غزوۂ احد کے اسباق، سود کی ممانعت اور امیر کی اطاعت کی اہمیت

درس نمبر 152، سورۃ آل عمران: آیات:130 تا 139 - (اشاعتِ اول) 29 اپریل، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

·      سورۂ آل عمران کی آیات کی تلاوت، ترجمہ اور سود (ربا) کی قطعی حرمت۔

·      سود کے حوالے سے بہانے بنانے والوں اور کم شرحِ سود کو جائز سمجھنے والوں کی غلط فہمیوں کا ازالہ۔

·      اللہ کی راہ میں خرچ کرنے، غصہ پینے، معاف کرنے اور گناہوں پر فوراً توبہ کرنے والوں کے لیے جنت کی خوشخبری۔

·      غزوۂ احد کا تاریخی پس منظر اور جبلِ رماۃ (تیر اندازوں کے ٹیلے) کا واقعہ۔

·      وقتی شکست کے اسباب: امیر (حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ) کی نافرمانی اور احکاماتِ نبوی ﷺ کو چھوڑنا۔

·      غلطیوں کو تجربہ (Experience) بنا کر آئندہ کے نقصانات سے بچنے کی حکمت

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ

فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوا الرِّبٰۤوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ (130) وَ اتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْۤ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَۚ (131) وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۚ (132) وَ سَارِعُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَۙ (133) الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ الْـكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ (134) وَ الَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِم وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ ﳑ وَ لَمْ یُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ(135) اُولٰٓىٕكَ جَزَآؤُهُمْ مَّغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ وَ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ (136) قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ سُنَنٌۙ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ(137) هٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَهُدًى وَّ مَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ(138)

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

اے ایمان والو، کئی گنا بڑھا چڑھا کر سود مت کھاؤ اور اللہ سے ڈرو تاکہ تمہیں فلاح حاصل ہو۔﴿130﴾

امام رازی نے تفسیرِ کبیر میں فرمایا ہے کہ جنگِ اُحد کے موقع پر مکہ کے مشرکین نے سود پر قرضے لے کر جنگ کی تیاری کی تھی، اس لئے کسی مسلمان کے دل میں بھی یہ خیال ہو سکتا تھا کہ مسلمان بھی جنگ کی تیاری میں یہی طریقہ اختیار کریں۔ اس آیت نے انہیں خبردار کر دیا کہ سود پر قرض لینا حرام ہے۔ یہاں سود کو کئی گنا بڑھا کر کھانے کا جو ذکر ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کم شرح پر سود کی اجازت ہے، بلکہ اس وقت چونکہ سودی قرضوں میں بکثرت یہی ہوتا تھا کہ سود اصل سے کئی گنا بڑھ جاتا تھا اس لئے ایک واقعے کے طور پر یہ بات بیان کی گئی ہے، ورنہ سورۂ بقرہ (آیت 277 اور 278) میں صاف واضح کر دیا گیا ہے کہ اصل قرض پر جتنی بھی زیادتی ہو وہ سود میں داخل اور حرام ہے۔

یہ اصل میں ایک اہم اصول کی طرف بھی اس میں اشارہ ہے۔ زائغین جو ہوتے ہیں نا زائغین، جن کے دلوں میں زیغ ہوتا ہے، وہ کسی نہ کسی ٹیڑھ کے لیے بہانہ ڈھونڈتے ہیں۔ ظاہر ہے وہ سمجھنا نہیں چاہتے، بلکہ وہ تو خود سمجھ کر، کر رہے ہوتے ہیں۔ لہٰذا جو جاہل لوگ ہوتے ہیں، جو ناسمجھ ہوتے ہیں، ان کے دعووں میں آجاتے ہیں اور ان کی بات سن کے کنفیوز ہو جاتے ہیں کہ یہ کیا ہے۔ حالانکہ جو علماء ہیں، ان سے وہ بھاگتے ہیں۔ ان سے وہ بات نہیں کرتے۔ ان کو پتہ ہوتا ہے کہ یہ تو ہمیں جواب دے سکتے ہیں۔ تو یہ جو سود والی بات ہے، تو یہ صرف کوئی ایک آیت کی بنیاد پر نہیں ہے کہ جی یہ آیت ہے اور اس کے بعد کوئی آیت نہیں ہے۔ جیسے کہ حضرت نے بھی فرمایا کہ اس کی دو آیتیں اور ہیں، جو اس میں، یعنی محض جو سود ہے، یعنی اپنی اصل رقم سے جو زیادتی ہوتی ہے وہ حرام ہے، وہ سود میں شامل ہے۔ تو بعض لوگ اس سے یہ مراد لیتے ہیں کہ جو ہے نا مطلب ہے، جو زیادہ سود ہے وہ تو حرام ہے لیکن جو تھوڑا سود ہے وہ جائز ہے۔ حالانکہ ایسی بات نہیں ہے۔

اے ایمان والو! کئی گنا بڑھا چڑھا کر سود مت کھاؤ، اور اللہ سے ڈرو، تاکہ تمہیں فلاح حاصل ہو ۔ ﴿130﴾ اور اس آگ سے ڈرو جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے ﴿131﴾ اور اللہ اور رسول ﷺکی بات مانو، تاکہ تم سے رحمت کا برتاؤ کیا جائے ﴿132﴾ اور اپنے رب کی طرف سے مغفرت اور وہ جنت حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے سے بڑھ کر تیزی دکھاؤ جس کی چوڑائی اتنی ہے کہ اس میں تمام آسمان اور زمین سما جائیں۔ وہ ان پرہیزگاروں کے لئے تیار کی گئی ہے ﴿133﴾ جو خوشحالی میں بھی اور بدحالی میں بھی (اللہ کے لئے) مال خرچ کرتے ہیں، اور جو غصے کو پی جانے اور لوگوں کو معاف کر دینے کے عادی ہیں۔ اللہ ایسے نیک لوگوں سے محبت کرتا ہے ﴿134﴾ اور یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر کبھی کوئی بے حیائی کا کام کر بھی بیٹھتے ہیں یا (کسی اور طرح) اپنی جان پر ظلم کر گزرتے ہیں تو فوراً اللہ کو یاد کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں اور اللہ کے سوا ہے بھی کون جو گناہوں کی معافی دے؟ اور یہ اپنے کئے پر جانتے بوجھتے اصرار نہیں کرتے ﴿135﴾ یہ ہیں وہ لوگ جن کا صلہ ان کے پروردگار کی طرف سے مغفرت ہے، اور وہ باغات ہیں جن کے نیچے دریا بہتے ہوں گے، جن میں انہیں دائمی زندگی حاصل ہوگی۔ کتنا بہترین بدلہ ہے جو کام کرنے والوں کو ملنا ہے! ﴿136﴾ تم سے پہلے بہت سے واقعات گزر چکے ہیں۔ اب تم زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ جنہوں نے (پیغمبروں کو) جھٹلایا تھا ان کا انجام کیسا ہوا؟ ﴿137﴾ یہ تمام لوگوں کے لئے واضح اعلان ہے اور پرہیزگاروں کے لئے ہدایت اور نصیحت! ﴿138﴾ وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(139)

اور (مسلمانو!) تم نہ تو کمزور پڑو، اور نہ غمگین رہو۔ اگر تم واقعی مؤمن ہو تو تم ہی سربلند رہو گے۔ ﴿139﴾

جنگِ اُحد کا واقعہ مختصراً یہ ہے کہ شروع میں مسلمان کافر حملہ آوروں پر غالب آگئے، اور کفار کا لشکر پسپا ہونے پر مجبور ہو گیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ شروع ہونے سے پہلے پچاس تیرانداز صحابہ کا ایک دستہ میدانِ جنگ کے ایک عقبی ٹیلے پر متعین فرمایا تھا، تاکہ دشمن پیچھے سے حملہ نہ کر سکے۔ جب دشمن پسپا ہوا اور میدانِ جنگ خالی ہو گیا تو صحابہ نے اس کا چھوڑا ہوا ساز و سامانِ مالِ غنیمت کے طور پر اکٹھا کرنا شروع کر دیا۔ تیراندازوں کے اس دستے نے جب یہ دیکھا کہ دشمن بھاگ چکا ہے تو انہوں نے سمجھا کہ اب ہماری ذمہ داری پوری ہو چکی ہے اور ہمیں بھی مالِ غنیمت جمع کرنے میں حصہ لینا چاہئے۔ ان کے امیر حضرت عبداللہ بن جبیر (رضی اللہ عنہ) اور ان کے چند ساتھیوں نے ٹیلہ چھوڑنے کی مخالفت کی، اور اپنے ساتھیوں کو یاد دلایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہر حال میں یہاں جمے رہنے کی ہدایت فرمائی تھی، مگر ان میں سے اکثر نے وہاں ٹھہرنے کو بے مقصد سمجھ کر ٹیلہ چھوڑ دیا۔ دشمن نے جب دُور سے دیکھا کہ ٹیلہ خالی ہو گیا ہے اور مسلمان مالِ غنیمت جمع کرنے میں مشغول ہو گئے ہیں تو انہوں نے موقع پا کر ٹیلے پر حملہ کر دیا۔ حضرت عبداللہ بن جبیر (رضی اللہ عنہ) اور ان کے چند ساتھیوں نے اپنی بساط کے مطابق ڈٹ کر مقابلہ کیا، مگر وہ سب شہید ہو گئے، اور دشمن اس ٹیلے سے اُتر کر ان بے خبر مسلمانوں پر حملہ آور ہو گیا جو مالِ غنیمت جمع کرنے میں مصروف تھے۔ یہ حملہ اس قدر غیر متوقع اور ناگہانی تھا کہ مسلمانوں کے پاؤں اُکھڑنے لگے۔ اسی دوران کسی نے یہ افواہ اُڑا دی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں۔ اس افواہ سے بہت سے مسلمانوں کے حوصلے جواب دے گئے۔ ان میں سے بعض میدان چھوڑ گئے، بعض جنگ سے کنارہ کش ہو کر ایک طرف کھڑے رہ گئے۔ البتہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جاں نثار صحابہ کی ایک جماعت آپ کے اردگرد ڈٹ کر مقابلہ کرتی رہی، کفار کا نرغہ اتنا سخت تھا کہ اس کشمکش میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک دانت شہید ہو گیا، اور چہرۂ مبارک لہولہان ہو گیا۔ بعد میں جب صحابہ کو پتہ چلا کہ آپ کی شہادت کی خبر غلط تھی اور ان کے حواس بجا ہوئے تو ان میں سے بیشتر میدان میں لوٹ آئے، اور پھر کفار کو بھاگنا پڑا، لیکن اس درمیانی عرصے میں ستر صحابۂ کرام شہید ہو چکے تھے۔ ظاہر ہے کہ اس واقعے سے تمام مسلمانوں کو شدید صدمہ ہوا۔ قرآنِ کریم ان آیتوں میں انہیں تسلی بھی دے رہا ہے کہ یہ زمانے کے نشیب و فراز ہیں جن سے مایوس اور دل شکستہ نہ ہونا چاہئے، اور اس طرف بھی متوجہ کر رہا ہے کہ یہ شکست کچھ غلطیوں کا نتیجہ تھی جن سے سبق لینے کی ضرورت ہے۔

اصل میں انسان سے غلطی تو ہو سکتی ہے۔ لیکن اس کے بعد بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس غلطی سے سبق حاصل کیا جائے۔ اور اس کو experience بنا دیا جائے۔ یعنی اگر اس کو experience بنا دیا جائے تو اس کی گویا کہ compensation ہو جاتی ہے، آئندہ کے لیے۔ اس کے جو مسائل ہیں، ان سے محفوظ ہو جاتا ہے آدمی۔ تو یہاں پر بھی یہ بات ہے کہ اگرچہ تسلی دی جا رہی ہے، لیکن ساتھ یہ تاثر بھی کہ ایسا پھر نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ آپ ﷺ نے جو فرمایا تھا کہ کسی طریقے سے بھی اس میدان کو نہیں چھوڑنا چاہیے، تو اگر اس پر عمل ہوتا تو بظاہر یہی لگتا ہے کہ ایسی بات نہ ہوتی۔

تو ہمیں بھی جب کبھی اس کی ضرورت پیش آئے، تو اپنے امیر کی اطاعت کرنی چاہیے۔ کیونکہ امیر کو شرحِ صدر جو ہوتا ہے، وہ من جانب اللہ ہوتا ہے۔ لہٰذا کبھی بھی ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ امیر کی بات پر انسان غالب آجائے۔ یہ قانون بہت عام ہے، ہر چیز کے اندر ہے۔ اگر کوئی اس پر عمل نہیں کرتا تو ان کو مسائل کا شکار ہونا پڑتا ہے۔ وہ جس کو اجتماعیت کہتے ہیں نا، وہ disturb ہو جاتی ہے۔ کیونکہ امیر جو ہے نا، اس کا کنٹرولنگ، مطلب ہوتا ہے وہ force ہوتا ہے۔ تو اگر امیر کو کوئی مطلب وہ کر دے کہ نہ مانے، تو اس کا مطلب ہے کہ جیسے steering ہے۔ وہ steering اس طرف موڑنے کو کہے اور جو پہیہ ہے وہ اس طرف مڑ جائے، تو نتیجہ کیا ہوگا؟ تو ظاہر ہے پہیے کو ان کے ساتھ intact ہونا چاہیے، کہ جس طرف steering موڑ دے اس طرف مڑنا چاہیے۔ ورنہ پھر کیا ہوگا؟ accident! تو کبھی بھی امیر کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہیے، ورنہ پھر اس کے نتائج بھیانک ہو سکتے ہیں۔


غزوۂ احد کے اسباق، سود کی ممانعت اور امیر کی اطاعت کی اہمیت - درسِ قرآن - دوسرا دور