صفائی اور پاکی: جسم اور روح کی ظاہری و باطنی پاکیزگی

اشاعت، اول: جمعرات، 17 ستمبر 202

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

صفائی (جسمانی) اور پاکی (روحانی) کے درمیان بنیادی فرق

طہارت کے حوالے سے اہل عرب کی نبوی تربیت (مسجدِ نبوی اور قبر کا واقعہ)

اہلِ قباء کا طریقہِ استنجاء اور ان کے لیے قرآنی فضیلت

وضو، بالخصوص ناک کی صفائی کے جدید طبی فوائد

طہارت کے احکام میں مسواک کی اہمیت اور تاکید

غسلِ جمعہ کا حکم اور اہل یورپ کو مسلمانوں کی دی گئی نہانے کی تعلیم

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ!فَأَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

آج جمعے کی رات ہے اور جمعے کی رات کو ہمارے ہاں سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی شہرہ آفاق کتاب سیرت النبی ﷺ کے حصہ پنجم سے تعلیم ہو رہی ہے۔

اس کے بعد تمدن کا دوسرا ابتدائی سبق طہارت اور پاکیزگی ہے جو اسلام کے اولین احکام میں سے ہے، اقراء کے بعد دوسری ہی وحی میں جو آنحضرت ﷺ پر نازل ہوئی اس میں یہ حکم تھا:

﴿وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ﴾

(سورۃ المدثر: 4)

اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھ۔

چنانچہ اسلام نے اس طہارت اور پاکیزگی کے اصول مقرر کئے، اور آنحضرت ﷺ نے اپنی تعلیمات سے اس کے حدود متعین فرمائے اور نماز کی درستی کے لئے یہ ضروری قرار دیا کہ انسان کا بدن، اس کے کپڑے اور اس کی نماز پڑھنے کی جگہ نجاستوں اور آلودگیوں سے پاک ہو، اہل عرب کو دوسری وحشی قوموں کی طرح طہارت و نظافت کی مطلق تمیز نہ تھی،


یہاں تک کہ ایک بدو نے مسجد نبوی میں آ کر سب کے سامنے بیٹھ کر پیشاب کر دیا، صحابہؓ اس کو مارنے کو دوڑے، آپ ﷺ نے ان کو روکا اور اس بدو کو اپنے پاس بلا کر نہایت مہربانی سے فرمایا کہ "یہ نماز پڑھنے کی جگہ ہے، اس قسم کی نجاستوں کے لئے یہ موزوں نہیں ہے"، اور صحابہ سے فرمایا کہ اس نجاست پر پانی بہا دو، ایک دفعہ ایک قبر کے پاس سے آپ ﷺ گزرے تو فرمایا کہ "اس قبر والے پر اس لئے عذاب ہو رہا ہے کہ یہ پیشاب کی چھینٹوں سے پرہیز نہیں کرتا تھا"، غرض اس تعلیم نے جو صرف نماز کے لئے تھی، اہل عرب اور عام مسلمانوں کو پاک و صاف رہنے کا خوگر بنایا، اور استنجاء، بیت الخلا اور طہارت کے وہ آداب سکھائے جن سے آج کی بڑی بڑی متمدن قومیں بھی نا آشنا ہیں۔

اصل میں ایک ہوتی ہے صفائی اور ایک ہوتی ہے پاکی۔ یہ دو چیزیں ہیں۔ صفائی بھی ضروری ہے اور پاکی بھی ضروری ہے۔ صفائی جسم کے لیے ضروری ہے اور پاکی روح کے لیے ضروری ہے۔ صفائی جسم کے لیے ضروری ہے اور پاکی روح کے لیے ضروری ہے۔ اگر پاک چیز نہ ہو، اس کو آپ اس کو استعمال کر لیں تو اس سے آپ کی روح کو نقصان ہوتا ہے، اور اگر صاف چیز نہیں ہو تو آپ کے جسم کو نقصان ہو سکتا ہے۔ تو اس وجہ سے صفائی ستھرائی دونوں پر شریعت نے زور دیا ہے۔ صفائی میں یہ والی بات بتائی جیسے اپنے گھروں کے سامنے وہ کچرا وچرا نہ ڈالو، کوئی اس طرح یہ جو بات ہے جیسے یہود کرتے ہیں۔ تو یہ صفائی کا ایک وہ تھا، اور اس طریقے سے یعنی جمعہ کے غسل کا جو ہے، اس طرح اور ہم لوگ جو نماز کے لیے وضو کرتے ہیں، تو اس میں بھی صفائی سب آ جاتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ پاکی بھی شامل ہوتی ہے۔ یعنی مثال کے طور پر بعض دفعہ ایسی چیز ہوتی ہے کہ وہ چیز پاک نہ ہو لیکن صاف کرنے والی ہو۔ تو اس سے وہ چیز صاف تو ہو جائے گی لیکن پاک نہیں ہوگی۔ تو جسم کا فائدہ تو ہو سکتا ہے لیکن روح کا نقصان ہو جائے گا۔ تو نماز کے اندر بالخصوص اور پھر عام حالات میں بھی، ایسے طریقے اختیار کرنا جن سے صفائی بھی حاصل ہو اور جن سے پاکی بھی حاصل ہو، اسلام اس پر زور دیتا ہے۔

نجاستوں سے اپنے بدن، کپڑے اور مکان کو صاف رکھنے کی تعلیم دی، جو صحابہ طہارت کا اہتمام کرتے تھے خدا نے ان کی مدح فرمائی:

﴿فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُوا ۚ وَاللهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ﴾

(سورۃ التوبہ: 108)

"اس مسجد میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو پسند کرتے ہیں کہ وہ پاک و صاف رہیں، اور اللہ تعالیٰ پاک و صاف رہنے والوں کو پیار کرتا ہے۔"

دیکھیں پاکی بھی ہے، صفائی بھی ہے۔ پاک و صاف رہنے والوں کو ماشاءاللہ پیار کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ صفائی پسند بھی ہیں اور پاکی پسند بھی ہیں، تو اللہ جل شانہٗ کے نزدیک وہ ماشاءاللہ پیارے لوگ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ محبت فرماتے ہیں۔ وَاللهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ۔ تو یہ ان کے لیے ہے۔ یہ قباء مسجد کے جو نمازی تھے ان کے لیے یہ نازل ہوئی تھی۔ تو آپ ﷺ نے خصوصی طور پر ان سے پوچھا کہ آپ لوگ کون سا عمل کرتے ہیں جس کی وجہ سے یہ آیت آپ لوگوں کے لیے اتری ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم جب استنجاء کرتے ہیں تو اس سے پہلے ہم ڈھیلے کے ساتھ استنجاء خشک کرتے ہیں پھر پانی کے ذریعے سے ہم وہ طہارت کرتے ہیں۔

یعنی دونوں ڈبل چیزیں۔ یعنی پہلے مٹی کے ساتھ خشک کرنا استنجاء، اور پھر اس کے بعد پانی کے ذریعے سے۔ یعنی اس میں بہت زبردست، کیونکہ مٹی کے ساتھ استنجاء خشک کرنے کا (فائدہ) یہ ہوتا ہے کہ یہ تو کھڑے ہو کر بھی کیا جا سکتا ہے، تو اس سے پھر یہ خطرہ ختم ہو جاتا ہے کہ کوئی drop بعد میں آئے گا۔ اور پھر اس کے بعد آپ بیٹھ کر وہ پانی کے ساتھ بھی کر لیتے ہیں تو اس سے یہ ہوتا ہے کہ ماشاءاللہ پاکی بھی حاصل ہو گئی اور صفائی بھی حاصل ہو گئی اور ماشاءاللہ یہ اللہ تعالیٰ کو چونکہ بہت پسند ہے تو اللہ پاک نے ان کے لیے یہ آیتِ کریمہ اتاری۔

جب اسلام نے طہارت و پاکیزگی کو خدا کے پیار کرنے کا ذریعہ ٹھہرایا تو اس نعمت سے محرومی کو کون پسند کر سکتا ہے؟

3۔ نماز کا تیسرا فائدہ یہ ہے کہ وہ انسان کو اپنے جسم اور اعضاء کے پاک اور ستھرا رکھنے پر مجبور کرتی ہے، دن میں عموماً پانچ دفعہ ہر نمازی کو منہ ہاتھ پاؤں جو اکثر کھلے رہتے ہیں ان کے دھونے کی ضرورت پیش آتی ہے، ناک میں پانی ڈال کر ناک صاف کرنی ہوتی ہے، ایک بڑے ڈاکٹر نے مجھ سے یہ کہا کہ آج کل کے جراثیم کے نظریہ کی بناء پر بہت سی بیماریاں ناک کی سانس کے ذریعہ جراثیم کے بدن کے اندر جانے سے پیدا ہوتی ہیں اور ناک کے نتھنوں کو پانی ڈال کر صاف کرنے سے یہ جراثیم دور ہوتے ہیں۔

بہت ساری باتیں ابھی کھلتی ہیں مطلب کھل رہی ہیں۔ ہم لوگ اس کے لیے نہیں کر رہے، کیونکہ چودہ سو سال پہلے تو یہ چیزیں نہیں معلوم تھیں لوگوں کو۔ ہم لوگ اس کے لیے نہیں کر رہے کہ ہمیں یہ فائدے ہوں گے تو پھر ہم کریں گے۔ لیکن یہ فائدے بطور اضافی فائدوں کے خود بخود حاصل ہو ہی جاتے ہیں۔ ہم جو نماز پڑھتے ہیں اس کے اندر اللہ پاک نے ایسی چیزیں رکھی ہوئی ہیں جن کی ضرورت اب ڈاکٹر لوگ لوگوں کو بتاتے ہیں کہ اس طرح کرو، اس طرح کرو، اس طرح کرو۔ تو اس سے یہ فائدہ ہو گا، اس سے یہ فائدہ ہو گا، اس سے یہ فائدہ ہو گا۔ لیکن ہمارے لیے نماز کے اندر وہ اللہ تعالیٰ نے وہ خوبیاں خود ہی رکھی ہیں۔ خود ہی رکھی ہیں۔ تو اگرچہ ہم لوگ یہ چیزیں لوگوں کو نہیں بتاتے، تاکہ لوگ صرف اس مقصد کے لیے نہ کریں کیونکہ پھر ظاہر ہے وہ اخلاص والی بات نہیں حاصل ہو گی۔ لیکن بہرحال اس کے جو اپنے فوائد ہیں، وہ ہیں تو صحیح۔ وہ اگر ہم لوگ اس نیت سے نہ بھی کریں، پھر بھی وہ چیزیں یہاں تو ہمیں حاصل تو ہوں گی نا۔

ذرا یعنی مثال کے طور پر میں وضو کرتا ہوں اور وضو کرنے سے میرا چہرہ جو دھلتا ہے، اس سے مجھے بالخصوص کچھ فوائد حاصل ہوتے ہیں medically۔ جن کا مجھے علم نہیں ہے۔ تو کیا اگر مجھے علم نہ ہو تو فائدے مجھے حاصل نہیں ہوں گے؟ پھر بھی حاصل ہوں گے۔ اگرچہ مجھے ان کا پتہ نہیں ہو گا۔ لیکن بہرحال وہ فائدے تو ہمیں حاصل ہوں گے۔ تو مسلمان جو ہیں اس کو اللہ کا حکم سمجھ کر کرتے ہیں اور ان کو فائدے ویسے ہی ساتھ حاصل ہو جاتے ہیں۔

دنیا میں اسلام کے سوا اور کوئی مذہب نہیں ہے جس نے ناک میں پانی ڈالنا ضروری قرار دیا ہو، حالانکہ طبی حیثیت سے یہ سب سے زیادہ ضروری چیز ہے، اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے احکام کس قدر طبی اصول پر مبنی ہیں، نمازوں کو پنج وقتہ وضو کی ہدایت کی اہمیت اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم نازل ہوا، اس ملک میں جہاں پانی سب سے زیادہ کمیاب ہے۔ اہل عرب اور خصوصاً بدو دانتوں کو بہت کم صاف کرتے ہیں، جس سے گندہ دہنی اور بدنمائی کے علاوہ طرح طرح کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں، آنحضرت ﷺ نے ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کی اتنی تاکید فرمائی ہے کہ گویا وجوب کے قریب پہنچ گئی اور فرمایا کہ "اگر میری امت پر یہ شاق نہ گزرتا تو میں اس کو ضروری قرار دیتا"۔

اسی پانی کی کمی کی وجہ سے اہل عرب نہاتے کم تھے، ان کے کپڑے عموماً اون کے ہوا کرتے تھے، وہ محنت مزدوری کرتے تھے جس سے پسینہ میں شرابور ہو جاتے تھے اور چونکہ ایک ایک کپڑے کو ہفتوں پہنے رکھتے تھے، اس لئے جب مسجد میں نماز پڑھنے آتے تو ان کے بدن اور کپڑوں سے بدبو آتی تھی، اس بناء پر اسلام نے ہفتہ میں کم از کم ایک مرتبہ جمعہ کو نماز سے پہلے غسل کرنا اور نہانا مستحب و واجب کر دیا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا:

﴿غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلٰى كُلِّ مُحْتَلِمٍ﴾

(صحیح بخاری، کتاب الجمعۃ)

جمعہ کے دن نہانا ہر بالغ پر ضروری ہے۔

اسی کے ساتھ اس دن دھلے ہوئے کپڑے پہننا، خوشبو ملنا اور صفائی و نظافت کے دوسرے امور کو مستحسن قرار دیا، بعض حالات میں غسل کرنا فرض قرار دیا، جس کے بغیر کوئی نماز ممکن ہی نہیں، فرمایا:

﴿وَإِن كُنتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا﴾

(سورۃ المائدہ: 6)

اور اگر تم ناپاک ہو گئے ہو تو نہا کر اچھی طرح پاک ہو جاؤ۔

یہاں پر بھی ذرا ہم ذرا دیکھیں تو ایک طرف وہ یورپ کا جو علاقہ ہے جہاں پر باقاعدہ ہفتوں نہیں، مہینوں لوگ نہیں نہاتے تھے۔ بلکہ سالوں۔ اور وہ عطر کے ذریعے سے اس کی compensation کرتے تھے۔ عطر اپنے جسم پر ملتے تھے تاکہ ان کے ان کے جسم سے بدبو نہ آئے، لیکن نہاتے نہیں تھے۔ نہانا ان کو ترکوں نے سکھایا ہے۔ جب ترک یورپ پر قابض ہو گئے۔ اور spain نے سکھایا ہے۔ جب spain میں مسلمان آباد ہو گئے۔ ایسی صورت میں ان لوگوں نے نہانا سیکھا ہے۔ پہلے ان کو نہانا آتا ہی نہیں تھا، نہانے کی طرف ان کا دھیان ہی نہیں تھا۔ تو یہ جو مطلب نظافت والی جو بات ہے، یہ مسلمانوں نے ان کو سکھائی ہے۔ ان کے ہاں اس بات کی نہیں، جبکہ مطلب دیکھیں نا ایسی جگہ جہاں پانی کی بھی کمی تھی۔ اور جہاں اس قسم کے حالات تھے وہ چودہ سو سال سے وہ چیز چلی آ رہی تھی۔

صفائی اور پاکی: جسم اور روح کی ظاہری و باطنی پاکیزگی - درسِ سیرۃ النبی ﷺ - دوسرا دور