اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ
فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.
ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَۗ ﴿112﴾ لَیْسُوْا سَوَآءًؕ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اُمَّةٌ قَآىٕمَةٌ یَّتْلُوْنَ اٰیٰتِ اللّٰهِ اٰنَآءَ الَّیْلِ وَ هُمْ یَسْجُدُوْنَ﴿113﴾ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِؕ وَ اُولٰٓىٕكَ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ﴿114﴾ وَ مَا یَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلَنْ یُّكْفَرُوْهُؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالْمُتَّقِیْنَ﴿115﴾ اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْــًٔاؕ وَ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ﴿116﴾ مَثَلُ مَا یُنْفِقُوْنَ فِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَثَلِ رِیْحٍ فِیْهَا صِرٌّ اَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَاَهْلَكَتْهُؕ وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَ لٰـكِنْ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ﴿117﴾ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَةً مِّنْ دُوْنِكُمْ لَا یَاْلُوْنَكُمْ خَبَالًاؕ وَدُّوْا مَا عَنِتُّمْۚ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآءُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ وَ مَا تُخْفِیْ صُدُوْرُهُمْ اَكْبَرُؕ قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ﴿118﴾
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے، اور پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے تھے۔ (نیز) اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے، اور ساری حدیں پھلانگ جایا کرتے تھے ﴿112﴾ (لیکن) سارے اہل کتاب ایک جیسے نہیں ہیں۔ اہل کتاب ہی میں وہ لوگ بھی ہیں جو (راہ راست پر) قائم ہیں، جو رات کے اوقات میں اللہ کی آیتوں کی تلاوت کرتے ہیں، اور جو (اللہ کے آگے) سجدہ ریز ہوتے ہیں ﴿113﴾
ان سے مراد وہ اہل کتاب ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے تھے، مثلاً یہودیوں میں سے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ۔
یہ لوگ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، اچھائی کی تلقین کرتے اور برائی سے روکتے ہیں، اور نیک کاموں کی طرف لپکتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا شمار صالحین میں ہے ﴿114﴾ وہ جو بھلائی بھی کریں گے، اس کی ہرگز ناقدری نہیں کی جائے گی، اور اللہ پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے ﴿115﴾ (اس کے برعکس) جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، اللہ کے مقابلے میں نہ ان کے مال ان کے کچھ کام آئیں گے، نہ اولاد۔ وہ دوزخی لوگ ہیں؛ اسی میں وہ ہمیشہ رہیں گے ﴿116﴾جو کچھ یہ لوگ دنیوی زندگی میں خرچ کرتے ہیں، اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک سخت سردی والی تیز ہوا ہو جو ان لوگوں کی کھیتی کو جا لگے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کر رکھا ہو، اور وہ اس کھیتی کو برباد کر دے ۔
کافر لوگ جو کچھ خیرات وغیرہ کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ اس کا صلہ انہیں دنیا ہی میں دے دیتے ہیں، ان کے کفر کی وجہ سے اس کا ثواب آخرت میں نہیں ملتا۔ لہٰذا ان کے خیراتی اعمال کی مثال ایک کھیتی کی سی ہے، اور ان کے کفر کی مثال اس تیز آندھی کی ہے جس میں پالا بھی ہو اور وہ اچھی خاصی کھیتی کو برباد کر ڈالے۔
ان پر اللہ نے ظلم نہیں کیا، بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے ہیں۔ ﴿117﴾
اے ایمان والو! اپنے سے باہر کے کسی شخص کو راز دار نہ بناؤ، یہ لوگ تمہاری بدخواہی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے
مدینہ منورہ میں اوس اور خزرج کے جو قبیلے آباد تھے، زمانۂ دراز سے یہودیوں کے ساتھ ان کے دوستانہ تعلقات چلے آتے تھے۔ جب اوس اور خزرج کے لوگ مسلمان ہو گئے تو وہ ان یہودیوں کے ساتھ اپنی دوستی نبھاتے رہے، مگر یہودیوں کا حال یہ تھا کہ ظاہر میں تو وہ بھی دوستانہ انداز میں ملتے تھے اور ان میں سے کچھ لوگ یہ بھی ظاہر کرتے تھے کہ وہ بھی مسلمان ہو گئے ہیں، لیکن ان کے دل میں مسلمانوں کے خلاف بغض بھرا ہوا تھا۔ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ مسلمان ان کی دوستی پر بھروسہ کرتے ہوئے سادہ لوحی میں انہیں مسلمانوں کی کوئی راز کی بات بھی بتا دیتے تھے۔ اس آیت کریمہ نے مسلمانوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ان پر بھروسہ نہ کریں اور انہیں راز دار بنانے سے مکمل پرہیز کریں۔
تو یہ اصل میں ہم لوگوں کو بھی اس بات سے عبرت لینی چاہیے کہ ہم دوسرے لوگوں کو اپنا رازدار نہ بنائیں۔ کیونکہ وہ اپنے مطلب کے ہوتے ہیں اور ہمارے رازوں کو لے کر ہمارے خلاف استعمال کرتے ہیں۔
اس وجہ سے اس معاملے میں کافی احتیاط سے کام لینا چاہیے اور جو لوگ ہمارے دشمن ہیں یا دشمن ہو سکتے ہیں، تو ان سے ہم لوگ زیادہ نہ کھلا کریں۔ ٹھیک ہے مروتاً یا مداراتاً ان کے ساتھ ہمارے بے شک تعلقات ہوں، لیکن دلی تعلق ان کے ساتھ نہ ہو۔ یہ بات ضروری ہے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔