واقعہ اعرابی: نبی کریم ﷺ کا حسنِ اخلاق اور دینی بیان میں رجوع و تصحیح کی اہمیت

درس نمبر 117- باب فی الیقین والتوکل - اشاعتِ اول: 15 نومبر، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

·       غزوہ ذات الرقاع میں اعرابی کا رسول اللہ ﷺ پر تلوار اٹھانے کا واقعہ

·       نبی کریم ﷺ کا اللہ پر کامل توکل اور اعرابی سے عفو و درگزر

·       اعرابی کا آپ ﷺ سے جنگ نہ کرنے کا معاہدہ اور آپ ﷺ کی عظمت کا اعتراف

·       گزشتہ دروس میں ہونے والی ترجمے کی غلطی کی نشاندہی اور برملا تصحیح

·       حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا واقعہ: محاسبے اور اصلاح پر خوشی کا اظہار

·       اعرابی کے قبولِ اسلام اور اپنی قوم کی ہدایت کا ذریعہ بننے کی تاریخی روایت

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

وَفِي رِوَايَةِ أَبِیْ بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيْلِیِّ فِي صَحِيحِهٖ قَالَ: "مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّیْ؟" قَالَ: "اللهُ". قَالَ: فَسَقَطَ السَّيْفُ مِنْ يَدِہٖ، فَأَخَذَ رَسُوْلُ اللهُ ﷺ السَّيْفَ فَقَالَ: "مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّیْ؟" فَقَالَ: "كُنْ خَيْرَ آخِذٍ". فَقَالَ: "تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَأَنِّیْ رَسُوْلُ اللهُ؟" قَالَ: "لَا، وَلَكِنِّیْ أُعَاهِدُكَ أَنْ لَا أُقَاتِلَكَ، وَلَا أَكُوْنَ مَعَ قَوْمٍ يُقَاتِلُونَكَ". فَخَلّٰى سَبِيْلَهُ، فَأَتَى أَصْحَابَهُ فَقَالَ: "جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ خَيْرِ النَّاسِ".

اس کا ترجمہ کل ہوا تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ

"حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ نجد کے علاقے کی طرف رسول اللہ ﷺ کی معیت میں جہاد کرنے گئے جب لوٹے تو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ لوٹے، کثیر خاردار درختوں کی وادی سے گزر رہے تھے کہ قیلولہ کا وقت ہو گیا چنانچہ رسول اللہ ﷺ اتر پڑے، لوگ درختوں کے سائے میں منتشر ہو گئے، رسول اللہ ﷺ بھی کیکر کے درخت کے نیچے نازل ہوئے تلوار کو درخت کے ساتھ لٹکایا، ہم تھوڑی دیر کے لئے سو گئے، اچانک ہم نے سنا رسول اللہ ﷺ ہمیں پکار رہے ہیں اور آپ ﷺ کے پاس ایک اعرابی تھا، آپ ﷺ نے بتایا اس نے میری تلوار میرے اوپر نیام سے نکال لی جب کہ میں سویا ہوا تھا میں نیند سے بیدار ہوا تو میں نے دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں ننگی تلوار تھی اور مجھ سے کہہ رہا تھا کہ مجھ سے تجھے کون بچا سکتا ہے؟ میں نے جواب دیا اللہ بچائے گا تین بار کہا، آپ ﷺ نے اس اعرابی کو کوئی سزا نہ دی۔"

ایک روایت میں حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ ہم غزوہ ذات الرقاع میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، جب ہم ایک سائے دار درخت کے پاس سے گزرے تو ہم نے اس کو رسول اللہ ﷺ کے لئے چھوڑ دیا، ایک آدمی مشرکوں میں سے آیا رسول اللہ ﷺ کی تلوار درخت کے ساتھ آویزاں تھی اس نے تلوار کو نیام سے باہر نکالتے ہوئے کہا کیا تم مجھ سے ڈرتے ہو؟ آپ ﷺ نے کہا نہیں، پھر اس نے کہا تم کو مجھ سے کون بچا سکتا ہے؟ فرمایا اللہ! چنانچہ تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی، رسول اللہ ﷺ نے تلوار کو پکڑتے ہوئے فرمایا کون تجھ کو مجھ سے بچا سکتا ہے؟ اس نے کہا آپ ﷺ بہترین پکڑنے والے بن جائیں، آپ ﷺ نے کہا کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ﷺ ہوں؟ اس نے جواب دیا نہیں لیکن میں تجھ سے معاہدہ کرتا ہوں کہ تم سے جنگ نہیں کروں گا اور نہ ہی کسی ایسی جماعت میں شریک ہوں گا جو تیرے ساتھ جنگ و جدال کر رہے ہوں، آپ ﷺ نے اس کو رہا فرما دیا۔ وہ اپنے ساتھیوں کے پاس آ کر کہنے لگا میں بہترین انسان کے پاس سے تمہارے پاس آیا ہوں۔

ایک تصحیح:

گزشتہ دو دروس میں غزوہ ذات الرقاع کے مشہور واقعے کے بیان میں ترجمے کی حد تک ایک غلطی واقع ہو گئی تھی۔ حدیث کے آخری الفاظ "فَأَتَى أَصْحَابَهُ فَقَالَ: جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ خَيْرِ النَّاسِ" کی وضاحت میں روانیِ بیان کے دوران یہ تاثر چلا گیا تھا کہ گویا رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام کے پاس تشریف لا کر اس اعرابی کے متعلق فرمایا ہو کہ "میں تمہارے پاس ایک بہترین انسان کے پاس سے آیا ہوں"۔ جبکہ درست مفہوم یہ ہے کہ یہ قول آپ ﷺ کا نہیں، بلکہ اس اعرابی کا ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے اسے معاف فرما دیا تو اس اعرابی نے اپنے ساتھیوں (قبیلے والوں) کے پاس جا کر رسول اللہ ﷺ کے متعلق کہا تھا کہ "میں ایک بہترین انسان (یعنی محمد ﷺ) کے پاس سے تمہارے پاس آیا ہوں"۔ ذیل میں پیش کیے گئے آج کے درس میں اسی غلطی کی باقاعدہ نشاندہی کر کے اس کی تفصیلی تصحیح کی گئی ہے۔ اور گذشتہ دروس میں بھی اسے ایڈیٹ کرکے درست کر دیا گیا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب

اصل میں یہاں ترجمے میں جو روانی ہے اس میں غلطی ہوئی تھی، جس کی میں نشاندہی کرنا چاہتا ہوں۔ اور یہ مجھے کسی نے بتا دیا۔ سبحان اللہ! یہ اللہ کا شکر ہے، الحمد للہ کہ بتانے والے بتا دیتے ہیں۔ اور وہ یہ ہے کہ آپ ﷺ کی طرف نہیں ہے بلکہ یہ اس کی طرف ہے۔ یعنی جو اعرابی ہے، کہ اعرابی اپنے ساتھیوں کے پاس آ کر کہنے لگا کہ میں بہترین انسان کے پاس سے تمہارے پاس آیا ہوں۔

اور اصحاب کا چونکہ ہمارے ذہن میں یہ ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کے اصحاب، تو عربی میں اصحاب کا لفظ ہے۔ تو اس میں یہ بات ہے کہ ذرا اس کی تصحیح فرمائیں کہ یہ اصل میں آپ ﷺ کا قول نہیں ہے، بلکہ اس اعرابی کا قول ہے جس میں اس نے بتایا تھا کہ میں بہترین انسان کے پاس سے تمہارے پاس آیا ہوں۔

اس کی تصحیح کرنی ضروری تھی۔ چونکہ گزشتہ دو درسوں میں یہ بات آئی تھی تو لہٰذا چونکہ بات آپ ﷺ کے ساتھ ہے، تو اس وجہ سے اس کی تصحیح بہت ضروری ہے۔

اس پر اللہ پاک کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جیسے ایک دفعہ پوچھا تھا اپنے ساتھیوں سے، یعنی جو صحابہ تھے کہ اگر میں تمہیں غلط چیز کے بارے میں حکم دوں اور ایسا کروں، ایسا کروں تو تم کیا کرو گے؟ تو ایک صحابی اٹھے کہ ہم تلوار سے تمہیں سیدھا کر لیں گے۔ تو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خوشی کا اظہار فرمایا کہ اللہ کا شکر ہے کہ میرے ساتھیوں میں ایسے لوگ ہیں جو مجھے غلطی پر نہیں رہنے دیں گے۔ جو مجھے غلطی پر نہیں رہنے دیں گے۔ تو یہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت کا نظام ہے کہ اللہ پاک جن کی حفاظت کرتے ہیں، تو ان کے لیے ذرائع مہیا فرما دیتے ہیں۔ تو الحمد للہ، اللہ کا شکر ہے کہ ساتھیوں نے اس سلسلے میں نشاندہی فرمائی اور یہ قول جو ہے یہ کہ "میں میں بہترین انسان کے پاس سے تمہارے پاس آیا ہوں"، یہ قول اعرابی کا ہے۔

بعض حضرات نے تو یہاں تک اس کو چھوڑا ہے، لیکن بعد میں، بعض حضرات کا یہ قول ہے کہ اعرابی مسلمان ہو گیا تھا۔ مطلب جیسے علامہ واقدی رحمۃ اللہ علیہ جو فرماتے ہیں کہ وہ مسلمان ہو گیا تھا، پھر اپنی قوم میں گیا اور وہاں سے اس کی برکت سے بہت سے لوگوں کو ہدایت نصیب ہوئی۔ لیکن چونکہ ایک تاریخی بات ہے تو اس کا تو ہمارے ساتھ تعلق نہیں ہے، وہ تو جو بھی بات ہو گی اللہ تعالیٰ کو پتہ ہے۔ لیکن بہرحال چونکہ معاملہ جہاں تک آپ ﷺ کے ساتھ ہے، اس میں تحقیق ضروری ہے چونکہ یہ آپ ﷺ کی شخصیت کے ساتھ تعلق رکھنے والی بات ہے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ. رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلمِينَ.




واقعہ اعرابی: نبی کریم ﷺ کا حسنِ اخلاق اور دینی بیان میں رجوع و تصحیح کی اہمیت - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور