اہلِ ایمان کی ثابت قدمی اور اللہ کی نصرت

درس نمبر 155، سورۃ آل عمران: آیات:147 تا 151 - (اشاعتِ اول) 2 مئی، 2022، بمطابق 30 رمضان المبارک 1443 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

·      سابقہ انبیاءِ کرام اور ان کے ساتھیوں کی استقامت اور بہادری

·      مصیبت اور جنگ کے وقت اللہ والوں کی خاص دعا

·      جنگ میں مسلمان اور کافر کے جانی و مالی نقصان کا فرق

·      حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور کے جادوگروں کا قبولِ اسلام اور ثابت قدمی

·      مجاہدِ اسلام کی دوہری کامیابی: غازی یا شہید

·      تکالیف سے گھبرانے کے بجائے استقامت اور اللہ کا قرب حاصل کرنے کا سبق

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ

فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.


وَ مَا كَانَ قَوْلَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِیْۤ اَمْرِنَا وَ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ(147) فَاٰتٰىهُمُ اللّٰهُ ثَوَابَ الدُّنْیَا وَ حُسْنَ ثَوَابِ الْاٰخِرَةِؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ (148)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تُطِیْعُوا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَرُدُّوْكُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ(149) بَلِ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْۚ وَ هُوَ خَیْرُ النّٰصِرِیْنَ(150) سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَاۤ اَشْرَكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًاۚ وَمَاْوٰىهُمُ النَّارُؕ وَ بِئْسَ مَثْوَى الظّٰلِمِیْنَ(151)


صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ.


ان کے منہ سے جو بات نکلی وہ اس کے سوا نہیں تھی کہ وہ کہہ رہے تھے: ”ہمارے پروردگار! ہمارے گناہوں کو بھی اور ہم سے اپنے کاموں میں جو زیادتی ہوئی ہو اس کو بھی معاف فرما دے، ہمیں ثابت قدمی بخش دے، اور کافر لوگوں کے مقابلے میں ہمیں فتح عطا فرما دے“ ﴿147﴾ چنانچہ اللہ نے انہیں دُنیا کا انعام بھی دیا اور آخرت کا بہترین ثواب بھی۔ اور اللہ ایسے نیک لوگوں سے محبت کرتا ہے ﴿148﴾ اے ایمان والو! جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے اگر تم ان کی بات مانو گے تو وہ تمہیں اُلٹے پاؤں (کفر کی طرف) لوٹا دیں گے، اور تم پلٹ کر سخت نقصان اٹھاؤ گے ﴿149﴾ (یہ لوگ تمہارے خیر خواہ نہیں) بلکہ اللہ تمہارا حامی و ناصر ہے، اور وہ بہترین مددگار ہے ﴿150﴾ جن لوگوں نے کفر اپنایا ہے ہم عنقریب ان کے دلوں میں رُعب ڈال دیں گے کیونکہ انہوں نے اللہ کی خدائی میں ایسی چیزوں کو شریک ٹھہرایا ہے جن کے بارے میں اللہ نے کوئی دلیل نہیں اتاری۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے، اور وہ ظالموں کا بدترین ٹھکانا ہے ﴿151﴾

یہ پیغمبروں کے بارے میں بات چل رہی تھی

اور کتنے سارے پیغمبر ہیں جن کے ساتھ مل کر بہت سے اللہ والوں نے جنگ کی ان کی معیت میں، نتیجتاً انہیں اللہ کے راستے میں جو تکلیفیں پہنچیں ان کی وجہ سے نہ انہوں نے ہمت ہاری، نہ وہ کمزور پڑے، نہ انہوں نے اپنے آپ کو جھکایا۔ اللہ ایسے ثابت قدم لوگوں سے محبت کرتا ہے۔

تو گزشتہ پیغمبروں کا حوالہ دیا گیا کہ انہوں نے اور ان کے ساتھ کے لوگوں نے جیسے داؤد علیہ السلام اور اس طرح اور حضرات، جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کیا، تو ان کو جو تکلیفیں پہنچیں تو ان کی وجہ سے انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور کمزور بھی نہیں پڑے۔ تو ایسے لوگوں کے بارے میں پھر آگے بات ہے کہ ، ان کے منہ سے جو بات نکلی (یعنی ایسی تکلیفوں کے وقت) وہ اس کے سوا نہیں تھی کہ وہ کہہ رہے تھے: ”ہمارے پروردگار! ہمارے گناہوں کو بھی اور ہم سے اپنے کاموں میں جو زیادتی ہوئی ہو اس کو بھی معاف فرما دے، ہمیں ثابت قدمی بخش دے، اور کافر لوگوں کے مقابلے میں ہمیں فتح عطا فرما دے“

اب ذرا تھوڑا سا غور کر لیں کہ دو قسم کے لوگ ہیں، ایک مسلمان ہیں دوسرے کافر ہیں اور آپس میں جنگ ہے، جہاد ہے۔ تو جہاد میں اور جنگ میں دونوں طرف کو نقصان پہنچتا ہے، مطلب ظاہر ہے کہ جانی نقصان، مالی نقصان۔ اب کافروں کا تو کوئی تسلی کا سامان نہیں ہے۔ ان کا جو نقصان ہوا دنیا کا بھی ہوا، آخرت کا بھی ہوا۔ لیکن مسلمانوں کے لیے تسلی ہے کہ وہ، اگر ان کو دنیا میں نقصان پہنچتا ہے تو اس کے بدلے میں ان کو اللہ پاک آخرت میں درجات عطا فرماتے ہیں اور دنیا میں بھی ان کو اللہ پاک اس کے ذریعے سے فتح نصیب فرماتے ہیں، ان کے ساتھ اللہ کی مدد ہوتی ہے۔

تو مسلمانوں کے لیے ماشاء اللہ، تو مسلمان جب اس قسم کی پریشانی کے وقت میں جب آ جائیں، تو اس وقت وہ اللہ پاک کی طرف توجہ کرتے ہیں اور اللہ پاک سے مانگتے ہیں۔ جیسے ساحر جو تھے، موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ مقابلے کے لیے جو آئے ہوئے تھے، تو یا تو وہ bargaining کر رہے تھے فرعون کے ساتھ کہ آپ ہمیں کیا دیں گے اگر ہم فتح پائیں موسیٰ علیہ السلام پر۔ تو انہوں نے کہا کہ تم ہمارے مقربین بن جاؤ گے۔ لیکن پھر جب انہوں نے دیکھا کہ وہ موسیٰ علیہ السلام والا عصا جو ہے، یہ تو سحر نہیں ہے، یہ تو کچھ اور چیز ہے۔ ان کو فوراً پتہ چل گیا کہ یہ تو موسیٰ علیہ السلام پیغمبر ہیں۔ تو وہ ایمان لائے اس پر۔

جب ایمان لائے تو فرعون تو تلملایا! یہ کیا کر دیا! میری اجازت کے بغیر تم ایمان لائے، یہ کیا کر دیا تم نے؟ اب میں دیکھتا ہوں تمہارے ساتھ کیا کرتا ہوں۔ تمہارے دائیں ہاتھ کو کاٹوں گا پھر بائیں پیر کو کاٹوں گا، پھر یہ کروں گا، پھر تمہیں سولی پر لٹکا دوں گا۔ تو یہ کہہ کر وہ سمجھتے تھے کہ شاید یہ ڈر جائیں گے۔ تو اس وقت انہوں نے بالکل یہی دعا کی جو آیت یہاں پر بھی آ رہی ہے۔ کہ "اے اللہ! ہمیں ثابت قدمی عطا فرما اور ہم پر صبر کو انڈیل دے" صبر کو انڈیل دے۔

تو اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور فرعون سے مخاطب ہو کر کہا کہ تو زیادہ سے زیادہ ہمیں دنیا میں نقصان پہنچا سکتا ہے، اور کیا کر سکتا ہے؟ تو کر دے جو کرنا چاہتا ہے، ہم اب واپس نہیں جائیں گے، ہم ایمان سے واپس نہیں جائیں گے۔ تو یہ بات ہے کہ مسلمان جو ہوتا ہے وہ ثابت قدمی دکھاتا ہے، اللہ پاک کی طرف توجہ کرتا ہے اور پھر اس میں دو ہی نتیجے ہوتے ہیں۔ یا تو وہ غازی ہو جائے گا، تو غازی ہونے کی سربلندی اس کو حاصل ہو جائے گی۔ اور یا پھر یہ کہ شہید ہو جائے گا، تو شہادت میں اللہ تعالیٰ ان کو سرفراز فرما دے گا۔ جن کے لیے فرمایا گیا:

وَلَا تَقُولُوا لِمَن يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللهِ أَمْوَاتٌ

وہ "جو اللہ کے راستے میں شہید کیے جائیں، ان کو مردہ نہ کہو" تو پھر اللہ پاک ان کو یہ نواز دے گا۔ تو یہ بات ہے کہ ہر صورت میں مسلمان کی جیت ہوتی ہے۔

تو ہمیں بھی مطلب گویا کہ ایک سبق دیا جا رہا ہے کہ تکالیف سے گھبرا کر ڈگمگانا نہیں چاہیے۔ بلکہ تکالیف کے ذریعے سے اللہ پاک کا قرب حاصل کرنا چاہیے۔ اور اللہ جل شانہ سے دعا کر کے اور اللہ پاک کی طرف متوجہ ہو کر، اللہ پاک کی مدد حاصل کرنی چاہیے اور اللہ پاک کا قرب حاصل کرنا چاہیے۔ کیونکہ مسلمان کے لیے دو ہی باتیں ہوتی ہیں۔ یا وہ کامیاب ہوتا ہے یا ناکام ہوتا ہے، دنیا کے لحاظ سے۔ دنیا کے لحاظ سے ناکام ہوتا ہے تو اس کا اجر ادھر عطا فرماتے ہیں۔ اور دنیا میں کامیاب ہوتا ہے تو دونوں چیزوں کا، یہاں پر بھی فائدہ ہو گیا، وہاں پر بھی فائدہ ہو گیا۔ لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ کبھی بھی ڈگمگائیں نہیں بلکہ حق پر ان کو جمنا چاہیے۔ یہ طریقہ کار ہے مسلمانوں کے لیے۔ اس سے آگے پیچھے نہیں ہونا چاہیے۔

وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالحمد للہ رَبِّ الْعٰلَمِينَ

بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ.

اہلِ ایمان کی ثابت قدمی اور اللہ کی نصرت - درسِ قرآن - دوسرا دور