رسول اللہ ﷺ کا کامل توکل، شجاعت اور عفو و درگزر

درس نمبر 115- باب فی الیقین والتوکل - اشاعتِ اول: 13 نومبر، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

·       رسول اللہ ﷺ کی بے مثال شجاعت و بہادری

·       اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل توکل اور بھروسہ

·       اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کی غیبی حفاظت اور رعب

·       نبی کریم ﷺ کا جانی دشمن کے ساتھ عفو و درگزر اور حسنِ سلوک

·       کفار میں موجود اچھی صفات اور ان کا اخروی انجام

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ

فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ،

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.

وَفِي رِوَايَةٍ، قَالَ جَابِرٌ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالٰى عَنْهُ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَاتِ الرِّقَاعِ، فَإِذَا أَتَيْنَا عَلَى شَجَرَةٍ ظَلِيلَةٍ تَرَكْنَاهَا لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، وَسَيْفُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَلَّقٌ بِالشَّجَرَةِ، فَاخْتَرَطَهُ فَقَالَ: تَخَافُنِي؟ قَالَ: «لَا». قَالَ: فَمَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قَالَ: «اللّٰهُ».

وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيِّ فِي صَحِيحِهٖ: قَالَ: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قَالَ: «اللّٰهُ». قَالَ: فَسَقَطَ السَّيْفُ مِنْ يَدِهٖ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّيْفَ، فَقَالَ: «مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟» فَقَالَ: كُنْ خَيْرَ آخِذٍ. فَقَالَ: «تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللّٰهِ؟» قَالَ: لَا، وَلٰكِنِّي أُعَاهِدُكَ أَنْ لَا أُقَاتِلَكَ، وَلَا أَكُونَ مَعَ قَوْمٍ يُقَاتِلُونَكَ. فَخَلَّى سَبِيلَهٗ، فَأَتَى أَصْحَابَهٗ فَقَالَ: جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ خَيْرِ النَّاسِ.

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ.

اس حدیث شریف کا ایک حصہ تو کل ہوا تھا اس کا ترجمہ، اور ایک حصہ ان شاء اللہ آج اس کے بارے میں بات کرتے ہیں۔

ایک روایت میں حضرت جابر رضي الله عنه بیان کیا کہ ہم غزوۂ ذات الرقاع میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ جب ہم ایک سایہ دار درخت کے پاس سے گزرے تو ہم نے اس کو رسول اللہ ﷺ کے لیے چھوڑ دیا۔ ایک آدمی مشرکوں میں سے آیا، رسول اللہ ﷺ کی تلوار درخت کے ساتھ آویزاں تھی۔ اس نے تلوار کو میان میں سے نکالتے ہوئے کہا: کیا تم مجھ سے ڈرتے ہو؟ آپ ﷺ نے کہا: نہیں۔ پھر اس نے کہا: تم کو مجھ سے کون بچا سکتا ہے؟ فرمایا: اللہ۔

چنانچہ تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی۔ رسول اللہ ﷺ نے تلوار کو پکڑتے ہوئے فرمایا: کون تجھ کو مجھ سے بچا سکتا ہے؟ اس نے کہا: آپ بہترین پکڑنے والے بن جائیں۔

آپ ﷺ نے کہا: کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے جواب دیا: نہیں، لیکن میں تجھ سے معاہدہ کرتا ہوں کہ تم سے جنگ نہیں کروں گا اور نہ ہی کسی ایسی جماعت میں شریک ہوں گا جو تیرے ساتھ جنگ و جدال کر رہی ہو۔ آپ ﷺ نے اس کو رہا فرمایا اور اپنے ساتھیوں کے پاس آ کر کہنے لگا کہ میں بہترین انسان کے پاس سے تمہارے پاس آیا ہوں۔

تو یہ دیکھ لیں، بعض صفات ایسی ہوتی ہیں جو کفر کی حالت میں بھی انسان میں ہوتی ہیں۔ یعنی کفر کسی کی اچھی صفات کو نہیں مٹاتا۔ ہاں البتہ یہ ہے کہ اس کی نیت چونکہ مختلف ہوتی ہے تو اس کو فائدہ نہیں ہوتا۔ یعنی آخرت میں اس کا فائدہ نہیں ہوتا ایمان نہ ہونے کی وجہ سے۔ لیکن یہ ہے کہ جیسے کوئی سخی، حاتم طائی سخی تھے نا ابھی ادھر بات ہوئی ہے مسجد میں تو حاتم طائی سخی تھے۔ تو ان کی سخاوت آپ ﷺ نے بھی مانی ہے۔

اس طرح وہ بعض لوگ بڑے شجاع ہوتے تھے کفار میں۔ تو ٹھیک ہے کہ ان کی اپنی صفت تھی۔ تو یہ چونکہ عہد کا پاس رکھنے والا شخص تو نظر آتا تھا حالانکہ اس نے ایمان قبول نہیں کیا تھا لیکن کم از کم اس بات کا عھد کرلیا۔

تو یہ بات ہمیں اس سے پتہ چلتی ہے، ایک تو آپ ﷺ بڑے شجاع تھے۔ دوسرا آپ ﷺ کا اللہ پر بھروسہ اور توکل بہت زیادہ تھا۔ کہ اپنے وسائل سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی قدرت پر یقین رکھتے تھے۔ اور توکل یہی چیز ہوتی ہے۔ تو آپ ﷺ کا اللہ پر توکل بہت زیادہ تھا۔

تیسری بات اس میں یہ بات ثابت ہوئی کہ اللہ پاک نے آپ کی حفاظت کا ایسا بندوبست کر رکھا تھا کہ اس کو کوئی توڑ نہیں سکتا تھا۔ مثلاً رعب یہ بھی تو بندوبست ہے۔

اور چوتھی بات اس میں سے یہ پتہ چلی کہ جو عہد کو پورا کرنا ہے اور عہد اچھا عہد کرنا ہے، یہ اچھا ارادہ کرنا، یہ ایک اچھی صفت ہے۔ ایک اچھی صفت ہے۔

اللہ جل شانہٗ ہم سب کو ایسے ہی اچھے اچھے اعمال کی توفیق عطا فرمائے، جس سے اللہ پاک راضی ہوتا ہے۔ اللہ پاک اپنی رضا کے سارے کاموں کی کرنے کی ہمیں توفیق عطا فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ. رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلمِينَ.



رسول اللہ ﷺ کا کامل توکل، شجاعت اور عفو و درگزر - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور