عقیدہ حیاتِ النبی ﷺ، مراتبِ انبیاء اور خالق و مخلوق کا فرق

درس نمبر 154، سورۃ آل عمران: آیات:144 تا 146 - (اشاعتِ اول) یکم مئی، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

·      وصالِ نبوی ﷺ اور صحابہ کرام کی کیفیت: نبی کریم ﷺ کے پردہ فرمانے پر صحابہ کرام  کا شدید صدمہ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بے مثال استقامت۔

  ·   خالق اور مخلوق کا فرق: اللہ تعالیٰ کا 'حی و قیوم' ہونا اور مخلوق کا اپنا دنیاوی وقت مقررہ پر پورا کر کے رخصت ہونا۔

·      عقیدہ حیاتِ انبیاء علیہم السلام: انبیاء کرام اپنی قبروں میں حیات ہیں، اور یہ حیات عام دنیاوی زندگی یا شہداء کی زندگی سے کہیں زیادہ طاقتور اور قوی ہے۔

·      حیاتِ النبی ﷺ کے دلائل: نبی کریم ﷺ کا روضہِ اطہر پر پیش کیا جانے والا درود و سلام براہ راست سننا، اور انبیاء کی ازواجِ مطہرات سے بعد از وصال نکاح کی ممانعت (جبکہ شہداء کی بیواؤں کے لیے یہ جائز ہے)۔

·      انعام یافتہ بندوں کے درجات: سورہ فاتحہ اور دیگر آیات کی روشنی میں انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے درجات اور فضیلت کا فرق۔

·      توحید اور اہل سنت کا عقیدہ: حیاتِ انبیاء اہل سنت کا متفقہ عقیدہ ہے،مگر خالق اور مخلوق کا فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے تاکہ عیسائیوں جیسی گمراہی (مخلوق کو خدا ماننا) پیدا نہ ہو۔


اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ

فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.


وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُؕ اَفَاۡىِٕنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْؕ وَ مَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰى عَقِبَیْهِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰهَ شَیْــٴًـاؕ وَ سَیَجْزِی اللّٰهُ الشّٰكِرِیْنَ (144) وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ كِتٰبًا مُّؤَجَّلًاؕ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَاۚ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَةِ نُؤْتِهٖ مِنْهَاؕ وَ سَنَجْزِی الشّٰكِرِیْنَ (145) وَ كَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰتَلَۙ مَعَهٗ رِبِّیُّوْنَ كَثِیْرٌۚ فَمَا وَ هَنُوْا لِمَاۤ اَصَابَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْاؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ (146)

صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ۔

اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ایک رسول ہی تو ہیں؛ ان سے پہلے بہت سے رسول گذر چکے ہیں۔ بھلا اگر ان کا انتقال ہو جائے یا انہیں قتل کر دیا جائے تو کیا تم اُلٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟ اور جو کوئی الٹے پاؤں پھرے گا وہ اللہ کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اور جو شکر گزار بندے ہیں اللہ ان کو ثواب دے گا ﴿144﴾

اور یہ کسی بھی شخص کے اختیار میں نہیں ہے کہ اسے اللہ کے حکم کے بغیر موت آجائے، جس کا ایک معین وقت پر آنا لکھا ہوا ہے۔ اور جو شخص دُنیا کا بدلہ چاہے گا ہم اسے اس کا حصہ دے دیں گے، اور جو آخرت کا ثواب چاہے گا ہم اسے اس کا حصہ عطا کر دیں گے، اور جو لوگ شکر گزار ہیں ان کو ہم جلد ہی ان کا اجر عطا کریں گے ﴿145﴾

اور کتنے سارے پیغمبر ہیں جن کے ساتھ مل کر بہت سے اللہ والوں نے جنگ کی! نتیجتاً انہیں اللہ کے راستے میں جو تکلیفیں پہنچیں ان کی وجہ سے نہ انہوں نے ہمت ہاری، نہ وہ کمزور پڑے اور نہ انہوں نے اپنے آپ کو جھکایا۔ اللہ ایسے ثابت قدم لوگوں سے محبت کرتا ہے ﴿146﴾

یہ ما شاء اللہ اس میں ایک آیت کریمہ جو پہلے آئی ہوئی ہے، یہ وہ آیت ہے جس نے اس وقت صحابہ کے اندر ایک جان ڈال دی تھی جب آپ ﷺ اس دنیا سے تشریف لے گئے۔ اور آپ ﷺ کے ساتھ غایت محبت کی وجہ سے، جب آپ ﷺ اس دنیا سے تشریف لے گئے، تو بالکل ہر ایک شخص پر ایسی حالت طاری ہو گئی کہ بس وہ کچھ بھی نہیں کرے گا۔ عمر رضی اللہ عنہ جیسے جری اور پہلوان شخص، ان کا یہ حال تھا کہ وہ فرماتے تھے کہ جو کوئی کہے گا آپ ﷺ اس دنیا سے تشریف لے گئے ہیں، میں اس کا سر کاٹ دوں گا۔ وہ اللہ تعالیٰ سے بات کرنے کے لیے چلے گئے ہیں پھر واپس آئیں گے۔ عثمان رضی اللہ عنہ تو اپنے گھر میں ہی بس محبوس ہو گئے۔ اس طرح سارے صحابہ کرام کی یہ حالت تھی سوائے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے۔

جن کی یہ حالت تھی کہ وہ تشریف لائے اور پہلے تو آپ ﷺ کے ماتھے مبارک کو چوما۔ پھر فرمایا کہ اللہ آپ کے اوپر دو موتیں جمع نہ کرائے۔ پھر منبر پر بیٹھ گئے اور خطبہ پڑھا۔ اس میں یہ آیت شریفہ پڑھی۔ تو اس وقت صحابہ کرام کہہ رہے تھے کہ ایسے ہمیں محسوس ہوا کہ جیسے ابھی یہ آیت اتری ہے، یعنی ہماری اس حالت کے مطابق اتری ہے۔

تو ایسا ہی ہے۔ دیکھیں اللہ جل شانہ مالک الملک ہیں اور باقی سب اللہ پاک کی مخلوق ہیں۔ تو جو مخلوق کا مقام ہے وہ مخلوق کا ہے اور جو خالق کا ہے وہ خالق کا ہے۔ خالق جو ہے، حَیُّ قَيُّوم ہے، اس کو تو کبھی ظاہر ہے موت نہیں آئے گی۔ اور مخلوق کا یہ ہے کہ جب ان کا کام پورا ہو جائے تو پھر دنیا سے تشریف لے جاتے ہیں۔

آپ ﷺ جب بیمار تھے بہت زیادہ، تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نہیں دیکھا گیا، تو ان کی زبان سے نکلا کہ ہائے میرے ابا جان کی تکلیف! تو آپ ﷺ نے فرمایا: آج کے بعد آپ کے ابا جان کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔ یعنی یہ آخری بس وہ ہے کیونکہ آپ ﷺ اس دنیا سے تشریف لے جانے والے تھے۔ لیکن ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ آپ ﷺ کا اس دنیا سے تشریف لے جانے کا مطلب یہ نہیں ہے جیسے ہم لوگوں کا ہوتا ہے نا، ہم لوگوں کا، عام لوگوں کی طرح نہیں ہے، بلکہ آپ ﷺ اپنی قبر شریف میں حیات ہیں۔ آپ ﷺ اپنی قبر شریف میں حیات ہیں۔ بلکہ ہم لوگوں سے زیادہ ان کی حیات طاقتور ہے۔

کیسے؟ ایسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود فرماتے ہیں کہ جو دور سے درود شریف مجھ پر بھیجتے ہیں، وہ مجھے پہنچا دیا جاتا ہے، اور جو میری قبر کے پاس درود شریف پڑھتے ہیں، سلام پڑھتے ہیں، اس کو میں خود سنتا ہوں۔ اب مجھے بتاؤ وہاں پر کوئی بہت تیز کانوں والا شخص بھی، اگر درمیان میں اتنی مٹی ہو اور اتنا سیسہ ہو، جیسے کہ وہ پھیلایا گیا ہے، اس سے اگر چیخ چیخ کر بھی کوئی کہہ دے، تو کیا آواز سن سکتا ہے؟ نہیں سن سکتا ہے۔ تو ظاہر ہے آپ ﷺ تو فرماتے ہیں میں خود سنتا ہوں، اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک سناتے ہیں۔ اصل میں بات یہ ہے کہ اللہ پاک سناتے ہیں، اور جو کام اللہ تعالیٰ کرنا چاہتا ہے اس کو تو کوئی نہیں روک سکتا۔ تو اللہ پاک سناتے ہیں، وہاں کئی نظام ہیں۔ ایک نظام تو فرشتوں کا پہنچانا ہے۔ ایک وہاں ایک فرشتہ مقرر ہے جو سب کی بات سنتا ہے، اور وہ بھی اور تیسرا یہ کہ آپ ﷺ وہاں پر جو سلام پڑھتے ہیں، وہ خود سنتے ہیں۔ ٹھیک ہے ایک بات۔

دوسری بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور تمام انبیاء، ان کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد، ان کی ازواج مطہرات کے ساتھ نکاح کسی کا نہیں ہو سکتا۔ حالانکہ شہیدوں کی بیویوں کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ حالانکہ شہیدوں کو قرآن کہتا ہے کہ وہ زندہ ہیں:

وَلَا تَقُولُوا لِمَن يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللهِ أَمْوَاتٌ

نہ کہو ان کو جو اللہ کے راستے میں شہید کیے گئے مردہ۔ اور ایک جگہ پر فرماتے ہیں:

وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا

ان کو مردہ گمان بھی نہ کرو جو اللہ کے راستے میں شہید ہو چکے ہیں۔

اب شہیدوں کے بارے میں اللہ جل شانہ خود فرماتے ہیں کہ وہ زندہ ہیں، اور ان کی زندگی کا ثبوت اتنا قوی نہیں ہے یعنی مطلب یہ کہ ان کی بیویوں کے ساتھ نکاح ہو سکتا ہے، جبکہ پیغمبروں کی بیویوں کے ساتھ نکاح نہیں ہو سکتا۔ اور شہیدوں کے بارے میں یہ نہیں ہے کہ قبر پہ کھڑے ہو کر کوئی ان کی آواز سنے گا، زندہ ہیں لیکن یہ نہیں فرمایا۔ جبکہ آپ ﷺ اپنے بارے میں یہ فرماتے ہیں۔ تو گویا کہ آپ ﷺ کی جو حیات ہے وہ بالکل مختلف ہے، لیکن اس زندگی کی حیات سے زیادہ strong ہے۔

یہ والی بات، اور ایک بات اور بھی کہ دیکھو سورہ فاتحہ میں ہم پڑھتے ہیں نا، اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ۔ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ۔ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّآلِّينَ۔ تو أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ جو ہے، أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ، اس میں جو لوگ شامل ہیں، جو حضرات، ان لوگوں کا جن پر تیرا انعام ہو چکا ہے، قرآن پاک میں جو آیا ہے اس کے بارے میں وہ:

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَأُولٰٓئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ

تو یہ چار گروہوں کا بتایا ہے کہ جن پہ انعام ہوا ہے وہ کون سے ہیں؟ انبیاء ہیں، صدیقین ہیں، شہداء ہیں اور صالحین ہیں۔

انبیاء کا نمبر پہلا ہے، صدیقین کا نمبر دوسرا ہے، شہداء کا نمبر تیسرا ہے۔ تو قاری طیب صاحب جو دیوبند کے مہتمم ہیں انہوں نے یہ بات کی کہ سو فیصد انبیاء کا، چھیاسٹھ فیصد صدیقین کا اور تینتیس فیصد شہداء کا، تو جو تینتیس فیصد نمبر والے ہیں، ان کو تو آپ زندہ کہیں اور جو سو فیصد والے ہیں ان کو مردہ کہیں، یہ کیا بات ہے؟ یعنی انہوں نے اس کا بہت عجیب مطلب چونکہ ان کا نمبر پہلا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے زندگی دے دی اس کو کون انکار کر سکتا ہے؟ ہاں یہ الگ بات ہے کہ جو اللہ تعالیٰ نے نظام بنایا ہوا ہے اس نظام کے مطابق چلنا ہوتا ہے، مثلاً انبیاء کرام کا جنازہ، دفن کرنا یہ ساری باتیں ہوں گی۔

لیکن اس کے ساتھ ان کی جو حیثیت ہے وہاں پر قبر شریف میں، آپ ﷺ نے خود فرمایا، معراج شریف کے واقعے میں، کہ جب تشریف لا رہے تھے تو موسیٰ علیہ السلام کو اپنی قبر میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔ تو اس کا مطلب ہے کہ انبیاء کرام کا یہ معاملہ ہے اس طرح۔

تو شہداء کا بھی اس طرح ہے کہ جو شہید ہیں ان کو بھی کئی لوگوں نے جو بعد میں ان کی قبریں کھولی گئی ہیں، یا صحابہ کرام کی، تو ان کا بالکل جسم صحیح سالم نکل آتا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک کا ایک نظام ہے، اس کو ہم تبدیل نہیں کر سکتے۔

ہاں یہ الگ بات ہے کہ جیسے عیسائیوں نے نعوذ باللہ من ذلک پیغمبر کو خدا کے برابر قرار دیا، ایسی بات نہیں ہوگی۔ پیغمبر پیغمبر ہے، اللہ اللہ ہے، بندہ بندہ ہے، خالق خالق ہے۔ کوئی بھی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ خالق اور مخلوق برابر ہیں۔ یہ نہیں ہو سکتا۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ مرتبے ہیں۔رسولوں میں بھی نمبر ہیں

تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ

تو رسولوں میں آپس میں فضیلتوں میں فرق ہے، کچھ زیادہ افضل ہیں کچھ ان کے بعد ہیں۔ لیکن بہرحال یہ ہے کہ وہ ہیں تو مخلوق، تو ان کو مخلوق سمجھنا ہوگا۔ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کے خلاف نہیں کرنا۔ کیونکہ اللہ ہی سے مدد مانگنی ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرنی ہے۔ اس پر آپ کو کوئی درمیان میں وہ نہیں ہو گی۔

باقی یہ ہے کہ ان کو زندہ ماننا یہ ہمارے تمام اہل سنت والجماعت کا عقیدہ رہا ہے۔ بلکہ عقیدوں کی کتابوں میں لکھا ہے کہ شِرْذِمَةٌ مِّنْ وہ، ایک قلیل سی تعداد معتزلہ کی، سب معتزلہ بھی نہیں ہیں، ایک قلیل سی تعداد معتزلہ، فرقے کی، وہ اس کے قائل نہیں تھے۔ باقی سارے مسلمان قائل ہیں۔ بڑے بڑے حضرات، مطلب جو امام ابوحنیفہ ہیں، امام شافعی ہیں، امام مالک ہیں، احمد بن حنبل ہیں، یا جتنے بھی ہمارے ماشاءاللہ بڑے بڑے حضرات ہیں، محدثین ہیں سب اس کے قائل ہیں۔

تو اب ظاہر ہے ہم پھر اپنے لیے کوئی اور راستہ تو نہیں نکال سکتے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھ کی توفیق عطا فرمائے۔ خیر یہ تو اس آیت کے ساتھ براہ راست والی بات نہیں تھی لیکن چونکہ یہاں پر أَفَإِن مَّاتَ سے لوگوں کو غلط فہمی ہو سکتی ہے نا، تو یہ ضرور یہ کہ بتانا تھا کہ ان کی موت الگ ہے باقی لوگوں کی موت سے یہ الگ ہے۔ اس پہ جو ہے نا ہمیں ذرا تھوڑا سا توقف کرنا پڑے گا اور حالت جیسی ہو گی وہ اس کے مطابق بات کرنی پڑے گی۔

عقیدہ حیاتِ النبی ﷺ، مراتبِ انبیاء اور خالق و مخلوق کا فرق - درسِ قرآن - دوسرا دور