ایمان کی حقیقت اور کفر سے براءت (تبریٰ)

دفتر اول: مکتوب نمبر 266 (حصہ نہم ) - اشاعتِ اول: 17 جنوری، 2018

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

آج بدھ کا دن ہے۔ بدھ کے دن ہمارے ہاں حضرت مجدد الف ثانی رحمة الله عليه کی مکتوبات شریف کا درس ہوتا ہے۔ یہ شہرہ آفاق مکتوبات شریف ہیں اور اس میں علوم بہت زیادہ اللہ تعالیٰ نے ماشاءاللہ ہم تک پہنچانے کا انتظام فرمایا ہے حضرت کی برکت سے۔

عقائد کی بات چل رہی ہے،

عقیدہ نمبر 18:

فرشتے خداوند جل سلطانہٗ کے بندے ہیں جو گناہوں سے پاک اور خطا و نسیان (بھول چوک) سے بھی محفوظ ہیں (جیسا کہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿لَا يَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَآ أَمَرَهُـمْ وَ يَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ﴾ (التحریم: 6) ترجمہ: ”اللہ کے کسی حکم میں اس کی نافرمانی نہیں کرتے، اور وہی کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے“۔ وہ کھانے پینے سے اور مرد و زن ہونے سے منزہ اور مبرا ہیں۔ قرآن مجید میں ان کے لئے مذکر ضمیروں کا استعمال اس اعتبار سے ہے کہ صنفِ ذکور کو صنفِ نساء کے مقابلہ میں شرف حاصل ہے چنانچہ حق سبحانہٗ و تعالیٰ نے اپنی ذات کے لئے بھی مذکر ضمیروں کا استعمال کیا ہے۔ حضرتِ حق سبحانہٗ و تعالیٰ نے بعض (فرشتوں) کو رسالت کے لئے منتخب کیا ہے جیسا کہ بعض انسانوں کو رسالت کی دولت سے مشرف فرمایا ہے (جیسا کہ ارشاد ہے) ﴿اَللّٰهُ يَصْطَفِىْ مِنَ الْمَلَآئِكَـةِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِ﴾ (الحج: 75) ترجمہ: ”اللہ فرشتوں میں سے بھی اپنا پیغام پہنچانے والے منتخب کرتا ہے اور انسانوں میں سے بھی“۔

جمہور علماء اہل حق اس بات پر متفق ہیں کہ "خاص انسان خاص فرشتوں سے افضل ہیں"۔ امام غزالی اور امام الحرمین اور صاحبِ فتوحاتِ مکیہ رحمہم اللہ تعالیٰ اس بات کے قائل ہیں کہ خاص فرشتے خاص انسانوں سے افضل ہیں۔ جو کچھ اس فقیر پر ظاہر کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ فرشتہ کی ولایت نبی علیہ الصلوۃ و السلام کی ولایت سے افضل ہے لیکن نبوت و رسالت میں نبی کے لئے ایسا درجہ ہے کہ جس تک فرشتہ نہیں پہنچا ہے اور وہ درجہ عنصر خاک کی وجہ سے ظاہر ہوا ہے جو بشر کے ساتھ مخصوص ہے۔ اس فقیر پر یہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ "کمالاتِ ولایت" کمالاتِ نبوت" کے مقابلے میں کسی گنتی میں نہیں ہیں، کاش کہ ان کے درمیان وہ نسبت ہی ہوتی جو قطرے کو دریائے محیط کے ساتھ ہے، مگر ایسا نہیں ہے۔ پس وہ فضیلت جو نبی کو نبوت کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے وہ اس فضیلت سے کئی گنا زائد ہے جو ولایت کی وجہ سے حاصل ہو، لہذا "فضیلتِ مطلق" انبیائے کرام علیہم الصلوات و التسلیمات کا حصہ ہے اور جزئی فضیلت ملائکہ کرام کے لئے ہے۔ پس درست وہی ہے جو علمائے کرام شَکَرَ اللّٰہُ تَعَالٰی سَعْیَہُم نے فرمایا ہے۔

اس تحقیق سے یہ ظاہر ہو گیا کہ انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات کے درجات میں سے کسی نبی کے درجے تک کوئی ولی نہیں پہنچتا بلکہ اس ولی کا سر ہمیشہ اس نبی کے قدم کے نیچے ہوتا ہے۔

جاننا چاہیے کہ ان مسائل میں سے ہر ایک مسئلے میں جن میں علماء اور صوفیہ کا اختلاف ہے، جب اچھی طرح غور اور ملاحظہ کیا جاتا ہے تو حق علماء کی جانب معلوم ہوتا ہے اور اس کا راز یہ ہے کہ علماء کی نظر نے انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات کی متابعت کے باعث نبوت کے کمالات اور اس کے علوم میں نفوذ کیا ہے، اور صوفیہ کی نظر ولایت کے کمالات اور اس کے معارف تک محدود رہتی ہے۔ لہذا وہ علم جو نبوت کی مشکوٰۃ سے حاصل کیا جائے وہ لازمًا اس علم سے جو مرتبہ ولایت سے اخذ کیا گیا ہو کئی درجے زیادہ صحیح اور حق ہو گا۔

ان معارف میں سے بعض کی تحقیق اس مکتوب (دفتر اول مکتوب 260) میں جو فرزندِ ارشدی (خواجہ محمد صادق رحمۃ اللہ علیہ) کے نام طریقے کے بیان میں لکھا ہے، درج ہو چکی ہے، اگر کچھ دقت اور پوشیدگی رہ گئی ہو تو اس (مکتوب کی طرف) رجوع کریں۔


اچھا اس میں حضرت نے جو بات فرمائی ہے علماء کی اور صوفیاء کی جو بات کی۔ یہ ان صوفیاء کی بات نہیں جو علماء بھی تھے۔ جو علماء بھی تھے اور صوفیاء بھی تھے، تو ظاہر ہے ان پہ تو علماء کی تعریف بھی صادق آئے گی نا۔ تو وہ تو بات الگ ہے، جیسے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ اگرچہ ولی اللہ ہیں لیکن عالم بھی ہیں۔ لہٰذا ان کے اوپر یہ بات نہیں آئے گی۔ لیکن جو ولی اللہ تو ہیں اپنے عمل کی وجہ سے، تقویٰ کی وجہ سے، لیکن وہ عالم نہیں ہیں، تو ان کو جو معلومات ہوں گی، دو طریقے سے ہوں گی۔ یا وہ معلومات کسی عالم سے حاصل کی ہوں گی، تو اس پر بھی یہ بات نہیں آئے گی۔ اگر کسی عالم سے معلومات حاصل کی ہوں، تو پھر وہ، ان پر بھی یہ بات نہیں کیونکہ وہ تو بات عالم کی ہوگی نا۔ اس ولی کی بات تو نہیں ہوگی۔ صرف وہ بیان کرے گا لیکن بات تو عالم کی ہوگی۔ لیکن یا پھر کشف کی ہوگی۔ تو یہ جو بات کر رہے ہیں، کشف ظنی چیز ہے یا اس پہ بات آ سکتی ہے۔ یہی بات ہے نا؟ یا کسی عالم سے پوچھی ہوگی، کسی عالم کی کتاب میں پڑھی ہوگی، اور یا پھر کشف کی ہوگی۔

اب مجھے بتاؤ، کشف قطعی ہے یا ظنی ہے؟ ظنی ہے۔ اور نصوص ظنی ہیں یا قطعی ہیں؟ قطعی ہیں۔ تو قطعی کو ظنی پہ فضیلت ہے یا نہیں ہے؟ قطعی اور ظنی کے درمیان اگر مقابلہ آ جائے تو ترجیح کس کو دو گے؟ قطعی کو دیں گے۔ تو یہ بات ہے کہ علماء کو جو چیز ملی ہے وہ نصوص سے ملی ہے، نصوص سے۔ اور نصوص کیا ہیں؟ وہ قطعی ہیں۔ لہٰذا ان کی بات ظاہر ہے کہ اس کو فضیلت حاصل ہوگی اور وہ اٹل ہوگی۔ جبکہ اولیاء اللہ میں سے کشف سے جو جو بات کر رہے ہیں، کشف، ظنی چیز ہے، اس میں غلطی بھی ہو سکتی ہے۔ ظنی میں غلطی کیسے ہو سکتی ہے! بتاتا ہوں نصوص کی مثال ایسی ہے جیسے آپ کے سامنے کوئی چیز ذرا دیکھ رہے ہیں، اس طرح ہے۔ اس میں غلطی نہیں ہوتی۔

اور کشف اور الہام اس قسم کی چیزیں ہوتی ہیں کہ کشف جو ہوتا ہے وہ ایسے ہے جیسے آپ کسی دور سے ایک چیز کو دیکھ رہے ہیں۔

دور سے ایک چیز کو دیکھ رہے ہیں۔ دور سے ایک چیز کو دیکھ رہے ہیں۔

تو دور سے جو آپ چیز دیکھ رہے ہیں، اس میں ٹھیک ہے چیز صحیح ہو گی، لیکن آپ صحیح نہیں دیکھ رہے ہوں گے مثلاً۔ آپ چاند دیکھنا چاہتے ہیں، -کیونکہ ہمیں اس کا تجربہ ہے نا اس وجہ سے میں اس کی مثال دے رہا ہوں- آپ چاند دیکھنا چاہتے ہوں گے اور دور کوئی ٹہنی وہ اس طرح مڑی ہوگی، اس پہ سورج کی بھلے روشنی پڑ رہی ہوگی یا کوئی اور، وہ آپ کو چمک نظر آئے گی، آپ کہیں گے یہ تو چاند ہے۔ وہ چاند نہیں ہوگا۔ حالانکہ، آپ کی آنکھوں نے دھوکہ بھی نہیں اس لیے کھایا کہ وہ چیز موجود تو ہے جو ہے، اور آپ نے اس کو چاند ہی سمجھا، لیکن وہ چاند اس لیے نہیں کہ وہ اس سے دور ہے، غلطی لگ گئی۔

تو اس طرح کشف میں بھی غلطی ہو سکتی ہے۔ میں آپ کو اس کی ایک مثال دوں۔ حضرت مولانا یعقوب نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ، ان کا کشف بہت زبردست تھا۔ حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ بہت بیمار ہوئے۔ لوگوں نے ان سے پوچھا جی ان کے بارے میں آپ کا کشف کیا بتاتا ہے؟ فرمایا، کوئی بات نہیں ابھی دس سال ہیں۔ تو اسی بیماری میں فوت ہو گئے۔ 49 سال کی عمر۔ اس پر یہ لوگوں نے ان سے پوچھا کہ حضرت یہ کیا ہوا؟ فرمایا: مجھے کیا پتہ، میں نے تو ان کی طرف جو غور کیا تو مجھے مہدی کا نام مکشوف ہوا۔ مہدی کے جو الفاظ تھے اس کے ابجد 59 بنتے ہیں تو میں نے کہا کہ بس ٹھیک ہے۔ 59 سال ہیں تو ابھی 10 سال ہیں۔ حالانکہ وہ مہدی علیہ السلام کی عمر کے بارے میں بات تھی، وہ 49 سال ہوگی تو وہ، غلطی ہو گئی۔

اب دیکھو صرف Interpretation میں غلطی ہو گئی۔ یعنی غلطی Interpretation میں ہے، چیز دیکھنے میں نہیں ہے۔ تو Interpret کرنے میں تو غلطی ہوتی رہتی ہے۔ تو اس لیے جو ظنی چیز ہوتی ہے اب اس کا اعتبار نہیں ہوتا کیونکہ اس میں آپ کی جو اپنی سمجھ ہے وہ Involved ہے۔ کہ آپ اس کو کیسے سمجھتے ہیں۔ چیز آپ پر مکشوف ہو گئی، لیکن اس مکشوف سے آپ مطلب کیا لیتے ہیں؟ وہ کیونکہ اشارے سے ہوتے ہیں نا، ان اشاروں سے آپ نے کوئی بات سمجھنی ہے، تو لہذا اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ الہام کی بھی اس قسم کی بات ہے۔ کیونکہ الہام میں بھی جیسے اللہ پاک کی طرف سے الہام آتا ہے، شیطان کی طرف سے بھی آتا ہے۔ تو کبھی شیطانی الہام مطلب Mix ہو جاتا ہے۔ ہمارے حضرت کو اللہ پاک نے بڑی بصیرت عطا فرمائی تھی تو کبھی جب ہم خواب بتاتے حضرت کو، تو حضرت یہاں تک بتاتے کہ یہاں تک کا حصہ یہ تو صحیح ہے اور یہاں اس سے آگے شیطان کے چکر ہیں۔ شیطان نے درمیان میں گڑبڑ کی ہے۔ تو چلتا ہے، شیطان یہ کام نہیں کرے گا تو کیا کرے گا؟ اس کا کام ہی یہی ہے۔

تو لوگ جو ہے نا "إِذَا دَخَلَ دَخَلَ كُلُّهُ وَإِذَا خَرَجَ خَرَجَ كُلُّهُ" کی بات کرتے ہیں۔ یا خواب بالکل ٹھیک ہے یا بالکل غلط ہے، درمیان کی کوئی بات وہ نہیں جانتے۔ لیکن جو محققین ہوتے ہیں وہ اس چیز کو، بلکہ میں آپ کو بتاؤں موٹی سی بات ہے، کہ ہر چیز کو جائز کہنا اس کے لیے علم کی ضرورت نہیں ہے، ہر چیز کو ناجائز کہنا اس کے لیے بھی علم کی ضرورت نہیں ہے۔ علم کی ضرورت تب ہوتی ہے جب آپ حد بندی کریں، یہ جائز ہے، یہ ناجائز ہے، اور یہ جو جائز ہے یہ کہاں تک جائز ہے؟ اس سے آگے ناجائز ہے۔ اور اگر یہ ناجائز ہے تو کہاں تک ناجائز ہے؟ اس سے آگے جائز ہو جائے گا۔ اب یہ علم کی بات ہے۔ اس وجہ سے جو محققین ہوتے ہیں، ان کو واقعی صحیح علم کی ضرورت ہوتی ہے۔ باقی تو سارے اندازے لگانے والوں کے لیے علم کی کیا ضرورت ہے؟ وہ جو بھی کہہ دیں وہ کہہ سکتے ہیں۔

يَا كَرِيمُ!

عقیدہ نمبر 19:

ایمان سے مراد جو کچھ دینی امور سے متعلق ضرورت اور تواتر کے طریق پر ہم تک پہنچا ہے، اس کی دل سے تصدیق کرنا ہے۔ زبان سے اقرار کرنا بھی ایمان کا رکن ہے"إِقْرَارٌ بِاللِّسَانِ وَتَصْدِيقٌ بِالْقَلْبِ" جیسا کہ (علماء نے کہا ہے) کہ اس کے بغیر (ایمان کے) منہدم ہونے کا احتمال ہے۔ اس علامت کی تصدیق کفر پر تبرّی کرنا اور کافری سے اور جو کچھ کافری کے لوازم و خصائص ہیں جیسے زنار کا باندھنا اور اس کی مانند وغیرہ سے بے زاری کا اظہار کرنا ہے۔ اللہ سبحانہٗ کی پناہ! اگر کوئی تصدیق کا بھی دعویٰ کرے اور کفر سے بے زاری کا اظہار نہ کرے تو وہ دو دینوں کا تصدیق کرنے والا بن جائے گا جو ارتداد کے داغ سے داغ دار ہو گا اور حقیقت میں اس کا حکم منافق کے حکم میں ہے: ﴿لَآ إِلٰی هٰٓؤُلَآءِ وَ لَآ إِلٰی هٰٓؤُلَآءِ﴾ (النساء: 143)

نہ ادھر کے رہے، نہ ادھر کے۔

لہذا ایمان کی تحقیق میں کفر سے تبرّی (بے زاری کا اظہار) کئے بغیر چارہ نہیں۔ تبرّی کا ادنیٰ درجہ دل سے بے زاری کرنا ہے اور تبرّی کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ دل اور جسم دونوں سے ہو، اور تبرّی سے مراد حق جل و علا کے دشمنوں کے ساتھ دشمنی رکھنا ہے۔ خواہ دشمنی قلب سے ہو جب کہ ان سے نقصان پہنچنے کا خوف ہو، خواہ دل اور جسم دونوں سے ہو جب کہ ان سے ضرر کا خوف نہ ہو۔ آیۂ کریمہ: ﴿يَآ أَيُّهَا النَّبِىُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنَافِقِيْنَ وَ اغْلُظْ عَلَيْـهِـمْ﴾ "کفار اور منافقین سے جہاد کرو، ان کے ساتھ سختی سے پیش آؤ"

اس مضمون کی تائید کرتی ہے کیونکہ خدائے عز و جل کی محبت اور اس کے رسول علیہ و علی آلہ الصلوات و التسلیمات کی محبت ان کے دشمنوں کی دشمنی کے بغیر صورت پذیر نہیں ہوتی۔ اس جگہ یہ مصرع صادق آتا ہے۔ ع

تولی بے تبری نیست ممکن

ترجمہ:

حبِ حق کے واسطے ہے غیر سے نفرت ضرور


شیعہ (فرقہ) نے جو یہ قاعدہ اہلِ بیت کی محبت اور دوستی میں جاری کیا ہے اور تینوں خلفاء اور ان کے علاوہ اکثر صحابہ پر تبری کرنا اہل بیت کی دوستی کی شرط قرار دیا ہے، نا مناسب ہے کیونکہ دوستوں کی محبت کے لئے شرط ہے کہ ان کے دشمنوں سے تبری کی جائے، نہ کہ مطلق طور پر دشمنوں کے علاوہ دوسروں سے بھی ہو۔ کوئی عقل مند منصف اس بات کو تجویز نہیں کرتا کہ پیغمبر علیہ و علیہم الصلوات و التسلیمات کے اصحاب، پیغمبر علیہ و علیہم الصلوات و التسلیمات و التحیات کے اہل بیت کے دشمن ہوں، اور حالانکہ ان بزرگواروں نے آپ علیہ و علی آلہ الصلوۃ و السلام کی محبت میں اپنے اموال اور جانوں کو صرف کر دیا اور اپنی عزت و حکومت کو برباد کر دیا تو اہلِ بیت سے ان کی دشمنی کس طرح منسوب کی جا سکتی ہے، جب کہ نصِ قطعی سے آن سرور عالم علیہ و علیہم الصلوات و التسلیمات کے قرابت داروں کی محبت ثابت ہے۔ اور دعوت کی اجرت کو ان کی محبت قرار دیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿قُلْ لَّآ اَسْاَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِى الْقُرْبٰى ۗ وَ مَنْ يَّقْتَـرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَـهٗ فِيْـهَا حُسْنًا﴾

"آپ ان سے کہہ دیجیے کہ میں تم سے اہل قرابت کی دوستی کے علاوہ کوئی بدلہ نہیں چاہتا اور جو شخص ایک نیکی کمائے گا ہم اس کی نیکیوں کو اور زیادہ کر لیں گے"

اور حضرت ابراہیم خلیل الرحمٰن علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ و السلام کو جو یہ بزرگی حاصل ہوئی اور "شجرہ انبیاء" بن گئے۔ یہ سب اس حق تعالیٰ کے دشمنوں کے ساتھ (علی الاعلان) تبری کرنے کی وجہ سے ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِىٓ إِبْـرَاهِـيْمَ وَ الَّـذِيْنَ مَعَهٗ ۚ إِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِـمْ إِنَّا بُرَآءُ مِنْكُمْ وَ مِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللهِۖ كَفَرْنَا بِكُمْ وَ بَدَا بَيْنَنَا وَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَ الْبَغْضَآءُ أَبَدًا حَتّـٰى تُؤْمِنُـوْا بِاللہِ وَحْدَهٗ﴾ (الممتحنہ: 4) تمہارے لیے ابراہیم علیہ السلام میں اور ان لوگوں کے لیے جو ان کے ساتھ تھے عمدہ نمونہ ہے، جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا، ہم تم سے اور جن کی تم اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کرتے ہو، ان سے بیزار ہیں۔ اور ہم تمہارے منکر ہیں، اور ہم میں اور تم میں ہمیشہ کے لیے عداوت اور بغض ظاہر ہو گیا، جب تک تم اللہ واحد پر ایمان نہ لاؤ۔

اس فقیر کی نظر میں "رضائے حق جل و علا" حاصل کرنے کے لئے اس تبری (بے زاری) کے اظہار کے برابر کوئی عمل نہیں ہے۔ (یہ فقیر اپنے ذوق میں پاتا ہے کہ حضرت حق سبحانہٗ و تعالیٰ کو کفر و کافری کے ساتھ ذاتی عداوت ہے اور یہ آفاقی آلِہہ مثلًا لات و عزٰی اور ان کی پوجا کرنے والے ذاتی طور پر حق جل سلطانہٗ کے دشمن ہیں، اور دوزخ کا دائمی عذاب اس برے فعل کی سزا ہے۔ خواہش نفسانی کے آلہہ اور تمام برے اعمال یہ نسبت نہیں رکھتے کیونکہ ان کی عداوت اور غضب ذاتی نسبت سے نہیں ہے۔ اگر غضب ہے تو وہ صفات کی طرف منسوب ہے اور اگر عقاب و عتاب (عذاب و غصہ) ہے تو افعال کی طرف راجع ہے، لہذا دوزخ کا دائمی عذاب ان کے گناہوں کی سزا نہیں ہوئی بلکہ (حق تعالیٰ نے) ان کی مغفرت کو اپنی مشیت اور ارادے پر منحصر رکھا ہے۔

جاننا چاہیے کہ جب کفر اور کافروں کے ساتھ ذاتی عداوت تحقیق ہو چکی تو لازمًا رحمت و رافت جو "صفاتِ جمال" میں سے ہے آخرت میں کافروں کو نہ پہنچے گی، اور رحمت کی صفت ذاتی عداوت کو دور نہیں کرے گی، کیونکہ جو چیز ذات کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اس چیز کی نسبت جو صفت سے تعلق رکھتی ہے زیادہ قوی اور بلند ہے، لہذا مقتضائے صفت (صفت کے تقاضے) مقتضائے ذات کو تبدیل نہیں کر سکتے، اور یہ جو حدیثِ قدسی میں آیا ہے: "سَبَقَتْ رَحْمَتِيْ عَلٰی غَضَبِيْ"؂6 ترجمہ: ”میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی“۔ اس غضب سے مراد غضبِ صفاتی سمجھنا چاہیے جو گنہگار مومنوں کے ساتھ مخصوص ہے نہ کہ غضب ذاتی جو مشرکوں کے ساتھ مخصوص ہے۔

بہت گہری دلیل دی ہے، بہت گہری دلیل دی ہے۔

یہ آدمی حیران ہو جاتا ہے حضرت کی بصیرت پہ۔ یہ اصل میں حضرت نے جو بات چلائی ہے، وہ یہ بہت اہم بات چلائی ہے۔ اصل میں دیکھیں نا قرآن پاک میں شیطان کے بارے میں صاف، واضح طور پر آیا ہے کہ: ﴿إِنَّ الشَّيْطٰنَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا﴾، "بےشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے، اور اس کو دشمن ہی پکڑو" تو جو جو شیطان کے ساتھ ہیں، ان سب کے لیے ایک بات ثابت ہو گئی، کیونکہ دو باتیں ہیں؛ یا اللہ پاک کی بات ہے، یا پھر شیطان کی بات ہے۔ تو جو شیطان کی مانیں گے، تو ظاہر ہے کہ وہ ان کے ساتھ ہیں۔

تو اب یہ جو بات ہے کہ جو کفار ہیں جنہوں نے اللہ جل شانہ کی بات کو نہیں مانا، تسلیم نہیں کیا۔ ایک تو ماننا نہ ماننا ہے نا، تسلیم نہیں کیا، بلکہ -نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ- اللہ تعالیٰ کی ذات کا انکار کر لیا، یعنی اس کے ان احکامات کا۔ تو اب یہ جو بات ہے کہ ان کے ساتھ اللہ جل شانہ کی جو دشمنی ہے، وہ ذاتی دشمنی ہو گئی۔ ذاتی دشمنی اور چیز ہے اور صفات کی اور چیز ہے۔

مسلمانوں کے بارے میں صفات کا فرمایا۔ صفات کا اس طرح فرمایا کہ چونکہ ان کا ایمان تو ہے، تو ذات سے تو بات نکل گئی۔ ذات کو تو مانتے ہیں، لیکن وہ جو بعض چیزیں ہیں جو اللہ پاک نے دی ہیں، تو وہ اپنے نفس کی وجہ سے اس کو مان نہ سکے، اور وہ ظاہر ہے مطلب ہے کہ اس حالت میں چلے گئے۔ تو ان کے لیے فرمایا کہ میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی۔ کیونکہ دونوں صفات ہیں، لیکن کفار کا معاملہ چونکہ ذات کے ساتھ ہے، لہٰذا اس ذات کی وجہ سے وہ صفات کا معاملہ نہیں آئے گا، کیونکہ صفات ذات پر غالب نہیں ہو سکتیں۔ لہٰذا صفات کا جو حکم ہے مسلمانوں کے لیے ہے اور جو ذات کا حکم ہے، وہ کفار کے لیے ہے۔

یہ بہت بڑی تحقیق ہے، کہ مطلب ہے کہ اس کو علیحدہ جدا جدا کر لیا کہ ذات والی بات تو کفار کے لیے ہے کہ کفار کے ساتھ اللہ پاک کی جو دشمنی ہے وہ ذاتی ہے۔ ذاتی دشمنی ہے۔ اور مسلمانوں کا جو صفات کی وجہ سے ہے، تو جو صفات کی وجہ سے ہے اس میں صفات میں اللہ پاک نے قبول ہی فرمایا ہے کہ میری جو رحمت ہے وہ غضب پہ سبقت لے گئی، لہٰذا ان کے ساتھ معاملہ مختلف ہوگا۔

اور ابراہیم علیہ السلام کی مثال دی ہے کہ ابراہیم علیہ السلام اس معاملے میں بالکل clear تھے۔ ایک عالم ہیں، نام نہیں لوں گا کیونکہ پھر مسائل پیدا ہو جائیں گے، انہوں نے مجھے خود واقعہ سنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں سخت رد کرتا تھا، یہ جو باطل فرقے ہیں، ان کا میں بہت رد کرتا تھا۔ تو کہتے ہیں ایک صاحب ان میں سے کوئی عالم تھے، وہ آئے میرے بیان میں بیٹھے ہوئے تھے، تو اس نے ایک چٹ بھیجی، کہ آپ اتنا سخت رد جو کرتے ہیں، تو اگر ہماری بات صحیح ہو گئی تو پھر آپ کیا جواب دیں گے؟

تو کہتے ہیں کہ ایک وقت کے لیے اس نے مجھے بڑا متزلزل کر دیا کہ واقعتاً، ہمیں کیا پتا، واللّٰه أَعلم، ممکن ہے ان میں سے بھی کوئی بات حق ہو، تو کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم حق کی سخت مخالفت کر رہے ہوں۔ تو کہتے ہیں میں بہت ڈر گیا، اور وہ ڈر مجھ پر غالب آ گیا۔ تو کہتے ہیں میں دوپہر کے وقت قیلولہ کر رہا تھا، تو قیلولہ کے وقت میں نے خواب دیکھا۔ خواب میں کوئی مجھے بتاتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام تجھے بلا رہے ہیں۔ تو کہاں ہیں؟ تو پتا چلا کہ وہاں پر مجھے بتایا کہ یہ درخت ہے۔ کہتے ہیں اس درخت کے قریب تشریف لا رہے ہیں۔ کہتے ہیں میں ادب کی وجہ سے اور ڈر کی وجہ سے کافی دور کھڑا ہو گیا کہ ابراہیم علیہ السلام کا بڑا اونچا مقام ہے۔ تو میں قریب نہیں جا سکتا تھا۔ کہتے ہیں ابراہیم علیہ السلام نے ادھر سے آواز دی؛ ”یاد رکھو! اگر اس معاملے میں نرمی کرو گے، پھر ہمارے ساتھ نہیں آ سکو گے، ہمارے پاس نہیں آ سکو گے“۔

کہتے ہیں اس کے بعد پھر میں نے کہا اچھا اب دیکھ تو، دیکھوں میں تجھے ذرا۔ تو یہ بات ہے کہ مطلب یہ ہے کہ: ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ۝ لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ﴾۔ بالکل واضح واضح باتیں ہیں۔ لہٰذا ان معاملات میں نرمی نہیں ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ حکمت کی وجہ سے آپ اس کا ہر وقت اظہار نہیں کرتے، لیکن بہرحال نرمی تو نہیں ہے نا! چاہے وہ آپ کا والد کیوں نہیں ہو، چاہے وہ آپ کی والدہ کیوں نہ ہو، چاہے وہ بیٹا کیوں نہیں ہو، اس مسئلے میں کوئی بات نہیں چلتی۔

دیکھو میں آپ کو ایک بات بتاؤں، یہ بہرحال میں نے کتاب میں نہیں پڑھا لیکن ایک عالم سے سنا ہے، واللّٰه أَعلم، ان کی جو تحقیق ہے وہ میں بتا رہا ہوں صرف۔ فی الحال میں زیادہ نہیں جانتا اس مسئلے میں۔ لیکن بہرحال انہوں نے کہا کہ ابو طالب صاحب جب فوت ہوئے، تو حالانکہ آپ ﷺ کے بڑے محبوب چچا تھے اور بہت تکلیفیں اٹھائیں آپ ﷺ کے لیے، بہت تکلیفیں اٹھائیں۔ لیکن چونکہ دعوت کا انکار کیا ہوا تھا اور ایمان نہیں لائے تھے، تو اس پر آپ ﷺ کو بڑا قلق تھا کہ مطلب ظاہر ہے، بلکہ اخیر میں یہاں تک فرمایا تھا کہ بس صرف آپ میرے کان میں کہہ دیں تاکہ میں پھر گواہی دے سکوں۔ مطلب یہاں تک بھی یہ والی بات۔ تو عباس رضی اللہ عنہ نے غالباً بعد میں کہا کہ ان کے ہونٹ ہل رہے تھے، تو فرمایا نہیں نہیں، ایسی بات نہیں ہے۔

جنازہ وغیرہ تو ان کا کوئی بھی ثابت نہیں کر سکتا نا! تو وہ علی رضی اللہ عنہ کو کہا کہ کیا آپ نے اپنے باپ کو دبا دیا؟ یعنی "دفن" والا صیغہ بھی استعمال نہیں کیا۔ تو اب یہ جو چیزیں ہیں، یہ ظاہر ہے ہم لوگوں کو اسے دیکھنا چاہیے کہ یہ معاملہ بالکل مختلف ہے۔ خاندانی شرافت اور جو دوسری باتیں ہیں وہ دنیا کی حد تک ہیں۔ باقی یہ ہے کہ یہ معاملہ، ظاہر ہے چونکہ دین کا معاملہ ہے، اس مسئلے میں ہم کسی کی رعایت نہیں کر سکتے۔

سوال:

اگر یہ کہا جائے کہ دنیا میں کافروں کو رحمت سے حصہ حاصل ہے، جیسا کہ تو نے مندرجہ بالا عبارت میں تحقیق کی ہے تو پھر دنیا میں رحمت کی صفت نے ذاتی عداوت کو کیسے دور کر دیا؟

سوال قائم خود کرلیا۔

جواب:

میں کہتا ہوں کہ دنیا میں خاص کافروں کو رحمت کا حاصل ہونا ظاہری طور پر اور صورت کے اعتبار سے ہے لیکن حقیقت میں وہ ان کے حق میں استدراج اور کید (دھوکہ) ہے، ان کے حق میں آیۂ کریمہ:

﴿أَ يَحْسَبُوْنَ أَنَّمَا نُمِدُّهُـمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّ بَنِيْنَ 0 نُسَارِعُ لَـهُـمْ فِى الْخَيْـرَاتِ ۚ بَلْ لَّا يَشْعُرُوْنَ﴾ (المؤمنون 55-56)

کیا یہ لوگ گمان کرتے ہیں کہ مال اور اولاد میں جو ان کو ترقی دے رہے ہیں تو ان کو فائدہ پہنچانے میں جلدی کر رہے ہیں؟ نہیں، بلکہ ان کو اس حکمت کا شعور نہیں ہے۔

اور آیتِ کریمہ ہے:

﴿سَنَسْتَدْرِجُهُـمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ وَ أُمْلِىْ لَـهُـمْ ۚ إِنَّ كَيْدِىْ مَتِيْنٌ﴾ (الأعراف: 182-183)

ہم ان کو جہنم کی طرف اس طرح آہستہ آہستہ لے جاتے ہیں جس کی ان کو خبر بھی نہیں ہوتی، اور ہم ان کو مہلت دیتے ہیں۔ بے شک ہماری تدبیر بہت مضبوط ہے۔

ان ہی معنیٰ پر شاہد ہیں۔ پس سمجھ لو۔

فائدہ جلیلہ:

دوزخ کا دائمی عذاب کفر کی جزا (بدلہ) ہے اور بس۔ اگر پوچھیں کہ ایک شخص ایمان کے با وجود کفر کی رسمیں بجا لاتا اور اہل کفر کی رسموں کی تعظیم کرتا ہے، اور علماء اس پر کفر کا حکم لگاتے ہیں اور مرتد سمجھتے ہیں جیسا کہ ہندوستان کے اکثر مسلمان اس بلا میں مبتلا ہیں۔ لہذا چاہیے کہ علماء کے فتوے کے بموجب وہ شخص آخرت کے ابدی عذاب میں گرفتار ہو، حالانکہ اخبارِ صحاح (صحیح احادیث) میں آ چکا ہے کہ جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو گا اس کو دوزخ سے باہر نکال لیں گے اور دائمی عذاب میں نہ رہنے دیں گے۔ آپ کے نزدیک اس مسئلے کی کیا تحقیق ہے؟


جواب:

میں کہتا ہوں اگر وہ شخص کافر محض ہے تو دائمی عذاب اس کا نصیب ہے، عِیَاذًا بِاللّٰہِ سُبْحَانَہٗ مِنہُ (اللہ سبحانہٗ کی اس سے پناہ) اور اگر کفر کی رسومات بجا لانے کے با وجود ذرہ برابر ایمان بھی رکھتا ہے تو وہ دوزخ کے عذاب میں مبتلا تو ہو گا لیکن اس ذرہ برابر ایمان کی برکت سے امید ہے کہ ابدی عذاب سے خلاصی ہو جائے گی اور دائمی گرفتاری سے نجات پا لے گا۔


فقیر ایک مرتبہ (یہ اب خود فرما رہے ہیں یہ میں نے پڑھا تھا کسی جگہ وہ بات آگئی) فقیر ایک مرتبہ ایک شخص کی مزاج پرسی کے لئے گیا جس کا معاملہ نزع و موت کے قریب پہنچ چکا تھا۔ جب فقیر اس کے حال پر متوجہ ہوا تو معلوم ہوا کہ اس کا قلب "ظلماتِ بسیار" (بہت زیادہ ظلمتوں) میں گھرا ہوا ہے، ہر چند ان ظلمتوں کے دور کرنے میں متوجہ ہوا لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا، پھر بہت زیادہ توجہ کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ ظلمات و تاریکیاں "صفاتِ کفر" کی وجہ سے پیدا ہوئی ہیں جو اس میں پوشیدہ ہیں اور یہ کدورتیں اس کے کفر اور اہلِ کفر کے ساتھ دوستی کی وجہ سے پیدا ہوئی ہیں، اور توجہ کرنے سے یہ ظلمتیں دور نہیں ہو سکتیں، بلکہ ان ظلمات کا تنقیہ دوزخ کے عذاب پر وابستہ ہے جو کفر کی جزا ہے، نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ ذرہ برابر ایمان بھی رکھتا ہے جس کی برکت سے آخر کار اس کو دوزخ سے نکال لیا جائے گا، اور جب اس کے حال کو مشاہدہ کر لیا تو اب دل میں آیا کہ اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے یا نہیں؟ توجہ کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ نماز ادا کرنی چاہیے۔ لہذا وہ مسلمان جو ایمان کے با وجود اہل کفر کی رسومات بجا لاتے ہیں اور (ہنود کے) تہواروں کے ایام کی تعظیم کرتے ہیں، ان کی نماز جنازہ پڑھنی چاہیے اور ان کو کفار کے ساتھ نہیں ملا دینا چاہیے جیسا کہ آج کل علماء کا معمول ہے، اور امید وار رہنا چاہیے کہ آخر کار ایمان کی برکت کی وجہ سے دائمی عذاب سے نجات حاصل ہو جائے گی۔

پس معلوم ہوا کہ اہل کفر کے لئے عفو اور مغفرت نہیں ہے۔ (آیۂ کریمہ) ﴿إِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ﴾

"بے شک اللہ اس کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے" اور اگر وہ محض کافر ہے تو "عذابِ ابدی" اس کے کفر کی جزا ہے، اور اگر ذرہ برابر بھی ایمان رکھتا ہے تو اس کی جزا "عذاب موقت" (وقتی عذاب) ہے اور باقی تمام کبیرہ گناہوں کو اگر حق سبحانہٗ و تعالیٰ چاہے تو بخش دے اور چاہے عذاب دے۔ فقیر کے نزدیک "عذاب دوزخ" خواہ وقتی ہو یا دائمی، کفر اور صفات کفر کے ساتھ مخصوص ہے، جیسا کہ آگے تحقیق سے معلوم ہو گا، اور کبیرہ گناہ والے جن کے گناہ توبہ، شفاعت، یا صرف عفو و احسان کے ساتھ مغفرت کے قابل نہیں ہوتے، یا جن کبیرہ گناہوں کا کفارہ دنیاوی تکالیف یا سختیوں اور سکرات موت سے نہیں ہوا، امید ہے کہ ایسے لوگوں میں سے بعض کو قبر کا عذاب کفایت کرے گا اور بعض کے لئے قبر کی سختی کے با وجود قیامت کا خوف اور اس دن کی تکالیف کافی ہوں گی اور ان کے گناہوں میں سے کوئی گناہ باقی نہیں چھوڑیں گے جس کی وجہ سے دوزخ کے عذاب کے مستحق ہوں۔ چنانچہ آیۂ کریمہ: ﴿اَلَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَ لَمْ يَلْبِـسُوٓا إِيْمَانَـهُـمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓئِكَ لَـهُـمُ الْأَمْنُ﴾

"جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور اپنے ایمان کو شرک سے ملوث نہیں کرتے، ان کے لیے امن ہے"

اسی مضمون کی تائید کرتی ہے۔ کیونکہ یہاں ظلم سے مراد شرک ہے۔ وَ اللّٰہُ سُبْحَانَہٗ أَعْلَمُ بِحَقَائِقِ الاُمُورِ کُلِّھَا (اور اللہ سبحانہ ہی تمام امور کے حقائق کو بہتر جانتا ہے)

اور اگر یہ کہا جائے کہ کفر کے علاوہ بعض گناہوں کی سزا بھی عذابِ دوزخ آئی ہے جیسا کہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَ مَن يَقۡتُلۡ مُؤۡمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِيْهَا

"جو شخص کسی مومن کو قصدًا قتل کرے اس کی سزا جہنم ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا"

اور اخبار (احادیث شریفہ) میں ہے کہ جو شخص قصدًا ایک نماز فرض قضا کرے تو اس کو ایک حقبہ (یعنی اَسی سال) دوزخ میں عذاب دیا جائے گا۔ لہذا دوزخ کا عذاب صرف کافروں کے لئے ہی مخصوص نہ رہا (اور تم کہتے ہو کہ دوزخ کا عذاب کافروں کے لئے ہی مخصوص ہے)

(جواب میں) میں کہتا ہوں کہ یہ عذاب اس قاتل کے لئے مخصوص ہے جو قتل کو حلال جانے کیونکہ قتل کو حلال جاننے والا کافر ہے۔ جیسا کہ مفسرین نے بیان کیا ہے۔ کفر کے علاوہ دوسرے گناہوں کے لئے بھی دوزخ کا عذاب آیا ہے۔

اللہ جل شانہ آپ سب کو حق پر قائم رکھے۔ آمین۔ اور دعا ہے، اس موقع پہ بہت ہی دعا کرنی چاہیے کہ:

«اَللّٰهُمَّ أَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَارْزُقْنَا اتِّبَاعَهُ، وَأَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا وَارْزُقْنَا اجْتِنَابَهُ»

اے اللہ! حق ہمیں حق دکھا دے اور اس کی اتباع کرنے کی توفیق عطا فرما، اور باطل ہمیں باطل دکھا دے، اس سے بچنے کی توفیق عطا فرما۔

یہ بہت ضروری ہے کیونکہ پتہ نہیں کس موقع پہ انسان غلط ہو جائے۔ یا ایسے لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہو جائے، یا آج کل Social media ہے، بہت زیادہ اس پہ Streaming ہوتی ہے، مختلف قسم کی چیزیں آتی ہیں، اس کی وجہ سے کہیں غلط بات ذہن میں نہ بیٹھ جائے۔ اور اللہ تعالیٰ نہ کرے ایمان کہیں زائل نہ ہو جائے، یا کفار کے ساتھ دوستی نہ ہو جائے۔

یہ بھی ایک بات ہے کفار کے ساتھ دوستی بہت خطرناک بات ہے۔ بہت خطرناک بات ہے۔ تو کفار کے ساتھ دوستی تو بالکل نہیں ہونی چاہیے۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ ان کے ساتھ مدارات کا تعلق رکھ سکتے ہیں۔ مدارات کا، لیکن دوستی کا تعلق نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے اندر چاہے کتنی ہی خوبی کیوں نہ ہو، لیکن وہ کفر کی ظلمت اتنی زیادہ ہے کہ اس کے مقابلے میں ان کی ساری کی ساری خوبیاں کالعدم ہیں۔

لہٰذا جو کافر کے ساتھ دوستی رکھتا ہے، وہ اصل میں ایمان کی قدر سے محروم ہے۔ جو بہت خطرناک بات ہے۔ تو ایمان کی قدر کرنی چاہیے، ایمان بہت بڑی دولت ہے۔ اس کو اگر ہم صحیح طور پہ سمجھیں تو ایک تو گنہگار مسلمانوں پہ شفقت ہو جائے گی، کہ چاہے گناہ کتنے گنہگار ہیں لیکن بہرحال ہیں تو مومن۔ اور مومن کا مقام ایمان کے لحاظ سے بہت اونچا ہے۔ لہٰذا مومن کے اوپر شفقت ہو جائے گی چاہے وہ کتنا گنہگار کیوں نہ ہو۔ اور دوسرا کافر چاہے کتنا ہی بظاہر نیک کیوں نہ ہو، اس کے ساتھ محبت نہیں ہوگی، اس کے ساتھ دوستی نہیں ہوگی۔ اور یہ دونوں کام بہت ضروری ہیں، اللہ تعالیٰ ہمیں نصیب فرما دے

ایمان کی حقیقت اور کفر سے براءت (تبریٰ) - درسِ مکتوباتِ امام ربانیؒ - دوسرا دور