مرشدِ کامل کی ضرورت اور تزکیۂ نفس کے عملی طریقے

دفتر اول حکایت نمبر 34، 35 - اشاعتِ اول:منگل، 17 ستمبر، 2024 بمطابق 12 ربیع الاول 1446 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

·       پیغمبرِ خدا بطور نائب اور خالق و مخلوق کے درمیان 'برزخ'

·       نفس اور روح کی کشمکش اور طریقت/سلوک کی ضرورت

·       انسانی رذائل (سستی اور حرص) نفس کے پنجے

·       حبِ جاہ، حبِ باہ اور حبِ مال کا مجاہدے اور ریاضت کے ذریعے علاج

·       ظاہر کی سرکشی توڑنے کا طریقہ (کاغذ کی نلکی کی مثال)

·       مفتی کے فتوے اور شیخِ کامل کی روحانی تربیت میں فرق

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

أَمَّا بَعْدُ:

أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.


معزز خواتین و حضرات! آج منگل ہے اور منگل کے دن ہمارے ہاں مثنوی شریف کا درس ہوتا ہے اور یہ درس ماشاء اللہ بہت سارے حقائق کو سمجھانے والے دروس ہوتے ہیں

گزشتہ سے پیوستہ


جب خدا کو دیکھ نہیں سکتے ہیں ہم نائب پیغمبر ہے اس کی کر رقم

یعنی خدا کو تو ہم نہیں دیکھ سکتے ہیں، لیکن اس کا جو نائب ہے پیغمبر، اس سے ہم استفادہ کر سکتے ہیں۔

چونکہ خدا (بظاہر) دیکھنے میں نہیں آتا۔ (اس لیے) یہ پیغمبر خدا کے نائب ہیں۔

مطلب: اوپر ذکر تھا کہ مرشد کی عدم موجودگی میں اس کے نائب یا خلیفہ کی ضرورت ہے۔ اب اس نیابت و خلافت کے ذکر کی مناسبت سے ایک اور مضمون کی طرف انتقال فرماتے ہیں۔

اصل میں مضامین اب آ رہے ہیں۔ حضرت کو تو موقع چاہیے نا، موقع مل جائے پھر اس کے بعد پھر وہ سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔

وہ یہ کہ چونکہ اسی طرح اللہ تعالیٰ، جو تمام اوامر و احکام کا صادر کرنے والا ہے، لوگوں کو نظر نہیں آ سکتا اور اجرائے احکام و اشاعت اوامر کے لیے حاکم کا لوگوں میں مُعایَن و ملاحظہ ہونا لازمی ہے، اسی لیے حضراتِ مرسلین صلوٰت اللہ علیہم اجمعین اللہ تعالیٰ کے نائب قرار پائے تا کہ وہ مُعاشر بالخلق ہونے کی وجہ سے احکامِ الٰہیہ کی بآسانی تبلیغ کر سکیں۔ حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر مظہری میں آیہ ﴿وَ لَوْ جَعَلْنٰہُ مَلَکًا لَّجَعَلْنٰہُ رَجُلًا﴾ (الانعام: 9) کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ رسول خالق اور مخلوق کے مابین برزخ ہوتا ہے اور برزخ میں دو مناسبتوں کا ہونا ضروری ہے۔ ایک مناسبت خالق کے ساتھ اور دوسری مخلوق کے ساتھ، تاکہ خالق سے فیوض حاصل کر کے مخلوق پر ان کا افاضہ کرے، کیونکہ استفاضہ اور افاضہ مناسبت کے بغیر ممکن نہیں۔

اس کو حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے بہت تشریح کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ کئی مکتوبات میں۔

اس کا اگر نچوڑ نکالا جائے، تو یہ ہے کہ حضرت فرماتے ہیں کہ سیر الی اللہ جس وقت انسان کی مکمل ہو جائے، تو پھر اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسا تعلق پیدا ہو جاتا ہے، یعنی فنا و بقاء کے بعد، جس کو شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے، لطیفہ روح کا فرمایا ہے کہ لطیفہ روح کھل جاتا ہے اور لطیفہ سِر۔

لطیفہ روح جو ہے، اس کے ذریعے سے ملائے اعلی کے ساتھ انسان کے دل کا تعلق ہو جاتا ہے۔ اور لطیفہ سِر کے ذریعے سے انسان کی عقل کا تعلق وہ ملائے اعلی کے ساتھ ہو جاتا ہے۔ اب یہ شخص جو ہوتا ہے درمیان میں لوگوں کا ہوتا ہے۔ تو حضرت نے فرمایا کہ مجدد صاحب رحمۃ اللہ نے فرمایا، کہ مقامِ قلب میں جو جدال ہوتا ہے، نفس اور روح کا۔ یعنی نفس روح کو چھوڑنا نہیں چاہتا۔ اور روح نکلنا چاہتی ہے اس کے چنگل سے نکلنا چاہتی ہے۔ پھڑپھڑاتی ہے، اسی کو جذب کہتے ہیں۔ تو ایسی صورت میں، اس کی مدد کرنی پڑتی ہے۔ اس کی مدد کرنی پڑتی ہے۔ اور وہ مدد کیسے ہوتی ہے؟ سلوک طے کیا جائے۔ سلوک کیا ہے؟ انسان کے اندر جو رذائل ہیں، وہ نفس کے پنجے ہیں۔ سبحان اللہ! انسان کے اندر جو رذائل ہیں، وہ کیا ہیں؟ وہ نفس کے پنجے ہیں۔ ان پنجوں میں روح پھنسی ہوئی ہے۔ اس سے نکالنا ہے۔

تو ان تمام رذائل کو دبانا ہوتا ہے۔ تاکہ روح آزاد ہو جائے۔ مثال کے طور پر، سستی، بہت بڑا پنجہ ہے نفس کا۔ اس سستی کو دور کرنا پڑے گا، یہ وظیفوں سے دور نہیں ہوتی۔ اکثر لوگ کہتے ہیں جی کوئی وظیفہ دے دیں کہ ہم یہ نماز پڑھنا شروع کر لیں۔ ان کو کہتے ہیں اچھا وظیفہ مانگو نا کہ کھانا کھانا شروع کر لیں۔ اس کے لیے تو کوئی وظیفہ نہیں مانگتے ہو۔ یہ تو محنت ہے، تو کرنا پڑے گا۔ حکم ہے، ﴿لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾، اللہ پاک نے جو حکم دیا شریعت کا، اس کے ہم مکلف ہیں۔ اور وہ کر سکتے ہیں تبھی تو اللہ پاک نے حکم دیا ہے۔ لہٰذا مطلب یہ تو کرنا پڑے گا۔

تو اب جو درمیان میں رکاوٹ ہے، وہ کیا ہے؟ وہ انسان کے اندر سستی ہے۔ آپ حضرات دیکھتے ہیں کہ انسان کے اندر Sluggishness جب آ جاتی ہے، تو اس کو Exercise کرنا پڑتا ہے۔ یہ Physiotherapy کیا چیز ہوتی ہے؟ وہ یہی ہوتی ہے نا۔ تو مطلب یہ ہے کہ وہ کرنی پڑتی ہے۔ تو یہ سستی کو دور کرنے کا ایک نظام ہے۔ تو سستی کو دور کیا جاتا ہے مقامِ ریاضت کے ساتھ۔ جب مقامِ ریاضت کسی کا طے ہو جائے تو سستی دور ہو جاتی ہے۔

اور دوسرا بڑا جو مسئلہ ہے، وہ حرص کا ہے۔ حرص بہت ساری چیزوں کا ہے۔ اور کہتے ہیں حرص اُم الامراض ہے۔ کیونکہ حرص جو ہے، یہ حبِ جاہ بھی حرص ہے۔ یعنی جاہ کا حرص ہے۔ حبِ باہ، یہ لذتوں کا حرص ہے۔ حبِ مال، یہ مال کا حرص ہے۔ تو گویا کہ تینوں قسم کی برائیاں جو ہیں دنیا کی، یہ حرص میں آ گئی ہیں۔ تو مقامِ قناعت جب حاصل ہو جائے، تو یہ حرص دور ہو جائے گا۔

تو مقامِ قناعت کیسے حاصل ہو گا؟ ظاہر ہے کہ آپ کو کچھ عرصے تک اپنے Normal Level سے بھی کم پہ جانا پڑے گا۔ پھر اس کے بعد آپ کو مقامِ قناعت حاصل ہو سکتا ہے۔ Normal Level سے بھی کم پہ جانا پڑے گا۔ تاکہ آپ اس کے ساتھ عادی ہو جائیں۔ ہمارے پشتو میں کہتے ہیں، "څه مرګ راشي نو تبې ته غاړه ږدي"۔ "جب موت آ جائے نا تو پھر بخار کے لیے آدمی مان جاتا ہے" چلو یار بخار کوئی بات نہیں۔

تو آپ اتنا مجاہدہ اس سے کرواؤ کہ وہ نارمل جو سنت طریقہ ہے اس کے لیے تیار ہو جائے۔ وہ نہیں کرو گے تو کیسے تیار ہوگا؟

میں اکثر کہا کرتا ہوں کہ دیکھو نا اگر ایک کاغذ ہے نا، اس کو آپ موڑ لو، نلکی بنا لو۔ نلکی بنا لو۔ تو نلکی تو بن جائے گی۔ پھر آپ اس کو سیدھا کرنا چاہیں تو just اس کو چھوڑ دیں تو سیدھا ہو جائے گا؟ نہیں, بلکہ اس طرح قوس سا بن جائے گا۔ ٹھیک ہے نا؟

پھر آپ اس کو opposite direction میں جب تک نلکی نہ بناؤ، اس وقت تک وہ سیدھا نہیں ہوگا۔

اگر آپ اس کو صرف ایسے straight کر لیں نا، تو چھوڑ دیں تو پھر دوبارہ اس طرح ہو جائے گا۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ Opposite Direction میں آپ کو کرنا پڑے گا۔ اب سنت کا طریقہ یقیناً بہت بڑی بات ہے، اگر کوئی اس پر Direct جا سکتا ہے۔ سنت کی عزیمت اختیار کر سکتا ہے تو بالکل صحیح ہے، کسی اور چیز کی ضرورت نہیں ہے۔

لیکن آج کل کے دور میں، کیا خیال ہے، سنت پر براہ راست کوئی جاتا ہے؟ کوئی ایک مثال تو دے دو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آج کل طبیعتیں بہت زیادہ، جس کو کہتے ہیں نا، تعیش کے ساتھ مانوس ہو گئی ہیں۔ مانوس ہو گئی ہیں۔ اب ان کو چھوڑنا نہیں چاہتے۔ تو آپ کو پہلے ذرا، اس کی بہترین مثال تبلیغی جماعت ہے۔ تبلیغی جماعت میں جو جاتے ہیں، تو ظاہر ہے اس میں بڑے بڑے لوگ چلتے ہیں، تو وہ ان چیزوں سے دور ہو جاتے ہیں۔ یعنی جو گھروں میں ان کے ہوتے ہیں۔ نتیجتاً پھر کیا ہوتا ہے؟ ان کے لیے وہ آسان ہو جاتا ہے۔ مطلب وہ جو عام طریقے، صحیح سنت طریقے سے رہنا، ان کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔ تو یہ چیز تو موجود ہے۔ تو اس لیے ظاہر ہے، اس سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

تو مقصد میرا یہ ہے کہ یہ جو چیز ہے، حرص جو ختم کرنا۔ حبِ جاہ یعنی جاہ کا حرص ختم کرنا۔ اس کا کیا ہے؟ آپ ایسے کام کرو جس میں جاہ ٹوٹتی ہو۔ مثلاً لوگوں کے جوتے سیدھے کرنا۔ سلام میں پہل کرنا۔ اور لوگوں کے لیے سودا سلف لانا۔ یہ سب چیزیں جاہ کو توڑنے والی ہیں۔ تو انسان جب اس طرح کرتا ہے تو پھر ظاہر ہے اس کی جاہ ٹوٹتی ہے۔ ویسے مثالیں میں دے رہا ہوں، ہر ایک کے اپنے طریقے ہوتے ہیں، لیکن مثالیں میں دے رہا ہوں۔

اچھا اس طرح مطلب ہے کہ، حبِ باہ، یہ جو لذتوں کا شوق ہے۔ یہ بھی توڑنے کے لیے لذات کو چھوڑنا پڑتا ہے۔ اس کی بہترین مثال میں دیتا ہوں، یہ شوگر کے جو مریض ہوتے ہیں۔ ان کو جب بتایا جاتا ہے کہ بھئی آپ نے چینی نہیں پینی چائے میں، تو ابتداء میں تو بڑا مشکل ہوتا ہے۔ لیکن اگر اس مشکل کو برداشت کر لے، تو دو ہفتے میں عادی ہو جاتے ہیں۔ پھر اس کے بعد اس کے لیے چینی ڈالو گے تو ان کو برا لگے گا۔ کیوں، وجہ کیا ہے؟ بس اس کے ساتھ عادی ہو گیا۔ Taste buds ہیں نا، اس کے ساتھ Adjust ہو جاتے ہیں۔ تو بس ٹھیک ہے، صحیح کام بن جائے گا۔ تو یہ بات ہے کہ یعنی حبِ باہ۔

اور حبِ مال، یہ تو بہت خطرناک چیز ہے۔ تو اس کے لیے کہتے ہیں، اپنے ہاتھ سے خرچ کرو، اپنے ہاتھ سے خرچ کرو۔ پھر حبِ مال ختم ہو گا۔ زکوٰۃ تو Minimum ہے نا، وہ تو فرض ہے۔ صدقات، خیرات، نیک لوگوں کی دعوت، یہ سب اس میں آتا ہے، اس سے حبِ مال ختم ہوتا ہے۔

ایک بہت بڑے عالم ہیں، ان کا نام نہیں لیتا ہوں کیونکہ میرے خیال میں آپ لوگوں میں سے بہت سارے لوگ اس کو جانتے ہوں گے۔ فوت ہو چکے ہیں۔ لیکن تھے بڑے عالم۔ تو ہمارے حضرت مولانا عبدالحق نافع صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد تھے۔ یعنی وہ حضرت اس وقت دارالعلوم بنوری ٹاؤن انہوں نے شروع کروایا تھا۔ تو اس میں استاد تھے۔ تو یہ حج پہ جا رہے تھے اور حج بھی کر رہے تھے آفس کی طرف سے۔ یعنی آفس کی طرف سے کر رہے تھے۔ میرے خیال سے لائبریرین تھے۔ تو آفس کی طرف سے جا رہے تھے حج پہ۔ تو پیسے آفس کے ان کو دیے تھے۔ وہ بڑے بخیل تھے، بقول ان کے استاد کے۔ یعنی پیسے خرچ کرنا ان کے لیے بڑا مشکل ہوتا تھا۔ تو استاد جانتے ہوتے ہیں شاگردوں کو۔

تو خیر ایسا ہوا کہ جب پہنچ گئے ادھر، تو حضرت استاد سے ملنے کے لیے گئے۔ تو استاد نے ان سے کہا، ماشاءاللہ ماشاءاللہ بڑی اچھی بات ہے۔ اگرچہ پیسے حکومت کے ہیں لیکن خرچ تو اپنے ہاتھ سے کرو گے نا، ان شاءاللہ تیرا بخل دور ہو جائے گا۔ خرچ تو اپنے ہاتھ سے کرو گے نا، یہ بخل بھی بڑی عجیب بلا ہے۔

وہ ایک دفعہ کہتے، حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک واقعہ بیان کیا ہے، کہ ایک اس طرح شخص جا رہے تھے، تو راستے میں ایک آدمی رو رہا تھا۔ اس نے کہا بھائی کیوں رو رہے ہو؟ اس نے کہا میرا ٹکہ گم ہو گیا۔ کہا اچھا چلو یہ ٹکہ لے لو، یار بس تم نہ رو، ختم، ختم کرو۔ اچھا چپ ہو گیا۔ آگے اپنے کام کے لیے، واپس آ رہا، پھر رو رہا تھا۔ انہوں نے کہا بھئی اب کیوں رو رہے ہو؟ کہتا ہے اگر وہ نہ گرتا تو یہ اب دو ہوتے۔

یہ عربی میں اس پہ بڑی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ "تَارِیْخُ الْبُخَلَاء"، نہیں نہیں، کیا ہوتا ہے وہ، "قَصَصُ الْبُخَلَاء"۔ یعنی مطلب بخلاء کے قصے، وہ بہت ان میں مشہور ہیں۔ تو وہ واقعات شاید ان میں سے ایک ہو گا۔ تو بہرحال یہ ہے کہ، یہ بخل بڑی عجیب چیز ہے۔ اس کو توڑنے کے لیے کافی کچھ کرنا پڑتا ہے۔

تو بہرحال یہ کہ مال کی جو محبت ہے، میں آپ کو بتاؤں صحیح بات عرض کرتا ہوں نا، ذرا تھوڑا سا انسان Impartial ہو کر سوچے۔ تھوڑی سی دیر کے لیے۔ تو اس حقیقت حال معلوم ہو جاتی ہے۔ مثلاً ایک شخص ارب پتی ہے۔ تو کیا اس کا Actual جائز خرچ کتنا ہونا چاہیے؟ Actual۔ اپنے پورے گھر، جائز، ناجائز کی مراد ہے، شراب پینا، رنڈیاں نچانا، یہ تو اس کے لیے تو کوئی بادشاہت بھی کافی نہیں ہوتا۔ لیکن جائز خرچ، مثلاً کھانے پینے کا خرچ، مکان کا خرچ، نوکروں کا خرچ، ان تمام چیزوں کو ملا کر تو کتنا خرچ ہو گا؟ ایک کروڑ، دو کروڑ ہی سہی۔ یہ باقی پیسوں کا وہ کیا کرے گا؟ وہ ایسے ہی بینک میں پڑے ہوتے ہیں، اور پیچھے رہ جاتے ہیں، چلا جاتا ہے۔ ایسے ہی ہوتا ہے۔ کیا ہوتا ہے؟

تو اصل بات یہی ہے کہ جو مال کی جو محبت ہے نا، یہ بالکل ایک فضول چیز ہے۔ حضرت سہل تستری رحمۃ اللہ علیہ، بہت سخی تھے۔ تو وہ بہت خرچ کرتے تھے۔ تو ان کے رشتہ داروں نے شکایت کی، حضرت ابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ علیہ سے۔ کہ حضرت ان کو سمجھا دیں، یہ تو سب کچھ خرچ کر لے گا اور فقیر ہو جائے گا۔ تو حضرت نے ان سے پوچھا کہ بھئی کیا بات ہے، آخر اتنا زیادہ کیوں کرتے ہو؟ انہوں نے کہا، حضرت میں مدینہ منورہ سے اگر بصرہ چلا جاؤں، میرا گھر ادھر بن جائے۔ تو میں مدینہ منورہ میں کچھ چھوڑوں گا؟ کہتے ہیں نہیں، تو انہوں نے کہا، یہی تو میں کر رہا ہوں، کہ میں نے آخرت میں جانا ہے۔ تو میں یہاں اب کیوں چھوڑوں یہ چیزیں، میں ادھر بھیج رہا ہوں نا۔

اب اس Logic کا کون جواب دے سکتا ہے؟ بات تو یہی ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ، یعنی جو یہ والی بات ہے، یہ Facts ہیں۔ یہ Facts ہیں، لیکن ان Facts پر لانے کے لیے محنت ہے۔ اسی کو طریقت کہتے ہیں۔ Facts سے آپ کو علم حاصل ہو جائے گا، ان Facts کے جاننے سے آپ کو علم حاصل ہو جائے گا۔ لیکن اس علم پر عمل کرنے کے لیے آپ کو طریقت سے گزرنا ہو گا۔ بغیر اس کے کوئی اور راستہ بظاہر نہیں ہے۔

تو حضرت (مجدد صاحب) نے فرمایا کہ جو شیخ ہوتا ہے، وہ برزخ ہوتا ہے۔ وہ اپنی روح کے ذریعے سے، اپنی روح کے ذریعے سے، حضرت نے اس کو لطیفہ روح کہا ہے۔ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے، حضرت نے اس کو روح کہا ہے۔ اپنی روح کے ذریعے سے اللہ سے لیتا ہے، اور اپنے نفس کے ذریعے سے لوگوں کو دیتا ہے۔

اب یہ نفس کے ذریعے سے کیسے دیتا ہے، اس پر میں سوچ رہا تھا، میں نے کہا یہ کیا مطلب ہے؟ یہ نفس کے ذریعے سے کیسے دیتا ہے؟ نفس کے ذریعے سے ایسے دیتے ہیں کہ دیکھو، جس کا نفس نہیں ہو گا کیا اس کو درد ہو گا؟ جب درد نہیں ہو گا تو کسی اور کے درد کا پتہ چلے گا؟ تو کیسے دوسروں کا مداوا کرے گا؟

تو یہ چیزیں ان پر جو خود گزری ہوتی ہیں، تو ان سے ان کو دوسروں کا پتہ ہوتا ہے، کہ دوسروں کے کیا مسائل ہیں۔ لہٰذا ان کی اس طریقے سے مدد کرتے ہیں، شریعت کے مطابق چلنے میں۔

یعنی دیکھو میں آپ کو بات بتاؤں، ایک آدمی بڑے الجھے ہوئے مسائل میں پھنسا ہوا ہے۔ وہ ایک مفتی کے پاس جاتا ہے، جی میں کیا کروں؟ مفتی اس کو صاف کتابی کتابی مسئلہ بتا دے گا۔ ﴿وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ﴾، بس بات ختم ہو گئی۔ شیخ کے پاس جائے گا، تو شیخ اس کے حالات دیکھے گا کہ اس کے حالات کیا ہیں۔ ان حالات میں ان کے لیے کیا حکم ہے؟ باقاعدہ گویا کہ اس کے ساتھ کوئی چل رہا ہو۔ اور تدریج کے ساتھ اس کو لے جائے گا۔ اس کو فوراً وہ تمام چیزوں پہ نہیں لے آئے گا۔ بلکہ اس کے ساتھ تدریج والا معاملہ کرے گا۔ یہ مشائخ کا کام ہے۔ مفتی کا کام یہ نہیں ہے، مفتی نے تو مسئلہ بتانا ہے۔ وہ مفتی مسئلہ بتا کے فارغ ہو گیا۔ لیکن شیخ جو ہے نا فارغ نہیں ہوتا۔ وہ باقاعدہ آپ کے ساتھ چلے گا، اور آپ کے لیے سوچے گا، آپ کے لیے فکر کرے گا۔ یعنی کہ آخر کس طریقے سے یہ عمل پہ آ جائے۔ یہ، یہ بات ہے۔

تو بہرحال وہ جو نفس کے ذریعے سے دینا، وہ اس طرح دینا ہے۔ کہ وہ آپ کے حالات کو جان کر، اچھی طرح سمجھ کر، پھر میں آپ کو بتاؤں، حضرت صوفی اقبال صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ایک کتاب لکھی ہے، چھوٹی سی کتاب ہے۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ نفس کے ساتھ دینا کیا ہوتا ہے۔ حضرت نے فرمایا "ریڑھے والے کی نماز"۔ "ریڑھے والے کی نماز"۔ فرمایا ایک ریڑھا بان ہے، اس کے پاس چیزیں ہیں بیچنے کی۔ ہے نمازی۔ نماز کا وقت ہو گیا، اس نے اپنا ریڑھا مسجد کے قریب لگا دیا۔ چیزیں اس کے اوپر پڑی ہوئی ہیں۔ وضو اس نے کر لیا، نماز وہ پڑھ رہا ہے۔ اس کے بے انتہا خیالات، کہیں کوئی بچہ اس کو الٹا نہ دے، کہیں اس سے کوئی چیز نہ لے جائے، یہ سارے خیالات اس کو آئیں گے۔ کیونکہ انسان ہے۔ وہ آئیں گے۔ اس کی یہ نماز جو ہے، اس ریٹائرڈ آدمی سے جس کو کوئی فکر نہیں ہے، بڑی خضوع خشوع والی نماز سے افضل ہے۔

اب بتاؤ! یہ ہے نفس کے ذریعے سے دینا۔ کہ مطلب یہ ہے کہ ان کے حالات کو جاننا، بھئی کوئی اس طرح نہیں اگر آپ ان حالات پر ہوتے پھر کیا کرتے؟ وہ تو مطلب ظاہر ہے وہ تو، اس کی بڑی قربانی ہے اس کا مجاہدہ ہے۔ وہ اس حد تک Risk لے رہا ہے اور اس کی ساری بساط ہی کیا ہے؟ لیکن وہ نماز کے لیے قربانی کر رہا ہے۔ تو اس کی قربانی اللہ پاک کو نظر تو آ رہی ہے نا۔

ایک دفعہ ایک صاحب تھے، وہ جہاد میں تھے۔ پریکٹیکل بات بتا رہا ہوں کیا ہے۔ جہاد میں تھے۔ اور اس میں آئے تھے محاصرے میں آئے تھے۔ Ammunition بڑے، جس کو کہتے ہیں نا احتیاط کے ساتھ استعمال کرنا تھا۔ اور Fire کرتے تھے۔ فرمایا تقریباً ایک میٹر کے فاصلے پر ان کے ساتھ پانی کی نہر بہہ رہی تھی۔ لیکن اس کے لیے باہر نہیں جا سکتے تھے۔ جاتے تھے تو Fire مطلب ظاہر ہے، Fire ہو جاتا تھا، اس کے اوپر محاصرے میں تھے۔ تو اس نے وہاں تیمم کے ساتھ نماز پڑھی۔ تو اس نے اپنے ایک شیخ کے ساتھ، وہ، پوچھا کہ حضرت کیا میں نماز دہراؤں؟ انہوں نے کہا نہیں، یہ نماز مجھے دے دے، میری ساری نمازیں آپ لے لیں۔ یہ نماز مجھے دے دے، یہ ساری نمازیں میری آپ لے لیں۔

اتنی قیمتی نماز! ظاہر ہے یہ کوئی معمولی بات تو نہیں ہے نا، مطلب یہ جان پر کھیلنے والی بات ہے۔ تو اس وقت تو باتیں ایسی ہوتی ہیں۔ تو بہرحال یہ، یہی بات ہوتی ہے کہ نفس کے ذریعے سے دینے کا مطلب یہ ہے، کہ آپ لوگوں کے حالات صحیح طور سے جانچ لیں۔ اور اس کے مطابق ان کو مشورہ دیں۔ وہ شیخ بڑا اناڑی ہوتا ہے جو اپنے حال کے مطابق مرید کو بتاتا ہے۔ جو مرید کے حال کے مطابق مرید کو بتاتا ہے، وہ کامل ہے۔ وہ کامل ہے۔ اس کی بات ہے۔

8

نہ، غلط بولا میں نائب یا منوب گر دو سمجھو گے قبیح ہے نہ کہ خوب

نہیں (نہیں، اس تفریق کے ذکر میں) میں نے غلطی کی، کیونکہ اگر تم نائب اور منوب عنہ کو دو سمجھو گے تو یہ بری بات ہے۔ اچھی نہیں۔

مطلب: نیابت کے ذکر سے احتمال ہوتا تھا کہ جب پیغمبر نائب اور اللہ تعالیٰ منوب عنہ ہوا تو دونوں الگ ہوں گے۔ اس احتمال کو رفع کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میرا نائب کا لفظ کہہ دینا غلطی تھی جو موہمِ مغایرت ہے۔

9

دو ہیں واسطے ان کے ہیں ظاہر بین ہیں جو ایک ہیں ان کے واسطے اس سے نکلیں جو

نہیں یہ (نائب و منوب عنہ) جداگانہ بھی ہیں۔ جب کہ تو ظاہر پرست ہے۔ جو شخص ظاہریت سے نکلا اس کے نزدیک یہ دونوں ایک ہو گئے۔

اب دیکھیں ذرا، یہ چیز کیا ہے، ذرا تھوڑا سا۔ ایسی چیزوں کی تشریح کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیونکہ اشعار بہت اونچے اشعار ہیں۔ لیکن اگر غلط سمجھے، تو پتہ نہیں کس طرف چلے جائیں گے۔

ایک ہے کا مطلب کیا ہے، اور دو ہے کا مطلب کیا ہے؟ ہمارے نقشبندی سلسلے میں ایک مشرب ہے تجلیاتِ افعالیہ کا۔ جس میں ہم یہ مراقبہ کرتے ہیں، کہ سب کچھ اللہ ہی کرتے ہیں۔ کسی سے بھی جو ہوتا ہوا نظر آتا ہے، وہ اصل میں اللہ ہی کرتے ہیں۔ کسبی طور پر اس کی طرف منسوب ہے۔ لیکن تو کسبی طور پر دو ہیں، لیکن اصلی طور پر کیا ہے؟ ایک ہے۔ یہ وہ چیز ہے۔

مطلب یہ کہ یعنی اصل چیز اللہ تعالیٰ ہی کرتے ہیں۔ تو جس وقت آپ یہ، جس کو کہتے ہیں نا، جو بھی آپ کام کریں، آپ خود جو کام کر رہے ہیں، اس میں بھی آپ کو پتہ ہے کہ اگر اللہ نہیں چاہے گا تو نہیں ہو گا۔ یہ ہم "ان شاءاللہ" کیوں کہتے ہیں؟ ظاہر ہے اسی لیے کہتے ہیں، ٹھیک ہے میں یہ کام کر رہا ہوں، لیکن ان شاءاللہ۔ اگر اللہ نے چاہا تو پھر ہو گا، ویسے نہیں ہو گا۔

مطلب: نائب و منوب عنہ کا جدا ہونا اوپر غلط قرار دیا تھا۔ اب اس سے استدراک کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ بات غلط تو ہے مگر کلیۃً غلط نہیں، بلکہ ظاہر پرستوں کے نزدیک وہ دونوں الگ ہیں لیکن جن لوگوں کی نظر صورت آشنا نہیں اور ان کے شہود سے تعین اٹھ گیا ہے وہ ان کو ایک جانتے ہیں۔

10

دو بظاہر آنکھیں تُو رکھتا تو ہے

اب دیکھو عام مثالیں دے رہا ہے

دو بظاہر آنکھیں تُو رکھتا تو ہے اندر سے تُو ایک سا دیکھتا تو ہے

یعنی تمہاری جو دونوں آنکھیں ہیں، اس کی Picture کتنی بنتی ہے؟ دو بنتے ہیں؟ Picture تو ایک بنتی ہے، پیچھے، ادھر مرکز میں۔ اور اگر دو بنے تو پھر کیا ہو گا؟ اس کو "بھینگا" کہتے ہیں۔ وہ بیماری ہے، اگر دو بنے۔ اس وجہ سے جن کو دو نظر آتے ہیں نا، ایسی صورت میں ان کو بھی روحانی طور پر بھینگا کہتے ہیں۔ کئی دفعہ حضرت نے اس کے بارے میں فرمایا ہے۔

(مثلًا) تمہاری آنکھیں اگر بظاہر دیکھو تو دو ہیں (لیکن) ان کے نورِ بصارت کو دیکھو تو وہ اندر سے ایک ہے۔

مطلب: یہ دو چیزوں کے بظاہر دو اور بحقیقت ایک ہونے کی مثال ہے، یعنی آنکھیں جو آلۂ بصارت ہیں دو ہیں، لیکن اصل بصارت ایک ہے۔ واضح ہو کہ آلۂ بصارت دو عصب ہیں جو الگ الگ دونوں آنکھوں سے نکل کر آپس میں متقاطع ہوتے ہوئے مقدّمِ دماغ تک پہنچتے ہیں۔ ان کا یہ مقامِ تقاطع منبعِ بصارت ہے۔

اوہو، صرف دو آنکھیں نہیں ہیں، بہت زیادہ ہیں۔ لیکن یہ ڈاکٹروں سے پوچھو۔ ڈاکٹروں سے پوچھو کتنے ہیں؟

ڈاکٹر لوگ بتاتے ہیں کہ تقریباً لاکھوں Cones ہیں۔ ہر Cone سے آدمی دیکھ رہا ہوتا ہے، ان سب کی وہ Picture جمع ہو جاتی ہے ادھر۔ اور لاکھوں Rods ہیں۔ Right side, upper, نیچے، بائیں طرف، یہ Rods ہیں۔ جو بھی لاکھوں ہیں، اور لاکھوں Cones ہیں۔ ان سب کی Picture اکٹھی ہوتی ہے۔ اور ایک نظر، کیا بات ہے!

مجھے، ڈاکٹر سہیل صاحب جو Eye Specialist ہیں، ہمارے ساتھی ہیں۔ وہ کہتے ہیں، جب میں Operation کرتا ہوں اور آنکھ کو کھولتا ہوں، تو میں حیران ہو جاتا ہوں اللہ تعالیٰ کی خلق پر۔ کہ کیسے اللہ پاک نے اس آنکھ کو بنایا ہے! یقین جانیے مطلب، حیرت کی بات ہے۔ کہ کس طرح مطلب ان تمام سے Data لے کے وہ ملاتا ہے۔ مطلب بہت، کیا عجیب بات ہے!

11

ایک کو دیکھے گا اک آئے گا نظر بے شک آنکھیں دو ہی دیکھے ہیں ادھر

مطلب یہ ہے، مطلب آپ کو، یعنی ایک پہ اگر آپ کی Focus ہے، تو وہ آپ کو ایک ہی نظر آئے گا وہ۔ بے شک آپ کی آنکھیں دو ہیں۔

(اسی لیے) ضرور (ہے کہ) جب تیری نگاہ ایک (چیز) پر پڑے گی تو ایک (چیز محسوس) ہو گی (دو آنکھوں کو) دو چیزیں نظر نہیں آئیں گی۔

مطلب: اطباء نے لکھا ہے کہ قوتِ باصرہ آنکھوں کے ان دو مجوّف عصبوں کے اندر ودیعت کی گئی ہے جو مقدّمِ دماغ سے نکلے ہیں۔ ہر چند کہ یہ دو عصبے الگ الگ دونوں آنکھوں سے متعلق ہیں۔ مگر آنکھوں کو ہر چیز کی ایک صورت ہی محسوس ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دونوں اپنے تقاطع صلبی کے مقام پر متحد ہو گئے ہیں۔ اگر یہ اتحاد نہ ہوتا تو دونوں آنکھیں ہر چیز کو الگ الگ دو صورتوں سے محسوس کرتیں۔ مولانا کا مدّعا یہ ہے کہ دونوں آنکھیں بظاہر دو ہیں مگر بباطن ان کی قوت متحد ہے۔ اس لیے ان کا احساس متحد ہے۔

12

فرق نہیں دو آنکھوں کے نور میں آدمی ان کے نور پہ جب نظر کریں

دونوں آنکھوں کے نور میں فرق نہیں کیا جا سکتا۔ جب آدمی ان کے نور پر نظر کرے۔

دفتر اول: حکایت: 35

اس بات کا بیان کہ تمام پیغمبر برحق ہیں بفحوائے آیۃ "لَا نُفَرِّقُ"

یعنی "ہم اس کے پیغمبروں میں سے کسی میں تفریق نہیں کرتے"

1

گر مکان میں حاضر ہوں چراغ دس ہر اک مختلف نظر آئے گا بس

اگر تو ایک مکان میں دس چراغ لا حاضر کرے تو ہر ایک شکل میں دوسرے سے جدا ہوگا۔

2

نور میں فرق ان کا نظر آئے نہیں

سب کا نور ایک جیسا ہے

نظر اس سے گر تو اٹھائے نہیں

(مگر) اس میں شک نہیں کہ ہر ایک کے نور میں فرق نہیں کیا جا سکے گا۔ جب تو اس کے نور پر متوجہ ہوگا۔

3

اُطْلُبِ الْمَعْنٰی مِنَ الْفُرْقَانِ وَ قُلْ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اٰحَادِ الرُّسُل

اس مطلب کو قرآن مجید میں تلاش کر اور کہہ دے ہم پیغمبروں کی جماعت میں فرق نہیں کرتے۔

یعنی سارے پیغمبر ایک ہیں۔ سارے پیغمبر کیوں؟ کیونکہ ان سب کی دعوت ایک ہے۔ سب ایک ہی بات کر رہے ہیں۔

4

سیب بہی سو سو اگر کردو شمار سو سو ہوں نچوڑ دیں اک ہو شمار

مطلب یہ ہے کہ جو سیب اور بہی کو سو سو لے لو، ان کو آپس میں Mix کر دو۔ آپ علیحدہ کرو گے تو دو سو سو ہو جائیں گے سو سو یہ، اور سو یہ اور جب اس کو نچوڑ دیں اکٹھا، تو پھر کیا ہو گا؟ پھر ایک ہی ہو گا نا، ایک ہی جوس ہو گا۔ اگر تم سو سیب اور سو بہی کو شمار کرو تو سو نظر آئیں گی (لیکن) جب (ان کو) نچوڑ دو تو (شیرے میں سب) ایک ہو جائیں گی۔

5

معنوں میں تقسیم نہیں اعداد نہیں اور ان میں تجزیہ و افراد نہیں

معنوں میں بانٹ اور گنتی نہیں ہے۔ معنوں میں تقسیم اور اکائیاں نہیں۔ (یہ سب الفاظ کی صفات ہیں)۔

مطلب: مذکورہ تمثیلات سے مقصود یہ ہے کہ تمام پیغمبر نفسِ رسالت میں مشترک و متحد ہیں۔ اگر بظاہر وہ ایک دوسرے سے وجود اور زمانًا و تشخّصًا الگ الگ ہیں تو اس تغایرِ ظاہری سے معنوی اتحاد میں کوئی نقص نہیں آتا۔

اس پر حضرت شاہ ولی اللہ، شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ نے، اس میں، بہت بحث کی ہے۔ عبقات میں۔ کہ ایسے مطلب ایک انسان اندر سوچتا کیا ہے اور الفاظ اس کے کیا ہیں۔ تو چاہے وہ عربی بولے، چاہے انگریزی بولے، چاہے فارسی بولے، جو چیز بول رہا ہے وہ تو اندر سے ایک ہے نا!

زبان کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے۔ مثلاً میں کہوں، "Give me this book"۔ تو انگریزی ہے۔ "یہ کتاب مجھے دے دو"، تو میرے اندر تو چیز ایک ہی ہے نا، مطلب وہ تو فرق نہیں ہے۔ لیکن یہ ہے کہ، جب انگریزی بولوں گا تو اس کے الفاظ الگ ہوں گے۔ اردو بولوں گا تو اس کے الفاظ الگ ہوں گے۔ پشتو بولوں گا تو اس کے الفاظ الگ ہوں گے۔ لیکن چیز ایک ہی ہو گی۔ تو فرق الفاظ میں ہے، فرق معنوں میں نہیں ہے۔ اور معنی کیا ہے جی؟ معنوں کی ذرا صورت بتائیں کہ کیسی ہو سکتی ہے۔ کون سے معنی کسی زبان میں ہوں گے؟ معنوں کی زبان کیا ہوگی ۔یہاں انسان کا دماغ گھوم جاتا ہے۔

6

پس اصل معنی کا اتباع کرو صورت کو سرکش جو ہے جدا کرو

(ثابت ہوا کہ اصل معنٰی (یعنی حقیقتِ حق) کا اتباع کرو۔ کیونکہ صورت (تعینات و تشخّصات) سرکش ہے (یعنی مانعِ اتحاد ہے)

7

صورتِ سرکش ریاضت سے گلا

صورتِ سرکش، یعنی جسمانیت۔

وحدت اس میں دیکھ نظر اس پر جما

صورتِ سرکش کو ریاضت کے ساتھ گلا دو تاکہ اس کے اندر وحدت (یعنی حقیقتِ حق) خزانہ کی طرح تم کو نظر آئے۔

مطلب: ریاضت سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس قدر مشغولی پیدا کرو کہ موجوداتِ ظاہری کی طرف توجہ و التفات نہ رہے۔ ۔

8

تو ہٹا سکے نہ اس سے گر نظر تو عنایت اس کی کرے گی اثر

اگر تو اس سے نظر نہیں ہٹائے گا تو اس کی عنایت ضرور اثر کرے گی۔ یعنی تو اس کے ساتھ اپنا دل لگا کے تو دیکھ۔

فرماتے ہیں کہ اور (اگر باوجود ریاضت کے) تم (موجوداتِ ظاہر سے) اپنی نظر نہ ہٹا سکو (تو تم غم نہ کرو) خود اس (خدائے کریم) کی عنایات (تم کو اپنی طرف اس طرح متوجہ کر لیں گی کہ موجوداتِ ظاہری کی طرف سے تم کو غیر ملتفت بنا دیں گی، اے مخاطب!) میرا دل تو اس کا حلقہ بگوش ہے۔

اے مخاطب میرا دل تو اس کا حلقہ بگوش ہے۔ یہ اس سے بھی ظاہر ہوتا ہے، قران پاک کی ایک آیت سے ﴿وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا﴾۔ جو مجھ تک پہنچنے کے لیے کوشش اور محنت شروع کرتے ہیں تو ہم ضرور بالضرور ان کو ہدایت کے راستے سجھائیں گے۔

9

آنکھوں سے آتا نہیں وہ نظر جلوہ دکھلاتا ہے روح دل کو بے بصر

وہ آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتا بلکہ قلوب میں اپنا جلوۂ دکھاتا ہے۔ وہ (اپنے جلوۂ ذات سے) عاشقوں کے پارہ پارہ دل کو تسکین بخشتا ہے۔

10

روح تھے جب ترکیب تعدد تھا کہاں تھے منزہ جسم سے سب یہ اعضاء

ہم (مرتبہ روح میں) بسیط اور جواہر واحد تھے۔ (ترکیب اور تعدد نہ تھا) اس عالم میں سب کے سب اعضاء و جوارح (وغیرہ جسمانیت) سے منزّہ تھے۔

مطلب: اوپر طلبِ حق کا ذکر تھا اور چونکہ طلب و مطلوب میں مناسبت ضروری ہے اس لیے اب اس مناسبت کا ذکر فرماتے ہیں۔

11

سورج سا ایک ذات تھے بے قید بھی تھے شفاف تھا خارجی ترکیب نہیں

ہم سورج کی طرح ایک ذات تھے (جس میں کثرت اور خارجی ترکیب نہیں ہے) بے قید (مادہ) اور پانی کی طرح صاف و شفاف تھے۔

12

پائی جب صورت اس خالص نور نے کنگرے کی طرح اس کے سائے بنے

جب اس خالص نور نے صورت (یعنی جسمانیت) اختیار کی (یعنی بدن سے متعلق ہوا) تو کنگرے کے سایوں کی طرح متعدد بن گیا۔

مطلب: روح جو ایک جوہرِ بسیط ہے اس کے اجسام سے متعلق ہو کر متعدد و کثیر ہونے کی مثال ہے، یعنی آفتاب کا نور ایک ہوتا ہے مگر جب وہ چند کنگروں پر پڑتا ہے تو جتنے کنگرے ہوں اتنے ہی نور کے حصے ہو جاتے ہیں۔

13

کنگرہ ویران کر ریاضت سے کہ یہ اس جماعت سے فرق اٹھ جائے ہے

(اے طالبانِ حق اس جسمانیت کے) کنگروں کو (ریاضت کے) منجنیق سے ویران کر ڈالو، تا کہ اس جماعت (ارواح) سے فرق اٹھ جائے۔

مطلب: اشعارِ بالا میں حق اور طالبانِ حق میں یہ مناسبت ثابت ہوئی کہ مقدّم الذکر بسیط ہے تو مؤخّر الذکر کی ارواح بھی بسیط ہیں۔ وہ واحد ہے تو یہ بھی واحد۔ وہ قیدِ مادہ سے پاک ہے تو یہ بھی پاک۔ اس کا نور مظاہرِ کثیرہ میں جلوہ گر ہے تو ارواح بھی مختلف اجسام سے متعلق ہیں۔ انہی مناسبات کی بنا پر روح کو امرِ ربّانی کہا جاتا ہے،

﴿قُلِ الرُّوْحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّيْ﴾۔

جب مناسبت ثابت ہو گئی تو طالبانِ حق کے لیے وصول الٰی الحق کے ممکن ہونے میں شبہ نہ رہا۔

تو یہ بہرحال مطلب آج تک مطلب یہ بات تھی۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو اصل چیز تک پہنچا دے۔ اس کے اندر جو اصل چیز ہے وہ ہمیں نصیب فرمائے۔ یہ جو باقی چیزیں ہیں جیسے میں نے عرض کیا نا ابتداء میں، جو حکایات وغیرہ ہیں، تو حکایات تو اس کے ایک جسم کی طرح ہیں۔ لیکن اس کے اندر جو علوم ہیں، وہ اس کے معانی، یعنی مطلب، روح کی طرح ہیں۔ اصل چیز اس کو لینا چاہیے۔ حضرت مولانا نے بھی یہ فرمایا کہ جس نے حکایات کو اصل سمجھا، اس نے میری مثنوی کی قدر نہیں کی۔ جس نے حکایات کو اصل سمجھا، نہیں نہیں یہ پڑھ گئے کہ حکایات کیا ہیں۔ مثلاً حضرت کبھی کبھی طوطے کی کہانی، مینا کی کہانی، اس، اس سے بھی بڑے بڑے مضامین اخذ کر لیتے ہیں۔ تو اب یہ کہتے ہیں بھئی یہ کیا چیز ہے؟ یہ کیا، یہ کوئی مطلب، اللہ والے ہیں کہ کبھی مینا کی کہانی بتاتے ہیں، کبھی طوطے کی کہانی، کبھی گدھے کی کہانی۔

کیونکہ اس سے اس کی غرض ہی نہیں ہے۔ وہ تو صرف لوگوں کی مناسبت کے لحاظ سے، چونکہ لوگوں کے مزاج مختلف ہیں، ان کو سمجھانے کے طریقے مختلف ہو سکتے ہیں، تو جس کو جس طریقے سے سمجھ آ جائے اس طریقے سے سمجھا دو۔ ظاہر ہے مطلب اس میں کیا ضرورت ہے کہ خواہ مخواہ اپنی... جیسے میں نے عرض کیا نا وہ شیخ کامل نہیں ہوتا جو اپنے حال کے مطابق مرید کی تربیت کرے۔ بلکہ وہ شیخ کامل ہوتا ہے جو مرید کے حال کے مطابق تربیت کرے۔

تو اسی طریقے سے حضرت بھی چونکہ بہت بڑے ماشاءاللہ، اللہ پاک نے ان کو ایک ظرف دیا تھا۔ جس میں حضرت شمس تبریز رحمۃ اللہ علیہ کی طرف سے، اللہ پاک نے بڑی روحانیت ڈالی تھی۔ اب اس روحانیت کو الفاظ کے پیرائے میں لانا، یہ ایک کام ہے۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے۔ یعنی وہ چیز تو معنی آ گئی، لیکن اب اس کو بیان کیسے کیا جائے؟ تو اس کا بیان تو واقعی مشکل کام ہے۔ تو حضرت نے جو یہ اشعار مطلب کہے ہیں، اصل میں انہی چیزوں کا بیان ہے۔ جو کہ اس کے اندر ہے جیسے میں نے عرض کیا نا معانی اور الفاظ، اللہ جل شانہ ہم سب کو سمجھنے کی توفیق عطا فرما دے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ. رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ.

مرشدِ کامل کی ضرورت اور تزکیۂ نفس کے عملی طریقے - درس اردو مثنوی شریف - دوسرا دور