نماز کی روحانیت، آداب اور معاشرتی فوائد: حیا اور اسلامی تہذیب کا سرچشمہ
اشاعت، اول: جمعرات، 17 ستمبر 2020
- نمازِ ظہر کے اوقات کی حکمت اور شدتِ گرمی میں تاخیر کی منطق۔
- مقامِ احسان: نماز میں اللہ کی حضوری اور آخری نماز کا تصور۔
- نبی کریم ﷺ کی نماز: گریہ و زاری، خشوع و خضوع اور مناجات کے آداب۔
- قرآنی احکامات: نماز کی ظاہری شرائط (ستر، طہارت) اور باطنی آداب کا التزام۔
- اسلامی تہذیب اور ستر پوشی: زمانۂ جاہلیت کے برعکس لباس کا لازمی قرآنی حکم۔
- مغربی تہذیب اور عریانیت: نام نہاد مہذب معاشروں کی بے لباسی کا تنقیدی جائزہ۔
- انسانی جذبات کا نظم و ضبط: خواہشات کے کنٹرول کی اہمیت اور ڈیم کی مثال۔
- حیا اور پردے کی منطق: قراقلی ٹوپی اور چیل کے حملے کی سبق آموز مثال۔
- مسلم اسلاف کی پاکیزگی: فتحِ بیت المقدس کے موقع پر مسلم افواج کا غضِ بصر۔
- آیتِ قرآنی کی تفسیر: فواحش اور منکرات کے خاتمے میں نماز کا مؤثر کردار۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ!
فَأَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
آج جمعے کی رات ہے اور جمعے کی رات کو ہمارے ہاں سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی شہرہ آفاق کتاب سیرت النبی ﷺ کے حصہ پنجم سے تعلیم ہو رہی ہے۔ نمازوں کے اوقات کے بارے میں بات چل رہی تھی گزشتہ ہفتہ۔
نماز کے اوقات کی تعیین میں بھی یہ اصول مدنظر رکھا گیا ہے کہ وہ ایسے ہونے چاہئیں جن میں نسبتاً سکون میسر ہوتا ہو اسی لئے ظہر کی نماز کا اصلی وقت اگرچہ فوراً بعد زوال ہونا چاہئے تاہم چونکہ اس وقت گرمی سخت ہوتی ہے اس لئے توقف کا حکم دیا گیا۔ گرمی کے دنوں میں چونکہ اور بھی زیادہ شدت ہوتی ہے اس لئے فرمایا کہ یہ دوپہر کی گرمی (گویا) جہنم کی آگ ہے اس لئے ذرا ٹھنڈک کے بعد ظہر کی نماز پڑھو۔
﴿فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ﴾
کیونکہ نماز میں حضور ہوتا ہے۔
نماز کی روحانی کیفیت کا سب سے اعلیٰ منظر یہ ہے کہ انسان پر ایسی حالت طاری ہو جائے کہ اسے معلوم ہو کہ وہ اس وقت خدا کے سامنے کھڑا ہے۔ گزر چکا ہے کہ ایک شخص نے آپ ﷺ سے دریافت کیا تھا کہ احسان کیا ہے؟ فرمایا یہ ہے کہ جب تم عبادت کرو تو تم کو یہ معلوم ہو کہ تم خدا کو دیکھ رہے ہو۔ کیوں کہ اگر تم خدا کو نہیں دیکھ رہے ہو تو وہ تم کو بہرحال دیکھ رہا ہے۔ کبھی کبھی آنحضرت ﷺ پر نماز میں رقت طاری ہو جاتی تھی اور چشم مبارک سے آنسو نکلنے لگتے تھے۔ ایک صحابی جنہوں نے آنحضرت ﷺ کی اس کیفیت کو ایک دفعہ دیکھا تھا کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ آنحضرت ﷺ نماز میں ہیں آنکھوں سے آنسو جاری ہیں روتے روتے ہچکیاں بندھ گئی ہیں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا چکی چل رہی ہے یا ہانڈی ابل رہی ہے۔
رات کی نمازوں میں آنحضرت ﷺ پر عجیب ذوق و شوق کا عالم طاری ہوتا تھا۔ قرآن پڑھتے چلے جاتے۔ جب خدا کی عظمت و کبریائی کا ذکر آتا پناہ مانگتے، جب رحم و کرم کی آیتیں آتیں تو دعا کرتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ نماز دو دو رکعت کر کے ہے اور ہر دوسری رکعت میں تشہد ہے اور تضرع و زاری ہے خشوع اور خضوع ہے عاجزی اور مسکنت ہے اور ہاتھ اٹھا کر اے رب، اے رب کہنا ہے، جس نے ایسا نہ کیا تو اس کی نماز ناقص ہے۔
ایک دفعہ آپ ﷺ اعتکاف میں تھے اور لوگ مسجد میں زور زور سے قراءت کر رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا لوگو تم میں سے ہر ایک خدا سے مناجات کر رہا ہے تو وہ سمجھے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور ایک دوسرے کی مناجات میں اپنی آواز سے خلل انداز نہ ہو۔
ایک صحابی نے درخواست کی کہ یا رسول اللہ ﷺ مجھے کچھ ہدایت فرمائیے۔ ارشاد ہوا کہ ”جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو تمہاری نماز ایسی ہونی چاہئے کہ یہ معلوم ہو کہ تم اس وقت مر رہے ہو اور دنیا کو چھوڑ رہے ہو“
تمہاری نماز کی اس کیفیت کا کوئی شخص اندازہ کر سکتا ہے؟
اس پوری تفصیل سے ظاہر ہوگا کہ اسلام کی نماز کیا ہے؟ قرآن کس نماز کو لے کر اترا ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ نے کس نماز کی تعلیم دی ہے؟ اور اس کی اصلی کیفیتیں کیا کیا ہیں؟ اور اگر نماز یہ نماز ہو تو وہ انسان کی روحانی اور اخلاقی اصلاحات کا کتنا مؤثر ذریعہ ہے؟ اسی لئے قرآن پاک نے نماز کی محافظت یعنی پابندی اور آداب کے ساتھ ادا کرنے کو ایمان کا نتیجہ بتایا ہے۔
﴿وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ يُؤْمِنُونَ بِهٖ وَهُمْ عَلىٰ صَلَاتِهِمْ يُحافظُونَ﴾ (سورة الانعام: 92)
اور جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ قرآن کو مانتے ہیں اور وہ اپنی نماز کی نگہداشت کرتے ہیں۔
نماز کی اس نگہداشت اور محافظت کے دو معنی ہیں اور دونوں یہاں مقصود ہیں یعنی ایک تو اس کے ظاہری شرائط کی تعمیل اور دوسرے اس کے باطنی آداب کی رعایت۔
نماز کے اخلاقی، تمدنی اور معاشرتی فائدے
نماز تو درحقیقت ایمان کا ذائقہ روح کی غذا اور دل کی تسکین کا سامان ہے مگر اسی کے ساتھ ساتھ وہ مسلمانوں کے اجتماعی اخلاقی، تمدنی اور معاشرتی اصلاحات کا بھی کارگر آلہ ہے۔ آنحضرت ﷺ کے ذریعہ سے اخلاق و تمدن و معاشرت کی جتنی اصلاحیں وجود میں آئیں ان کا بڑا حصہ نماز کی بدولت حاصل ہوا۔ اس کا اثر ہے کہ اسلام نے ایک ایسے بدوی وحشی اور غیر متمدن ملک کو جس کو پہننے اوڑھنے کا بھی سلیقہ نہ تھا، چند سال میں ادب و تہذیب کے اعلیٰ معیار پر پہنچا دیا، اور آج بھی اسلام جب افریقہ کے وحشی سے وحشی ملک میں پہنچ جاتا ہے، تو وہ کسی بیرونی تعلیم کے بغیر صرف مذہب کے اثر سے مہذب و متمدن ہو جاتا ہے۔ متمدن قوموں میں جب وہ پہنچ جاتا ہے، تو ان کے تخیل کو بلند سے بلند تر، پاکیزہ سے پاکیزہ تر بنا دیتا ہے، اور ان کو اخلاص کی وہ تعلیم دیتا ہے جس کے سبب سے ان کا وہی کام جو پہلے مٹی تھا، اب اکسیر بن جاتا ہے۔
1۔ نماز کے ان معاشرتی فائدوں میں بالکل ابتدائی چیز ستر پوشی کا خیال ہے، انسان کا شرم و حیا کی نگہداشت کے لئے اپنے جسم کے بعض حصوں کو چھپانا نہایت ضروری ہے۔ عرب کے بدو اس تہذیب سے ناواقف تھے بلکہ شہروں کے باشندے بھی اس سے بے پرواہ تھے، یہاں تک کہ غیر قریشی عورتیں جب حج کے لئے آتی تھیں تو اپنے کپڑے اتار دیتی تھیں، اور اکثر ننگی ہو کر طواف کرتی تھیں۔ اسلام آیا تو اس نے ستر پوشی کو ضروری قرار دیا، یہاں تک کہ بغیر اس ستر پوشی کے اس کے نزدیک نماز ہی درست نہیں، آیت نازل ہوئی:
﴿خُذُوا زِيْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ﴾ (سورۃ الاعراف: 31)
ہر نماز کے وقت اپنے کپڑے پہنو۔
مردوں کے لئے کم از کم ناف سے گھٹنے تک، اور عورتوں کے لئے پیشانی سے لے کر پاؤں تک چھپانا نماز میں ضروری قرار پایا۔ اس تعلیم نے جاہل اور وحشی عربوں کو اور جہاں جہاں اسلام گیا، وہاں کے برہنہ باشندوں کو ستر عورت پر مجبور کیا، اور نماز کی تاکید نے دن میں پانچ دفعہ اس کو اس فرض سے آشنا کر کے ہمیشہ کے لئے ان کو ستر پوش بنا دیا۔ افریقہ اور ہندوستان میں مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کے لباسوں پر ایک نظر ڈالنے سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ اسلام نے تمدن کے اس ابتدائی سبق میں دنیا کی کتنی بڑی مدد کی ہے۔ دوسری طرف متمدن قومیں زیب و زینت اور حسن و آرائش اور تمدن کی بے اعتدالی سے بے حیائی پر اتر آتی ہیں، مرد گھٹنوں سے اونچا لباس اور عورتیں نیم برہنہ یا نہایت باریک لباس پہنتی ہیں، نماز ان کی بھی اصلاح کرتی ہے اور ان متمدن قوموں کو اعتدال سے تجاوز نہیں کرنے دیتی۔ چنانچہ عورتوں کو تیز خوشبو لگا کر مسجد میں جانے سے منع فرمایا، اور بے حیائی کے کپڑوں کے پہننے سے عموماً روک دیا ہے، اور کہہ دیا ہے کہ ستر عورت کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
2۔ اس کے بعد تمدن کا دوسرا ابتدائی سبق طہارت اور پاکیزگی ہے جو اسلام کے اولین احکام میں سے ہے۔
ماشاءاللہ کتنے خوبصورت انداز میں حضرت اس بحث کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ واقعی یہ چیزیں ہم پہلے بھی پڑھتے آ رہے ہیں، مطلب یہ کوئی نہیں کہ نئی باتیں ہیں لیکن اس انداز میں کہ یہ باتیں ہمیں ایسے منظم انداز میں سمجھائی جائیں کہ اب نماز کے جو ارکان ہیں اور نماز کی جو شرائط ہیں یہ میرے خیال میں سب لوگ یاد کرتے ہیں کہ یہ نماز کے ارکان ہیں اور یہ نماز کی شرائط ہیں۔ اس کے پیچھے کیا سبحان اللہ اصلاحی انقلاب کا پیش خیمہ، مطلب یہ کیا چیز ہے؟ وہ یہ مطلب حضرت اس کو سمجھا رہے ہیں۔
اب دیکھ لیں۔ یعنی بے حیائی، یہ اگر انسان اس کو روکے نہیں تو اس کا پھر کوئی end نہیں ہے۔ آپ ذرا غور سے دیکھیں، اس وقت صورتحال یہ ہے کہ یورپ میں اور امریکہ میں، اور جو مہذب ملک سمجھے جاتے ہیں صورتحال یہ ہے کہ سخت سردی میں مرد تو پورا لباس پہنتے ہیں اور عورتیں مجبور ہیں کہ وہ گھٹنوں تک ہی لباس، زیادہ سے زیادہ پہنتی ہیں، اس سے نیچے وہ نہیں پہنتیں۔ حالانکہ آخر ان کو بھی سردی لگتی ہے، ہے کہ نہیں؟ اور اس وقت صورتحال یہ ہے کہ وہ جو half blouse اور پھر بالکل یعنی ننگے ہاتھ، اور اس طریقے سے اور بے حیائی کے جو اثرات ہیں وہ بالکل نظر آتے ہیں۔
اب یہ ان لوگوں کے باقاعدہ اُن کے پڑھے لکھے لوگوں کی بات ہے یا ان کے intelligent لوگوں کی بات ہے یا ان کے وہ جو دوسروں کو عقل سکھانے والے ہیں، ان کی بات بتا رہا ہوں جو اس قسم کے کام کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ بالکل واضح بات ہے کہ انسان کے اندر یہ جو جذبے ہیں یہ اللہ تعالیٰ نے کسی خاص مقصد کے لیے رکھے ہیں۔ اور اگر ان جذبوں کو صرف خاص مقاصد کے لیے نہ رکھا جائے اور ان کو اس طرح open رکھا جائے، تو اس سے بجائے فائدے کے نقصان ہوتا ہے۔
مثلاً پانی ہے۔ اب پانی ماشاءاللہ آ رہا ہے، پہاڑوں سے، چشموں سے پانی آ رہا ہے اور سمندر میں جا رہا ہے۔ اگر آپ اس کو ویسے جانے دیں تو ضائع ہے۔ اور اگر آپ اس کو روک دیں تو یہ پانی store ہو کر باقاعدہ ایک قوت بن جاتا ہے۔ جس سے آبپاشی کا نظام بھی ہوتا ہے، جس سے power generation کا نظام بھی ہوتا ہے۔ اور اگر اس کے اندر بگاڑ آ جائے، تو تباہی ہے سیلاب ہے۔ تو اب دیکھ لیں مطلب یہ ہے کہ آپ اس کو control کر لیں تو اس میں فائدہ ہے، out of control ہو جائے تو نقصان ہے۔
تو اسی طریقے سے اللہ جل شانہٗ نے مرد اور عورت کا جو نظام بنایا ہوا ہے اس کے اندر بڑی حکمتیں ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ مثال کے طور پر کھانے میں لذت نہ ہوتی، تو کھانا کون کھاتا؟ کھانے کی ضرورت تو پھر بھی ہوتی۔ باقاعدہ ایک عالم کے ساتھ ہماری ملاقات ہوئی کراچی کے، بہت بڑے عالم تھے، مفتی رشید احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ۔ تو انہوں نے بتایا کہ مجھے پیاس نہیں لگتی، یہ بھی ایک بیماری ہے۔ مجھے پیاس نہیں لگتی، تو ڈاکٹروں نے مجھے کہا ہے کہ آپ نے اتنے گلاس روزانہ پینے ہیں۔ بے شک آپ کو پیاس نہ لگے لیکن آپ نے اتنے گلاس روزانہ پینے ہیں۔ تو کہتے ہیں میں نے اپنے خادموں کو ٹائم بتا دیا ہے تقسیم کیا ہوا ہے کہ اتنے اتنے بجے میرے پاس گلاس میرے سامنے ہونا چاہیے، اور آپ لوگوں نے بتانا ہے کہ آپ نے پانی پینا ہے۔ ہاں، تو پھر میں پانی پیتا ہوں۔
حالانکہ مجھے پیاس نہیں لگتی، اب دیکھ لیں پانی جسم کی بڑی ضرورت ہے۔ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ، اللہ پاک فرماتے ہیں ہم نے پانی سے ہر ساری چیزوں کو زندہ کر دیا ہے، یا زندہ رکھا ہے۔ اب یہ پانی اتنا ضروری ہے جسم کے لیے لیکن اگر آپ کو پیاس نہ لگے تو آپ اس سے بے پروا ہو جائیں گے۔ بے پروا ہو جائیں گے اور بے پروائی کی وجہ سے آپ کی صحت کو زبردست نقصان ہو سکتا ہے۔ کیونکہ اگر آپ کے جسم کے حصوں کو، جس کو پانی کی ضرورت ہے، پانی نہ پہنچے تو عین ممکن ہے کہ وہ permanent damage ہو جائے اس کو۔ یعنی آپ کو پھر مجبوراً باقاعدہ calculate کر کے زبردستی اس نظام کو اپنانا پڑتا ہے۔ اب اگر آپ کو کھانے کی ضرورت نہ ہو تو پھر کھانے کے لیے بھی آپ کو ایسا کرنا پڑے گا۔
تو اس طرح جو نسل کو برقرار رکھنے والی چیز ہے، اگر اس میں یہ لذت اللہ نہ رکھتے تو پھر ظاہر ہے وہ بھی ایک بوجھ ہی ہوتا۔ ایک بوجھ ہی ہوتا، ظاہر ہے پھر کون اس کے لیے تیار ہوتا۔ اب اللہ پاک نے اس کے اندر یہ جو چیزیں رکھی ہوئی ہیں، یہ حکمت سے رکھی ہوئی ہیں۔ اب اگر یہ اسی مقصد کے لیے استعمال ہو تو پھر تو فائدہ ہے، لیکن اگر آپ اس کو آزاد کر لیں تو بس پھر تباہی ہے۔ پھر ظاہر ہے گھر گھر مصیبت ہے، پریشانی ہے۔
تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ جو اسلام ہے، اسلام نے تمام اقدار جو لوگوں کو سکھائے ہیں، کیونکہ خالقِ کائنات جس نے ساری چیزیں بنائی ہیں، اس کو ان تمام چیزوں کی تفصیلات کا پتہ ہے۔ لہٰذا اس نے ایسے قوانین بنائے ہیں کہ ان قوانین پر عمل کریں گے تو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔
اب یہاں پر حضرت نے جو تفصیلات بتائی ہیں، دیکھیں ستر پوشی۔ تو ستر پوشی اس چیز کے لیے بہت ضروری ہے۔ اس حیا کے نظام کو برقرار رکھنے کے لیے ستر پوشی بہت ضروری ہے۔
میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں۔ میرے ساتھ خود یہ واقعہ ہوا ہے۔ لنچ کے لیے میں جا رہا تھا اپنے دفتر سے ڈائننگ ہال۔ راستے میں کچھ فاصلہ تھا دھوپ لگ رہی تھی۔ میں نے قراقلی ٹوپی پہنی ہوئی تھی، جو بالکل دور سے ایسی نظر آتی جیسے کوئی قیمہ ہو۔ یعنی رنگ اس کا ایسا تھا کہ جیسے قیمہ ہو۔ کیونکہ ویسے بھی قراقلی کا جو مطلب ہوتا ہے بال جو ہوتے ہیں، وہ اس طرح curly type ہوتے ہیں تو دور سے نظر آتے ہیں جیسے یہ قیمہ پڑا ہوا ہے۔
تو میں نے دھوپ میں دیکھا کہ ایک سایہ میرے اوپر جھپٹ رہا ہے۔ تو فوراً مجھے اندازہ ہو گیا کوئی چیل وغیرہ ہے، اور اس نے اس کو قیمہ سمجھا ہوا ہے۔ تو میں نے فوراً قراقلی ٹوپی اپنے ہاتھ میں لے کر اس طرح نیچے کر لی۔ اس طرح نیچے کر لی اور وہ جو چیل ہے اس طرح dive کر کے پھر دوبارہ اٹھ کر چلا گیا، ظاہر ہے اس کے ہاتھ وہ چیز نہیں آئی۔
لیکن دیکھیں نا میں نے کہا کہ دیکھو یہ ٹوپی جو ہے جو بظاہر قیمہ نظر آ رہا ہے، تو چیل کے لیے اس نے دعوت کا کام دے دیا۔ اب چیل چیل ہی ہے، اس کا کام ہی یہی ہے، وہ ظاہر ہے اُس سے اس کی طرف نہیں آئے گا تو کس کی طرف آئے گا؟ تو اس نے جو غوطہ لگایا اس لیے غوطہ لگایا کہ اس کو اٹھا لے، تو میں نے الحمدللہ اپنا دفاع کر لیا۔ لیکن بہرحال اگر میں ذرا بھی وہ کرتا تو ٹوپی کو اڑا لے جاتا۔
تو اب یہ بات ہے کہ جو عورتیں اس طرح کھلی پھرتی ہوں، یا ان کے جسم کے حصے اس طرح کھلے ہوں، تو یہ چیزیں تو اللہ پاک نے فطرت میں رکھی ہیں۔ پھر اس قسم کے چیل اور گدھ وغیرہ اگر حملہ کر لیں تو یہ بتائیں کہ یہ ان کو دعوت ہے یا نہیں ہے؟ بالکل ان کو دعوت ہے۔ تو پھر ان سے گلہ کیا ہے؟
تو شریعت نے ان چیزوں کو چھپائے رکھنے کا حکم دیا ہوا ہے۔ چونکہ نماز کا حکم عام ہے مسلمانوں کو، لہٰذا نماز میں اس چیز کو نافذ کر دیا گیا۔ کہ نماز اس کے بغیر ہوتی نہیں اور نماز پڑھنا فرض ہے۔ نماز پڑھنا فرض ہے، اور نماز اس کے بغیر ہوتی نہیں۔ تو لہٰذا اس چیز کو adopt ہی کرنا ہوگا۔ اس چیز کو adopt ہی کرنا ہوگا، تو adopt کر لیا۔
تو اب یہ ہے کہ جہاں جہاں اسلام پہنچا ہے، تو وہاں پر یہ تمدن خود بخود رواج پا گیا۔ اور وہ عرب جس کا ابھی ابھی بتایا گیا جو طواف ننگے کیا کرتے تھے۔ جو طواف ننگے کیا کرتے تھے، سیٹیاں بجاتے تھے، ماشاءاللہ وہ ایسے مہذب بن گئے کہ دوسروں کی حیاؤں کے ماشاءاللہ محافظ بن گئے۔ تو یہ والی بات ہے۔
جس وقت بیت المقدس پہ حملہ ہوا مسلمانوں کا اور مسلمانوں نے ان کا ظاہر ہے بیت المقدس لے لیا، تو اس وقت وہاں کے لوگوں نے یہ planning کی کہ ان کو بے حیائی کی طرف مائل کیا جائے تو انہوں نے ننگی عورتیں سامنے کھڑی کیں۔ تو امیر صاحب نے حکم دے دیا کہ ذرا بھر بھی اوپر نہیں دیکھنا، سب لوگوں نے نیچے دیکھنا ہے۔ اب وہ ساری فوج گزر کے آ گئی، ان کو پتہ بھی نہیں چلا کہ اوپر کیا ہے۔ ان سے بعد میں لوگوں نے پوچھا، انہوں نے کہا ہمیں تو نہیں معلوم کہ اوپر کیا تھا ہم تو نیچے دیکھ کے آ رہے تھے۔ یہ ہے سبحان اللہ اس قسم کے نظارے بھی اللہ پاک نے پھر دکھا دیے۔
تو اب یہ ہے کہ یہ جو نماز کے اندر حیا کا ماشاءاللہ جو نفاذ ہے، وہ الحمدللہ نماز کے بعد... إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ۔ حضرت اس آیت کا معنی آج سمجھ میں آ گیا۔
إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَلَذِكْرُ اللهِ أَكْبَرُ۔
بے شک نماز بے حیائی اور منکرات سے روکنے والی ہے اور اللہ تعالیٰ کی یاد تو بڑی چیز ہے۔ یعنی مطلب یہ ہے کہ اگر نماز کے اندر آپ، نماز کے تمام ارکان اور تمام شرائط پر عمل کریں گے، تو اس کے اندر ان تمام چیزوں کا انتظام رکھا گیا ہے کہ اس سے ماشاءاللہ وہ بے حیائی کے کام بھی رک جائیں گے اور منکرات کی جو چیزیں ہیں، ان سے بھی اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائیں گے۔ یہ والی بات ہے، تو آج ماشاءاللہ اس بات کا پتہ چل گیا۔