گھر سے نکلنے کی مسنون دعا اور اس کی فضیلت

درس نمبر 123- باب فی الیقین والتوکل حدیث نمبر 83 - اشاعتِ اول: 21 نومبر، 2022، بمطابق 27 ربیع الثانی 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

·      گھر سے نکلتے وقت پڑھی جانے والی دعا کے الفاظ

·      دعا پڑھنے والے کے لیے غیبی بشارتیں (ہدایت، کفایت اور حفاظت)

·      بندے کے توکل پر شیطان کی بے بسی اور پسپائی

·      شریعت کے مستحب اعمال میں حفاظت کا عظیم تصور

·      "لا حول ولا قوۃ" کے ذریعے عاجزی اور اللہ پر کامل اعتماد کا اظہار

·      دنیاوی حوادث و نقصانات سے بچاؤ اور اللہ کی امان کا حصول

الحمد للہ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ۔

گھر سے نکلتے ہوئے اللہ پر توکل کرنا چاہئے

(83) ﴿العاشر: وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ قَالَ يَعْنِي إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهٖ، بِسْمِ اللهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللهِ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، يُقَالُ لَهُ: هُدِيتَ وَكُفِيتَ وَوُقِيتَ، وَتَنَحَّى عَنْهُ الشَّيْطَانُ"﴾

(رواه أبو داود و الترمذي، والنسائي وغيرهم. وقال الترمذي: حديث حسن، زاد أبوداؤد: "فيقول: یعنى الشيطان لشيطان آخر: كَيْفَ لَكَ بِرَجُلٍ قَدْ هُدِيَ وَكُفِيَ وَوُقِيَ؟")

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص گھر سے نکلتے وقت کہے ”اللہ کے نام سے نکلا ہوں، اللہ پر توکل کیا، گناہ سے بچنے اور نیکی کرنے کی توفیق اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے“ تو اس کو کہا جاتا ہے تو ہدایت دیا گیا، کفایت کیا گیا، بچایا گیا اور شیطان اس سے دور ہو جاتا ہے۔“

ابوداؤد ترمذی اور نسائی وغیرہم نے اس کو روایت کیا، ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن ہے، ابوداؤد نے یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں ”ایک شیطان دوسرے شیطان سے کہتا ہے ترا اس آدمی پر کیسے بس چلے گا جو ہدایت دیا گیا، کفایت کیا گیا اور اس کو بچا لیا گیا۔“

ایک دوسری روایت میں یہ دعا کچھ زیادہ وضاحت سے آئی ہے جس کے آخر میں یہ الفاظ بھی زائد ہیں۔

فَتَنَحَّى لَهُ الشَّيْطَانُ وَيَقُولُ شَيْطَانٌ آخَرُ كَيْفَ لَكَ بِرَجُلٍ قَدْ هُدِيَ وَكُفِيَ وَوُقِيَ. ”اس کے بعد شیطان اس سے دور ہو جاتا ہے، دوسرا شیطان پہلے شیطان سے کہتا ہے کہ اس پر اب کیسے قابو کیا جاسکے گا جسے راہ راست دکھائی گئی اور غیر سے مستغنی کر دیا گیا اور تمام برائیوں سے بچا لیا گیا ہے۔“

یہ دعا پڑھنا اگرچہ علمائے کرام نے مستحب لکھا ہے۔ مگر دیکھیں کہ شریعت مطہرہ کے مستحب کاموں میں بھی کتنی حفاظت ہے تو پھر سنن واجبات اور فرائض میں کتنی حفاظت ہوگی۔ یہ دعا پڑھ کر آدمی نے اللہ کی ذات پر توکل و اعتماد کیا اور "لاحول" کے ذریعہ سے اپنے آپ کو عاجز جانا۔ اس پر اللہ کی طرف سے اس کو ہدایت کا انعام ملا، مطلب یہ ہوا کہ ہدایت نام ہے اس بات کا کہ بندہ اللہ کو یاد کرے اور اس پر اعتماد کامل رکھنے کے ساتھ اپنے تمام امور کو اللہ کی طرف سپرد کر دے۔ بقول ایک فارسی شاعر کے:

کار خود را بخدا بار گذار

کس نمی بینم ازیں بہتر کار

تخریج حدیث: سنن ترمذی ابواب الدعوات (باب ما جاء ما يقول اذا خرج من بيته) وسنن ابى داؤد كتاب الادب (باب مايقول اذا خرج من بيته) والنسائى فى عمل اليوم و الليلة 89 ابن حبان 822، ابن ماجة و الحاكم 519/1 ايضاً.

یہ دعا ہمیں سیکھنی چاہیے۔ بہت مختصر دعا ہے: بِسْمِ اللّٰهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ۔

کوئی مشکل نہیں ہے۔ یہ بِسْمِ اللّٰهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ تو ویسے بھی لوگ میرے خیال میں کسی کام کی ابتدا کرنے کے لیے کہتے ہیں، اور وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِیِّ الْعَظِيمِ بھی، یہ تو عام لوگوں کو معلوم ہے۔ لہٰذا ان دونوں کو جوڑنے سے یہ دعا بن جاتی ہے: بِسْمِ اللّٰهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ۔

یہی ہمارے لیے کامیابی کے راستے ہیں۔ کیونکہ انسان جب بھی باہر جاتا ہے، تو expose ہوتا ہے بہت ساری چیزوں کو، جن میں کافی سارے نقصانات ہو سکتے ہیں، حادثات ہو سکتے ہیں، مشکلات ہو سکتی ہیں۔ تو ایسی صورت میں جب انسان اللہ کی امان میں آ جائے، تو ظاہر ہے ان تمام چیزوں سے بچت ہو جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسی پیاری پیاری دعاؤں کو باقاعدگی کے ساتھ پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔