اونٹ کے گوشت کی حلت اور یہودیوں کے اعتراضات کا علمی جواب

درس نمبر 143، سورۃ آل عمران: آیات: 93 - (اشاعتِ اول) 18 اپریل، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

اہم موضوعات:

•        صدقے میں بہترین اور محبوب اشیاء دینے کا قرآنی حکم

•        صحابہ کرام رضی اللہ عنهمْ کا اپنی محبوب ترین چیزیں قربان کرنے کا جذبہ

•        دنیا کی محبت اور اللہ کی محبت کا باہمی تضاد

•        نفس کی اصلاح اور مجاہدے کا عملی طریقہ

•        سوات میں خانقاہ اور مسجد بنانے والے ایک مخلص ساتھی کے ایثار کا متاثر کن واقعہ

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِّبَنِيْٓ اِسْرَٓاءِيْلَ اِلَّا مَا حَرَّمَ اِسْرَٓاءِيْلُ عَلٰى نَفْسِهٖ مِنْ قَبْلِ اَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرٰىةُ ؕقُلْ فَأْتُوْا بِالتَّوْرٰىةِ فَاتْلُوْهَآ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ﴿93﴾

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ۔

تورات کے نازل ہونے سے پہلے کھانے کی تمام چیزیں (جو مسلمانوں کے لئے حلال ہیں) بنی اسرائیل کے لئے (بھی) حلال تھیں، سوائے اُس چیز کے جو اسرائیل (یعنی یعقوب علیہ السلام) نے اپنے اوپر حرام کر لی تھی۔(اے پیغمبر! یہودیوں سے) کہہ دو کہ: "اگر تم سچے ہو تو تورات لے کر آؤ اور اس کی تلاوت کرو۔"﴿93﴾

بعض یہودیوں نے مسلمانوں پر یہ اعتراض کیا تھا کہ آپ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پیروکار ہیں، حالانکہ آپ اونٹ کا گوشت کھاتے ہیں، جو تورات کی رُو سے حرام ہے۔ ان آیات میں اس اعتراض کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ اونٹ کا گوشت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین میں حرام نہیں تھا، بلکہ تورات نازل ہونے سے پہلے بنی اسرائیل کے لئے بھی وہ سب چیزیں حلال تھیں جو آج مسلمانوں کے لئے حلال ہیں۔ البتہ ہوا یہ تھا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اونٹ کا گوشت اپنے اوپر حرام کر لیا تھا، جس کی وجہ حضرت ابن عباسؓ نے یہ بتائی ہے کہ ان کو عرق النساء کی بیماری تھی، اور انہوں نے یہ نذر مانی تھی کہ اگر مجھے اس بیماری سے شفا ہوگئی تو میں اپنے کھانے کی سب سے پسندیدہ چیز چھوڑ دوں گا۔ انہیں اونٹ کا گوشت سب سے زیادہ پسند تھا، اس لئے شفا حاصل ہونے پر انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔ (روح المعانی بحوالہ مستدرک حاکم بسند صحیح) اب قرآن کریم نے یہاں صریح الفاظ میں یہ بات نہیں بتائی کہ آیا اس کے بعد یہ گوشت بنی اسرائیل پر بھی حرام کر دیا گیا تھا یا نہیں، لیکن سورہ نساء (4:160) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر بہت سی اچھی چیزیں بھی حرام کر دی گئی تھیں۔ اور اسی سورت کی آیت نمبر 50 میں گزر چکا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے کہا تھا کہ: "اور جو کتاب مجھ سے پہلے آچکی ہے، یعنی تورات، میں اس کی تصدیق کرنے والا ہوں، اور (اس لئے بھیجا گیا ہوں) تاکہ کچھ چیزیں جو تم پر حرام کی گئی تھیں، اب تمہارے لئے حلال کر دوں۔" نیز یہاں "تورات نازل ہونے سے پہلے" کے الفاظ بھی یہ بتا رہے ہیں کہ اونٹ کا گوشت شاید تورات نازل ہونے کے بعد ان پر حرام کر دیا گیا تھا۔ اب جو چیلنج ان کو دیا گیا ہے کہ "اگر تم سچے ہو تو تورات لے کر آؤ اور اس کی تلاوت کرو۔" اس کا مطلب یہ ہے کہ تورات میں یہ کہیں مذکور نہیں ہے کہ اونٹ کا گوشت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وقت سے حرام چلا آتا ہے۔ اس کے برعکس یہ حکم صرف بنی اسرائیل کو دیا گیا تھا، چنانچہ اب بھی بائبل کی کتاب احبار میں جو یہودیوں اور عیسائیوں کی نظر میں تورات کا ایک حصہ ہے، اونٹ کی حرمت بنی اسرائیل ہی کے لئے بیان ہوئی ہے: "تم بنی اسرائیل سے کہو کہ... تم ان جانوروں کو نہ کھانا، یعنی اونٹ کو... سو وہ تمہارے لئے ناپاک ہے۔" (احبار 11: 1-4) خلاصہ یہ کہ اونٹ کا گوشت اصلاً حلال ہے، مگر حضرت یعقوب علیہ السلام کے لئے ان کی نذر کی وجہ سے اور بنی اسرائیل کے لئے ان کی نافرمانیوں کی بنا پر حرام کیا گیا تھا۔ اب اُمتِ محمدیہ (علیٰ صاحبہا السلام) میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے کا اصل حکم لوٹ آیا ہے۔

اصل میں... یہ بات ضروری ہے سمجھنا کہ اللہ جل شانہ نے جو حکم دیا ہوتا ہے وہ تو عام ہوتا ہے لیکن بعض کے لیے کچھ خاص باتیں بھی ہو جاتی ہیں کسی وجہ سے کوئی چیز اگر ان کے لیے مختلف ہو تو ظاہر ہے کہ وہ ایک وقتی چیز ہوتی ہے یا علاقائی چیز ہوتی ہے تو پھر جب اللہ پاک اس کو عام کر دے دوبارہ اور اس چیز کو دور فرما دے تو پھر کسی کو اس پر کیا اعتراض ہے؟ تو اصل بات یہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کے دین میں تو یہ بات نہیں تھی لیکن اس طرح بنی اسرائیل کے لیے اگر یہ بات آ گئی، تو بعد میں اللہ پاک نے اس کو واپس کر دیا، تو لہذا اس میں کون سی وہ ایسی بات تھی؟ لیکن یہود تو صرف اعتراض کرتے تھے، تو اس کے اعتراض کا جواب دیا گیا۔


بتاریخ 13 مئی 2026 بروز بدھ، عارف باللہ حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم کی مجالسِ علم و ذکر میں شریعتِ ابراہیمی میں حلال و حرام اور یہود کے اعتراضات کے موضوع پر ایک انتہائی پرمغز اور بصیرت افروز بیان ہوا، جس میں قرآنی آیات کی روشنی میں نہایت علمی اور تاریخی حقائق کھولے گئے۔

(درس قرآن و حدیث) کا سیاق و سباق

قرآن کریم کی سورہ آل عمران کی آیت 93 کے نزول کا بنیادی پس منظر یہود کی جانب سے مسلمانوں پر کیا جانے والا ایک بے جا اعتراض تھا۔ مدینہ منورہ کے قرب و جوار میں آباد یہودی مسلمانوں کو یہ طعنہ دیتے تھے کہ دینِ اسلام ایک طرف خود کو ملتِ ابراہیمی کا پیروکار کہلاتا ہے اور دوسری جانب اونٹ کا گوشت کھاتا ہے، جو کہ تورات کی رُو سے حرام ہے۔ اس اعتراض کے جواب میں قرآن مجید نے ایک تاریخی اور شریعی حقیقت واضح کی کہ تورات کے نزول سے قبل کھانے کی تمام چیزیں جو آج مسلمانوں کے لیے حلال ہیں، وہ بنی اسرائیل کے لیے بھی حلال تھیں۔ اونٹ کا گوشت شریعتِ ابراہیمی میں ہرگز حرام نہیں تھا، بلکہ اسرائیل یعنی حضرت یعقوب علیہ السلام نے ایک خاص نذر کے تحت اسے اپنے اوپر حرام کر لیا تھا۔ قرآن نے یہود کو کھلا چیلنج دیا کہ اگر وہ سچے ہیں تو تورات لا کر تلاوت کریں تاکہ حق واضح ہو جائے۔

حضرت کی آج کی نئی تشریح (ملفوظات و حکمتیں)

یہود کا حسد اور حق پوشی مدینہ منورہ کے قریب آباد یہودی قبائل کا یہ وتیرہ تھا کہ وہ مقامی قبائل کو دھمکایا کرتے تھے کہ عنقریب ایک آخری نبی آنے والا ہے، جس کے ساتھ مل کر ہم تم پر غلبہ پائیں گے اور تمہیں ماریں گے۔ لیکن جب نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے، تو ان کے سینوں میں حسد کی آگ بھڑک اٹھی۔ یہ حسد اس بنیاد پر تھا کہ یہ آخری نبی بنی اسرائیل کے بجائے بنی اسماعیل میں کیوں مبعوث ہوئے۔ ان کے علماء اس حقیقت سے پوری طرح باخبر تھے اور آج بھی بخوبی جانتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم برحق نبی ہیں، مگر وہ دانستہ اس حق کو چھپاتے ہیں۔ یہود حضرت یعقوب علیہ السلام کو اپنا مقتداء مانتے ہیں، جبکہ امتِ مسلمہ کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ نہ صرف حضرت یعقوب علیہ السلام بلکہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام پر غیر متزلزل ایمان رکھتی ہے۔

حضرت یعقوب علیہ السلام کی نذر اور عرق النساء کی بیماری یہود کے طعنوں کی اصل حقیقت کو عیاں کرتے ہوئے یہ تاریخی راز منکشف ہوتا ہے کہ اونٹ کا گوشت اصولی طور پر کبھی حرام نہیں تھا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت کے مطابق، حضرت یعقوب علیہ السلام عرق النساء کی شدید تکلیف میں مبتلا تھے۔ اس دوران انہوں نے اللہ کے حضور یہ نذر مانی کہ اگر انہیں اس بیماری سے شفا مل گئی، تو وہ اپنی سب سے پسندیدہ غذا کو اپنے اوپر حرام کر لیں گے۔ چونکہ انہیں اونٹ کا گوشت سب سے زیادہ مرغوب تھا، لہٰذا شفا یابی کے بعد انہوں نے اپنی نذر پوری کرتے ہوئے اسے ترک کر دیا۔ یہ محض ایک ذاتی عمل تھا، نہ کہ شریعتِ ابراہیمی کا کوئی دائمی حکم۔

احکامِ الٰہی میں وقتی اور علاقائی تخصیص کی حکمت

احکامِ الٰہیہ اپنی اصل کے اعتبار سے عام اور ہمہ گیر ہوتے ہیں، تاہم بعض اوقات اللہ تعالیٰ کسی خاص قوم، وقت یا علاقے کے لیے مخصوص احکام نازل فرماتا ہے۔ بنی اسرائیل پر تورات کے نزول کے بعد کچھ حلال چیزیں حرام کر دی گئیں۔ سورہ نساء کی آیت 160 اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ بنی اسرائیل کی نافرمانیوں اور سرکشیوں کے سبب بطورِ سزا بعض پاکیزہ چیزیں ان پر حرام کر دی گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ بائبل کی کتابِ احبار میں بھی اونٹ کی حرمت کو صرف بنی اسرائیل کے لیے بیان کیا گیا ہے اور اسے ان کے لیے ناپاک قرار دیا گیا ہے۔ بعد ازاں سورہ آل عمران کی ہی آیت 50 کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے فرمایا تھا کہ وہ تورات کی تصدیق کرنے والے ہیں اور ان چیزوں کو حلال کرنے آئے ہیں جو ان پر حرام کر دی گئی تھیں۔ جب اللہ رب العزت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے ذریعے سابقہ وقتی اور علاقائی پابندیوں کو ختم کر کے احکام کو دوبارہ عام اور حلال کر دیا، تو اس پر اعتراض کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ یہود کا مقصد صرف ہٹ دھرمی اور اعتراض برائے اعتراض تھا۔

دین کے ان گہرے رازوں، شریعت کی باریکیوں اور قرآنی حقائق کا حقیقی فہم محض کتابیں پڑھنے سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے اہلِ اللہ اور راسخون فی العلم کی صحبت اکثیر کا درجہ رکھتی ہے۔ ایسی مجالسِ علم و ذکر درحقیقت روحانی تربیت کی وہ تجربہ گاہیں ہیں جہاں نفسانی آلائشیں دُھلتی ہیں، سینہ انوارِ الٰہی سے منور ہوتا ہے، اور ایمان کو وہ مضبوط قلعہ میسر آتا ہے جو ہر قسم کے شکوک و شبہات کے حملوں کو ناکام بنا دیتا ہے۔ تصوف کا اصل مغز ہی یہ ہے کہ انسان ظاہرِ شریعت کے ساتھ ساتھ اس کی باطنی حکمتوں سے آشنا ہو کر اپنے تعلق باللہ کو کامل کرے۔ ان نورانی اور بابرکت مجالس سے مستفید ہونا، مرشدِ کامل کی صحبت اختیار کرنا اور لائیو دروس کو ان کے مقررہ وقت پر سماعت کرنا کسی بھی طالبِ حق کے لیے ایک عظیم خوش نصیبی اور سعادت کی ضمانت ہے۔ جو شخص اپنے ایمان کے تحفظ اور روحانی ارتقاء کی طلب رکھتا ہے، وہ علم کی اس قدردانی کو اپنا شعار بناتا ہے، کیونکہ دلوں کی حقیقی زندگی اور بصیرت کا چشمہ انہی باوقار محافل سے پھوٹتا ہے۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِّبَنِيْٓ اِسْرَٓاءِيْلَ اِلَّا مَا حَرَّمَ اِسْرَٓاءِيْلُ عَلٰى نَفْسِهٖ مِنْ قَبْلِ اَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرٰىةُ ؕقُلْ فَأْتُوْا بِالتَّوْرٰىةِ فَاتْلُوْهَآ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ﴿93﴾

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ۔

تورات کے نازل ہونے سے پہلے کھانے کی تمام چیزیں (جو مسلمانوں کے لئے حلال ہیں) بنی اسرائیل کے لئے (بھی) حلال تھیں، سوائے اُس چیز کے جو اسرائیل (یعنی یعقوب علیہ السلام) نے اپنے اوپر حرام کر لی تھی۔(اے پیغمبر! یہودیوں سے) کہہ دو کہ: "اگر تم سچے ہو تو تورات لے کر آؤ اور اس کی تلاوت کرو۔"﴿93﴾

بعض یہودیوں نے مسلمانوں پر یہ اعتراض کیا تھا کہ آپ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پیروکار ہیں، حالانکہ آپ اونٹ کا گوشت کھاتے ہیں، جو تورات کی رُو سے حرام ہے۔ ان آیات میں اس اعتراض کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ اونٹ کا گوشت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین میں حرام نہیں تھا، بلکہ تورات نازل ہونے سے پہلے بنی اسرائیل کے لئے بھی وہ سب چیزیں حلال تھیں جو آج مسلمانوں کے لئے حلال ہیں۔ البتہ ہوا یہ تھا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اونٹ کا گوشت اپنے اوپر حرام کر لیا تھا، جس کی وجہ حضرت ابن عباسؓ نے یہ بتائی ہے کہ ان کو عرق النساء کی بیماری تھی، اور انہوں نے یہ نذر مانی تھی کہ اگر مجھے اس بیماری سے شفا ہوگئی تو میں اپنے کھانے کی سب سے پسندیدہ چیز چھوڑ دوں گا۔ انہیں اونٹ کا گوشت سب سے زیادہ پسند تھا، اس لئے شفا حاصل ہونے پر انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔ (روح المعانی بحوالہ مستدرک حاکم بسند صحیح) اب قرآن کریم نے یہاں صریح الفاظ میں یہ بات نہیں بتائی کہ آیا اس کے بعد یہ گوشت بنی اسرائیل پر بھی حرام کر دیا گیا تھا یا نہیں، لیکن سورہ نساء (4:160) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر بہت سی اچھی چیزیں بھی حرام کر دی گئی تھیں۔ اور اسی سورت کی آیت نمبر 50 میں گزر چکا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے کہا تھا کہ: "اور جو کتاب مجھ سے پہلے آچکی ہے، یعنی تورات، میں اس کی تصدیق کرنے والا ہوں، اور (اس لئے بھیجا گیا ہوں) تاکہ کچھ چیزیں جو تم پر حرام کی گئی تھیں، اب تمہارے لئے حلال کر دوں۔" نیز یہاں "تورات نازل ہونے سے پہلے" کے الفاظ بھی یہ بتا رہے ہیں کہ اونٹ کا گوشت شاید تورات نازل ہونے کے بعد ان پر حرام کر دیا گیا تھا۔ اب جو چیلنج ان کو دیا گیا ہے کہ "اگر تم سچے ہو تو تورات لے کر آؤ اور اس کی تلاوت کرو۔" اس کا مطلب یہ ہے کہ تورات میں یہ کہیں مذکور نہیں ہے کہ اونٹ کا گوشت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وقت سے حرام چلا آتا ہے۔ اس کے برعکس یہ حکم صرف بنی اسرائیل کو دیا گیا تھا، چنانچہ اب بھی بائبل کی کتاب احبار میں جو یہودیوں اور عیسائیوں کی نظر میں تورات کا ایک حصہ ہے، اونٹ کی حرمت بنی اسرائیل ہی کے لئے بیان ہوئی ہے: "تم بنی اسرائیل سے کہو کہ... تم ان جانوروں کو نہ کھانا، یعنی اونٹ کو... سو وہ تمہارے لئے ناپاک ہے۔" (احبار 11: 1-4) خلاصہ یہ کہ اونٹ کا گوشت اصلاً حلال ہے، مگر حضرت یعقوب علیہ السلام کے لئے ان کی نذر کی وجہ سے اور بنی اسرائیل کے لئے ان کی نافرمانیوں کی بنا پر حرام کیا گیا تھا۔ اب اُمتِ محمدیہ (علیٰ صاحبہا السلام) میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے کا اصل حکم لوٹ آیا ہے۔

اصل میں... یہ بات ضروری ہے سمجھنا کہ اللہ جل شانہ نے جو حکم دیا ہوتا ہے وہ تو عام ہوتا ہے لیکن بعض کے لیے کچھ خاص باتیں بھی ہو جاتی ہیں کسی وجہ سے کوئی چیز اگر ان کے لیے مختلف ہو تو ظاہر ہے کہ وہ ایک وقتی چیز ہوتی ہے یا علاقائی چیز ہوتی ہے تو پھر جب اللہ پاک اس کو عام کر دے دوبارہ اور اس چیز کو دور فرما دے تو پھر کسی کو اس پر کیا اعتراض ہے؟ تو اصل بات یہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کے دین میں تو یہ بات نہیں تھی لیکن اس طرح بنی اسرائیل کے لیے اگر یہ بات آ گئی، تو بعد میں اللہ پاک نے اس کو واپس کر دیا، تو لہذا اس میں کون سی وہ ایسی بات تھی؟ لیکن یہود تو صرف اعتراض کرتے تھے، تو اس کے اعتراض کا جواب دیا گیا۔


اونٹ کے گوشت کی حلت اور یہودیوں کے اعتراضات کا علمی جواب - درسِ قرآن - دوسرا دور