الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ
فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
آپ ﷺ کا اللہ پر توکل
(81) الثامن: عَنْ أَبِیْ بَكْرٍ الصِّدِّيْقِ رَضِیَ اللهُ عَنْهُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَامِرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ كَعْبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ تَيْمِ بْنِ مُرَّةَ بْنِ كَعْبِ بْنِ لُؤَیِّ بْنِ غَالِبِ الْقُرَشِیِّ التَّيْمِیِّ رَضِیَ اللهُ عَنْهُ. وَهُوَ وَأَبُوْهُ وَأُمُّهُ صَحَابَةٌ، رَضِیَ اللهُ عَنْهُمْ. قَالَ: نَظَرْتُ إِلَى أَقْدَامِ الْمُشْرِكِيْنَ وَنَحْنُ فِي الْغَارِ وَهُمْ عَلَى رُؤُوْسِنَا فَقُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ نَظَرَ تَحْتَ قَدَمَيْهِ لَأَبْصَرَنَا. فَقَالَ: ”مَا ظَنُّكَ يَا أَبَا بَكْرٍ بِاثْنَيْنِ اللهُ ثَالِثُهُمَا“ (متفق عليه)
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ عبداللہ بن عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب القرشی التیمی سے روایت ہے (آپ اور آپ کے والد، والدہ سب صحابی ہیں) بیان کیا کہ جب ہم غار میں تھے تو میں نے مشرکوں کے پاؤں کو دیکھا کہ وہ ہمارے سروں پر چڑھ آئے تھے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اگر ان میں سے کوئی انسان اپنے پاؤں کے نیچے دیکھ لے تو یقیناً ہمیں دیکھ پائے گا۔
گا، آپ ﷺ نے فرمایا: ابوبکر! ان دونوں انسانوں کے بارے میں تیرا کیا گمان ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہے؟“
کیونکہ اللہ پاک نے قرآن پاک میں فرمایا تھا نا کہ "لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا"۔ یہ تو چونکہ قرآن میں بھی ہے، تو آپ ﷺ نے بھی فرمایا کہ ان دو کے بارے میں کیا کہتے ہو، جن کا تیسرا اللہ ہے۔ تو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔
واقعہ ہجرت اور آپ ﷺ کا اللہ پر توکل
اس حدیث شریف میں جس واقعہ کو بیان کیا گیا ہے اس کا مختصر خلاصہ یہ ہے۔ جب آپ ﷺ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرما رہے تھے، اس سے پہلے باقی مسلمان ہجرت کر چکے تھے، مشرکین مکہ نے آپ ﷺ کی گرفتاری پر سو اونٹوں کا انعام بھی مقرر کر دیا تھا جس کی لالچ میں بہت سے لوگ آپ ﷺ کی تلاش میں سرگرداں تھے حتیٰ کہ مشرکین اس غار ثور جس میں آپ ﷺ اور ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پناہ لی ہوئی تھی، وہاں تک پہنچ گئے۔ مگر اللہ جل شانہ نے اپنی قدرت کا اظہار اس طرح فرمایا کہ ایک مکڑی کے ذریعہ سے جال تنوا دیا اور ایک جنگلی کبوتر کے ذریعہ سے انڈے دلوا دیے۔ مشرکین نے جب اس منظر کو دیکھا تو انہوں نے کہا کہ پاؤں کے نشانات یہاں تک تو ملتے ہیں اس کے آگے کہاں تشریف لے گئے اگر اس غار میں جاتے تو یہ مکڑی کا جالا اور انڈے کیسے صحیح سالم رہ سکتے ہیں، اندر سے ان مشرکین کے پاؤں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نظر آ رہے تھے ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فکر ہوئی کہ کہیں ان کی نگاہ ہم پر نہ پڑ جائے اس موقع پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ابوبکر! اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہیں۔ اس بات سے آپ ﷺ کی شجاعت اور بے خوفی اور اللہ کی ذات پر اعتماد و توکل کا ثبوت ملتا ہے اسی حدیث کے واقعہ کو قرآن مجید نے بھی نقل کیا ہے۔
«إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا فَأَنْزَلَ اللهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُوا السُّفْلَى وَكَلِمَةُ اللهِ هِيَ الْعُلْيَا»
”جب کفار نے ان کو نکلنے پر مجبور کر دیا تھا (اس حالت میں) کہ وہ نبی صرف دو کا دوسرا تھا جب کہ وہ اپنے رفیق سفر سے کہہ رہا تھا تم غم نہ کرو بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے، تو اللہ نے ان پر اپنا خاص سکون اتارا اور فرشتوں کی فوج سے ان کی تائید فرمائی جو تم کو نظر نہیں آ رہی تھی، کافروں کی بات بھی نیچی کر دی اور اللہ کی بات ہی اونچی رہتی ہے۔“
جب اس واقعہ پر حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ اشعار کہے تھے
وَثَانِيَ اثْنَيْنِ فِي الْغَارِ الْمُنِيْفِ وَقَدْ
طَافَ الْعِدَاءُ بِهِ إِذْ صَعِدَ الْجَبَلَا
وَكُلُّ حُبِّ رَسُوْلِ اللهِ قَدْ عَلِمُوْا
مِنَ الْخَلَائِقِ لَمْ يَعْدِلْ بِهِ رَجُلَا
ان اشعار کو سن کر آپ ﷺ مسکرائے۔
تخريج حديث: صحيح بخاري کتاب التفسير (باب قوله ثانی اثنين اذهما فی الغار) کتاب فضائل الصحابة رضی الله تعالى عنهم (باب مناقب المهاجرين وفضلهم۔) وصحيح مسلم کتاب فضائل الصحابة (باب من فضائل ابی بکر الصديق رضی الله تعالى عنه) واخرجه امام احمد فی مسنده 11/1 مصنف ابن ابی شيبة 712، والبزار 36، ابن حبان 6278۔
اَللهُ جَلَّ شَأْنُهُ ہم سب کو آپ ﷺ کے ساتھ اور صحابہ کرام کے ساتھ محبت نصیب فرمائے۔ اور ان کے فیوض و برکات سے ہم کو مکمل، وافر حصہ نصیب فرمائے۔ اور مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي پر عمل کرنے کی پوری پوری توفیق عطا فرمائے۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلمِينَ.