ لوگ کثرت سے، گھر میں گمراہ لوگ بہت زیادہ، بازار میں گمراہ لوگ بہت زیادہ، آپ جس راستے پہ جائیں گمراہ لوگ بہت زیادہ۔ صالحین کو تو آپ بہت محنت سے ڈھونڈیں گے۔ تو اب صالحین کی صحبت کتنی ضروری ہو گئی؟ صالحین کی صحبت بہت زیادہ ضروری ہو گئی ہے۔ اب جہاں پر انسان صالحین کو تلاش کر لے، تو بس ان کے ساتھ چمٹ جائے۔

اور ایک بات میں، اور بات عرض کروں، اللہ تعالیٰ کا وعدہ بڑا سچا ہے۔ ﴿وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا﴾۔ اور جو لوگ میرے راستے میں مجھ تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کو ضرور بالضرور ہدایت کے راستے سجھاؤں گا۔ یہ اللہ پاک کا وعدہ ہے۔ اگر آپ صالحین کو تلاش کرنا شروع کر لیں گے، آپ کو صالحین ضرور ملیں گے، میں لکھ کر دیتا ہوں۔ تلاش تو کرنا شروع کرو نا، اپنا کام تو کرو نا، اللہ تعالیٰ اپنا کام کرنے میں کوئی پریشانی اس کو نہیں ہے، کوئی تکلیف نہیں ہے، اللہ پاک اپنا کام بہت آسانی کے ساتھ کر لیتا ہے۔ تم اپنا کام کرو، اور وہ کام کیا ہے؟ صالحین کو تلاش کرو۔ اور ان کی تلاش کا ایک طریقہ اللہ سے مانگنا بھی ہے، جیسے ﴿اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ﴾۔ اللہ سے مانگنا بھی ہے، اللہ تعالیٰ سے مانگا کرو کہ اے اللہ ہمیں صالحین کی صحبت عطا فرما، نیک لوگوں کی صحبت عطا فرما۔

ہم پشاور یونیورسٹی میں، اسلامیہ کالج میں ہم نے ایڈمشن لیا۔ کسی مدرسے میں نہیں لیا، صرف ایک کالج میں ایڈمشن لیا۔ وہاں پر ہمیں کسی نے بتایا، بالکل ابتدائی دنوں میں بتایا کہ یہاں پر ایک بزرگ ہیں، مولانا محمد اشرف سلیمانی، وہ عصر کے بعد دین کی بات کرتے ہیں۔ بس اتنا بتایا، ہم نے کہا ہم بھی چل کر دیکھتے ہیں، چلے گئے۔ جب ان کی مجلس میں بیٹھ گئے تو دل پہ بات آ گئی کہ یہ صحیح جگہ ہے یہاں آنا چاہیے۔ بس اتنی سی بات تھی، یہ صحیح جگہ ہے یہاں پر آنا چاہیے۔ اور پھر الحمدللہ ہم جاتے رہے۔ عصر سے لے کر مغرب تک حضرت کا وقت ہوتا تھا، کبھی کبھی مغرب کے بعد بھی بیٹھنے کا موقع مل جاتا تھا۔ یہی ہمارا آنے جانے کی صورت تھی۔ ان کی یہ برکت ہوئی کہ یونیورسٹی میں جو غلط جگہیں تھیں ان کا ہمیں پتہ بھی نہیں چلا، بعد میں ہمیں پتہ چلا کہ ایسی چیزیں بھی تھیں وہاں پر۔ ہمیں اس کا علم بھی نہیں ہوا۔ یہ کن کی برکت تھی؟ یہ حضرت مولانا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی برکت تھی۔ کیونکہ حضرت اچھے تھے، تو اچھے لوگ ہی ان کے پاس آتے تھے۔ اور ہمیں اچھی باتیں بتاتے تھے، اچھوں کی محفل میں اچھی چیزیں ملا کرتی ہیں، لہذا برائی کی چیزیں الحمدللہ اللہ تعالیٰ نے ہم سے دور کر دیں، ان حضرات کی برکت سے۔

تو یونیورسٹی میں، اسلامیہ کالج میں ہونا ہمارے لیے بہت ہی مفید ثابت ہوا۔ پھر جب ہم یہاں راولپنڈی آئے، تو یہاں سے بھی ادھر جاتے تھے ماشاءاللہ، الحمدللہ ہم جایا کرتے تھے۔ تو مطلب میرا یہ ہے، صالحین کی صحبت کو اللہ سے مانگا کرو۔ اس وقت بہت خطرات ہیں۔ اعتقادی لحاظ سے بھی خطرات ہیں، علمی لحاظ سے بھی خطرات ہیں، عملی لحاظ سے بھی خطرات ہیں۔

سب سے پہلے میں اعتقادی لحاظ سے خطرے کی ایک بات کرتا ہوں۔ ایک خطرہ ہے جو آنے والا ہے اور ہم لوگوں کو اپنا انتظام تو کرنا ہے، وہ کیا ہے؟ ابھی محرم آنے والا ہے نا، محرم؟ محرم میں کیا ہوتا ہے؟ اس میں افراط تفریط کا میدان گرم ہوتا ہے۔ افراط تفریط کا میدان گرم ہوتا ہے۔ اب دیکھ لیں، ابھی میں نے ایک حدیث شریف پڑھی ہے، ذرا دوبارہ پڑھ لیتا ہوں۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں: «اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي»۔ اے میری امتیو! تمہیں میرے صحابہ کے بارے میں خدا کا واسطہ۔ انداز کیا ہے، ذرا غور کر لیں، آپ ایک باپ اگر بیٹے سے کہتا ہے اے میرے بیٹے... تمہیں خدا کا واسطہ! یہ بیٹے کے لیے مرنے کا مقام نہیں ہے؟ کون کہہ رہا ہے؟ آپ ﷺ کہہ رہے ہیں۔ اپنے امتیوں سے کہہ رہے ہیں، اے میرے امتیو! تم میرے صحابہ کے بارے میں خدا کا واسطہ! «لَا تَتَّخِذُوهُمْ مِنْ بَعْدِي غَرَضًا»۔ کہ میرے بعد ان کو ملامت کا نشانہ نہ بنانا، میرے بعد ان کو ملامت کا نشانہ نہ بنانا۔ «فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ»۔ جو ان کے ساتھ محبت رکھتے ہیں، وہ اصل میں میرے ساتھ محبت رکھتے ہیں اس کی وجہ سے ان کے ساتھ محبت رکھتے ہیں۔ «وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ»۔ اور جو ان کے ساتھ بغض رکھتے ہیں، وہ اصل میں میرے ساتھ بغض رکھتے ہیں اس وجہ سے ان کے ساتھ بغض رکھتے ہیں۔

اب بتاؤ کوئی چیز رہ گئی؟ یہ ہے صحابہ کا مقام، آپ ﷺ کی نگاہوں میں۔ اگر آپ ﷺ ہم سے ناراض ہو گئے، ہمارے بچنے کا کوئی امکان ہے؟ کوئی امکان نہیں ہے پھر۔ تو اس وجہ سے ہمیں صحابہ کے بارے میں بہت ہی زیادہ محتاط رہنا پڑے گا، بہت ہی زیادہ محتاط رہنا پڑے گا۔ اس وقت Social Media پر بڑی عجیب عجیب باتیں چل رہی ہوں گی، لوگ عجیب عجیب باتیں کر رہے ہوں گے، آپ نے ذرہ بھر بھی اپنے اسلاف کے طریقے سے نہیں ہٹنا، ذرہ بھر بھی۔ کیونکہ یہ ایمان کی بات ہے۔ اس وجہ سے بہت خطرے کی بات ہے، جو بھی آپ دیکھیں ان کو صرف قران اور حدیث کے پیمانے پر پرکھیں۔

اور کسی کی بات نہ سنیں، تاریخی بات ہے بھئی میں آپ کو تاریخ کی بات بتاتا ہوں۔ ایک صاحب تھے انگریز، وہ پورے عالم کی تاریخ لکھنا چاہتے تھے، پورے عالم کی تاریخ لکھنا چاہتے تھے۔ بڑے researcher تھے۔ ایک building میں پتہ نہیں چودہویں منزل پہ تھے یا پندرہویں منزل پر، بیٹھے ہوئے لکھ رہے تھے۔ نیچے شور برپا ہو گیا، کوئی واقعہ ہو گیا شور برپا ہو گیا۔ تو وہ lift میں نیچے اترے، کہ دیکھوں کہ کیا ہوا ہے؟ اب جس سے پوچھیں، مختلف بات بتا رہے ہیں، جس سے پوچھیں مختلف بات بتا رہے ہیں۔ کیا ہوا؟ جا کر اس نے جتنا بھی لکھا تھا، اس سب کو جلا دیا۔ دوستوں نے کہا یہ کیا کر دیا؟ اتنی محنت آپ نے کی اب اس کو جلا دیا! یہ کیا وجہ ہے؟ کہتے ہیں میرے سامنے واقعہ ہوا ہے، میں نیچے اترا ہوں، ہر آدمی مختلف واقعہ بتا رہا ہے۔ مجھے اس کا پتہ نہیں چلا کہ حقیقت کیا ہے، گزشتہ واقعات کا مجھے کیسے پتہ چلے گا؟ گزشتہ واقعات کا مجھے کیسے پتہ چلے گا کہ کون سی صحیح ہے کون سی غلط ہے؟ اس کا فیصلہ میں کیسے کروں گا؟ یہ ہے تاریخ۔

دوسری طرف حدیث شریف ہے، قرآن ہے۔ قرآن اللہ کی کتاب، اس کی حفاظت اللہ پاک خود فرماتے ہیں۔ ﴿إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ﴾۔ جب قرآن کا نزول شروع ہو گیا، جنات پہ پابندی لگ گئی اوپر جانے پہ۔ تو قرآن کی حفاظت اللہ پاک نے حفاظِ کرام کے ذریعے سے کرائی، علمائے کرام کے ذریعے سے کرائی۔ کوئی ایک حرف بھی اس کے اندر تبدیل نہیں کر سکتا، کر کے دیکھ لیں، نہیں کر سکتا۔ تو قران کی حفاظت تو اللہ تعالیٰ خود کہہ رہے ہیں کہ میں کرتا ہوں۔

احادیث شریف کی حفاظت کے لیے اللہ پاک نے ایک عظیم علم... ایک جرمن بادشاہ سے وہ کروا دیا جرمن بادشاہ، دیکھو: فنِ رجال۔ یعنی جن حضرات سے آپ ﷺ کی روایت ہم تک پہنچتی ہے، ان کی history کیا ہے؟ کون تھا؟ کہاں کا تھا؟ کس کا بیٹا تھا؟ کس سے پڑھا؟ کس نے اس کے بارے میں کیا بات کی؟ ساری تفصیلات راویوں کی موجود ہیں۔ آج بھی جس حدیث شریف کو پرکھنا چاہتے ہو، پرکھ سکتے ہو۔ اب تو اور بھی آسان ہو گیا، Computer Software موجود ہے اور اس کے اوپر ماشاءاللہ کسی بھی حدیث شریف کو پرکھنا چاہو تو پرکھ سکتے ہو کہ اس کا مقام کیا ہے، صحیح ہے، ضعیف ہے، حسن ہے، حسن لغیرہ ہے جو بھی ہے۔ اس کا پتہ چل جائے گا آپ کو۔ تو حدیث شریف کی حفاظت اس طرح کی گئی ہے۔

اب ان دو کی حفاظت کی گئی ہے، اس میں ایک بات ایک سی ہو اور تاریخ میں بات دوسری ہو، آپ کس کی بات مانیں گے؟ تاریخ کی مانیں گے یا قرآن اور حدیث کی مانیں گے؟ بتائیے! بس یہی تو بنیادی اصول ہے۔ اب دیکھیں حدیث شریف یہ کہہ رہا ہے: «اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي، لَا تَتَّخِذُوهُمْ مِنْ بَعْدِي غَرَضًا، فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ»۔ یہ حدیث شریف کی بات ہے۔ اس کے مقابلے میں کوئی آدمی آپ کو کہتا ہے نعوذ باللہ من ذالک فلاں صحابی نے ایسا کیا، فلاں صحابی نے ایسا کیا، فلاں صحابی نے یہ... آپ کس کی بات مانیں گے؟ ظاہر ہے ہم تو قران و حدیث کی بات مانیں گے۔ لہذا پکی بات ہے کہ ہم لوگ قران و حدیث کے ساتھ چمٹ جائیں، ایسے فتنے کے دور میں، اس کے علاوہ ہم کوئی بات نہیں مانیں گے۔ Social Media کیا چیز ہے؟ یہ تو فتنے کا ایک گڑھ ہے۔ اس میں تو ہر شخص کے لیے دروازہ کھلا ہوا ہے۔ اب مجھے بتاؤ، دنیا میں کافر زیادہ ہیں یا مسلمان؟ بتاؤ، شرمانے کی ضرورت نہیں ہے کافر زیادہ ہیں یا مسلمان؟ کافر زیادہ ہیں۔ کافر زیادہ ترقی یافتہ ہیں یا مسلمان؟ کافر زیادہ ترقی یافتہ ہیں نا۔ Computer کن کے ہاتھ میں زیادہ ہے؟ کافروں کے پاس ہے نا مسلمانوں کے پاس؟ تو Computer پر کون سی باتیں آئیں گی؟ کافروں کی باتیں آئیں گی یا مسلمانوں کی آئیں گی؟ یہی بات ہے، ہمیں سوچنا چاہیے کہ اس کی طرف سے کون سی چیزیں آئیں گی۔ اس لیے محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ہر چیز یہاں سے نہیں لینی چاہیے۔

تو ایک تو یہ بات میں عرض کر رہا تھا کہ تاریخ کی بات کو ہم قران و حدیث کے مقابلے میں نہیں لیں گے۔ اور Social Media کی بات کو ہم بہت ہی پرکھ پرکھ کر لیں گے، بہت ہی پرکھ پرکھ کر لیں گے۔ اور پرکھنے کا مقام کس کا ہے؟ وہ جو محققین ہیں مسلمانوں کے، وہ ہیں۔ تو بہرحال میں عرض کر رہا ہوں کہ ایک تو یہ بات۔ دوسری طرف جو صحابہ کے دشمن ہیں، جو صحابہ کے مخالف ہیں، ان کے مقابلے میں ایک reaction ہو گیا، reaction ہو گیا۔ اور reaction group آ گیا، وہ نعوذ باللہ من ذالک ان کے مقابلے میں اہلِ بیت کو برا کہنے لگے۔ یہ بالکل ایسا ہے جیسے کسی نے اپنے منہ پہ تھپڑ مارے۔

دیکھ لیں، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی ہیں، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی ہیں، حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی ہیں، حضرت علی کرم اللہ وجہہ کیا ہیں؟ صحابی ہیں نا، اس کو صحابیت سے نکال تو نہیں سکتے، لیکن اہلِ بیت میں بھی ہیں۔ ٹھیک ہے نا۔ صحابیات کو لے لو، سب صحابیات جو ہیں وہ صحابیات ہیں، عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی صحابیہ ہیں، فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کون ہیں؟ وہ بھی صحابیہ ہیں نا، اہلِ بیت بھی ہیں۔ حسن، حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما، کیا یہ صحابی نہیں ہیں؟ صحابی ہیں نا! تو آپ صحابہ کے دفاع میں نعوذ باللہ من ذالک ان کے مخالف کیوں ہوتے جا رہے ہیں؟ خدا کے بندو کیا کر رہے ہو؟ اپنے منہ پہ تھپڑ مار رہے ہو! ہمارے اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ ہے چاروں خلفائے راشدین حق پر ہیں۔ صحابہ بھی حق پر ہیں، اہلِ بیت بھی حق پر ہیں۔

اور ایک بات اور سنو، اچھی طرح سنو، ایک ہے حدیثِ عترت، جس میں آپ ﷺ نے اپنے عترت کے بارے میں فرمایا کہ قرآن اور عترت، ان کے ساتھ رہو، یعنی میری اولاد کے ساتھ۔ اور اس کو سفینۂ نوح سے تشبیہ دی ہے کہ ان کے ساتھ رہنا ایسا ہے جیسے نوح علیہ السلام کی کشتی میں بیٹھنا، جو اس کے ساتھ بیٹھ گیا بیٹھ گیا اور ببچ گیا اور جو نہیں بیٹھا تو... یہی وجہ ہے کہ ہمارے جتنے امام ہیں، امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ، یہ اہلِ بیت کے ساتھ تھے۔ آپ حضرات کو شاید علم نہیں ہوگا، امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ، امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کے خلفاء ہیں۔ اور امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کون ہیں؟ اہلِ بیت میں سے ہیں۔ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کے بیٹے امام موسیٰ کاظم رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ ہیں۔ اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کو تو شہیدِ اہلِ بیت کہتے ہیں۔ کیونکہ انہوں نے اہلِ بیت کے ساتھ مل کے وقت کے خلیفہ کے خلاف خروج کیا تھا، جس کی وجہ سے بعد میں قید بھی ہوئے۔ ان کو شہیدِ اہلِ بیت کہتے ہیں۔ اس وجہ سے ہم لوگ ان چیزوں کو بھول نہ جائیں، کہ اہلِ بیت ہمارے ہیں۔

اہلِ بیت ہمارے ہیں۔ جتنے بھی ہمارے دیکھیں نا جس کے نام ہم بارہ حضرات وہ لیتے ہیں نا وہ یہ... ان کو لوگ سمجھتے ہیں شاید انہی کے ہیں، نہیں بھئی! امام زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ ہمارے امام ہیں، امام باقر رحمۃ اللہ علیہ ہمارے امام ہیں، امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ ہمارے امام ہیں، امام موسیٰ کاظم رحمۃ اللہ علیہ ہمارے امام ہیں۔ پھر اس کے بعد پھر اس کا بیٹا پھر اس کا بیٹا پھر اس کا بیٹا... یہ کون بتا رہے ہیں؟ حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ۔ جس کی تمام عمر صحابہ کے دفاع میں گزر گئی۔ صحابہ کے دفاع میں ساری عمر گزر گئی۔ اخیر میں مکتوب شریف میں فرماتے ہیں کہ سبحان اللہ، چاہے کوئی قسم کا بھی ولی ہو، ان کو فیض حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ذریعے سے ملتا ہے، اور پھر ان کی اولاد کے ذریعے سے ملتا ہے۔ اور جب ان کی اولاد کا سلسلہ ختم ہوا، پھر شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے ذریعے سے... تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اہلِ بیت کے ساتھ ہر ولی کا تعلق ہوتا ہے۔ ہر ولی کا تعلق اہلِ بیت کے ساتھ ہوتا ہے۔ لہذا اہلِ بیت سے دور نہ رہنا۔

میں آپ کو یہاں Rawalpindi کے ایک عالم کا واقعہ سناتا ہوں۔ Rawalpindi کے ایک عالم، نام نہیں لوں گا کیونکہ آپ میں سے بعض حضرات جانتے ہوں گے۔ میں جا رہا تھا سرگودھا، وہاں ایک Conference میں شرکت کرنی تھی۔ Cell پر Telephone آیا اس کا۔ "ابھی عاشورہ ہے، یعنی جو دس محرم کا... کیا میں کروں اس وقت؟" میں نے کہا 313 مرتبہ درود شریف پڑھ کر حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایصالِ ثواب کرو۔ چلا گیا۔ واپس آ گیا، ملاقات ہو گئی، مجھے کہتے ہیں: "شاہ صاحب یہ کیا بات آپ نے بتائی؟ میرا تو دل امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے کھل گیا"۔ میں نے کہا: "کیوں؟ آپ کا دل امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے بند تھا؟" مجھے بڑی حیرت ہوئی، میں نے کہا: "آپ کا دل امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے بند تھا؟" کہتے ہیں: "ہم نے تو یزید زندہ باد کے نعرے لگائے ہیں"۔ میں نے کہا: "انا للہ وانا الیہ راجعون! یہ کیا کیا آپ نے؟ یہ آپ نے کیا کیا؟" اس نے اپنے استاد کا نام بتا دیا کہ وہ اس طرح نعرے لگواتے تھے۔ میں نے کہا: "خدا کے بندے، مجھے بتاؤ، امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی ہیں یا تابعی ہیں؟" کہتا ہے: "صحابی ہیں"۔ میں نے کہا: "یزید صحابی ہے یا تابعی ہے؟" کہتا ہے: "تابعی ہے"۔ میں نے کہا: "تابعی اور صحابی کا مقابلہ آ جائے تو آپ کس کا ساتھ دو گے؟" کہتا ہے: "ہائے مجھے تو خیال ہی نہیں ہوا اس کا۔ مجھے تو اس کا خیال ہی نہیں ہوا"۔ یہ عالم کی بات بتا رہا ہوں آپ کو۔ زندہ ہیں۔ اور الحمدللہ مجھے دعائیں دے رہا ہے، اللہ کا شکر ہے، الحمدللہ بات ان کی سمجھ میں آ گئی۔

یہ کتاب جو میرے ہاتھ میں ہے، "اہلِ سنت والجماعت کی نظر میں اہلِ بیت کا مقام"، یہ میں نے لکھی ہے، اور مجبورا لکھی ہے۔ کیسے لکھی ہے؟ بتاتا ہوں۔ یہ وجہ کیا ہوئی؟ میری بیٹی ایک مدرسے میں پڑھ رہی تھی۔ ایک دن آئی میرے پاس: "ابو! ہمارے قاری صاحب نے ایک تقریر کی ہے، اس تقریر میں یزید کو حق پہ بتایا اور امام حسین رضی اللہ عنہ کو اس کا باغی قرار دیا۔" استانی بھی پریشان، ہم بھی سب پریشان کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ ہم نے قاری صاحب سے پوچھا: "آپ کیا باتیں کر رہے ہیں؟" اس نے کہا: "تم اپنی تحقیق کر لو، یہ تو تحقیق کی باتیں ہیں، تحقیق کر لو۔" تو اب ہم کیا کہیں ان کو؟ اب خدا کی شان، اس وقت دو چیزیں میرے پاس ڈیسک پر موجود تھیں۔ ایک الفیہ جو ہزار احادیث شریف کی کتابوں کا ایک سی ڈی تھی، وہ میرے پاس موجود تھی۔ ان دنوں آگئی تھی میرے ہاتھ میں۔ اور ایک بنوری ٹاؤن کے ایک بڑے شیخ الحدیث تھے، مولانا عبدالرشید نعمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ، ان کی ایک کتاب تھی 'شہیدِ کربلا پر تبرا'۔ وہ میرے ڈیسک پر پڑی ہوئی تھی۔ اس کو میں نے کھول کے دیکھا، کھول کے دیکھا تو اس پہ جتنے بھی حوالے موجود تھے، میں کہتا ہوں: "بیٹی سنو! دیکھو، سی ڈی میں نے لگا دی، میں نے کہا دیکھو نا، اس میں سے کچھ عربی کے الفاظ دیکھو، عربی کے الفاظ میں نے لگا دیے، وہ سارے حوالے آتے رہ گئے۔ یہ ہے، یہ ہے، یہ ہے، یہ ہے، سب حوالات مستند۔ میں نے کہا نوٹ کرتی جاؤ۔" سب نوٹ کر لیے۔ اگلے دن قاری صاحب سے کہا: "قاری صاحب! آپ کہتے ہیں تحقیق کریں، تو میں نے کچھ تحقیق کی ہے، بتا دوں؟" اس نے کہا: "بتا دو۔" اس نے نوٹس بتانا شروع کر لیا کہ یہ ہے، یہ ہے، یہ ہے۔ قاری صاحب نے جتنی چند باتیں سنی ہوئیں، کہتے: "بس یزید کون سا ہمارا ماما چاچا ہے، چھوڑو ختم کرو۔"

یہ ہے سب کی بات۔ بھئی، ہم یزید کے ساتھ نہیں ہیں کیونکہ یزید فاسق و فاجر تھا۔ ہم ان کے والد صاحب کے ساتھ ہیں کیونکہ وہ صحابی تھا، امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، صحابی تھا، صحابی صحابی ہے۔ صحابی اگر صحابی کے ساتھ اختلاف بھی کر لے، پھر بھی وہ صحابی ہے، ہم ان کے خلاف کچھ نہیں کہیں گے، کیونکہ ان کی آپس کی بات ہے۔ لیکن صحابی کا اگر تابعی کے ساتھ اختلاف ہو جائے، ہم کس کا ساتھ دیں گے؟ صحابی کا ساتھ دیں گے۔ اس میں ہمارے لیے اصول بالکل واضح ہے، کھلا ہے۔ پھر امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ان کی بات ہی اور ہے، حسنین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما، آپ ﷺ نے ان کے بارے میں کیا ارشادات فرمائے تھے؟ آپ تھوڑا سا غور تو فرمائیں نا۔ حسن، حسین میرے بیٹے ہیں۔ حسن، حسین میرے بیٹے ہیں، یہ فرمایا۔ اور اس طریقے سے ماشاءاللہ حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں فرمایا کہ وہ سردار ہے، ان کی وجہ سے دو مسلمانوں کے گروہوں میں صلح ہو گی۔ اور ان کو ماشاءاللہ شہادت کی بشارت پہلے سے دی گئی تھی۔ تو یہ ساری باتیں آپ ﷺ سے ثابت ہیں، آپ ﷺ جب نماز پڑھتے تھے، چھوٹے تھے، وہ گردن پہ بیٹھ جاتے تھے، اس وقت تک سر نہیں اٹھاتے تھے آپ ﷺ۔ تو یہ ساری باتیں ہمیں یاد رکھنی چاہئیں۔ ہم صحابہ کے ساتھ ہیں، ہم صحابہ کے ساتھ ہیں۔ تابعین میں ہم دیکھیں گے کون صحابہ کے ساتھ ہے کون صحابہ کے ساتھ نہیں ہے۔ جو صحابہ کے ساتھ ہے، وہ ان کے ساتھ ہے۔ جو صحابہ کے ساتھ نہیں ہے، ان کے ساتھ نہیں ہے۔ بس یہ والی بات ہم پکی طور پر یاد کر لیں تو پھر کبھی پریشانی نہیں ہو گی۔

باقی میں آپ کو بتاؤں، کچھ لوگ ان کو کافر کہتے ہیں، یزید کو، ہم کافر نہیں کہتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ فیصلہ اللہ تعالیٰ کا ہے۔ وہ فیصلہ اللہ پاک کے پاس ہے، ہم لوگ کسی کو کافر نہیں قرار دے سکتے۔ ہاں فاسق و فاجر، کیونکہ فاسق و فاجر کا تعلق ظاہر کے ساتھ ہے، اور وہ تین باتیں ہیں۔ ایک انہوں نے قتلِ عام کیا ہے اہلِ بیت کا، دوسرا انہوں نے جو حرہ کا واقعہ ہے، جس میں استغفراللہ مدینہ منورہ میں، مسجدِ نبوی میں باقاعدہ تین دن تک اجازت دی تھی زنگیوں کو، اور انہوں نے نعوذ باللہ من ذالک صحابہ کرام کے بیٹوں بیٹیوں کے ساتھ جو ہے نا بے حرمتی کی تھی، ان کی اجازت دی تھی تین دن تک۔ وہ ان کے پیچھے ہے۔ تیسری بات خانہ کعبہ کے اوپر سنگ باری کروائی ہے۔ سنگ باری کروائی۔ تین وجوہات چونکہ ظاہر ہیں، چھپے ہوئے نہیں ہیں، اس وجہ سے فاسق و فاجر ہے۔ ان کو ہم فاسق فاجر کہتے ہیں، لیکن ہم لوگ ان کو کافر نہیں کہتے۔

باقی یہ باتیں، ان کی باپ جو ہے وہ صحابی ہے، صحابہ کا معاملہ میں نے آپ کو آسان بات بتاؤں۔ ماشاءاللہ علماء یہاں بیٹھے ہوئے ہیں، حدیث شریف کی سند جب بتائی جاتی ہے تو کیسے بتائی جاتی ہے؟ فلاں نے فلاں سے سنا، فلاں نے فلاں سے سنا، فلاں نے فلاں سے سنا، اور اخیر میں صحابی آتا ہے۔ صحابی کے بارے میں ہم کیا کہتے ہیں؟ «وَهُم مِنَ الصَّحَابَةِ، وَالصَّحَابَةُ كُلُّهُمْ عُدُولٌ»۔ وہ صحابہ میں سے ہے اور صحابہ سارے کے سارے عادل ہیں۔ یہ ارشاد فرماتے ہیں۔ تو صحابہ سارے کے سارے عادل ہیں، لہذا ہم صحابہ کے بارے میں تو یہی بات کہیں گے۔ ان کا معاملہ تو اللہ پاک نے صاف کر دیا، ﴿رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ﴾، ان کا معاملہ تو اللہ نے صاف کر دیا، ان کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہتے۔ ان کے بارے میں ہم خاموش ہیں، ہاں ان کے ساتھ محبت کرتے ہیں، کیونکہ آپ ﷺ کے ساتھی ہیں۔ آپ ﷺ کے ساتھی ہیں، آپ ﷺ نے ہمیں روکا ہے ان کے خلاف بات کرنے سے، ان کے ساتھ محبت کو پسند فرمایا ہے، ان کے ساتھ بغض کو ناپسند فرمایا ہے، لہذا ہم صحابہ کے ساتھ بغض نہیں رکھتے، ہم صحابہ کے ساتھ محبت کرتے ہیں۔

لیکن جب صرف صحابہ کی بات آتی ہے، تو ان میں عام صحابہ بھی ہوتے ہیں، اہلِ بیت بھی ہوتے ہیں، اور امہات المومنین بھی ہوتے ہیں۔ لیکن اگر اہلِ بیت کا نام آ جائے، تو ان میں صرف وہ صحابہ صحابیات ہوں گے جو اہلِ بیت ہوں گے۔ اور اگر امہات المومنین کا نام آ جائے، تو ان میں صرف امہات المومنین ہی ہوں گی، اور کوئی نہیں ہو گا۔ لہذا ان چیزوں کو اگر ہم سمجھیں، تو بہت سارے واقعات ہمیں سمجھ میں آ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ مجھے بھی سمجھا دے آپ کو بھی۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ.







تو یہ Left Reaction جو ہے نا، اس سے بچیں، خدارا اس سے بچیں۔ یہ کوئی ایسی چیزیں، چھوڑو، ختم کرو، یہ ہے سب کی بات۔

بھئی، ہم یزید کے ساتھ نہیں ہیں کیونکہ یزید فاسق و فاجر تھا۔ ہم ان کے والد صاحب کے ساتھ ہیں کیونکہ وہ صحابی تھا، امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، صحابی تھا، صحابی صحابی ہے۔ صحابی اگر صحابی کے ساتھ اختلاف بھی کر لے، پھر بھی وہ صحابی ہے، ہم ان کے خلاف کچھ نہیں کہیں گے، کیونکہ ان کی آپس کی بات ہے۔ لیکن صحابی کا اگر تابعی کے ساتھ اختلاف ہو جائے، ہم کس کا ساتھ دیں گے؟ صحابی کا ساتھ دیں گے۔ اس میں ہمارے لیے اصول بالکل واضح ہے، کھلا ہے۔ پھر امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ان کی بات ہی اور ہے، حسنین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما، آپ ﷺ نے ان کے بارے میں کیا ارشادات فرمائے تھے؟ آپ تھوڑا سا غور تو فرمائیں نا۔ حسن، حسین میرے بیٹے ہیں۔ حسن، حسین میرے بیٹے ہیں، یہ فرمایا۔ اور اس طریقے سے ماشاءاللہ حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں فرمایا کہ وہ سردار ہے، ان کی وجہ سے دو مسلمانوں کے گروہوں میں صلح ہو گی۔ اور ان کو ماشاءاللہ شہادت کی بشارت پہلے سے دی گئی تھی۔ تو یہ ساری باتیں آپ ﷺ سے ثابت ہیں، آپ ﷺ جب نماز پڑھتے تھے، چھوٹے تھے، وہ گردن پہ بیٹھ جاتے تھے، اس وقت تک سر نہیں اٹھاتے تھے آپ ﷺ۔ ہاں جی، تو یہ ساری باتیں ہمیں یاد رکھنی چاہئیں۔ ہم صحابہ کے ساتھ ہیں، ہم صحابہ کے ساتھ ہیں۔ تابعین میں ہم دیکھیں گے کون صحابہ کے ساتھ ہے کون صحابہ کے ساتھ نہیں ہے۔ جو صحابہ کے ساتھ ہے، وہ ان کے ساتھ ہے۔ جو صحابہ کے ساتھ نہیں ہے، ان کے ساتھ نہیں ہے۔ بس یہ والی بات ہم پکی طور پر یاد کر لیں تو پھر کبھی پریشانی نہیں ہو گی۔

باقی میں آپ کو بتاؤں، کچھ لوگ ان کو کافر کہتے ہیں، یزید کو، ہم کافر نہیں کہتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ فیصلہ اللہ تعالیٰ کا ہے۔ وہ فیصلہ اللہ پاک کے پاس ہے، ہم لوگ کسی کو کافر نہیں قرار دے سکتے۔ ہاں فاسق و فاجر، کیونکہ فاسق و فاجر کا تعلق ظاہر کے ساتھ ہے، اور وہ تین باتیں ہیں۔ ایک انہوں نے قتلِ عام کیا ہے اہلِ بیت کا، دوسرا انہوں نے جو حرہ کا واقعہ ہے، جس میں استغفراللہ مدینہ منورہ میں، مسجدِ نبوی میں باقاعدہ تین دن تک وہ جو ہے نا اجازت دی تھی زنگیوں کو، اور انہوں نے نعوذ باللہ من ذالک صحابہ کرام کے بیٹوں بیٹیوں کے ساتھ جو ہے نا بے حرمتی کی تھی، ان کی اجازت دی تھی تین دن تک۔ وہ، وہ ان کے پیچھے ہے۔ تیسری بات خانہ کعبہ کے اوپر سنگ باری کروائی ہے۔ سنگ باری کروائی۔ تین وجوہات چونکہ ظاہر ہیں، چھپے ہوئے نہیں ہیں، اس وجہ سے فاسق و فاجر ہے۔ ان کو ہم فاسق فاجر کہتے ہیں، لیکن ہم لوگ ان کو کافر نہیں کہتے۔

باقی یہ باتیں، ان کی باپ جو ہے وہ صحابی ہے، صحابہ کا معاملہ میں نے آپ کو آسان بات بتاؤں۔ ماشاءاللہ علماء یہاں بیٹھے ہوئے ہیں، حدیث شریف کی سند جب بتائی جاتی ہے تو کیسے بتائی جاتی ہے؟ فلاں نے فلاں سے سنا، فلاں نے فلاں سے سنا، فلاں نے فلاں سے سنا، اور اخیر میں صحابی آتا ہے۔ صحابی کے بارے میں ہم کیا کہتے ہیں؟ «وَهُم مِنَ الصَّحَابَةِ، وَالصَّحَابَةُ كُلُّهُمْ عُدُولٌ»۔ وہ صحابہ میں سے ہے اور صحابہ سارے کے سارے عادل ہیں۔ یہ ارشاد فرماتے ہیں۔ تو صحابہ سارے کے سارے عادل ہیں، لہذا ہم صحابہ کے بارے میں تو یہی بات کہیں گے۔ ان کا معاملہ تو اللہ پاک نے صاف کر دیا، ﴿رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ﴾، ہاں جی، ان کا معاملہ تو اللہ نے صاف کر دیا، ان کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہتے۔ ان کے بارے میں ہم خاموش ہیں، ہاں ان کے ساتھ محبت کرتے ہیں، کیونکہ آپ ﷺ کے ساتھی ہیں۔ آپ ﷺ کے ساتھی ہیں، آپ ﷺ نے ہمیں روکا ہے ان کے خلاف بات کرنے سے، ان کے ساتھ محبت کو پسند فرمایا ہے، ان کے ساتھ بغض کو ناپسند فرمایا ہے، لہذا ہم صحابہ کے ساتھ بغض نہیں رکھتے، ہم صحابہ کے ساتھ محبت کرتے ہیں۔

لیکن جب صرف صحابہ کی بات آتی ہے، تو ان میں عام صحابہ بھی ہوتے ہیں، اہلِ بیت بھی ہوتے ہیں، اور امہات المومنین بھی ہوتے ہیں۔ لیکن اگر اہلِ بیت کا نام آ جائے، تو ان میں صرف وہ صحابہ صحابیات ہوں گے جو اہلِ بیت ہوں گے۔ اور اگر امہات المومنین کا نام آ جائے، تو ان میں صرف امہات المومنین ہی ہوں گی، اور کوئی نہیں ہو گا۔ لہذا ان چیزوں کو اگر ہم سمجھیں، تو بہت سارے واقعات ہمیں سمجھ میں آ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ مجھے بھی سمجھا دے آپ کو بھی۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ.


حبِ دنیا کے نقصانات اور صحابہ و اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کا مقام و مرتبہ - جمعہ بیان (اشاعت دوم)