حقیقتِ کفر و ایمان اور عذاب کی نوعیت

دفتر اول: مکتوب نمبر 266 (حصہ دہم ) - اشاعتِ اول: 24 جنوری، 2018

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلٰمِيْنَ

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ

أَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ


آج بدھ کا دن ہے۔ بدھ کے دن ہمارے ہاں حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوبات شریفہ کا درس ہوتا ہے۔ اور آج کل عقائد کی بات چل رہی ہے اس میں۔ مکتوب شریف جو ہے اس میں عقائد ماشاءاللہ بیان کیے جا رہے ہیں۔ تو عقیدہ نمبر19، اس کا سلسلہ چل رہا ہے۔



گزشتہ سے پیوستہ 

فرمایا: اور اگر یہ کہا جائے کہ کفر کے علاوہ بعض گناہوں کی سزا بھی عذابِ دوزخ آئی ہے جیسا کہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَ مَن يَقۡتُلۡ مُؤۡمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِيْهَا﴾ (النساء: 93) "جو شخص کسی مومن کو قصداً قتل کرے، پس اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا" اور اخبار (احادیث شریفہ) میں ہے کہ جو شخص قصدًا ایک نماز فرض قضا کرے تو اس کو ایک حقبہ (یعنی اَسّی سال) دوزخ میں عذاب دیا جائے گا۔ لہذا دوزخ کا عذاب صرف کافروں کے لئے ہی مخصوص نہ رہا (اور تم کہتے ہو کہ دوزخ کا عذاب کافروں کے لئے ہی مخصوص ہے)

(جواب میں) میں کہتا ہوں کہ یہ عذاب اس قاتل کے لئے مخصوص ہے جو قتل کو حلال جانے کیونکہ قتل کو حلال جاننے والا کافر ہے۔ جیسا کہ مفسرین نے بیان کیا ہے۔ اور کفر کے علاوہ دوسرے گناہوں کے لئے بھی دوزخ کا عذاب آیا ہے۔

اصل میں ایک ہوتا ہے نہ ختم ہونے والا عذاب اور ایک ہوتا ہے محدود عذاب۔ کچھ عرصے کے لیے، وہ کچھ عرصہ کچھ بھی ہوسکتا ہے، بہت زیادہ بھی ہوسکتا ہے، اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔ تو یہ جو گناہوں کا جو عذاب ہو سکتا ہے یعنی ایمان کے ساتھ وہ جو ہے یہ محدود عذاب ہوتا ہے۔ اور جو کفر والا عذاب ہے، یہ لامحدود ہے۔

اور کفر جو ہے یہ اصل میں کسی بھی چیز، جو کہ اللہ جل شانہٗ نے ہمارے لیے لازم کی ہو کہ اس پر ایمان لانا، اس میں اگر کوئی شک کرے یا کوئی اس کا انکار کر لے، تو وہ کفر ہوتا ہے۔ مثلاً کوئی سارے انبیائے کرام کو مانے لیکن موسیٰ علیہ السلام کو پیغمبر نہ مانے تو کافر ہوگا، حالانکہ اس نے سارے انبیاء کو مانا ہے۔ سارے فرشتوں کو مانتا ہو لیکن اسرافیل علیہ السلام کو نہ مانے تو کافر ہوگا۔ مثال کے طور پر عرض کرتا ہوں۔ اس طریقے سے قرآن پاک کی کسی ایک آیت سے بھی انکار کفر ہے۔

تو اس وجہ سے یہ جو فرمایا کہ جو قتل کو حلال جانے، اب قتل حرام ہے تو قتل کو جو حلال جانے گا تو اس نے شریعت کو نہیں مانا۔ تو اس وجہ سے وہ کافر ہو جائے گا۔ یا کفر کی کسی بات کو پسند کرنا،یہ بھی کفر ہے۔ کفر کی کسی بات کو پسند کرنا یہ بھی کفر ہے۔ تو یہ جو چیز ہے اس پہ انسان کو بعض دفعہ ہو جاتا ہے، انسان سمجھتا ہے شاید یہ گناہ ہے۔ گناہ نہیں ہوتا، وہ کفر ہوتا ہے لیکن اس کو علم نہیں ہوتا۔ ہاں البتہ یہ ہے کہ جو گناہ کفر نہیں ہیں، مطلب کفر کی طرف نہیں جاتے، تو ان کے لیے محدود عذاب ہوگا اور وہ بھی اگر اللہ پاک معاف کرنا چاہے تو معاف کر سکتا ہے۔ یعنی اللہ پاک تو مختار ہے۔ جس کے گناہ کو بھی معاف کرنا چاہے تو معاف کر سکتا ہے۔

اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جو توبہ کرتا ہے تو اس کے گناہوں کو معاف کرتا ہوں چاہے وہ سمندر کی جھاگ کے برابر کیوں نہ ہوں۔ تو جو توبہ کرتے ہیں، ان کے تو اللہ تعالیٰ گناہ معاف فرماتے ہیں، لہٰذا توبہ کرتے رہنا چاہیے۔ اور جس وقت کسی چیز کی فضیلت سن لے تو انسان اس پر فوراً عمل کر لے، اس عمل کا نور نصیب ہو جاتا ہے۔ تو آئیے ہم سب توبہ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کی توبہ کو قبول فرمائے۔ اللہ تعالیٰ، ہم توبہ کرتے ہیں تمام گناہوں سے، چھوٹے گناہوں سے بھی، بڑے گناہوں سے بھی، جو ہمیں معلوم ہیں، جو ہمیں معلوم نہیں ہیں، جو قصداً ہوئے، جو خطا سے، جو ظاہر کے، باطن کے سارے گناہوں سے توبہ کرتے ہیں، ہماری توبہ اے اللہ قبول فرما لے۔

وہ بھی صفاتِ کفر کے شائبہ سے خالی نہیں ہے، جیسا کہ اس گناہ کو معمولی سمجھنا اور اس کے ارتکاب کے وقت بے پروائی کرنا اور شرعی اوامر و نواہی کو بے کار و خوار سمجھنا وغیرہ وغیرہ۔ خبر (حدیث) میں ہے: شَفَاعَتِي لِأَهْلِ الْکَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي : ”میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لئے ہو گی“ اور دوسری جگہ فرمایا ہے کہ: أُمَّتِی أُمَّۃٌ مَّرْحُومَۃٌ لَّا عَذَابَ لَہَا فِی الْآخِرَۃِ: ”میری امت، امت مرحومہ (رحم کی ہوئی) ہے اس کے لئے آخرت میں عذاب نہیں ہے“۔ اور آیۂ کریمہ: ﴿اَلَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَ لَمْ يَلْبِـسُوٓا إِيْمَانَـهُـمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓئِكَ لَـهُـمُ الْأَمْنُ﴾ (الانعام: 82) ترجمہ: ”جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان میں شرک کو ملوث نہیں کیا، ان کے لیے امن ہے“۔ بھی اس معنی کی تائید کرتی ہے، جیسا کہ اوپر بیان ہوا۔اور مشرکوں کے بچوں کے احوال، اور پہاڑوں پر رہنے والے، اور پیغمبروں کے زمانۂ فترت کے مشرکوں کا حال، اس مکتوب (دفتر اول مکتوب 259) میں جو فرزندی محمد سعید رحمۃ اللہ علیہ کے نام تحریر ہوا ہے، مفصل مذکور ہو چکا ہے وہاں ملاحظہ کر لیں۔

اور ایمان کے کم و زیادہ ہونے میں علماء کا اختلاف ہے۔ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: اَلْإِیْمَانُ لَا یَزِیدُ وَ لَا یَنْقُصُ (ایمان نہ زیادہ ہوتا ہے نہ کم) اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یَزِیدُ وَ یَنْقُصُ (ایمان زیادہ اور کم ہوتا ہے) اور اس میں شک نہیں کہ ایمان سے مراد تصدیق اور یقین قلبی ہے جس میں زیادتی و کمی کی گنجائش نہیں، لہذا جو ایمان کہ کمی و زیادتی کو تسلیم کرے وہ دائرہ ظن میں داخل ہے نہ کہ یقین کے درجے میں۔ ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ اعمالِ صالحہ کا بجا لانا اس یقین کو جِلا دیتا ہے اور غیر صالح اعمال کا بجا لانا یقین کو مکدر کر دیتا ہے۔ لہذا (ایمان کی) کمی و زیادتی اعمال کے اعتبار سے اس یقین کو روشن و جِلا کرنے میں ثابت ہوئی نہ کہ نفسِ یقین میں۔

اصل میں یہ بڑا عجیب نکتہ ہے۔ ایمان کو یعنی وہ کیا سمجھیں۔ ایمان ہے مطلب ماننے سے تعلق رکھتا ہے۔ Recognize کرتے ہیں ہم، جیسے کوئی آئین کو مانتا ہے۔ تو یہ ظاہر ہے ایمان کی طرح ہے۔ جو آئین کو نہیں مانتا وہ باغی ہے۔ اب آئین میں کسی چیز پہ عمل نہیں کرتا، وہ مجرم ہے۔

تو اس طریقے سے جو ایمان رکھتا ہے تو وہ کیا ہے؟ وہ بنیاد اس کو حاصل ہو گئی۔ بنیاد اس کو حاصل ہو گئی۔ Zero اور One۔ یہ Zero کفر ہے اور One ایمان ہے آپ کہہ سکتے ہیں۔ اب کسی بھی چیز کو Zero سے ضرب دی جائے گی تو نتیجہ کیا نکلے گا؟ Zero نکلے گا! اور کسی چیز کو One سے ضرب دی جائے تو نتیجہ کیا نکلے گا؟ وہی نکلے گا جس سے ضرب دی ہے۔ ہزار سے ضرب دی ہے تو ہزار، اگر پچاس ہزار سے ضرب دی تو پچاس ہزار، اگر ایک ارب سے ضرب دی تو ایک ارب۔ پس یوں سمجھ لیجیے کہ One یہ تو ایمان ہے، بنیاد ہے۔ بنیاد بن گیا۔ اب اس کے بعد جتنی نیکیاں کرو تو آپ اس One سے ضرب دے رہے ہیں آپ اس کو۔ آپ کی اس کی نیکیاں باقی ہیں۔ وہ اس کے حساب سے۔ اور اگر ایمان نہیں ہیں، نہیں اگر مطلب ایمان نہیں ہے، تو صفر سے ضرب دو چاہے کتنی ہی کو۔

لہٰذا میں اپنے Students کو اکثر یہ Formula بتایا کرتا تھا، سمجھانے کے لیے کہ:

Q = K (alpha, beta, gamma, delta...)

جتنا بھی ہے۔ اب alpha, beta, gamma, delta یہ ایمانیات ہیں۔ یعنی ہر چیز پر ایمان، اس میں alpha ہے تو جیسے اللہ پر ایمان، beta ہے رسولوں پر ایمان، gamma کتابوں پر ایمان۔ اب اس میں سے کوئی بھی Zero ہوا نا، تو ظاہر ہے وہ گیا، سارا کچھ گیا۔ کوئی بھی Zero ہوا۔ اور اگر سارے One ہیں، تو پھر K ہے۔ پھر K ضرب One is equal to K ۔ ٹھیک ہے نا؟ مطلب یہ ہے کہ پھر جو K کی Value ہے، وہی اس کی Q کی Value ہے۔

لہٰذا ہم لوگ جو ایمان کو کہتے ہیں ﴿لَا يَزِيدُ وَلَا يَنْقُصُ﴾ وہ One والی بات ہے۔ اور وہ جو حضرات فرماتے ہیں کہ ﴿يَزِيدُ وَيَنْقُصُ﴾ انہوں نے ایمان کے ساتھ کیفیت کو شامل کر لیا ہے۔ کیفیتِ ایمان۔ کیفیتِ ایمان کم و زیادہ ہوتی ہے؟ کیفیتِ ایمان کا دارومدار اعمال پر ہے۔ کیفیت کا دارومدار کس چیز پر ہے؟ حضرت نے بھی اس چیز کو سمجھایا ہے۔ ذرا غور کریں کہ حضرت نے وہی فرمایا، یقین کو مکدر کر دیتا ہے، تو کیا چیز ہے یہ؟ مطلب یہ ہے کہ اس نے اس کو اثر، اثر اس پہ ڈالا۔

تو یہ جو چیز ہے، امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی بہت اونچی تحقیق ہے حضرت کی۔ میں دیکھتا ہوں نا کہ حضرت کی تحقیق بعض دفعہ ایسے وقت میں ثابت ہوتی ہے کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے۔ یہ شفقِ احمر و ابیض پہ میں کام کر رہا تھا۔ تو شفقِ ابیض جو ہے، یہ اس کے لیے جو Degree ہے، وہ Fixed ہے۔ وہ Fixed ہے۔ مطلب یہ ہے کہ 18 Degree پر غائب ہوتی ہے، شفقِ ابیض۔ چاہے موسم کچھ بھی ہو۔ ہاں بادل ہو تو مطلب ظاہر ہے مطلب نظر نہیں آئے گا لیکن ہوگا تو سہی۔ لیکن یہ ہے Fixed۔ کیونکہ شفقِ ابیض کیا چیز ہے؟ یہ Seven lights ہیں، Seven سات روشنیاں ہیں، اس سے بنی ہے۔ تو لہٰذا اس پہ موسم اثر انداز نہیں ہوتا۔ Humidity, temperature, dust یہ تمام چیزیں اس پہ اثر انداز... کم و بیش ہوگی لیکن ہوگی، رہے گی ضرور۔ یعنی dim ہو سکتی ہے لیکن غائب نہیں ہو سکتی۔ جبکہ جو سرخ light ہے نا، شفقِ احمر جس کو کہتے ہیں، اس پہ موسم اثر انداز ہوتا ہے۔

اس پہ موسم اثر انداز ہوتا ہے۔ یعنی Humidity ہوگی تو یہ زیادہ دیر تک رہے گی۔ Humidity نہیں ہوگی، خشک ہوگا تو کم دیر میں ختم ہو جائے گی۔ یعنی degree کے لحاظ سے، time کے لحاظ سے نہیں، degree کے لحاظ سے۔ یعنی عین ممکن ہے کہ آج ساڑھے بارہ degree پہ غائب ہو جائے اور کل ساڑھے چودہ پہ غائب ہو جائے۔ ممکن ہے اگلے دن پندرہ پہ غائب ہو جائے، ممکن ہے اگلے دن پھر تیرہ پہ غائب ہو جائے۔ یعنی vary کرتی ہے۔ تو اب دیکھیں امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی جو تحقیق ہے شفقِ ابیض والی، اس کی calculation ممکن ہے۔ جبکہ شفقِ احمر کی calculation ممکن نہیں ہے۔ اس کی calculation ممکن نہیں ہے۔ وہ آپ کو مشاہدہ کرنا پڑے گا۔

یا تو مشاہدہ کرو، یا پھر امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق پر عمل کرو۔ دونوں باتوں میں سے ایک بات ہے۔ یا تو پھر مشاہدہ کرو۔ تو مشاہدہ شفقِ احمر کا آسان ہے کیونکہ وہ light کی موجودگی میں بھی نظر آ جاتا ہے۔ یعنی محسوس ہے کیونکہ ایک رنگ ہے نا، مشاہدہ اس کا آسان ہے۔ لیکن آج کل مشاہدہ کرتا کون ہے؟ مسئلہ یہ ہے نا! مشاہدہ کوئی نہیں کرتا۔ تو سب مجھ سے پوچھتے ہیں لوگ، اکثر علمائے کرام پوچھتے ہیں مجھ سے کہ شفقِ احمر کی کیا degree ہے؟ میں نے کہا یہ تو مجھے بھی پتہ نہیں۔ کیونکہ ساڑھے بارہ سے لے کر ساڑھے سولہ تک میں نے مختلف اوقات میں مختلف دیکھا ہے۔ تو میں اس پہ کوئی fix بات نہیں کر سکتا۔ اگر آپ نے عمل کرنا ہے شفقِ احمر پہ، تو پھر مشاہدہ کرو۔ اور اگر عمل calculation پہ کرنا ہے، تو پھر شفقِ ابیض ہے۔ کیونکہ وہ اس کی Degree fixed ہے۔

تو یہ اس لیے میں عرض کرتا ہوں کہ حضرت کی جو تحقیق ہوتی ہے بہت اعلیٰ درجے کی تحقیق ہوتی ہے۔ اس وجہ سے اس وقت کی موجودگی میں بھی جن حضرات نے ان کے ساتھ اختلاف کیا تھا، تو ان میں سے بعض نے یہ فرمایا: "ہم حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ اس لیے اختلاف کر رہے ہیں کہ ان کی بات تک ہم پہنچ نہیں رہے۔ ان کی بات تک ہم پہنچ نہیں رہے۔ اگر ان کی بات تک پہنچ جائیں تو اختلاف نہیں رہے گا۔"

اور واقعتاً جو بھی پہنچے ہیں تو پھر وہ ایسے مداح بن گئے کہ یہ خود واقعہ لکھا ہے حضرت عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کا، کہ وہ کسی جگہ گئے غالباً شام تھا، تو ایک محدث جو ان کے استاذ تھے، ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ تو اس استاذ نے ان سے پوچھا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں؟ انہوں نے کہا میں کوفہ سے آیا ہوں۔ انہوں نے کہا اچھا! یہ کوفہ میں ابو حنیفہ کون ہے جو دین میں نئی نئی باتیں نکالتا ہے؟ تو امام صاحب چونکہ عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کے بھی استاذ تھے، وہ بھی استاذ تھے یہ بھی استاذ، اب درمیان میں کچھ کہہ نہیں سکتے تھے تو خاموش ہوگئے۔ اب ان سے بھی کچھ نہیں کہہ سکتے تھے اور یہ بھی استاذ تھے۔ لیکن اتنا کیا کہ اگلے دن ایک کاغذ پر امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے جو انہوں نے کچھ مسئلے سنے تھے، بڑے تحقیقی مسئلے تھے، وہ انہوں نے لکھ دیے، "قال النعمان"، ابو حنیفہ نہیں لکھا، "قال النعمان"، ان کے نام سے۔ اور وہ لکھا اور حضرت کو اگلے دن پیش کر دیا۔

انہوں نے پڑھا، ایک ایک مسئلہ پڑھتے ہیں: واہ واہ واہ! کیا بات ہے، کیا بات ہے، کیا عالم ہے، سبحان اللہ کیا بات ہے! اب بہت زیادہ تائید اور بہت زیادہ خوش ہو رہے ہیں۔ جب پورا پڑھ لیا تو انہوں نے کہا: "یہ نعمان کون ہے؟" انہوں نے کہا: "حضرت یہ وہی ہے جس کو آپ

ابو حنیفہ کہتے ہیں، اور فرماتے ہیں کہ نئی نئی باتیں نکالتے ہیں۔ یہ وہی بزرگ ہیں جو میرے استاذ ہیں۔ یہ نئی باتیں نہیں نکالتے، ہاں تحقیق کرکے بات کرتے ہیں۔" تو فوراً کہنے لگے: "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ! اف استغفراللہ، استغفراللہ، استغفراللہ، میں نے تو بڑا ظلم کیا اپنے اوپر میں نے اتنے بڑے آدمی کے بارے میں اس قسم کی بات کی۔ اللہ کرے میری ان سے ملاقات ہو جائے میں ان سے معافی مانگوں۔"

اور پھر عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ الحمدللہ مجھے اللہ پاک نے وہ دن دکھایا کہ جب حرم شریف میں یہ دونوں استاذ میرے مل رہے تھے، حضرت (امام صاحب) تو ہر سال حج پہ جاتے تھے نا! ہر سال حج پہ جاتے تھے۔ تو جب میرے دونوں استاذ آپس میں مل رہے تھے، تو بار بار میرے وہ محدث استاذ کہتے تھے کہ: "مجھے آپ معاف کر لیں، میں نے آپ کے بارے میں اس قسم کی باتیں کی ہیں تو آپ مجھے معاف کر دیں۔" بار بار معافی مانگ رہے تھے۔ یہ اصل میں، یہ مقام ہے حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا۔ بہت اونچا مقام ہےعلمی لحاظ سے اور سمجھ کے لحاظ سے، بہت اونچا مقام ہے۔

ٹھیک ہے ہم دوسرے ائمہ کو غلط نہیں کہتے، وہ بھی بڑے اولیاء ہیں، بہت بڑے اولیاء ہیں اور ہمارے سروں کے تاج ہیں۔ لیکن یہ میں آپ کو صاف بتاؤں کہ اللہ پاک نے ہمیں امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے مذہب پہ جو پیدا فرمایا ہے، بہت بڑی نعمت ہے۔ کیونکہ ان کی جو تحقیقات ہیں... جتنا عرصہ گزرے گا تو مزید الحمد للہ اس میں Clarity آتی جائے گی وقت کے ساتھ ساتھ۔ جیسے میں نے ابھی شفقِ ابیض والی بات کی، یہ تو میرے خیال میں بہت سارے حنفیوں کو بھی معلوم نہیں ہے۔ معلوم ہے؟ بہت سارے حنفیوں کو بھی معلوم نہیں ہے! لیکن بہرحال وہ بہت بڑی نعمت ہے۔

ایک جماعت جس نے یقین کو جِلا یافتہ اور روشن معلوم کیا تو اس نے اس یقین کی نسبت جو جِلا یافتہ اور روشن نہیں، زیادہ کہہ دیا۔ گویا بعض لوگوں نے غیر متجلی یقین کو یقین ہی نہیں سمجھا اور انہی میں سے بعض نے متجلی کو یقین جان کر غیر متجلی کو ناقص کہہ دیا اور دوسرے گروہ نے جو نظر کی تیزی اور بصیرت رکھتے تھے دیکھا کہ یہ کمی و زیادتی یقین کی صفات کی طرف راجع ہے نہ کہ نفسِ یقین کی طرف۔

حضرت نے بھی یہی بات یہ فرمائی ہے نا! فرمایا:

جو نظر کی تیزی اور بصیرت رکھتے تھے، دیکھا کہ یہ کمی اور زیادتی یقین کی صفات کی طرف راجع ہیں، نہ کہ نفسِ یقین کی طرف۔

یعنی یقین کی صفت میں کمی زیادتی ہو رہی ہے لیکن یقین کی ذات میں نہیں، نفسِ یقین میں نہیں۔ مطلب یہ اس طرح ہو رہی ہے۔

جیسے شفقِ ابیض کا میں نے کہہ دیا، شفقِ ابیض Fixed ہے، لیکن موسم کے حالات اس کو Dim کر سکتے ہیں، تیز کر سکتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ اس کی میرے خیال میں بہت اچھی مثال ہے۔ dim کر سکتے ہیں، تیز کر سکتے ہیں، تو میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ شفقِ ابیض تبدیل ہو گئی۔ شفقِ ابیض تو fixed ہے وہ تو تبدیل نہیں ہو رہی! یہ صرف اس کی جو روشنی ہے وہ کم و بیش ہو رہی ہے، شفق تبدیل نہیں ہو رہی، ٹھیک ہے نا!

اس وجہ سے انہوں نے یقین کو غیر زائد و ناقص کہہ دیا۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے دو آئینے جو باہم برابر ہوں لیکن روشنی اور نورانیت میں تفاوت رکھتے ہوں، جب ایک شخص اس آئینے کو دیکھتا ہے جس میں جلا اور روشنی زیادہ ہے اور وہ نور اور روشنی کی نمائندگی زیادہ کرتا ہے تو وہ کہہ اٹھتا ہے کہ یہ آئینہ دوسرے آئینے سے زیادہ روشن ہے کیونکہ اُس میں جلا و روشنی زیادہ نہیں ہے۔ دوسرا شخص یہ کہتا ہے کہ یہ دونوں آئینے (کمی و زیادتی میں) برابر ہیں البتہ فرق صرف جلا کی نمائندگی کا ہے جو ان دونوں کی صفات ہیں۔

آئینے کی صفت کیا ہے؟ منعکس کرنا! اب تیز روشنی آئی تو تیز روشنی منعکس کرے گی۔ اور کم آئے گی تو کم کو منعکس کرے گی۔ تو آئینے پہ کیا فرق پڑا؟ آئینے پہ تو کوئی فرق نہیں پڑا! آئینہ تو وہی ہے نا! آئینہ تو وہی ہے۔ تو یہ حضرت کی بھی بہت زبردست عمدہ مثال ہے جو فرمایا ہے آئینے کی مثال، اور یہ جو شفقِ ابیض والی بات ہم نے کی، یہ بھی ماشاءاللہ بہت اچھے موقع کی مثال ماشاءاللہ، اللہ پاک نے نصیب فرمائی ہے۔

البتہ فرق صرف جلا کی نمائندگی کا ہے جو ان دونوں کی صفات ہیں۔ پس دوسرے کی نظر صائب ہے اور شئے کی حقیقت تک رسائی رکھتا ہے اور پہلے شخص کی نظر ظاہر پر ہے لہذا کوتاہ ہے اور صفت سے ذات تک نہیں پہنچی ہے

یہ حضرت کا میدان ہے نا! صفات اور ذات۔ اس پہ حضرت کلام فرماتے رہتے ہیں نا! تو حضرت نے اس پہ بات فرما دی۔

﴿يَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ﴾

(المجادلہ: 11) تم میں سے ایمان والوں کے اور ان لوگوں کے جن کو علم عطا ہوا ہے، درجے بلند کرے گا" اس تحقیق سے کہ جس کے اظہار کے لیے اس فقیر کو توفیق بخشی گئی، مخالفین کے اعتراضات جو انہوں نے ایمان کے زیادہ اور کم نہ ہونے پر کیے تھے، زائل ہو گئے۔ الحمدللہ۔

اور عام مومنوں کا ایمان تمام وجوہ میں انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے ایمان کے مثل نہیں ہوا۔ کیونکہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کا ایمان تمام تر جِلا یافتہ اور نورانی ہے جو ثمرات اور نتائج کئی گنا زیادہ رکھتا ہے۔ ان عام مومنوں کے ایمان کے مقابلے میں، جو اپنے اپنے درجات کے فرق کے لحاظ سے بہت ساری ظلمتیں اور کدورتیں رکھتا ہے۔ اسی طرح حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایمان، کہ جو وزن میں تمام امت کے ایمان سے زیادہ ہے، اس کو بھی جِلا اور نورانیت کے اعتبار سے سمجھنا چاہیے اور زیادتی کو صفاتِ کاملہ کی طرف راجع کرنا چاہیے۔

حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے یہ منقول ہے نا کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایمان اور ایک عام گناہگار کا ایمان برابر ہے۔

یہ بہت بڑی بات تھی، کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ تو اصل میں صفتِ ایمان کی بات حضرت فرما رہے تھے نا! تو صفتِ ایمان تو برابر ہے نا۔ دیکھو صاف بات سنو، ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اللہ کو مانتے تھے، ہم بھی مانتے ہیں۔ وہ اللہ کو ایک مانتے تھے، ہم بھی اللہ کو ایک مانتے ہیں۔ وہ تمام پیغمبروں کو مانتے تھے، ہم بھی تمام پیغمبروں کو مانتے ہیں۔ اچھا وہ تمام کتابوں کو مانتے تھے، ہم بھی تمام کتابوں کو مانتے ہیں۔ مجھے بتاؤ کون سی چیز ہے جو ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ مانتے تھے اور ہم نہیں مانتے؟ کوئی ایسی چیز ہے؟ اگر ایسی ہوگی تو کفر میں چلے جائیں گے! تو پتہ چلا کہ ایمان تو برابر ہے نا! جو ایمان ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہے، وہی ایمان ہمارا بھی ہے۔

لیکن کیفیتِ ایمان میں فرق ہے۔ آخر کیفیتِ احسان سب کو حاصل ہوتی ہے؟ مجھے بتاؤ اللہ ہے، یہ کون نہیں مانتا؟ ایمان تو ہے نا! لیکن کیا اللہ تعالیٰ کو ہر وقت ہر کوئی ایک جیسا محسوس کرتے ہیں؟ ایک جیسا تو محسوس... تو یہ کس چیز پر منحصر ہے؟ آپ ﷺ نے جو فرمایا: ﴿أَنْ تَعْبُدَ اللهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ﴾ یہ کیفیتِ احسان ہے۔ اب اس میں یہ والی بات ہے کہ اگر یہ کیفیتِ احسان سب کو حاصل ہے، تو پھر محنت کس بات کی ہے؟ تو سب کو تو حاصل نہیں ہے۔ تو جب سب کو حاصل نہیں ہے تو سب کی حالت ایک جیسی نہیں ہے۔ سب کی حالت ایک جیسی نہیں تو کون سی چیز میں فرق ہے؟ ایمان میں فرق ہے؟ ایمان میں تو فرق نہیں ہے! کیفیت میں فرق ہے! اب ذرا غور سے سنو! تین سوال کیے گئے تھے آپ ﷺ سے، مَا الْإِيمَانُ؟ مَا الْإِسْلَامُ؟ مَا الْإِحْسَانُ؟ مَا الْإِيمَانُ میں ایمانیات آگئے۔ مَا الْإِسْلَامُ میں اعمال آگئے۔ اور مَا الْإِحْسَانُ میں کیفیات آگئیں۔

پس تین چیزیں ممکن ہیں۔ ایک شخص ایسا بھی ممکن ہے جو مومن ہو لیکن اس کا کوئی عمل نہ ہو، کوئی کیفیت نہ ہو، صحیح ہے۔ ممکن ہے۔ دوسرا شخص ایسا ممکن ہے کہ اس کا ایمان بھی صحیح ہو، مومن ہو، اس کے اعمال بھی ہوں۔ لیکن کیفیات ساتھ نہ رکھتا ہو۔ اور تیسرا وہ ہے کہ جو مومن بھی ہو، جو عمل بھی کرتا ہو اور ساتھ ساتھ ان کی کیفیت بھی صحیح ہو۔ تو کامل کون ہوگا؟ آخری۔ پھر اس کے بعد کون ہوگا؟ دوسرے نمبر۔ پھر اس کے بعد کون ہوگا؟ تیسرا مرتبہ۔

دیکھیں ذرا غور کرو، اللہ پاک نے قرآن پاک میں جو فرمایا ہے ولایت کے لیے، دو قسم کی آیات ہیں۔ ایک آیت یہ ہے: ﴿اللهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ﴾ یہاں پر یہ فرمایا کہ اللہ مومنین کا دوست ہے۔ ان کو ظلمات سے نور کی طرف نکالتا ہے۔ اچھا یہاں پر ایمان کے ساتھ کچھ شامل نہیں ہے۔ اس کا مطلب محض ایمان جو ہے، یہ بھی اللہ پاک کی دوستی کا ذریعہ ہے۔ کفر کے مقابلے میں۔ کفر کے مقابلے میں! دوستی کا... یعنی کافر نہیں ہے اور مسلمان دوست ہے۔ پہلی بات ثابت ہو گئی۔

دوسری قسم کی جو آیت ہے، وہ کیا ہے؟ ﴿أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ﴾ "آگاہ ہو جاؤ جو اللہ کے اولیاء ہیں ان کو نہ خوف ہوگا نہ ان کو غم ہوگا"۔ اور وہ کیا ہوں گے؟ "جو ایمان لا چکے اور جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا ہوگا" یہاں تقویٰ کی شرط ہے۔ اچھا، تقویٰ کی شرط ولایتِ خاصہ کے لیے ہے، ولایتِ عامہ کے لیے نہیں ہے۔ پس اگر میں کسی عام گناہگار سے گناہگار آدمی کو بھی کہہ دوں "اے اللہ کے ولی"، تو غلط نہیں ہوگا۔ اس آیت کے مطابق، اگر میں کہہ دوں "اے اللہ کے ولی"، تو بالکل ٹھیک ہے، مطلب غلط نہیں ہے۔ لیکن جس وقت ہم اولیاء کی باتیں کر رہے ہوں گے تو کن کی باتیں کر رہے ہوں گے؟ ان اولیائے خاص ولایتِ خاصہ والوں کی باتیں کر رہے ہوں گے۔ ٹھیک ہے نا! عام آدمی بھی اس کو سمجھتا ہے۔ تو پتہ چل گیا کہ دیکھیں، جو صرف ایمان رکھتا ہے تو ایمان میں وہ جو کیفیتِ احسان ساتھ بھی رکھتا ہے، ان میں فرق کس چیز کا ہوا؟ ایمان کا فرق ہوا؟ ایمان کا تو فرق... کمی بیشی کس چیز میں ہے؟ کیفیت میں ہے۔ بس یہی بات ہے نا! وہ سب بات ثابت ہوگئی نا! ہاں، یہی بات حضرت نے فرمائی ہے۔


جاری ہے، ان شاء اللہ



حقیقتِ کفر و ایمان اور عذاب کی نوعیت - درسِ مکتوباتِ امام ربانیؒ - دوسرا دور