انسان کی حقیقی شرافت: نسب، تقویٰ اور علم و فقاہت کا باہمی تعلق

درس نمبر 98- باب فی التقوی - حدیث نمبر 01، (اشاعتِ اول) 26 اکتوبر، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

اہم موضوعات:

انسان کی حقیقی شرافت اور عزت کا معیار (تقویٰ)۔

حضرت یوسف عليه السلام کی خاندانی اور نبوی شرافت کی مثال۔

جاہلیت کے معزز خاندانوں کا اسلام میں مقام اور فقاہت کی شرط۔

خاندانی نسب (غیر اختیاری) اور علمِ دین و فقاہت (اختیاری) کا امتزاج۔

فقاہت کی حقیقت: نفس پر قابو، دل کی پاکیزگی اور فراستِ ایمانی۔

محض نسب پر فخر کرنے یا کسی کے نسبی فضل کا انکار کرنے کی ممانعت۔


اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔

انسان کی شرافت علم و دین پر ہے

(69) وَأَمَّا الْأَحَادِيثُ فَالْأَوَّلُ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَنْ أَكْرَمُ النَّاسِ؟ قَالَ: (أَتْقَاهُمْ) فَقَالُوا: لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ، قَالَ: «فَيُوسُفُ نَبِيُّ اللهِ ابْنُ نَبِيِّ اللهِ ابْنِ نَبِيِّ اللهِ ابْنِ خَلِيلِ اللهِ». قَالُوا: لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ، قَالَ: «فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُوْنِي؟ خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا»۔ (متفق عليه)

”وَفَقِهُوا“ بِضَمِّ الْقَافِ عَلَى الْمَشْهُورِ، وَحُكِيَ كَسْرُهَا، أَيْ: عَلِمُوا أَحْكَامَ الشَّرْعِ۔

”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ سے سوال ہوا یا رسول اللہ ﷺ! کریم انسان کون ہے فرمایا جس میں اللہ کا ڈر زیادہ ہے، صحابہ نے عرض کیا ہم نے آپ ﷺ سے یہ نہیں پوچھا، آپ ﷺ نے فرمایا تو پھر یوسف نبی اللہ علیہ السلام بن نبی اللہ بن نبی اللہ بن خلیل اللہ کریم ہیں، صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا ہم اس کے بارے میں بھی سوال نہیں کر رہے ہیں، فرمایا اچھا تو آپ عرب کے خاندانوں کے بارے میں سوال کر رہے ہو (تو یاد رکھو) جو خاندان جاہلیت میں بہتر شمار ہوتے تھے وہ اسلام میں بھی بہتر سمجھے جائیں گے جب ان میں فقاہت عقلمندی موجود ہو گی۔‘‘

انسان کی شرافت خاندانی شرافت پر نہیں بلکہ علمِ دین پر ہے

صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے سوال کہ کریم انسان کون ہے؟ اس کے جواب میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو متقی ہو، جتنا جس میں تقویٰ ہو گا اتنا ہی پرہیزگاری ہوگی، جیسے کہ قرآن مجید میں بھی ارشاد خداوندی ہے۔

إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَاكُمْ ۚ تم میں سب سے زیادہ کریم آدمی اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ تقویٰ والا ہے۔

آپ ﷺ نے یہ ارشاد اس لئے فرمایا کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ اپنے خاندان اور ذاتی شرافت پر فخر کرتے تھے اس پر فرمایا جا رہا ہے کہ اسلام میں شرافت تقویٰ کے اعتبار سے ہوگی نہ کہ خاندانی اعتبار سے۔

شرافت دین میں ہے

قَالَ فَاَكْرَمُ النَّاسِ يُوسُفُ نَبِيُّ اللهِ: صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے سوال میں نسبی شرافت کی طرف اشارہ تھا اس لئے آپ ﷺ نے فرمایا انسانوں میں سب سے زیادہ شریف و بزرگ حضرت یوسف علیہ السلام ہیں جو خدا کے نبی اور خدا کے نبی کے بیٹے اور خدا کے نبی الحق علیہ السلام کے پوتے اور خدا کے دوست حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پڑپوتے ہیں، مسلسل چار پشتوں میں نبوت اس سے بڑھ کر دینی، روحانی اور اخلاقی کمال و شرافت اور کیا ہوگا۔

صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے تیسری مرتبہ اپنے مدعا کا اعادہ کیا تو آپ ﷺ نے اب تیسری بار ان کے مدعا کہ جن لوگوں کی ذات اور شخصیت میں زمانہ جاہلیت میں ایسی امتیازی شان و خصوصیات موجود تھیں جن کی وجہ سے وہ معزز و مکرم سمجھے جاتے تھے۔ اگر وہ اسلام قبول کرلیں تو اب بھی وہ معزز و مکرم بن جائیں گے۔ فرق یہ ہوگا کہ زمانہ جاہلیت میں ان کی صلاحیتیں اپنی ذاتی اور خاندانی اعتبار سے استعمال ہو رہی تھی مگر اسلام قبول کرنے اور دین سیکھنے کے بعد ان کی اب یہ صلاحیتیں اسلام کے لئے استعمال ہوں گی۔

یہ اصل میں چونکہ یہ سوال ان کے اس وقت کے نظام کے متعلق، سمجھنے میں مشکل پیش آ رہی تھی، تو آپ ﷺ نے پہلے تو اصل چیز بتا دی نا کہ وہ تقویٰ ہے۔ پھر مثالاً فرمایا کہ نبی... مطلب یہ ہے کہ ظاہر ہے تقویٰ سب سے زیادہ نبی میں ہوتا ہے نا؟ تو پھر مثالاً فرما دیا کہ آپ کے پاس Target یہ ہے، معیار یہ ہے۔

پھر تیسری بات یہ فرمائی، جو ان کے سوال کا جواب قریب قریب تھا، ان کی سمجھ کے قریب قریب تھا، وہ یہ تھا کہ اگر کوئی نسبی شرافت رکھتا ہے تو وہ کریم بن سکتا ہے زیادہ، کریم بن سکتا ہے، بشرطیکہ اس کی (یہ تو ایک غیر اختیاری چیز ہے نا نسبی شرافت) اختیاری چیزیں ساتھ مل جائیں، اور اختیاری چیزیں یہ ہیں کہ وہ علم حاصل کرے۔ فقاہت حاصل کر لے۔ ٹھیک ہے نا؟

علم و فقاہت، علم و فقاہت، یہ دونوں چیزیں ذرا اچھی طرح سمجھنی چاہئیں۔ علم تو کافر بھی حاصل کر سکتا ہے، مطلب ظاہری علم، الفاظ والا علم۔ لیکن فقاہت جو ہے، یہ ان لوگوں کے لیے ہے جن کا دل بنا ہوتا ہے، نفس کنٹرول میں ہو چکا ہوتا ہے اور عقل فراستِ ایمانی سے بھرپور ہوتی ہے۔ اسی کو پھر فقاہت کہتے ہیں۔

وجہ یہ ہے کہ فقاہت کو نقصان پہنچانے والی چیز نفس کی خواہشات ہیں۔ پھر وہ صحیح فیصلہ نہیں کر سکتا۔ اور دل کی خرابی ہے، اگر دل دنیا کی محبت میں مبتلا ہو، تو وہ بھی صحیح فیصلہ نہیں کر سکتا۔ غافل دل، یہ بھی صحیح فیصلہ نہیں کروا سکتا۔ کیونکہ ڈر، تقویٰ، یہ کیا چیز ہے؟ وہ تو مطلب یہ ہے کہ جب ڈر ہوگا، تقویٰ ہوگا تو... پھر وہ صحیح فیصلہ کر سکے گا نا، اس کی پہلی مثال جو دی۔ اور دوسری مثال، غیر اختیاری والی مثال دی۔

تیسرے میں دونوں جمع کر دیں۔ تو اب دیکھ لیں کہ جو نسبی شرافت رکھنے والے تھے، اگر وہ علم و فقاہت حاصل کر لیں تو پھر وہ ان کو وہ نسبی شرافت کام آئے گی اور وہ پھر وہ واقعی کریم کہلائیں گے۔ یہ بات ہے۔

تو اگر اس بات کو ہم سمجھ گئے ہیں، تو میرے خیال میں بہت زبردست چیز سمجھ میں آ گئی، اور وہ یہ ہے کہ جو حضرات صرف نسبی شرافت پر چلتے ہیں، تو وہ غلطی کرتے ہیں اگر ان کے پاس یہ چیز نہیں ہے۔ اور جو علم و فقاہت رکھنے والے حضرات نسبی شرافت کا خیال نہیں رکھتے، تو وہ بھی غلطی کرتے ہیں۔ جن کو اللہ نے دی ہے تم ان کا انکار کیسے کر سکتے ہو؟ یہ بھی تو فقاہت کے خلاف ہے نا۔

کہ جس کو اللہ نے جو چیز دی ہے اس کو تم مانو نا۔ جیسے انبیاء کرام کو دی ہے، نبی کی مثال دی ہے نا؟ تو نبی کو دیا تو آپ کہتے ہیں نہیں-نعوذ باللہ من ذلک-میں نبی سے بڑھ کر ہو جاؤں، تو پھر تو مار پڑے گی۔ تو وہ فقاہت ہی نہیں ہوگی۔ تو فقاہت ان دو چیزوں کو جمع کرنے کا نام ہے۔ اور وہ کیا ہے، جو نسبی شرافت ہے اس کو تسلیم کر لو اور جو نسبی شرافت والے ہیں وہ فہم و عقل کے ذریعے سے علم و فقاہت حاصل کر لیں۔ تاکہ وہ صحیح اس کا استعمال ہو جائے۔ مطلب یہ بات ہے۔

تو یہ بہت جامع بات درمیان میں آ گئی۔ اور دیکھو مِن جانبِ اللہ یہ بات ہے کہ صحابہ کرام نے سوال کیسے کیا؟ پھر تین دفعہ سوال ہوا، ایک ہی بات کا۔ تو پھر آپ ﷺ نے کس طریقے سے جواب دیا؟ پہلے تقویٰ کا بتایا، جو اختیاری چیز ہے۔ دوسرا جو غیر اختیاری چیز ہے، اس کا بتایا۔ پھر ان کو جمع فرما دیا۔ اور اس کے اندر صحیح اپنی بات جو صحیح Solution ہے، وہ سامنے آ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھ عطا فرما دے۔

صحیح بخاری کتاب الانبیاء، بَاب وَاتَّخَذَ اللّٰهُ إِبْرَاهِيْمَ خَلِيْلًا، وصحیح مسلم کتاب الفضائل، بَاب مِنْ فَضَائِلِ يُوْسُفَ عَلَيْهِ السَّلَام، وَأَخْرَجَهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ فِي مُسْنَدِهٖ، وَابْنُ حِبَّانَ۔

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ، وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔




انسان کی حقیقی شرافت: نسب، تقویٰ اور علم و فقاہت کا باہمی تعلق - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور