اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،
أَمَّا بَعْدُ، فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔
معزز خواتین و حضرات، -ماشاءاللہ- آج منگل کا دن ہے۔ جو مثنوی شریف کا درس ہے، اس میں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس میں جو ترجمے کا کام ہے، وہ سفر میں زیادہ تر ہوا ہے۔ تو اس وجہ سے ایک -ماشاءاللہ- کافی مجاہدے سے ہوا ہے۔
اس میں حکایات کے ذریعے سے تشریح ہوتی ہے بہت ساری اہم چیزوں کی۔ تو اس وجہ سے حکایات پہ نہیں توجہ دینی چاہیے، اس میں اصل میں جو مفاهیم اور مضامین ہوتے ہیں نا، وہ اصل چیز ہوتی ہے۔ تو ہم لوگوں کو خیال اسی کا رکھنا چاہیے۔
یہ قصہ اصل میں ایسا ہوا تھا کہ یہود کا جو بادشاہ تھا، وہ عیسائیوں کا دشمن تھا۔ تو وہ عیسائیوں کو بے دریغ قتل کر رہا تھا۔ تو ظاہر ہے جب اس طرح بے دریغ قتل ہو رہا ہو تو لوگوں کا مزاج ان کے خلاف بنتا ہے۔ تو وزیر جو تھا وہ بڑا کائیاں تھا۔ اس نے کہا، بادشاہ سلامت ایک بات عرض کرتا ہوں، آپ جو اس طرح بے دریغ ان کو قتل کرتے ہیں اس سے آپ کی Reputation اچھی نہیں بن رہی۔ میں کوئی ایسا طریقہ ڈھونڈتا ہوں کہ یہ خود ختم ہو جائیں اور آپ کے اوپر کوئی بات نہ آئے۔ اس نے کہا، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ کہا بس آپ میری بات پہ عمل کر لیں، ہو جائے گا۔ کہا کیا بات؟ کہا آپ یوں کریں کہ میرے ناک، کان کاٹ لیں، جیسے میں آپ کا معتوب ہوں، یا کسی میں، میں کسی کا Agent ہوں جیسے، اور پھانسی گھاٹ پہ مجھے لے جائیں۔ پھر کسی سے کہہ دیں کہ میری سفارش کر لے، کہ چلو جی اس کو ماریں نہیں بس اس کو ملک بدر کر لیں۔ پھر آپ اس کی سفارش مان لیں اور مجھے ملک بدر کریں۔ میں ان لوگوں میں چلا جاؤں گا، تو یہ مشہور کر دوں گا کہ میں چونکہ عیسائی تھا اندر سے، اور مجھے پتہ چل گیا تھا کہ حق یہ ہے۔ تو بادشاہ اس پر مجھ پر غصہ ہو گیا، اور چونکہ میری بہت زیادہ خدمات تھیں، اس وجہ سے مجھے مارا نہیں لیکن یہ کہ مجھے ملک بدر کر دیا اور یہ سزا مجھے دی۔ اس سے ان کا ہیرو بن جاؤں گا۔ پھر میں ظاہر ہے ان کو اپنے طریقے سے رکھ لوں گا۔
تو ایسے ہی بادشاہ نے کیا تو پھر جب یہ ملک بدر ہو گیا، عیسائیوں نے ان کو ہاتھوں ہاتھ لے لیا۔ بہت سارے لوگوں نے اس کو اپنا امام اور پیشوا بنایا۔ چھ سال تک اس طرح کرتا رہا۔ جو لوگ، اس میں بارہ امیر تھے۔ بارہ امیروں کو، ہر ایک کو الگ الگ انجیل پڑھائی۔ اور ہر ایک کو یہ کہا کہ اصل تم میرے خلیفہ ہو۔ اور جس وقت میں مر جاؤں، تو تم نے سب کو جمع کرنا ہے، جو تیرے سے انکار کر لے، تیری خلافت نہ مانے، اس کو قتل کر دے یا قید کر دے۔ ہر ایک سے یہ کہا۔
تو بس پھر اس کے بعد یہ ہوا کہ آخر چھ سال کے بعد یہ خلوت نشین ہو گیا۔ تو مرید بیچارے وہ کہہ رہے تھے کہ آپ باہر آئیں، تشریف لائیں، اور آپ ہماری یہ کریں۔ یہ بہت چالاکی کے ساتھ باتیں کر رہا تھا۔ اس کے بعد ابھی
دفتر اول: حکایت: 31
وزیر کا مریدوں کو خلوت شکنی سے مایوس کر دینا
1
اندر سے وزیر نے آواز دی انہیں
اے مریدو تم پہ یہ واضح رہے
2
کہ دیا پیغام عیسیٰؑ نے ہے یوں
میں تمام یاروں سے اب الگ رہوں
اب میرا کام بس تمہارے ساتھ درمیان میں ختم ہو گیا، اب میں الگ رہنا چاہتا ہوں۔ یا کریم!
3
منہ دیوار میں دے کے الگ رہوں
ہستی سے اپنی بھی میں جدا رہوں
(اور حکم ہے کہ) دیوار میں منہ دے کر اکیلا بیٹھ جا اور اپنی ہستی سے بھی علیحدگی اختیار کر۔
وہی وہ تصوف کی جو باتیں ہیں نا، وہ کر رہا تھا۔
4
اس کے بعد بولنے کی اجازت نہیں
حق یہ ہے اسکی اب ضرورت نہیں
بس اب بولنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ ہاں بس ٹھیک ہے جی جو پیغام تھا پہنچا دیا آپ لوگوں کو۔
5
الوداع اے دوستو میں مر گیا
آسمان پہ چلنے کے اسباب کر گیا
یعنی اب مجھے مرا ہوا سمجھو۔
اے دوستو الوداع! (اب سمجھ لو کہ) میں مر گیا (اور چوتھے آسمان پر عیسیٰ علیہ السلام کے پاس) اپنا اسبابِ قیام اٹھا لے گیا۔ (یعنی اب عنقریب ایسا ہونے والا ہے۔)
6
تاکہ بھٹی میں میں لکڑی سا نہ جلوں
خواہشات کے جال میں اب نہ پھنسوں
مطلب یہ ہے کہ ابھی میں یہ قربانی دے کے، جو جہنم میں لکڑی کی طرح میں نہ جلوں۔ اور خواہشات کے جال میں اب نہ پھنسوں، اب میں اپنی ہر طرح سے مشقت کو برداشت کرتا ہوں اور میرے جو زمین پر ما سوائے اللہ کے تعلقات ہیں، اس سے میں اپنے آپ کو نکال رہا ہوں۔ اب اس کے بعد میں چوتھے آسمان پر عیسیٰ علیہ السلام کے پہلو میں بیٹھوں گا۔
اب جو شارح ہیں اس کے وہ یہ کہہ رہے ہیں
سوال: احادیث سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج میں دوسرے آسمان پر حضرت عیسیٰ علیہ و علیٰ نبینا الصلوٰۃ والسّلام ملے تھے۔ جس سے معلوم ہوا کہ ان کا مقام فلکِ دوم پر ہے، مگر یہاں ان دونوں شعروں میں آسمان چہارم پر ان کا موجود ہونا مذکور ہے۔
جواب: چونکہ شعراء میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا فلک چہارم پر ہونا مشہور ہے اس لیے مولانا نے بناءً علی المشہور ایسا لکھ دیا، یا اس لیے کہ یہ مقولہ ہے وزیر کا جو نصارٰی سے مخاطب ہے اور شاید ان نصارٰی کا یہی عقیدہ ہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام چوتھے آسمان پر ہیں۔ اس لیے وزیر اپنے قول و فعل کو ان کے عقائد کے موافق رکھ کر فریب دے رہا ہو۔
8
اور بلا کر بارہ امیروں کے ساتھ
مخفی خلوت میں جداگانہ کی بات
اور اس وقت اس نے ان تمام (بارہ کے بارہ) امیروں کو بلا کر ہر ایک کے ساتھ خلوت میں (جداگانہ) بات چیت کی۔
راز کے ساتھ۔
دفتر اول: حکایت: 32
وزیر کا امیروں میں سے ہر ایک کو ایک خاص طرز اور طریق سے دھوکا دینا
1
بولے ہر ایک کو بدینِ عیسوی
بعد مرے نائب بنو گے کہ تو ہی
(وزیر نے) ہر ایک امیر کو کہا کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کے دین میں تو ہی خدا کا نائب اور میرا خلیفہ ہے۔
2
کوئی دوسرا بھی جو ہے امیر ترا
متبع عیسٰیؑ نے وہ بنا دیا
اور وہ دوسرے امیر (سب) تیرے تابع ہیں (خود) عیسیٰ علیہ السلام نے سب کو تیرے پیرو بنا دیا ہے۔
3
ہر کہ جو امیر گردن کشی کرے
قتل کرو اسے یا قید اسکو کر دے
(باقی اُمراء میں سے) جو امیر گردن کشی کرے اس کو گرفتار کر کے یا تو قتل کر دے یا اسے قید میں رکھ۔
4
لیک جب تک زندہ ہوں تو چپ رہنا مگر
سرداری کی سعی تو بالکل نہ کر
اس وقت تک بالکل حرکت نہ کر، ایسی کوئی بات زبان پہ نہیں آنی چاہیے، جس سے لوگوں کو شک ہو جائے۔ یعنی
اس راز کو (کسی سے) بیان نہ کرنا۔ جب تک کہ میں مر نہ جاؤں اس سرداری کے لیے سعی نہ کرنا۔
5
جب تک نہ مروں راز فاش کرنا نہیں
اپنے غلبے کا کرنا دعویٰ نہیں
جب تک کہ میں مر نہ جاؤں اس راز کو فاش نہ کرنا اپنے لیے بادشاہی اور غلبہ کا دعویٰ نہ کرنا۔
6
یہ لو دفتر یہ احکام مسیحؑ کے ہیں
سامنے اسکی امت کے یہ تو پڑھے
مطلب ان کو ایک دفتر دے دیا کہ یہ احکام مسیح علیہ السلام کے ہیں، اب تم اس کے نائب ہو اور یہ اپنی امت کو پیش کرو گے۔ اللہ اکبر!
7
ہر امیر کو بولے احکامات جدا
تو نائب میرا نہیں اب تیرے سوا
مطلب تو ہی میرا نائب ہے۔
ہر سردار کو جدا جدا (بلا کر) اس نے یہی کہا کہ تیرے سوا دین الٰہی میں کوئی نائب نہیں۔
8
ہر ایک کو خلیفہ در پردہ رکھا
جو کہا اک کو دوسروں کو بھی کہا
ہر ایک کو در پردہ (خلافت کے ساتھ) معزز و ممتاز کیا۔ جو کچھ (اس) ایک کو کہا وہی اس (دوسرے) سے کہا۔
9
ہر اک کو دفتر اس نے الگ دیا
مطلب ان سب کو جدا جدا رکھا
ہر ایک (سردار) کو اس نے ایک دفتر دیا۔ مطلب یہ ہے کہ ہر ایک (دفتر) دوسرے (دفتر) کے خلاف تھا۔
10
سارے دفتر ایک دوسرے سے مختلف
تھے جیسے جو شکلِ با تا اور الف
تمام دفاتر (ایک دوسرے سے) مختلف تھے۔ جس طرح الف با تا (وغیرہ) حروفِ (تہجی) کی شکلیں (مختلف ہوتی ہیں)۔
11
اک دفتر کا حکم دوسرے سے جدا
جیسے کیا ہم نے ہے اس کو بیاں
(اس طرح کہ) اس دفتر کا حکم اس (دفتر) کے بر خلاف تھا۔ قبل ازیں اس تخالف کو ہم بیان کر چکے ہیں۔
پہلے واقعات میں بیان ہو چکے ہیں۔
12
مختلف تھے اول سے آخر تک سب
جیسا کہ اوپر بتایا ہے یہ سب
(سب مسائل) اوّل سے آخر تک ایک دوسرے کے خلاف (تھے) بیٹا! ہم اس کی تفصیل (پہلے) بیان کر چکے ہیں۔
دفتر اول: حکایت: 33
مریدوں سے تنہا ہو کر وزیر کا خودکشی کرنا
اس پر بڑی حیرت ہوتی ہے کہ لوگ کتنی قربانی کرتے ہیں ظاہر ہے وہ عجیب صورتِ حال ہے۔ یعنی باطل عقیدے پر ہو کر بھی۔
1
بند رکھا دروازہ چالیس روز پھر
خود کشی کر لی پھر اس نے اے پسر
وزیر نے اس کے بعد چالیس روز دروازہ بند رکھ کر خود کشی کر لی اور اپنے وجود سے نجات پا گیا۔
2
لوگ اس کے مرنے سے جب آگاہ ہوئے
تھی قیامت رو بہ واویلا ہوئے
جب لوگوں کو پتہ چلا کہ وہ مر گیا ہے، تو بس ایک قیامت برپا ہو گئی، اور اس کی قبر پر کہرام مچ گیا۔
3
لوگ اس کی قبر پہ جمع ہوئے
کپڑے پھاڑے چیخے بر نوحہ ہوئے
اس کی قبر پر لوگ نوحہ میں بال نوچتے اور کپڑے پھاڑتے ہوئے جمع ہو گئے۔
4
اس قدر تھے لوگ جمع پھر وہاں
گننے کی صورت تھی اس کی پھر کہاں
اس کی قبر پر لوگ اس قدر(اتنی تعداد میں) جمع ہوئے کہ ان کی جمعیت کو جو عربوں ترکوں، رومیوں اور کردوں پر مشتمل تھی خدا ہی گن سکتا تھا۔
5
خاک قبر کی سر پہ وہ ڈالتے رہے
درد اسکا دوا وہ سمجھتے رہے
اس کی تربت کی مٹی اپنے سروں پر ڈالتے تھے۔ اور اس کے درد کو (اپنا) اچھا علاج سمجھتے تھے۔
6
قبر پہ اس کی بہایا خونِ چشم
غم تھا اس کے مرنے کا جو اس قسم
ان لوگوں نے (برابر) ایک مہینہ بھر اس کی گور پر اپنی دونوں آنکھوں سے خون بہایا۔
کیونکہ ان کو بڑا غم تھا اس بات کا۔
7
سب فراق میں اس کے بس روتے رہے
چہرے اپنے آنسو سے دھوتے رہے
سب کے سب اس کے دردِ فراق سے روتے تھے۔ کیا بادشاہ اور کیا (باقی) چھوٹے بڑے (لوگ)۔
دفتر اول: حکایت: 34
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اُمت کا یہ دریافت کرنا کہ تم میں سے ولی عہد کون ہے
1
ایک ماہ کے بعد لوگوں نے کہا
کون ہوگا جو ہو اپنا پیشوا
یعنی ایک ماہ ماتم کرنے کے بعد، ان کو خیال ہو گیا کہ اب ہمارا پیشوا کون ہونا چاہیے۔
ایک مہینے بعد کے لوگوں نے کہا اے حضرات! سرداروں میں کون صاحب اس (پیشوائے مرحوم) کی جگہ پر قائم ہوں گے؟
2
تاکہ ہم سمجھیں انہیں اپنا امام
ہو بدولت اس کے مہم اپنے تام
تاکہ ہم اُس (مرحوم) کی جگہ اِس کو امام سمجھیں۔ تاکہ ہماری مہم اس کی بدولت سر انجام پائے۔
3
تاکہ ہم بس ان کی اطاعت کریں
ان کی دستِ شفقت پر بیعت کریں
(تاکہ) ہم اس کی (ہر) تجویز کی اطاعت کریں، اس کا آسرا پکڑیں اور اس سے بیعت کریں۔
4
چونکہ دے گیا ہم کو مفارقت کا داغ
بعد غروبِ آفتاب کے بن جائے چراغ
جب سورج غروب ہو گیا اور ہم کو داغِ (جدائی) دے گیا تو (تاریکیِ ہجر میں) اس کی جگہ چراغ ضروری ہے (جیسے کہ سورج ڈوبنے کے بعد چراغ چلایا جاتا ہے)۔
5
چونکہ اب باقی نہیں ہے روئے یار
کوئی نائب ہو بطورِ یادگار
جب آنکھوں کے سامنے سے محبوب (مرشد) کی صورت جاتی رہی تو ہمارے لیے اس کی طرف سے کوئی نائب بطور یادگار چاہیے۔
6
فصلِ گل گزری، ہوا گلشن خراب
کردیں خوشبو حاصل ہم اب از گلاب
جب (فصلِ) گل گزر گئی اور باغ ویران ہو چکا تو پھول کی خوشبو کس (چیز) سے تلاش کریں؟ گلاب سے؟
مطلب: جب مرشد وفات پاجائے تو اس کے خلیفہ سے فیض حاصل کرنا چاہیے۔
7
جب خدا کو دیکھ نہیں سکتے ہیں ہم
نائب پیغمبر ہے اس کی کر رقم
یعنی خدا کو تو ہم نہیں دیکھ سکتے ہیں، لیکن اس کا جو نائب ہے پیغمبر، اس سے ہم استفادہ کر سکتے ہیں۔
چونکہ خدا (بظاہر) دیکھنے میں نہیں آتا۔ (اس لیے) یہ پیغمبر خدا کے نائب ہیں۔
مطلب: اوپر ذکر تھا کہ مرشد کی عدم موجودگی میں اس کے نائب یا خلیفہ کی ضرورت ہے۔ اب اس نیابت و خلافت کے ذکر کی مناسبت سے ایک اور مضمون کی طرف انتقال فرماتے ہیں۔
اصل میں مضامین اب آ رہے ہیں۔ حضرت کو تو موقع چاہیے نا، موقع مل جائے پھر اس کے بعد پھر وہ سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
وہ یہ کہ چونکہ اسی طرح اللہ تعالیٰ، جو تمام اوامر و احکام کا صادر کرنے والا ہے، لوگوں کو نظر نہیں آ سکتا اور اجرائے احکام و اشاعت اوامر کے لیے حاکم کا لوگوں میں مُعایَن و ملاحظہ ہونا لازمی ہے، اسی لیے حضراتِ مرسلین صلوٰت اللہ علیہم اجمعین اللہ تعالیٰ کے نائب قرار پائے تا کہ وہ مُعاشر بالخلق ہونے کی وجہ سے احکامِ الٰہیہ کی بآسانی تبلیغ کر سکیں۔ حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر مظہری میں آیہ ﴿وَ لَوْ جَعَلْنٰہُ مَلَکًا لَّجَعَلْنٰہُ رَجُلًا﴾ (الانعام: 9) کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ رسول خالق اور مخلوق کے مابین برزخ ہوتا ہے اور برزخ میں دو مناسبتوں کا ہونا ضروری ہے۔ ایک مناسبت خالق کے ساتھ اور دوسری مخلوق کے ساتھ، تاکہ خالق سے فیوض حاصل کر کے مخلوق پر ان کا افاضہ کرے، کیونکہ استفاضہ اور افاضہ مناسبت کے بغیر ممکن نہیں۔
اس کو حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے بہت تشریح کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ کئی مکتوبات میں۔
اس کا اگر نچوڑ نکالا جائے، تو یہ ہے کہ حضرت فرماتے ہیں کہ سیر الی اللہ جس وقت انسان کی مکمل ہو جائے، تو پھر اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسا تعلق پیدا ہو جاتا ہے، یعنی فنا و بقاء کے بعد، جس کو شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے، لطیفہ روح کا فرمایا ہے کہ لطیفہ روح کھل جاتا ہے اور لطیفہ سِر۔
لطیفہ روح جو ہے، اس کے ذریعے سے ملائے اعلی کے ساتھ انسان کے دل کا تعلق ہو جاتا ہے۔ اور لطیفہ سِر کے ذریعے سے انسان کی عقل کا تعلق وہ ملائے اعلی کے ساتھ ہو جاتا ہے۔ اب یہ شخص جو ہوتا ہے درمیان میں لوگوں کا ہوتا ہے۔ تو حضرت نے فرمایا کہ مجدد صاحب رحمۃ اللہ نے فرمایا، کہ مقامِ قلب میں جو جدال ہوتا ہے، نفس اور روح کا۔ یعنی نفس روح کو چھوڑنا نہیں چاہتا۔ اور روح نکلنا چاہتی ہے اس کے چنگل سے نکلنا چاہتی ہے۔ پھڑپھڑاتی ہے، اسی کو جذب کہتے ہیں۔ تو ایسی صورت میں، اس کی مدد کرنی پڑتی ہے۔ اس کی مدد کرنی پڑتی ہے۔ اور وہ مدد کیسے ہوتی ہے؟ سلوک طے کیا جائے۔ سلوک کیا ہے؟ انسان کے اندر جو رذائل ہیں، وہ نفس کے پنجے ہیں۔ سبحان اللہ! انسان کے اندر جو رذائل ہیں، وہ کیا ہیں؟ وہ نفس کے پنجے ہیں۔ ان پنجوں میں روح پھنسی ہوئی ہے۔ اس سے نکالنا ہے۔
تو ان تمام رذائل کو دبانا ہوتا ہے۔ تاکہ روح آزاد ہو جائے۔ مثال کے طور پر، سستی، بہت بڑا پنجہ ہے نفس کا۔ اس سستی کو دور کرنا پڑے گا، یہ وظیفوں سے دور نہیں ہوتی۔ اکثر لوگ کہتے ہیں جی کوئی وظیفہ دے دیں کہ ہم یہ نماز پڑھنا شروع کر لیں۔ ان کو کہتے ہیں اچھا وظیفہ مانگو نا کہ کھانا کھانا شروع کر لیں۔ اس کے لیے تو کوئی وظیفہ نہیں مانگتے ہو۔ یہ تو محنت ہے، تو کرنا پڑے گا۔ حکم ہے، ﴿لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾، اللہ پاک نے جو حکم دیا شریعت کا، اس کے ہم مکلف ہیں۔ اور وہ کر سکتے ہیں تبھی تو اللہ پاک نے حکم دیا ہے۔ لہٰذا مطلب یہ تو کرنا پڑے گا۔
تو اب جو درمیان میں رکاوٹ ہے، وہ کیا ہے؟ وہ انسان کے اندر سستی ہے۔ آپ حضرات دیکھتے ہیں کہ انسان کے اندر Sluggishness جب آ جاتی ہے، تو اس کو Exercise کرنا پڑتا ہے۔ یہ Physiotherapy کیا چیز ہوتی ہے؟ وہ یہی ہوتی ہے نا۔ تو مطلب یہ ہے کہ وہ کرنی پڑتی ہے۔ تو یہ سستی کو دور کرنے کا ایک نظام ہے۔ تو سستی کو دور کیا جاتا ہے مقامِ ریاضت کے ساتھ۔ جب مقامِ ریاضت کسی کا طے ہو جائے تو سستی دور ہو جاتی ہے۔
اور دوسرا بڑا جو مسئلہ ہے، وہ حرص کا ہے۔ حرص بہت ساری چیزوں کا ہے۔ اور کہتے ہیں حرص اُم الامراض ہے۔ کیونکہ حرص جو ہے، یہ حبِ جاہ بھی حرص ہے۔ یعنی جاہ کا حرص ہے۔ حبِ باہ، یہ لذتوں کا حرص ہے۔ حبِ مال، یہ مال کا حرص ہے۔ تو گویا کہ تینوں قسم کی برائیاں جو ہیں دنیا کی، یہ حرص میں آ گئی ہیں۔ تو مقامِ قناعت جب حاصل ہو جائے، تو یہ حرص دور ہو جائے گا۔
تو مقامِ قناعت کیسے حاصل ہو گا؟ ظاہر ہے کہ آپ کو کچھ عرصے تک اپنے Normal Level سے بھی کم پہ جانا پڑے گا۔ پھر اس کے بعد آپ کو مقامِ قناعت حاصل ہو سکتا ہے۔ Normal Level سے بھی کم پہ جانا پڑے گا۔ تاکہ آپ اس کے ساتھ عادی ہو جائیں۔ ہمارے پشتو میں کہتے ہیں، "څه مرګ راشي نو تبې ته غاړه ږدي"۔ "جب موت آ جائے نا تو پھر بخار کے لیے آدمی مان جاتا ہے" چلو یار بخار کوئی بات نہیں۔
تو آپ اتنا مجاہدہ اس سے کرواؤ کہ وہ نارمل جو سنت طریقہ ہے اس کے لیے تیار ہو جائے۔ وہ نہیں کرو گے تو کیسے تیار ہوگا؟
میں اکثر کہا کرتا ہوں کہ دیکھو نا اگر ایک کاغذ ہے نا، اس کو آپ موڑ لو، نلکی بنا لو۔ نلکی بنا لو۔ تو نلکی تو بن جائے گی۔ پھر آپ اس کو سیدھا کرنا چاہیں تو just اس کو چھوڑ دیں تو سیدھا ہو جائے گا؟ نہیں, بلکہ اس طرح قوس سا بن جائے گا۔ ٹھیک ہے نا؟
پھر آپ اس کو opposite direction میں جب تک نلکی نہ بناؤ، اس وقت تک وہ سیدھا نہیں ہوگا۔
اگر آپ اس کو صرف ایسے straight کر لیں نا، تو چھوڑ دیں تو پھر دوبارہ اس طرح ہو جائے گا۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ Opposite Direction میں اپ کو کرنا پڑے گا۔ اب سنت کا طریقہ یقیناً بہت بڑی بات ہے، اگر کوئی اس پر Direct جا سکتا ہے۔ سنت کی عزیمت اختیار کر سکتا ہے تو بالکل صحیح ہے، کسی اور چیز کی ضرورت نہیں ہے۔
لیکن آج کل کے دور میں، کیا خیال ہے، سنت پر براہ راست کوئی جاتا ہے؟ کوئی ایک مثال تو دے دو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آج کل طبیعتیں بہت زیادہ، جس کو کہتے ہیں نا، تعیش کے ساتھ مانوس ہو گئی ہیں۔ مانوس ہو گئی ہیں۔ اب ان کو چھوڑنا نہیں چاہتے۔ تو آپ کو پہلے ذرا، اس کی بہترین مثال تبلیغی جماعت ہے۔ تبلیغی جماعت میں جو جاتے ہیں، تو ظاہر ہے اس میں بڑے بڑے لوگ چلتے ہیں، تو وہ ان چیزوں سے دور ہو جاتے ہیں۔ یعنی جو گھروں میں ان کے ہوتے ہیں۔ نتیجتاً پھر کیا ہوتا ہے؟ ان کے لیے وہ آسان ہو جاتا ہے۔ مطلب وہ جو عام طریقے، صحیح سنت طریقے سے رہنا، ان کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔ تو یہ چیز تو موجود ہے۔ تو اس لیے ظاہر ہے، اس سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
تو مقصد میرا یہ ہے کہ یہ جو چیز ہے، حرص جو ختم کرنا۔ حبِ جاہ یعنی جاہ کا حرص ختم کرنا۔ اس کا کیا ہے؟ آپ ایسے کام کرو جس میں جاہ ٹوٹتی ہو۔ مثلاً لوگوں کے جوتے سیدھے کرنا۔ سلام میں پہل کرنا۔ اور لوگوں کے لیے سودا سلف لانا۔ یہ سب چیزیں جاہ کو توڑنے والی ہیں۔ تو انسان جب اس طرح کرتا ہے تو پھر ظاہر ہے اس کی جاہ ٹوٹتی ہے۔ ویسے مثالیں میں دے رہا ہوں، ہر ایک کے اپنے طریقے ہوتے ہیں، لیکن مثالیں میں دے رہا ہوں۔
اچھا اس طرح مطلب ہے کہ، حبِ باہ، یہ جو لذتوں کا شوق ہے۔ یہ بھی توڑنے کے لیے لذات کو چھوڑنا پڑتا ہے۔ اس کی بہترین مثال میں دیتا ہوں، یہ شوگر کے جو مریض ہوتے ہیں۔ ان کو جب بتایا جاتا ہے کہ بھئی آپ نے چینی نہیں پینی چائے میں، تو ابتداء میں تو بڑا مشکل ہوتا ہے۔ لیکن اگر اس مشکل کو برداشت کر لے، تو دو ہفتے میں عادی ہو جاتے ہیں۔ پھر اس کے بعد اس کے لیے چینی ڈالو گے تو ان کو برا لگے گا۔ کیوں، وجہ کیا ہے؟ بس اس کے ساتھ عادی ہو گیا۔ Taste buds ہیں نا، اس کے ساتھ Adjust ہو جاتے ہیں۔ تو بس ٹھیک ہے، صحیح کام بن جائے گا۔ تو یہ بات ہے کہ یعنی حبِ باہ۔
اور حبِ مال، یہ تو بہت خطرناک چیز ہے۔ تو اس کے لیے کہتے ہیں، اپنے ہاتھ سے خرچ کرو، اپنے ہاتھ سے خرچ کرو۔ پھر حبِ مال ختم ہو گا۔ زکوٰۃ تو Minimum ہے نا، وہ تو فرض ہے۔ صدقات، خیرات، نیک لوگوں کی دعوت، یہ سب اس میں آتا ہے، اس سے حبِ مال ختم ہوتا ہے۔
ایک بہت بڑے عالم ہیں، ان کا نام نہیں لیتا ہوں کیونکہ میرے خیال میں آپ لوگوں میں سے بہت سارے لوگ اس کو جانتے ہوں گے۔ فوت ہو چکے ہیں۔ لیکن تھے بڑے عالم۔ تو ہمارے حضرت مولانا عبدالحق نافع صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد تھے۔ یعنی وہ حضرت اس وقت دارالعلوم بنوری ٹاؤن انہوں نے شروع کروایا تھا۔ تو اس میں استاد تھے۔ تو یہ حج پہ جا رہے تھے اور حج بھی کرہے تھے آفس کی طرف سے۔ یعنی آفس کی طرف سے کر رہے تھے۔ میرے خیال سے لائبریرین تھے۔ تو آفس کی طرف سے جا رہے تھے حج پہ۔ تو پیسے آفس کے ان کو دیے تھے۔ وہ بڑے بخیل تھے، بقول ان کے استاد کے۔ یعنی پیسے خرچ کرنا ان کے لیے بڑا مشکل ہوتا تھا۔ تو استاد جانتے ہوتے ہیں شاگردوں کو۔
تو خیر ایسا ہوا کہ جب پہنچ گئے ادھر، تو حضرت استاد سے ملنے کے لیے گئے۔ تو استاد نے ان سے کہا، ماشاءاللہ ماشاءاللہ بڑی اچھی بات ہے۔ اگرچہ پیسے حکومت کے ہیں لیکن خرچ تو اپنے ہاتھ سے کرو گے نا، ان شاءاللہ تیرا بخل دور ہو جائے گا۔ خرچ تو اپنے ہاتھ سے کرو گے نا، یہ بخل بھی بڑی عجیب بلا ہے۔
وہ ایک دفعہ کہتے، حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک واقعہ بیان کیا ہے، کہ ایک اس طرح شخص جا رہے تھے، تو راستے میں ایک آدمی رو رہا تھا۔ اس نے کہا بھائی کیوں رو رہے ہو؟ اس نے کہا میرا ٹکہ گم ہو گیا۔ کہا اچھا چلو یہ ٹکہ لے لو، یار بس تم نہ رو، ختم، ختم کرو۔ اچھا چپ ہو گیا۔ آگے اپنے کام کے لیے، واپس آ رہا، پھر رو رہا تھا۔ انہوں نے کہا بھئی اب کیوں رو رہے ہو؟ کہتا ہے اگر وہ نہ گرتا تو یہ اب دو ہوتے۔
یہ عربی میں اس پہ بڑی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ "تَارِیْخُ الْبُخَلَاء"، نہیں نہیں، کیا ہوتا ہے وہ، "قَصَصُ الْبُخَلَاء"۔ یعنی مطلب بخلاء کے قصے، وہ بہت ان میں مشہور ہیں۔ تو وہ واقعات شاید ان میں سے ایک ہو گا۔ تو بہرحال یہ ہے کہ، یہ بخل بڑی عجیب چیز ہے۔ اس کو توڑنے کے لیے کافی کچھ کرنا پڑتا ہے۔