روحانی عروج و نزول اور مقامات و نسبتِ اہلِ بیت

مکتوبات شریفہ کے دروس سے اقتباس - دفتر اول مکتوب نمبر 1 - (اشاعتِ اول) بدھ یکم ستمبر، 2021

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

اہم موضوعات:

•        حضرت مجدد الف ثانیؒ کے مکتوبات کا تعارف اور تجلیاتِ اسمِ ظاہر کا بیان۔

•        تصوف کی اصطلاحات (فنا و بقا، عروج و نزول) کی تشریح۔

•        روحانی معراج کی کیفیات، مراقبہ، اور مشائخ کے مقامات کا مشاہدہ۔

•        خلفائے راشدین اور ائمہ اہلِ بیت کے بلند روحانی درجات اور نظامِ فیض۔

•        اولیاء اللہ اور صحابہ کرام کا اہلِ بیت سے والہانہ عقیدت و محبت کا رشتہ۔

•        امام ابو حنیفہؒ کی امام جعفر صادقؒ سے عقیدت اور فقہ حنفی کی اصل بنیاد۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ

وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ

اَمَّا بَعْدُ

فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

معزز خواتین و حضرات!

حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوبات شریف کا درس سدا بہار چیز ہے، کیونکہ حضرت کا فیض ہزار سال مجددیت کا ہے؛ تو جو موجودہ ہزار سال چل رہے ہیں، اس میں حضرت کا فیض جاری رہے گا، ان شاء اللہ۔ تو جتنے بھی مجدد آئیں گے، تو ان شاء اللہ حضرت ہی کے مجددیت کا فیض بھی اس میں شامل ہو گا۔ تو حضرت کا جو پہلا مکتوب ہے، جو حضرت کے شیخ حضرت خواجہ باقی باللہ رحمہ اللہ ان کو حضرت نے لکھا ہے، اس میں حضرت نے اپنے احوال بیان فرمائے ہیں؛ اور اپنے احوال میں پھر جو اسمِ ظاہر کی تجلیات ہیں، اس کے بارے میں بات بڑی تفصیل کے ساتھ فرمائی ہے؛ اور پھر یہ جو اسمِ ظاہر کے جو تجلیات ہیں، اس کے بعد حضرت نے یہ فرمایا ہے کہ یہ

کچھ مدت کے بعد یہ تجلیات پوشیدہ ہوگئیں اور

پھر اس کے بعد

وہی (سابقہ) حیرت و نادانی (جہل)

یعنی علم نہ ہونا وہ آ گیا۔

کی نسبت اپنی حالت پر قائم رہ گئی اور یہ سب تجلیات اس طرح پوشیدہ ہو گئیں گویا کہ کبھی تھی ہی نہیں۔ اور اس کے بعد ایک خاص قسم کی فنا ظاہر ہوئی،

تو گویا کہ

اور اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ تعینِ علمی یعنی جو کہ تعین (ذاتی) سے واپس لوٹنے کے بعد ظاہر ہوا تھا، وہ اس فنا میں گم ہو گیا اور کوئی اثر باقی نہیں رہا کہ جس پر انانیت و نفسانیت کا گمان ہو سکے۔

اصل میں انسان کی جو فنا حاصل ہو جاتی ہے فنا، فنا سے مراد یہ ہے کہ انسان کے اپنے جو نفس کی خواہشات ہیں اور نفس کے جو اثرات ہیں، انسان کے اوپر جو رکاوٹیں ہوتی ہیں، وہ رکاوٹیں وہ نفس کے اثر دور ہونے کی وجہ سے ختم ہو جائیں۔ اب اس وقت اس کا مطلب ہے کہ کیا وہ ہوتی نہیں ہیں؟ نفس تو انسان کے ساتھ ہوتا ہے لیکن اس کا جو اثر ہے وہ نہیں رہتا، یہاں تک نہیں رہتا کہ کوئی چیز بھی یاد نہیں رہتی یعنی وہ جہالت اسی کو کہتے ہیں، کوئی چیز یاد نہیں رہتی اور پھر اپنے آپ کو بھی بھول جاتا ہے۔ یہ جو بھولنا ہوتا ہے وہ اس طرح نہیں ہوتا کہ مطلب وہ چیز ہے نہیں، بلکہ اس طرح ہوتا ہے کہ کوئی اور چیز یاد رکھنے والی اتنی زیادہ ہے کہ اس کی وجہ سے یہ بھول گیا، یعنی وہ اتنا یاد ہے کہ یہ بھول گیا۔ یہ بھی مطلب ہوتا ہے۔ تو گویا کہ اللہ جل شانہ کا بہت زیادہ یاد، اتنا یاد کہ اس کے اندر انسان گم ہو جائے، اور ایسا گم ہو جائے کہ نہ خود یاد رہے نہ کوئی اور چیز یاد رہے سوائے اللہ کے؛ یہ فنائیت ہے۔

اس کے بعد پھر دوبارہ افاقہ ہوتا ہے اور وہ جو افاقہ ہے، وہ اصل میں وہ چیزیں پھر دوبارہ ظہور کر لیتی ہیں، وہ موجود رہتی ہیں، ان کے اثرات بھی موجود ہوتے ہیں؛ لیکن انسان اللہ جل شانہ کے ساتھ ایسا قرار پا چکا ہوتا ہے، تمکین حاصل کر چکا ہوتا ہے کہ ان چیزوں کے ہوتے ہوئے بھی ان سے کام تو لیتا ہے، لیکن ان سے متاثر نہیں ہوتا۔ گویا کہ سارے کام جو نفس کی خواہشات پہلے نفس کے لئے تھیں، وہ نفس کے جو ضروریات ہیں وہ اللہ جل شانہ کے لئے پوری ہونے شروع ہو جاتی ہیں۔ "وَ لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقّ" اس پر عمل شروع ہو جاتا ہے۔ آرام انسان کس لئے کرتا ہے؟ تاکہ میں اللہ کی عبادت کر سکوں۔ کھانا کس لئے کھاتا ہے؟ تاکہ میں اللہ پاک کی عبادت کے لئے زندہ رہوں۔ دوائی، علاج، یہ سارا کچھ کرتا ہے لیکن کس لئے کرتا ہے؟ اس لئے کہ اللہ پاک کے احکامات پورے ہو جائیں۔ اب وہ ساری چیزیں اللہ کے لئے ہو جاتی ہیں، یہ بقا ہے؛ اور یہ بقا چونکہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے اس لئے اس کو بقا باللہ کہتے ہیں۔

اور پھر اس کے بعد دو اور سیریں ہیں، لیکن بہرحال ہمارے ہاں تو اس کو ایک ہی میں شامل سمجھا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ جل شانہ کی طرف سے مخلوق کی طرف اس کو لوٹا دیا جاتا ہے۔ مخلوق کی طرف لوٹایا جاتا ہے؛ کس لئے لوٹایا جاتا ہے؟ کہ اب مخلوق کو بھی نفع پہنچائے۔ اللہ پاک کا ہو کر مخلوق کو نفع پہنچائے، نفس کا ہو کر نہیں، اللہ پاک کا ہو کر مخلوق کو نفع پہنچائے۔ تو یہ اصل میں مقام ہے اللہ پاک کی طرف سے تشکیل کا جو کہ الحمد للہ حاصل ہو جاتا ہے۔ پھر اس وقت ماشاء اللہ وہ تمام چیزوں کے خواص استعمال ہونے لگتے ہیں اس کام کے لئے۔ اس وقت وہ چیز ظہور میں آ جاتی ہے جس کے لئے حضرت نے بھی فرمایا اور اور حضرات نے بھی فرمایا کہ انسان اپنے روح کے ذریعے سے اللہ پاک سے لیتا ہے اور نفس کے ذریعے سے مخلوق کو دیتا ہے۔ یہ بڑا مشکل فقرہ ہے؛ پہلے والا حصہ تو آسان ہے کہ روح کے ذریعے سے اللہ پاک سے لیتا ہے کیونکہ روح عروج والی ہے، اللہ جل شانہ سے لینے کے لئے تو عروج ہوتا ہے لیکن مخلوق کو دینے کے لئے نزول ہوتا ہے اور نزول نفس کے ذریعے سے ہوتا ہے۔ سمجھ میں آ گئی بات؟

تو وہ نزول جتنا ہو گا اتنا ہی زیادہ لوگوں کو نفع پہنچائے گا۔ کبھی آپ نے سنا ہو گا یہ استاذ وغیرہ جو ہوتے ہیں سکولوں کے، تو بعض استاذ بڑے لائق و فائق ہوتے ہیں لیکن اس سے student فائدہ نہیں اٹھا سکتے کیونکہ اپنے علم سے باہر نہیں آ سکتے، وہ لوگوں کے level پہ نہیں آ سکتے؛ تو ٹھیک ہے اس کا علم اس کے پاس ہوتا ہے، research وغیرہ بہت اچھا کرتا ہے، papers بھی لکھتا ہے، لیکن باقی لوگوں کو نہیں سمجھا سکتا۔ اور بعض لوگ ہوتے ہیں، بے شک ان کے پاس تھوڑا علم ہو لیکن وہ تھوڑا علم بھی communicate کر سکتے ہیں اور دوسرے لوگوں کے level پہ آ کے وہ communicate کر لیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے compatibility بہت ضروری ہے، knowledge communication کے لئے compatibility بہت ضروری ہے۔ جب تک آپ ان جیسے حالات سے آشنا نہیں ہیں جن کو آپ پہنچا رہے ہیں، اس وقت تک آپ ان کو نہیں پہنچا سکتے۔ اسی لئے تو پیغمبر انسانوں میں آتے ہیں، فرشتے تو نہیں آتے، کیونکہ انسانوں کی ضرورتوں کو انسان ہی سمجھ سکتا ہے، انسانوں کی ضرورتوں کو انسان ہی سمجھ سکتا ہے۔

تو اس لئے یہ کام جب لیا جاتا ہے تو ان کو مخلوق کے ساتھ خلط ملط کیا جاتا ہے، یعنی مخلوق کے سے حالات میں ڈال دیا جاتا ہے۔ باقی جو لوگ ہوتے ہیں وہ ان کی طرح حالات ان کے ہو جاتے ہیں؛ نتیجتاً وہ بھی سوتے ہیں، لوگ بھی سوتے ہیں؛ وہ بھی خوش ہوتے ہیں، لوگ بھی خوش ہوتے ہیں؛ وہ بھی خفا ہوتے ہیں وہ بھی، لوگ بھی خفا ہوتے ہیں؛ وہ بھی کھاتے ہیں اور لوگ بھی کھاتے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جو کافروں کو انبیاء سے لینے سے مانع ہوتی ہے، یہ چیز۔ کیسے؟ کہتے ہیں: "یہ کیسے پیغمبر ہیں؟ یہ کھاتے ہیں، ہماری طرح بازاروں میں پھرتے ہیں"۔ حالانکہ یہ تو ان کے لئے بہت بڑی بات تھی کہ ظاہر ہے وہ ہمارے جیسے کام کر رہے ہیں تو ہم جیسے لوگ ان سے نفع حاصل کر سکتے ہیں، لیکن بیوقوفی کی ان لوگوں نے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جو مشائخ ہوتے ہیں جن کو اللہ پاک اس کے لئے استعمال فرماتے ہیں تو وہ پھر ان جیسے حالات میں لائے جاتے ہیں۔

اب حضرت نے اپنے عروج کے بارے میں بتایا ہے۔ عروج کا میں نے پہلے بتایا کہ عروج اللہ پاک کی طرف جب انسان کی توجہ ہوتی ہے اور مخلوق سے توجہ ہٹی ہوتی ہے اس کو عروج کہتے ہیں، معراج اسی سے ہے۔ تو اس وجہ سے حضرت نے اپنے عروج کے بارے میں یہ فرمایا کہ

پہلی مرتبہ جو عروج واقع ہوا اور مسافت طے کرنے کے بعد جب عرش کے اوپر پہنچا،

یہ روحانی معراج ہے

، تو دارالخلد یعنی بہشت اپنے متعلقات کے ساتھ مشہود ہوا؛

مشاہدہ ہے یعنی اس کا۔

اس وقت دل میں خیال آیا کہ وہاں (بہشت میں) بعض اشخاص کے مقامات کا مشاہدہ کروں؛ جب میں اس امر کی طرف متوجہ ہوا تو ان اشخاص کے مقامات نظر آئے اور ان اشخاص کو بھی ان کے مکان و مرتبہ اور شوق و ذوق کے اعتبار سے اپنے اپنے مرتبہ کے مطابق ان مقامات میں دیکھا۔

رحمٰن بابا رحمۃ اللہ علیہ ہمارے پشتو کے شاعر ہیں وہ فرماتے ہیں:

چې پهٔ يو قدم تر عرشه پورې رسي

ما ليدلې دے رفتار دَ درويشانو

"ایک قدم سے عرش تک پہنچتے ہیں، میں نے درویشوں کی رفتار کو دیکھا ہے، میں نے درویشوں کی رفتار کو دیکھا ہے"۔

تو وہ جو روحانی لحاظ سے انسان پہنچتا ہے تو انسان عروج حاصل کرتا ہے۔ پھر اس میں بات یہ ہے کہ دیکھو، یہ ساری چیزیں چونکہ شہود کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں، یعنی اس کا مشاہدہ روحانی طور پہ کرایا جاتا ہے، تو اس وقت یہ مسافت کے فارمولے یہ نہیں ہوتے جیسے ہمارے ہوتے ہیں۔ اب میں لاہور جاؤں گا تو کوئی گاڑی پکڑوں گا اور وہ گاڑی جس رفتار سے بھی جائے گی تو اس رفتار کے ساتھ وہ بڑھے گی، تو جتنا time اس میں لگے گا اتنا time اس میں لگے گا اور راستے میں جو رکاوٹیں وغیرہ آئیں گی تو وہ بھی آئیں گی؛ تو پھر میں اپنے وقت پہ پہنچ جاؤں گا۔ یہ ہمارا یہ والا طریقہ الگ ہے، یہ physical ہے اور وہ جو روحانی ہے وہ physical نہیں ہے؛ اس کے لئے یہ physical رکاوٹیں کچھ بھی نہیں ہیں۔ ہاں، روحانی رکاوٹیں ہو سکتی ہیں، اس کی اپنی رکاوٹیں ہیں؛ تو اگر اس طرح کوئی روحانی رکاوٹ نہیں ہے تو بس اس میں اللہ جل شانہ کے ساتھ ایسا تعلق ہو جاتا ہے کہ جیسے کسی چیز کی طرف وہ متوجہ ہوتا ہے تو وہ چیز مشہود ہو جاتی ہے۔ اگر اللہ پاک کا ارادہ ہو اس کو اس کا مشاہدہ کروانے کا تو وہ چیز مشاہدے میں آ جاتی ہے۔ بعض دفعہ اس کے لئے کچھ روحانی اسباب بھی ہوتے ہیں؛ مثلاً کچھ کلمات ہوتے ہیں وہ کہہ کر وہ چیز آ جاتی ہے؛ کسی کے لئے کیا، کسی کے لئے کیا، وہ سارا ظاہر ہے ہر ایک کا اپنا اپنا معاملہ ہے۔ لیکن بہرحال یہ اس کے لئے پھر یہ والی بات نہیں ہوتی کہ آپ اس کے لئے وہی speed والی بات، وہ نہیں۔ بھئی درمیان میں طریقہ کار ہی وہی نہیں ہے تو وہ ایک قدم والی بات اس وجہ سے ہے کہ ادھر سوچا اور ادھر پہنچ گئے۔ ہاں البتہ کچھ رکاوٹیں اگر ہوں تو ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے پھر ذکر کچھ خاص طریقے سے کرنا پڑتا ہے، متوجہ ہونا پڑتا ہے، اس کو مراقبہ کہتے ہیں؛ وہ مراقبہ کرتے ہیں، اس مراقبے کے ذریعے سے پھر وہ راستہ طے ہو جاتا ہے۔

تو ذکر اور مراقبہ، بالخصوص یہ لطائف کا جو ذکر ہے، وہ اس میں بہت زیادہ کام آتا ہے۔ پانچوں لطائف تو یہ اس کے گویا کہ پر ہیں، ان کے ذریعے سے روحانی پرواز ہوتا ہے۔ تو وہاں پہ حضرت نے فرمایا:

اس وقت دل میں خیال آیا کہ وہاں؛

دیکھو، دل میں خیال آیا کہ

وہاں (بہشت میں) بعض اشخاص کے مقامات کا مشاہدہ کروں۔

خیال آیا،

جب میں اس امر کی طرف متوجہ ہوا تو ان اشخاص کے مقامات نظر آئے اور ان اشخاص کو بھی ان کے مکان و مرتبہ اور شوق و ذوق کے اعتبار سے اپنے اپنے مرتبہ کے مطابق ان مقامات میں دیکھا۔

تو ظاہر ہے اللہ جل شانہ کا یہ غیبی نظام ہے وہ چلتا ہے، اور یہ ایسا عجیب نظام ہے کہ اِدھر ایک شخص بیٹھ کے ظاہر ہے اُدھر پہنچا ہو گا اور دوسرا آدمی ادھر ہو گا، اس کو کچھ بھی پتا نہیں چل رہا ہو گا کہ ہو کیا رہا ہے؛ تو یہ بات ممکن ہے، مطلب یہ اللہ پاک کا نظام ہے تو۔

دوسری مرتبہ پھر عروج واقع ہوا؛ بڑے بڑے مشائخ، ائمہ اہل بیت و خلفائے راشدین کے مقامات اور حضرت رسالت پناہ ﷺ کا خاص مقام اور اسی طرح باقی تمام انبیاء و رسل (علیہم السلام) کے مقامات، ان کے مرتبوں کے فرق کے مطابق اور فرشتوں کی بلند ترین جماعت کے مقامات عرش کے اوپر مشاہدہ میں آئے۔ اور اس قدر عروج واقع ہوا کہ مرکز زمین سے عرش تک یا اس سے کچھ کم، اور حضرت خواجہ نقشبند قدس اللہ تعالی سرہ الاقدس (اللہ تعالی ان کے پاکیزہ ترین اسرار کو اور بھی پاکیزہ بنائے) تک پہنچ کر ختم ہوا۔ اور اس مقام کے اوپر بلکہ معمولی سی بلندی کے ساتھ اسی مقام میں چند مشائخ مثلاً شیخ معروف کرخی اور شیخ ابوسعید خراز (رحمہما اللہ) تھے اور باقی مشائخ میں سے بعض حضرات اس مقام سے نیچے اپنے مقامات رکھتے تھے اور بعض مشائخ اسی مقام میں تھے لیکن ذرا نیچے تھے مثلاً شیخ علاؤ الدولہ و شیخ نجم الدین کبری (رحمہما اللہ)۔ اور اس مقام سے اوپر—

کون کہہ رہا ہے یہ؟ حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ، معروف سنی بزرگ ہیں وہ ساری عمر شیعوں سے لڑتے رہے ہیں، تو وہ کیا فرما رہے ہیں؟—

اس مقام سے اوپر ائمہ اہل بیت کے مقامات تھے اور ان کے اوپر خلفائے راشدین کے مقامات تھے۔

پتا چل گیا کہ ائمہ اہل بیت کا کیا مقام ہے؟

اصل میں ائمہ اہلِ بیت کے بارے میں حضرت نے ایک مکتوب میں انتہائی وضاحت کے ساتھ فرمایا ہے، بالکل حقائق سے پردہ اٹھایا ہے، اور فرمایا ہے کہ جو آپ ﷺ سے ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ملا اور پھر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ملا اور عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو، وہ سارا جو ہے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو بعد میں ملا۔ تو پھر علی کرم اللہ وجہہ سے ان کی اولاد کو، فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ملا اور پھر درجہ بدرجہ تمام آئمہ کا نام لیا ہے جو ہمارے جو امام ہیں: امام زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ، اور پھر امام باقر رحمۃ اللہ علیہ، امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ، امام موسیٰ کاظم رحمۃ اللہ علیہ؛ سب ترتیب وار وہ نام لئے ہیں کہ وہ ان تک پہنچا ہے اور پھر اس کے بعد پھر شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ تک آیا ہے۔ تو یہ ایک بات ہے کہ اللہ جل شانہ نے ایک ترتیب بنائی ہے جس میں عقیدے کی بھی حفاظت ہے اور جس میں اللہ پاک کی بڑی حکمت ہے۔

تو خلفائے راشدین میں اللہ پاک کا اپنا ایک نظام ہے اور پھر بعد میں دوسرا ہے۔ خلفائے راشدین میں یہ نظام ہے کہ جو جتنا نسبی لحاظ سے دور ہے وہ اتنا قریب ہے۔ نسبی لحاظ سے ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ زیادہ دور ہیں چاروں میں، پھر اس کے بعد نمبر 2 دور جو ہے وہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں، پھر نمبر 3 دور جو ہے وہ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں اور سب سے قریب علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں نسبی لحاظ سے؛ تو وہ ترتیب ایک، دو، تین، چار اس طرح بنائی ہے تاکہ یہ بات ہو کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں رشتے داری والی بات سے فیصلے نہیں ہوا کرتے۔ ٹھیک ہے ناں؟ یہ بات تو ہو گئی، لیکن اس کے بعد پھر آپ ﷺ کے جو نسبت کا جو ہے ظہور، وہ اللہ پاک نے فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنھا کے ذریعے سے حسنین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما، علی کرم اللہ وجہہ اور پھر ان کی اولاد یہ چلی آ رہی ہے۔ تو یہاں تک حضرت نے فرمایا ہے کہ اس کے بعد چاہے غوث ہے چاہے اقطاب ہے چاہے اوتاد ہے، سب کو ان کے ذریعے سے ملتا ہے۔ کون سا مکتوب شریف ہے؟ مکتوب نمبر 123 دفتر سوم۔ سب کو ان کے ذریعے سے ملتا ہے۔ پتا چلا؟ وہ نظام اللہ نے ایسا بنایا ہوا ہے۔

بعض دفعہ مشاہدہ بھی ہو جاتا ہے۔ ہمارا ایک ساتھی ہے، سادہ آدمی ہے لیکن بہرحال ان کو اللہ تعالیٰ دکھا دیتا ہے بعض دفعہ؛ تو مجھے بتایا کہ ایک دفعہ میں نے دیکھا کہ 8 انچ کی چوڑی پٹی ہے اور سخت اندھیرا ہے، گھپ اندھیرا ہے، یعنی ایک قدم آگے بھی انسان نہیں دیکھ سکتا۔ تو آپ نے مجھے پکڑا ہوا ہے اور میں 8 انچ کی پٹی پہ کہیں جا رہا ہوں اور اس کے بائیں طرف وہ نہیں ہوتا جیسے ہمارے پہاڑی علاقوں میں، وہ پشتو میں ہم "تاترین" کہتے ہیں، بہت گہرائی۔ اور دائیں طرف آپ ہیں اور آپ نے مجھے پکڑا ہوا ہے، آپ کے پاس torch ہے اور torch جو ہے بس اس کی روشنی تیز ہے لیکن وہ اندھیرا اتنا زیادہ ہے کہ بس صرف ایک قدم آگے تک پتا چلتا ہے؛ تو اس طریقے سے ہم چل رہے ہیں۔ کہتے ہیں: "پھر مجھے خیال آیا کہ حضرت نے مجھے پکڑا ہے تو ان کو کس نے پکڑا ہے؟ مطلب اندھیرا ہے"۔ کہتے ہیں: "جب میں نے غور کیا تو اہلِ بیت نے آپ کو پکڑا ہوا ہے، اہلِ بیت نے آپ کو پکڑا ہوا ہے"۔ تو یہ بات پکی بات ہے، جیسے مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ سب کو پھر ان کے ذریعے سے ملتا ہے۔ یہ نسبت ایسے ہی تقسیم ہوتی ہے، اس وجہ سے آپ دیکھیں کہ اولیاء اللہ ان کا بہت زیادہ خیال رکھتے ہیں۔ ان کے بارے میں بہت زیادہ۔ حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ ان کی آپ بیتی میں دیکھو کس طرح فرماتے ہیں، حضرت تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھو، مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھو۔ مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ، حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھو۔ سب اولیاء اللہ جو ہوتے ہیں، وہ بہت زیادہ اس کا خیال رکھتے ہیں اپنی نسبتوں کی حفاظت کے لئے۔

یعنی گویا کہ یوں سمجھ لیجئے کہ عمومی اصحاب کرام جو ہیں، ان میں خلفائے راشدین والا معاملہ تو الگ ہے، ان کا معاملہ الگ ہے، وہ اللہ پاک نے اپنا ایک نظام بنایا ہوا ہے۔ اور صحابہ کرام میں تینوں گروہ شامل ہیں: عام صحابہ بھی شامل ہیں، اہل بیت بھی شامل ہیں اور امہات المومنین بھی شامل ہیں۔ تو عمل کے لحاظ سے تو ہم نے صحابہ کے پیچھے جانا ہے، اس میں درمیان میں کوئی اور بات نہیں ہے؛ آپ ﷺ نے ان کو اس مسئلے میں اپنے ساتھ رکھا ہے اور یہ ساتھ رکھنے میں یہ والی بات بہت ضروری ہے کہ اگرچہ دین آیا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ پر اور آپ ﷺ ہی تمام چیزوں کے رہنما ہیں اور ہمارے لئے نمونہ ہے اسوۂ حسنہ آپ ﷺ کا، لیکن وہ اسوۂ حسنہ عمل کے لحاظ سے کیسے سمجھ میں آئے گا؟ اس کے لئے case studies چاہییں یعنی عملی مظاہرے چاہییں۔ دوسری بات یہ ہے کہ وہ عملی مظاہرے کیسے ہوں؟ اس میں یہ ہے کہ ہر ہر طبقے کے صحابہ یعنی مال دار، غریب، پہاڑی، صحرائی، کالے، گورے، مرد، عورتیں، ذہین، سادہ یعنی ہر قسم کے صحابہ جو ہیں وہ ان کو جو روشنی پہنچی ہے آپ ﷺ کی صحبت کی، تو اس میں سے جو ہر ہیرا ہے وہ اپنے انداز سے چمکا ہے۔ اب اسی ہیرے کی مناسبت سے جو باقی لوگ ہیں وہ ان سے وہی فیض حاصل کرتے ہیں؛ یعنی سادہ لوگ سادہ صحابہ کرام سے فیض حاصل کریں گے، ان کو دیکھ کر چلیں گے کہ آپ ﷺ نے بھی صحابہ نے سادہ دلی سے اس طرح کیا ہے تو ہم بھی اس طرح کر سکتے ہیں؛ اور بہت ذہین کے لئے وہ معیار ہے وہ جو بہت ذہین صحابہ کرام تھے۔ شہر والوں کے لئے شہر والے معیار ہیں، گاؤں والوں کے لئے گاؤں والے معیار ہیں، یعنی مردوں کے لئے مرد معیار ہیں، عورتوں کے لئے عورتیں معیار ہیں۔

ابھی ہمارے بعض لوگ ہوتے ہیں مخالف، میں کہتا ہوں ان کو۔ یعنی بعض لوگ ہوتے ہیں وہ ذرا بیچارے فقہاء کے خلاف بولتے بولتے ان کی فقہات ختم ہو چکی ہوتی ہے تو وہ یہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: "صَلُّوْا کَمَا رَأَیْتُمُوْنِیْ أُصَلِّیْ"، لہٰذا عورتیں بھی مردوں کی طرح نماز پڑھیں؛ کہتے ہیں یا نہیں کہتے؟ "عورتیں بھی مردوں کی طرح نماز پڑھیں"۔ خدا کے بندو! عورتوں کی بہت ساری چیزیں مردوں سے مختلف ہیں، بعض ایام میں وہ نماز ہی نہیں پڑھتیں، کیا وہ پھر بھی پڑھیں؟ مردوں کی طرح پڑھیں؟ تو اسی طریقے سے وہ عورتوں کی طرح پڑھیں گی اور وہ عورتیں جو صحابیات ہیں، صحابیات کو جو طریقہ آپ ﷺ نے سکھایا ہے نماز کا وہی طریقہ ان کا ہے، ان کے لئے معیار وہی ہے، ان کے لئے معیار مرد نہیں ہے۔ تو بہرحال یہ ہے کہ یہ جو میں عرض کرتا ہوں کہ اللہ پاک نے یہ فیض جو آپ ﷺ کی صحبت کا ہے تمام صحابہ کے اندر تقسیم فرما دیا۔ اب وہ صحابہ کرام معیار ہیں تمام لوگوں کے۔ تو صحابہ کرام کا تو یہ معاملہ ہے، لیکن اہل بیت کو اللہ پاک نے محبت کے لیے رکھا ہے، ان کے ساتھ محبت کرو، اس نسبت کی محبت۔ اس لئے فرمایا: "جو ان کے ساتھ ہو گا ان کی مثال نوح علیہ السلام کی کشتی کی طرح ہے؛ جو ان کے ساتھ ہے وہ بچ گیا اور جو ان کے ساتھ نہیں ہے تو وہ گیا"۔ تو یہ ظاہر ہے مطلب ہے کہ ان کی یہ بات ہے اور قرآن، "عترتى" اس کا آتا ہے، تو یہ ساری باتیں جو ہیں وہ کیا ہے؟ وہ ان کے اس مقام کو۔

اس وجہ سے صحابہ کرام وہ اہل بیت کو جانتے ہیں یعنی حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آخری صحابہ میں تھے، تو حضرت امام زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ ظاہر ہے اس وقت تشریف لائے تو ظاہر ہے وہ صحابی بیٹھے ہوئے تھے تو ان ان تک پہنچ گئے تو پوچھا: "کون؟" تو کسی نے کہا کہ: "یہ زین العابدین ہیں"۔ تو اتنے خوش ہوئے، ان کا ہاتھ لے کر اپنے سینے پر بڑی محبت کے ساتھ پھیرتے رہے اور کہتے ہیں: "یہ تو ہمارے ایسے ہیں، یہ تو ہمارے ایسے ہیں"۔ تو یہ جو چیز ہے اہلِ بیت کے ساتھ جو محبت ہے، یہ ایک ایسی چیز ہے کہ عمل کے لئے تو ہمارے پاس صحابہ نمونہ ہیں، وہ تو سب سے لینا ہے؛ لیکن یہ محبت کا جو تعلق ہے اس نسبت کا، اس کا اپنا ایک اثر ہے جس کا current آپ ﷺ کی صحبت تک جاتا ہے۔ تو یہ جو حضرت نے فرمایا کہ چاہے غوث ہو چاہے قطب ہو چاہے اوتاد ہو سب کو ان کے ذریعے سے ملتا ہے، لہٰذا ان کے ساتھ تعلق تو رکھنا پڑے گا ان کے ساتھ محبت تو رکھنی پڑے گی۔

چونکہ ہم پر بڑی محنت ہوئی ہے یعنی ایک قسم کے ٹھیک ہے بچانے کے لئے محنت ہوئی ہے اور اچھی بات ہے اللہ تعالیٰ ان کو اجر دے دے، لیکن اس کا ایک side effect بھی ہے؛ وہ side effect یہ ہوا کہ لوگ سمجھنے لگے شاید یہ اُن کے ہیں، مطلب ان کے ساتھ ان کو tally کر لیتے کہ "یہ یہ ان کے ہیں"، لہٰذا ان نظروں سے دیکھتے ہیں۔ اس وجہ سے بعض دفعہ اتنی بڑی جہالت کی بات وہ کر دیتے ہیں ہم میں سے لوگ کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے کہ اچھا آپ کو یہ بھی پتا نہیں ہے! مجھ سے بھی ایک صاحب نے پوچھا کہ کیا حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو امام کہا جا سکتا ہے، "امام حسین"؟ با قاعدہ پوچھا گیا مجھ سے۔ میں نے کہا: "میں تو آپ پر بڑا حیران ہو گیا کہ آپ نے یہ سوال کیسے کیا"۔ میں نے کہا: "میں امام ابو حنیفہ کو امام کہہ سکتا ہوں؟" کہتے ہیں: "کیوں نہیں"۔ کیوں نہیں کہہ سکتے؟ میں نے کہا: "خدا کے بندے! امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اپنے جس شیخ پر فخر فرماتے ہیں کہ میرے اگر دو سال ان کے ساتھ نہ گزرے ہوتے تو نعمان ہلاک ہو جاتا؛ لَوْلَا سَنَتَانِ لَھَلَكَ النُّعْمَان۔ مطلب امام جعفر صادق کے ساتھ میں دو سال نہ گزارتا تو میں ہلاک ہو جاتا۔ کسی استاذ کے بارے میں نہیں فرمایا، چار ہزار اساتذہ تھے حضرت کے اُن کے بارے میں نہیں فرمایا، اِن کے بارے میں فرمایا"۔

تو اب یہ دیکھیں، میں نے کہا: "امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ موجود ہیں حضرت مسجد نبوی میں ایک ستون کے پیچھے، امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کو پتا نہیں ہے، امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے لوگ مسئلے پوچھ رہے ہیں، حضرت جواب دے رہے ہیں"۔ ظاہر ہے مقام ایسا تھا حضرت کا۔ کسی نے چپکے سے کان میں کہا کہ: "امام جعفر صادق موجود ہیں اس ستون کے پیچھے"۔ اس کو سن کر حضرت کا رنگ زرد ہو گیا، اٹھا اور ڈرتے ڈرتے حضرت کے پاس پہنچا کہ: "حضرت! غلطی ہو گئی، مجھے پتا نہیں تھا آپ تشریف فرما ہیں اور میں جواب دے رہا ہوں، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ آپ تشریف لائیے مسند پر تشریف فرما ہوں، ہم پوچھیں گے آپ جواب دیں گے"۔ یہ ادب ہے۔ تو حضرت نے بہت عجیب بات فرمائی، حضرت نے فرمایا: "نہیں! میں نے آپ کے جوابات سن لئے اور آپ کے جوابات ہمارے آباؤ اجداد کے جوابات سے مختلف نہیں ہیں؛ آپ کے جوابات ہمارے آباؤ اجداد کے جوابات سے مختلف نہیں ہیں، لہٰذا آپ جواب دیتے رہیں کوئی فرق نہیں ہے"۔ یہ وہ سند ہے جو امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کو امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ سے ملا ہے، یعنی یہی اجازت ہوتی تھی اس وقت، تو یہی اجازت ہوتی تھی تو حضرت کی طرف سے ان کو ملا ہے۔

دوسری یہ بات اس میں ایک اور بات آئی ہے، زیدی فقہ بھی گزرا ہے، یہ اہلِ بیت کا فقہ تھا؛ امام زید رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ زیدی فقہ اور فقہ حنفیہ بالکل تقریباً ایک جیسے فقہ ہیں، بہت کم فرق ہے ان میں، بہت کم فرق ہے؛ مطلب اگر آپ دیکھیں تو بہت کم فرق پائیں گے زیدی فقہ میں۔ اصل میں بعد میں ہوا۔ کیا امام جعفر صادق رحمۃ اللہ صاحب شیعہ تھے؟ "جعفری" تو فقہ جعفری کا نام جو لیتے ہیں۔ ایک دفعہ میں نے ایک شیعہ سے یہ بات کی، میں نے کہا: "تم جعفری نہیں ہو، ہم جعفری ہیں"۔ کہتے ہیں: "یہ کیا بات کی تم نے؟" میں نے کہا: "تم جعفری نہیں ہو، ہم جعفری ہیں"۔ کہتے: "وہ کیسے؟" میں نے کہا: "دیکھو، امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کو حضرت امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ نے اجازت دی کہ تم جواب دیتے رہو، آپ کے جوابات مختلف نہیں۔ تو ظاہر ہے حضرت کی جو بات ہے وہ امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کی بات ہو گئی، لہٰذا اس نسبت سے ہم تو جعفری ہو گئے"۔ تو پھر میں نے کہا: "آپ سوال کر سکتے ہیں پھر باقری کیوں نہیں ہیں؟" میں نے کہا: "سوال ٹھیک ہو گیا، پھر میں کہوں گا زین العابدینی کیوں نہیں ہیں؟ تو پھر آپ کیا جواب دیں گے؟ پھر حسینی کیوں نہیں ہیں؟" بات صحیح ہے کہ یہ تدوین کی بات ہے، تدوین حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی طرف سے ہوئی ہے، لیکن چیز ان کی ہے، چیز ان کی ہے اور باقی تدوین ان ہی کے ذریعے سے ہوئی۔ میں نے کہا: "ہم اس لئے ہیں کہ ہم ایک ہی فقہ پہ چل رہے ہیں۔ آپ عراق کے حنفی کو دیکھو، آسٹریا کے حنفی کو دیکھو، ترکی کے حنفی کو دیکھو، پاکستان کے حنفی کو دیکھو، ہندوستان کے بنگلہ دیشی؛ سب ایک جیسی نماز پڑھیں گے۔ تو ہمارا فقہ تو established ہے اس میں فرق نہیں ہے، تو ہم وہی اسی فقہ پر ہیں جو آ رہا ہے اور وہ جعفری تھا، تو لہٰذا ہم تو جعفری ہیں"۔

باقی تم لوگ، میں نے کہا: "تجھ سے میں نے سنا ہے کئی دفعہ کہ تین آیت اللہ مل کر کوئی بھی چیز بھی بدل سکتے ہیں، تو میں نے کہا آپ کے فقہ میں کتنی دفعہ آیت اللہ ؤں نے مل کر چیزیں بدل لی ہوں گی؟ ابھی تک آپ کے اندر مجتہد کا صیغہ باقی ہے، مطلب یہ ہے کہ فلاں مجتہد، فلاں مجتہد۔ تو آپ کے تمام مجتہدین کا مذہب کیا کیا ہو گا؟ لہٰذا آپ کی چیز تو منتشر ہو گئی، وہ تو وہی چیز رہی ہی نہیں جو امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کی تھی، وہ تو تبدیل ہو گئی۔ وہ آپ لوگوں کا فقہ ہے، وہ ان کا فقہ نہیں ہے؛ جب کہ ہمارا فقہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے ذریعے سے امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کا فقہ ہے"۔ بس اس پر وہ چپ ہو گیا۔ میں نے کہا: "ہمارا ہے اور تمہارا نہیں ہے"۔ اور میں ثبوت دیتا ہوں؛ وہ پر ہمارے جواد ساتھی تھے، عراق کے تھے، وہ وہ class fellow تھے ہمارے؛ میں نے کہا: "دیکھو، تم بھی اثنا عشری، وہ بھی اثنا عشری؛ وہ اس طرح ہماری طرح سلام پھیرتے ہیں، ہماری طرح سلام کرتے ہیں اور تم اس طرح اس طرح کرتے ہو تو کیسے؟ تمہارا فقہ ہے کیسے ایک ہوگیا؟"

تو مطلب میرا یہ ہے کہ یہ زیدی جو امام زید رحمۃ اللہ علیہ ہیں وہ تو امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ان کے ساتھ تھے، خروج میں شامل تھے، جس کے بعد پھر وہ ظاہر ہے وہ خروج کامیاب نہیں ہوا تو پھر اس کے حضرت نے فتویٰ دے دیا کہ نہیں جب تک آپ کے پاس قوت نہ ہو تو پھر اس وقت تک خروج نہیں کرنا چاہیے۔ تو اسی کے بعد ہی تو ہوا تھا؛ تو مطلب یہ ہے کہ یہ سب اکٹھے تھے تو سب حضرات جتنے بھی ہیں ہمارے، امام ابو حنیفہ، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ، یہ امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ تھے؛ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ امام موسیٰ کاظم رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ تھے اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ اپنے وقت کے۔ تو مقصد میرا یہ ہے کہ یہ حضرت نے جو فرمایا، یہ اصل میں اس کو ہمیں ماننا چاہیے، تو اہلِ بیت کا جو مقامات کا ذکر تھا۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ