اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ!
فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔
ثُمَّ لْيَقْضُوا تَفَثَهُمْ وَلْيُوفُوا نُذُورَهُمْ وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ. ذٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ حُرُمَاتِ اللهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ عِندَ رَبِّهٖ وَأُحِلَّتْ لَكُمُ الْأَنْعَامُ إِلَّا مَا يُتْلٰى عَلَيْكُمْ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ. حُنَفَاءَ لِلّٰهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِهٖ وَمَن يُشْرِكْ بِاللهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ. ذٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ. لَكُمْ فِيهَا مَنَافِعُ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ. وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنسَكًا لِّيَذْكُرُوا اسْمَ اللهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ فَإِلٰهُكُمْ إِلٰهٌ وَاحِدٌ فَلَهُ أَسْلِمُوا وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِينَ. الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَالصَّابِرِينَ عَلٰى مَا أَصَابَهُمْ وَالْمُقِيمِي الصَّلَاةِ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ. وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُم مِّن شَعَائِرِ اللهِ لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللهِ عَلَيْهَا صَوَآفَّ فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ كَذَٰلِكَ سَخَّرْنَاهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ. لَن يَنَالَ اللهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِن يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنكُمْ كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللهَ عَلٰى مَا هَدَاكُمْ وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِينَ۔
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
معزز خواتین و حضرات! بہت بڑا دن ہے اور اللہ جل شانہ کے فضل کے دروازے کھلے ہیں۔ اور اللہ جل شانہ کے عاشقوں کے اعمال کو اللہ پاک نے جو دوام بخشا ہے اس کے مظاہرے ہو رہے ہیں، الحمد للہ۔
اصل میں بعض لوگ کہتے ہیں جی فلاں چیز کا فلسفہ کیا ہے؟ فلسفے کا تعلق اس کے ساتھ نہیں ہے۔ فلسفہ تو ایک عقلی چیز ہے۔ اور سوچ بچار میں لوگ لگے ہوئے ہوتے ہیں لیکن اگر اللہ پاک کی طرف سے ہدایت اور رہنمائی نہ ہو تو بے شک ہم کتنے ہی عقلمند ہوں اپنی عقل سے ان چیزوں تک نہیں پہنچ سکتے جس کا ذکر اللہ پاک نے قرآن میں یہاں پر کیا ہے۔
مجھے بتائیں کیا عقل سے یہ بات سمجھ میں آ سکتی ہے کہ باپ اپنے بیٹے کو قربان کرے؟ عقل سے بات سمجھ میں آ سکتی ہے؟ عقل سے بات سمجھ میں نہیں آ سکتی۔ لہٰذا ان چیزوں کا فلسفے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ البتہ اس کا تعلق محبت کے ساتھ ہے، عبدیت کے ساتھ ہے، اللہ کے تعلق کے ساتھ ہے۔ اور یہ چیز چونکہ انبیاء کرام میں سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ اور انبیاء کرام ہر چیز کو اپنے دل کی بصیرت سے سامنے دیکھ رہے ہوتے ہیں جو ہم لوگوں کو بتایا جاتا ہے، وہ حضرات دیکھتے ہیں۔
تو اگرچہ یہ خواب تھا جو ابراہیم عليه السلام نے خواب دیکھا کہ میں اپنے بیٹے کو ذبح کر رہا ہوں، تو ہمارے خوابوں کی تو اتنی بڑی حیثیت نہیں ہوتی لیکن نبی کا خواب وحی ہوتا ہے۔ تو انہیں پتہ چل گیا کہ اللہ پاک کو یہ مطلوب ہے کہ میں اپنے بیٹے کو ذبح کروں۔ اب یہ تو ابراہیم عليه السلام ہیں جو پیغمبر ہیں، نبی ہیں۔ اسماعیل عليه السلام ابھی چھوٹے ہیں، اور بعد میں نبی بننے والے ہیں، لیکن اس وقت ان کی عمر بہت کم ہے۔ ان چیزوں کی سمجھ ایسے بچوں کو کہاں ہوا کرتی ہے؟ تو ابراہیم عليه السلام اپنے بیٹے سے پوچھتے ہیں: "بیٹا میں نے تجھے خواب میں ذبح کرتے ہوئے دیکھا ہے، تیرا کیا خیال ہے؟" فَانْظُرْ مَاذَا تَرٰی
اسماعیل عليه السلام کا جواب سن لیں۔ اسماعیل عليه السلام فرماتے ہیں: "اے میرے ابا جان! کر گزریے جو آپ کو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے، مجھے آپ صابرین میں سے پائیں گے۔" تو دیکھیں پورا پتہ ہے اسماعیل عليه السلام کو بھی کہ اب کیا ہونے والا ہے۔ تو ابراہیم عليه السلام لے جا رہے ہیں اسماعیل عليه السلام کو قربان کرنے کے لیے، شیطان جل اٹھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ یہ کیسا نظارہ ہے؟
سب سے پہلے تو یہ ہاجرہ بیوی رضی الله عنها کے پاس آئے کہ تیرے بیٹے کو ذبح کرنے کے لیے لے جا رہے ہیں۔ اس نے کہا: "جا، یہ کون سی بات تو کر رہا ہے۔" وہاں سے آ کر اسماعیل عليه السلام کے پاس آتے ہیں، اسماعیل عليه السلام سے کہتے ہیں: "پتہ ہے تجھے باپ قربان کرنے کے لیے لے جا رہا ہے؟" اسماعیل عليه السلام نے کنکریاں لی اور ان کو ماریں اور وہ وہاں غائب ہو گیا۔ اس کے بعد دوسری جگہ پر پھر شیطان آتا ہے اور پھر یہی بات کہتا ہے، پھر اسماعیل عليه السلام ان کو کنکریاں مارتے ہیں، غائب ہو جاتا ہے۔ پھر تیسری بار بھی ایسا ہوتا ہے۔
تو اب اسماعیل عليه السلام اپنے والد سے کہہ رہے ہیں: "اے میرے ابا جان! آپ جب مجھے ذبح کر رہے ہوں تو مجھے اوندھے منہ لٹا دیں۔ اپنی آنکھوں پہ پٹی باندھ دیں، اور تیز چھری سے مجھے ذبح کریں تاکہ اللہ کے حکم میں کوئی تاخیر نہ ہو۔" ابراہیم عليه السلام ایسا ہی کرتے ہیں، اب چھری پھیرتے ہیں، چھری چل نہیں رہی۔ کیوں؟ اللہ کا حکم ہے۔
اب یہاں پر دو باتیں کھلتی ہیں، اور بہت اہم باتیں ہیں۔ ایک ہوتے ہیں تشریعی احکام، اور ایک ہوتے ہیں تکوینی احکام۔ جو تشریعی احکام ہیں وہ یہ بات ہے کہ یہ کرنا جائز ہے، ناجائز ہے، یہ ہونا چاہیے، نہیں ہونا چاہیے، اور اگر کوئی اس کی خلاف ورزی کرتا ہے پھر اس پر سزا بھی ہوتی ہے۔ اور ایک ہیں تکوینی احکام کہ اللہ تعالیٰ نے جو حکم دے دیا جس چیز کو وہ ہو جاتا ہے اس طرح۔ آگ کو حکم دیا ہے جلانے کا، وہ جلاتی ہے۔ پانی کو حکم دیا ہے ڈبونے کا، وہ ڈبوتا ہے۔ سورج جل رہا ہے اللہ کے حکم سے، اور ہم کھانا کھاتے ہیں سیر ہو جاتے ہیں اللہ کے حکم سے، یہ تکوینی احکام۔ اب چھری کا تکوینی حکم کیا ہے؟ کہ کاٹو۔ لیکن اللہ پاک اپنا تکوینی حکم کبھی کبھی واپس کر لیتے ہیں، جیسے ابراہیم عليه السلام پر آگ کو گلزار کر دیا، آگ کو جلانے کا حکم نہیں تھا، لہٰذا نہیں جلا سکی۔ اور چھری کو اللہ پاک نے نہ کاٹنے کا حکم دیا اس وقت، اسی وقت۔ تو نہیں کاٹ سکی۔ اس سے علمائے کرام نے یہ بات نکالی ہے کہ یہ جو تکوینی احکام ہیں یہ مسلسل چلے آ رہے ہیں، مسلسل چلے آ رہے ہیں جیسے سورج سے مسلسل Photons نکل کے ہماری طرف آ رہے ہوتے ہیں پوری کائنات میں پھیل رہے ہوتے ہیں، تو یہ اسی طریقے سے مسلسل احکامات آ رہے ہوتے ہیں یہ کرو، یہ نہ کرو، یہ کرو، یہ نہ کرو، مسلسل یہ چیز چل رہی ہوتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ جس وقت روک دے بس اس وقت رک جاتا ہے۔ تو چھری کو اس وقت حکم ہوا نہ کاٹو اور ابراہیم علیہ السلام کو حکم تھا کاٹو۔ ابراھیم علیہ السلام نے شریعت کے مطابق عمل کیا۔ تشریعی حکم تھا اس پر عمل کرلیا اور چھری نے تکوینی حکم پر عمل کرلیا۔ دونوں اپنی اپنی طرح حکم پورا کر رہے ہیں اللہ پاک کا لیکن دونوں کے حکموں میں اختلاف ہے اس وجہ سے علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اللہ جل شانہ امتحان کے لیے کبھی ایک کو حکم دیتا ہے اور دوسری چیزوں کو دوسرا حکم دیتا ہے کیوں کہ اللہ پاک کا نظام ہے اللہ پاک چلاتے ہیں۔ تو جس وقت یہ حالت۔۔۔ تو اللہ پاک نے جبرئیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ فوراً چلے جاو مینڈھے کو جنت سے لیکر فوراً اسماعیل علیہ السلام کی جگہ اس کو لٹا دو ابراھیم علیہ السلام کے سامنے۔ یہ بہت ایمرجنسی کا حکم تھا جبرئیل علیہ السلام کے لیے اور جبرئیل علیہ السلام مینڈھے کو کر فوراً آتے ہیں اسماعیل علیہ السلام کو ہٹاتے ہیں اور ان کے سامنے مینڈھے کو رکھ دیتے ہیں۔ اب معاملہ کلیئر ہوگیا حکم چھری کو ہوگیا اب کاٹ سکتی ہو۔ اب ابراھیم علیہ السلام نے خوب زور سے چھری چلائی کیوں کہ اللہ پاک کا حکم پورا کرنا تھا اور چھری چل پڑی، کٹ لگ گیا، ابراھیم علیہ السلام نے آنکھیں کھولیں کہ کام ہوگیا۔ لیکن جب دیکھا تو مینڈھا ذبح ہوا ہے اور اسماعیل علیہ السلام سائیڈ میں کھڑے ہیں حیرت ہوئی کہ کیا ہوا! بات کیا ہے؟ اللہ کی طرف سے حکم آتا ہے، وحی آتی ہے۔ "اے ابراہیم تو نے اپنا خواب سچا کر کے دکھایا۔"
اب اس سے دوسرا حکم نکلتا ہے دیکھیں علمائے کرام فرماتے ہیں کہ انسان جب کوشش کرتا ہے کسی کام کے کرنے کی، اور وہ کام نہ ہونے پائے، اللہ کے حکم سے نہ ہونے پائے، نہ ہو سکے، پھر بھی اللہ پاک اس کو اس کام کا اجر عطا فرما لیتے ہیں۔ کوئی شخص تہجد کے لیے ساری تیاری کر لیتا ہے، الارم لگا دے، ہر طرح سے اپنے آپ کی تیاری کر لے کہ میں نے تہجد پڑھنی ہے، لیکن سارے سسٹم فیل ہو جائیں اور وہ نہ اٹھ سکے، اس کو تہجد کا ثواب ملے گا۔ کیونکہ اس نے پوری کوشش کی تھی، لیکن چونکہ نہ اٹھ سکا، اس کو ثواب ملے گا۔ اور عین ممکن ہے کہ جنہوں نے تہجد کی نماز پڑھی ہو ان سے زیادہ مل جائے۔ کیونکہ اس کو قلق ہوگا، پریشانی ہوگی کہ یہ کیا ہو گیا؟ لیکن اللہ کے نزدیک اس نے تہجد پڑھی ہوئی ہے، کیونکہ اس نے پورا، پورے طور پر عمل کرنے کا ارادہ کر لیا تھا۔
تو میں اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ یہ باتیں عشق کی ہیں، محبت کی ہیں، اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کی ہیں۔ اب اس سے پتہ چلا کہ اسماعیل عليه السلام ذبح نہیں ہوا، مینڈھا ذبح ہوا، لیکن وہ ایسے اللہ پاک نے مان لیا جیسے کہ اسماعیل عليه السلام ذبح ہوا ہے۔ اور پھر اللہ نے یہ حکم چلا دیا آگے، اب ہم جو قربانی کرتے ہیں یہ تو آج کل کا جانور ہے، لیکن اللہ پاک اس مینڈھے کی طرح اس کو لیتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ علمائے کرام نے فرمایا ہے کہ اگر عید الاضحیٰ کے دن کوئی اربوں روپے خیرات کر دے، اور قربانی نہ کرے تو یہ خسارے میں ہے۔ کیونکہ اس نے واجب کو چھوڑا، مستحب کو ادا کر دیا۔ واجب کو چھوڑا ہے، یہ گناہ گار ہے۔ دوسرا آدمی ہے، اس نے قربانی کر لی، اور سارا گوشت خود کھا لیا۔ قربانی کر لی اور سارا گوشت خود کھا لیا، کسی کو اس میں نہیں دیا۔ سبحان اللہ! یہ اس شخص سے اچھا ہے کہ اس نے واجب پر عمل کر لیا، ہاں مستحب پہ عمل نہیں کیا، سمجھ میں آ گئی نا بات؟ مستحب یہ تھا کہ ان میں سے باقیوں کو بھی دے، یعنی تین حصے کر لے۔ ایک حصہ خود کھائے، ایک حصہ رشتہ داروں کو دے، ایک حصہ غریب غرباء کو دے دے، یہ مستحب ہے۔ اس نے مستحب پہ تو عمل نہیں کیا واجب پہ عمل کیا، اور اس دوسرے شخص نے مستحب پہ عمل کیا واجب پہ عمل نہیں کیا، تو یہ اس سے اچھا ہے۔
اب ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس وقت اللہ ہمیں اس چیز کا موقع دے رہے ہیں۔ اس چیز کا موقع دے رہے ہیں، الحمد للہ۔ اس وجہ سے قربانی کے اندر بشاشت ہونی چاہیے۔ اس میں یہ نہیں ہونا چاہیے "اوہ! اتنے پیسے خرچ ہو گئے، آج کل تو بڑی مہنگائی ہے، آج کل تو یہ ہے، آج کل تو یہ ہے۔" صحیح بات ہے، مہنگائی ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن یہ معاملہ عشق کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ کتنی بھی مہنگائی ہو جائے، لیکن جانور جو ہے اسماعیل عليه السلام سے تو زیادہ نہیں ہے۔ کتنی بھی مہنگائی ہو جائے، کوئی جانور بھی بیٹے سے زیادہ نہیں ہے۔ اگر ابراہیم عليه السلام نے بیٹے کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا، تو یہ ہمارے لیے Climax ہو گیا، مطلب ثابت ہو گیا کہ ہم لوگ کسی حالت میں بھی قربانی سے نہ رکیں۔ اس وجہ سے علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اس کا اتنا زیادہ اجر ہے، قربانی کا اتنا زیادہ اجر ہے، کہ اگر کسی پہ واجب نہ بھی ہو، تو اس کا جی چاہے کہ میں قربانی کروں، میں قربانی کروں۔ یہ ہے کہ اس کو کوشش کرنی چاہیے۔
اور کمال کی بات یہ ہے کہ فقہی جزئیہ ہے، فقہی جزئیہ ہے کہ اگر کوئی شخص مالدار ہے، اور وہ جانور خریدتا ہے، اور جانور گم ہو جائے، اور وہ دوسرا جانور پھر خریدتا ہے، تو اگر یہ مالدار ہے، تو اگر پھر پہلا والا بھی مل جائے، تو ان میں سے جس کو بھی ذبح کرنا چاہے ذبح کر لے، اس کی قربانی ہو جائے گی۔ کیونکہ اس پر واجب ہے۔ لیکن غریب آدمی، اگر قربانی کا جانور لے لے جس پہ واجب نہیں، اور اس کا جانور گم ہو جائے، اور دوسرا جانور خریدے، اور پھر پہلا بھی مل جائے، اس کو دونوں کی قربانی کرنی پڑے گی۔
فقہی جزئیہ کا جواب یہ ہے کہ جس وقت کوئی نفل کا ارادہ کر لے، اور شروع کر لے اس کو، تو اس پر فرض ہو جاتا ہے۔ اس کو کرنا پڑتا ہے۔ اب مثال کی دو رکعت کی نیت میں نے باندھ لی، اور ٹوٹ گئی، تو پھر مجھے دو رکعت قضا نماز پڑھنی پڑے گی۔ پھر دو رکعت، پھر بھی دو رکعت پڑھنی پڑے گی۔ گویا کہ جتنی مرتبہ میں کروں گا وہ مجھ پر فرض ہو جائے گا۔ فرض نماز ایک دفعہ پڑھ لے بس کافی ہے۔ ٹھیک ہے نا، سمجھ میں آ گئی نا بات؟ اور اگر رہ گئی تو بس ایک دفعہ ہی قضا کرنی پڑے گی۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ فقہی جزئیہ کی تو یہ بات، لیکن عاشقانہ جواب کیا ہے؟ عاشقانہ جواب یہ ہے کہ اللہ پاک نے جو غریب تھا، اپنی بساط سے بڑھ کر اس نے ارادہ کر لیا، وہ اتنا قبول ہو گیا کہ اب اس کو اللہ پاک واپس نہیں کرنا چاہتے۔ ہاں وہ کر لے، اس کی طرف سے منظور ہے۔ ہاں، مالدار کے لیے صرف ایک کافی ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ جو عمل ہے، وہ اتنا محبوب عمل ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو بشاشت کے ساتھ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
ابھی میں نے جو آیت کریمہ تلاوت کی، اس میں ایک آیت یہ بھی ہے، کہ اللہ پاک کو اس جانور کا نہ خون پہنچتا ہے نہ گوشت پہنچتا ہے۔ کیا چیز پہنچتی ہے؟ تقویٰ پہنچتا ہے، دل کا تقویٰ۔ اور یہ حالت ہے کہ اس جانور کے خون کے زمین پر پڑنے سے پہلے پہلے اللہ اس کو قبول کر لیتا ہے۔ اس حد تک ما شاء اللہ اس کے اندر نورانیت ہے۔ کہ اس جانور کے خون کے پہلا قطرہ پہنچنے تک وہ اللہ پاک اس کو قبول کر چکے ہوتے ہیں۔
دیکھیں میں آپ کو ایک بات بتاؤں، اسماعیل عليه السلام کی قربانی جب ہو رہی تھی تو کہاں جنت اور کہاں یہ جگہ؟ وہاں سے مینڈھا آناً فاناً لایا گیا، اور ڈال دیا گیا سامنے۔ اس طرح یہ جو جانور ہم ذبح کر رہے ہیں، اس کے خون میں جتنی دیر لگتی ہے اس سے پہلے پہلے اللہ اس کو قبول کر لیتا ہے۔ یہ بات ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعام ہے۔
پھر اس میں دیکھیں یہاں پر یہ بھی فرمایا گیا، سبحان اللہ! شرک کے بارے میں بات کی گئی شرک۔ کہ جس نے شرک کیا وہ ایسا ہے جیسے کہ آسمان سے گرا۔ شرک کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک کرنے کو۔ مطلب صفات میں، ذات میں، ان میں کسی طریقے میں شریک کرنے کو۔ جیسے ہم کہتے ہیں نا سورہ فاتحہ میں: إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ۔ "ہم تیری عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں"۔ کیوں؟ یہ سورہ فاتحہ ہر مسلمان پڑھتا ہے یا کوئی پڑھتا ہے کوئی نہیں پڑھتا؟ ہر مسلمان پڑھتا ہے نا؟ اور یہ قرآن ہے نا، تو قرآن تو سارے مسلمانوں کے لیے ہے۔ تو اس میں جو ہم کہتے ہیں "إِيَّاكَ"، یہ "إِيَّاكَ" لفظ پہ زور ہے۔ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ۔ "ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں"
تو اب مجھے بتاؤ، کسی اور کی عبادت کر سکتے ہیں ہم؟ نہیں کر سکتے، اور کسی اور سے مدد مانگ سکتے ہیں؟ نہیں! ہمیں اللہ پاک ہی کی عبادت کرنی ہے اور اللہ ہی سے مدد مانگنی چاہیے۔ میں آپ کو ایک بات بتاؤں، اللہ نے ذرائع بنائے ہیں، ذرائع کا انکار نہیں ہے۔ ذرائع کا انکار نہیں ہے، لیکن مقاصد اللہ نے طے کیے ہیں۔ مقاصد میں کوئی کمی بیشی نہیں ہو سکتی۔
اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا۔
وہ طے ہو چکے ہیں، اب اس کے اندر کوئی وہ نہیں ہو سکتا۔
اب جیسے مثال کے طور پر میں جانور ذبح کر رہا ہوں، میں اللہ کے نام پر ذبح کرتا ہوں، جائز ہے۔ اس کا ثواب شیخ عبدالقادر جیلانی رحمة الله عليه کو کر لیتا ہوں، جائز ہے۔ کوئی غلط بات نہیں ہے۔ ثواب مل گیا، اللہ کے نام پر ذبح کرنے سے، سمجھ میں آ گئی نا بات؟ ثواب کس کو پہنچاؤں؟ یہ مجھے اختیار ہے۔ جس کو بھی پہنچاؤں۔ زندہ کو پہنچاؤں، مردہ کو پہنچاؤں، اللہ کے ولی کو پہنچا دوں، ایک فاسق و فاجر کو پہنچاؤں، اللہ تعالیٰ اس تک بھی پہنچاتا ہے۔ فاسق و فاجر کے لیے بھی اگر آپ کہہ دیں کہ یا اللہ اس کا ثواب اس کو پہنچا دے، اس کو بھی پہنچا دے گا۔ یہ اللہ پاک نے آپ کو اختیار دیا ہے، عمل آپ کر لیں۔ اللہ کے لیے! اس کے لیے شرط ہے کیا؟ اللہ کے لیے عمل کر لو۔ اس کے بعد جس کے لیے بھی بھیجنا چاہو بھیجو۔ لیکن اگر آپ نے عمل کر لیا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمة الله عليه کے لیے، تو نہ آپ خود کھا سکتے ہیں نہ کسی اور کو دے سکتے ہیں۔ حرام ہو گیا، سمجھ میں آ گئی نا بات؟ کیا سمجھ میں آ گئی نا بات؟ یہ ہے شرک سے بچنا۔
اب دیکھو میں اگر اللہ پاک کے لیے کام کرنا چاہتا ہوں، تو مجھے کیا مشکل ہے، میں اس کو خواہ مخواہ، ثواب ہی پہنچانا ہے نا، تو ثواب تو پہنچانے کے لیے اللہ کے نام پہ ذبح کرو، پھر ثواب پہنچاؤ۔ تو اللہ پاک نے فرمایا: جس نے شرک کر لیا، جس نے شرک کر لیا، وہ ایسا ہے جیسے کوئی آسمان سے گرا، پھر کسی پرندے نے اس کو اچک لیا، یا کسی گہری وادی میں گر کے پاش پاش ہو گیا۔ ابھی جو میں نے آیت کریمہ تلاوت کی ہے۔
پھر اللہ پاک فورا ایک بات فرماتے ہیں: ذٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ۔ اور "جو شعائر اللہ کی تعظیم کرتا ہے، وہ ان کے دلوں کے تقویٰ کی وجہ سے ہے"۔ دیکھو میں نے عرض کیا تھا نا، جن کو اللہ نے محترم بنایا ہے آپ اس کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ حضور ﷺ کو اللہ نے محترم بنایا ہے، خانہ کعبہ کو اللہ نے محترم بنایا ہے، اور نماز کو اللہ نے محترم بنایا ہے، قرآن کو اللہ نے محترم بنایا ہے۔ یہ سب اللہ نے جن کو محترم بنایا ہے ہمیں بھی محترم ماننا ہوگا۔ ان کی تعظیم کرنی ہوگی۔ عبادت نہیں، تعظیم! عبادت نہیں، تعظیم! تعظیم کرنی ہوگی، جو ان کی تعظیم کرتا ہے، اللہ فرماتے ہیں ان کے دلوں کے تقویٰ کی وجہ سے ہے۔ پس جو شعائر اللہ کی تعظیم نہیں کرتا، ان کے دلوں میں تقویٰ نہیں ہے۔
پس دونوں باتیں مل گئیں، شرک ایک جرم ہے، وہ نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن اللہ والوں کی تعظیم، خانہ کعبہ کی تعظیم، قرآن کی تعظیم، اچھی جگہوں کی تعظیم، یہ اللہ پاک نے... لہٰذا اگر میں اس کی تعظیم کرتا ہوں تو کس لحاظ سے کر رہا ہوں؟ اللہ کے لیے کر رہا ہوں۔ کیونکہ اللہ کے ساتھ اس کا تعلق ہے، اللہ کے ساتھ اس کا نام لگا ہوا ہے۔ لہٰذا دیکھو: اولیاء اللہ، رسول اللہ، کعبۃ اللہ، سمجھ میں آ گئی نا بات؟ یہ سب اللہ کے ہیں نا، تو اللہ کی وجہ سے ہم کیا کرتے ہیں؟ ہم اس کی تعظیم کرتے ہیں۔ تعظیم کرتے ہیں اور اس پر ما شاء اللہ اجر بھی ملتا ہے۔ اجر بھی ملتا ہے اور تقویٰ ایک دل کی کیفیت ہے جس سے سارے اعمال کے اندر جان پڑ جاتی ہے۔ تو یہ بات بھی بہت ضروری بات تھی جو یہاں پر آ گئی۔
تیسری بات یہ ہے کہ قربانی جب انسان کرتا ہے، کچھ سفید پوش لوگ ہوتے ہیں، جو مانگتے نہیں۔ ان کو حاجت ہوتی ہے، لیکن مانگتے نہیں ہیں۔ سبحان اللہ، ایسا اللہ پاک نے ان کو حوصلہ دیا ہوتا ہے، کہ ان کے گھروں کے اندر چاہے کچھ بھی حالت ہو، لیکن وہ کسی پہ ظاہر نہیں کرتے۔ تو فرمایا ان کو بھی دو۔ گوشت کن کو دو؟ ایسے لوگوں کو دو جو کہ چھپے ہوئے ہیں، جن کو حاجت ہے لیکن وہ کسی سے مانگتے نہیں، اپنی حاجت ظاہر نہیں کرتے۔ اور کچھ لوگ ایسے ہیں، جو بے صبرے ہوتے ہیں وہ آپ کے سر پہ کھڑے ہو جاتے ہیں: جی ہمیں گوشت دے دو۔ ان کو بھی دو۔ ٹھیک ہے نا، ان کو بھی دو۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ تو ایک اللہ پاک کی طرف سے زبردست قسم کا وہ سلسلہ ہے جو کہ اللہ نے جاری کیا ہوا ہے۔ اور ظاہر ہے اس کے ذریعے سے ہم مخلوقِ خدا کی خدمت بھی کر سکتے ہیں۔ اللہ پاک کو راضی بھی کر سکتے ہیں۔
لہٰذا اس قربانی کو ہم لوگ اپنے طور پر سمجھ لیں، کہ اس کے ذریعے سے ہم کیا کرتے ہیں؟ اس کے ذریعے سے ہم دنیا کی محبت کو، دنیا کی چیزوں کے ساتھ جو تعلق ہے اس کو اللہ تعالیٰ کے تعلق کو حاصل کرنے کا ذریعہ بناتے ہیں۔ اب اس کے اندر ایک نکتہ ہے، کیسے بناتے ہیں؟ قربانی کا جانور جتنا محبوب ہوگا۔ میں نے کل کیا لفظ کہا؟ محبوب ہوگا۔ قربانی کا جانور جتنا محبوب ہوگا، محبوب کس کو کہتے ہیں جس کے ساتھ محبت ہوتی ہے۔ اب دیکھو جس چیز پر جان، مال اور وقت لگا دو وہ محبوب ہو جاتا ہے۔ مانتے ہیں نا، جس چیز پر جان، مال اور وقت لگایا جائے تو کیا ہو جاتا ہے؟ وہ محبوب ہو جاتا ہے انسان کو۔ اس کو کھونا نہیں چاہتا۔ لیکن اگر آپ اس کو اللہ کے لیے قربان کر رہے ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ کی محبت کو اس کی محبت سے زیادہ کر لیتے ہیں، تو آپ کو ایک درجے کی ترقی ہو گئی۔ یعنی گویا کہ آپ کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت یعنی آپ نے زیادہ ثابت کر دیا۔ تو اس طریقے سے اس مجازی چیز کے ذریعے سے، یہاں جو اس قسم کی جو چیز تھی قربانی کا جانور ہے جو بھی ہے، مثلاً ایک مکان ہے، آپ کو بہت پسند ہے۔ بہت پسند ہے آپ نے بڑے طریقے سے بنایا اور یہ اور وہ، لیکن آپ اس کو اللہ تعالیٰ کے نام پر وقف کر لیتے ہیں۔ تو کیا ہوا؟ یہ آپ نے اللہ کے لیے جو وقف کر دیا، اب اللہ تعالیٰ کی محبت اس سے زیادہ ثابت ہو گئی۔ تو اس لیے قربانی کے جانور کو بڑا محبوب ہونا چاہیے۔ اور جتنا محبوب ہوگا اتنی آپ کی ترقی ہوگی۔ یعنی اس کے ذریعے سے آپ ما شاء اللہ...
تو اس وجہ سے ہمارے ایک بزرگ تھے شیخ الہند رحمة الله عليه، وہ گائے کا بچہ لیتے تھے اور اس کو خود پالتے تھے اور پھر ما شاء اللہ اس کے ساتھ دوڑتے تھے اور اس کی خدمت کرتے، سب کچھ کرتے تھے۔ حتیٰ کہ جس وقت ذبح فرماتے، روتے تھے ساتھ۔ ذبح بھی کر رہے ہیں رو بھی رہے ہیں۔ محبت اتنی تھی کہ ذبح نہیں کرنا چاہتے، اللہ کا حکم ہے ذبح کر لو، تو ذبح کر رہے ہیں۔ تو یہ ہے محبت کو حاصل کرنے کا طریقہ۔
یہ لوگ نمائش کے لیے جو بڑے اچھے اچھے جانور لیتے ہیں، خدا کے بندو، یہ بہت کم درجے کی سوچ ہے۔ گھٹیا سوچ ہے۔ "میں لوگوں کی نظروں میں اچھا ہو جاؤں؟"
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ۔
یہ میں کیا کر رہا ہوں؟ میرا معاملہ کس کے ساتھ ہے؟ کیا مجھے بتاؤ اس مجمع میں جو بھی بیٹھے ہیں مجھے جہنم سے بچا سکتے ہیں؟ مجھے جنت پہنچا سکتے ہیں؟ میرے گناہ معاف کروا سکتے ہیں؟ نہیں! لیکن اللہ کی ذات یہ ہے کہ مجھے جنت میں بھی بھیج سکتے ہیں، دوزخ سے بھی بچا سکتے ہیں۔ میری ہر حاجت کو پورا کرنے والی ہے۔ لہٰذا میں کسی بھی شخص کے لیے اللہ پاک کو کیوں چھوڑوں؟
پس میرا جانور اگر اچھا ہے، خدا کے بندو یہ تمہارے دل میں ہونا چاہیے، لوگوں پہ ظاہر کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ لوگوں کے سامنے اس کو کیوں نچاتے ہو؟ کہ خواہ مخواہ میرا جانور اتنا خوبصورت ہے دیکھو میں نے اتنا... ایک لاکھ کا بیڑا ہے، دو لاکھ کا ہے، تین لاکھ کا... یہ غلط سوچ ہے۔ یہ اپنے کام کو خراب کرنے کے مترادف ہے۔ ان چیزوں سے بچنا چاہیے۔ کیوں، ظاہر ہے ایک اپنی نیکی کو ضائع کرنا یہ کون سی عقلمندی ہے؟ تو یہ معاملہ صرف اپنے ساتھ رکھو، اللہ کے لیے رکھو، کسی اور کے ساتھ نہ رکھو۔ خوب محبت اس کے ساتھ کرو، خوب اس کو پلاؤ، کھلاؤ، مزے کراؤ، کیونکہ محترم جانور ہے، محترم جانور ہے۔ یہ وہ جانور ہے جس کو شعائر اللہ میں شامل کیا گیا ہے، شَعَائِرَ اللهِ۔
وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ۔
یہ شعائر اللہ میں سے ہے، لہٰذا آپ جو اس کی تعظیم کر رہے ہیں، یہ اللہ پاک کو پسند ہے۔ اللہ پاک آپ کے ہو رہے ہیں۔ اس ذریعے سے، کہتے ہیں نا کہ پل صراط پر یہ آپ کو لے جائے گا۔ کیوں؟ وجہ کیا ہے، آپ نے اپنی محبت کو قربان کر دیا اللہ کے لیے، تو یہ آپ کے لیے ذریعہ بن گیا اللہ تعالیٰ کی محبت کا۔ آپ کو ما شاء اللہ حاصل ہو گیا سب کچھ اس پر۔
تو بس یہی بات ہے، اس میں چند باتیں بس یہی تھیں۔ باقی تو مسائل کی باتیں ہیں، وہ اس موقع پہ نہیں ہو سکتیں کیونکہ ٹائم تھوڑا ہوتا ہے۔ وہ تو علمائے کرام سے پوچھ پوچھ کے ذبح کرنا، کس طریقے سے ذبح کرنا چاہیے، اور پھر کس طرح تقسیم کرنا چاہیے، اس کے اندر وہ نہیں کرنا چاہیے اندازے نہیں لگانے چاہیے بلکہ ٹھیک ٹھیک تولنا چاہیے۔ کس، اس میں کتنی گنجائش ہے، وہ جو چمڑا ہے، وہ اس کے ساتھ کیا کرنا ہے، وہ ساری باتیں کیا ہیں، وہ علمائے کرام سے سیکھنی چاہیے۔ وجہ کیا ہے؟ ہر عمل کو کرنے سے پہلے اس کو سیکھنا چاہیے۔ وہ اپنے طور پہ ضروری ہے۔ البتہ جو اس کی اصل حقیقت ہے، اس پہ کیا ملتا ہے، اس کے ساتھ کیا ہوتا ہے، یہ ہمارے ذمے لازم ہے کہ اس کو سمجھیں۔
اللہ تعالیٰ مجھے بھی سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے، آپ کو بھی۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ. رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ. وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔
یہ نماز ابھی ان شاء اللہ دو رکعت عید کی نماز ہوگی۔ اس میں چھ زائد تکبیریں ہیں۔ تین پہلے میں، تین بعد میں۔ جو پہلے ہیں، وہ تو ثناء کے بعد جو اصل تکبیر ہے، تکبیر تحریمہ وہ تو ہو گئی نا، اس کے بعد پھر تین تکبیریں اور ہوتی ہیں۔ تو اس میں باقاعدہ ہے کہ ہاتھ، اٹھایا جاتا ہے۔ پھر اس کے بعد آخری جو ہوتے ہیں اس پہ باندھ لیا جاتا ہے۔ وہ جو آخری تکبیر اس میں ہوتی ہے، چوتھی تکبیر ہوگی، اس پہ باندھ لیا جاتا ہے۔ پھر اس کے بعد دوسری رکعت میں، جس وقت رکوع میں جانا ہوتا ہے، تو رکوع میں جانے والی تکبیر سے پہلے تین تکبیریں ہوتی ہیں۔ تو اس میں بھی آپ تین تکبیریں کہتے ہیں، یعنی اس پہ ہاتھ اٹھاتے ہیں، پھر اس کے بعد کیا کرتے ہیں، جس وقت چوتھی تکبیر ہو جاتی ہے اس پہ رکوع میں چلے جاتے ہیں۔
بس اتنا فرق ہے۔ باقی نیت تو چھ تکبیروں کی زیادتی کے ساتھ عید کی نماز ہے، دو رکعت نماز ہے، یہ پڑھنا ہے، اللہ ہی کے لیے کرنا ہوتا ہے، کسی اور کے لیے تو کرنا نہیں ہے۔ یہ ساری چیزیں پہلے سے طے ہیں، لیکن کم از کم اتنی چیز ہمیں ماننی چاہیے کہ اس میں چھ زائد تکبیریں ہیں، اور عید کی نماز ہے، دو رکعت نماز ہے۔ اس کو ہم کر لیں۔ امام کے پیچھے، یہ ساری عام نماز میں بھی ہوتا ہے۔ آخر امام کی نیت، وہ تو امام جو نیت کر رہا ہے وہی نماز پڑھ رہے ہیں نا، آپ کو تو پتہ ہے۔ تو مطلب ظاہر ہے اس کی نیت یہی ہوتی ہے، اس میں نیت کے لیے اس لیے ضرورت ہوتی ہے کہ بعض دفعہ دو تین امام اگر کھڑے ہوں، کبھی کبھی ایسی صورت بن جاتی ہے، تو آپ نے طے کرنا ہے کہ میں کس کے پیچھے کھڑا ہوں؟ ہاں، تو اس کا موقع تو ادھر نہیں ہے۔ لہٰذا وہ تو مطلب پہلے سے طے شدہ ہے کہ آپ کس امام کے پیچھے کھڑے ہیں۔ تو اس وجہ سے وہ ساری چیزیں طے شدہ ہیں، لوگ لمبی چوڑی نیت بتاتے ہیں، پھر جب نہیں ہوتی تو کچھ بھی نہیں کرتے۔ نہیں، لمبی چوڑی نیت کی ضرورت نہیں ہے، بس چھ زائد تکبیریں ہیں، اور عید کی دو رکعت نماز ہے۔ باقی ساری عام نماز کی طرح ہے۔ اور تو اس کو سمجھ کے ان شاء اللہ العزیز ابھی نماز پڑھتے ہیں۔
تجزیہ اور خلاصہ:
بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)
سب سے جامع عنوان: قربانی کی حقیقت: تکوینی و تشریعی احکام اور شعائرِ اللہ کی تعظیم
متبادل عنوان: تسلیم و رضا کا عملی نمونہ: حضرت ابراہیم عليه السلام کا عشق اور قربانی کے شرعی تقاضے
اہم موضوعات:
• قربانی کا عقلی فلسفہ نہیں بلکہ اللہ کی محبت اور عبدیت کا اظہار۔
• حضرت ابراہیم عليه السلام اور اسماعیل عليه السلام کی تسلیم و رضا۔
• تکوینی اور تشریعی احکام کا فرق اور ان کی حکمتیں۔
• قربانی کے جانور سے محبت اور اسے اللہ کے نام پر قربان کرنے کا اجر۔
• قربانی کے گوشت کی مستحب تقسیم (خود کھانا، رشتہ داروں کو دینا، غریبوں میں بانٹنا)۔
• شرک سے اجتناب اور ایصالِ ثواب کا درست شرعی طریقہ۔
• شعائر اللہ (خانہ کعبہ، قرآن، نماز اور قربانی کے جانور) کی تعظیم اور دلوں کا تقویٰ۔
• قربانی میں ریاکاری اور دکھاوے کی مذمت۔
• نمازِ عید الاضحیٰ ادا کرنے کا درست طریقہ اور زائد تکبیرات کی تفصیل۔
Citations