مسنون دعاؤں کی اہمیت، فضیلت اور مانگنے کے آداب

درس نمبر 111- باب فی الیقین والتوکل - (اشاعتِ اول) 9 نومبر، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

فرض نماز بالخصوص قعدہ اخیرہ میں مسنون اور قرآنی دعاؤں کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کرنا۔

زندگی کے ہر معمول (کھانا، پینا، آنا، جانا) کے لیے مسنون دعاؤں کی موجودگی اور ان کے ذریعے ہر وقت اللہ کی یاد کی تلقین۔

نبی کریم ﷺ کی دعاؤں کی جامعیت اور ان کے ذریعے ایمانی پختگی کا حصول۔

دعا کے ترجمے اور مفہوم سے آگاہی کی اہمیت تاکہ استحضارِ نیت قائم رہے۔

دعاؤں کو محض ترنم یا تیز رفتاری سے پڑھنے کے نقصانات اور دھیان کی کمی۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ

فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ،

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ. نبی ﷺ کی ایک جامع دعا

(75) الثَّانِی: وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمَا أَيْضًا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُوْلُ: ”اللّٰهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ اٰمَنْتُ، وَعَلَیْكَ تَوَکَّلْتُ، وَإِلَیْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ. اللّٰهُمَّ أَعُوْذُ بِعِزَّتِكَ، لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ أَنْ تُضِلَّنِیْ، أَنْتَ الْحَیُّ الَّذِیْ لَا تَمُوْتُ، وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ يَمُوْتُوْنَ.“ (متفق علیه)

وَهٰذَا لَفْظُ مُسْلِمٍ وَ اخْتَصَرَه الْبُخَارِيُّ.

”حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے ’اے اللہ میں تیرے لئے فرمانبردار ہو گیا اور تجھ پر ایمان لے آیا اور تیری ذات پر بھروسہ کیا اور تیری طرف رجوع کیا اور تیری ذات کی مدد سے میں جھگڑتا ہوں، اے اللہ میں تیری عزت کے ذریعہ پناہ مانگتا ہوں، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں کہ تو مجھے گمراہ کرے تو زندہ ہے تجھے موت نہیں آئے گی لیکن تمام جن و انس مر جائیں گے۔‘“

یہ الفاظ مسلم میں ہیں بخاری نے اسے مختصر نقل کیا ہے۔

آپ ﷺ کی ایک ایمان افروز دعا

نبی کریم ﷺ کے اس دعا کو مانگنے اور صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا پھر اس روایت کو نقل کرنا اور محدثینِ عظام رحمۃ اللہ علیہم کا پھر محفوظ کرنا، ان سب کا واحد مقصد یہی ہے کہ ان دعاؤں کا امت بھی مانگنے کا اہتمام کرے۔

اس دعا بالا کے ترجمہ پر اگر غور کیا جائے تو اس میں دعا کا ایک ایک لفظ اعتقاد کی پختگی اور ایمان کی تازگی اور زیادتی کا سبق دے رہا ہے اور دعا مانگتے وقت آدمی اللہ کی طرف ہمہ تن متوجہ بھی ہوتا ہے اس لئے یہ مزید ایمانی پختگی کا ذریعہ بن جاتی ہے، حق تعالیٰ شانہ ہر موقع کی مسنون دعا اس وقت پر مانگنے کی توفیق نصیب فرمائے۔

تخریج حدیث: صحیح بخاری کتاب التوحید (باب قولہ تعالیٰ وهو العزيز الحكيم. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ. وللهِ الْعِزَّةُ ولرسوله) صحیح مسلم کتاب الذکر و الدعاء (باب التعوذ من شرما عمل ومن شر ما لم يعمل).

دعائیں... بہت ساری ہو سکتی ہیں۔ دعا کے اندر بہت اجازت ہے اللہ پاک سے آپ کوئی بھی چیز جائز جو ہے، وہ مانگ سکتے ہیں۔ لیکن وہ الفاظ مبارکہ جو آپ ﷺ کی زبانِ اطہر سے نکلے ہیں، ان کی بات ہی اور ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بہت ساری باتیں ہمیں معلوم ہی نہیں کہ ان کو بھی مانگنا چاہیے یا ان کو مانگ سکتے ہیں۔ جبکہ آپ ﷺ اللہ جل شانہ کی منشا کو سب سے زیادہ جاننے والے ہیں۔ لہٰذا آپ ﷺ کی جو دعائیں ہیں انتہائی ماشاءاللہ بلیغ، مؤثر اور مفید ہیں، ہم سب کے لیے۔

لہٰذا جو مسنون دعائیں ہیں، ان کو اپنے معمول میں رکھنا چاہیے۔ ہاں، اپنا کوئی ذاتی احتیاج جو ظاہر ہے مطلب ہے کہ اس کے لیے ہمیں کوئی دعا معلوم نہیں ہے، تو پھر اس کو آپ اپنی زبان میں مانگ سکتے ہیں، کوئی مسئلہ نہیں۔ ویسے بھی اپنی زبان میں دعائیں مانگ سکتے ہیں۔ لیکن یہ برکت جو آپ ﷺ کی دعاؤں میں ہے وہ تو ایک علیحدہ بات ہے۔

یہ اس وقت نورٌ علیٰ نور ہو جاتا ہے، جب ان دعاؤں کا ترجمہ اس حد تک ہم سیکھ لیں کہ گویا کہ وہ ہمارے لیے مادری زبان کی بات بن جائے۔ پھر تو نورٌ علیٰ نور ہے کہ الفاظ مبارکہ بھی آپ ﷺ کے اور زبان ہماری، اور سمجھ بھی اس کے ساتھ ہو، تو اس وقت میں توجہ الی اللہ زیادہ ہو جاتی ہے۔ اب جیسے اس دعا میں فرمایا گیا کہ اس کا ایک ایک لفظ ایسا ہے کہ اس میں اللہ کی طرف توجہ ہو جاتی ہے۔ لیکن کوئی اس کا ترجمہ نہ جانتا ہو، تو کیا اس کی بھی ہو جائے گی؟ اس کو تو پتہ بھی نہیں ہے کہ میں کیا مانگ رہا ہوں۔ تو اگر کوئی اس کو جانتا ہو کہ میں کیا مانگ رہا ہوں، تو پھر...

اب دیکھتا ہوں میں اکثر کہ یہاں پر جو دعائیں مانگتے ہیں، اکثر لوگ ترنم سے مانگتے ہیں۔ حالانکہ دعا، کسی سے بھی کوئی چیز مانگی جائے تو وہ ترنم سے نہیں مانگی جاتی۔ اور اگر کوئی مانگے تو اس پر شاید لوگ ناراض ہو جاتے ہیں۔ کہ آپ کیا میرے ساتھ کھیل کر رہے ہیں؟ تو اب ہم جو ترنم کے ساتھ دعائیں مانگتے ہیں، تو اس میں اس بات کا ظہور ہے کہ اس کے معنی کی طرف ہم متوجہ نہیں ہیں۔ اس کے معنی کی طرف... بے شک وہ معنی جانتا بھی ہو، لیکن ضروری نہیں ہے کہ وہ استحضار ہو۔

اب جیسے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ کا معنی کس کو نہیں معلوم؟ سب کو معلوم ہے کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ... اے اللہ ہمیں سیدھا راستہ ہدایت فرما۔ صِرَاطَ الَّذِيْنَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ، راستہ ان لوگوں کا جن پر تو نے انعام کیا ہے۔ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّآلِّيْنَ، اور نہ ان کا جن پر تیرا غضب ہے اور نہ ان کا جو کہ گمراہ ہو چکے۔ اب دیکھیں، یہ ہمیں معلوم ہے لیکن کبھی اس طرف دھیان نہیں ہوتا۔ دھیان نہیں ہوتا۔ تو ہم لوگ جس انداز میں مانگتے ہیں، یا تو اتنا تیز مانگتے ہیں کہ وہ مانگنا نہیں کہلاتا۔

مجھے قلم دے دو۔ کوئی کہے گا یہ کیا کہا؟ یہ کیا کہا؟ یہ تو دعا میں اور حکم میں، اس کی ادائیگی میں کوئی فرق ہی نہیں ہے۔ آپ کسی کو کہیں مجھے قلم دے دو! اور اتنی تیزی کے ساتھ پڑھیں تو پھر اس میں کیا فرق ہوگا؟ اب آپ کسی سے مانگتے ہیں: جی مجھے قلم ذرا دے دیجئے۔ مجھے قلم دیجئے۔ مطلب یہ ہے کہ آپ اس سے مانگنے کی طرح... اور "مجھے قلم دے دو" یہ تو... یہ تو کچھ بھی نہیں ہوا۔ تو اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ... اب کیا مانگا آپ نے؟ کچھ بھی نہیں مانگا۔ ٹھیک ہے نماز فرض درجے میں ہو جاتی ہے، دوبارہ دہرانی نہیں پڑے گی، لیکن یہ دعا نہیں ہے۔

اس طرح جو آخری دعا ہے نماز کے اندر، جو آخری دعا ہوتی ہے، اکثر لوگ تو صرف ایک ہی دعا مانگتے ہیں۔ یہ بھی غنیمت ہے کہ ایک تو مانگتے ہیں۔ لیکن دعائیں ایک مانگنے کی تو نہیں ہیں کہ ایک ہی مانگو۔ شاید لوگوں کو پتہ بھی نہیں ہو کہ ایک کے علاوہ دعائیں بھی مانگی جا سکتی ہیں۔ فرض میں احتیاطاً آپ قرآنی دعائیں مانگیں۔ ویسے اجازت تو احادیث کی دعاؤں کی بھی ہے، اور اور دعاؤں کی بھی ہے، لیکن بہرحال چونکہ عوام کو مسائل ہوں گے اس میں، لہٰذا یہی بات ہے کہ چلو جو فرض نماز میں، آپ قرآنی دعائیں مانگیں۔

قرآنی دعائیں بہت ساری ہیں۔

رَبَّنَا اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِي الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ. رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ. رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِيْنَ.

یہ ساری دعائیں قرآنی دعائیں ہیں۔ آپ ماشاءاللہ اطمینان کے ساتھ مانگیں۔ بالخصوص جو امام ذرا لمبا قعدہ کرتا ہو۔ تو وہاں ایک دعا پڑھ کر رکنا نہیں چاہیے کیونکہ اس وقت آپ اور کچھ کر ہی نہیں سکتے۔ تو کیوں رکے؟ آپ جتنی دعائیں اس میں مانگ سکتے ہیں مانگیں۔ تو آپ کا زیادہ فائدہ ہے۔

وہ یہاں پر International Islamic University کے ایک Dean صاحب تھے، بہت بڑے عالم تھے۔ تو وہ نماز کے بعد کھڑے ہو جاتے تھے، وہ ہاتھ اٹھا کر دعا نہیں مانگتے تھے۔ کسی نے ان سے کہا حضرت! آپ ہاتھ اٹھا کر دعا نہیں مانگتے نماز کے بعد؟ انہوں نے کہا میں نماز کے اندر مانگ لیتا ہوں نا۔ جو مجھے مانگنا ہوتا ہے، وہ میں نماز کے اندر مانگ لیتا ہوں، تو بہترین وقت تو وہی ہے۔

تو ظاہر ہے عالم کے ساتھ تو یہ مسئلہ نہیں ہے۔ تو اس نے فرمایا کہ میں اس کو نماز کے اندر مانگ لیتا ہوں۔ تو مقصد یہ ہے کہ ہم لوگوں کو یہ معمول بنانا چاہیے کہ اول تو ہمیں مانگنے کا طریقہ آنا چاہیے، دوسری بات ہے کہ کن الفاظ میں مانگنا چاہیے، بہترین الفاظ کون سے ہیں، اور کس طریقے سے بہتر اس کو کیا جا سکتا ہے۔ یہ ان شاء اللہ اگر ہو جائے تو الحمدللہ ہمارے پاس پورا خزانہ ہے۔

یہ جو مسنون دعائیں ہیں، صحیح بات میں عرض کرتا ہوں، بہترین ذکر بھی ہیں۔ یعنی اتنا بہترین... مطلب دیکھیں، یعنی ہر موقع کی دعا موجود ہے۔ گھر سے باہر جانے کی، گھر سے اندر آنے کی، کپڑے بدلنے کی، کھانا کھانے کی، کھانا ختم کرنے کی، کسی کو رخصت کرنے کی، کسی کا استقبال کرنے کی، مطلب ساری دعائیں موجود ہیں۔ تو مجھے بتاؤ اب کون سا وقت ہے جو دعاؤں سے فارغ رہیں گے؟ ہاں اگر اکیلے ہوں گے تو اس وقت تو نہیں، ورنہ یہ بات ہے، اور کچھ کر نہیں رہے ہو، ورنہ یہ ہے کہ جو کچھ بھی آپ کریں گے اس کے لیے دعا موجود ہے۔

اچھا اب یہ جو ہر وقت دعا موجود ہے، اس کے اندر بھی تو ایک بات ہے نا، ذرا تھوڑا سا اس پر غور کریں۔ اس کے اندر کون سی بات ہے؟ اس کے اندر یہ کہ آپ ﷺ جو ہر وقت دعا مانگتے تھے، تو اللہ ہر وقت ہی یاد تھا نا۔ اور ہر وقت ہی اس سے مانگتے تھے۔ تو اسی طریقے سے ہم لوگوں کو بھی اللہ پاک ہر وقت یاد ہونا چاہیے اور ہر وقت ہمیں مانگنا چاہیے کیونکہ ہماری ساری ضرورتیں پوری کرنے والا اللہ جل شانہ ہی ہے۔ اللہ پاک مجھے بھی اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور آپ سب کو بھی۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ. رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ وَسَلَامٌ عَلَی الْمُرْسَلِيْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ.

تجزیہ اور خلاصہ: بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org) سب سے جامع عنوان: مسنون دعاؤں کی اہمیت، فضیلت اور مانگنے کے آداب متبادل عنوان: اللہ سے مانگنے کا مسنون طریقہ، شعور اور ہماری غفلتیں اہم موضوعات: نبی کریم ﷺ کی دعاؤں کی جامعیت اور ان کے ذریعے ایمانی پختگی کا حصول۔ دعا کے ترجمے اور مفہوم سے آگاہی کی اہمیت تاکہ استحضارِ نیت قائم رہے۔ دعاؤں کو محض ترنم یا تیز رفتاری سے پڑھنے کے نقصانات اور دھیان کی کمی۔ فرض نماز بالخصوص قعدہ اخیرہ میں مسنون اور قرآنی دعاؤں کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کرنا۔ زندگی کے ہر معمول (کھانا، پینا، آنا، جانا) کے لیے مسنون دعاؤں کی موجودگی اور ان کے ذریعے ہر وقت اللہ کی یاد کی تلقین۔

خلاصہ: اس بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے مسنون دعاؤں کی اہمیت اور انہیں پورے شعور کے ساتھ مانگنے کے آداب پر روشنی ڈالی ہے۔ آپ نے ایک مبارک حدیث کا حوالہ دے کر واضح کیا کہ نبی کریم ﷺ کی دعائیں نہایت جامع اور بلیغ ہیں، اور جب انسان ان کا ترجمہ سیکھ کر دھیان سے مانگتا ہے تو یہ نورٌ علیٰ نور بن جاتا ہے۔ آپ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ہم دعاؤں کو محض رسم کے طور پر ترنم یا تیز رفتاری سے پڑھتے ہیں جس میں مانگنے کی حقیقت فوت ہو جاتی ہے۔ مزید برآں، آپ نے نمازیوں کو تلقین فرمائی کہ نماز کے قعدہ اخیرہ میں قرآنی دعاؤں کا کثرت سے اہتمام کریں اور روزمرہ زندگی کے ہر عمل کے ساتھ مسنون دعاؤں کو اپنا معمول بنائیں تاکہ انسان کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہر وقت تعلق اور یاد کا رشتہ مضبوط رہے۔





مسنون دعاؤں کی اہمیت، فضیلت اور مانگنے کے آداب - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور