اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ
فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.
اِنْ یَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهٗؕ وَ تِلْكَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُهَا بَیْنَ النَّاسِۚ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَآءَؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَۙ (140) وَ لِیُمَحِّصَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَمْحَقَ الْكٰفِرِیْنَ(141) اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ یَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ(142) وَ لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَلْقَوْهُ-فَقَدْ رَاَیْتُمُوْهُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ (143)صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ.
اگر تمہیں ایک زخم لگا ہے تو ان لوگوں کو بھی اسی جیسا زخم پہلے لگ چکا ہے. یعنی مسلمانوں کے جو حضرات شہید ہوئے تھے، تو اتنے ہی جنگ بدر میں کفار کے بھی مارے گئے تھے، اور ستر قید بھی کیے گئے تھے۔
یہ تو آتے جاتے دن ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان باری باری بدلتے رہتے ہیں، اور مقصد یہ تھا کہ اللہ ایمان والوں کو جانچ لے، اور تم میں سے کچھ لوگوں کو شہید قرار دے، اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا ﴿140﴾
اصل میں تجارت ہے نا تجارت، یہ جائز ہے، اس میں نفع بھی ہوتا ہے، نقصان بھی ہو جاتا ہے۔ سود ناجائز ہے کیونکہ اس میں جو ظاہری نقصان ہے وہ نہیں ہوتا یعنی اس پر ہمیشہ وہ پیسے مزید لیتے ہیں۔ پیسوں کی بنیاد پر پیسے لیتے ہیں۔ اس میں کوئی مزید effort نہیں ہوتا۔
تو اگر صرف کفار کو شکست ہوتی رہتی تو امتحان ختم ہو جاتا۔ یعنی امتحان والی بات تو پھر نہ رہتی۔ تو امتحان والی بات کو سامنے لانے کے لیے حالات ایسے بن گئے کہ مسلمانوں کو بھی نقصان ہوا۔ تو اس میں ایک تو یہ فائدہ ہوا کہ جس غلطی کی وجہ سے ہوا تھا، اس پر تنبیہ ہو گئی۔ اور یہ بھی بات ہو گئی کہ مطلب یہ ہے کہ کوشش جاری رکھنی چاہیے، یہ نہیں کہ صرف اس بنیاد پر فتح ہوگی کہ ہم مسلمان ہیں۔ جو اسباب ہیں، ان کو بھی اختیار کرنے کے لیے فرمایا کہ بھئی اسباب کو بھی اختیار کرنا چاہیے۔ جیسے: وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ؛ یعنی جتنی تمہیں استطاعت ہے، اتنی کوشش کرنی چاہیے۔ سامان، یعنی اسباب جمع کرنے چاہئیں۔
تو یہ بات ضروری ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ جب دنیا میں کوئی کام کرتا ہے نا دنیا میں، تو اس میں تو اسباب والا پہلو غالب رہتا ہے۔ آدمی کسی سبب کو چھوڑتا نہیں ہے۔ جب دین کا کام کرتے ہیں، کہتے ہیں بس یہ خدا ہی کرے گا۔ ہم اپنے لوگوں کی بات کر رہے ہیں، ہم ظاہر ہے ان کی بات تو نہیں کرتے۔ لیکن یہ ہے کہ اپنے لوگوں کی بات کرتے ہیں، ہم سمجھتے ہیں بس ٹھیک ہے جی، اب تو دین کا کام ہے، وہ تو خدا ہی کرے گا۔ اس میں اسباب کی طرف نہیں جاتے۔ نہیں، وہاں بھی اسباب کو اختیار کرنا چاہیے، اور پھر اس کے بعد اللہ پاک سے مانگنا بھی چاہیے۔ یہ سنت ہے۔
یا اللہ!
پھر اس میں ایک اور فائدے کا بتایا کہ شہید تو شہید کا تو بہت بڑا مرتبہ ہے۔ کفار تو ویسے ہی چلے جاتے ہیں نا وہ تو ختم ہو گئے بلاوجہ ہی، جس کو کہتے ہیں نقصان ہی نقصان ہے۔ لیکن مسلمانوں کا تو یہ ہے کہ مسلمان اگر غازی ہے تب بھی فائدہ ہے، شہید ہے تب بھی، تب بھی فائدہ ہے۔ ان کے لیے کوئی نقصان نہیں ہے۔
اور مقصد یہ (بھی) تھا کہ اللہ ایمان والوں کو میل کچیل سے نکھار کر رکھ دے اور کافروں کو ملیا میٹ کر ڈالے ﴿141﴾ بھلا کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ (یونہی) جنت کے اندر جا پہنچو گے؟ حالانکہ ابھی تک اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کو جانچ کر نہیں دیکھا جو جہاد کریں، اور نہ ان کو جانچ کر دیکھا ہے جو ثابت قدم رہنے والے ہیں ﴿142﴾
وہی امتحان والی بات جو میں نے عرض کی تھی۔
اور تم تو خود موت کا سامنا کرنے سے پہلے (شہادت کی) موت کی تمنا کیا کرتے تھے۔
یعنی یہ والی بات کہ مسلمانوں کو تو شہادت کی موت کا انتظار رہتا تھا۔
جو لوگ جنگِ بدر میں شریک نہیں ہو سکے تھے وہ شہدائے بدر کی فضیلت سن کر تمنا کیا کرتے تھے کہ کاش ہمیں بھی شہادت کا رتبہ نصیب ہو۔
تو یہ بات ہے کہ اللہ پاک تو دلوں کا مالک ہے، سب چیزیں جانتا ہے۔ تو اللہ پاک نے یہ بھی بات فرما دی کہ تم تو خود تمنا کرتے تھے، اب تمہاری تمنا پوری ہو گئی تو بس۔ چنانچہ اب تم نے کھلی آنکھوں اسے دیکھ لیا ہے ﴿143﴾
اللہ جل شانہٗ ہم سب کو اسباب کو اختیار کرنا اور پھر مسبب الاسباب پر بھروسہ کرنا، یہ ہمیں سکھا دے، اور اس پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ پاک اس پر ہم سے راضی ہو جائے۔