عقیدۂ جبر و اختیار کی حقیقت اور مقامِ ذوق

دفتر اول حکایت نمبر 30 - اشاعتِ اول:منگل ، 10ستمبر، 2024

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

اہم موضوعات:

·       عقیدۂ جبر کی اصلاح: فرقہ جبریہ کے اس باطل عقیدے کا رد کہ انسان اعمال میں مجبورِ محض ہے۔

·       زاری اور خجلت (عجز اور ندامت): اللہ کے حضور رونا مجبوری کی اور گناہوں پر شرمندگی بااختیار ہونے کی دلیل ہے۔

·       دنیاوی اور اخروی معاملات میں دہرا معیار: دنیاوی کامیابی کو اپنا اختیار اور دینی کوتاہیوں پر خود کو مجبورِ محض قرار دینا۔

·       انبیاءؑ اور کفار کا طرزِ عمل: انبیاء دنیا میں متوکل اور آخرت کیلیے محنتی ہیں، جبکہ کفار کا عمل برعکس ہے۔

·       قال اور حال کا فرق: ظاہری و کتابی علم کے مقابلے میں باطنی کیفیات اور مشاہدات کا بیان۔

·       مقامِ ذوق اور علمِ لدنی کی اہمیت: وہ روحانی مقام جہاں عقلی بحثوں کے بجائے حقائق و اسرار کا غیبی انکشاف ہو۔

·       کرامتِ اولیاء حق ہے: مولانا اشرفؒ کی زبان سے منکرِ ولایت کے دلی اشکالات کے غیبی جوابات کا واقعہ۔

·       کرامت کی حقیقت: کرامت دراصل ولی کا نہیں بلکہ براہِ راست اللہ تعالیٰ کا فعل ہوتا ہے۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔

معزز خواتین و حضرات! آج ما شاء اللہ Birmingham سے مثنوی شریف کا یہ درس نشر ہو رہا ہے۔


دفتر: اول، حکایت: 30

گذشتہ سے پیوستہ


23

جبر نہ بلکہ یہ جباری تو ہے ذکر اسکا بَری از زاری تو ہے

اصل میں یہاں پر اب حضرت ایک دوسری طرف نکل گئے۔ اس میں توحیدِ خالص کو بیان کیا نا، تو توحیدِ خالص سے بعض لوگ جو جبر کے قائل ہیں، وہ جبر سمجھ لیتے ہیں، کہ ہم تو مجبور ہیں۔ جو اللہ چاہتا ہے وہی ہوتا ہے۔ لہٰذا ہم سے کیوں مطالبہ ہے؟ اس طرف چلے جاتے ہیں۔ تو اب حضرت اس کا جواب دے رہے ہیں۔ اب دیکھیں حضرت حال کے ساتھ کتنا قال کا غلبہ ہے۔ دیکھیں نا، حال تو یہی ہے کہ کہتے ہیں سب کچھ اللہ پاک کرتے ہیں اور سب کچھ کوئی دم بھی نہیں مار سکتا، اور بات تو بالکل صحیح ہے۔ لیکن اس سے اگر کسی کا عقیدہ خراب ہو رہا ہو تو عقیدہ درست کرنے کے لیے اب آگے اشعار آ رہے ہیں۔


23

جبر نہ بلکہ یہ جباری تو ہے ذکر اسکا بَری از زاری تو ہے

(لیکن) یہ جبر (فرقہ جبریہ کے عقیدہ کے موافق) نہیں (بلکہ) یہ خدا کی جباری (کا) ہے (اور خدا کی) جباری کا ذکر (بندے کی مطلق) مجبوری (کے غلط عقیدے) سے بَری ہے۔

پچھلے مضمون سے بعض کم فہم لوگوں کو یہ شبہ ہو سکتا تھا کہ اس سے بندے کی مطلق مجبوری ثابت ہوتی ہے۔ جو اہلِ حق کے عقیدے کے خلاف ہے۔ اب شاعر بطورِ دفعِ دخل مقدر فرماتے ہیں کہ یہاں تو خداوند تعالیٰ کے غلبہ و قدرت کا ذکر مقصود ہے اور اس کے غلبہ و قدرت سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس نے ہم کو بالکل عدیم الاختیار اور مجبور بجرِ مذموم بنا رکھا ہے کہ جو چاہے ہم سے کرائے۔

24 اپنی زاری ہی ہے دلیلِ اضطرار

دیکھیں کیا زبردست جواب دیتے ہیں۔

اپنی زاری ہی ہے دلیلِ اضطرار اپنی خجلت ہے دلیلِ اختیار

یعنی جس وقت ہم زاری کرتے ہیں، اضطرار کی دلیل ہے۔ کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے، اللہ پاک سے مانگتے ہیں۔ اور جب غلطی ہوتی ہے اس پر پشیمان ہوتے ہیں تو یہ اختیار کی دلیل ہے۔ ورنہ اگر اللہ پاک کی طرف سے ہو تو پھر کیوں اس پہ پشیمانی ہے؟

یعنی ایک ہی شعر میں پورا میدان ان کا گرا دیا۔

اپنی زاری ہی ہے دلیلِ اضطرار اپنی خجلت ہے دلیلِ اختیار

ہمارا ضعف و عجز مجبوری کی دلیل ہے اور ہمارے (گناہوں پر) شرمندگی اختیار کی دلیل ہے۔

بندہ کے مجبورِ محض ہونے کا عقیدہ بھی غلط ہے اور مختارِ مطلق ہونے کا خیال بھی باطل بلکہ ان دونوں شقوں کا توسط حق ہے۔

یعنی حق یہ ہے کہ بندہ کسی حد تک مجبور بھی ہے اور کسی حد تک مختار بھی، چنانچہ حیات و موت و رزق و اولاد وغیرہ امورِ اضطراریہ اور بعض امورِ اختیاریہ میں قدرتِ حق کے سامنے ہمارا عاجز اور بے بس ہونا تو مجبور ہونے کی علامت ہے۔ اور اپنے کیے پر پشیمان و نادم ہونا اختیار کی نشانی ہے۔ اگر وہ کام بلا اختیار سرزد ہوتا تو ندامت کیوں ہوتی؟

مطلب اس کا یہ بات ہے کہ ہم سمجھتے ہیں نا کہ اللہ کرتا ہے، ہم تو کچھ نہیں کر سکتے تو وہ زاری کر لیتے ہیں۔ اللہ کے سامنے، یعنی دعا کرتے ہیں۔ اور جو ہم پشیمان ہوتے ہیں کسی چیز پر، تو اس کا مطلب ہے کہ اختیار میں ہے۔ سبحان اللہ!

25

گر نہ اختیار ہو تو پھر شرمندہ کیوں؟

بعد عداوت یہ صلح جویندہ کیوں؟



اگر (ہم کو اپنے افعال پر) اختیار نہ ہوتا۔ تو (اقدامِ معاصی کے بعد) یہ شرم کیا چیز ہے؟ اور (ارتکابِ معاصی کے بعد) افسوس اور ندامت اور (وقوعِ عداوت کے بعد) صلح جوئی کیسی ہے؟

26

زجر استادوں کا شاگردوں پہ کیوں

جبر میں دل کا تدبیروں پہ کیوں

مطلب یہ ہے کہ جو زجر استاد کرتے ہیں شاگرد پر تو آخر ان کو کسی چیز کا فاعل سمجھتے ہیں نا، اور جو جبر میں جو دل ہے وہ تدبیروں پر کیوں آتا ہے کہ ہم تدبیریں کریں؟ تو یہ تدبیریں کر رہے ہیں تو اس کا مطلب ہم کچھ کر سکتے ہیں تبھی تدبیریں کر رہے ہیں۔

(اگر) شاگردوں (کو قواعدِ درسگاہ اور آدابِ تعلیم کی پابندی پر اختیار نہیں تو ان) پر اُستادوں کی خفگی کیوں ہوتی ہے؟ (اگر سب کام مجبوری سے ہوتے ہیں۔ تو مدبروں کے) دل تدبیروں سے چکر میں کیوں ہیں؟

27

بندہ گر فائل ہے اسکے جبر سے

ماہِ حق پنہاں جہل کے ابر سے

اور اگر تو یہ اعتراض کرے کہ (بندہ جو اپنے کیے سے پشیمان ہوتا ہے) اس کو اپنی مجبوری کا احساس نہیں ہے (پس جبر کے عقیدۂ) حق کا چاند اس کے ابر (جہل) کے نیچے چھپ رہا ہے۔

اثباتِ جبر کے لیے جو اوپر ارتکابِ افعال پر دریغ و خجلت کا عارض ہونا بطور دلیل پیش کیا تھا۔ اس پر یہ اعتراض وارد ہوتا تھا کہ ممکن ہے بندہ مجبورِ محض، مسلوب الاختیار مطلقًا ہو۔ مگر اس کو اپنی مجبوری کا احساس نہ ہو اور اپنے جہل و لا عملی کے تقاضے سے اس فعل کو جو درحقیقت خداوند تعالیٰ کے اختیار سے سرزد ہوتا ہے اپنا فعل سمجھ کر افسوس کرتا ہو۔ اس کا جواب بیان فرماتے ہیں:

کیا؟

28۔

سنتا ہو گر اس کا بھی ہے اک جواب

فرقۂ جبری کا بے باک ہو حساب

کیا ہے؟

29

حیرت و زاری جو بیماری میں ہے

اس سے تنبیہ ہے جو بیداری میں ہے

(یعنی) حالتِ مرض میں جو (بندے کو اپنے سابقہ اعمال پر) پریشانی و زاری لاحق ہوتی ہے۔ وہ بیماری کے وقت ایک کامل تنبیہ ہوتی ہے (کیونکہ بوجۂ خوفِ موت غفلت کا حجاب اُٹھ جاتا ہے۔)

اس وقت اس کو پتہ چل جاتا ہے کہ اوہو یہ میں نے کیا کیا! بلکہ موت کے وقت سب پشیمان ہوتے ہیں۔ سب پشیمان ہوتے ہیں۔ اور بیماری میں، ظاہر ہے جو لوگ ایمان رکھتے ہیں، وہ پشیمان ہوتے ہیں۔

32

جس زماں کہ ہوتا ہے بیمار تو

جرموں سے کرتا ہے استغفار تو

اس وقت تمہیں یاد آ جاتا ہے۔

33

اس وقت اپنی برائیاں ہو عیاں

نظر آئے پھر ہدایت کا نشاں

اس وقت تجھ پر گناہ کی برائیاں عیاں ہو جاتی ہیں تو (دل سے) نیت کر لیتا ہے کہ میں آئندہ راہِ (ہدایت) پر چلوں گا۔

32

عہد و پیماں تو کرے کہ بعد ازاں

میں کروں گا اطاعت اسکی ہر زماں

33

پس سمجھ آئی کہ بیماری تری

جو ہے اس سے ہے یہ بیداری تری

پس اس امر کا یقین ہوا کہ تیری بیماری تجھ کو (غفلت سے نکال کر) ہوش اور بیداری بخشتی ہے۔

اگر معترض کے خیال کے مطابق افعالِ قبیحہ سے نادم ہونا بوجۂ جہل و غفلت کے ہے تو بیماری میں تو انسان غافل و جاہل نہیں ہوتا۔ اس وقت قربِ موت کے تصور سے پوری ہوشیاری و بیداری ہوتی ہے۔ پھر کیوں نادم ہوتا ہے اور توبہ کرتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو فی الواقع اپنے اعمال کا اختیار حاصل ہے۔ جبھی تو اس کو ارتکابِ معاصی پر ندامت لاحق ہوتی ہے۔

یہ بہت عجیب بات کی، منطقی...

کہ مطلب یہ ہے کہ اگر اس کی جہل کی وجہ سے ہے، تو یہاں پر جو ہے بیماری میں وہ جاہل تو نہیں ہے۔ تو اس وقت پھر اس کو کیوں ایسا پیش آ رہا ہے؟ اس لیے پیش آ رہا ہے کہ اس وقت وہ اپنے اعمال کا پس منظر دیکھ رہا ہے کہ یہ تو میری غفلت تھی اور میں نے نقصان کیا۔ لہٰذا اس پر پشیمان ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ اختیار سمجھتا ہے نا اپنا، کہ میں اگر ایسا نہ کرتا تو ایسا نہ ہوتا۔ اس پر یہ اس کی طرف آتا ہے۔

34

پس سمجھ کہ جس کے دل میں درد ہو

پا لیا اس نے سراغ مجھ سے سنو

پس اے حقیقت کے طالب اس قاعدہ کلیہ کو سمجھ لے (کہ) جس آدمی میں درد ہے۔ اسی نے (محبوب) کا سراغ پایا ہے۔

ان دو شعروں میں انتقال ہے اس بات کی طرف کہ آدمی میں دردِ عشق ہونا چاہیے اور دردِ عشق ہی فوز و سعادت کا ذریعہ ہے۔

35

ہر کہ بیدار ہو تو ہو پُر درد تر

جو ہو آگاہ اسکا رُخ ہو زرد تر

جو زیادہ ہوشمند ہے۔ وہی زیادہ پُر درد ہے۔

اس کو احساس زیادہ ہے نا۔

جو زیادہ با خبر ہے (سوزِ عشق سے اسی کا) چہرہ زیادہ زرد ہے۔

جیسا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم وہ دیکھو جو میں دیکھتا ہوں، تو زیادہ نہ ہنسو بلکہ روؤ۔ تو یہی بات ہے کہ انسان کو اس سے پتہ چلنا چاہیے۔

36

جبری ہو تو تیری عاجزی کہاں

اور جھنکار زنجیرِ جباری کہاں

اگر تو جبری ہے تو پھر تیری عاجزی کہاں چلی گئی؟ جو لازمِ جبر ہے۔ اور تیری زنجیرِ جباری کی جھنکار کہاں ہے؟ جس میں تو بظاہر خود جکڑا ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تو جبری ہے تو پھر عاجزی کیسے آئی؟

یہاں سے پھر جبر و قدر کی بحث کی جانب عود کیا ہے اور قائلِ جبر کو الزامی جواب دیتے ہیں کہ اگر تم اپنے آپ کو مجبورِ محض سمجھتے ہو تو تم میں مجبوری کے آثار یعنی کمال عاجزی و بے اختیاری اور انکسار و تذلل ہونے چاہییں وہ کہاں ہیں؟ اور اگر تم اپنے آپ کو جباری کی خدائی زنجیر میں جکڑے ہوئے سمجھتے ہو تو اس زنجیر کی جھنکار یعنی تمہاری اس مجبوری کی علامات بھی ہونی چاہییں۔ مطلب یہ کہ تم ایک بے حس و حرکت تصویر ہوتے۔ پھر یہ مزا اور خود مختارانہ شوخیاں کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟

آگے اور بھی سخت بات کرتے ہیں۔

37

دعویٰ کرے کیا جو ہو زنجیر میں ٹوٹی لکڑی ہو کبھی شہتیر میں

وہ شخص جو زنجیر میں ہے وہ کیسے دعویٰ کر سکتا ہے کہ میں ایسا ہوں ایسا ہوں۔

دعویٰ کرے کیا جو ہو زنجیر میں ٹوٹی لکڑی ہو کبھی شہتیر میں

مطلب یہ ہے کہ ٹوٹی لکڑی کوئی رکھتا ہے اس طرح؟ یعنی

(بھلا) زنجیر کا (دست) بستہ داد و دہش کیونکر کر سکتا ہے۔ ٹوٹی لکڑی ستون کیونکر بن سکتی ہے۔

38

جو اسیر ہو کیسے آزادی کرے

کب گرفتارِ بلا شادی کرے

یعنی جو اپنے آپ کو اسیر سمجھتا ہے، قیدی سمجھتا ہے یعنی مجبوری، تو وہ کیسے آزادی کر سکتا ہے؟ وہ ظاہر مطلب ہے کہ واقعی جس کے سامنے کوئی دم نہیں مار سکتا تو اس کے سامنے پھر کیسے ہوتا ہے؟ تھر تھر کانپ رہا ہوتا ہے۔ اور کیا کر سکتا ہے؟ زندان کا قیدی آزاد کب رہ سکتا ہے؟ بلا کا گرفتار کب خوشی منا سکتا ہے؟

جیل خانہ کا قیدی آزاد کب رہ سکتا ہے۔ بلا کا گرفتار کب خوشی منا سکتا ہے۔

39

گر قضا و قدر نے باندھا تجھے

شاہ کا چوبدار ہر دم ہے دیکھتا تجھے

یعنی قضا و قدر نے تجھے باندھا ہے، تو پھر تو جو اللہ پاک کی طرف سے مقرر ہیں، وہ تو تمہیں ہر وقت دیکھ رہے ہیں، قضا و قدر کے جو چوبدار ہیں وہ تمہیں دیکھ رہے ہیں۔

40

عاجزوں پر جبر و تعدی نہ کر

کیسے مجبور یہ کرے، تو بھی نہ کر

تو پھر ایسے عاجزوں پر تو کیوں جبر اور تعدی کرتا ہے۔

عاجزوں پر جبر و تعدی نہ کر

کیسے مجبور یہ کرے، تو بھی نہ کر

تو تو عاجزوں پر سپاہیانہ جبر و تعدی نہ کر۔ کیونکر یہ بات ایک عاجز (و مجبور) کی خصلت و عادت نہیں ہو سکتی۔

41

جبر گر دیکھتا نہیں دعویٰ نہ کر

بے دلیل اس بات میں بولا نہ کر

جب تو (اپنے افعال میں) اس کا (یعنی خدا کا) جبر نہیں دیکھتا تو اس کا دعوٰی نہ کر۔ اگر دیکھتا ہے تو دیکھنے کی دلیل کیا ہے؟

42

کام جو کرتا ہے تُو، اس میں دیکھ ذرا

قدرت و اختیار کا مشاہدہ

جس کام سے تجھے لگاؤ ہے اس میں صاف طور پر تو اپنی قدرت و اختیار کا مشاہدہ کرتا ہے۔

یعنی دنیا کے کام، اس میں کہتے ہو کہ اوہو، یہ تو میں یہ کرتا ہوں، میں یہ کرتا ہوں، اس وقت تو اس میں اختیار کا مشاہدہ کرتا ہے۔ یہی اصل میں جواب ہے، بلکہ حضرت مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ نے ایک اور جگہ پر عجیب جواب دیا ہے۔ یہ تو اس میں تو نہیں آتا لیکن کسی اور جگہ فرمایا ہے کہ تجھ سے تو کتا بھی اچھا ہے۔ اگر تو یہ سوچتا ہے، تجھ سے کتا بھی اچھا ہے۔ اگر اس کو پتھر مارا جاتا ہے، تو وہ پتھر کے پیچھے نہیں لپکتا۔ وہ جو پتھر مار رہا ہے اس کے پیچھے لپکتا ہے۔ وہ پتھر کے پیچھے نہیں لپکتا کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ اصل کون ہے؟ تو اس طرح مطلب ہے کہ وہ مختلف طریقوں سے سمجھا رہے ہیں۔

43

کام جس کے ساتھ نہیں تجھ کو لگاؤ

کہتا ہے مجبور ہوں باقی چل چلاؤ

یعنی جس کے ساتھ تمہیں لگاؤ نہیں یعنی دین کے کام، تو اس میں کہتے ہو میں مجبور ہوں، میں کیا کروں؟ ہم تو مجبور ہیں۔ یعنی جتنے بھی اپنے آپ کو مجبور کہنے والے ہیں، دنیا میں اپنے آپ کو مجبور نہیں سمجھتے۔ تو پھر کیسے ہیں، سارے اپنے آپ کو دیکھ...

جس کام سے تجھے لگاؤ اور خواہش نہیں ہے۔ اس میں تو مجبور بن بیٹھتا ہے اور (کہنے لگتا ہے) کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔

ان دو شعروں میں قائلِ جبر کے ایک فریبِ نفس کو ظاہر کیا ہے یعنی اگر تم مجبورِ محض ہو تو تمام خوش گوار و ناگوار حالات میں مجبور و بے اختیار بنے رہو۔ یہ کیا معنٰی کہ حصولِ رغائب اور جر منافع کے لیے تو خود اپنی مرضی و اختیار سے ایسے بھاگے بھاگے پھرتے ہو گویا تمہارے نزدیک جبر و مجبوری کا کوئی مفہوم ہی نہیں۔ لیکن جب غیر ملائم حالات پیش آتے ہیں، گو ان کا اصلی باعث خود اپنی سوءِ تدبیر ہی کیوں نہ ہو، تو جبری بن جاتے ہو اور کہنے لگتے ہو ہمارے کیا بس ہے جو کچھ ہوا ہمارے اختیار سے باہر تھا۔

بلکہ میں تو کہتا ہوں، اس وقت معاملہ الٹا چل رہا ہے۔ اگر صحیح کام ہوگیا تو میں نے کیا اور اگر نہیں ہوا تو پھر اللہ نے۔ سمجھ میں آگئی نا بات؟ صحت عطا ہوگئی تو ڈاکٹر نے عطا کی اور اگر مر گیا تو کس نے مارا؟ بھئی یقیناً سب کو اللہ ہی مارتے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں، لیکن زندہ بھی اللہ ہی رکھتے ہیں نا۔ زندہ بھی تو اللہ ہی رکھتے ہیں نا۔ تو وہاں پر صورتحال بدل جاتی ہے، اور جس وقت زندگی کی بات ہوتی ہے، صحت کی بات ہوتی ہے وہ تو پھر ڈاکٹر صاحب ہیں یا میں خود ہوں اور اگر موت ہے بیماری ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ یہ بالکل الٹی منطق ہے۔

اب یہ آتا ہے۔

44

انبیا دنیا کے کام میں جبری ہیں

کافر سب عقبیٰ کے کام میں جبری ہیں

جو انبیاء ہیں وہ دنیا کے کام میں جبری ہیں، وہ کہتے ہیں جو بھی ملا بس، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانا ملتا تو کھا لیتے، نہیں ملتا تو فرماتے میرا روزہ ہے۔ اور عقبیٰ کے کام میں ایسے تھے کہ سبحان اللہ، سبحان اللہ! حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرما رہی ہیں کہ آپ کے پاؤں میں ورم آ گیا، تو آپ کو اللہ پاک نے تو بخشا بخشایا بنایا ہوا ہے، پہلے سے بخشا ہوا ہے۔ پھر آپ اتنی کیوں تکلیف کرتے ہیں؟ فرمایا، کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟

تو آخرت کے کاموں میں ایسی حالت ہے اور دنیا کے کاموں میں ایسی حالت ہے۔

انبیا دنیا کے کام میں جبری ہیں

کافر سب عقبیٰ کے کام میں جبری ہیں

(پس) انبیاء علیہم السلام تو دنیا کے معاملات میں جبری (و تارکِ اسباب) ہیں۔ اور کفار آخرت کے کاموں میں جبری اور تارک اسباب ہیں۔

خلاصۂ بحث یہ ہے کہ نہ مطلق اختیار صحیح ہے نہ مطلق جبر۔ بلکہ ان میں سے ہر ایک حالت مقید بقیدِ دیگر پائی جاتی ہے، یعنی یہ دونوں حالتیں خاص خاص حیثیات کے ساتھ اکٹھی پائی جاتی ہیں۔ ہاں بعض طبقات میں ایک حالت کو غلبہ ہے، بعض میں دوسری کو۔ مثلًا انبیاء علیہم السلام دنیا کے کام میں جبری یعنی تارک اسباب ہیں۔ اس لیے اسبابِ معیشت میں سادگی بلکہ فقر و بے سامانی اختیار کر لیتے ہیں۔ اور امورِ عقبٰی میں نہایت ہوشیار و زیرک اور اسباب و ذرائع کو اختیار کرنے والے ہوتے ہیں۔ اہلِ دنیا کا حال اس کے برعکس ہے۔

45

انبیاء عقبٰی میں پائے اختیار

کافر سب دنیا میں پائے اختیار

انبیا کے لیے کارِ آخرت (زیر) اختیار ہے کافروں کے لیے کارِ دنیا (زیر) اختیار ہے۔

انبیاء آخرت کے کاموں میں اسباب کے لیے سعی کرتے ہیں اور کافر دنیا کے کاموں میں۔

46

ہر پرند پیچھے جنس کے اپنے اڑے

جان اس کی آگے اور خود پیچھے رہے

کیونکہ ہر پرندہ اپنی جنس کی طرف اڑتا ہے۔ (اور ایسی رغبت سے کہ) وہ پیچھے پیچھے (ہوتا ہے) اور (اس کی) جان آگے آگے۔

47

دوزخی کافر کا جنس سجین ہے

سجنِ دُنیا کے لئے خوش بین ہے

جو دوزخی کافر ہوتا ہے وہ دوزخ کی جنس سے ہیں اس لیے زندانِ دنیا کے خوب آئین شناس ہیں۔

48

انبیا کا جنس جب علیین تھا

اس لئے ہر اک نبی ادھر گیا

انبیا چونکہ علیین کی جنس سے تھے (اس لیے) دل و جان سے علیین کی طرف گئے۔

49

اب خدا مجھ کو مقامِ ذوق دکھا

چپ رہوں بس دل پر ہوں اسرار القا

اے خدا جان کو (ذوق و وجدان کا) وہ مقام دکھا دے جس میں حرکتِ لسان کے بغیر بات چیت ہو جاتی ہے (تاکہ اس قسم کی تکلیفِ مکالمت کے بغیر ہی اسرار القاء ہو جایا کریں۔ جو یہاں بحثِ جبر میں کرنی پڑی)۔

یہ اب بہت عجیب بات فرمائی حضرت نے۔ حضرت نے یہ بات فرمائی کہ ایک ہوتا ہے علم جو تعلیم سے آتا ہے۔ اور ایک ہوتا ہے فہم جو ذوق سے آتا ہے۔ تو جن کو اللہ پاک مقامِ ذوق دے دیتے ہیں، تو ان کو یہ جو مفاہیم ہیں یکبارگی آتی ہیں۔ جیسے وہ ہوتے ہیں image memory... یعنی ایک چیز کی طرف، ساری، ساری چیزیں دیکھ لیتے ہیں وہ، وہ تفصیل سے نہیں کہ یہ اور یہ، یہ، بلکہ وہ بس ایک دم اس کی ساری چیزیں نظر آ جاتی ہیں۔ اور وہ یاد ہوتی ہیں ان کو۔ تو اس طرح جو صاحبِ ذوق ہوتے ہیں، وہ ان کو تمام چیزیں بیک وقت وہ چیزیں محسوس ہو جاتی ہیں۔ پھر اس قسم کی بحثوں میں نہیں وہ پڑ جاتے، بلکہ ان کا شرحِ صدر ہو جاتا ہے۔ شرحِ صدر والی بات ہے۔

رَبِّ اشْرَحْ لِيْ صَدْرِيْ وَيَسِّرْ لِيْ أَمْرِيْ شرحِ صدر ہو جاتا ہے تو جو شرحِ صدر ہے وہ بہت اعلیٰ مقام ہے۔ اس میں مطلب یہ ہے کہ وہ تعلیم والی بات نہیں ہوتی، بلکہ... یا اس کو علمِ لدنی کی طرف بھی لے جایا جا سکتا ہے۔ کہ علمِ لدنی جو ہوتا ہے وہ بھی یکبارگی حاصل ہوتا ہے۔ اس میں steps نہیں ہوتے۔ بس جو اللہ پاک نے دینا ہوتا ہے تو وہ دے دیتے ہیں۔ تو حضرت بھی اس کے لیے دعا کرتے ہیں۔

اے خدا مجھ کو مقامِ ذوق دکھا

چپ رہوں بس دل پر ہوں اسرار القا

کہ میں بولوں نہیں لیکن دل پر سارے اسرار لقا ہو جائیں۔

50

بس کر کہ اس بحث کا انتہا کہاں

چھیڑتا قصہ ہوں، تھا باقی جو رہا

ٰٰ اس بحث کی تو کوئی انتہا نہیں ہے لیکن ہم پھر اس باقی قصے کو چھیڑتے ہیں۔

یعنی دوبارہ اسی قصے کو چھیڑتے ہیں۔

اصل بات یہ ہے کہ یہ بحث جو ہے یہ بہت پیچیدہ ہے۔ تو حضرت سمجھا بھی رہے ہیں اور ڈر بھی رہے ہیں۔ سمجھا بھی رہے ہیں اور ڈر بھی رہے ہیں کہ کہیں زبان سے غلط بات نہ نکلے، اور واقعی بات تو صحیح ہے مطلب اس طرح سے... تو ایسی چیزوں میں ادب کا پہلو یہی ہے کہ دعا کی طرف بات چلی جائے۔ جیسے پیغمبر سب دعا جب کرتے ہیں تو یہی کہتے ہیں: رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ۔ اس طریقے سے یعنی ہر چیز میں جس وقت اس قسم کے نازک مقامات آتے ہیں تو لامحالہ اللہ کی طرف، دعا کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں، کہ یا اللہ! مجھے اس میں جو کچھ ہے اس سے بچا دے، جو کسی قسم کی غلطی وغیرہ ہو اس میں اے اللہ تعالیٰ مجھے نہ ڈال۔ تو یہ بات ہے تو حضرت نے اکثر اس بات کو دعا پر ختم کیا کہ مجبوراً میں یہ باتیں کر رہا ہوں سمجھانے کے لیے لیکن یا اللہ مجھے اس میں جو نقصان ہے اس سے بچا اور جو صحیح اور مناسب راستہ ہے اس پر مجھے ڈال دے۔

تو جیسے میں عرض کر رہا تھا کہ جو حضرت مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ ہیں یہ خود مفتی تھے۔ اخیر تک مفتی رہے۔ یعنی بالکل یعنی یقین جانیے کہ موت سے کچھ دیر پہلے فتویٰ دیا تھا۔ تو یہ اخیر وقت تک مفتی رہے، لیکن صاحبِ حال بھی تھے۔ تو قال ساتھ چلتا رہا، لیکن حال اس کا، حال میں شامل رہا۔ نتیجتاً وہ باتیں جو قال نہیں سمجھا سکتا۔ وہ حال کی زبان سے سمجھانے کی کوشش کی ہے۔

یہی بات ہے۔ یہی چیز ہے اس وجہ سے الہامی کلام ہے۔ کیونکہ یہ چیزیں قال کے ذریعے سے سمجھائی نہیں جا سکتیں۔ مطلب یہ کہ قال میں وہ چیزیں وہ ساری نہیں ہوتیں، جس پہ ایک چیز گزری نہیں ہے وہ کیسے سمجھائے، مجھے بتائیں آپ؟ مطلب یہ ہے کہ آپ کو ایک صاحب بتاتا ہے کہ جاؤ فلاں گھر میں ایسا ہو گا پھر ایسا ہو گا، پھر ایسا ہو گا، پھر ایسا ہو گا، یہ سارا قال ہے۔ تو وہ کسی اور کو سمجھائے گا تو کیسے سمجھائے گا؟ وہ اسی طرح سمجھائے گا جس طرح اس نے سمجھا ہے، اس میں بھی کچھ کم ہو جائے گا۔ کیونکہ ظاہر ہے اس نے تو سنا ہے نا۔ تو جتنا سنا ہے اس میں کچھ efficiency ہو گی اس کی، ستر فیصد، ساٹھ فیصد، کچھ یاد رکھا ہو گا، کچھ بھول چکا ہو گا۔ تو لہٰذا آگے contribute کتنا کرے گا؟ لیکن جس نے خود دیکھا ہو وہ جگہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسا ہوا تھا نا؟ جب معراج شریف تشریف لے گئے تھے۔ تو واپس جب آئے تو لوگوں نے باقاعدہ جو بیت المقدس جنہوں نے دیکھا تھا تو انہوں نے وہ جگہ جو دیکھی تھی تو انہوں نے پوچھا کہ وہاں کیا تھا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پھر دوبارہ دکھا دیا گیا۔ اور دیکھ دیکھ کر بتاتے رہے کہ یہ ہے، اور یہ تھا، اور یہ تھا، اور یہ تھا۔

اب اس میں یہ والی باتیں نہیں تھیں کہ مطلب... ورنہ ایک آدمی مثال کے طور پر میں حرم شریف کئی دفعہ گیا ہوں الحمد للہ۔ مجھ سے اگر حرم شریف کی باتیں پوچھی جائیں تو کیا میں ساری بتا سکتا ہوں؟ نہیں بتا سکتا۔ لیکن یہ بات ہے، ہاں ان سے زیادہ بتا سکتا ہوں جنہوں نے پڑھا ہے۔ ان سے میں زیادہ بتا سکتا ہوں، اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن پھر بھی حافظے میں کتنی رہتی ہے؟ وہ ایک الگ بات ہے۔

لیکن جس وقت سامنے پھر دوبارہ کیا جائے۔ تو یہ جو صاحبِ حال لوگ ہوتے ہیں، ان کے سامنے اس طرح ہوتا ہے۔ کہ کوئی چیز وہ جو سمجھا رہے ہوں تو وہ ان کے سامنے اس طرح کر لی جاتی ہے تو وہ اس کو اس طرح سمجھاتے ہیں۔ یا بالکل عیناً معاً، جس وقت کوئی سوال ہوتا ہے، اسی وقت اس کا جواب اترتا ہے۔ یعنی اس وقت اس سے پہلے نہ اس کو سوال کا پتہ ہوتا ہے نہ جواب کا پتہ ہوتا ہے۔ لیکن جس کو اللہ نے استعمال کرنا ہوتا ہے، تو اس کو یہ ہے کہ اس کو اسی وقت اس کے سوال کا بھی آتا ہے اور پھر اس کے جواب کا بھی آتا ہے۔

مثلاً ہمارے ساتھ ہوا ہے۔ ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ، ان کا یہ حال تھا کہ میں ایک ایسے صاحب کو لے گیا جو کسی چیز کو نہیں مانتا تھا۔ کہ کرامت کا منکر تھا، تو لہٰذا اولیاء اللہ کا بڑا گستاخ تھا اور مطلب اس قسم کی باتیں تھیں۔ تو خیر، کرامت کوئی لازمی ماننے والی چیز نہیں ہے لیکن ہمارا عقیدہ تو ہے کہ کرامتِ اولیاء حق، یہ تو ہے نا۔ تو اس کی وجہ سے اگر اولیاء کا مخالف ہو جائے تو پھر وہ بات تو خطرناک ہے نا۔ تو ان کو میں لے گیا شیخ کے پاس۔ ابھی حدیث شریف گزری ہے نا: مَنْ عَادَىٰ لِيْ وَلِيًّا... تو وہ معاملہ تو سخت ہو جاتا ہے۔

تو اس پر میں اس کو اپنے شیخ کے پاس لے گیا۔ تو حضرت نے بیان جو فرمایا، اس وقت بیان بھی نہیں تھا، سوال کا جواب تھا۔ حضرت کسی کے سوال کا جواب دے رہے تھے۔ لیکن وہ بڑا لمبا ہو گیا۔ تو میں سوچ رہا تھا کہ اگر حضرت پہلے پہنچتے تو میں ان کا تعارف کر لیتا، ان کے سوالوں کو وہ کر لیتا، حضرت جواب دیتے۔ لیکن وہ جواب اتنا لمبا ہو گیا کہ مغرب ہو گئی۔ اور مغرب کے بعد اس نے کہا کہ واپس جانا ہے۔ تو میں نے بڑا افسوس کیا کہ میں نے کہا یہ اس کی قسمت میں شاید نہیں ہے۔

خیر! جس وقت نماز کا وقت ہو گیا، مغرب کی نماز پڑھی، کہتا ہے جانا ہے؟ میں نے کہا جانا ہے، وعدہ کیا تھا۔ باہر آئے تو مجھے کہتا ہے آپ نے مولانا کا تعارف ہی نہیں کیا تھا، مولانا تو بہت بڑے آدمی ہیں۔ میں نے کہا شاید چھیڑ رہا ہے۔ میں نے کہا چھیڑنے والی چیز کی اجازت نہیں ہے۔ کہتا ہے نہیں، چھیڑ نہیں رہا۔ میں نے کہا پھر آپ نے کیا دیکھا؟ ہمارے لیے تو معمول کی مجلس تھی۔ میں نے کہا پھر کیا دیکھا؟ کہتے حضرت بیان فرما رہے تھے تو اس میں ایک بات پر مجھے اشکال ہو گیا۔ اشکال تو ہوتے ہیں۔ حضرت نے اس کا جواب دے دیا، فرمایا یہ ہو سکتا ہے بائی چانس۔ فرمایا اس جواب پر مجھے اشکال ہو گیا۔ اس کا بھی حضرت نے جواب دے دیا، میں نے کہا یہ تو بڑا مشکل ہے، کیسے مطلب اس کا کیا پتہ کس پہ کتنے اشکال ہو سکتے ہیں۔ کہتے پھر اس پہ بھی مجھے اشکال ہو گیا تو اس کا بھی حضرت نے جواب دیا۔ تو میں نے کہہ یہ کیا بات ہے یہ کس طرح ہو سکتا ہے۔

تو میں نے کہا کمال ہے میں تو آپ کو بڑا ذہین سمجھتا تھا آپ تو بڑے بودے نکلے۔ کہتے کیا مطلب؟ میں نے کہا مطلب یہ ہے کہ کیا آپ کا اس پر ایمان ہے کہ جو چیز آپ کے دماغ میں ہے کسی اور کے دماغ میں ہے، اللہ کو پتہ ہے؟ کہتے بالکل! میں نے کہا آپ کا اس پر ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کی زبان پر جو چیز لانا چاہے تو لا سکتا ہے؟ چاہے اس کو پتہ ہو یا نہ ہو؟ کہتے ہاں بالکل! میں نے کہا آپ کے دماغ میں جو تھا وہ اللہ تعالیٰ کو پتہ تھا، اللہ پاک نے مولانا صاحب کی زبان پر اس کا جواب بھیجا، شاید مولانا صاحب کو پتہ بھی نہیں ہو گا کہ میں کسی کا جواب دے رہا ہوں۔

کہتے یہ تو ہو سکتا ہے۔ میں نے کہا یہی تو کرامت ہوتی ہے۔ کرامت ولی کا فعل نہیں ہوتا، کرامت خدا کا فعل ہوتا ہے۔ صرف ولی کے ہاتھ پر ظاہر ہوتا ہے۔ تو جب ایسی بات ہے تو ظاہر ہے ہم کوئی بھی کرامت اس کو نہیں سمجھتے کہ بھئی وہ نہیں ہو سکتا، کیوں کہ اللہ تعالیٰ ساری چیزوں پہ قادر ہے۔ إِنَّ اللّٰهَ عَلىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۔ اللہ تعالیٰ تو سب کچھ کر سکتا ہے۔ اور اگر مردوں کو زندہ کروانا چاہے تو کروا سکتا ہے، اس کے لیے کیا مشکل ہے؟

کہتے ہیں پھر تو ٹھیک ہے۔ بس پھر اس کا عقیدہ ٹھیک ہو گیا۔ اب یہ جو چیز ہے یہ بس اللہ پاک کی طرف سے تھا۔ مطلب ظاہر ہے اس میں کوئی اور بات تو نہیں تھی نا۔ تو یہی بات ہوتی ہے کہ حضرت بھی اخیر میں کہتے ہیں کہ یا اللہ! بس مجھے مقامِ ذوق دے دے۔ جو کہ علم سے اونچا مقام ہے۔ اس سے وہ اللہ تعالیٰ تمام مشکلات آسانیوں میں بدل لیتے ہیں۔ اور جن چیزوں میں لوگ برسوں پڑے ہوتے ہیں، وہ یکبارگی میں وہ ساری چیزیں حل ہو جاتی ہیں۔ اللہ جل شانہٗ ہم سب کو توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ ان ساری چیزوں کو سمجھنے کی اور شریعت کے مطابق زندگی گزارنے کی ہمیں توفیق عطا فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ، سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔ آمین۔


عقیدۂ جبر و اختیار کی حقیقت اور مقامِ ذوق - درس اردو مثنوی شریف - دوسرا دور