سونے کی مسنون دعا: مقامِ عبدیت، توکل اور رضائے الٰہی کا حسین امتزاج

درس نمبر 120- باب فی الیقین والتوکل - اشاعتِ اول: 18 نومبر، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

·      نفس کی سپردگی (أَسْلَمْتُ نَفْسِيْ إِلَيْكَ): اپنی جان، ارادوں اور تمام خواہشات کو مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دینا۔

·      توکل علی اللہ (وَوَجَّهْتُ وَجْهِيْ إِلَيْكَ): تمام دنیاوی اسباب سے دھیان ہٹا کر خالصتاً اپنا رخ اللہ کی طرف کر لینا اور بھروسہ کرنا۔

·      مقامِ رضا (وَفَوَّضْتُ أَمْرِيْ إِلَيْكَ): اپنے تمام معاملات کو اللہ کی حکمت کے تابع کر کے اسی کی رضا میں راضی رہنا۔

·      مقامِ عبدیت (وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِيْ إِلَيْكَ): اپنی تدبیروں کے بجائے ہر کام کی تکمیل کے لیے اللہ کے فضل و توفیق پر انحصار کرنا۔

·      رغبت اور رہبت (رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ): انسان کے تمام اعمال کا دارومدار خالصتاً اللہ کی محبت، شوق اور اسی کے خوف پر ہونا۔

·      نجات کا واحد راستہ (لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا...): کامل یقین رکھنا کہ اللہ کے غضب سے پناہ اور نجات کی جگہ صرف اسی کا عفو ہے۔

·      تجدیدِ ایمان اور طلبِ مغفرت (آمَنْتُ بِكِتَابِكَ...): اللہ کی کتاب اور نبی ﷺ پر کامل ایمان کا اقرار اور اپنی کوتاہیوں پر طلبِ مغفرت۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔

رات کو سونے کی دعا کے بارے میں بات ہوئی تھی۔ تو آج ان شاء اللہ اس کے بارے میں کچھ تفصیل بیان کی جائے گی۔

جو دعا اس میں شامل ہے،

اس دعا میں سات جملے ہیں ہر ایک جملے کی مختصر وضاحت:

أَسْلَمْتُ نَفْسِيْ إِلَيْكَ: اے اللہ میں نے اپنے آپ کو تیرے سپرد کر دیا مطلب یہ ہے کہ میں نے اپنی جان کو، اپنی تمام کام کرنے کی قوتوں کو، اعضاء و جوارح کی خواہشوں اور ارادوں سب ہی کو تیرے سپرد کر دیا، اے اللہ جب میں ترے سپرد ہو گیا اب جو تو چاہے مجھ سے کام لے لے۔

وَوَجَّهْتُ وَجْهِيْ إِلَيْكَ: میں نے اپنے منہ کا رخ تیری طرف کر دیا، یعنی تمام کائنات سے منہ موڑ کر صرف تیری طرف متوجہ ہو گیا، اسی کا دوسرا نام اللہ کی ذات پر توکل کرنا ہے، جب آدمی اللہ کے حوالے ہو جائے تو اب یہ اپنے اسباب و مسائل اور اپنی تدبیروں اور کوششوں کو ذرہ برابر بھی اہمیت و وقعت نہیں دے گا۔

وَفَوَّضْتُ أَمْرِيْ إِلَيْكَ: اور میں نے اپنا کام تیرے سپرد کر دیا، یعنی میں نے اپنا ہر کام ہر معاملہ تیرے علم و حکمت کے تابع کر دیا جو تیری مرضی ہو وہی میری مرضی ہو گی، اسی کو مقام رضا کہا جاتا ہے۔

وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِيْ إِلَيْكَ: میں نے اپنی پیٹھ تیری طرف جھکا دی، میرے دنیوی یا دینی کاموں کو کرنے میں جو بھی تدبیریں کوششیں میں کرتا ہوں اس کام کو تکمیل تک پہنچانا تیرے ہی فضل و کرم اور تیرے ہی توفیق دینے پر ہے، میرے ظاہری اسباب و تدابیر کی مؤثر حقیقی کے مقابلے میں کوئی بھی حیثیت نہیں ہے، اسی کو عبدیت کا اعلیٰ مقام کہا جاتا ہے۔

رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ

تیری طرف رغبت کی وجہ سے اور تیرے ہی خوف کی وجہ سے۔ کہ آدمی تمام امور کو انہی دو وجوہات سے کرتا ہے، یعنی ترغیب و ترہیب جیسے ہوتا ہے نا۔ کبھی کسی کے شوق اور محبت میں، رغبت میں کام کرتا ہے اور کبھی کسی کے خوف اور ڈر سے۔ تو اسی لیے فرمایا کہ میرے بھی تمام کاموں کا دارومدار انہی دو چیزوں پر ہے۔

لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ: تجھ سے پناہ حاصل کرنے اور نجات پانے کی جگہ بھی ترے سوا اور کہیں نہیں۔ کہ اگر میں نے اللہ کے سوا کسی اور پر بھروسہ اور اعتماد کیا آپ اگر مجھ سے ناراض ہو گئے تو اب میرا یقین و ایمان یہ ہے کہ اب ترا غضب و قہر نازل ہو گا اور ترے غضب و قہر سے بچانے اور نجات دلانے والا بھی ترے سوا کوئی بھی نہیں ہو سکتا، تیری ناراضگی اور خفگی سے نجات ترے ہی عفو و کرم سے مل سکتی ہے۔

ہم جو ختمِ خواجگان کرتے ہیں اس میں پڑھتے ہیں: لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنَ اللهِ إِلَّا إِلَيْهِ۔

آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِيْ أَنْزَلْتَ وَنَبِيِّكَ الَّذِيْ أَرْسَلْتَ: جو کتاب تو نے اتاری ہے میں تری کتاب اور نبی پر ایمان لا چکا ہوں، اس فقرے میں بندہ اپنی عبدیت کا اظہار کر رہا ہے کہ اے اللہ! میں تجھ کو اور ترے نبی کو اور کتاب کو ماننے والا ہوں اگرچہ شیطان کے دھوکہ میں آ کر خطاء اور گناہ گار ہوں مگر میں تجھ پر ہی ایمان رکھتا ہوں۔ اس لئے اے اللہ تو مجھے معاف فرما دے۔

اللہ جل شانہ ایسی دعائیں سیکھنے کی اور کرنے کی ہمیں توفیق عطا فرما دے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ. رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلمِينَ.




سونے کی مسنون دعا: مقامِ عبدیت، توکل اور رضائے الٰہی کا حسین امتزاج - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور