اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،
أَمَّا بَعْدُ، فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔
قَوْلُهُ: قَفَلَ أَيْ رَجَعَ وَالْغَزَاةُ: الشَّجَرُ الَّذِي لَهُ شَوْكٌ. وَالسَّمُرَةُ بِفَتْحِ السِّينِ وَضَمِّ الْمِيمِ الشَّجَرَةُ مِنْ طَلْحٍ وَهِيَ الْعِظَامُ مِنْ شَجَرِ الْعِضَاهِ. وَاخْتَرَطَ السَّيْفَ أَيْ سَلَّهُ وَهُوَ فِي يَدِهٖ صَلْتًا أَيْ مَسْلُولًا وَبِفَتْحِ الصَّادِ وَضَمِّهَا...
یہ بات پرسوں سے چل رہی ہے اس حدیث شریف کی۔ جس میں جو روایت ہے کہ آپ ﷺ قیلولہ فرما رہے تھے اور ایک اعرابی آیا اور اس نے تلوار نیام سے نکالی، اور آپ ﷺ سے کہا کہ کیا آپ مجھ سے ڈرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں! تو مجھ سے تجھے کون بچا سکتا ہے؟ میں نے جواب دیا: اللہ! تو تین بار کہا۔
آپ ﷺ نے اس کو کوئی سزا نہیں دی۔ آپ ﷺ نے ان پر دعوت پیش کی اسلام کی، تو اس نے کہا کہ میں مسلمان تو نہیں ہونا چاہتا لیکن میں آپ کے خلاف بھی نہیں ہوں گا۔ آپ کے خلاف لڑوں گا نہیں۔ اور کسی ایسے گروپ میں شامل نہیں ہوں گا جو آپ کے خلاف لڑ رہا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ وہ شخص چاہے مسلمان نہیں ہوا لیکن وہ اپنے عہد کی پاسداری کا کہہ رہا تھا۔ تو عہد کی پاسداری اس سے اس کا پتہ چلتا ہے کہ کتنی اہم چیز ہے، کہ اگر کافر میں بھی ہو تو یہ قابلِ تعریف بات ہے۔
اس لیے فرماتے ہیں نا کہ اَلْحِكْمَةُ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ۔ دانائی کی بات مسلمان کی گمشدہ میراث ہے۔ جہاں سے وہ ملے تو وہ لے۔ تو یہ بات بھی ایسی ہے کہ جو صفات کافروں میں بھی اچھی ہیں اور وہ اسلام میں مطلوب ہوں، تو وہ لینی چاہئیں۔ جیسے شجاعت ہے۔ اگر کافر میں بھی شجاعت ہے تو شجاعت تو اچھی بات ہے۔ تو یہ اس کی طرف ہے۔
آپ ﷺ کے شجاعت اور توکل علی اللہ کا ایک سبق آموز واقعہ
ذات الرقاع : یہ غزوہ 6ھ میں ہوا تھا۔ ذات الرقاع ایک پہاڑ کا نام ہے اسی وجہ سے اس غزوہ کو بھی ذات الرقاع کہتے ہیں۔ بعض نے کہا کہ رقاع کہتے ہیں کپڑے کے ٹکڑے کو، جوتوں کے فقدان کی وجہ سے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے اپنے پاؤں میں کپڑوں کے جوتے لپیٹے تھے اس لئے اس کا یہ نام پڑ گیا۔
یعنی دیکھیں ان کے ہاں اس قسم کی بہت زیادہ چیزیں نہیں تھیں۔ اس کا اگر تھوڑا سا نمونہ اس دور میں ہے تو یہ افغان طالبان جو تھے۔ یعنی ان میں بھی بعض کے پاؤں میں، ایک پاؤں میں الگ جوتا تھا اور دوسرے پاؤں میں الگ۔ اور چپل پہنے ہوئے وہ لڑائی لڑ رہے ہیں۔ اس قسم کی باتیں بھی ہوئی ہیں۔ یعنی لڑائی کس چیز سے لڑی جاتی ہے؟ یہ اس جنگ نے اس میں بہت کچھ سمجھا دیا۔ مثال کے طور پر وہ کہتے ہیں بھئی صرف pant میں لڑی جا سکتی ہے تو طالبان کو دیکھو کیا وہ pant پہنے ہوئے تھے؟ اور pant، jacket یہ چیزیں ان کے پاس نہیں تھیں۔ تھیں کدھر، ان کے پاس نہیں تھیں۔ لیکن کن کے ساتھ لڑے؟ جن کے پاس اتنا زبردست kit ہوتا تھا کہ اس میں ہر قسم کی facilitation، دور دیکھنے کی، قریب دیکھنے کی، قریب سے مارنے کی، دور سے مارنے کی۔ ہاں اور کھانے پینے کی، پتہ نہیں کیا کیا چیزیں، ایسے kit میں کیا کیا چیزیں ہوتی ہیں؟ (کھانے کی اور ڈرائی فروٹس) ہاں ڈرائی فروٹس بھی۔ (پانی کی بوتل اور شارٹ، وہ تین دن کے لیے نا تھوڑی سی چیز ہوتی، ایک کلو میں ان کا وہ گزارا کر لیتے ہیں۔)
اور اس طرح اور حفاظت کے بہت سارے سامان ہوتے ہیں، سامنے کو بچانے کے لیے، سر کو بچانے کے لیے، مطلب اچھا خاصا مطلب ان کی protection ہوتی ہے۔ تو ان کے ساتھ لڑائی تھی۔ اور اِدھر یہ لوگ، بے سروسامان۔ لیکن صبر اور استقلال -سبحان اللہ- تو آخر میں اتنا رعب آ گیا ان کا، ان کے اوپر، کہ دو آدمی پورے battalion کو روکے ہوئے ہیں۔ تو یہ کیا بات تھی؟ یہی اصل بات تھی، تو فرمایا کہ۔۔۔
عِنْدَهُ اَعْرَابِيٌّ: اس دیہاتی آدمی کا نام اکثر محدثینؒ نے غورث بن الحارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا ہے۔
مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قُلْتُ: اللهُ ثَلَاثًا: ترجمہ: تجھے میرے ہاتھ سے کون بچائے گا آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا: اللہ۔
اس حدیث پاک میں محبوب رب العالمین کی شان یقین و توکل علی اللہ اور شجاعت امت کے لئے ایمان افروز اور سبق آموز ہے غور کریں شدید ترین جان کے خطرہ کے باوجود کہ ظاہری حالات کے اعتبار سے برہنہ تلوار ہاتھ میں لئے خون کا پیاسا دشمن سر پر کھڑا ہے، ان حالات کے باوجود ذرہ برابر خوف وہراس اور گھبراہٹ آپ ﷺ کے پاس تک نہیں بھٹکتی اور نہایت اطمینان و سکون اور دلجمعی کے ساتھ جواب دیا، وہ شخص توکل علی اللہ کے رعب اور صبر و استقلال کے سبب اور ایمان باللہ کے سکون واطمینان کی طاقت سے مرعوب ہو کر وہ خون کا پیاسا خائف ہو کر لرزنے لگا اور تلوار اس کے ہاتھ سے گرگئی۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ، وہ ایک دفعہ کوئی سفیر ان سے ملنے آیا۔ تو ظاہر ہے وہ تو اپنے بادشاہوں کو دیکھ چکے تھے۔ پوچھا جی آپ کے خلیفہ کون سے محل میں رہتے ہیں؟ انہوں نے کہا ہمارے خلیفہ تو محل میں نہیں رہتے۔ کدھر رہتے ہیں؟ کہتے ہیں جائیں ادھر جائیں کسی درخت کے نیچے شاید سو رہے ہوں۔ تو وہ حیران ہو گئے یہ کیسا ہو سکتا ہے؟ کہا: مجھے لے جاؤ۔ تو ادھر لے گئے۔ تو واقعی کسی پتھر کے اوپر سر رکھ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ سو رہے تھے۔ تو وہ ان کے قریب بھی نہیں جا سکے ادھر دور سے لرزنے لگے۔ اب ایک سوئے ہوئے شخص سے لرزنے کا کیا مطلب؟ ایک شخص جو سویا ہوا ہے اس سے لرزنے کا کیا مطلب؟ وہ ان کے اس حوصلے سے لرز رہا ہے۔ کہ ان کو اتنا اطمینان ہے کہ کوئی فکر ان کو نہیں اور وہ آرام کے ساتھ سو رہے ہیں۔ تو یہ کیا بات ہے؟ وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ فَهُوَ حَسْبُهُ۔ یہ اس کی بہترین تشریح ہے۔ کہ جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اس کے لیے اللہ کافی ہو جاتا ہے۔ اب اس کے لیے shield اور اس کے لیے کیا اور فلاں فلاں چیزیں، یہ جتنی چیزوں کی requirement ہے لوگوں کی نظروں میں، اللہ پاک اپنی طرف سے اس کی protection فرماتے ہیں، اس کے لیے وہ کافی ہو جاتے ہیں۔
کن خیر آخذ: آپ ﷺ بہترین تلوار اٹھانے والے بن جائیں۔ اس میں آپ ﷺ کی رحمت و عفو درگزر کا سبق ملتا ہے کہ اس خون کے پیاسے سے انتقام لینے کے بجائے آپ ﷺ نے فوراً معاف فرما دیا۔
اعرابی مسلمان ہو گیا تھا
فَقَالَ تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ قَالَ لَا: آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں اس اعرابی نے کہا کہ نہیں۔
اس روایت سے تو معلوم ہورہا ہے کہ وہ اعرابی مسلمان نہیں ہوا تھا مگر علامہ واقدیؒ نے کہا ہے وہ مسلمان ہو گیا تھا اور پھر وہ اپنی قوم میں گیا وہاں اس کی برکت سے بہت سے لوگوں کو ہدایت نصیب ہوئی۔
تخریج حدیث: صحيح بخارى، كتاب الجهاد، (باب من علّق سيفه بالشجر فى السفر)، وكتاب البخارى (باب غزوة ذات الرقاع)، صحيح مسلم كتاب الفضائل (باب توكله ﷺ على الله تعالى وعصمة الله تعالى له من الناس). واخرجه امام احمد فى مسنده 14341/5، ابن حبان 2883، والبيهقى 319/6۔
اللہ جل شانہٗ ہم سب کو جیسا توکل چاہیے وہ نصیب فرما دے۔ آمین۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔