اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ
فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ،
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.
اللہ پر توکل اور یقین کا بیان
(78) الخامس: عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ غَزَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ نَجْدٍ، فَلَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَفَلَ مَعَهُمْ، فَأَدْرَكَتْهُمُ الْقَائِلَةُ فِي وَادٍ كَثِيْرِ الْعِضَاهِ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَفَرَّقَ النَّاسُ يَسْتَظِلُّونَ بِالشَّجَرِ، وَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ سَمُرَةٍ، فَعَلَّقَ بِهَا سَيْفَهُ، وَنِمْنَا نَوْمَةً، فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُونَا، وَإِذَا عِنْدَهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: "إِنَّ هَذَا اخْتَرَطَ عَلَيَّ سَيْفِي وَأَنَا نَائِمٌ، فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ فِي يَدِهٖ صَلْتاً، قَالَ: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قُلْتُ: اللهُ. ثَلَاثاً" وَلَمْ يُعَاقِبْهُ وَ جَلَسَ (متفق عليه)
"حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ نجد کے علاقے کی طرف رسول اللہ ﷺ کی معیت میں جہاد کرنے گئے جب لوٹے تو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ لوٹے، کثیر خاردار درختوں کی وادی سے گزر رہے تھے کہ قیلولہ کا وقت ہو گیا چنانچہ رسول اللہ ﷺ اتر پڑے، لوگ درختوں کے سائے میں منتشر ہو گئے، رسول اللہ ﷺ بھی کیکر کے درخت کے نیچے نازل ہوئے تلوار کو درخت کے ساتھ لٹکایا، ہم تھوڑی دیر کے لئے سو گئے، اچانک ہم نے سنا رسول اللہ ﷺ ہمیں پکار رہے ہیں اور آپ ﷺ کے پاس ایک اعرابی تھا، آپ ﷺ نے بتایا اس نے میری تلوار میرے میان سے نکال لی جب کہ میں سویا ہوا تھا میں نیند سے بیدار ہوا تو میں نے دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں ننگی تلوار تھی اور مجھ سے کہہ رہا تھا کہ مجھ سے تجھے کون بچا سکتا ہے؟ میں نے جواب دیا اللہ بچائے گا تین بار کہا، آپ ﷺ نے اس اعرابی کو کوئی سزا نہ دی۔"
یہ اصل میں مشہور واقعہ ہے، آپ ﷺ کی حفاظت اور آپ ﷺ کی اپنی شجاعت دونوں اس سے ثابت ہوتے ہیں کہ آپ ﷺ کو اللہ پر کتنا توکل تھا۔ یہ جو فرمایا، "اللہ بچائے گا" یہ کیا چیز ہے؟ یہی توکل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ چونکہ اس نے پوچھا تھا تو بتا دیا۔ اگر کوئی پوچھے نہیں تو دل میں تو ہوتا ہے۔ بتایا تو اس وقت جاتا ہے جب پوچھا جاتا ہے۔ تو پوچھنے پہ ظاہر ہو گیا اور اگر نہ پوچھا جاتا تو دل میں تو تھا۔ تو یہ توکل ہے۔ اور حفاظت کا انتظام ایسا ہے کہ، سبحان اللہ! یعنی اس اعرابی کے اوپر لرزہ طاری ہو گیا اور وہ تلوار گر گئی اور لے لی اس سے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بچانے کا پورا ایک انتظام ہے۔ اصل میں تو میں آپ کو کیا بتاؤں، اتنے سارے انتظامات ہیں کہ جس کو ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔ عام آدمی کے لیے بہت سارے انتظام ہیں، جو کافر بھی ہو اس دنیا میں۔ کیونکہ اللہ جل شانہ نے مختلف قسم کی مخلوقات پیدا کی ہیں۔ اور جو مخلوق نقصان پہنچا سکتی ہیں ان میں نقصان پہنچانے کی صلاحیت ہے، اور جو بچا سکتی ہیں ان میں بچانے کی صلاحیت ہے۔ مثلاً جنات وغیرہ یہ ہمارے اردگرد موجود ہیں۔ تو اگر اللہ پاک کی حفاظت کا انتظام نہ ہوتا تو یہی ہمارے لیے کافی تھے۔ اور اس طرح یہ حشرات کتنے سارے ہیں۔ اگر اللہ پاک کی حفاظت کا انتظام نہ ہو تو یہی ہمارے لیے کافی ہیں۔ جراثیم، اب ذرا تھوڑا سا دیکھیں صرف اپنا تھوک لے لو، اور اس میں خوردبین کے ذریعے سے کتنے جراثیم ہوں گے ذرا ڈاکٹر صاحب؟ (بہت زیادہ، trillions) وہ جراثیم صرف اپنے تھوک میں، اب وہ تھوک ہمارے اندر سے آتا ہے نا؟ تو جراثیم کدھر ہیں؟ ہمارے اندر ہی ہیں نا۔ تو یہ مطلب یہ ہے کہ سارے نظام موجود ہیں، ہاں البتہ جب اللہ کا حکم ہو جاتا ہے، وہ میدانِ عمل میں آ جاتے ہیں۔ جب تک اللہ کا حکم نہیں ہوتا، اس وقت تک وہ اثر نہیں کر سکتے۔ وہ دوسرے نظام ان کو پکڑے رہتے ہیں۔ مطلب ظاہر ہے وہ کچھ نہیں کر سکتے۔ بہت سارے حفاظت کے انتظامات ہیں، بہت سارے حفاظت کے انتظامات ہیں، اللہ بس ہماری حفاظت فرمائے۔ تو اسی طریقے سے مطلب ہم لوگوں کو اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے، اور اللہ سے کبھی تعلق توڑنا نہیں چاہیے۔ اللہ سے تعلق ٹوٹتا ہے مکمل کفر کی وجہ سے، اور عارضی طور پر گناہ کی وجہ سے۔ تو انسان گناہ کے قریب بھی نہ جائے۔ کیونکہ گناہ یہ انسان سے اللہ پاک کو ناراض کر دیتا ہے۔ تو اس کا نقصان ہو جاتا ہے۔ تو اس وجہ سے جب بھی کبھی کسی چیز کا خطرہ ہو، تو استغفار کرنا چاہیے۔ اور اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ مطلب استغفار اس لیے کہ میرے گناہوں کی وجہ سے میرا رابطہ اللہ تعالیٰ سے کہیں ٹوٹا نہ ہو۔ اور اللہ پر توکل اور بھروسہ کرنا چاہیے۔ اس طرح کہ کوئی کام ایسا نہ کریں جس میں اللہ کی ناراضگی ہو، تو اللہ پاک مدد فرماتے ہیں اور مشکل حالات کو دور کر دیتے ہیں۔ اور اگر ایسا نہ ہو، تو پھر انسان گویا کہ اپنے آپ کو حالات کے حوالے کر دیتا ہے۔ یہ جتنے بھی دیکھیں نا، اس وقت ہمارے ساتھ جو ہو رہا ہے، وہ صرف اور صرف اللہ سے دوری کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ اللہ سے دوری کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ مثلاً سود، بہت عام ہو گیا۔ یہ اللہ کا شکر ہے الحمدللہ کہ اللہ پاک نے حکومت کو توفیق دے دی کہ ان لوگوں نے وہ جو State bank اور National Bank والوں نے حکومت کے جو شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیلیں دائر کی تھیں، وہ انہوں نے واپس ما شاء اللہ لینے کا ارادہ کر لیا۔ اور پانچ سال کے اندر عدالت نے کہا ہے کہ اس کو غیر سودی نظام بنا دینگے۔ تو ہمارے مسلمان ملکوں کے ساتھ جو مسائل ہیں وہ اصل میں یہی بنیاد ہے، کہ خدا کے ساتھ -نعوذ باللہ من ذلک- لڑائی ہو جاتی ہے تو پھر کیسے بچت ہو جائے؟ اب دیکھو اب طالبان کی حکومت ک تنی کمزور لیکن انہوں نے پہلا جو بجٹ غیر سودی پیش کر لیا۔ ان کے پاس معیشت کا کیا حال ہے؟ لیکن دیکھیں انہوں نے اللہ پر بھروسہ کر کے اپنا غیر سودی بجٹ پیش کر لیا۔ تو مطلب یہ ہے کہ ہم لوگوں کو یہ جو مشکل حالات آتے ہیں، اصل میں test کے لیے آتے ہیں۔ اگر ہم اللہ جل شانہ پر بھروسہ کر کے اس میں اللہ پاک کو نہ چھوڑیں یعنی اللہ پاک کی مرضی کے خلاف کام نہ کریں تو پھر اللہ پاک ہمارے لیے راستے کھول دے گا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ. رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ. بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ.