غزوہِ احد: مسلمانوں کی آزمائش، اجتہادی غلطی اور اس کے نتائج

درس نمبر 155، سورۃ آل عمران: آیات:152، 153 - (اشاعتِ اول) 3 مئی، 2022، بمطابق یکم شوال 1443 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. غزوہ احد کی ابتدائی فتح اور درّے (ٹیلے) پر مامور صحابہؓ کو دیا گیا واضح حکم
    1. صحابہ کرامؓ کی اجتہادی غلطی اور مالِ غنیمت جمع کرنے کا شرعی طریقہ کار
      1. حضرت خالد بن ولیدؓ کی جنگی بصیرت اور مسلمانوں پر پیچھے سے اچانک حملہ
        1. میدانِ جنگ میں افواہوں کا کردار اور نبی کریم ﷺ کی شہادت کی افواہ کے اثرات
          1. غزوہ احد کے نقصانات: 70 صحابہ کرامؓ کی شہادت اور نبی کریم ﷺ کا زخمی ہونا
            1. غم کے بدلے غم کی حکمت: بحرانی حالات میں مسلمانوں کی نفسیاتی و جنگی تربیت اور استقامت کا درس

              اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ

              فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،

              بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.


              وَ لَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهٗۤ اِذْ تَحُسُّوْنَهُمْ بِاِذْنِهٖۚ-حَتّٰۤى اِذَا فَشِلْتُمْ وَ تَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ عَصَیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَرٰىكُمْ مَّا تُحِبُّوْنَؕ-مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الدُّنْیَا وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الْاٰخِرَةَۚ-ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِیَبْتَلِیَكُمْۚ-وَ لَقَدْ عَفَا عَنْكُمْؕ- وَاللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ(152) اِذْ تُصْعِدُوْنَ وَ لَا تَلْوٗنَ عَلٰۤى اَحَدٍ وَّ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ فِیْۤ اُخْرٰىكُمْ فَاَثَابَكُمْ غَمًّۢا بِغَمٍّ لِّكَیْلَا تَحْزَنُوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا مَاۤ اَصَابَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ(153)


              صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔


              اور اللہ نے یقیناً اس وقت اپنا وعدہ پورا کردیا تھا جب تم دشمنوں کو اسی کے حکم سے قتل کررہے تھے، یہاں تک کہ جب تم نے کمزوری دکھائی اور حکم کے بارے میں باہم اختلاف کیا اور جب اللہ نے تمہاری پسندیدہ چیز تمہیں دکھائی تو تم نے (اپنے امیر کا) کہنا نہیں مانا۔ تم میں سے کچھ لوگ وہ تھے جو دنیا چاہتے تھے، اور کچھ وہ تھے جو آخرت چاہتے تھے۔ پھر اللہ نے ان سے تمہارا رخ پھیر دیا تاکہ تمہیں آزمائے۔ البتہ اب وہ تمہیں معاف کرچکا ہے، اور اللہ مؤمنوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے ﴿152﴾ (وہ وقت یاد کرو) جب تم منہ اٹھائے چلے جارہے تھے اور کسی کو مڑ کر نہیں دیکھتے تھے، اور رسول تمہارے پیچھے سے تمہیں پکار رہے تھے، چنانچہ اللہ نے تمہیں (رسول کو) غم (دینے) کے بدلے (شکست کا) غم دیا، تاکہ آئندہ تم زیادہ صدمہ نہ کیا کرو، نہ اُس چیز پر جو تمہارے ہاتھ سے جاتی رہے، اور نہ کسی اور مصیبت پر جو تمہیں پہنچ جائے۔ اور اللہ تمہارے تمام کاموں سے پوری طرح باخبر ہے ﴿153﴾

              مطلب یہ ہے کہ جنگِ احد میں چونکہ پہلے فتح ہوئی تھی۔ کفار شکست کھا کر بھاگ رہے تھے۔ ان میں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ جو ظاہر ہے پہلے سے ان میں جرنیلی خصوصیات تھیں۔ اور ایسے لوگوں کی نظر ہر چیز پر ہوتی ہے۔ وہ routine والے لوگ نہیں ہوتے، بلکہ وہ ہر چیز کو بڑے غور سے دیکھتے ہیں۔

              تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی وہ جماعت جو آپ ﷺ نے ایک امیر کی اطاعت میں ٹیلے پر بٹھائی تھی اور تیار رہنے کا حکم دیا تھا کہ چاہے ہمیں فتح ہو یا شکست ہو، آپ لوگوں نے ادھر ہی جمے رہنا ہے۔ یہ بات طے تھی اس وقت۔ لیکن جب ان کو شکست ہونے لگی کفار کو، تو مالِ غنیمت جمع کرنے کے سلسلے میں انہوں نے کہا کہ ہم اپنے بھائیوں کی مدد کریں۔ اب یہ والی بات ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید مالِ غنیمت جمع کرنے کے اس میں گئے حالانکہ مالِ غنیمت کا قانون یہ نہیں تھا کہ جس کے ہاتھ جو لگ جائے وہ اس کا ہے۔ بلکہ سب جمع کرتے تھے، ایک جگہ جمع ہو جاتا تھا، پھر اس کے بعد سب کو ان کے درجات کے مطابق تقسیم ہوتا تھا۔ یہ طریقہ کار تھا، یہ نہیں کہ وہ جس کے ہاتھ جو آ گیا تو لوٹنے والی بات نہیں تھی، اس پر وہ اس طرح۔

              تو ظاہر ہے وہ مدد ہی کر رہے تھے، اور پسندیدہ چیز تو ہوتی ہے جنگ میں۔ دشمن کا مالِ غنیمت ہاتھ آتا ہے تو پسندیدہ چیز تو ہے۔ تو ایسا ہے کہ انہوں نے جب اپنے بھائیوں کو دیکھا کہ وہ مالِ غنیمت جمع کر رہے ہیں اور شکست ان کو ہو گئی ہے، تو یہ ان کی اجتہادی غلطی تھی۔ اس اجتہادی غلطی کی وجہ سے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تربیت کروانی تھی، تو اس وجہ سے چونکہ وہ اس بات پر عمل نہیں ہوا ان سے، جو کہ آپ ﷺ نے ان کو بتائی تھی، تو اس پر وہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جو تھے، وہ طاق گئے کہ پیچھے ٹیلہ خالی ہو گیا ہے۔

              تو وہ بہت دور جا کے، پیچھے سے مڑ کر آگئے یعنی بظاہر بھاگتے ہوئے نظر آئے، لیکن وہ بھاگے نہیں، وہ ادھر دور سے جو ہے کہ لمبا مڑ کے وہ آ گئے۔ تو ٹیلہ خالی تھا، تو بس اس پہ آ گئے، تو جو پانچ چھ رہ گئے تھے تو ان کو شہید کر دیا۔ اور پھر ٹیلے سے جب نیچے اترے نا، تو مسلمان نرغے میں آ گئے۔ اور وہ جو پیچھے بھاگ رہے تھے، وہ بھی واپس ہو گئے۔ انہوں نے دیکھا کدھر سے شروع ہو گیا ہے اور وہ ادھر سے بھی۔ تو اس پر وہ سارا کچھ میدان کا نقشہ ہی بدل گیا۔

              اور اس میں پھر افواہوں نے بھی کام کر دیا۔ افواہوں نے یہ کام کیا کہ لوگوں نے مشہور کیا کہ آپ ﷺ شہید ہو گئے۔ غالباً مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تھے، تو وہ آپ ﷺ کی صورت کے زیادہ قریب تھے۔ تو لوگوں نے مشہور کیا کہ آپ ﷺ شہید ہو گئے۔ تو اس پر بعض لوگ تو دلبرداشتہ ہو کر میدان چھوڑ کے چلے گئے۔ تو جو بس صرف چند جانثار تھے جو کہ لڑ رہے تھے، پھر بعد میں جب پتہ چلا کہ نہیں، آپ ﷺ تو شہید نہیں ہوئے، تو پھر۔۔۔ لیکن اس سے اسلام میں بڑا نقصان ہوا تقریباً 70 کے لگ بھگ صحابہ کرام شہید ہوئے تھے۔ اور آپ ﷺ کے دندان مبارک بھی شہید ہوئے، اور کافی تکلیف ہوئی۔

              تو یہ چیز۔۔ اس کی طرف اشارہ ہوا ہے کہ امیر کے حکم کی خلاف چونکہ ٹیلہ چھوڑ گئے تھے، اس کی وجہ سے واقعات آ گئے۔ باقی یہ ہے کہ

              "چنانچہ اللہ نے تمہیں رسول ﷺ کو غم دینے کے بدلے شکست کا غم دیا، تاکہ آئندہ تم زیادہ صدمہ نہ کیا کرو"۔ یعنی اس قسم کے واقعات سے تمہارے اندر پختگی آئے گی، اور اندر جب کوئی تکلیف پیش آئے گی اس پر زیادہ پریشان اور مغموم رہنے کے بجائے تم صبر و استقامت سے کام لو گے۔

              مطلب یہ ہے کہ دیکھو ایک ٹریننگ ہو گئی نا کہ ایسی condition میں survival کس چیز میں ہے؟ یعنی survival مطلب دیکھیں ایسی condition میں اگر ایک انسان Haphazardly ادھر ادھر آگے پیچھے جائے نا، تو اس میں تو نقصان ہے۔ طاقت تقسیم ہو جاتی ہے۔ لیکن جس وقت باقاعدہ، ایک منظم طریقے سے۔۔۔ پریشانی کا عالم یقیناً آتا ہے، لیکن اس پریشانی کے عالم کو face کرنے کے لیے کیا ہونا چاہیے؟ تو وہ طریقہ جو منظم طریقے سے اس کا مقابلہ کیا جا سکے اور اپنے حواس کو برقرار رکھا جائے اور اس وقت مقابلہ کیا جائے تو حالات پلٹ سکتے ہیں۔

              تو یہ پختگی تب آتی ہے جب experience ہوتا ہے۔ تو یہ experience ہو گیا۔ experience ہونے کا اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا کہ تاکہ تم پھر اس کے بعد صدمہ نہ کیا کرو، اور اس کے لیے جو طریقہ کار ہے اس کو استعمال کرو۔ تو یہ مطلب ظاہر ہے کہ ایسے حالات میں ہمیں کرنے کا حکم ہے۔ اللہ پاک ہم سب کو، جیسا کہ اللہ چاہتے ہیں، اس طرح کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

              وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الحمد للہ رَبِّ الْعٰلَمِينَ

              غزوہِ احد: مسلمانوں کی آزمائش، اجتہادی غلطی اور اس کے نتائج - درسِ قرآن - دوسرا دور