اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ
فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ،
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.
معزز خواتین و حضرات! خوف یہ ہر انسان کو پیش آتا ہے۔ تو اس وقت کیا کرنا چاہیے؟ تو ظاہر ہے انبیاء کا طریقہ تو اللہ پاک کی طرف متوجہ ہونے کا تھا۔ تو اللہ پاک کی طرف متوجہ ہونے کا سب سے بڑا ذریعہ دعا ہے۔ تو جو ہر وقت کی جا سکتی ہے۔
تو خوف کے وقت حضرت ابراہیم عليه السلام اور نبی ﷺ کی جو دعا ہے وہ کیا تھی؟(76) الحديث الثالث: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا أَيْضًا قَالَ: حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، قَالَهَا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ حِينَ أُلْقِيَ فِي النَّارِ، وَقَالَهَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالُوا: إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَّقَالُوا حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهٗ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ آخِرُ قَوْلِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ حِينَ أُلْقِيَ فِي النَّارِ: حَسْبِيَ اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ۔"حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو انہوں نے کہا ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ اچھا کارساز ہے اور رسول اکرم ﷺ اور صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو جب کہا گیا کہ لوگ آپ ﷺ کی مخالفت میں جمع ہو چکے ان سے ڈرنا چاہئے تو اس سے ان کے ایمان میں مزید اضافہ ہوا وہ بول اٹھے "حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ"۔
ایک دوسری روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے انہوں نے کہا: ابراہیم علیہ السلام کو جب آگ میں پھینکا جانے لگا تو ان کا آخری کلمہ "حَسْبِيَ اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ۔" تھا۔
یہ اصل میں، مختلف روایتیں ہیں۔
مفسرین نے لکھا ہے یہ مکالمہ (حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ) غزوہ حمراء الاسد کے وقت ہوا۔ حمراء الاسد یہ مدینہ طیبہ سے آٹھ میل پر ایک مقام کا نام ہے۔
اس مکالمہ کا واقعہ مختصر یہ ہوا کہ کفارِ مکہ کو غزوہ احد کے واپسی پر بہت افسوس ہوا کہ ہم غالب آجانے کے باوجود خواہ مخواہ واپس لوٹ آئے ہمیں تو یہ چاہئے تھا کہ ہم ایک حملہ کر کے سب مسلمانوں کو ختم کر دیتے ان کا دوبارہ مدینہ کی طرف لوٹنے کا ارادہ ہونے لگا مگر اللہ جل شانہ نے ان کے دل میں ایسا رعب ڈالا کہ سیدھا مکہ مکرمہ کو ہو لئے یہاں آپ ﷺ کو اطلاع ہوئی تو آپ ﷺ ان کفار کے تعاقب پر حمراء الاسد تک پہنچے۔
ایک روایت میں آتا ہے آپ ﷺ نے جب کفار کے تعاقب کا اعلان کیا تو ستر زخمی صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کھڑے ہو گئے جب آپ ﷺ ان صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ساتھ حمراء الاسد پہنچے تو وہاں نعیم بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ موجود تھے اس نے خبر دی کہ ابوسفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے ساتھ مزید لشکر جمع کر کے مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا ہے اس خبر کو سن کر ان سب صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے یک زبان ہو کر کہا۔ "حَسْبِنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ"۔ "اللہ تعالیٰ ہمارے لئے کافی ہے اور وہی بہتر مددگار ہے۔"
تو پریشانی کو دور کرنے کے لئے: "حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ" کا پڑھنا بڑا مجرب ہے
اس سے معلوم ہوا کہ ہر پریشانی کے وقت میں اس آیت کا پڑھنا مجرب ہے یہی عادت لکھی ہے انبیاء کرام، صحابہ، تابعین اور اولیاء سب کے سب وہ ہر آڑے وقت میں اس کو پڑھا کرتے تھے۔
اسی طرح ابوالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ جب ان کو نمرود نے آگ میں ڈلوانے کا ارادہ کیا اس موقع پر فرشتے بھی اترے کہ ہم آپ کی مدد کریں مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہی جملہ فرمایا "حَسْبِيَ اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ" پریشانی دور کرنے کے لئے ہے اس آیت کا پڑھنا بڑا مجرب ہے مزید یہ کہ مشائخ و علماء نے لکھا ہے کہ جو اس آیت کو ایک ہزار مرتبہ جذبہ ایمان، یقین کے ساتھ پڑھے پھر دعا مانگے تو اللہ تعالیٰ اس کی اس دعا کو رد نہیں فرمائے گا۔
صحیح بخاری کتاب التفسیر سورۃ آل عمران (باب ان الناس قد جمعوا لكم فاخشوهم)
تو یہ بات ظاہر ہے ہمیں معلوم ہو گئی کہ کسی بھی مشکل کے وقت، خوف کے وقت، ہمیں اللہ پر بھروسہ کرنا، کرنے سے شروع کرنا چاہیے۔ یعنی اس کی جو ظاہری تدبیر ہے وہ بھی کرنی چاہیے۔ لیکن یہ ہے کہ سب سے پہلے اللہ پاک کے ساتھ رابطہ جوڑنا چاہیے۔ جس کے لیے یہ الفاظ بہترین ہیں: حَسْبِيَ اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ۔ اس کے بعد ہے نِعْمَ الْمَوْلَى وَنِعْمَ النَّصِيرُ۔ تو ہمارے حضرت مولانا انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه، ان سے جب کوئی سوال کرتے تو وہ بہت بڑے عالم تھے۔ لیکن ان کا یہ طریقہ تھا کہ جیسے ہی سوال کوئی کرتا، تو سب سے پہلے یہ آیتیں پڑھتے: حَسْبُنا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، نِعْمَ الْمَوْلَى وَنِعْمَ النَّصِيرُ۔ اس کے بعد جو ہے نا وہ بیٹھ جاتے اور جواب دیتے ماشاءاللہ۔تو ہمیں بھی اس موقع، اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ بہت سارے مشکلات دنیا میں آتے ہیں۔ اب جیسے آج کل پاکستان پر یہ بہت بڑا مشکل کا وقت آگیا ہے۔ تو ہمیں ایک ہزار مرتبہ پڑھ کے، جیسے ابھی فرمایا گیا ہے، اپنے اپنے طور پر، پھر اس کے بعد پاکستان کے لیے دعا کرنی چاہیے کہ اللہ جل شانہ پاکستان کے ان حالات کو بہتر فرمائے اور شریر لوگوں کے شر سے ان کو بچائے۔ اور جو حکمران ہیں ان کو صحیح فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، نِعْمَ الْمَوْلَى وَنِعْمَ النَّصِيرُ۔
تجزیہ اور خلاصہ:بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)سب سے جامع عنوان: خوف اور پریشانی کا نبوی علاج: "حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ" کی فضیلت اور برکاتمتبادل عنوان: غزوہ حمراء الاسد کا واقعہ اور مشکلات میں توکل علی اللہ کی اہمیتاہم موضوعات:خوف اور پریشانی کے وقت انبیاء کرام عليهم السلام کا طریقہ اور دعائیں۔"حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ" کی فضیلت حدیثِ ابنِ عباس رضي الله عنهما کی روشنی میں۔حضرت ابراہیم عليه السلام کو آگ میں ڈالے جانے کا واقعہ۔غزوہ حمراء الاسد کے وقت صحابہ کرام رضي الله عنہم کا فقید المثال جذبہ ایمانی اور توکل۔مشکلات کے حل کے لیے اکابرین (خصوصاً علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه) کا معمول۔موجودہ ملکی حالات اور پاکستان کی سلامتی کے لیے مجرب وظیفہ اور دعا کی تلقین۔خلاصہ:اس بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے خوف، پریشانی اور مشکلات کے وقت انبیاء کرام عليهم السلام اور صحابہ کرام رضي الله عنہم کے مسنون طریقے یعنی توکل علی اللہ پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے حدیثِ مبارکہ کے حوالے سے بیان کیا کہ سخت ترین آزمائشوں، جیسے حضرت ابراہیم عليه السلام کو آگ میں ڈالے جانے اور غزوہ حمراء الاسد میں کفار کے حملے کی دھمکی کے وقت، اللہ کے ان مقرب بندوں نے "حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ" کا ورد کر کے اللہ سے رجوع کیا۔ آپ نے مشائخ کے حوالے سے بتایا کہ اس کلمات کو ایک ہزار مرتبہ یقینِ کامل کے ساتھ پڑھ کر مانگی گئی دعا کو اللہ تعالیٰ رد نہیں فرماتے اور ظاہری تدابیر کے ساتھ سب سے پہلے اللہ سے رابطہ جوڑنا ضروری ہے۔ آخر میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے پاکستان کے موجودہ مشکل حالات کا ذکر کرتے ہوئے پوری قوم کو تلقین فرمائی کہ وہ ان کلمات کا ورد کریں اور ملک کی سلامتی، شریروں کے شر سے حفاظت اور حکمرانوں کے درست فیصلوں کے لیے اللہ کے حضور دعا کریں۔