الحمد للہ رب العالمین، والصلوۃ والسلام علیٰ خاتم النبیین، اما بعد! فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
عن ابی سعید الخدری رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ ﷺ انہ قال:"اَیُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ لَمْ یَکُنْ عِنْدَہُ صَدَقَۃٌ فَلْیَقُلْ فِی دُعَائِہٖ: اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُولِکَ وَصَلِّ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِینَ وَالْمُسْلِمَاتِ فَإِنَّھَا زَکَاۃٌ"۔
وَقَالَ لَا یَشْبَعُ الْمُؤْمِنُ مِنْ خَیْرٍ حَتّٰی یَکُونَ مُنْتَھَاہُ الْجَنَّۃُ۔
رواہ ابن حبان فی صحیحہ کذا فی الترغیب و السخاوی فی تخریجہ و اعزاہ السیوطی فی الدر الی الادب المفرد للبخاری۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ جس کے پاس صدقہ کرنے کو کچھ نہ ہو، وہ یوں دعا مانگا کرے۔اللہم صل سے اخیر تک۔ اے اللہ! درود بھیج محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر، جو تیرے بندے ہیں اور تیرے رسول، اور رحمت بھیج مومن مردوں اور مومن عورتوں پر اور مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں پر۔ پس یہ دعا اس کے لیے زکوۃ یعنی صدقہ ہونے کے قائم مقام ہے۔ اور مومن کا پیٹ کسی خیر سے کبھی نہیں بھرتا، یہاں تک کہ وہ جنت میں چلا جائے۔
علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ حافظ ابن حبان نے اس حدیث پر یہ فصل باندھی ہے، اس چیز کا بیان کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنا صدقہ نہ ہونے کی صورت میں صدقہ کا قائم مقام ہو جاتا ہے۔ علماء کو اس بات میں اختلاف ہے کہ صدقہ افضل ہے یا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم پر درود۔بعض علماء نے لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر درود صدقہ سے بھی افضل ہے، اس لیے کہ صدقہ صرف ایک ایسا فریضہ ہے جو بندوں پر ہے، اور درود شریف ایک ایسا فریضہ ہے جو بندوں پر فرض ہونے کے علاوہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے بھی اس عمل کو کرتے ہیں، اگرچہ علامہ سخاوی خود اس کے موافق نہیں ہیں۔
علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کیا ہے: کہ مجھ پر درود بھیجا کرو، اس لیے کہ مجھ پر درود بھیجنا تمہارے لیے صدقہ کے حکم میں ہے۔ ایک اور حدیث سے نقل کیا کہ مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو تاکہ وہ تمہارے لیے زکوۃ یعنی صدقہ ہے۔
نیز حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی روایت سے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کیا گیا ہے کہ مجھ پر درود بھیجنا تمہاری دعاؤں کو محفوظ کرنے والا ہے، تمہارے رب کی رضا کا سبب ہے اور تمہارے اعمال کی زکوۃ ہے۔ یعنی ان کو بڑھانے والا اور پاک کرنے والا ہے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کیا ہے، کہ مجھ پر درود بھیجا کرو، اس لیے کہ مجھ پر درود تمہارے لیے گناہوں کا کفارہ ہے اور زکوۃ یعنی صدقہ ہے۔ اور حدیثِ پاک کا آخری ٹکڑا کہ مومن کا پیٹ نہیں بھرتا، اس کو صاحبِ مشکوٰۃ نے فضائلِ علم میں نقل کیا ہے اور صاحبِ مرقاۃ وغیرہ نے خیر سے علم مراد لیا، اگرچہ خیر کا لفظ عام ہے۔
اور ہر خیر کی چیز اور ہر نیکی کو شامل ہے، اور مطلب ظاہر ہے کہ مومنِ کامل کا پیٹ نیکی کے کمانے سے کبھی نہیں بھرتا، وہ ہر وقت اس کوشش میں لگا رہتا ہے کہ جو نیکی بھی جس طرح اسے مل جائے وہ حاصل ہو جائے، اگرچہ اس کے پاس مالی صدقہ نہیں تو درود شریف ہی سے صدقہ کی فضیلت حاصل کرے۔اس ناکارہ کے نزدیک خیر کا لفظ العموم ہی زیادہ بہتر ہے، وہ علم اور دوسری چیزوں کو شامل ہے۔ لیکن صاحبِ مظاہرِ حق نے بھی صاحبِ مرقات وغیرہ کے اتباع میں خیر سے علم ہی مراد لیا ہے، اس لیے وہ تحریر فرماتے ہیں کہ ہرگز نہیں سیر ہوتا مومن خیر سے یعنی علم سے، یعنی اخیر عمر تک طلبِ علم میں رہتا ہے اور اس کی برکت سے بہشت میں چلا جاتا ہے۔
اس حدیث میں خوشخبری ہے طالبِ علم کو کہ وہ دنیا سے باایمان جاتا ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ اس درجہ کو حاصل کرنے کے لیے بعض اہل اللہ آخر عمر تک تحصیلِ علم میں مشغول رہے۔ باوجود حاصل کرنے کے بہت سے علم کے اور دائرہ علم کا بہت وسیع ہے، جو کہ مشغولیتِ علم کے اگرچہ ساتھ تعلیم و تصنیف کے ہو۔ حقیقت میں ثوابِ طالبِ علم اور تکمیل اس کا یہی ہے۔
اس فصل کو قرآن پاک کی دو آیتوں اور دس احادیثِ شریفہ پر اختصارًا ختم کرتا ہوں، کہ فضائل کی روایت بہت کثرت سے ہے، اس کا حساب بھی بہت مختصر رسالے میں دشوار ہے۔ اور سعادت کی بات یہ ہے کہ ایک کی فضیلت بھی نہ ہوتی تب بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر اس قدر احسانات ہیں کہ نہ ان کا شمار ہو سکتا، اور نہ ان کے حق کی ادائیگی ہو سکتی۔ اس بناء پر جتنا بھی زیادہ سے زیادہ آدمی درودِ پاک پر رطب اللسان رہتا ہے، وہ کم ہے۔ چہ جائیکہ اللہ جل شانہٗ اپنے لطف و کرم سے اس حق کی ادائیگی کے اوپر بھی سینکڑوں ثواب اور احسانات فرما دیے۔
علامہ سخاوی رحمتہ اللہ علیہ نے اولًا مجملًا ان انعامات کی طرف اشارہ کیا جو درود شریف پر مرتب ہوئے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
باب الثانی درود شریف کے ثواب میں۔
اللہ جلِ شانہ کا بندے پر درود بھیجنا، اس کے فرشتوں کا درود بھیجنا، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا خود اس پر درود بھیجنا اور درود پڑھنے والوں کی خطاؤں کا کفارہ ہونا، ان کے اعمال کو پاکیزہ بنا دینا، ان کے درجات کا بلند ہونا اور گناہوں کا معاف ہونا اور خود درود کا مغفرت طلب کرنا، درود پڑھنے والے کے لیے۔اور اس کے نامۂ اعمال میں قیراط کے برابر ثواب کا لکھا جانا۔ اور قیراط بھی وہ جو احد پہاڑ کے برابر ہو۔ اور اس کے اعمال کا بہت بڑی ترازو میں تلنا۔ اور جو شخص اپنی ساری دعاؤں کو درود بنا لے، اس کی دنیا و آخرت کے سارے کاموں کی کفایت، جیسے قریب ہی نمبر 9 پر حضرت ابی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں گزر چکا ہے۔ اور خطاؤں کو مٹا دینا اور اس کے ثواب کا غلام کے آزاد کرنے سے زیادہ ہونا۔ اس کی وجہ سے خطرات سے نجات پانا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قیامت کے دن اس کے لیے شاہد اور گواہ بننا۔ اور آپ کی شفاعت کا واجب ہونا۔ اور اللہ کی رضا اور اس کی رحمت کا نازل ہونا۔ اس کی ناراضگی سے امن حاصل ہونا۔ اور قیامت میں قیامت کے دن عرش کے سائے میں داخل ہونا۔ اور اعمال کے تلنے کے وقت نیک اعمال کے پلڑے کا جھکنا۔ اور حوضِ کوثر پر حاضری نصیب ہونا۔ اور قیامت کے دن کی پیاس سے امن نصیب ہونا۔ اور جہنم کی آگ سے خلاصی کا نصیب ہونا۔ اور پلِ صراط پر سہولت سے گزر جانا۔ اور مرنے سے پہلے اپنے مقرب ٹھکانہ جنت میں دیکھ لینا اور جنت میں بہت ساری بیبیوں کا ملنا اور اس کے ثواب کا بیس شہادتوں سے زیادہ ہونا۔اور نادار کے لیے صدقہ کے قائم مقام ہونا، اور درود شریف زکوۃ اور طہارت ہے۔ اور اس کی وجہ سے مال میں برکت ہوتی ہے، اس کی برکت سے سو حاجتیں، بلکہ اس سے بھی زیادہ پوری ہوتی ہیں۔ اور عبادت تو ہے ہی، اور اعمال میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے اور مجالس کے لیے زینت ہے۔ اور فقر و تنگیِ معاش کو دور کرتا ہے۔ اور اس کے ذریعے سے اسبابِ خیر تلاش کیے جاتے ہیں۔اور یہ کہ درود پڑھنے والا قیامت کے دن حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ قریب ہوگا۔ اس کی برکت سے خود درود پڑھنے والا اور اس کے بیٹے اور پوتے منتفع ہوتے ہیں۔ اور وہ منتفع ہوتا ہے کہ جس کو درود شریف کا سارا ثواب کیا جائے۔اور اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں تقرّب حاصل ہوتا ہے۔ اور وہ بیشک نور ہے، اور دشمنوں پر غلبہ حاصل ہونے کا ذریعہ ہے۔ اور دلوں کو نفاق سے اور زنگ سے پاک کرتا ہے۔ اور لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا ہونے کا ذریعہ ہے۔ اور خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا ذریعہ ہے۔ اس کا پڑھنے والا اس سے محفوظ رہتا ہے کہ لوگ اس کی غیبت کریں۔ درود شریف بہت بابرکت اعمال میں سے ہے اور افضل ترین اعمال میں سے ہے اور دین و دنیا دونوں میں سب سے زیادہ نفع دینے والا عمل ہے۔اور اس کے علاوہ بہت سے ثواب جو سمجھدار کے لیے اس میں رغبت پیدا کرنے والے ہیں۔ اے سمجھدار! جو اعمالِ صالحہ کے ذخیروں کے جمع کرنے پر حریص ہو اور ذخائرِ اعمال کے ثمرات حاصل کرنا چاہتا ہو۔
اللہ جل شانہ ہم سب کو درودِ شریف کی اسِ اعظم وقعت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور کثرت سے درود پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
واٰخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین
نعت شریف (عربی)
وَإِنْ ضَاقَتْ بِكَ الْأَحْوَالُ يَوْمًافَبِالْأَسْحَارِ صَلِّ عَلىٰ مُحَمَّدٍ
وَلَا تَتْرُكْ رَسُولَ اللهِ يَوْمًافَمَا أَحْلَى الصَّلَاةَ عَلىٰ مُحَمَّدٍ
شِفَاءٌ لِلْقُلُوبِ لَهَا ضِيَاءٌوَنُورٌ مُسْتَمَدٌّ مِنْ مُحَمَّدٍ
بِهَا يُسْرٌ وَتَفْرِيجٌ لِكَرْبٍلِمَنْ أَهْدَى الصَّلَاةَ عَلىٰ مُحَمَّدٍ
وَأَفْضَلُهَا إِذَا مَا كُنْتَ يَوْمًابِرَوْضَتِهٖ تُصَلِّي عَلىٰ مُحَمَّدٍ
تُصَلِّي بِاشْتِيَاقٍ فِي مَقَامٍعَظِيمُ الشَّأْنِ يَسْمَعُهَا مُحَمَّدٌ
فَيَا سَعْدَ الَّذِي قَدْ جَاءَ يَوْمًاوَقَدْ أَهْدَى السَّلَامَ عَلىٰ مُحَمَّدٍ
تَقِيٌّ بَلْ سَعِيدٌ مُسْتَجَابٌوَيَوْمَ الْحَشْرِ شَافِعُهُ مُحَمَّدٌ
وَإِنْ ضَاقَتْ بِكَ الْأَحْوَالُ يَوْمًافَبِالْأَسْحَارِ صَلِّ عَلىٰ مُحَمَّدٍ
(اشعار کا اردو ترجمہ)
جب کوئی مشکل پڑے پڑھنا درود
وقت تہجد رات میں پڑھنا درود
کتنا میٹھا ہے درود پڑھنا تو دیکھ
نہ کبھی رہ جائے یہ پڑھنا درود
آپ پر درود پڑھنے سے تو جان
نور شفا مل جائے ہے پڑھنا درود
جب کوئی مشکل پڑے پڑھنا درود
ختم اس کی برکتوں سے مشکلیں
ہوں ہر اک یہ دیکھ لے پڑھنا درود
کیا کرامت اس کی تو پائے گا گر
روضہ پر جاکر پڑھے پڑھنا درود
خود سماعت اس کی فرماتے ہیں آپ
جتنے شوق سے بھی پڑھے پڑھنا درود
کیا سعادت مند ہیں جو یاں بھی پڑھے
واں پہنچ کر بھی پڑھے پڑھنا درود
متقی خوش بخت وہ اشخاص ہیں
آپ شفیع ہوں گے جن کے پڑھنا درود