نماز کے اخلاقی، تمدنی اور معاشرتی فائدے

اشاعت، اول :جمعرات، 17 ستمبر 2020

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • پابندیِ وقت: عملی زندگی میں کامیابی کا بنیادی راز
    • نماز بطورِ معیار: نظامِ زندگی کو ترتیب دینے کا بہترین پیمانہ
      • صبح خیزی: صحت، دولت اور قومی عروج کا زینہ
        • وقت کی قدر و قیمت: فضول مباحث اور لایعنی مصروفیات سے گریز
          • تزکیۂ نفس: نماز بے حیائی اور برائی سے بچاؤ کا مؤثر ذریعہ
            • یادِ الٰہی: اذان اور نماز کا روحانی و نفسیاتی اثر
              • اصلاحِ کِردار: نماز کی برکت سے گناہوں اور بدعات کا خاتمہ
                • جذبۂ استقامت: ہر حال میں نماز کی ادائیگی کی اہمیت (اسوۂ حسینی)

                  الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ!

                  فَأَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔


                  پابندی وقت:

                  انسان کی کامیاب عملی زندگی کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ اس کے تمام کام مقررہ اوقات پر انجام پائیں، انسان فطرتاً آرام پسند اور راحت طلب پیدا ہوا ہے، اس کو پابند اوقات بنانے کے لئے ضروری ہے کہ اس کے بعض کاموں کے اوقات جبراً مقرر کر دیئے جائیں، جیسا کہ کاروبار کے کاموں میں آپ کو یہ اصول نظر آتا ہے، اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنے دوسرے کاموں کے اوقات بھی ان کی خاطر مقرر کر لیتا ہے، اور اس طرح اس کی زندگی باقاعدہ ہو جاتی ہے، اور اس کا وقت فضول برباد نہیں ہوتا، نماز کے اوقات چونکہ مقرر ہیں، اس لئے وہ لوگ جو نماز کے پابند ہیں، خصوصاً نماز باجماعت کے، ان کے اوقات خود بخود منظم ہو جاتے ہیں، ان کے دن رات کے کام باقاعدہ انجام پاتے ہیں، اور نماز کے اوقات ان کے کاموں کا معیار ہو جاتے ہیں، وقت پر سونا اور وقت پر اٹھنا ان کے لئے ضروری ہو جاتا ہے، مشہور صحابی حضرت سلمان فارسیؓ کا مقولہ ہے:

                  ﴿الصَّلَاةُ مِكْيَالٌ فَمَنْ أَوْفَىٰ أَوْفَىٰ بِهِ وَمَنْ طَفَّفَ فَقَدْ عَلِمْتُمْ مَا لِلْمُطَفِّفِيْنَ﴾

                  نماز ایک پیمانہ ہے، جس نے اس کو پورا ناپا، اس کو پورا ناپ دیا جائے گا، اور جس نے ناپنے میں کمی کی، تو تمہیں کم ناپنے والوں کی سزا معلوم ہے۔

                  اس قول کے جہاں اور مطلب ہو سکتے ہیں، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نماز ہر مسلمان کے کام کا پیمانہ ہے، اسی سے اس کی ہر چیز ناپی جا سکتی ہے۔

                  مطلب یہ ہے کہ جو معاملہ آپ کا نماز کے ساتھ ہے، وہ آپ کا باقی معمولات کے ساتھ بھی چل پڑے گا۔ یعنی آپ کی زندگی کے جو دوسرے کام ہیں وہ نماز کی نہج پر آ جائیں تو ان کے اندر انتظام آ جائے گا۔ ان کے اندر نظام آ جائے گا۔ مثال کے طور پر جیسے ایک امام کے پیچھے ہم کھڑے ہوتے ہیں، اور وہ اللہ اکبر کہتا ہے، ہم بھی اللہ اکبر کہتے ہیں، وہ جھکتا ہے تو ہم بھی جھکتے ہیں، وہ اٹھتا ہے تو ہم بھی اٹھتے ہیں۔ یہ امیر کی اطاعت کی بات ہو گئی۔ کہ مطلب یہ ہے کہ معاشرے کے اندر امیر کی اطاعت کا مطلب کیا ہے۔ تو یہ تمام چیزیں جو ہماری نماز کے اندر جو اللہ پاک نے رکھی ہیں، ان سے ہماری معاشرت ساری کی ساری بہتر ہو جاتی ہے۔ معاشرت بہتر ہو جاتی ہے۔


                  5۔ صبح خیزی:

                  طب اور حفظان صحت کے اصول سے رات کو سویرے سونا اور صبح کو طلوع آفتاب سے پہلے بیدار ہونا جس درجہ ضروری ہے، وہ مخفی نہیں، جو لوگ نماز کے پابند ہیں، وہ اس اصول کی خلاف ورزی کبھی نہیں کر سکتے، جب تک رات کو وقت پر سویا نہ جائے گا، صبح کو وقت پر آنکھ نہیں کھل سکتی، اسی لئے آنحضرت ﷺ نے رات کو نماز عشاء کے بعد بے کار باتیں کرنے سے اور قصہ کہانی سے منع فرمایا ہے تا کہ وقت پر سونے سے وقت پر آنکھ کھل سکے، اور صبح خیزی مسلمانوں کی عادت ہو جائے، اور صبح کو مؤذن کی پر تاثیر آواز:

                  ﴿الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ﴾

                  سونے سے نماز بہتر ہے۔

                  ان کو بے تابانہ اپنے خواب کے بستر سے اٹھا دے۔

                  یہ بات، یعنی واقعتاً جن قوموں نے بھی دنیا پر حکومت کی ہے، ان کے اندر سحر خیزی کا وہ موجود ہے۔ صبح سویرے اٹھنا۔ صبح سویرے اٹھنا، یہ ان کے معمولات میں ہوا کرتا ہے۔ یہ ہماری جو فوج ہوتی ہے، ان کو یہ Training ہے، اس میں بھی یہ چیز شامل ہوتی ہے۔ کہ صبح سویرے اٹھنا اور پھر ان کے کچھ معمولات ہوتے ہیں، ان کو کرنا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو دن کی ابتدا ہے، وہ آپ کے تمام اعمال کا انتظام کرتی ہے۔ جس طرح آپ ابتدا کرتے ہیں، باقی آپ کا دن اسی طریقے سے چلتا ہے۔ یہ ہم نے دیکھا ہے کہ اب لوگ یہ جو لیٹ اٹھتے ہیں، اور لیٹ ناشتہ کرتے ہیں گیارہ بجے تقریباً بعض لوگ ناشتہ کرتے ہیں، تو ان کا ناشتہ گیارہ بجے جب ہو گیا تو ان کا Lunch کس وقت ہو گا پھر؟ ان کا Lunch ہو گا چار بجے۔ اور ان کا Dinner کس وقت ہو گا پھر؟ ظاہر ہے وہ رات کے گیارہ بجے ہو گا۔ اب گیارہ بجے Dinner کرے گا، تو سوئے گا کس وقت؟ اگر جلدی سوتا ہے اس کے فوراً بعد تو بیمار۔ اور اگر دیر کرتا ہے تو نماز گئی۔ اب کتنا نقصان ہوا؟ یعنی دیر سے ناشتہ کرنے کا کتنا نقصان ہے؟ یہ ایک معاشرتی نقصان ہے۔ اگر ذرا بھی ہم اس کے ان تمام عواقب کے اوپر نظر دوڑائیں تو ہمیں خود ہی پتہ چل جائے گا کہ سحر خیزی جو ہے، یہ بہت بڑی دولت ہے۔ سحر خیزی بہت بڑی دولت ہے۔ میں آپ کو ایک بات بتاؤں، بہت اہم بات سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ دیکھیں! عموماً لوگ خبریں سنتے ہیں۔ سنتے ہیں نا؟ اور سردیوں میں نو بجے کافی دیر ہوتی ہے۔ تو نو بجے خبروں کے لیے، نو بجے تک وہ جاگتے رہتے ہیں۔ اب یہ خبریں جو ہیں، آج کل مثال کے طور پر یہ ساری کی ساری آپ کے Mobile پر موجود ہوتی ہیں پہلے سے۔ نہیں تو آپ صبح اس کو دیکھ سکتے ہیں۔ اب خبریں سننے کے لیے، مطلب وہ نہ فرض ہے، نہ واجب ہے، نہ سنت ہے، نہ مستحب ہے۔ اس کے لیے آپ کون سی چیز کو قربان کر رہے ہیں؟ نماز کو قربان کر رہے ہیں فجر کی۔ کتنا بڑا نقصان کر رہے ہیں کون سی چیز کے لیے؟ جس کو آپ ویسے بھی کر سکتے ہیں۔

                  ایک دفعہ ایسا ہوا تھا مجھ سے میں میرے بعض ساتھیوں نے پوچھا کہ آپ TV دیکھتے ہیں خبریں؟ میں نے کہا نہیں۔ اخبار؟ میں نے کہا اتنا زیادہ نہیں۔ تو پھر آپ کو پتہ کیسے چلتا ہے؟ میں نے کہا پتہ چلتا ہے نا آپ جو کہہ رہے ہیں وہ سارا مجھے پتہ چل رہا ہے نا۔ کون سی بات ہے جو مجھ سے چھپی ہوئی ہے اور آپ کو پتہ ہے اور مجھے پتہ نہیں ہے؟ وہ جو خبر ہوگی وہ مجھے پہنچ جائے گی، اور جو خبر نہیں ہوگی، فضول بات ہوگی، تو میں اس کے پیچھے کیوں پڑوں؟ خوامخواہ ان کے پیچھے میں اپنا وقت کیوں ضائع کروں؟ اور جو اصل خبر ہوگی، وہ تو سب جگہ پھیل جاتی ہے۔ وہ تو مطلب یہ ہے کہ وہ آپ نہیں بھی سننا چاہتے تو آپ سن لیتے ہیں۔ تو ضرورت ہی کیا ہے کہ آپ اس کے لیے اتنا بڑا نقصان کر لیں۔ تو یہ اصل میں شیطانی باتیں ہیں ورنہ صحیح بات یہ ہے کہ انسان بہت آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے کہ ہم کتنی معمولی چیز کے لیے کتنی بڑی چیز کا نقصان کر رہے ہیں۔ فجر کی نماز، سبحان اللہ! کتنی بڑی چیز ہے۔ اس کو کون سی چیز کے لیے ہم قربان کر رہے ہیں؟ کیا چیز ہے وہ؟ اور فضول گپ شپ، ویسے ہی ادھر ادھر کی باتیں۔ یہ وہ سارا، اس کا کوئی سر نہ پیر۔

                  اور سیاسی مباحثیں۔ خدا کے بندو! سیاسی مباحثے میں نہیں منع کرتا کہ وہ نہیں ہونے چاہئیں، لیکن ہر وقت نہیں ہونے چاہئیں۔ اس کا ایک طریقہ ہوتا ہے۔ مطلب ظاہر ہے آپ اس سے بے شک اپنے آپ کو باخبر رکھیں، لیکن جب ضرورت ہو تو اس کو پھر استعمال بھی کر لیں۔ صحیح لوگوں کو پہچان بھی لیں۔ صرف سیاسی بحث کرنے سے اور سیاسی باتیں سوچنے سے آپ کو کیا فائدہ ہو گا؟ اس کا سب سے بڑا مظاہرہ اسلام آباد میں ہوتا ہے۔ کہ اسلام آباد میں بہت سارے لوگ ووٹ نہیں ڈالتے۔ اور سب سے زیادہ سیاسی بحثیں اسلام آباد میں ہوتی ہیں۔ آپ کو پتہ ہے؟ بہت سارے لوگ ووٹ نہیں ڈالتے۔ کیوں، وہ دوسری جگہوں پہ ہوتے ہیں ان کے تو، پہنچ جاتے ہیں، وہ ووٹ کے دنوں میں ادھر ادھر چلے جاتے ہیں۔ یہاں پر ان کے ووٹ ویسے پڑے رہتے ہیں۔ اور کیا ہے، بحث سب سے زیادہ یہاں پر ہوتی ہیں سیاسی۔ تو خوامخواہ اپنے آپ کو اور اپنے اوقات کو ضائع کرنا یہ کون سا طریقہ ہے؟ تو ان چیزوں کے لیے اپنے آپ کو انسان محروم نہ کرے، اتنی بڑی نعمت سے۔

                  6۔ اللہ کا خوف:

                  ایک مسلمان جو نماز پڑھتا ہے، جب کبھی غلطی سے یا بشری کمزوری سے اس کا قدم ڈگمگاتا ہے، تو رحمت الٰہی اس کا ہاتھ تھام لیتی ہے، اس کو اپنے فعل پر ندامت ہوتی ہے، اس کو اپنے خدا کے سامنے جاتے ہوئے شرم آتی ہے، اس کا ضمیر اس کو ملامت کرتا ہے، وہ لوگوں سے اس بناء پر شرماتا ہے کہ وہ کہیں گے کہ یہ نمازی ہو کر اس قسم کے افعال کا مرتکب ہوتا ہے، کہ اس کے پاؤں بدی کے راستہ پر پڑتے وقت کانپتے ہیں، غرض نماز انسان کے اخلاقی حاسہ کو بیدار کرتی ہے اور برائیوں سے بچاتی ہے، اور خود خدا نے نماز کا وصف یہ بیان کیا ہے:

                  ﴿إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ﴾

                  (سورۃ العنکبوت: 45)

                  بے شک نماز بے حیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے۔

                  دیکھیں سب سے زیادہ نقصان جو ہوتا ہے انسان کو، اس سے ہوتا ہے کہ انسان کو یاد نہ ہو کوئی چیز۔ یعنی ایک ضروری چیز یاد نہ ہو۔ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ بہت ضروری بات ہوتی ہے اور آپ کو وقت پہ یاد نہیں رہتی۔ تو بعد میں آپ افسوس کرتے ہیں کہ اوہو! یہ کیا ہو گیا دیکھو میں بھول گیا تھا۔ کاش میں اس کو یاد کر لیتا تو مجھے یہ نقصان نہ ہوتا۔ تو اب یہ بات ہے کہ سب سے بڑی بات کہ انسان کو اگر اللہ یاد نہ رہے تو گناہوں میں پڑ جاتا ہے اور اپنی عاقبت سے غافل ہو جاتا ہے۔ اب ایسی صورت میں اگر اللہ تعالیٰ آپ کو یاد رہے یا آپ کو کوئی یاد دلائے تو کتنی اچھی بات ہو گی؟ اب یہ پانچ وقت جو نماز آپ پڑھتے ہیں، یہ آپ کو یاد دلا رہی ہے، یاد دلا رہی ہے۔ یہ چیز اتنی زیادہ شیطان کے اوپر بھاری ہے کہ اللہ کو یاد دلانے والی سب سے بڑی چیز جو ہے نا وہ اذان ہے۔ سب سے بڑی چیز کیا ہے؟ اذان ہے۔ اس وجہ سے شیطان اذان سے سب سے زیادہ گھبراتا ہے، اور جس وقت اذان ہو رہی ہے تو بہت ڈر کے مارے پیچھے بھاگتا ہے۔ بہت دور چلا جاتا ہے۔ پھر جس وقت وہ ختم ہو جاتی ہے، پھر واپس آتا ہے۔ کیوں؟ وجہ کیا ہے؟ اس کو پتہ ہے کہ اس کا وزن کیا ہے۔ اس کا زور کیا ہے۔ اس کو پتہ ہوتا ہے۔ اللہ اکبر کا کیا زور ہے، حی علی الصلاۃ کا کیا زور ہے، حی علی الفلاح کا کیا زور ہے۔ یہ آدمی کو اس وقت پتہ چلتا ہے جب ایسے ملک میں چلا جاتا ہے جہاں اذان کی آواز نہیں سنائی دیتی۔ پھر پتہ چلتا ہے کہ اذان کیا چیز ہے۔ اذان کا کیا Influence ہے۔ جس وقت یہ بوسنیا آزاد ہو گیا، تو یہ بوسنیا تقریباً یورپ کا مرکز ہے۔ تو اس کی جو مرکزی جامع مسجد ہے، اس سے اذان جو ہو رہی تھی، BBC نے اس کو سنوایا تھا، مطلب پورے ریڈیو پر جو ہے نا وہ۔ تو مجھے بھی رونا آ گیا۔ میں نے کہا آج کفر پر کتنا بڑا لرزہ طاری ہو گا کہ عین یورپ کے وسط میں جامع مسجد سے اذان کی آواز پوری دنیا میں جا رہی ہے۔

                  یہ کتنی بڑی نعمت ہے۔ تو اس طریقے سے یہ بہت بہت بڑی بات ہے کہ کوئی چیز آپ کو یاد دلائے کہ تم اللہ کے بندے ہو۔ اور تمہیں اللہ پاک سے ڈرنا چاہیے، اور اللہ تعالیٰ کی بات ماننی چاہیے۔ تو نماز کے اندر یہ خوبی ہے کہ آپ کو اذان کے ذریعے سے اور پھر نماز کے ذریعے سے اللہ یاد دلاتا ہے اور پھر اس کے بعد آپ کو تنبیہ ہو جاتی ہے اگر کچھ غلط کاموں میں انسان مصروف ہوتا ہے تو اگر اس نے واقعی نماز پڑھی ہے، تو اس کو شرم و حیا بھی آ جاتی ہے۔ کچھ خیال بھی آ جاتا ہے کہ میں کیا کر رہا ہوں تو توبہ کرنے کی توفیق بھی ہو جاتی ہے۔

                  ایک صاحب تھے وہ فلم کا عادی تھا، لیکن تھا نمازی۔ فلم کا عادی تھا۔ تو اس نے کہا کہ میں نے، ہاف ٹائم ہوتا تھا نا ہاف ٹائم فلم کا۔ کہتا اس میں میں نے جماعتیں کرائی ہیں، کیونکہ تھا نمازی اور باوضو، باوضو فلم دیکھتا تھا۔ تو وہ ادھر جا کر بس وہ چند کپڑے اپنے ساتھ لے جا کر بچھا کے اذان بھی دیتا تھا اور لوگ ان کے ساتھ جو ان کی طرح ہوتے تھے، تو نماز پڑھ لیتے تھے، چاہے پانچ چاہے چھ چاہے سات۔ اسی نماز نے اس کو فلم سے روک دیا۔ کیسے؟ پشاور کے میرا خیال میں ہاں تین سینما اکٹھے ہیں ایک جگہ پہ، یہ ایک جگہ پہ تین سینما اکٹھے ہیں۔ اس میں سے ایک میں اس کی بڑی پسندیدہ فلم لگی ہوئی تھی۔ اور کافی دور سے اس کے لیے آیا تھا، اپنے گاؤں سے آیا تھا۔ تو ظاہر ہے اس کا وہ عادی تھا، ہاف ٹائم میں نماز پڑھنے کا وہ عادی تھا۔ تو ہاف ٹائم میں جب نماز کے لیے نکلا تو وہاں کوئی مسجد اس کو نظر نہیں آئی۔ بہت Busy علاقہ ہے۔ تو کوئی مسجد اس کو نظر نہیں آئی۔ تو جس سے بھی پوچھتا تھا، اس کو بھی پتہ نہیں تھا۔ تو حیران تھا کہ کیا کیسا علاقہ ہے پشاور اور وہاں پر مسجد کی جگہ نہیں ہے کہ کیسے عجیب بات ہے؟ تو خیر بہرحال وہ نماز کو چھوڑ نہیں سکتا تھا، تو وہ چلتا جا رہا تھا جا رہا تھا ادھر ہاف ٹائم کا وقت ختم ہو گیا، لیکن وہ نماز کو چھوڑ نہیں سکتا تھا۔ تو اتنے میں ایک چھوٹی سی مسجد کہیں مزار کے پاس، کسی کوئی مزار کے پاس ایک چھوٹی سی مسجد، مطلب اس (خانقاہ) کی آدھی بھی نہیں، مطلب اس سے آدھی سے بھی کم، اتنی چھوٹی سی مسجد تھی وہاں پر، آپ کہہ سکتے ہیں گویا ایک کمرہ ہی ہو گا۔ وہاں پر وہ پہنچ گیا، تو شکر ادا کیا اس نے کہا اور جا کر اندر جا کر جیسے ہی نیت باندھی، اس کے دل پہ یہ بات اتری کہ کب تک اس چیز کے... اب چھوڑ بھی دو نا یہ فلم دیکھنا، چھوڑ بھی دو۔ قبولیت ہو گئی نا، مطلب ظاہر ہے۔ اس نے جو محنت کی یا قربانی کی نماز کے لیے تو بس قبولیت ہو گئی، تو اس کے دل میں یہ بات آ گئی خود ہی۔ بتا رہے ہیں کہ کب تک یہ چیز رہے گی؟ اچھا پھر جس وقت اس نے نماز پوری کی، اس کے بعد اس نے یہ ہوشیاری کی، اس نے کہا کہ اگر میں نے یہ فلم آدھی میں چھوڑ دی نا، تو یہ مجھے بار بار اس پہ مجبور کرے گا کہ پتہ نہیں اس کے بعد کیا ہوا؟ پتہ نہیں اس کے بعد کیا ہوا؟ تو خوامخواہ میری توبہ ٹوٹ جائے گی تو اس کو دیکھو پھر توبہ کر لو۔ تو اس نے اس کو مکمل کیا اور پھر اس کے بعد ہمیشہ کے لیے توبہ کر لی۔ یہ ایک واقعہ ہے۔ سمجھ میں آ گئی نا بات۔

                  تو یہ نماز کی بالکل صاف کرامت ہے کہ نماز نے اخیر میں اس کو روک ہی دیا نا۔ چونکہ اس نے فلم کے لیے نماز نہیں چھوڑی، تو نماز نے اس کو فلم کا نہیں چھوڑا۔ اس نے ماشاءاللہ اس نے وہ جو ہے نا فلم اس سے چھڑوا دی۔ تو اسی طریقے سے اگر ہم کسی غلط سوسائیٹی کے لیے نماز نہ چھوڑیں، تو نماز آپ کو غلط سوسائیٹی سے بالآخر نکال ہی دے گی، نکال ہی دے گی۔ نماز کو کسی حالت میں بھی نہ چھوڑو۔ کسی حالت میں بھی نہ چھوڑو۔ یعنی ایسی ہو کہ بالکل جیسے آپ کہہ دیں، یعنی آپ دیکھیں امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کس وقت سجدہ کیا تھا؟ کون سا وقت تھا وہ؟ بالکل جب وقتِ شہادت، اس وقت اس نے یہ سجدہ کیا ہے۔ تو یہ بہت اونچی چیز ہے۔ بہت اونچی چیز ہے۔ لہٰذا نماز کو کسی حالت میں بھی چھوڑنا نہیں چاہیے۔ اور نماز کو پڑھنا چاہیے۔ نماز آپ کو ماشاءاللہ اپنی طرف لے ہی آئے گی۔


                  نماز کے اخلاقی، تمدنی اور معاشرتی فائدے - درسِ سیرۃ النبی ﷺ - دوسرا دور