حج کا اصل پیغام :عقل کی شکست اور قلب کی بیداری

اشاعتِ اول: 26 ستمبر، 2014

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

·       عقلِ انسانی کی حقیقت اور انسانی قلب (دل) کی مرکزیت

·       روحانیت بمقابلہ وساوس: دل پر نیکی اور برائی کی کشمکش

·       حبِ دنیا (نفسانی خواہشات) سے عقل کی آلودگی اور اس کا انجام

·       آلودہ عقل کا تریاق: عشقِ الٰہی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے جذبۂ فدا کاری کی مثالیں

·       مناسکِ حج: خاندانِ ابراہیمی علیہ السلام کی بے لوث اطاعت اور عشق کی عملی مشق

·       حج کا ماحاصل: نفسِ مطمئنہ کا حصول اور شریعت کے سامنے مکمل خود سپردگی

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ: فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.

وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ.

وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: اَلْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ، وَالْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَهُ هَوَاهَا وَتَمَنَّى عَلَى اللهِ.


بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق

عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی

بزرگو اور دوستو! آج کا عنوان جو مجھے بتایا گیا ہے وہ حج کا فلسفہ بیان کرنا ہے۔ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ حج کے ساتھ "فلسفہ" کا لفظ suit نہیں کرتا۔ یہ فلسفے کی ضد ہے۔ یعنی یوں سمجھ لیجئے کہ حج کے ذریعے سے فلسفے کو چھڑایا جاتا ہے۔


فلسفہ کیا ہے؟ اور حج میں اس کو کیوں توڑا جاتا ہے؟ اس پہ ان شاء اللہ بات ہوگی۔فلسفہ اصل میں عقل کے ذریعے سے کسی چیز کو analyze کرنا ہے، کہ یہ چیز اچھی ہے؟ بری ہے؟ کیسے ہے؟ اس کی details کیا ہیں۔ یہ فلسفہ کہلاتا ہے۔ عام طور پر یہ ایک مفید چیز ہے۔ کیونکہ عقل ایک بہت بڑی قوت ہے، اللہ پاک نے ہمیں عطا فرمائی ہے۔ جیسے کمپیوٹر ہے آپ کے پاس۔ تو کمپیوٹر کے ذریعے سے آپ بہت اچھے اچھے کام کر سکتے ہیں، analysis کر سکتے ہیں، ڈیزائن کر سکتے ہیں، ریکارڈنگ کر سکتے ہیں، documentation کر سکتے ہیں، اور communication کر سکتے ہیں۔ بہت کام کمپیوٹر کے ذریعے سے ہوتے ہیں۔


لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ کمپیوٹر کتنا اچھے کاموں کے لیے استعمال ہوتا ہے اور کتنا برے کاموں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ ہم لوگ میرے خیال میں یہاں جو بیٹھے ہوئے ہیں، کم از کم ان سے تو مخفی نہیں ہے کہ کتنے اچھے کاموں کے لیے استعمال ہوتا ہے اور کتنے برے کاموں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ کیوں؟ کیا یہ کمپیوٹر کا قصور ہے؟ کمپیوٹر کا قصور نہیں ہے، وہ تو خادم ہے، اس کو جہاں بھیجو گے وہاں چلا جائے گا۔ جو کمپیوٹر کو استعمال کرنے والا ہے، وہ ہے، اس پر مسئلہ ہے کہ آیا وہ اس کو صحیح استعمال کرنے کی direction دیتا ہے یا غلط استعمال کرنے کی direction دیتا ہے۔


اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو اس کے صحیح اور غلط استعمال کے لیے جو اس کا supervisory system ہے، اس کو ٹھیک کرنا پڑے گا۔ ورنہ ایسا نہیں ہوگا جیسے آپ چاہتے ہیں۔ اب ذرا ہم تھوڑا سا پھر اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں، یعنی ہم عقل کو استعمال کرتے ہیں۔ لیکن عقل ضروری نہیں کہ آپ کو صحیح فیصلہ سنا دے۔ کیوں؟ وہ تو ایک سسٹم ہے، اس کو جو input آپ دیں گے اس کے حساب سے output ملے گا آپ کو۔تو آخر اس کو کون instruction دیتا ہے؟ یعنی اس عقل کو کون instruction دیتا ہے؟ عقل کو instruction دینے والا ہمارا دل ہے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: -میرے سامنے حدیث شریف ہے-: أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً، إِذَا صَلُحَتْ صَلُحَ الْجَسَدُ كُلُّهٗ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهٗ، أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ. (رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ)

"آگاہ ہو جاؤ، بے شک اس جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے۔ اگر وہ ٹھیک ہوگا تو سارا جسم ٹھیک ہوگا۔ اور اگر یہ خراب ہو گیا تو سارا جسم خراب ہوگا۔ آگاہ ہو جاؤ یہ دل ہے۔"


پس پتا چلا کہ اگر دل میں گڑبڑ ہے، پھر عقل چونکہ اس کی تابع ہے، لہذا عقل ادھر ہی استعمال ہوگی۔ دل کے اوپر دو forces act کر رہی ہیں۔ ایک تو اللہ کی طرف سے instructions آ رہی ہیں، جس کو ہم ضمیر کہتے ہیں، usually جس کو ضمیر کہتے ہیں۔


ایک غلط فہمی ذرا دور کر لوں، میرے خیال میں شاید یہی وقت ہے۔ بعض لوگ آج کل جس چیز کو صحیح نہیں سمجھ پاتے تو اپنی طرف سے کوئی point گھڑ دیتے ہیں۔ میں نے آپ کو بخاری شریف کی حدیث شریف سنائی ہے نا۔ تو میں نے اپنے سارے سسٹم کو اس کے مطابق ٹھیک کرنا ہے نا، بخاری شریف کی حدیث شریف کے مطابق۔ نہ کہ میں اپنی طرف سے کوئی ایسی بات گھڑ لوں جو اس کے against جاتی ہو، چاہے وہ بظاہر مجھے کتنی اچھی نظر آتی ہو۔ تو اس وجہ سے جو لوگ اس بات کو سمجھے نہیں تو اپنی طرف سے کوئی بات گھڑ لیتے ہیں۔


تو کچھ لوگوں نے کہا کہ جو دل ہے، اصل میں یہ Mind ہے۔ Mind کدھر ہوتا ہے؟ سر میں ہوتا ہے۔ تو پھر سورۂ ناس پڑھ لیں:

قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ مَلِكِ النَّاسِ إِلٰهِ النَّاسِ مِن شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ

پتا چلا کہ وسوسہ کہاں ہوتا ہے؟ صدور، سینے میں۔ اور حدیث شریف کے مطابق وسوسہ کدھر شیطان ڈالتا ہے؟ دل میں ڈالتا ہے۔ تو قرآن کہتا ہے سینے میں، اور حدیث کہتی ہے دل میں، تو یہ دونوں باتیں کب ٹھیک ہوں گی؟ کیوں قرآن اور حدیث آپس میں مقابلے میں تو نہیں آئیں گے نا۔ تو اس کا پتا چل گیا کہ دل سینے میں ہے۔ اس سے کیا پتا چلا؟ دل سینے میں ہے۔ تو جو لوگ کہتے ہیں دل Mind ہے، تو Mind نہیں ہے۔

Mind is something else بہرحال میں عرض کر رہا تھا کہ دل اگر ٹھیک ہو جائے تو سارا جسم ٹھیک ہو جائے، حدیث شریف کے مطابق۔ تو یہ کون سا دل ہے؟ اگر سینے میں ہے تو کدھر ہے؟ تو جیسا کہ ہر جسم کے اندر ہر جگہ پر نفس ہے۔ آنکھوں کا بھی نفس ہے، کانوں کا بھی نفس ہے، زبان کا بھی نفس ہے، ہاتھ پاؤں کا بھی نفس ہے۔ اس طرح جسم کے اندر ہر جگہ پر روح ہے۔ اس سے کوئی انکار کر سکتا ہے؟ تو جس طرح نفس کا ایک center system ہے جہاں سے وہ خواہشات generate ہوتی ہیں، اس طرح روح کا بھی ایک center system ہے۔ روح کا وہ center system ادھر ہی exist کرتا ہے جہاں پر ہمارا یہ گوشت والا دل exist کرتا ہے۔

یہ اس کا مرکز ہے، اس کو "روحانی قلب" کہتے ہیں۔ اس کے اندر ہی accommodate ہے۔اس کا بھی جواب ہو گیا کہ جو لوگ کہتے ہیں اگر دل اس کو کہتے ہیں، تو جو operation کر لیتے ہیں، دل کو change کر لیتے ہیں، تو پھر تو تبدیل ہونا چاہیے۔ کافر کا دل اگر سینے میں لگا دو تو اس کا مطلب ہے کہ اس کو پھر کافر ہونا چاہیے۔ بھئی وہ جسمانی دل ہے وہ آپ نے change کر لیا، روحانی دل تو آپ change نہیں کر سکتے۔

Rooh (روح) cannot be transported from one body to another body. It is beyond your control.


وہ اپنی جگہ پر exist کر رہی ہے۔ لہذا یہ جو دل ہے، یہ اصل میں بنیادی چیز ہے، جو ہماری تمام activities کو کنٹرول کر رہا ہے۔

اب میں نے عرض کیا کہ روحانیت میں ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے instructions آ رہی ہیں ضمیر کی صورت میں، اچھی باتیں۔ اور شیطان کی طرف سے وسوسے آ رہے ہیں برائی کے۔ آپ کو اختیار ملا ہے، چاہے آپ وہ روحانیت والے، یعنی جو اللہ کی طرف سے آ رہی ہیں ضمیر کی، اس کی سن لیں، اس کو مان لیں، چاہے شیطان کی مان لیں، شیطان کے وسوسوں کو follow کریں۔ یہ اختیار اللہ پاک نے دیا ہوا ہے۔ اور اسی اختیار پر ہی فیصلہ ہوتا ہے۔ اگر ہم نے اختیار کو صحیح چیز کے لیے استعمال کیا- سبحان اللہ- اجر ہے۔ اور اگر اختیار کو غلط چیز کے لیے استعمال کیا، تو اسی پر گرفت ہے، اسی پر سزا ہے، اسی کو گناہ کہتے ہیں۔اب یہ ایک property ہے اس کے اندر، کہ جس چیز کو آپ follow کرتے ہیں، مطلب جسم کے اندر یہ ہے، وہ پھلتی پھولتی ہے۔ اور جس چیز کو آپ استعمال نہیں کرتے وہ کمزور ہوتی جاتی ہے۔ یہ دوسری چیزوں میں بھی سب میں ہے۔ بلکہ ایک حدیث شریف سے اس کی تائید بھی ہوتی ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب ایک بندہ نیکی کرتا ہے تو اس نیکی کا فوری اجر اس کو یہ ملتا ہے کہ اس کے لیے دوسری نیکی آسان ہو جاتی ہے۔ اور جب برائی کرتا ہے تو اس کے لیے فوری سزا یہ ہے کہ اس کے لیے دوسری برائی آسان ہو جاتی ہے۔


تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو system ہے نیکی کا، اگر وہ آپ use کر رہے ہیں، تو آپ کا نیکی والا system improve ہوتا ہے، بہتر ہوتا جاتا ہے۔ گویا کہ وہ چینل آپ کے لیے مزید open ہو رہا ہے۔ اور اگر برائی کے چینل کو آپ استعمال کر رہے ہیں، وسوسوں والے، تو آپ کا برائی والا چینل improve ہوگا، وہ زیادہ ہوگا، اور اچھائی والا چینل کمزور ہوتا جائے گا۔اب اس کے دو extremes ہیں۔ پہلا extreme یہ ہے کہ آپ نے اچھائی والے چینل کو مسلسل استعمال کیا اور برائی والے چینل کو دیکھا بھی نہیں۔ تو ایک وقت آ جائے گا کہ برائی والا چینل بالکل close ہو جائے گا اور اچھائی والا چینل complete open ہو جائے گا۔ اس condition کو کہتے ہیں قرآن پاک میں ہے، شیطان سے کہا اللہ تعالیٰ نے: "جو میرے ہیں ان کو تو گمراہ نہیں کر سکتا۔ جو میرے ہیں ان کو تو گمراہ نہیں کر سکتا"۔ اور جو تیرے بنیں گے، تجھ سے اور تیرے متبعین سے میں دوزخ کو بھر دوں گا۔


اس سے پتا چلا کہ کچھ لوگ ایسے ہوں گے جن کا اچھائی والا چینل complete open ہوگا۔ برائی والا چینل complete close ہوگا۔ لہذا ان پر شیطان کا وسوسہ کیسے چلے گا؟ ادھر signal ہی نہیں جائے گا۔ تو یہ ایک condition ہے۔ دوسری condition : اگر برائی والا چینل استعمال ہوتا ہے اور اچھائی والا چینل نہیں استعمال ہوتا۔ تو پھر یہ برائی والا چینل مکمل کھل جائے گا، اور اچھائی والا چینل مکمل بند ہو جائے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں قرآن بتاتا ہے:

خَتَمَ اللهُ عَلٰى قُلُوبِهِمْ وَعَلٰى سَمْعِهِمْ وَعَلٰى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ۔


پس پتا چلا کہ یہ دونوں extremes، اس کے اندر لوگ float کرتے رہتے ہیں۔ کبھی ایک طرف، کبھی دوسری طرف۔ پس معلوم ہوا کہ ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ جو وساوس والا channel ہے، وہ جو ہمارے system کو deteriorate کرتا ہے، اس کو ہم قابو کر لیں، اور اس کو ہم آگے نہ بڑھنے دیں۔


اب اگر برائی والے signal نے، یعنی نفس کے نظام نے، ہمارے دل کے system کو اتنا pollute کر لیا، کہ وہ عقل کو جو کنٹرول کر رہا ہے غلط ہو رہا ہے۔ عقل صحیح guide نہیں ہو رہی۔ اور عقل کو غلط چیز کی طرف لگا دیا، جیسے ڈاکوؤں کی عقل۔ جیسے کرپشن والوں کی عقل۔ جیسے اور برائیوں میں پڑنے والوں کی عقل، وہ اپنی عقل ان چیزوں کے لیے استعمال کرتے ہیں یا نہیں کرتے؟ حکومت کے قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کے لیے قوانین بناتے رہتے ہیں۔ اور جو ان کے توڑنے والے لوگ ہیں وہ ان کے لیے توڑنے کے طریقے ایجاد کرتے رہتے ہیں۔ Car factories, industry وہ بہترین تالے بناتے ہیں تاکہ وہ تالے کھل نہ سکیں، car چوری نہ ہو سکے۔ اور ان کے توڑنے والے اس سے کچھ ہی عرصے کے اندر وہ اس کے bypass کرنے کا نظام وضع کر لیتے ہیں، وہ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ ایسا ہی ہوتا ہے۔ تو دونوں چیزیں چل رہی ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جو عقل ہے، اگر وہ برائی کے لیے استعمال ہونی شروع ہو گئی، تو پھر اس کی تمام faculties اس کے لیے استعمال ہوں گی، نتیجتاً انسان بہت برائی کے اندر excel کر جائے گا۔ آج کل یورپ میں ہم دیکھ رہے ہیں۔ یعنی وہ چیزیں جو بچے کو بھی سمجھ میں آ سکتی ہیں، وہ بے حیائی اور دوسری چیزیں جن سے وہ خود بھی تنگ ہیں۔

لیکن چونکہpolluted, perverted environment ہے، لہذا ان کو اس کا خیال نہیں آتا۔ ان کو سوچ بھی نہیں آتی۔ کہ یہ کیا بات ہے؟ بلکہ ان لوگوں کو، جو ان کو کہتے ہیں یہ کیا ہے، وہ کہتے ہیں What's the matter کیا مسئلہ ہے؟ آپ کیوں اس پر اعتراض کر رہے ہیں؟ بہت عجیب عجیب باتیں، ہم نے، چونکہ میں یورپ میں رہا ہوں لہذا مجھے پتا ہے کہ وہ کیا کہتے ہیں۔


مقصد میرا یہ ہے کہ عقل اگر غلط استعمال ہونی شروع ہو جائے، تو پھر اس کو کنٹرول کرنا پڑتا ہے۔ تو وہ کنٹرول کس طریقے سے ہوگی؟ اب مجھے بتاؤ یہ عقل pollute کس چیز سے ہوئی ہے؟ یہ نفس سے ہوئی ہے۔ نفس کیا چیز ہے؟ دنیاوی خواہشات ہیں۔ نفس دنیاوی خواہشات ہیں نا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: حُبُّ الدُّنْيَا رَأْسُ كُلِّ خَطِيئَةٍ۔

"دنیا کی محبت ساری خطاؤں کی جڑ ہے۔"

لہذا دنیا کی محبت جہاں جہاں گھسی ہوئی ہے، اس نظام کو اس نے اپنا تابع کر دیا۔ میں اگر جا رہا ہوں، مجھے ایک اچھی car نظر آئی، میرے دل میں خواہش ہو گئی ایسی car میری ہونی چاہیے۔چلو، ایک input آ گیا۔ کبھی مکان کو دیکھ لیا، بڑا اچھا مکان دیکھ لیا، ایسا مکان میرا ہونا چاہیے۔ دوسرا input آ گیا۔ اس طرح inputs ملتے رہتے ہیں۔ اب اگر ان inputs کو satisfy کرنے کے لیے نظام بھی میرے پاس ہو، مثلاً کرپشن کا۔ اس طریقے سے دھوکے کا، اور چیزوں کا، تو اس پر میں چل سکتا ہوں۔ نتیجتاً کام خراب ہوتا جائے گا۔

تو اب یہ ہے کہ یہ جو نظام ہے جس چیز سے pollute ہوا ہے اسی چیز سے ٹھیک ہوگا opposite direction میں۔ تو دنیا کی محبت نے اس کو pollute کر دیا ہے، دنیا کی محبت نے اس کو خراب کر دیا ہے، تو اس کو ٹھیک کون سی چیز کرے گی؟ اس کو ٹھیک کرے گی اللہ تعالیٰ کی محبت۔ اس کو ٹھیک کون سی چیز کرے گی؟ اللہ تعالیٰ کی محبت۔ تو اللہ پاک نے فرمایا: وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ۔

" جو مومنین ہیں، ان کو اللہ کی شدید محبت حاصل ہوتی ہے"


یعنی شدید محبت سے مراد یہ ہے عشق، جس کو ہم عام طور پر عشق کہتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کو عشق ہوتا ہے۔ ایسے لوگ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ عشق کرتے ہیں، پھر اس کے بعد ان کے لیے بڑے بڑے کام کرنا مشکل نہیں ہونگے۔ دیکھیں میں اگر کوئی کام کرنا چاہتا ہوں، میری عقل مجھے سمجھا دیتی ہے، اوہ! اتنا jump نہ لگاؤ مسئلہ ہو جائے گا، پیر ٹوٹ جائیں گے۔ اور اگر اس میں عشق involve ہو، تو Should I calculate? وہاں پر calculation نہیں ہوگی۔


یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام نے وہ چیزیں کر دکھائیں جو تصور میں بھی نہیں آ سکتی تھیں۔ جو تصور میں بھی نہیں آ سکتیں۔ دیکھیں عبداللہ بن رواحہ رضی الله عنہ کو۔ میدان جنگ میں ان کو سپہ سالار بنایا گیا۔ تھوڑی سی کمزوری نظر آئی اپنے آپ میں، جیسے کچھ تھوڑی سی hesitation ہے۔ اپنے نفس کو خطاب کر کے کہتے ہیں: اے عبداللہ! شاید تو اس لیے پیچھے ہو رہا ہے کہ تیری بیویاں ہیں؟ ساری بیویوں کو طلاق! تو اس لیے پیچھے ہو رہا ہے کہ تیری جائیداد ہے؟ ساری جائیداد اللہ کے راستے میں وقف! تو اس لیے پیچھے ہو رہا ہے کہ تیرے غلام ہیں؟ سارے غلام اللہ کے راستے میں آزاد! اب فارغ ہو گیا اور آگے بڑھا اور ما شاء اللہ۔ دیکھ لیں کس چیز سے اس کو توڑ کر دیا؟


ایک صحابی رسول ﷺ آپ ﷺ کے پاس آتے ہیں۔ یا رسول اللہ! میں نماز پڑھ رہا تھا، نماز کے اندر میرا خیال آ گیا کہ میرا جو باغ ہے جس میں میں نماز پڑھ رہا تھا، اس میں پرندہ پھنس گیا، نکل نہیں سکتا تھا۔ میں نے کہا اچھا، اس باغ نے میری نماز کو متاثر کر دیا جو میرے اللہ کے ساتھ ملاقات کا ذریعہ ہے۔ اب میں اس باغ کو باقی نہیں رکھ سکتا۔ یا رسول اللہ! یہ اللہ کے راستے میں صدقہ ہے۔ یہ کیا چیز ہے؟ اس کو آپ کیا نام دیں گے؟ تو ایسے واقعات سے صحابہ کرام کی histories بھری ہوئی ہیں۔تو اس طریقے سے ہم نے اس کو دوبارہ re-educate کرنا ہے۔ تو اس کے لیے اللہ پاک نے ایک نظام رکھا ہوا ہے۔ عبادات میں اللہ پاک نے نماز کے اندر عبدیت کا نظام رکھا ہے، روزے کے اندر تقویٰ کو حاصل کرنے کا نظام رکھا ہے، زکوٰۃ کے اندر حبِ مال کا علاج ہے۔ اور حج کے اندر اسی چیز کا توڑ ہے، جو نفسانی عقل ہے، اس کا توڑ ہے۔ کہ یہ جو نفسانی عقل ہے، جو نفس آلودہ عقل ہے، اس کو کیسے اللہ تعالیٰ کی محبت سے آشنا کیا جائے، تاکہ وہ پھر اللہ تعالیٰ کی ماننے لگے، اللہ تعالیٰ کے لیے کام کرنے لگے۔ تو اس کے لیے ظاہر ہے مختلف طریقے ہیں۔اللہ پاک نے جو طریقہ اس میں پسند فرمایا وہ یہ ہے کہ جو عشاق گزرے ہیں، جنہوں نے اتنا complete surrender کیا کہ دنیا حیران رہ گئی۔ مثلاً ابراہیم علیہ السلام، اسماعیل علیہ السلام، ہاجرہ رضی الله عنہا، اور اس طریقے سے جو عشاق اس میں آئے، انہوں نے ایسے کام دکھا دیے جو انسانی عقل سے ممکن نہیں ہیں۔ مجھے بتاؤ ایک بچہ اپنے والد کو وصیت کر رہا ہے، ابا جان! اپنی آنکھیں پٹی سے باندھ لیں، مجھے اوندھے منہ لٹا دیں، تیز چھری کے ساتھ مجھے ذبح کر دیں تاکہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں دیر نہ لگے، آپ وہ کر گزریں جس کا اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ حالانکہ ابراہیم علیہ السلام نے خواب سنایا تھا، میں نے تجھے خواب میں دیکھا ہے اس طرح کرتے ہوئے۔

مجھے بتاؤ یہ اتنے بچے کو خواب کی تعبیر کیسے سمجھ آئی؟ پھر اس کے بعد اتنا بڑا jump کیسے لگا؟ یہ extraordinary case ہے۔


تو پھر اللہ پاک نے extraordinary کے طور پر اس کو accept بھی کیا، قبول فرما دیا۔ اس کو اب ایک case study بنا دیا۔ جو لوگ جانا چاہتے ہیں اور اس عقل کا جو نظام pollute ہو چکا ہے اس کو reconstruct کرنا چاہتے ہیں، وہ اس عمل سے گزر جائیں۔ اور ان کی نقل کر لیں۔ جس طریقے سے انہوں نے قربانی کی ہم بھی قربانی کریں۔ مینڈھا قربان ہوا ہے، ہم بھی اس کی جگہ قربانی کریں۔ جس طریقے سے کنکریاں ماری ہیں اسماعیل علیہ السلام نے، ہم بھی کنکریاں ماریں۔ یہ ساری چیزیں ہم اس طریقے سے کریں گے۔ تو یہ کیا ہو جائے گا؟ ہاجرہ بی بی وہ جیسے دوڑی ہیں، کمال کی بات کہ دوڑی تو عورت ہے اور حکم مردوں کو دوڑنے کا ہے۔ کیا یہ عقل کے مطابق ہے؟ تو اس عقل کو توڑا جاتا ہے۔ جو عقل نفس سے pollute ہو چکی ہے، اس عقل کو توڑا جاتا ہے۔ پھر اس کا رشتہ اللہ تعالیٰ کی محبت کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔


پھر ایک چیز وجود میں آتی ہے اور وہ وجود میں یہ آتی ہے کہ انسان پھر اللہ کا ہو جاتا ہے۔ اس کے لیے وہاں پر اللہ تعالیٰ نے خانہ کعبہ بنایا ہوا ہے۔ وہ خانہ کعبہ ایسا ہے کہ جو شخص جس کے دل میں خواہش ہے کہ میں اللہ پاک کا دیدار کر لوں، جو یہاں ممکن نہیں ہے۔ جو یہاں ممکن نہیں ہے۔ وہ اپنی تسلی مجازی طور پر ایسا کرے کہ خانہ کعبہ کو دیکھتے رہیں۔ وہاں تین چیزیں ہیں، جو extraordinary ہیں۔

نمبر ایک: وہاں پر خانہ کعبہ کا طواف۔ طواف کس چیز سے کیا جاتا ہے؟ یہ پروانہ وار کام ہے۔ مطلب جیسے کوئی فدائی چیز اپنے محبوب کے گرد گھومتی ہے۔ اسی طریقے سے ہمیں ایک simulation دی گئی ہے کہ ہم لوگ بھی اس طرح خانہ کعبہ کے گرد گھومیں۔ خانہ کعبہ تو پتھروں کا بنا ہوا ہے، اصل میں تو نظام کچھ اور ہے۔ اصل میں تو نظام کچھ اور ہے، تو ظاہر ہے ہمیں اس کے گرد اس لیے گھمایا جاتا ہے تاکہ ہم اللہ تعالیٰ کی محبت میں اس طرح ایک مقصد کے گرد گھوم سکیں۔ جو ہمارا central pivoting point ہو، جس کے اوپر ہم ساری زندگی کو base کر سکیں۔تو یہ تو ہے ایک خانہ کعبہ کا۔ دوسرا یہ ہے: حکم ماننے کا۔ کمال کی بات ہے آپ کا دل خانہ کعبہ میں لگا ہوا ہے، آپ کا دل دیکھنا چاہتا ہے خانہ کعبہ کو۔ لیکن جس وقت آپ اس کے گرد گھوم رہے ہیں، حکم ہے، نہیں، منع ہے، نہیں دیکھ سکتے۔ اس وقت نہیں دیکھ سکتے۔ بس اپنے جذبات کو کنٹرول کرنا ہے۔ اس طریقے سے یہ سارے کام ایسے کروائے جاتے ہیں جو ہمارے بس میں نہیں ہیں، اب سمجھ میں نہیں آ سکتے۔ تو اس سے ہم لوگ complete surrender کرنا سیکھ لیتے ہیں۔ کہ ہماری عقل اس وقت کام کر سکتی ہے جب یہ اللہ کی بات مانے گی۔ یہی سب سے بڑی عقلمندی ہے۔یہ جو میرے خیال میں، میرے خیال والا concept ہے نا، ہم جیسے لوگوں میں۔ ہم دین کے معاملے میں بھی کہتے ہیں میرے خیال میں ایسا ہونا چاہیے۔ بھئی ہمارا خیال کدھر ہے؟ ہمارے خیال کی کیا حیثیت ہے؟ بھئی دین ہم نے بنایا ہوا ہے یا اللہ تعالیٰ نے بنایا ہوا ہے؟ تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی سننی پڑے گی، اپنے خیال کو لانا پڑے گا۔ تو یہ اپنا خیال ویسے آسانی سے نہیں نکلتا۔ تو اس کے لیے اس طرح models بنائے گئے ہیں۔ تو وہاں پر خانہ کعبہ کو دیکھنا اصل میں ایک مجازی تسلی ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کی جو ہے تسلی ہے۔ اس دنیا میں اس طرح کر سکتے ہیں کہ اس خانہ کعبہ کو دیکھیں۔ وہاں پر تین کام ہیں: ایک طواف ہے، دوسرا نماز ہے، اور تیسرا خانہ کعبہ کو دیکھنا ہے۔اس طریقے سے ما شاء اللہ اگر ہم لوگ وہاں پر زندگی گزاریں گے۔ تو پھر دو کام ہو جائیں گے۔ ایک کام ہمارا یہ ہو جائے گا کہ ہماری عقل صحیح ہو جائے گی۔ ہم لوگ عقل کو تابع کر دیں گے شریعت کے، جو اللہ کا حکم ہے۔ اور اس کے لیے ہم complete surrender کرنا سیکھ لیں گے۔ Complete surrender کو کہتے ہیں نفسِ مطمئنہ۔ complete surrender کو کیا کہتے ہیں؟ نفسِ مطمئنہ۔ نفسِ مطمئنہ کے لیے اللہ پاک نے فرمایا: يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي


یہ بہت اونچا مقام ہے، لہذا حج جو ہے، اگر اس کے اندر واقعی کسی کے صحیح جذبات بن گئے۔ اور اس کا وہ کچھ بن گیا جو اللہ بنانا چاہتا ہے۔ تو پھر

ما شاء اللہ وہ جب آئے گا وہ بالکل different person ہوگا۔ اور اس لیے کہتے ہیں جب حج سے کوئی آ جائے اور وہ different person نہ بنے، خطرہ ہے کہ کہیں اس کا حج قبول ہونے سے رہ تو نہیں گیا۔ اگر وہ different person نہیں بنا، تو خطرہ ہے کہ کہیں اس کا حج قبول ہونے سے رہ تو نہیں گیا، لہذا وہاں پر جو احکامات ہیں اس کے اوپر مکمل عمل کرنا چاہیے۔میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں۔ دیکھیں بال ہیں ہمارے۔ کسی کے بال بڑے خوبصورت ہوں گے واللہ اعلم۔ اب بالوں کے ساتھ بھی محبت ہوتی ہے لوگوں کو۔ تو وہاں پر یہ کیا جاتا ہے کہ جس وقت انسان سارے اعمال پورے کر لیتا ہے عمرے کے یا حج کے، اس کے بعد پھر حلق ہوتا ہے، بال اتارے جاتے ہیں، مونڈا جاتا ہے۔ آپ ﷺ نے خود بال منڈوائے ہیں۔ آپ ﷺ کی بڑی خوبصورت زلفیں تھیں۔ آپ ﷺ نے بال منڈوائے ہیں۔ اور بال منڈوانے والوں کے لیے تین دفعہ دعا کی۔ اور بال کتروانے والے جو قصر ہے جس کو کہتے ہیں، اس کے لیے ایک دفعہ دعا فرمائی ہے۔لیکن اس میں details ہیں۔ دیکھیں میرا خون اگر نکل آیا، تو میرا وضو ٹوٹ گیا کیونکہ میں حنفی ہوں۔ شوافع کا نہیں ٹوٹتا۔ ان کا نہیں ٹوٹتا۔ بس ٹھیک ہے، ان کا مسلک اس طرح ہے۔ تو اس طریقے سے جس وقت بال کتروانے کی بات ہے، تو احناف کے نزدیک کم از کم چوتھائی سر کے ایک پور کے برابر بال کتروانا یہ واجب ہے۔ ورنہ قصر نہیں ہوگا۔ اب جو وہاں جا کر اپنا مسلک چھوڑ دیتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کو اپنے بال اپنے مسلک سے زیادہ پیارے ہیں۔ اور مسلک دین کے لیے ہے، لہذا دین سے زیادہ پیارے ہیں۔ اب بتاؤ وہ کیا لے کے آ گیا اُدھر سے؟ کیا لے کے آ گیا؟ امتحان ہو گیا نا، فیل ہو گیا نا۔ امتحان ہو گیا اور فیل ہو گیا۔تو اگر وہاں سے کامیاب ہو کے آنا ہے، تو اس چیز کو دیکھنا ہے، اپنے آپ کو آئینے پہ دیکھنا ہے وہ اعمال پر۔ کہ میں اپنے اعمال کے لیے بشاشت کے ساتھ تیار ہوں یا نہیں؟ اگر میں بشاشت کے ساتھ تیار نہیں ہوں تو میں فیل ہو گیا ہوں۔ تو اس کے لیے ہمیں تیار ہونا چاہیے، جب ہم ان steps کو پورا کریں گے۔ پھر ان شاء اللہ العزیز اللہ تعالیٰ ہمارے اندر اس چیز کو incorporate کر دیں گے۔ جس کو حبِ الٰہی کہتے ہیں۔ اور وہ حبِ الٰہی ایسی چیز ہے جب وہ کسی کو حاصل ہو پھر کسی اور چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ خود ہی driving force ہے۔ یہ خود ہی maintenance کرتی ہے۔ یہ خود ہی چلاتی ہے، یہ خود ہی غلط چیزوں سے بچاتی ہے، یہ خود ہی اپنی منزل تک پہنچاتی ہے۔ اگر کسی کو یہ حاصل ہو گئی تو۔


تو اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ میں نے ابتدا اس سے کی تھی چونکہ بعد میں کافی سارے حضرات آئے ہیں۔ یہ آخری statement دیتا ہوں۔ مجھ سے کہا گیا تھا کہ حج کا فلسفہ بیان کریں۔ تو میں نے عرض کیا کہ یہ فلسفہ، حج فلسفے کی ضد ہے۔ حج فلسفے کی ضد ہے۔ کیونکہ فلسفہ عقلی analysis کو کہتے ہیں۔ اور حج اس analysis کو ٹھیک کرتا ہے۔ اس عقل کو ٹھیک کرتا ہے۔


It is beyond philosophy. It is to correct philosophy. It is to correct عقل


تو یہ ہم حج کا فلسفہ نہیں بیان کر رہے ہیں۔ بلکہ ہم، اللہ پاک نے جو حج کے اندر رکھا ہوا ہے، جو عقل کو ٹھیک کرنے کا نظام ہے، اس کو سمجھنے کے لیے ہم یہاں پر بیٹھے ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ مجھے بھی صحیح سمجھنے کی توفیق عطا فرما دے آپ کو بھی۔


وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ۔




حج کا اصل پیغام :عقل کی شکست اور قلب کی بیداری - جمعہ بیان