اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ
فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.
اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِۙ اِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّیْطٰنُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوْاۚ وَ لَقَدْ عَفَا اللّٰهُ عَنْهُمْؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۠
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ اِذَا ضَرَبُوْا فِی الْاَرْضِ اَوْ كَانُوْا غُزًّى لَّوْ كَانُوْا عِنْدَنَا مَا مَاتُوْا وَ مَا قُتِلُوْاۚ لِیَجْعَلَ اللّٰهُ ذٰلِكَ حَسْرَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْؕ وَ اللّٰهُ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ(156) وَ لَىٕنْ قُتِلْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَحْمَةٌ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ(157) وَ لَىٕنْ مُّتُّمْ اَوْ قُتِلْتُمْ لَاِالَى اللّٰهِ تُحْشَرُوْنَ(158) فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْۚ وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ۪ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَ شَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرِۚ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِیْنَ(159)
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
تم میں سے جن لوگوں نے اُس دن پیٹھ پھیری جب دونوں لشکر ایک دوسرے سے ٹکرائے، درحقیقت ان کے بعض اعمال کے نتیجے میں شیطان نے ان کو لغزش میں مبتلا کر دیا تھا ۔ اور یقین رکھو کہ اللہ نے انہیں معاف کردیا ہے۔ یقیناً اللہ بہت معاف کرنے والا، بڑا بردبار ہے ﴿155﴾
یعنی جنگ سے پہلے ان سے کچھ ایسے قصور ہوئے تھے جنہیں دیکھ کر شیطان کو حوصلہ ہوا اور اس نے انہیں بہکا کر مزید غلطی میں مبتلا کردیا۔
انسان کا جو نفس ہے، وہ بھی جب اس کی بات آپ مانیں گے نا، تو آپ سے مزید مانگے گا، خواہشات کرے گا۔ تو نفس کا تقاضا بھی بڑھتا ہے اگر اس کی بات مانی جاتی ہے۔ اور شیطان کی جب بات مانی جاتی ہے تو اس کو جرات ہوتی ہے کہ یہ میرا شکار ہے، میں اس کو شکار کر سکتا ہوں۔
تو اس وجہ سے شیطان کے وسوسے کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے اور اس کی بات نہیں ماننی چاہیے اور نفس کو دبانا چاہیے تاکہ یہ دونوں طرف سے حملہ نہ ہو۔ ورنہ پھر یہ ہے کہ جب کبھی انسان نفس کی خواہش کو پورا کرتا ہے تو وہ مزید طاقتور ہوتا ہے اور آگے بڑھتا ہے اور ہم لوگوں کو نقصان میں پہنچاتا ہے۔
تو اس سے ہمیں اندازہ ہوا، کہ جیسے کہ فرمایا گیا ہے، کہ جو برائی ہے اس کا اس وقت سب سے پہلے نقصان ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ دوسری برائی آسان ہو جاتی ہے۔ اور جو اچھائی ہے، اس کا سب سے پہلے فائدہ یہ ہوتا ہے کہ دوسری اچھائی آسان ہو جاتی ہے۔ تو اس وجہ سے ہم لوگوں ہر وقت اس بات کا خیال رکھیں کہیں ہم شیطان کا نہ مانیں، اور نفس کی جو خواہشات ہیں اس کو پورا کرنے میں مبتلا نہ ہو جائیں۔
اور یقین رکھو کہ اللہ نے انہیں معاف کردیا ہے۔ یقیناً اللہ بہت معاف کرنے والا، بڑا بردبار ہے ﴿155﴾
اے ایمان والو! ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے کفر اختیار کرلیا ہے، اور جب ان کے بھائی کسی سرزمین میں سفر کرتے ہیں یا جنگ میں شامل ہوتے ہیں تو یہ اُن کے بارے میں کہتے ہیں کہ: ”اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے، اور نہ مارے جاتے۔“ (ان کی اس بات کا) نتیجہ تو (صرف) یہ ہے کہ اللہ ایسی باتوں کو ان کے دلوں میں حسرت کا سبب بنا دیتا ہے، (ورنہ) زندگی اور موت تو اللہ دیتا ہے۔ اور جو عمل بھی تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے ﴿156﴾
یہ انسان کی جو موت اور زندگی ہے اس کا تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ایک شخص کتنا ہی موت سے بھاگے لیکن وہ اپنے وقت پہ آ جاتی ہے۔ مطلب اس سے کوئی بھاگ نہیں سکتا۔ بلکہ یوں کہہ سکتے ہو موت کی طرف بھاگ رہا ہوتا ہے۔ مثلاً اس کی موت پشاور میں لکھی ہے، اور وہ کراچی میں ہے، تو وہ ڈرے گا کہ مجھے کہیں موت نہ آ جائے تو بھاگے گا، بھاگے گا کہاں؟ پشاور کی طرف اور ادھر اس کی موت آ جائے گی۔ مطلب یہ کہ آدمی موت سے بھاگ نہیں سکتا۔
تو جو لوگ اس قسم کی بات کرتے ہیں کہ اگر ہمارے ساتھ ہوتے تو یہ مبتلا نہ ہوتے یا مرتے نہیں، تو کیا وہ خود نہیں مرتے؟ ہر آدمی جنگ میں تو نہیں مرتا۔ وہ heart attack سے بھی مرتا ہے، بیماریوں سے مرتا ہے، کسی اور خوف سے مرتا ہے۔ تو یہ مرنے کے تو بہت سارے ذرائع ہیں صرف لڑائی اور جنگ تو نہیں ہے۔
اور اگر تم اللہ کے راستے میں قتل ہو جاؤ یا مر جاؤ، تب بھی اللہ کی طرف سے ملنے والی مغفرت اور رحمت اُن چیزوں سے کہیں بہتر ہے جو یہ لوگ جمع کررہے ہیں ﴿157﴾ اور اگر تم مر جاؤ یا قتل ہو جاؤ تو اللہ ہی کے پاس تو لے جا کر اکٹھے کئے جاؤ گے! ﴿158﴾ ان واقعات کے بعد اللہ کی رحمت ہی تھی جس کی بنا پر (اے پیغمبر!) تم نے ان لوگوں سے نرمی کا برتاؤ کیا۔ اگر تم سخت مزاج اور سخت دل والے ہوتے تو یہ تمہارے آس پاس سے ہٹ کر تتر بتر ہو جاتے۔ لہٰذا ان کو معاف کر دو، ان کے لئے مغفرت کی دُعا کرو، اور ان سے (اہم) معاملات میں مشورہ لیتے رہو۔ پھر جب تم رائے پختہ کرکے کسی بات کا عزم کرلو تو اللہ پر بھروسہ کرو۔ اللہ یقیناً توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے ﴿159﴾
تو اس میں یہ بات فرمائی گئی ہے کہ ایک انسان جب موت سے ڈرتا ہے اور بھاگتا ہے تو موت تو اس کو آنی ہے، وہ موت سے تو بچ نہیں سکتا۔ لیکن اگر وہ اللہ کی بات مانتا ہے اور لڑائی میں جم کے رہتا ہے تو اگر اس وقت شہید کیا جائے تو اس کو پھر شہادت ملتی ہے۔ اور شہادت تو بہت بڑا مرتبہ ہے۔ اللہ جل شانہ ان کو نواز دیتا ہے اس کے ذریعے۔
اور پھر یہ ہے کہ اللہ جل شانہ نے فرمایا کہ اے پیغمبر! تم لوگوں سے نرمی کا برتاؤ کیا کرو۔ یعنی دین سختی سے نہیں آیا، دین نرمی سے آیا ہے، ترغیب کے ساتھ آیا ہے۔ ہاں البتہ اگر کوئی دین میں نقصان پیدا کرنا چاہتا ہے تو پھر ان کے ساتھ سختی کی جاتی ہے۔ لیکن یہ نہیں کہ ان سے غلطی ہوتی ہے تو ان کے ساتھ سختی کی جاتی ہے۔ غلطی والوں کے ساتھ نرمی کی جاتی ہے، اور نقصان پہنچانے والوں کے ساتھ سختی کی جاتی ہے۔ یہ دونوں باتیں الگ الگ ہیں۔ یعنی قصداً اگر کوئی نقصان پہنچانا چاہتا ہے تو ان کے ساتھ تو پھر نرمی نہیں کی جاتی ہے کیونکہ اس کی سزا یہی ہے کہ ان کو سختی سے دبا دیا جائے۔ لیکن جو لوگ غلطی سے کوئی غلط کام کر بیٹھتے ہیں تو ان کے ساتھ نرمی کی جاتی ہے، ترغیب دی جاتی ہے، سمجھایا جاتا ہے تاکہ آئندہ اس قسم کی غلطی وہ نہ کریں۔
اس لیے فرمایا کہ
اگر تم سخت مزاج اور سخت دل والے ہوتے تو یہ تمہارے آس پاس سے ہٹ کر تتر بتر ہو جاتے۔
تو یہ والی بات ہے کہ اگر کوئی سخت ہوتا ہے تو ظاہر ہے ان کے ساتھ کوئی رہتا نہیں ہے۔ اصول نرم ہوں اور اس پر عمل سختی کے ساتھ کرایا جائے تو یہ تو فائدے کی بات ہے۔ مثال کے طور پر ٹریفک کے قوانین ہیں۔ اب ٹریفک کے قوانین صحیح ہوں، جس میں سب کا فائدہ ہو، تو ان پر سختی سے عمل کرنے میں مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو فائدہ پہنچے، یعنی سارے لوگ اس سے فائدہ اٹھائیں۔ اگر کسی کو چھوڑے اور کسی کو نہ چھوڑے، تو اس سے پھر ظاہر ہے سب لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ تو یہ الگ بات ہے۔ لیکن بہرحال یہ ہے کہ جو لوگ کام کروانے والے ہیں وہ پھر یہی ہوتا ہے کہ وہ نرمی کرتے ہیں، تب لوگ ان کے ساتھ جم کر کام کرتے ہیں۔
تو بہرحال یہ ہے کہ اللہ پاک نے ان کے بارے میں فرما دیا کہ ان سے اہم معاملات میں مشورہ لیتے رہو، اور پھر اگر کسی بات پر تم لوگوں کا دل آ جائے یعنی اس پہ عزم کر لو، تو پھر ان کے اوپر ڈٹے رہو اور اللہ جل شانہ جو توکل کرنے والے ہیں، جو اللہ پر بھروسہ کرنے والے ہیں، ان کے ساتھ محبت کرتا ہے۔ اللہ پاک ہمیں بھی ایسا بنا دے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔