عشرہ ذوالحجہ کے فضائل، شعائر اللہ کی تعظیم اور قربانی کی حقیقت

اشاعت اول، 26 جولائی، 2019

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
مسجد F-13، اسلام آباد - بنی سٹاپ، گولڑہ روڈ، اسلام آباد، پاکستان

اہم موضوعات:

  • عشرہ ذوالحجہ (ابتدائی دس دن اور راتوں) کی اہمیت و فضیلت اور قرآنی قسمیں۔
    • شیطان کے دھوکے، اس کی بے بسی اور انسان کو قیامت کے دن اس کا اعتراف۔
      • قرآن و سنت کی پیروی کی اہمیت اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی تفسیر کی عظمت۔
        • یکم سے آٹھ ذوالحجہ تک روزے کا ثواب (ہر روزہ ایک سال کے برابر) اور یوم عرفہ (نو ذوالحجہ) کے روزے کی فضیلت۔
          • قربانی کے جانور کا مقام اور اس کے خون کے زمین پر گرنے سے قبل اللہ کے ہاں قبولیت۔
            • شعائر اللہ (خانہ کعبہ، قرآن، نماز، قربانی وغیرہ) کی تعظیم اور ان کی بے حرمتی سے اجتناب۔
              • حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عظیم قربانی اور اس کی نسبت۔
                • استطاعت کے باوجود حج نہ کرنے پر سخت وعید اور اگلے سال کے لیے نیت و کوشش کی تلقین۔


                  اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ، وَالصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیِّینَ، اَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ، بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ۔

                  وَالْفَجْرِ ۝ وَلَیَالٍ عَشْرٍ ۝ وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ ۝

                  وَقَالَ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ:

                  «مَا مِنْ أَیَّامٍ أَحَبُّ إِلَی اللّٰہِ أَنْ یُتَعَبَّدَ لَہُ فِیہَا مِنْ عَشْرِ ذِی الْحِجَّۃِ، یَعْدِلُ صِیَامُ کُلِّ یَوْمٍ مِّنْہَا بِصِیَامِ سَنَۃٍ، وَقِیَامُ کُلِّ لَیْلَۃٍ مِّنْہَا بِقِیَامِ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ»

                  لَا سِیَّمَا صَوْمُ عَرَفَۃَ، الَّذِی قَالَ فِیہِ:

                  «صِیَامُ یَوْمِ عَرَفَۃَ أَحْتَسِبُ عَلَی اللّٰہِ أَنْ یُکَفِّرَ السَّنَۃَ الَّتِی قَبْلَہُ وَالسَّنَۃَ الَّتِی بَعْدَہُ»

                  وَمِنْہَا التَّکْبِیرُ فِی دُبُرِ الصَّلَوَاتِ الْمَکْتُوبَاتِ، وَکَانَ عَبْدُ اللّٰہِ یُکَبِّرُ مِنْ صَلَاۃِ الْفَجْرِ یَوْمَ عَرَفَۃَ إِلٰی صَلَاۃِ الْعَصْرِ مِنْ یَوْمِ النَّحْرِ، یَقُولُ: اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ۔

                  وَکَانَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یُکَبِّرُ بَعْدَ صَلَاۃِ الْفَجْرِ یَوْمَ عَرَفَۃَ إِلٰی صَلَاۃِ الْعَصْرِ مِنْ أَیَّامِ التَّشْرِیقِ، مِنْ آخِرِ أَیَّامِ التَّشْرِیقِ، وَیُکَبِّرُ بَعْدَ الْعَصْرِ۔

                  وَمِنْہَا: «خِیَارُکُمْ مَنْ أَهْدَی»۔ صَدَقَ اللّٰہُ الْعَظِیمُ وَصَدَقَ رَسُولُہُ النَّبِیُّ الْکَرِیمُ۔

                  بزرگوں دوستوں ابھی چونکہ، آج کل، جو دن رات ہیں، یہ اصل میں ایک بہت بڑے ثواب کو کمانے کے جو زمانے ہیں، اس کا زمانہ ہے، اس کے قریب ہے۔ یعنی اس وقت ہم ایک ایسے دور میں داخل ہونے والے ہیں، جہاں اگر ہم لوگ تھوڑا سا، اپنے آپ کو سمجھائیں اور علم ہو تو بہت کچھ کما سکتے ہیں۔ بعض دفعہ،کامیابی بہت قریب ہوتی ہے، لیکن نہ جاننے کی وجہ سے انسان اس سے محروم ہوتا ہے۔ تو اس وجہ سے وقت پر اگر کسی چیز کا پتہ چل جائے، تو یہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہوتی ہے۔

                  شیطان جو ہے، جس وقت دوزخ میں لوگ اس کو دیکھیں گے، تو دوزخی اس کو پڑ جائیں گے۔ اور کہیں گے، تمہاری وجہ سے ہم ادھر پہنچے ہیں، اگر تو شیطانی نہ کرتا، تو ہم یہاں نہ آتے، تو نے ہمیں ورغلایا ایسے کیا، ایسے کیا۔ تو شیطان ان کو کیسا جواب دے گا؟ وہ کہے گا، لَا تَلُومُونِي، "مجھے ملامت نہ کرو"، لُومُوا أَنْفُسَكُمْ، "اپنے آپ کو ملامت کرو"۔ میں نے تمہارے ساتھ جھوٹا وعدہ کیا تھا، اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ سچا وعدہ کیا تھا۔ تم لوگوں نے اللہ کے سچے وعدے پر یقین نہیں کیا، اور جھوٹے وعدے پر یقین کر لیا، تو بھگتو! میں بھی بھگت رہا ہوں، نہ تم مجھ سے کچھ کم کر سکتے ہو، نہ میں تم سے کچھ کم کر سکتا ہوں۔

                  یہ شیطان کا جواب ہوگا۔ اس سے پتہ چلا، کہ شیطان کی باتوں میں نہیں آنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا:

                  وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ "اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو" ۚ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ "اور بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے"

                  دوسری طرف، اللہ جل شانہٗ کے سچے وعدوں پر یقین کرنا چاہیے۔ اللہ جل شانہٗ کے سچے وعدے ہم تک کیسے پہنچے؟ یقیناً اس کا ایک ہی رستہ ہے، اور وہ رستہ کیا ہے؟ وہ ہے آپ ﷺ کے ذریعے سے جو قرآن ملا ہے، اور آپ ﷺ کی سنت۔ یہی ہمارے پاس واحد source ہے جس کے ذریعے سے ہمیں اللہ جل شانہٗ کے وعدوں کا یقین ہوتا ہے، اللہ پاک کے وعدوں کا ہمیں پتہ چلتا ہے۔

                  اب دیکھیں، میں نے جو آپ کے سامنے قرآن کی آیات بیان کی ہیں، اور ساتھ ہی احادیث شریفہ بیان کی ہیں، تو اس میں اللہ پاک نے کچھ فرمایا ہے، آپ ﷺ نے کچھ فرمایا ہے۔ ہم اس پر غور کریں نا۔ اب اگر سستی کی طرف ہمیں شیطان بلا رہا ہے، تو ان کی بات نہ مانیں، اور جب اللہ تعالیٰ ہمیں کسی بات کی طرف بلا رہا ہے، تو پھر ہم اس کو مانیں۔ اور آپ ﷺ جو چیز ہمیں بتا رہے ہیں، اس کو ہم سمجھنے کی کوشش کر لیں۔ یہی ہمارا طریقہ ہے نا، اور کیا کر سکتے ہیں ہم، اسلام اسی کو کہتے ہیں۔ ایمان لانے سے انسان اسلام میں داخل ہو جاتا ہے، لیکن پھر عمل کا ایک زبردست قسم کا میدان سامنے آ جاتا ہے۔ اوامر و نواہی کا، یعنی انسان کے لیے کچھ احکامات ہیں، مسلمانوں کے لیے کچھ احکامات ہیں، ان پر عمل کرنا پڑے گا۔ کچھ باتیں ایسی ہیں جن کو اپنانا ہوگا، اور کچھ باتیں ایسی ہیں جن سے اپنے آپ کو بچانا ہوگا۔ یہ اوامر و نواہی کا پورا نظام ہے، اسی کو شریعت کہتے ہیں۔ لہٰذا شریعت کو سمجھنا، اور اس پر عمل کرنا، یہ ہر مسلمان کا فرض ہے۔ مسلمان کو یہ کرنا پڑے گا۔

                  تو ابھی میں نے آپ کے سامنے جو قرآن کی آیات مبارکہ تلاوت کی، اس میں اللہ پاک قسم کھاتے ہیں چند چیزوں کی۔

                  وَالْفَجْرِ

                  فجر کی قسم۔

                  وَلَيَالٍ عَشْرٍ

                  اور دس راتوں کی قسم۔

                  وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ

                  اور جفت کی قسم، اور طاق کی قسم۔

                  علمائے مفسرین اس کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں، اس میں ”لَيَالٍ عَشْرٍ“ سے مراد ذوالحجہ کی دس راتیں ہیں۔ جو آنے والا مہینہ ہے، ذوالحجہ کی دس راتیں ہیں۔ ”وَلَيَالٍ عَشْرٍ“۔ اور ”شَفْعٍ“ (جفت)، اس سے مراد دس ذوالحجہ کا دن ہے۔ اور ”وَتْرٍ“، یہ اس سے مراد نو ذوالحجہ کا دن ہے۔ گویا کہ دو دنوں کی اللہ پاک نے قسم کھائی ہے، اور دس راتوں کی قسم کھائی ہے۔ اللہ جل شانہٗ جس چیز کی قسم کھاتا ہے نا، وہ کوئی بہت ہی عظیم چیز ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم لوگ تو اللہ کی قسم کھاتے ہیں نا، کیونکہ اللہ پاک سب سے عظیم ہے۔ اللہ جل شانہٗ سے بڑا کوئی نہیں، اللّٰہ ہی اکبر ہے۔ لیکن اللہ جل شانہٗ کے سامنے تو کوئی چیز بڑی نہیں ہے۔ لہٰذا ہمارے لحاظ سے جو بڑی چیز ہے، اللہ تعالیٰ نے بنائی ہے، اللہ تعالیٰ اس کی قسم کھاتے ہیں۔ اور اللہ پاک نے قسمیں مختلف مواقع پر، مختلف چیزوں کی کھائی ہیں۔

                  وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ ۝ وَطُورِ سِينِينَ ۝ وَهَذَا الْبَلَدِ الْأَمِينِ

                  وہاں بھی قسم کھائی ہے۔

                  وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا ۝ وَالْقَمَرِ إِذَا تَلَاهَا ۝ وَالنَّهَارِ إِذَا جَلَّاهَا ۝ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا ۝ وَالسَّمَآءِ وَمَا بَنَاهَا ۝ وَالْأَرْضِ وَمَا طَحَاهَا

                  یہاں پر بھی قسم کھائی ہے۔

                  تو عظیم چیزوں کی اللہ پاک قسم کھاتے ہیں۔ اب قرآن سے ہمیں پتہ چلا کہ یہ دس راتیں عظیم ہیں۔ پتہ چل گیا، کہ یہ دس راتیں عظیم ہیں۔ اور دو دن عظیم ہیں، یہ ہمیں پتہ چل گیا۔ اور فجر کا وقت بھی عظیم ہے۔ اب دیکھ لیں، جب قرآن سے پتہ چل گیا، تو قرآن کا جو اول اور بہترین مفسرِ قرآن ہے، وہ کون ہے؟ وہ رسولِ کریم ﷺ ہیں۔ کیونکہ قرآن جو ہے یہ آپ ﷺ کے لیے مفصل ہے، ہمارے لیے مجمل ہے۔ ہم لوگ قرآن کی اجمال کو حاصل کر سکتے ہیں، آپ ﷺ کو تفصیل کا پتہ ہے۔ اور تفسیر جو ہوتی ہے وہ اجمال کی تفصیل ہوتی ہے۔ تو جب بھی ہمیں قرآن کی کوئی چیز سمجھ نہیں آئے گی، تو ہمیں سب سے پہلے آپ ﷺ کی سنت میں اس کو ڈھونڈنا پڑے گا، کہ آپ ﷺ نے اس کی کیا تفسیر کی ہے۔ پھر اس کے بعد صحابہ کرام کے آثار میں سے دیکھنا پڑے گا، صحابہ کرام نے اس کو کیا سمجھا ہے۔ پھر اس کے بعد دوسرے مفسرین کی کتابوں میں دیکھنا پڑے گا، انہوں نے اس سے کیا مراد لیا ہے۔ بنیاد یہ ہے۔

                  جیسے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو آپ ﷺ نے بہترین مفسرِ قرآن بتا دیا۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا، کہ اب عبداللہ بن عباس کی speciality یہ تھی کہ وہ قرآن کی تفسیر بہت اچھی کر لیتے تھے۔ تو لہٰذا جتنے بھی یعنی مفسرین ہیں، وہ سب ان کی طرف رجوع کرتے ہیں، اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے تفسیری کلمات، ان کا بڑا خیال رکھتے ہیں، اور اس کی روشنی میں پھر خود بھی تفسیر کرتے ہیں۔

                  تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اب ہم دیکھیں گے سنت میں۔ تو ابھی دیکھیں، آپ ﷺ نے فرمایا، ابھی جو احادیث شریفہ گزری ہیں، کہ جو دس راتیں آنے والی ہیں، ان میں، سبحان اللہ، اس میں دس ذوالحجہ کو تو روزہ نہیں رکھا جا سکتا، اس میں تو پابندی ہے، دوسری احادیث شریف کے مطابق۔ نو ذوالحجہ تک روزے رکھنے کے اجر کا بتایا گیا۔ یکم سے لے کر آٹھ ذوالحجہ تک، ہر روزے کا اجر ایک سال روزوں کے برابر ہے۔

                  ذرا اس میں ایک اور مسئلے کی وضاحت کرنا ضروری ہے۔ ایسے نہ سمجھو کہ پھر باقی روزے نہ رکھو، بس ایک سال روزے ہم نے رکھ لیے نا۔ جیسے سورہ اخلاص کا بتایا گیا ہے کہ تین دفعہ سورہ اخلاص پڑھنے سے پورے قرآن کا ثواب ملتا ہے، تو اس کا مطلب ہے تین دفعہ سورہ اخلاص پڑھ لو تو بس اس کا مطلب ہے کہ بس قرآن پورا ہوگیا؟ نہیں، وہ اس کا extra اجر ہے۔ قرآن، قرآن ہے، اس کی ہر آیت ایک روشنی ہے، اس کو حاصل کرنا پڑے گا۔ اس طرح ہر نماز جو فرض ہے، اس کو آپ اس میں نہیں لا سکتے۔ ہاں! البتہ یہ والی ضرور بات ہے کہ یہ نفلی روزہ ہے، اور نفلی روزوں کا ایک سال روزے اگر آپ رکھیں نا، ایک سال نفلی روزے رکھیں، تو آپ کو اس ایک روزے پر مل سکتا ہے اجر، مل سکتا ہے۔

                  یکم کو بھی، دو کو بھی، تین کو بھی، چار کو بھی، پانچ کو بھی، چھ کو بھی، سات کو بھی، آٹھ کو بھی۔ البتہ نو ذوالحجہ، اس میں مزید اضافہ ہے۔ نو ذوالحجہ کے بارے میں فرمایا، مسلم شریف کی روایت ہے، فرمایا میں امید کرتا ہوں اللہ تعالیٰ سے، کہ نو ذوالحجہ کا روزہ جو رکھیں گے، وہ ان کے ایک سال پہلے کا اور ایک سال کے بعد والے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گا۔ یعنی ایک سال پہلے، اور ایک سال بعد والے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یوم العرفۃ کا روزہ ہے۔

                  یوم العرفۃ کا روزہ ہے۔ اب جو حاجی وہاں ہے، ان کی تو بات اور ہے، ان کو تو وہاں کی برکات مل رہی ہیں۔ جو وہاں نہیں ہیں، وہ روزہ رکھ کر، سبحان اللہ، ان کے ساتھ اس طریقے سے شامل ہو سکتے ہیں۔ تو یہ ایک بات میں عرض کر رہا تھا، کہ یہ دس ذوالحجہ کے جو ابتدائی ایام ہیں، یہ بہت قیمتی ہیں۔ اس میں نو ذوالحجہ کو تو چونکہ حج ہوتا ہے، یوم الحج ہے، اور عرفات میں انسان کی حاضری ہوتی ہے۔ اور عرفات کی حاضری اتنی بڑی حاضری ہے، کہ شیطان اپنے سر پہ خاک ڈالتا ہے کہ کیا ہوا میں نے کتنے مشقتوں سے لوگوں کو گمراہ کر دیا اور اللہ پاک اس کو چھوٹی چھوٹی باتوں پر معاف کر رہا ہے۔ تو بہت خجل ہوتا ہے، اور خجالت کی وجہ سے اپنے سر کے اوپر خاک ڈال رہا ہوتا ہے، بہت زیادہ اللہ پاک لوگوں کو معاف فرماتے ہیں عرفات کے دن۔

                  تو یوم العرفہ ہے۔ اور دوسرا یہ ہے کہ دس ذوالحجہ کو یوم النحر ہے۔ تین ایام نحر ہیں، مطلب یہ ہے کہ دسویں گیارہویں، بارہویں، اس میں انسان قربانی کر سکتا ہے۔ قربانی کا جو عمل ہے نا، سبحان اللہ، ان ایام کے اندر اللہ جل شانہٗ کے ہاں قربانی سے زیادہ کوئی بڑا عمل نہیں ہے۔ کوئی بڑا عمل نہیں ہے فرض نمازوں کے علاوہ۔ فرض نمازوں کی تو علیحدہ بات ہے نا، کیونکہ قربانی واجب ہے۔ تو قربانی سے، قربانی سے اونچا عمل کوئی نہیں۔ بلکہ فرماتے ہیں کہ جس وقت قربانی کے جانور کا خون گرتا ہے، تو گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ اس کو قبول فرماتے ہیں۔

                  یہ بہت اونچا عمل ہے۔ آپ حضرات شاید جانتے ہوں گے، اللہ پاک نے قرآن پاک میں ایک جگہ پر ارشاد فرمایا، شرک کی مذمت کی ہے۔ بہت زبردست طریقے سے، کہ جو شرک کرتا ہے وہ ایسا ہے جیسے آسمان سے گرا، اور یا پھر کسی پرندے نے اچک لیا، یا پھر کسی گہری وادی میں پاش پاش ہو گیا گر کے۔ اور ساتھ ہی ارشاد فرمایا:

                  ذَلِكَ وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ

                  جو شعائر اللہ کی تعظیم کرتے ہیں وہ ان کے دلوں کی تقویٰ کی وجہ سے ہے۔

                  شعائر اللہ میں یہ جو آیت مطلب آئی ہے، وہ اصل میں سیاق و سباق کے لحاظ سے یہ قربانی کے جانور کے لیے ہے۔ قربانی کے جانور کے لیے۔ شعائر اللہ اور بھی ہیں، لیکن سب سے اخیر میں قربانی کے جانور کا ہے۔ تو جو چیز سب سے اخیر کی چیز کے لیے ثابت ہو گئی، تو جو اس سے پہلے ہے، تو اس کے لیے تو ہے ہی۔ جیسے، سبحان اللہ، شعائر اللہ میں کون کون سی چیزیں ہیں؟ خانہ کعبہ، قرآن، صفا مروہ، نماز، یہ شعائر اللہ میں ہیں۔ تو شعائر اللہ کی جو تعظیم ہے، یہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ دلوں کے تقویٰ کی وجہ سے ہے۔

                  ایک صاحب نے اس کی جو تفسیر بیان فرمائی ہے، اس میں ایک عجیب نکتہ بیان فرمایا ہے۔ فرمایا کہ یہ دو آیتیں اس طرح جو بالکل ساتھ جڑی ہوئی ہیں، کہ پہلے شرک کی مذمت ہے اور پھر اس کے فوراً بعد شعائر اللہ کی تعظیم کی بات ہے اور اس کو دلوں کا تقویٰ بتایا گیا ہے۔ تو غالباً اس کی وجہ یہ ہے، کہ ممکن ہے کہ بعض لوگ شعائر اللہ کی تعظیم کو شرک سمجھتے ہوں۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ ممکن ہے کہ بعض لوگ شعائر اللہ کی تعظیم کو شرک سمجھتے ہوں، ان کی غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے بالکل ساتھ ہی متصل یہ لایا ہے کہ شعائر اللہ کی تعظیم تو دلوں کی تقویٰ کی وجہ سے ہے۔

                  اب میں خانہ کعبہ کے سامنے سجدہ کرتا ہوں، تو یہ شرک ہے؟ میں اللہ کو سجدہ کر رہا ہوں، حکم خانہ کعبہ کی طرف ہے۔ خانہ کعبہ کی طرف سجدہ کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے سجدہ ہے۔ یہ تو اللہ پاک نے حکم دیا نا۔

                  فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ

                  اور اللہ کے حکم کا مقابلہ شیطان نے کیا ہے، وہ ظالم مردود ہو گیا۔ جب فرشتوں کو، آدم علیہ السلام کو سجدہ کا حکم ہو گیا، تو فرشتوں نے تو سجدہ کر لیا، وہ تو معصوم لوگ ہیں۔ شیطان کے ساتھ نفس تھا، اس کے نفس نے اس کو نہیں کرنے دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا تو نے کیوں سجدہ نہیں کیا اس کو جس کو میں نے خاص طریقے سے بنایا۔ تو شیطان کہتا ہے:

                  أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ

                  میں اس سے اچھا ہوں۔

                  خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ

                  تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا، اس کو مٹی سے پیدا کیا ہے، اس وجہ سے میں نے سجدہ نہیں کیا۔ تو اللہ پاک نے فرمایا، نکل جا میرے دربار سے، مردود ہے۔ تجھ پر لعنت ہے۔

                  تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ دیکھو، اپنی بات نہیں چلانی۔ اللہ جل شانہٗ جب کسی چیز کا حکم دے دے، اس کے بعد کوئی اپنی بات چلا سکتا ہے؟ کوئی اپنی بات نہیں چلا سکتا، اپنی بات چلائے گا تو شیطان بن جائے گا۔ تو یہاں پر یہ والی بات ہے کہ جو شعائر اللہ ہے، اس کی تعظیم کا اللہ پاک نے حکم دیا ہے۔ لہٰذا اس میں اگر کوئی گڑبڑ کرتا ہے، تو یہ معاملہ خطرناک ہے۔

                  آج کل یہ وقت آ گیا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں معاف کرے، اللہ ہماری حفاظت فرمائے، میں دیکھتا ہوں کہ لوگ ان چیزوں کی قدر نہیں کرتے، خانہ کعبہ کی طرف پیر کر لیں گے۔ اور جب ان سے کوئی کہتا ہے، لڑتے ہیں ان کے ساتھ! لڑتے ہیں ان کے ساتھ! خدا کے بندو! کیا سمجھتے ہو خانہ کعبہ کو؟ یہ اللہ تعالیٰ کا گھر ہے۔

                  ایک دفعہ میں حرم شریف میں طواف کر کے اوپر نیچے اتر رہا تھا، راستے میں دیکھا کہ ایک مصری بیٹھا ہوا ہے، قرآن پڑھ رہا ہے، دوسرا مصری لیٹا ہوا ہے۔ اس نے پیر بالکل خانہ کعبہ کی طرف کیے ہوئے ہیں۔ میں نے، جو بیٹھا ہوا تھا لیٹے ہوئے کو تو میں کچھ کہہ نہیں سکتا تھا، وہ تو لیٹا ہوا تھا۔ تو جو بیٹھا ہوا تھا، اس کے کان میں یہ آیت پڑھ لی۔ صرف آیت پڑھی، میں نے اس کی تفسیر کی، نہ کوئی اور بات کی، نہ پہلے کچھ کہا، نہ بعد میں کچھ کہا۔ میں نے اسے کہا:

                  ذَلِكَ وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ

                  بس، اس کے کان میں اتنا کہا۔ وہ spring کی طرح اچھلا! اپنے ساتھی کو جگایا، اس کے پیر خانہ کعبہ سے ہٹا دیے، اور پھر اس کے بعد بیٹھ کر قرآن پڑھنے لگا۔ بات سمجھ میں آگئی نا اس کو؟ کیا میں نے تفسیر کی تھی؟ میں نے تفسیر نہیں کی تھی، میں نے صرف، چونکہ عرب تھے، سمجھ گئے۔ بات اس کی سمجھ میں آگئی۔ بس اس نے فوراً اس پر عمل کر دیا۔ یہ الحمد للہ، یہی بات ہے، ان کے اندر یہ خوبی ہے۔ اگر ان کو سمجھا دیا جائے صحیح طریقے سے، پھر بات مانتے ہیں۔ لیکن جہالت، جہالت ہے جہاں پر بھی ہو۔ کہیں پر بھی ہو، ابو جہل کیا مکہ مکرمہ میں نہیں تھے؟ جہالت! اسی لیے اب اس کو ابو جہل کہتے ہیں۔ یہ کوئی بات نہیں کہ کہ فلاں جگہ پر جہالت نہیں ہو سکتی اور فلاں جگہ پر ہو سکتی ہے، یہ اس کی بات نہیں ہے، جہالت جہالت ہے جہاں پر بھی جہالت ہو۔

                  تو یہ والی جو بات، شعائر اللہ کی تعظیم والی بات، بہت اہم ہے، اس کو سمجھنا۔ بہت اہم ہے۔ مطلب نماز، سبحان اللہ، نماز کی تکریم اتنی ہے، کہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی کو پتہ چل جائے کہ نمازی کے سامنے گزرنا کتنی بڑی جسارت ہے، وہ چالیس سال ادھر کھڑا رہنا پسند کرے گا لیکن نمازی کے سامنے نہیں گزرے گا۔ شعائر اللہ میں سے ہے۔

                  اس طریقے سے قرآن، سبحان اللہ، کیا کتاب ہے! اس کو میں دیکھتا ہوں لوگ زمین پر رکھتے ہیں اس طرح۔

                  إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

                  یہ جہالت ہے۔ قرآن اللہ کی کتاب ہے۔

                  إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ ۗ وَلَذِكْرُ اللهِ أَكْبَرُ

                  قرآن میں اللہ کا ذکر ہے یا نہیں ہے؟ قرآن اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے،

                  وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي

                  یہاں پر مفسرین نے کیا فرمایا؟ ذکری سے مراد؟ قرآن کی! ثابت ہے۔ ”وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي“، تو قرآن اللہ کا ذکر ہے، اور جس، اور ذکر کے بارے میں اللہ پاک فرما رہے ہیں، ”وَذِكْرُ اللهِ أَكْبَرُ“، اور اللہ تعالیٰ کا ذکر تو بہت بڑی چیز ہے۔ آپ اس کو زمین پر رکھتے ہیں؟ خدا کے بندے، ذرا تھوڑا سا غور تو کرو۔

                  تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ جہالت ہے، جہالت۔ کہتے ہیں آخر وقت میں جو حبشی خانہ کعبہ کو گرائے گا، ایک ایک پتھر کو گرائے گا، اخیر میں کہے گا الحمد للہ۔ کیا مطلب؟ اس کو توحید کے خلاف سمجھتا ہوگا نا۔ سمجھ میں آگئی نا بات؟ ہاں! ایسی جہالتیں ہیں، اللہ تعالیٰ ہمیں ایسی جہالتوں سے محفوظ فرمائے۔ تو بہرحال، ہم لوگوں کو پکا دین اپنانا چاہیے۔ اور پکا دین کہاں ملے گا؟ قرآن میں ملے گا، سنتِ رسول میں ملے گا۔ یہ ہمارے لیے پابندی ہے۔

                  تو میں عرض کر رہا تھا کہ یہ جو دن الحمدللہ جو دن آ رہے ہیں، بہت قیمتی دن آ رہے ہیں۔ یوم النحر، قربانی۔ قربانی بہت بڑا عمل ہے۔ تھوڑا سا میں آپ کو اس کی نسبت بیان کرنا چاہتا ہوں۔ اس کی نسبت کیا ہے؟ لوگ سمجھتے ہیں بس صرف جانور ہے اور بس ہم نے کاٹ دیا۔ ایسا نہیں ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کو اللہ جل شانہٗ نے خواب کے ذریعے سے بتا دیا کہ اسماعیل علیہ السلام کو قربان کرنا ہے۔ اسماعیل علیہ السلام سے ابراہیم علیہ السلام پوچھتے ہیں، حالانکہ بچہ ہے، اس عمر میں کسی کو کیا پتہ خواب کی تعبیر کیا ہے۔ بچے سے پوچھ رہے ہیں، میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، کیا کہتے ہیں، آپ کی رائے کیا ہے اس میں؟ اپنے بیٹے سے پوچھ رہے ہیں۔ اسماعیل علیہ السلام کہہ رہے ہیں، "آپ وہ کر گزریں جس کا آپ کو حکم ہے، مجھے آپ صابرین میں پائیں گے"

                  بات تک پہنچ گئے نا؟ بات تک پہنچ گئے کہ حکم کیا ہے؟ کہ مجھے ذبح کر دیا جائے۔ فرمایا کہ آپ اپنا کر گزریں جو جس کا آپ کو حکم ہے، مجھے آپ صابرین میں پائیں گے۔ سبحان اللہ۔ پھر بعد میں وصیت کرنے لگے۔ ابا جان، مجھے تیز چھری سے ذبح کرنا، اوندھے منہ لٹا دیں، اپنی آنکھوں پہ پٹی باندھ دیں، تاکہ اللہ کے حکم میں تاخیر نہ ہو جائے۔ ابراہیم علیہ السلام نے ایسا کیا۔ اب دیکھو یہ اللہ جل شانہٗ کا حکم پورا ہو رہا ہے، اتنا مشکل حکم ہے کہ جس کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اللہ جل شانہٗ دیکھتا ہے کہ کون کرتا کیا ہے۔ جب سارے اسباب پورے ہو گئے ذبح کے، تو چھری کو اللہ نے حکم دیا کہ کاٹنا نہیں ہے۔ چھری کو اللہ نے حکم دیا کہ کاٹنا نہیں ہے۔

                  اب ابراہیم علیہ السلام اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کر رہے ہیں زور سے، جو اللہ کے حکم سے سرشار ہو گا وہ کیسے زور سے چلائے گا! زور سے کاٹنا چاہتا ہے، آگے چھری نہیں کاٹ رہی۔ حیران ہے، پتہ نہیں کیوں نہیں ہوا۔ اتنے میں اللہ پاک نے جبرائیل علیہ السلام کو حکم دیا، فوراً جنت سے مینڈھا اٹھا کے لے جاؤ ابراہیم علیہ السلام کے سامنے۔ جو حکم جبرائیل علیہ السلام کو emergency میں ملے ہیں نا چند، ان میں سے ایک یہ بھی ہے۔ تو جبرائیل علیہ السلام بہت جلدی وہ مینڈھے کو سامنے ڈال دیا ابراہیم علیہ السلام کے، اس وقت چھری کو حکم ہو گیا، کاٹو! بس چھری چل پڑی۔ ابراہیم علیہ السلام سمجھے کہ کام ہو گیا، جب آنکھ کھول لی، تو دیکھا کہ مینڈھا ذبح ہوا ہے، اور اسماعیل علیہ السلام کھڑے ہیں ساتھ۔ اب حیران ہیں کہ یہ کیا ہوا! اتنے میں اللہ پاک کی طرف سے وحی آ گئی۔ "اے ابراہیم، تو نے اپنا خواب سچا کر کے دکھایا"۔ تو نے اپنا خواب سچا کر کے دکھایا۔

                  اس کا مطلب یہ ہوا، کہ یہ جو خواب تھا، جو حکم تھا، اس پہ عمل نہیں ہو سکا، اللہ کے حکم سے۔ عمل نہیں ہو سکا اللہ کے حکم سے۔ لیکن اللہ پاک نے اس کو قبول کر لیا، کہ جیسے عمل ہو چکا ہے۔ اس وجہ سے ذبح ہے، وہ جو مطلب وہ ہے، مینڈھا، اس کا جو ذبح ہے، وہ قائم مقام ہے اسماعیل علیہ السلام کے ذبح کا۔ اللہ پاک نے خود فرمایا، تو نے اپنا خواب سچا کر کے دکھایا۔ وہ کس چیز کا قائم مقام ہے؟ اسماعیل علیہ السلام کے ذبح کا قائم مقام ہے۔ اور ہمارے سامنے تو مینڈھا نہیں ہے نا، ہم تو اپنی اپنی قربانی ذبح کر رہے ہیں، یہ اس مینڈھے کے قائم مقام ہے۔ لہٰذا وہ جو اس کے قائم مقام، اور یہ اس کے قائم مقام، تو یہ اسماعیل علیہ السلام کے ذبح کا قائم مقام ہے، یا گویا کہ اپنے بیٹوں کے ذبح کا قائم مقام ہے۔

                  اب جب یہ والی بات سمجھ میں آگئی تو اس کی نسبت کتنی اونچی ہو گئی۔ اس وجہ سے کہتے ہیں کہ اگر کوئی یوم النحر کو کروڑوں اربوں خیرات کر دے، لیکن قربانی نہ کرے۔ دوسرا شخص ہے جو قربانی کرے اور ایک پیسہ بھی مزید خیرات نہ کرے، وہ قربانی کرنے والا اس سے افضل ہے۔ بے شک وہ سارا گوشت خود کھا جائے۔ بہتر تو یہ ہے کہ تین حصے کر لے۔ علمائے کرام نے فرمایا، یہ بہتر والی بات ہے۔ بہتر تو یہ ہے کہ تین حصے کر لے، ایک حصہ خود کھائے، ایک حصہ غرباء کو دے دے، ایک حصہ رشتہ داروں کو دے دے۔ یہ ہے بہتری کا فیصلہ۔ کیوں؟ قربانی کا گوشت خود کھانا بھی سنت ہے۔ بلکہ یہاں تک فرماتے ہیں کہ جو حضرات قربانی کرنا چاہتے ہوں، وہ کیا کریں؟ وہ ناخن نہ لیں یکم ذوالحجہ کے بعد۔ ناخن نہ لیں، بال نہ لیں۔ جس وقت قربانی ہو جائے، اس کے بعد، کر لیں۔ اور اس دن کھانے کی ابتداء اس گوشت سے کر لیں، تو اچھا ہے، مستحب ہے۔ لیکن اگر سارا گوشت خود کھا لے، کوئی گناہ اس پر نہیں۔ نسبت میں کوئی فرق نہیں آیا۔ ہاں، مزید، تو یہ مزید خیرات ہے، اللہ تعالیٰ قبول فرمانے والے ہیں، مزید خیرات۔

                  تو اس کا مطلب یہ ہوا، کہ یہ بہت بڑی نسبت کی چیز ہے۔ اس لیے فرماتے ہیں خوبصورت جانور کو ذبح کرو۔ جس کو ذبح کرنے کو جی نہ چاہے۔ اس کے ساتھ محنت اور مشقت کر لو، اس کی کھجلی کرو، اس کو صاف کر لو، اس کو نہلاؤ۔ اس کے ساتھ محبت کرو، اس محبت کو بڑھاؤ۔ تاکہ اتنی محبت ہو جائے کہ جب وہ ذبح کرے تو آپ کا دل ساتھ ذبح ہو رہا ہو۔ اس سے بنتی ہے وہ نسبت، وہ جوڑ بنتا ہے۔ لہٰذا، ہمیں اس طرح کرنا چاہیے۔ تو یہ ایام بہت قیمتی ایام ہیں۔

                  اول تو میں request کروں گا، جن پر حج فرض ہے چونکہ ایام حج ہیں، اور اس دفعہ نہیں جا سکے، غلطی سے، غفلت سے، یا کسی حادثے سے، وہ نیت کر لیں اگلے سال کے حج کی۔ کیونکہ یہ بہت بڑی جسارت ہے۔ جس پر حج فرض ہو، اور حج نہ کرے، اور موت آ جائے، تو فرماتے ہیں، اللہ پاک کو کوئی پروا نہیں کہ یہودی مرتا ہے یا عیسائی مرتا ہے۔ خطرناک بات ہے۔ اور یہ بھی اس کی وہ ہے، بے برکتی ہے، کہ حاجی حج کر کے واپس آ جائیں گے اور جس کام کی وجہ سے اس نے حج کو روکا ہے، وہ کام نہیں ہوگا اس وقت تک۔ بعض لوگ اپنی بیٹیوں کی شادی کے لیے رکے ہوتے ہیں، وہ فرض ہے خدا کے بندے! وہ اخلاقی فرض ہے، یہ شرعی فرض ہے۔ دونوں میں فرق ہے۔ اخلاقی فرض شرعی فرض کے برابر نہیں ہوتا۔ بھئی میں ڈیوٹی دے رہا ہوں نا ہسپتال میں، اگر میں ڈاکٹر ہوں، تو میری ڈیوٹی ہے نا، ڈیوٹی فرض کو کہتے ہیں نا۔ تو کیا یہ حج کے برابر ہے؟ نماز کے برابر ہے؟ دونوں میں فرق ہے۔

                  تو اسی طریقے سے بیٹی کی شادی، ہمارا فرض ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اس کے لیے حج کو چھوڑ دیں۔ یہ غلط العام ہے۔ اس سے اپنے آپ کو بچانا چاہیے۔ تو حج فرض ہے، اس کے لیے نیت کرنی چاہیے۔ بلکہ میں تو کہتا ہوں دوڑ لگاؤ، ممکن ہے اب بھی chance مل سکتا ہے private میں، group میں chance مل سکتا ہے۔ اور یہ جو ابھی سرکاری طور پر جا رہے ہیں، government scheme میں، ان میں سے بہت سارے لوگ نہیں جا سکیں گے کسی وجہ سے، ان کی جگہوں پر filling کرتے ہیں پھر۔ تو کوئی جو apply کر چکا ہو تو ان کو chance مل جاتا ہے۔ لہٰذا کم از کم ارادہ تو کرو، اس کے لیے دوڑ تو لگاؤ، کوشش تو کر لو، نہ ہو تو اگلے سال کر لینا۔

                  بہرحال، حج فرض، اس کا خیال۔ قربانی کا خیال۔ ان ایام کا خیال۔ اللہ کرے کہ ہمیں ان ایام کا خیال ہو۔ جیسے میں نے عرض کیا بہت سارے لوگ ابھی آ رہے ہیں، ان کو میں صرف اخیر میں بتاتا ہوں کہ ذوالحجہ کے یکم سے لے کر آٹھ ذوالحجہ تک ہر روزے کا اجر ایک سال روزے کے اجر کے برابر ہے۔ ایک سال! ذوالحجہ کے، حدیث شریف میں آیا ہے۔ اور نویں ذوالحجہ کے بارے میں فرماتے ہیں، میں اللہ سے امید کرتا ہوں کہ ایک سال گزشتہ کے اور ایک سال آنے والے گناہوں کا کفارہ ہو جائے۔ اور اللہ پاک نے قسم کھائی ہے ان دس راتوں کی، اور ساتھ جفت کی اور طاق کی، جفت سے مراد دس ذوالحجہ کا دن ہے اور نو ذوالحجہ کا دن مطلب اس سے طاق مراد ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔

                  وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین


                  تجزیہ اور خلاصہ: بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)

                  سب سے جامع عنوان: عشرہ ذوالحجہ کے فضائل، شعائر اللہ کی تعظیم اور قربانی کی حقیقت

                  متبادل عنوان: قربانی کا فلسفہ اور سنتِ ابراہیمی

                  اہم موضوعات:

                  عشرہ ذوالحجہ (ابتدائی دس دن اور راتوں) کی اہمیت و فضیلت اور قرآنی قسمیں۔

                  شیطان کے دھوکے، اس کی بے بسی اور انسان کو قیامت کے دن اس کا اعتراف۔

                  قرآن و سنت کی پیروی کی اہمیت اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی تفسیر کی عظمت۔

                  یکم سے آٹھ ذوالحجہ تک روزے کا ثواب (ہر روزہ ایک سال کے برابر) اور یوم عرفہ (نو ذوالحجہ) کے روزے کی فضیلت۔

                  قربانی کے جانور کا مقام اور اس کے خون کے زمین پر گرنے سے قبل اللہ کے ہاں قبولیت۔

                  شعائر اللہ (خانہ کعبہ، قرآن، نماز، قربانی وغیرہ) کی تعظیم اور ان کی بے حرمتی سے اجتناب۔

                  حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عظیم قربانی اور اس کی نسبت۔

                  استطاعت کے باوجود حج نہ کرنے پر سخت وعید اور اگلے سال کے لیے نیت و کوشش کی تلقین۔

                  خلاصہ: اس بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے عشرہ ذوالحجہ کی بے پناہ فضیلت اور اہمیت کو قرآن و سنت کی روشنی میں بیان کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن اور راتیں عبادت کے لیے انتہائی قیمتی ہیں، جن میں روزے رکھنے کا بے پناہ اجر ہے، خاص طور پر یوم عرفہ کا روزہ جو دو سال کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے۔ حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے شیطان کے دھوکوں سے بچنے اور شعائر اللہ (جیسے خانہ کعبہ اور قرآن مجید) کی تعظیم کو دلوں کا تقویٰ قرار دیا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی تسلیم و رضا کا ایمان افروز واقعہ سناتے ہوئے قربانی کی اصل روح اور نسبت کو واضح کیا کہ کس طرح یہ عمل بارگاہِ الٰہی میں بلند مقام رکھتا ہے۔ آخر میں، صاحبِ استطاعت افراد پر حج کی فرضیت پر زور دیتے ہوئے تاکید کی گئی کہ دنیاوی مصروفیات کی بنا پر حج میں تاخیر ہرگز نہیں کرنی چاہیے، بلکہ اس عظیم فریضے کی ادائیگی کے لیے فوراً نیت اور کوشش کرنی چاہیے۔