الحمد للہ رب العالمین، والصلوۃ والسلام علی خاتم النبیین اما بعد!
فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
وَأَذِّن فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلٰى كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِن كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ۔
وقال علیہ الصلوۃ والسلام:
مَنْ لَمْ يَمْنَعْهُ مِنَ الْحَجِّ حَاجَةٌ ظَاهِرَةٌ، أَوْ سُلْطَانٌ جَائِرٌ، أَوْ مَرَضٌ حَابِسٌ، فَمَاتَ وَلَمْ يَحُجَّ، فَلْيَمُتْ إِنْ شَاءَ يَهُودِيًّا، وَإِنْ شَاءَ نَصْرَانِيًّا۔
وقال علیہ الصلوۃ والسلام:
مَنْ حَجَّ لِلّٰهِ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ كَيَوْمٍ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ۔
وَاعْتَمَرَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَرْبَعَ عُمَرٍ كُلُّهُنَّ فِي ذِي الْقَعْدَةِ إِلَّا الَّتِي كَانَتْ مَعَ حَجِّهٖ۔
قال علیہ الصلوۃ والسلام:
تَابِعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، فَإِنَّهُمَا يَنْفِيَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوبَ، وَمِنْ مُكَمِّلَاتِ الْحَجِّ زِيَارَةُ سَيِّدِ الْقُبُورِ، وَوَرَدَ فِي فَضْلِهَا السُّنَنُ إِسْنَادُهَا بَعْضُهَا حَسَنٌ، كَمَا قَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: مَنْ زَارَ قَبْرِي وَجَبَتْ لَهٗ شَفَاعَتِي۔
وَاَنَا اُنَبِّئُکُمْ بِأَمْرٍ يُهِمُّكُمْ۔
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
معزز خواتین و حضرات! یہ جو قربانی والا معاملہ ہے، اس کو ذرا تھوڑا سا حساب کتاب سے جدا کر کے سوچا جائے، پھر ذرا اس کا اصل پتہ چلے گا۔ اگر حساب کتاب کے ساتھ ہم اس کو لگائیں گے نا، تو واقعی بوجھ محسوس ہو گا، بوجھ محسوس ہو گا۔ تو یہ بات بالکل صحیح ہے کہ اگر اس کو حساب کتاب کی طرف لائیں گے نا، تو واقعی مشکل عبادت ہے۔ اس لحاظ سے بعض لوگوں کو ذرا مشکل محسوس ہو سکتا ہے۔ لیکن میں ذرا تھوڑا سا اس کی نسبت بتا دوں، پھر پتہ چل جائے گا کہ یہ کیا چیز ہے۔
ابراہیم علیہ السلام کے کتنے بچے تھے اس وقت؟ ایک ہی تھا۔ اور اسے ذبح کا حکم دیا گیا۔ تو ابراہیم علیہ السلام اگر یہ کہتے کہ میرا تو ایک ہی بیٹا ہے، اور اس کے بھی ذبح کے لیے حکم ہے اور دل پر اس کو بوجھ بناتے تو یہ مقام ملتا؟ کیا چیز ہے یہ؟ تو ابراہیم علیہ السلام کو طرح طرح آزمایا گیا اور ہر دفعہ کامیاب ہوئے۔
تو ایسا ہوا کہ ابراہیم علیہ السلام کو اکلوتے بیٹے کے ذبح کا حکم ہوا ہے۔ یہ تو باپ کا عمل ہے۔ اب بیٹے کا عمل سن لیں۔ بیٹے سے ابراہیم علیہ السلام پوچھتے ہیں: بیٹا! مجھے اس طرح یعنی خواب آیا ہے، آپ کا کیا خیال ہے؟ فَانظُرْ مَاذَا تَرَىٰ، آپ کا کیا خیال ہے؟ اول تو اس عمر کے بیٹے سے خواب کے بارے میں بات کرنا کم از کم ہماری سمجھ میں تو نہیں آتا۔ پھر اسماعیل علیہ السلام کا جواب... وہ تو بڑے بڑے لوگوں کی سمجھ میں نہیں آ سکتا۔ جو جواب دیتے ہیں: "ابا جان! آپ وہ کر گزریں جس کا آپ کو حکم ہے، مجھے آپ صابرین میں سے پائیں گے"۔ مجھے آپ یعنی بالکل پوری تہہ تک بات پہنچ گئے، اور پھر اس کے بعد اپنے آپ کو مکمل Surrender کر دیا۔ کہ مطلب یہ ہے کہ مجھے آپ صابرین میں سے پائیں گے یعنی میں اس میں ذرہ برابر بھی آگے پیچھے نہیں ہوں گا۔
اور پھر وصیت تکمیل کے لیے کی کہ یہ کہا کہ ابا جان! چونکہ مشکل امر ہے، اور آپ باپ ہیں، باپ بیٹے کو ذبح نہیں کر سکتا، تو آپ ایک تو یہ کریں کہ مجھے اوندھے منہ لٹا دیں۔ تیز چھری سے ذبح کر دیں، اور اپنی آنکھوں پہ پٹی باندھ لیں۔ یہ وصیت کر لی۔ کون کر رہا ہے؟ جو خود ذبح ہو رہا ہے۔ اب تھوڑا سا ہمیں حساب کتاب بھی دیکھنا پڑے، کدھر رہ گیا؟
اس کے بعد پھر یہ ہوا کہ ابراہیم علیہ السلام نے بھی ایسا ہی کیا۔ جیسے اسماعیل علیہ السلام نے کہا ایسے ہی کیا۔ اب خوب تیز چھری ہے، اور ذبح کرنے کے لیے خوب زور سے چلائی ہے، لیکن اللہ پاک نے چھری کو حکم دیا کہ کاٹنا نہیں۔ کاٹنا نہیں، اب اس کا حکم ہے۔ یہی تو ہمارا عقیدہ ہے نا اہل سنت والجماعت کا، کہ قدرت اسی وقت ساتھ دیتی ہے، اس سے پہلے والی بات نہیں ہوتی۔ ہمارا جو ہم کہتے ہیں نا کہ مطلب وہ وقت سے پہلے وہ استطاعت نہیں ہوتی، اسی وقت استطاعت ملتی ہے۔ اب اس وقت استطاعت نہیں ملی، قدرت نے ساتھ نہیں دیا لہذا چھری نہیں چلی۔چھری نہیں چلی۔
اب اس کے بعد پھر کیا ہوا؟ اس کے بعد پھر یہ ہوا کہ جبرائیل علیہ السلام کو اللہ پاک Emergency میں حکم دیتے ہیں۔ یہ آپ ﷺ نے خود ذکر کیا ہے کہ مجھے جو تین دفعہ Emergency میں حکم ہوا، ان میں سے ایک یہ بھی تھا۔ Emergency میں حکم ہوا کہ جلدی جنت سے مینڈھا لے جاؤ اور ابراہیم علیہ السلام کے سامنے ڈالو۔ اور پھر آناً فاناً والی بات تھی، مینڈھا ابراہیم علیہ السلام کے سامنے ڈال دیا گیا تھا۔
اب ابراہیم علیہ السلام سمجھ رہے ہیں میں بیٹے کو ذبح کر رہا ہوں اور ذبح کس چیز کو کر رہا تھا؟ مینڈھے کو ذبح کر رہا تھا۔ اور چھری کو اب حکم ہو گیا کہ اب کاٹو۔ اب چھری نے خوب کاٹا۔ جب کاٹا، ابراہیم علیہ السلام سمجھے کہ اسماعیل علیہ السلام ذبح ہو گئے۔ پٹی کھولی، دیکھا اسماعیل علیہ السلام سائیڈ پہ کھڑے ہیں، اور مینڈھا ذبح ہوا ہے۔ حیران ہو گئے کہ یہ کیا ہوا؟ انبیاء کرام جو ہوتے ہیں، اللہ پاک کی ساری چیزوں کو جاننے کے باوجود، انسانیت کی تمام چیزیں ان میں پائی جاتی ہیں۔ یہ ساری چیزیں پائی جاتی ہیں، حیران ہوئے کہ یہ کیا ہوا؟ اللہ کی طرف سے وحی آئی کہ تو نے اپنا خواب سچا کر کے دکھایا اے ابراھیم! پتہ کیا چلا؟ دیکھو ذبح نہیں ہوا، لیکن اللہ پاک نے فرمایا کہ تو نے اپنا خواب سچا کر دیا، یعنی تو نے گویا ذبح کر دیا۔
تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مینڈھا جو ذبح ہوا ہے، وہ ذبح اسماعیل علیہ السلام کا قائم مقام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو قائم مقام بنا لیا، قرآن گواہی دے رہا ہے۔ کہ اس کو قائم مقام بنا لیا۔ اور اب ہمیں حکم ہے قربانی کا۔ تو اس مینڈھے کے قائم مقام یہ ہمارے جانور ہیں۔ یہ اس کے قائم مقام اور وہ اس کے قائم مقام، تو اصل میں ہمارے جو جانور ہیں، وہ اسماعیل علیہ السلام کے ذبح کے قائم مقام ہیں۔ ٹھیک ہے نا؟
اب اتنی اونچی نسبت آپ کہاں سے لا سکتے ہیں؟ اب یہ تو ہو سکتا ہے کہ آپ کے پاس پیسے نہ ہوں اور آپ روتے رہیں کہ اللہ! اگر میرے پاس پیسے ہوتے، تو میں بھی اس نسبت کو حاصل کر سکتا تھا۔ تو اس وقت بھی رونے والی کیفیت ہونی چاہیے تھی، کیا خیال ہے؟ اتنی بڑی نسبت کو کیسے پیدا کرے کوئی؟ تو یہ انسان کے اندر یہ ہونا چاہیے کہ اگر پیسے نہیں ہیں تو رونا تو ہے۔ کہ میرے پاس پیسے ہوتے تو میں بھی عمل کر لیتا۔
اب پیسے اللہ نے دے دیے۔ لیکن بالکل برابر سر برابر دے دیے۔ ایسی صورت میں آپ کہیں "اوہ! یہ تو میری دوسری ضرورت کے لیے ہیں، تو یہ تو میری وہ ضرورت پوری نہیں ہوگی، اس سے تو میں نے بائیک لینی تھی۔" تو مسئلہ کیا ہو گا؟ مسئلہ کافی پریشان کن ہے نا۔ کہ اللہ نے ایک موقع دیا، اب اس موقع سے فائدہ اٹھانا نصیب میں رکھا، اب اس کو میں اپنی نیت سے تبدیل کر لوں؟ یہ تو بہت خطرناک بات ہے۔ لہذا اس پر خوشی خوشی عمل کرنا چاہیے۔ یا اللہ! تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے موقع دے دیا، اتنے پیسے میرے پاس ہیں کہ میں کر سکتا ہوں، الحمد للہ!
تو اس وجہ سے، قربانی کا عمل، حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، یہ ایسی چیز ہے کہ جس پر واجب نہیں بھی ہے، کم از کم اس کا دل ایسا ہونا چاہیے کہ وہ کہے کہ کاش میں بھی کر لوں۔
اور پھر ایک عجیب نقطے کی طرف حضرت نے اشارہ فرمایا ہے۔ فرمایا ہے، دیکھو! فقہ کا قاعدہ ہے، فقہ میں بھی عشق کو مانا جاتا ہے۔ یعنی فقہ کا قاعدہ ہے۔ اگر قربانی کسی پر واجب ہے، اور اس نے جانور خرید لیا۔ اور وہ جانور گم ہو گیا۔ اور پھر اس نے دوسرا جانور خرید لیا۔ پھر وہ پہلا جانور مل گیا، تو ان دو میں سے کسی ایک کو قربان کرے گا۔ مطلب اس کے لیے دونوں قربان کرنا لازم نہیں ہے۔ لازم نہیں ہے، وہ کیونکہ اس پر واجب ایک ہے، لہذا ایک کر لے گا بس کافی ہے۔
لیکن اگر غریب آدمی ہے، اس نے جانور خریدا، اپنے آپ کو تنگ کر کے جس طریقے سے بھی لیا، اور وہ گم ہو گیا۔ اور اس کے بعد پھر یہ ہے کہ وہ اس نے دوسرا جانور لے لیا، اپنے آپ کو تنگ کر کے، پہلا جانور بھی مل گیا، اب اس کو دونوں قربان کرنے ہوں گے! عقل کی دنیا میں یہ فیصلہ سمجھ میں نہیں آتا۔ عقل کی دنیا میں یہ فیصلہ سمجھ میں نہیں آتا، عشق کی دنیا میں سمجھ میں آتا ہے۔ عشق کی دنیا میں اس لیے سمجھ میں آتا ہے کہ اللہ پاک عاشقوں کا، وہ جو تحفہ ہے وہ قبول فرماتے ہیں۔ وہ تحفۂ عشق ہے، تو اللہ پاک نے ان دونوں کو قبول فرما لیا۔
کہ ان پر تو تھا نہیں۔ لیکن پھر بھی کر رہا ہے۔ جیسے مثال کے طور پر نفل کی نیت تم باندھ لو، تو وہ کیا ہے؟ وہ فرض ہو جاتی ہے۔ وہ فرض ہو جاتی ہے، اب اگر اپ سے رہ گئی تو پھر دوبارہ اس کی قضا کرنی پڑے گی۔ تو اسی طریقے سے اس پہ دونوں اگرچہ اس پہ نہیں تھے، اس کے لیے نفل تھے۔ لیکن دونوں اس نے اپنے اوپر واجب کر دیے، اپنے عمل سے واجب کر دیے، لہذا اس کو دونوں کرنے ہیں۔ لیکن جو مالدار ہے، اس پر ایک ہی واجب تھا۔ اس پر ایک ہی واجب تھا، لہذا وہ اس کو یعنی وہی کرنا ہو گا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟
تو یہی اصل میں میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ اللہ جل شانہ بہت کریم ہیں۔ اللہ جل شانہ قربانی کے ذریعے سے بہت کچھ دیتے ہیں۔ قربانی اتنا بڑا عمل ہے، اتنا بڑا عمل ہے، کہ اگر کوئی پوری دنیا جتنی دولت کسی کے پاس ہو، اور اس دن وہ خیرات کر دے، لیکن قربانی نہ کرے۔ اور دوسرا شخص صرف قربانی کر لے، اور اس سے زیادہ ایک پیسہ، ایک بھی نہ لگائے، ایک پیسہ بھی نہ لگائے، بلکہ وہ سارا گوشت خود کھا لے۔ مفتی صاحب نے فتویٰ دے دیا نا؟ سارا گوشت خود کھا لے، کسی کو بھی نہ دے، یہ شخص اس پوری دنیا کے برابر دولت خرچ کرنے والے سے زیادہ افضل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس وقت قبولیت کی گھڑی اس چیز کے ساتھ ہے۔ لہذا جو اس طرح عمل کرے گا، وہی زیادہ مقبول ہو گا۔ اس وجہ سے قربانی کے معاملے میں کیفیتِ عشقی پہ عمل کرنا چاہیے۔
ہاں البتہ اگر کسی کا ایسا مقام نہیں ہے، جیسے مفتی صاحب نے بھی بتایا، کہ کبھی اس نے گوشت پورا نہیں کھایا ہے یعنی پورے سال، تو قربانی بے شک کر لے۔ گوشت سارا خود کھا لے۔ یہ شریعت کی طرف سے رحمت ہے۔ قربانی ضرور کر لے، کیونکہ اس کا ثواب اور اجر اس کو بے شک حاصل کر لے، لیکن اس گوشت کو سارا خود کھا لے۔ تو اس کو تو کوئی نقصان نہیں ہوا، ٹھیک ہے نا؟ ایک بات مطلب اس مفت میں اس کو مال بھی مل گیا۔ اور اگر اس نے قربانی میں، حصے میں ایک ایسا حصہ ڈال دیا جس میں گوشت کھانے کی نیت ہو، قربانی کی نیت نہ ہو، تو سب کی قربانی ضائع ہو گئی۔ ایسے ہے نا مفتی صاحب؟ سب کی قربانی ضائع ہو گئی!
لہذا ایسے شخص کے ساتھ تو قربانی نہیں کرنی چاہیے جس کی نیت گوشت کھانے کی ہو۔ وہ کہتے ہیں، قصاب سے کیا گوشت خریدیں گے؟ چلو جی، اس میں سے ایک نیت، ایک حصہ ہم ڈال لیتے ہیں، وہی گوشت ہم استعمال کر لیں گے۔ اب دیکھو دو بالکل ایک ہی جیسی چیزیں ہیں۔ ایک ہی جیسی چیزیں ہیں لیکن إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ ایک شخص کی قربانی کی نیت ہے، دوسرے شخص کی گوشت کھانے کی نیت ہے۔ جس کی قربانی کی نیت ہے، اس کا گوشت کھانا بھی قبول! جس کی قربانی کی نیت ہے اس کا گوشت کھانا بھی قبول، اور جس کی گوشت کھانے کی نیت ہے اس کی قربانی بھی نامقبول۔ بلکہ ایسی متعدی بیماری ہے کہ دوسروں کو بھی ساتھ لے گئی۔ایسی خطرناک چیز ہے۔ لہذا یہ معاملات عشق کے ہیں۔ حج والے جو اعمال ہیں نا، یہ سارے کے سارے عشق کے اعمال ہیں۔ اس میں بھی معاملہ سارے کا سارا عشق کا ہے۔ اللہ جل شانہ نے طریقت جس کو ہم کہتے ہیں نا طریقت، طریقت کی جتنی بھی چیزیں ہیں وہ شریعت میں رکھی ہیں۔ اگر کوئی پورا کر لے تو اس کو کسی اور چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ جس کو ہم فنائیت کہتے ہیں، وہ یہ نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ ہاں؟ یہی عشق والی جو بات ہے نا، مطلب فنائیت ہے نا، تو وہ حج، حج میں آ گئی۔ وہ حج میں آ گئی۔ تو اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ ۗ وَلَذِكْرُ اللهِ أَكْبَرُ۔ "بے شک نماز بے حیائی اور منکرات سے روکنے والی ہے، اور اللہ تعالیٰ کی یاد تو بڑی چیز ہے"۔ اس میں منکرات سے روکنا وغیرہ آ گیا۔ روزے میں تقویٰ آ گیا۔ زکوٰۃ میں بخل سے بچنے کی نیت آ گئی۔ وہ ساری چیزیں آ گئیں۔
تو یہ سب ترتیب اس کے اندر موجود ہے۔ فرق صرف یہ ہے، ہم لوگ کمزور ہو گئے ہیں۔ ہم لوگ ان کو اس طریقے سے نہیں کر پاتے جس طریقے سے کرنا چاہیے تھا۔ اس وجہ سے اپنی نیتوں کو درست کرنے کے لیے، اور اپنے عمل کو بہتر کرنے کے لیے کیونکہ اللہ پاک نے فرمایا ہے، اللہ پاک تمہاری صورتوں کو نہیں دیکھتے، اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں کو نہیں دیکھتے۔ بلکہ تمہارے دلوں کو دیکھتے ہیں۔ اور تمہارے اعمال کو، تمہاری نیتوں کو دیکھتے ہیں، تمہارے اعمال کو دیکھتے ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ اعمال اور نیتیں دونوں علیحدہ علیحدہ بتائے گئے۔ اس کا مطلب ہے عمل آپ ﷺ کے طریقے کے مطابق ہونا چاہیے، اور نیت صرف اللہ کے لیے ہونی چاہیے۔ تو بہرحال میں عرض کر رہا ہوں کہ حج کے موقع پر ہمیں اس چیز کو سامنے رکھنا چاہیے۔ اس وجہ سے جو اہل حق ہیں، وہ حج کا جو طریقہ بتاتے ہیں، وہ اور ہے۔ اور جو دوسرے حضرات ہیں وہ حج کا جو طریقہ بتاتے ہیں وہ اور ہے۔
ٹھیک ہے، حج کے جو فرائض ہیں، واجبات، جو جو کر لے گا اس کا وہ ہو جائے گا۔ حج ان کے ذمے سے ساقط ہو جائے گا۔ اب وہ دوبارہ جب بھی حج کرے گا تو نفل حج ہو گا، فرض حج اس کا ہو گیا۔ لیکن جو کیفیتِ عشقی حج کے اندر حاصل کرنی چاہیے، اگر وہ اس نے نہیں کی، تو اس نے بہت بڑا موقع ضائع کر دیا۔ بہت بڑا موقع ضائع کر دیا۔ اب پتہ نہیں اس کو دوبارہ موقع ملتا ہے یا نہیں ملتا۔ لیکن اگر کوئی فرض حج پہ جاتا ہے تو ہمارے مشائخ فرماتے ہیں، کہ وہ بہت محتاط رہے۔ اس سے حج میں کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے۔ ہمارے شیخ فرمایا کرتے تھے، بھئی حج کو زخمی نہیں کرنا چاہیے۔ حج کو زخمی نہیں کرنا چاہیے۔
یعنی اگر کسی نے ایسی غلطی کی جس پر دم آ گیا، تو دم بے شک دے دے، مالدار ہے۔ دم بے شک دے دے، دم ہو جائے گا، واجب پورا ہو جائے گا، لیکن وہ حج زخمی ہو گیا۔ حج زخمی ہو گیا۔
ہم موٹروے پہ جا رہے تھے، تو ہوتے ہیں نا بعض لوگ شوقین ہوتے ہیں، تو ذرا تیز چلنے لگے، 120 سے ذرا Speed زیادہ ہو گئی۔ تو ہماری گاڑی میں ایک مفتی صاحب تھے، وہ بھی ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ تو مفتی صاحب نے ان کو فون پہ بتایا، بھئی اگر چالان ہو گیا تو اسراف میں آئے گا۔ اگر چالان ہو گیا نا تمہیں، تم مالدار ہو، بے شک چالان دے سکتے ہو، مطلب 700 روپے تم جرمانہ دے دو گے، لیکن ہوگا اسراف، گناہ اسراف کا ہو گا۔
تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم لوگوں کو ان نعمتوں کی قدر کرنی چاہیے، جو معاملہ اللہ پاک نے ہمارے سپرد کیا ہے، اس کو اس طرح کرنا چاہیے جس طریقے سے اللہ پاک نے حکم دیا ہے۔
تو بہرحال میں عرض کر رہا تھا کہ ابھی میں نے چند آیات کریمہ تلاوت کی ہیں اور احادیث شریفہ بھی، سب سے پہلے میں اس کا ترجمہ عرض کرتا ہوں۔ چونکہ حج کے لیے لوگ جا رہے ہیں۔ اور یہ بیان کافی دور دور سنا جا رہا ہے۔ عین ممکن ہے حاجی اس کو سن رہے ہوں۔ تو اس وجہ سے اس نیت سے اس میں، اس کی باتیں بھی لاتے ہیں، ان شاء اللہ، چونکہ اگلا ایک دفعہ ہمارے پاس ہے بھی، ایک اتوار اور بھی ہے۔ تو اس میں ان شاء اللہ مزید ذوالحجہ کے بارے میں ان شاء اللہ تفصیل بتا دیں گے۔ لیکن اس ذوالحجہ کے بارے میں، کیونکہ حاجی ہمارے ہاتھ سے نکلتے جا رہے ہیں، یعنی وہ ظاہر ہے پہنچ رہے ہیں، تو پہلے ان کا حق ہے۔
اللہ جل شانہ ارشاد فرماتے ہیں: ابراہیم علیہ السلام سے کہا گیا تھا، لوگوں میں حج کے فرض ہونے کا اعلان کر دو۔ لوگ تمہارے پاس حج کے لیے چلے آئیں گے، پیادہ بھی، اور دبلی اونٹنی پر بھی، جو کہ دراز راستوں سے پہنچی ہوں گی۔
اس وقت کا نقشہ ذرا ذہن میں لائیں۔اس وقت مکہ شہر نہیں تھا۔ لق و دق صحرا، پہاڑوں کے درمیان ایک بالکل یعنی وادیوں کا بس وہ ہے، سب سے نیچی جگہ پہ خانہ کعبہ ہے۔ ارد گرد سارے پہاڑ ہیں۔ کوئی زراعت وغیرہ اب بھی نہیں ہو رہی ہے۔ اس وقت بھی نہیں تھی۔ اب تھوڑا تھوڑا پانی جو آیا ہوا ہے، مطلب اضافی پانی، اس کی وجہ سے لوگوں نے Artificial Planting وغیرہ اس طرح کی ہے، تو اس طرح ہے، لیکن اس وقت تو کچھ بھی نہیں تھا۔
تو جب کعبہ کی تعمیر ہو گئی، تو اللہ پاک نے فرمایا: اب اعلان کر دو۔ اب اعلان کر دو! کہ حج کے لیے آؤ۔ ابراہیم علیہ السلام، میں نے آپ سے عرض کیا نا، انبیاء جتنے بھی ہوتے ہیں، ان میں انسانیت پوری پوری پائی جاتی ہے۔ لہذا انسانی جو Limitations ہیں وہ ان کے سامنے ہوتی ہیں۔ اللہ پاک کو چونکہ مسبب الاسباب مانتے ہیں، تو اللہ پاک سے پھر مانگتے ہیں۔ اور مانگتے پھر اللہ کی شان کے مطابق ہیں۔ لیکن عاجزی اپنی حیثیت کے مطابق کرتے ہیں۔ دونوں باتیں اپنی اپنی جگہ پر درست ہیں۔
تو ابراہیم علیہ السلام نے کہا: یا اللہ! میری آواز تو اتنی نہیں ہے، کہاں تک پہنچے گی؟ کہاں تک پہنچے گی؟ تو اللہ پاک نے فرمایا: تیرا کام ہے اعلان کرنا، میرا کام ہے پہنچانا۔ میرا کام ہے پہنچانا! اور اللہ پاک نے اس آواز کو ایسا پہنچایا کہ عالمِ ارواح تک پہنچایا۔ حتیٰ کہ جس روح نے جتنی مرتبہ لبیک کہا ہے، اتنی مرتبہ وہ حج کرے گی۔
یہ جو عارفین ہیں، وہ یہ بات کرتے ہیں کہ جس روح نے بھی جتنی مرتبہ لبیک کہا ہے، اتنی مرتبہ وہ حج کرے گی۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ، اب، اب یہاں قرآن پاک میں اس کی طرف اشارہ ہو گیا، کہ لوگوں میں حج کے فرض ہونے کا اعلان کر دو، لوگ تمہارے پاس حج کے لیے چلے آئیں گے، پیادہ بھی اور دبلی اونٹنی پر بھی، جو کہ دراز۔۔ اب پیادہ یہ سب سے زیادہ گویا کہ مشکل طریقہ ہے، جس میں کچھ بھی وسیلہ نہیں ہے، بس۔ بس اپنے پیر ہیں، اس کے ذریعے سے آنا۔ اور دبلی اونٹنی کا مطلب ہے کہ اسباب کم سے کم۔ یعنی تیز سواری نہیں۔ لیکن بہرحال پھر بھی اس کے ذریعے سے بھی لوگ آئیں گے۔ گویا کہ کم اسباب والے لوگ بھی آئیں گے۔
کم اسباب والے لوگ بھی آئیں گے، اور واقعتاً ہم نے دیکھا ہے۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے پاس کوئی وسائل نہیں ہوتے، لیکن وہ مانگتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے مانگتے رہتے ہیں، اور اللہ پاک ان کی سن لیتے ہیں، ان کو پہنچا بھی دیتے ہیں۔ کسی طریقے سے ان کو پہنچا بھی دیتے ہیں، اور وہ حج بھی کر لیتے ہیں۔ تو یہ میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ یہ جو چیز ہے، جو مانگنا ہے۔ حج کے معاملے میں بہت ساری کرامات ہوتی ہیں۔ مشاہدات ہوتے ہیں۔ جو کچھ وہاں ہوتے ہیں اور کچھ پہلے ہوتے ہیں۔
مثلاً یہ بھی ایک حج کی بات ہے کہ جو حج کے لیے پیسے تھوڑے تھوڑے جمع کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ اس میں اتنی برکت ڈال دیتے ہیں کہ وہ ان کے لیے حج کا بندوبست ہو جاتا ہے۔ مطلب اسی سے مطلب اس کے ذرائع نکل آتے ہیں، کچھ نہ کچھ راستہ بن جاتا ہے ان کے لیے۔ کوئی ادھر ادھر سے مدد اللہ پاک بھیج دیتے ہیں، کام ہو جاتا ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ تو ایک تو یہ بات ہے کہ اس نیت سے پیسے جمع کرنے چاہییں، تاکہ نیت ثابت ہو جائے۔
ایک ہوتی ہے تمنا۔ اور ایک ہوتا ہے ارادہ۔ تمنا اور ارادہ میں فرق یہی ہے کہ تمنا میں انسان وسائل کو استعمال نہیں کرتا۔ بس صرف تمنا کرتا ہے۔ کہ کاش ایسا ہو جائے۔ بس، اس پہ تو کچھ بھی نہیں لگتا نا؟ کاش ایسا ہو جائے!
لیکن جو ارادہ کرتے ہیں، وہ اپنے وسائل جتنے اس کے بس میں ہیں، وہ پورے کر کے پھر اس کے بعد اللہ پاک سے مانگتے ہیں۔ جو نہیں ہیں وہ اللہ تعالیٰ سے مانگتے ہیں۔ اور جو ہیں ان کو، اس کو استعمال کرتے ہیں۔ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ سے ایک صاحب نے کہا کہ حضرت میرے لیے دعا کریں کہ میں حج کروں۔ حضرت نے فرمایا: جب ایام حج آ جائیں نا، تو مجھے اپنے اوپر اختیار دے دو۔ میں تیرا ہاتھ پکڑ کر جہاز میں سوار کر لوں گا، اور تیرے لیے دعا بھی کر لوں گا۔
ان دنوں یہ ویزے کا مسئلہ نہیں تھا۔ بس جیسے آپ لاہور جاتے ہیں نا؟ تو لاہور میں ویزہ لگتا ہے؟ آپ جا کے بس اسٹیشن پہ جاتے ہیں، اور بس گاڑی میں بیٹھ جاتے ہیں اور پھر ٹھیک ہے بے شک جہاز میں چلے جاؤ، بے شک ٹرین میں چلے جاؤ۔ تو اس میں کچھ اور تو نہیں کرنا پڑتا نا؟ بس صرف بیٹھنا ہوتا ہے نا، باقی تو سفر ہو جاتا ہے۔ تو ان دنوں ایسی ہی بات تھی۔ تو جہاز میں ہی سوار ہونا ہوتا تھا۔
تو حضرت نے فرمایا کہ تم مجھے اپنے اوپر اختیار دے دو، تو میں تمہیں جہاز میں بٹھا کر آپ کے لیے دعا بھی کر لوں گا۔ یہ حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی بصیرت تھی۔ محض Show کے لیے کہنا کہ میرے لیے دعا کرو، یہ نہیں ہے بھئی۔ یہ شو شا یہاں نہیں چلتا۔ یہاں پر طلب چلتی ہے۔ طلب کی بات چلتی ہے۔ جس کی طلب ہوتی ہے اس کو اللہ تعالیٰ ضرور پہنچاتے ہیں۔ اس کو اللہ تعالیٰ ضرور پہنچاتے ہیں، اور طلب کو جاننے والا اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی نہیں ہے۔ جس میں حقیقی طلب ہوتی ہے، تڑپ ہوتی ہے، ان کو اللہ پاک ضرور پہنچاتے ہیں۔ ان کے لیے راستہ ضرور بنا دیتے ہیں۔
تو ایک تو یہ بات ہے کہ اللہ پاک سے اس کو مانگنا چاہیے باقاعدہ طور پہ، نیت کر کے مانگنا چاہیے۔ اور حج کے ایام میں، جیسے عرفہ ہے، یوم العرفہ ہے۔ تو جس کو شوق ہوتا ہے نا... ایک دفعہ حضرت مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ، ہمارے جو وائس چانسلر تھے سی ٹی صاحب، وہ عمرے پہ گئے تھے۔ تو واپسی میں آئے تھے تو وہاں کی تصویریں لائے تھے۔ تو ان کو Display کر رہے تھے کہ وہاں میں نے کیا کیا دیکھا۔ تو حضرت کو بھی فرمایا کہ، حضرت آپ بھی تشریف لائیں۔ تو حضرت جانے لگے۔ فرمایا جانا تو ادھر چاہیے۔ لیکن ادھر نہ جا سکے چلو جی اسی سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر لیں گے۔ اسی سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر لیں گے، مطلب جو کچھ ہمیں میسر ہے، وہ تو ہم دیکھ لیں گے نا۔
ہاں، یہ عشق کی بات ہوتی ہے۔ تو بہرحال یہ ہے کہ وہ حضرت مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس طرح... تو اپنے طور پر جتنا کچھ ہو سکتا ہے وہ تو ضرور کر لیں۔ وہ اسباب اختیار کر لیں، اس کے بعد پھر اللہ پاک مزید مدد فرما دیتے ہیں۔ تو ایک تو یہ والی بات ہے کہ اس کے لیے ارادہ کرنا چاہیے، اور جو وسائل ہیں، ان وسائل سے کام لینا چاہیے۔
حق تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ کے لیے لوگوں کے ذمے بیت اللہ کا حج کرنا ہے، ان پر جو کہ اس تک سبیل یعنی جانے کی طاقت رکھیں۔
جانے کی طاقت دو طرح کی ہے۔ ایک یہ کہ پیسہ ہو اس کے پاس، اتنا پیسہ کہ اخراجات پورے کر سکے، اور اپنی فیملی کے کچھ اس کے لیے بھی چھوڑ سکے۔ یہ اتنے اخراجات ہوں۔
اور خواتین کے لیے محرم کی بھی شرط ہے۔ اس میں ذرا ایک نقطے کی بات عرض کروں کہ خواتین بعض دفعہ مردوں سے آگے ہوتی ہیں۔ طلب میں۔ لیکن ان کے ساتھ مسائل بھی زیادہ ہیں۔ مثلاً ایک خاتون ہے، وہ جانا چاہتی ہے۔ اس کے پاس اپنے پیسے تو ہیں، لیکن محرم کے پیسے نہیں ہیں۔ اب محرم کے پیسے نہیں ہیں تو وہ کڑھ رہی ہوتی ہے۔ وہ جا نہیں سکتی بغیر محرم کے۔ اور محرم اس کو مل نہیں رہا ہوتا۔ اب محرم آج کل ایسے ملتے ہیں کہ تم میرا خرچ کر لو، پھر تمہارے ساتھ جاتا ہوں، اپنے پیسے خرچ نہیں کرنا چاہتا۔ اب اس کے پاس دو کے پیسے نہیں ہوتے۔ ایک کے پیسے ہوتے ہیں دو کے نہیں ہوتے۔ اب اسی میں لٹکی رہتی ہے۔
اس کو ثواب مل رہا ہے۔ اس کو ہر سال حج کا ثواب مل رہا ہے، ان شاء اللہ۔ وہ جتنا اس کی تڑپ ہے، جتنی اس کی طلب ہے، اس کے حساب سے اس کو ثواب مل رہا ہے۔ لیکن شریعت کی بات یہ ہے کہ بغیر محرم کے نہ جائے۔ بغیر محرم، اس کو یہ ثواب تب ملے گا جب یہ شریعت پر عمل کرے گی۔ تو شریعت کی بات یہ ہے کہ بغیر محرم کے بالکل نہ جائے۔ اس کے اوپر حج فرض ہی نہیں ہے اس وقت تک، جب تک کہ اس کو محرم نہ ملے۔ چاہے وہ خود خرچ کر کے کر رہا ہو، یا آپ کے پاس اتنے پیسے ہوں کہ آپ مطلب حج کر سکیں۔ پھر تو ٹھیک ہے، ورنہ نہیں۔ پھر اپنے گھر ہی بیٹھی رہو، اور مانگتی رہو۔
میں اس لیے کہتا ہوں کہ وہ جو یوم العرفہ ہے۔ بہت قیمتی دن ہوتا ہے۔ حاجیوں کے لیے بھی بہت قیمتی ہے اور باقی لوگوں کے لیے بھی بہت قیمتی ہے۔ کچھ لوگ حج پہ تو نہ جا سکے، لیکن وہ یہاں بیٹھ کر حج کو یاد کر رہے ہوں کہ اس وقت حاجی حج کر رہے ہوں گے۔ اس وقت یہ کر رہے ہوں گے، اس وقت یہ کر رہے ہوں گے، اس وقت یہ کر رہے ہوں گے۔ یہ چیزیں Count ہو رہی ہوتی ہیں۔ یہ چیزیں Count ہی ہو رہی ہوتی ہیں، یہاں پر دیوانگی کو باقاعدہ Endorse کیا جاتا ہے۔ حج دیوانگی کا عمل ہے۔ لہذا اس میں جو بھی شخص نہ جا سکے، کم از کم جانے والوں کے ساتھ... اس تصورات کی دنیا میں شامل رہے۔
ایک بات اور بھی عرض کرتا ہوں۔ میرے خیال میں شریعت میں بھی اس کی نظیر موجود ہے۔ یہ مستحب ہے کہ جو حج پہ نہیں جا رہے ہیں، اور ذی الحجہ کے ایام شروع ہو جائیں، اور قربانی کرنی ہو۔ قربانی کرنی ہو، تو وہ بال بھی نہ لے، ناخن بھی نہ لے۔ اس وقت تک، جب تک کہ ذبح نہ ہو جائے۔ ذبح ہونے تک نہ بال لے نہ ناخن لے، حاجیوں کی طرح۔ ٹھیک ہے نا؟ ان سے اس سے حاجیوں کی مشابہت گویا کہ حاصل وہ کر رہا ہے۔ جس کے ذریعے سے بیٹھے بیٹھے اس کو اس کا ثواب بھی مل رہا ہے۔ تو ایک تو یہ بات ہے کہ گویا کہ وہ جو حج کے ساتھ جو دل کا تعلق ہے، وہ انسان اس طرح جاری رکھ سکتا ہے۔
اور ویسے بھی بزرگوں سے سنا ہے کہ عرفات پہ جو لوگ لبیک کہتے ہیں، اور جو دعائیں کرتے ہیں، عرفات سے متصل زمین بھی اس سے متاثر ہو جاتی ہے۔ پھر اس سے متصل زمین اس سے متاثر ہو جاتی ہے۔ پھر اس سے متصل زمین اس سے متاثر۔۔ اور یہ پوری دنیا میں یہ بات پھیل جاتی ہے۔ لہذا اب جہاں پر بھی ہیں، تصور کی دنیا میں وہاں پہنچ جائیں۔ تصور کی دنیا میں وہاں پہنچ جائیں، آپ کو ان شاء اللہ اس کی برکات اپنی اپنی طلب کے مطابق ملنا شروع ہو جائیں گی۔
اور عرفے کے دن کا روزہ۔ مستحب تو ہے ہی۔ لیکن ایک شان سے مستحب ہے۔ اور وہ کیا ہے؟ کہ آپ ﷺ فرماتے ہیں، میں امید کرتا ہوں کہ اس سے ایک سال پہلے کے، اور ایک سال بعد کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے۔ یہ مسلم شریف کی روایت ہے۔ تو اس وجہ سے مطلب یہ ہے کہ، یہ روزہ اگر کوئی رکھ سکتا ہے تو بڑی ہی غنیمت کی بات ہے۔ لازم نہیں ہے، واجب نہیں ہے۔ لیکن اگر کوئی رکھ سکے اور رکھنا چاہے تو واقعتاً بڑی اچھی بات ہے۔ یکم سے لے کر آٹھ ذی الحجہ تک، یہ ایک سال کے روزے ہر ایک کے بدلے میں ہیں۔ یعنی یکم کا روزہ رکھ لیا، ایک سال کے روزے رکھ لیے۔ دو کا روزہ رکھ لیا، پھر دوسرے سال کے روزے رکھ لیے۔ مطلب اس طریقے سے آپ آٹھ سال کے روزے گویا کہ نفلی رکھ سکتے ہیں۔ ہاں، ان ایامِ ذی الحجہ میں۔ تو یہ ایک تو یہ والی بات ہے۔
دوسری یہ ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: جس شخص کو حج سے کھلم کھلا ضرورت، یا ظالم بادشاہ، یا رکاوٹ کا قابلِ مرض، قابلِ مرض نے حج سے نہ روکا ہو، اور پھر بھی باوجود فرض ہونے کے اس نے حج نہ کیا ہو، پس خواہ وہ یہودی ہو کر مرے خواہ نصرانی۔
کیونکہ حج اتنی اونچی عبادت ہے کہ اس میں تمام چیزوں کو bypass کرنا چاہیے۔ ہاں! شریعت نے جن چیزوں کی Exemption دی ہے، تو وہ تو Exemption ہے۔ لیکن اس کے علاوہ جو ہے، باقی تمام چیزوں کو bypass کرنا چاہیے۔ حج کو priority دینی چاہیے۔
حج، یہ جوانی کا عمل ہے۔ بڑھاپے میں حج ہو جاتا ہے، لیکن وہ حج کیسے ہوگا؟ اس میں تو بس آپ اپنے آپ کو ہی اور دوسرے لوگوں کے لیے بھی مسئلہ ہوں گے۔ تو جو جوانی میں حج کرتا ہے، وہ حج کا صحیح لطف اٹھا سکتا ہے۔ تو حج کو دیر سے نہیں کرنا چاہیے۔ جتنا جلدی کر سکے تو اچھا ہے۔
ارشاد فرمایا رسولِ کریم ﷺ نے کہ: جس شخص نے خاص اللہ کے لیے حج کیا، اس میں نہ فحش گوئی کی، نہ گناہ کیا، تو وہ شخص اس دن کی مانند لوٹتا ہے، جس دن کہ اس کی ماں نے اس کو جنا تھا۔ یہ متفق علیہ حدیث شریف ہے۔ یعنی انسان بس اپنے آپ کو کنٹرول کر لے کہ فحش گوئی نہ کرے۔ اور اللہ تعالیٰ کے لیے، حج کرے، تو اس میں اور نافرمانی نہ کرے۔ بس -سبحان اللّٰه- اس کا حج ہی اس کے لیے، ما شاء اللہ کافی ہو جائے گا۔ وہ نئے سرے سے ایک زندگی شروع کرے گا۔
ایک بات عارفین کہتے ہیں۔ کچھ تو باتیں قرآن و حدیث کی ہوتی ہیں نا، کچھ اللہ تعالیٰ عارفین پر باتیں کھولتے ہیں۔ جو خاص خاص باتیں ہوتی ہیں، تو ان میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ یہ جو حجرِ اسود ہے، یہ باقاعدہ یعنی ایک تو اس کا یہ کام ہے نا کہ باقاعدہ پہچانے گا، قیامت کے دن پہچانے گا کہ جس جس نے بوسہ دیا ہوا ہے، جو اس کے سامنے سے گزرا ہے، اس کو پہچانے گا۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ stamp کا کام کرتا ہے۔ یعنی کوئی چیز establish ہو جاتی ہے۔ مثلاً سلوک ہم طے کرتے ہیں نا، سلوک اس لیے کہتے ہیں کہ establish ہو جائے وہ چیز۔ مطلب آپ کے اندر مستحکم ہو جائے، پھر وہ ہلے نہیں۔ اب آپ جس کیفیت میں بھی حجرِ اسود کے سامنے گزریں گے، وہ چیز stamp ہو جائے گی۔
اب آپ یہاں آئیں گے تو اس کیفیت کے ساتھ آئیں گے۔ خدانخواستہ اس وقت بد نظری میں مبتلا ہوں، تو بد نظری کی کیفیت لگ جائے گی، پھر مزے کرو۔ خدانخواستہ حرص کی کیفیت آ جائے، تو بس حرص میں مبتلا ہوں گے۔ ظلم کی کیفیت آ جائے، دھکا دینے کی، یہ بھیڑیے پن کی، ہاں! تو پھر ظالم ہی بنو گے۔ مقصد یہ ہے کہ اس وقت ڈرنا چاہیے، کہ حجرِ اسود کے سامنے، مطلب ڈرنا چاہیے۔ کہیں کوئی ایسا عمل نہ کرے جس کی بعد میں continuity سے انسان ڈرے کہ بھئی اگر یہ لگ جائے میرے پیچھے تو بہت خطرناک ہوگا۔
میں تو سمجھتا ہوں کہ سلوک طے کرنے کے لیے اس کو استعمال کیا جائے۔ مثلاً اچھی اچھی کیفیت کو پیدا کر کے اس کے سامنے، مثلاً نفی اثبات ہے، نفی اثبات۔ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ۔ اب آپ تمام چیزوں کو دل سے نکال کر، اللہ پاک کی محبت کو دل میں لا کر حجرِ اسود کے سامنے آ جائیں۔ اگر آپ کے اوپر stamp ہو گئی، تو کیسا ہوگا؟ کیسی بات ہوگی؟ یہ بہت بڑی بات ہوگی۔ تو اس طرح مطلب جو حجرِ اسود ہے، یہ ہمارے لیے بہت بڑی نعمت ہے، بہت بڑی نعمت ہے۔
حضرت عمر رضی الله عنه نے ایک شان دکھائی۔ علی رضی الله عنه نے دوسری شان دکھائی۔ عمر رضی الله عنه نے کہا، اے حجرِ اسود! تو پتھر ہے، مجھے پتہ ہے تو کسی کو کچھ نہیں دے سکتا۔ اگر میں نے آپ ﷺ کو تجھے چومتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا، تو میں تجھے نہ چومتا۔ یہ ایک شان ہے۔ علی رضی الله عنه نے فرمایا کیوں؟ کیوں نہیں مطلب وہ فائدہ دیتا؟ یہ تو ہمیں پہچانے گا قیامت کے روز۔ یہ تو ہمیں پہچانے گا قیامت کے روز۔ تو اس کا مطلب دونوں شانیں ہیں۔ دیکھو نا صحابہ میں سے، وہ اپنی اپنی جگہ پہ۔
تو بہرحال یہ ہے کہ حجرِ اسود بہت بڑی جگہ ہے۔ عرفات... بہت بڑی جگہ ہے۔ عرفات میں، آپ یوں کہہ سکتے ہیں، ہم پانچ منٹ کی دعا کے لیے نہیں ٹھہر سکتے۔ پانچ منٹ کی دعا کے لیے نہیں ٹھہر سکتے۔ دعا ذرا لمبی ہو جائے نا، تو منہ لٹک جاتے ہیں۔ ہاتھ ٹیڑھے ہو جاتے ہیں۔ اور ٹیک لگانا شروع کر دیتے ہیں۔ ایسا ہوتا ہے یا نہیں ہوتا؟ آپ ﷺ نے اس دن ظہر اور عصر کی نمازیں اکٹھی پڑھ کے پھر جو دعا شروع کی، مغرب تک دعا کرتے رہے۔ مغرب تک! کیونکہ مشاہدہ اتنا کامل تھا۔ دیا جانا اتنا واضح تھا، کہ بس وہ لینا ہی لینا، لینا ہی لینا، لینا ہی لینا۔ اللہ پاک دینا چاہتا تھا، وہ لے رہے تھے۔ اللہ پاک کا دینا کامل، اس کا لینا۔ تو یہ جس کی کیفیت ہو جائے، وہ دعا میں تھکے گا؟ وہ دعا میں نہیں تھکے گا۔
تو یہ جو کیفیت ہے مطلب حج میں، کہ دعا کی عرفات میں، اس کو جس حد تک بھی اپنایا جا سکے، نعمت ہے، بہت بڑی نعمت ہے۔ اگر کسی کو یہ نعمت وہاں مل گئی، امید ہے کہ ان شاء اللہ یہاں بھی چلے گی۔ پھر تہجد کی دعاؤں میں رنگ آئے گا۔ نمازوں کے بعد دعاؤں میں رنگ آئے گا۔ ہاں! اور جو خاص خاص موقعے ہیں، ان میں دعاؤں میں رنگ آئے گا۔ وجہ کیا ہے؟ کہ اصل میں تو اللہ تعالیٰ تو ہر جگہ ہیں، لیکن بعض جگہوں پر خصوصی طور پر جو عنایت فرماتے ہیں، وہی خصوصیت باقی عمومی چیزوں کے لیے خاص کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
آپ ﷺ نے چار عمرے کیے۔ وہ سب ذیقعدہ میں تھے، سوائے ایک کے جو حج کے ساتھ تھا، کہ ذوالحجہ میں واقع ہوا تھا۔ ہمارے شیخ، مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے، جب حج پہ تھے حضرت کے ساتھ، فرمایا: بھئی کم از کم چار عمرے کر لو، سنت ہے۔ کم از کم چار عمرے کر لو، سنت ہے۔ تو الحمد للہ! ہماری کوشش ہوتی ہے کہ جب بھی جاتے ہیں تو کم از کم چار عمرے کی نیت کرتے ہیں، کہ یہ سنت ہے، ہماری یہ سنت اللہ تعالیٰ پوری فرماتے رہیں۔
اس جگہ ایک قابلِ تنبیہ بات یہ ہے کہ عوام لوگ ماہِ ذیقعدہ کو منحوس سمجھتے ہیں۔ یہ بڑی سخت بات ہے۔ دیکھو آپ ﷺ نے اس میں تین عمرے کیے، اس میں کتنی برکت ثابت ہوئی ہے۔ اور نیز یہ ماہِ ذیقعدہ حج کے مہینوں میں سے ہے، جیسے کہ حدیثِ اول میں گزر چکا ہے۔
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حج اور عمرے کو ملا کر کرو۔ کیونکہ وہ دونوں فقر اور گناہوں کو اس طرح دور کرتے ہیں جیسے کہ بھٹی لوہے اور چاندی اور سونے کے میل کو دور کرتی ہے۔ اور حجِ مبرور کی جزا جنت کے سوا کچھ نہیں۔
مجھے اللہ پاک نے حج کی توفیق عطا فرمائی پہلی دفعہ۔ تو ان دنوں مولانا فقیر محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ وہاں پر ہوا کرتے تھے، مکہ مکرمہ میں، یہ جو مدینہ منورہ کی طرف جو بابِ مدینہ ہے، اس کا ایک ستون ہوتا تھا، اس ستون کے ساتھ ٹیک لگائے ہوتے تھے۔ تو حضرت کی خدمت کی duty ہماری لگائی گئی تھی۔ ہم حضرت کو چائے پہنچایا کرتے تھے۔ جس کی وجہ سے حضرت کے ساتھ کافی الحمد للہ تعلق ہو گیا، پوچھتے رہتے تھے۔ تو جس وقت میں نے حج کر لیا، تو حضرت نے فرمایا، شبیر! تو نے اب حج کر لیا، اب تم غنی ہو جاؤ گے۔ تو نے اب حج کر لیا، اب تم غنی ہو جاؤ گے۔ یہ بات ہے! ہم لوگ سمجھتے ہیں پیسے لگ جائیں گے فقیر ہو جائیں گے۔ عارفین فرماتے ہیں غنی ہو جاؤ گے۔ اور اس حدیث شریف میں کیا فرما رہے ہیں؟ تمام گناہ دور ہو جائیں گے! تو گناہوں کو دور بھی کر لیتے ہیں۔
بعض لوگ کہتے ہیں بھئی، مجھے بھی لوگوں نے کہا یہ ہر سال حج پہ کیوں جاتے ہیں؟ یہ پیسے خیرات کر لیا کرو۔ تو ان کو تو میں بتاتا ہوں کہ بھئی میں صرف اکیلا نہیں جاتا، میرے ساتھ ساتھی بھی جاتے ہیں اور اللہ کا شکر ہے کہ مطلب ظاہر ہے وہ فرماتے ہیں کہ ان کو فائدہ ہو جاتا ہے۔ تو ظاہر ہے ہمارا حج تو ایک تبلیغی ذریعہ بھی ہوتا ہے۔ اس وجہ سے اس کا معاملہ اور ہے۔ اس کو آپ صرف نفل حج نہ سمجھیں، بلکہ اس کا اور مقصد بھی ہوتا ہے۔ خیر یہ تفصیل تو جانیں نہ جانیں۔ لیکن بہرحال، اس سے کیا ثابت ہوتا ہے؟ ایک بات۔
دوسری بات میں ان کو بتاتا ہوں کہ تم زیادہ سمجھدار ہو دین کے یا امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ؟ کون زیادہ سمجھدار ہے؟ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے 52 حج کیے تھے۔ تو کیا وہ پیسے خیرات نہیں کر سکتے تھے؟ ہر سال جو حج کے لیے جاتے تھے وہ کیا مطلب ہے اس کا؟ وہ کر سکتے تھے نا، لیکن اس کو الگ سمجھتے تھے نا۔ تو یہ جو ہے نا یہ کچھ اور مقاصد ہوتے ہیں اس کے علاوہ بھی۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ، جو لوگ کہتے ہیں تم خیرات کر لو، یہ کہنے والے کیا خیرات کرتے ہیں؟ وہ تو حج پہ نہیں جاتے نا، تو پھر ذرا دیکھو کتنا خیرات کرتے ہیں۔ کہتے ہیں نہ کھیڈنا نہ کھیڈنے دینا۔ نہ خود کھیلنا، نہ دوسروں کو کھیلنے دینا۔ صرف باتیں بناتے ہیں۔ بھئی ان چیزوں میں باتیں نہ بنایا کرو۔ یہ چیزیں بالکل مختلف ہیں۔ اس میں معاملہ دل کا ہوتا ہے، دماغ کے ساتھ نہ سوچو۔ یہ دماغی باتیں تھوڑی ہیں! یہ تو دل کی باتیں ہیں۔ حج کی ساری عبادات جو ہیں نا دل والی عبادات ہیں۔ اس میں دماغ فیل ہو جاتا ہے۔
بھئی مجھے بتاؤ! اچھے خاصے لوگ جو کپڑوں کے کئی جوڑے رکھتے ہیں، ان سے کہتے ہیں سارے اتارو اور دو چادریں پہنو۔ دو چادریں پہنو۔ بے شک آپ کو سردی لگے، یا گرمی لگے اس کی کوئی پروا نہیں، لیکن اب یہ کرو۔ مجھے کہتے ہیں نا، جی اس طرح وہ جی گھٹنے میں درد ہوتا ہے، تو اس کے اوپر کچھ چڑھا دوں؟ ایسا ہوتا ہے، دوسرا ہوتا ہے۔ یہ میں آپ کو بات بتاؤں، یہ حج والا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ یہ سارے عشق کے معاملے ہیں۔ جو عشق کا معاملہ جانتے ہیں، ان کے لیے حج بہت آسان ہے۔ اور جو اس معاملے سے نہیں کرتے، وہ ایک فرض حج، فرض کر لیں بس وہ کافی ہے۔ وہ کافی ہے۔ کیوں؟ وجہ کیا ہے؟ وہ اس کے آداب نہیں پھر وہ پورے کرتا ہوگا۔ یہ محبت کی باتیں ہیں۔ یہ محبت کی باتیں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کو اس انداز میں کرنا چاہیے جس سے محبت بڑھے۔
اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے میری قبر کی زیارت کی، اس کے لیے میری شفاعت ضرور ہوگی۔
اور یہاں ایک اور حدیث شریف بھی ہے، ایک اور حدیث شریف بھی ہے کہ "جو حج کے لیے آیا اور میرے پاس نہیں آیا، اس نے میرے ساتھ جفا کی۔" اس نے میرے ساتھ جفا کی۔ بہت ہی خطرناک بات ہے۔ میں اس کی مثال دے سکتا ہوں، اگر فیصل آباد میں کسی کے والد صاحب ہیں اور وہ England میں رہتا ہے اور وہ England سے آیا لاہور کسی کام سے۔ اور لاہور سے ہی واپس چلا جائے، کیا خیال ہے اس کے والد صاحب کیا کہیں گے؟ بہت خفا ہوگا نا! کہ دیکھو نا اتنا آیا اور میرے پاس بھی نہیں آیا۔ England سے تو چلو نہیں آ سکتا، وہ دور ہے، لیکن یہ لاہور تک آیا، لاہور سے تو آ سکتا تھا، یہاں سے کیوں نہیں آیا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: جو حج کے لیے آیا اور پھر میرے پاس نہیں آیا تو اس نے میرے ساتھ جفا کی۔
ایک بات یاد رکھنی چاہیے۔ دوسروں کے مسلکوں کو چھیڑنا تو نہیں چاہیے، لیکن اپنا چھوڑنا بھی نہیں چاہیے۔ ہے نا یہ بات! ہمارا مسلک یہ ہے کہ ہم باقاعدہ آپ ﷺ کے روضہ اقدس کی زیارت کی نیت سے جاتے ہیں۔ ورنہ اگر یہ بات نہیں ہے، تو خانہ کعبہ میں ایک لاکھ نمازوں کا ثواب ہے۔ اور مسجدِ نبوی میں ایک روایت جو مشہور روایت ہے وہ ہزار کی ہے، اور ایک روایت جو اتنی مشہور نہیں ہے وہ پچاس ہزار کی ہے۔ تو مجھے بتاؤ اگر یہ والی بات نہیں ہوگی، تو ایک لاکھ کو چھوڑ کر کیوں کوئی ایک ہزار کے پیچھے جائے گا؟ اگر سوداگری والی بات ہو گئی، تو ایک ہزار کے لیے تو کوئی نہیں جائے گا نا، پچاس ہزار کے لیے بھی کوئی نہیں جائے گا۔ لیکن یہ بات سمجھ میں آ گئی کہ وہاں آپ ﷺ ہیں۔ وہاں آپ ﷺ ہیں! تو میں آپ ﷺ کے لیے جا رہا ہوں۔ اس نیت کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا۔
پھر جہاں تک شدِ رحال والی بات ہے، جو حدیث شریف بیان کرتے ہیں، حضرت مولانا تقی عثمانی صاحب نے اس کا بہت خوبصورت جواب دیا ہے۔ اپنے درسِ بخاری میں، حضرت نے فرمایا کہ بھئی شدِ رحال والی بات مساجد کے لیے ہے۔ دو کیلے اور تین آم کتنے ہوتے ہیں؟ دو کیلے تین آم کتنے ہوتے ہیں؟ دو کیلے تین آم ہی ہوتے ہیں۔ مطلب ظاہر ہے اس میں یہ تو نہیں کہ پانچ۔ پانچ کون سی چیز؟ ٹھیک ہے نا؟ تو یہ اصل میں جنس کا جنس کے ساتھ معاملہ ہوتا ہے۔ تو بات مساجد کی ہو رہی ہے، کہ تین مساجد کے لیے آپ شدِ رحال کی نیت کر سکتے ہیں۔ آپ حرم شریف کے لیے، آپ مسجدِ نبوی کے لیے، اور مسجدِ اقصیٰ کے لیے۔ ان تینوں مساجد کے لیے تو آپ باقاعدہ شدِ رحال کی نیت کر سکتے ہیں کہ یار اب خواہ مخواہ اس نیت سے جائیں، باقی مساجد کے لیے نہیں۔
میں بادشاہی مسجد لاہور کی نیت کر کے لاہور نہیں جا سکتا۔ جا سکتا ہوں مفتی صاحب؟ لاہور والے فیصل مسجد کی نیت کر کے یہاں اسلام آباد نہیں آ سکتے۔ نہیں آ سکتے۔ کیوں؟ شدِ رحال والی بات، ٹھیک ہے نا؟ لیکن کیا لاہور والوں پر پابندی ہے اسلام آباد آنے کی؟ تجارت کے لیے آ سکتے ہیں، پڑھنے کے لیے آ سکتے ہیں، ہماری خانقاہ میں آنے کے لیے آ سکتے ہیں، تبلیغی جماعت میں جانے کے لیے آ سکتے ہیں۔ ساری نیتیں پابند نہیں ہیں۔ ہاں! البتہ مسجد کی نیت میں نے اگر کر لی، تو میں صرف ان تین مسجدوں کی نیت کر سکتا ہوں، باقی مسجدوں کی نیت نہیں کر سکتا۔ ہاں، اسلام آباد پہنچ گیا، میں یہاں سے چلا جاؤں، فیصل مسجد دیکھنے کے لیے بھی چلا جاؤں، کسی اور مسجد میں بھی چلا جاتا ہوں۔ لیکن اس نیت سے میں نہیں آ سکتا۔ میں کسی اور کام کی نیت سے آؤں گا، اور درمیان میں ذیلی طور پر میں اس کی بھی نیت کر لوں گا۔ بات سمجھ میں آ گئی نا؟ یہ حضرت نے بتا دیا۔
تو اس کا مطلب ہے، شدِ رحال کا جو مسئلہ ہے، وہ اصل میں بنیادی طور پر مساجد کا مسئلہ ہے۔ ورنہ اگر یہ بات ہے، تو پھر تو آپ علم کے لیے بھی سفر نہیں کر سکتے، تجارت کے لیے بھی سفر نہیں کر سکتے، کسی اور کام کے لیے بھی سفر نہیں کر سکتے۔ یہ تو آپ نے زندگی اپنے اوپر بہت تنگ کر دی! تو آپ ﷺ کی (قبر شریف کی) زیارت، اس کی نیت کر کے میں جا سکتا ہوں۔ وہاں ایک بہت بڑی Facility ہے، اور وہ Facility یہ ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو میری قبر کے پاس درود و سلام پڑھتا ہے، اس کو میں خود سنتا ہوں، اس کو میں خود سنتا ہوں اور اس کا جواب دیتا ہوں۔ یہ Facility کسی اور جگہ نہیں ہے۔ اور جگہ پر کیا ہے؟ فرشتے پہنچاتے ہیں۔ اور جگہ پر کیا ہے؟ فرشتے پہنچاتے ہیں۔ تو ٹھیک ہے فرشتے پہنچا دیں گے، اس میں کوئی شک نہیں، وہ بڑے ما شاء اللہ امانت دار ہیں۔ لیکن یہ جو کیفیت خود سننے والی ہے، وہ تو بات اور ہے نا۔ اس کے لیے پھر لوگ جاتے ہیں، اور وہاں باقی جاتے ہیں۔
اور ما شاء اللہ وہاں پر بھی لکھی ہوئی ہیں وہ احادیثِ شریفہ، اور مطلب یہ ہے کہ دوسری بات یہ ہے کہ باقاعدہ یہ جو قرآن پاک کی آیت ہے کہ: جو آپ کے پاس آئیں اور آپ ان کے لیے استغفار کریں، تو اللہ تعالیٰ کو توّاب رحیم پائیں گے۔ ہاں! تو وہ وہاں لکھا ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم لوگ کس لیے جاتے ہیں؟ ہم آپ ﷺ کو گواہ بناتے ہیں اپنے ایمان کا۔ اپنے ایمان کا گواہ بناتے ہیں۔ وہاں جا کر ہم کلمہ پڑھ لیتے ہیں: أَشْهَدُ أَن لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللهِ۔ آپ ﷺ گواہ ہو جاتے ہیں کہ ہم نے کلمہ پڑھا ہے۔ بڑی بات ہے! یہ Facility کسی اور جگہ نہیں ہے۔ تو یہی چیز ہے کہ مطلب یہ ہے کہ ہم ما شاء اللہ وہاں اگر مدینہ منورہ جاتے ہیں تو اس کیفیت کے ساتھ جائیں۔
پھر ما شاء اللہ مدینہ منورہ کی... ایک صاحب تھے مصر کے، ان کے ساتھ دوستی ہو گئی مکہ مکرمہ میں، ہم مولانا مکی صاحب کے بیان میں اکٹھے بیٹھتے تھے۔ دوستی ہو گئی تھی۔ تو الحمد للہ ایک دفعہ تو میں 13 دن کے لیے مدینہ منورہ حاضر ہوا، چونکہ مجھے 72 دن ملے تھے۔ اور پھر مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ جب تشریف لائے، تو ان کے ساتھ بھی میں 10 دن کے لیے چلا گیا۔ تو میں جب دوسری دفعہ جا رہا تھا تو اس صاحب نے مجھ سے پوچھا جی کیا ارادہ ہے، حج تو ہو گیا؟ میں نے کہا مدینہ منورہ جائیں گے۔ کہتے ہیں، آپ پہلے تو ہو آئے تھے؟ میں نے کہا ٹھیک ہے، اب بھی جا رہا ہوں۔ کہتے ہیں، میں تو اتنا عرصہ ادھر رہا ہوں، میں ایک دفعہ بھی نہیں گیا! میں نے کہا یہ آپ کی قسمت ہے، اب اس کو میں کیا کہہ سکتا ہوں؟ یہ آپ کی قسمت ہے!
بلکہ ایک مفتی صاحب، مجھے ملے مدینہ منورہ میں، اور وہ عمرے کے لیے آ گئے دوبارہ مکہ مکرمہ، اور پھر وہاں سے آ گئے۔ الله أكبر! مجھے جب انہوں نے بتایا، میں نے کہا آپ کو پتہ ہے کہ آپ نے کیا کیا ہے؟ ٹھیک ہے عمرے کا ثواب بہت زیادہ ہے، لیکن آپ ﷺ کے قرب والی بات، اس کو آپ کہاں تلاش کریں گے؟ آپ ﷺ کے قرب والی بات آپ کہاں تلاش کریں گے؟ لہذا یہ مطلب ہے کہ جب یہاں پر آ گئے تو پھر یہیں کی چیزیں لو۔ صحابہ کرام کے لیے یہ Facility اللہ پاک نے بنا دی کہ مسجدِ قباء میں دو رکعت پڑھنے پر ایک عمرے کا اجر مل رہا ہے۔ مسجدِ قباء میں باقاعدہ وہ حدیث شریف وہاں پر موجود ہے، وہ لکھی ہوئی ہے، کہ جو مسجدِ قباء میں دو رکعت پڑھ لیتا ہے تو وہ ایسے ہے جیسے اس نے عمرہ کر لیا۔ تو سنت عمرہ تو آپ کر چکے ہیں، اب اس کے بعد تو مزید اضافی عمرے، ثواب ہی ہے نا؟ تو ثواب تو آپ کو اس پر بھی مل رہا ہے، لیکن مدینہ منورہ کے قرب کو چھوڑنا، یہ بڑی عجیب بات ہے میں نے کہا۔ میں حکم تو نہیں لگا سکتا، لیکن عجیب بات تو کہہ سکتا ہوں کہ عجیب بات تو ہے۔ کہتے ہیں میں سمجھ گیا آپ کی بات صحیح ہے، مجھ سے غلطی ہوئی۔ تو یہ میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ باقی بہت سارے مسائل ہوتے ہیں۔
ارشاد فرمایا آپ ﷺ نے کہ جو شخص حج کا ارادہ رکھتا ہو، اس کو چاہیے کہ جلدی کرے۔
کیونکہ کسی وقت بھی مال تلف ہو سکتا ہے، بیماری آ سکتی ہے، کوئی اور عذر پیش آ سکتا ہے جس کی وجہ سے پھر موقع نہ ملے۔ لہذا جس کا بھی حج کا ارادہ ہو، چاہیے کہ جلدی کرے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: شیطان عرفہ کے دن سے زیادہ ذلیل اور راندہ ہوا اور حقیر، رنجیدہ نہیں دیکھا گیا۔ اور نہیں یہ، مگر اسی وجہ سے کہ جو رحمت کا نازل ہونا، خدا تعالیٰ کا بڑے بڑے گناہوں سے درگزر فرمانا جب دیکھتا ہے۔ سوائے جنگ بدر کے، اس میں تو یہ عرفہ کے برابر یا اس سے زیادہ اس کی خواری دیکھی گئی، کیونکہ اس روز اس نے جبرائیل عليه السَّلام کو فرشتوں کی صفیں ترتیب دیتے ہوئے دیکھا تھا۔
مطلب یہ ہے کہ عرفات میں اللہ پاک کی رحمت جتنی برستی ہے، اور جتنے لوگوں کے گناہ معاف ہوتے ہیں، اور جتنے لوگوں کی مغفرت ہو رہی ہوتی ہے، شیطان ان تمام چیزوں کو دیکھ رہا ہوتا ہے، اور وہ اپنے سر پر خاک ڈال رہا ہوتا ہے۔ کہ ہائے میں تو مر گیا! ہائے میں تو مر گیا! میں نے کتنے لوگوں کو خراب کیا، اللہ پاک نے پھر ان کو دوبارہ... ہاں، وہ کر لیا۔ تو اس وجہ سے عرفات کے دن شیطان بہت ذلیل ہوتا ہے، بہت خوار ہوتا ہے۔
ارشاد فرمایا رسولِ کریم ﷺ نے کہ: ایک عمرہ دوسرے عمرے تک یہ کفارہ ہے، ان دونوں کے درمیان کے گناہوں کا۔ ایک عمرہ جو ہے، دوسرے عمرے تک یہ کفارہ ہے گناہوں کا۔ اور ارشاد فرمایا رسولِ کریم ﷺ نے کہ: حج کرنے والے اور عمرہ کرنے والے اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں۔ اگر وہ دعا مانگیں تو خدا قبول کرتا ہے، اور اگر وہ استغفار کریں تو خدا ان کی مغفرت کر دیتا ہے۔
اس وجہ سے جو حج سے واپس جاتے ہیں، اور جو عمرے سے واپس جاتے ہیں، ان کے پاس لوگ دعائیں مانگنے کے لیے آتے ہیں۔ اور یہاں تک فرماتے ہیں کہ جب تک وہ گھر میں داخل نہیں ہوا، اس وقت تک تو ان کی ایک خصوصیت ہوتی ہے دعا کی۔ لہذا اس موقعے سے لوگوں کو فائدہ اٹھانا چاہیے، اور اس کو بھی بخل نہیں کرنا چاہیے، لوگوں کے لیے دعائیں کرنی چاہئیں، تاکہ لوگوں کا فائدہ ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے۔ ورنہ پھر یہ ہوتا ہے کہ اگر گھر میں چلا گیا، تو ایک روایت کے مطابق 40 دن تک یہ معاملہ ہوتا ہے۔ لیکن جو مشہور قول ہے، اس کے مطابق یہ ہے کہ گھر میں داخل ہونے سے پہلے پہلے کا ہے۔ لہذا اس موقعے کو ذرا بڑھانا چاہیے۔ جیسے ہوتا ہے نا کہ وہ، پہلی نظر خانہ کعبہ پر، اس وقت دعا قبول ہوتی ہے۔ تو کہتے ہیں کسی ایسی جگہ سے دیکھنا چاہیے جہاں رکاوٹ نہ آئے، اور آپ کو زیادہ دیر دیکھنا نصیب ہو تاکہ آپ زیادہ دعائیں کر سکیں۔ تو اسی طریقے سے یہاں پر بھی ذرا کچھ ایسی بات کر لو کہ آپ سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو فائدہ ہو۔
جیسے مثال کے طور پر، آپ ﷺ کا طریقہ تھا کہ وہ جب سفر سے واپس آتے تو پہلے مسجد میں جاتے، دو رکعت نماز پڑھتے، پھر اس کے بعد گھر تشریف لے جاتے۔ تو یہاں پر بھی کچھ اس طرح بندوبست کیا جا سکتا ہے کہ آدمی پہلے ایسی جگہ پہ چلا جائے جہاں سب کے لیے دعا کر لے، پھر اس کے بعد پھر اپنے گھر چلا جائے۔ اللہ جل شَانه ہم سب کو سمجھ عطا فرما دے اور جو کام اس میں، یعنی جس کو کہتے ہیں، منقول ہیں، اور مقبول ہیں، ان کاموں کی توفیق عطا فرما دے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ۔
اَللّٰهُمَّ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ۔ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قُلُوبَنَا عَلٰى دِينِكَ، يَا مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ صَرِّفْ قُلُوبَنَا عَلٰى طَاعَتِكَ۔ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ ۖ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا ۚ أَنتَ مَوْلَانَا فَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ۔
یا اللہ! یا اللہ! تو اپنے فضل و کرم سے جو ذی الحجہ کی برکات ہیں وہ ہمیں نصیب فرما۔ اس میں جو ایک ایک روزے کا اجر ایک ایک سال کے روزے کے برابر ہے، اس پر ہمیں یقین نصیب فرما اور ان روزوں کو رکھنے کی توفیق عطا فرما۔ بالخصوص، یہ عرفات کا جو روزہ ہے جو یومِ عرفہ کا، يَا الہ العلمین جس پہ ایک سال پہلے اور ایک سال بعد والے گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے، یا اللہ خصوصی طور پر رکھنے کی توفیق عطا فرما۔
يَا الہ العلمین! حجِ مبرور، یا اللہ آسانی کے ساتھ نصیب فرما دے۔ يَا الہ العلمین عافیت نصیب فرما دے۔ جتنے بھی ساتھی جا رہے ہیں حج پر، مجھ سمیت، سب کو یا اللہ قبول فرما دے، سب کا جانا قبول فرما دے، آسانی کے ساتھ مقبول حج نصیب فرما دے۔
یا اللہ ہمارے ارادوں کو قبول فرما دے۔ ہمیں، يَا الہ العلمین، سنت کے مطابق حج کرنے کی توفیق عطا فرما دے۔ اور يَا الہ العلمین، جو بھی ساتھی ہمارے ساتھ جا رہے ہیں یا اللہ سب کو قبول فرما، تمام حاجیوں کے حج کو قبول فرما، تمام عمروں کو قبول فرما۔ وہاں کے ایک ایک لمحے کے، يَا الہ العلمین جو اعمال ہیں، ان کو قبول فرما۔ یا اللہ ہماری جان، مال، وقت، اولاد سب اپنی رضا کے لیے قبول فرما۔ یا اللہ! شیطان کو ہم سے مایوس کر دے۔ اور يَا الہ العلمین، اپنی جو، يَا الہ العلمین، رحمتیں ہیں ہمارے اوپر، یا اللہ ان کا نزول فرما دے۔
اور مدینہ منورہ کی حاضری انتہائی شوق اور محبت کے ساتھ بار بار نصیب فرما۔ اور یا اللہ وہاں کی جملہ برکات عطا فرما۔ اور وہاں کی بے ادبی سے بالخصوص، یا اللہ محفوظ فرما۔ حرمین شریفین کی بے ادبی سے محفوظ فرما دے۔ یا اللہ! ہمارا جو حج ہے، اس میں نہ وہ، يَا الہ العلمین! نہ رفث ہو، نہ جدال ہو، يَا الہ العلمین! نہ فسوق ہو۔ يَا الہ العلمین! جس طریقے سے تیرا حکم ہے کہ اس میں رفث، فسوق، فسق و جدال نہیں ہونا چاہیے، یا اللہ ہمیں اس سے محفوظ کر دے، اور يَا الہ العلمین، ہمیں اور تمام جتنے مسلمان ہیں، سب کو یا اللہ مقبول حج عطا فرما دے۔ اپنے حبیبِ پاک ﷺ کی معیتِ پاک میں اپنا دیدارِ پاک عطا فرما۔ یا اللہ! جب تو فرمائے گا کہ میں تم سے راضی ہوں، پھر کبھی ناراض نہیں ہوں گا، اے اللہ! ان خوش نصیب لوگوں میں ہمیں بھی شامل فرما۔
اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں نصیب فرما، حسنِ خاتمہ کی عظیم دولت سے سرفراز فرما۔ موت کی سختی سے، عذابِ قبر سے، پل صراط کی مشکلات سے، جہنم کی آگ اور دھوئیں سے اور حشر کی رسوائی سے ہم سب کو نجات عطا فرما۔
جتنے مسلمان فوت ہو چکے ہیں سب کی مغفرت فرما۔ جو ہمارے اکابر دنیا سے گئے ہیں ان کے درجات بہت بلند فرما۔ ان کے فیوض و برکات سے مکمل اور وافر حصہ عطا فرما۔ اور جو ہمارے اکابر ابھی حیات ہیں ان سے زیادہ سے زیادہ استفادے کی توفیق عطا فرما۔
ہم سب کو فکرِ آخرت عطا فرما، آخرت کے لیے کام کرنے کی توفیق عطا فرما۔ پاکستان کو رہتی دنیا تک اسلام کا قلعہ بنا، جس مقصد کے لیے پاکستان بنا تھا اس مقصد کے لیے قبول فرما دے۔ اور جو اسے ہٹانا چاہتا ہے یا توڑنا چاہتا ہے، تو ان کو ہدایت عطا فرما، اگر ہدایت ان کے نصیب میں نہیں تو ان کو يَا الہ العلمین عبرت کا نمونہ بنا۔
حرمین شریفین کی بالخصوص حفاظت فرما۔ تمام مسلمان مظلومین، یا اللہ ان کو ظلم سے نجات عطا فرما۔ اور یا اللہ جتنے بھی مسلمان مظلومین ہیں، يَا الہ العلمین ان کو ظلم سے نجات عطا فرما۔ اور جو ظالم ہیں ان کو ظلم سے توبہ کی توفیق عطا فرما۔ اور جو توبہ نہیں کرنا چاہتے، اکڑ دکھانا چاہتے ہیں، پھر ان مظلوموں کا انتقام ان سے لے لے۔
ہمارے دلوں کے اندر جو جائز حاجات ہیں ان کو پورا فرما، اور جو ناجائز حاجات ہیں ان سے ہمارے دل کو فارغ فرما۔ ہمیں مستجاب الدعوات بنا دے۔ يَا الہ العلمین ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما، جن کو دیکھ کر تو خوش ہوتا ہے، جن کے بارے میں تو فرماتا ہے کہ جو میرے ہیں، ان کو تو گمراہ نہیں کر سکتا۔ يَا الہ العلمین ہمیں اپنے مقبولین میں، مقربین میں، صدیقین میں، صادقین میں، يَا الہ العلمین شامل فرما دے۔
اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنَا شَهَادَةً فِي سَبِيلِكَ وَاجْعَلْ مَوْتَنَا فِي بَلَدِ رَسُولِكَ۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔
اَللّٰهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وَحَبِيبُكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وَحَبِيبُكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنتَ الْمُسْتَعَانُ وَعَلَيْكَ الْبَلَاغُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ۔
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ