اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ،
وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِيِّيْن
أَمَّا بَعْدُ!
فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ،
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
تمام امور کے ابتدا میں اللہ پر توکل کرنا چاہئے
وَقَالَ اللہ تَعَالٰی:فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَی اللّٰهِ۔
ارشادِ خداوندی: ”اور جب کسی کام کا عزم کرلو تو خدا پر بھروسہ رکھو اور جو خدا پر بھروسہ رکھے گا تو وہ اس کو کفایت کرے گا۔“
وَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَی اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ۔
اس آیتِ مبارکہ میں غزوہ احد کے ایک فیصلے کی طرف اشارہ ہے۔ کہ جب آپﷺ نے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے مشورہ کیا کہ مدینہ سے باہر جاکر مقابلہ کیا جائے یا مدینہ کے اندر رہ کر مقابلہ کیا جائے تو اکثر نوجوان صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی رائے یہی ہوئی کہ باہر نکل کر مقابلہ کیا جائے مگر آپﷺ کی منشاء یہی تھی کہ اندر ہی رہ کر مقابلہ کیا جائے جب آپﷺ زرہ پہن کر آگئے تو ان صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے کہا کہ اندر ہی رہ کر مقابلہ کریں تو اس پر آپﷺ نے فرمایا اب اللہ پر بھروسہ کرلیا ہے۔
اب آیت کا مطلب یہ ہوا کہ جب باہم مشورہ سے جو طے ہوجائے اس پر عمل کرو اور اعتماد اللہ کی ذات پر رکھو۔ کیونکہ غیب کا علم تو اللہ کو ہی ہے۔
”عَزَمْتَ“: سے صیغہ خطاب سے آپﷺ مراد ہے یا مشورہ کا امیر مراد ہے کہ عزم اور پختہ ارادہ امیر کا معتبر ہے کہ جب امیر کا مشورہ کے بعد اس کام کے کرنے کا پختہ عزم و ارادہ ہوگیا تو اب اللہ پر بھروسہ کر کے کام کرلینا چاہئے۔ اپنی عقل و رائے اور تدبیروں پر بھروسہ نہیں کرنا چاہئے:
خویش را دیدیم و رسوائی خویش
امتحان مکن اے شاہ پیش
اصل میں اسباب اور مسبب الاسباب، یہ سلسلہ ہمیشہ کے لیے جڑا رہتا ہے۔ تو اسباب میں مشورہ آتا ہے، اور مشورے میں پھر تمام اسباب دیکھے جاتے ہیں۔ ٹھیک ہے نا؟ اور وہمی چیزوں سے بچنے کے لیے توکل لازمی ہے۔ کیونکہ جو وہمی چیزیں ہیں نا، وہ کبھی ختم نہیں ہوتیں۔ اگر کوئی کہے بھئی، اگر ایسا ہو گیا؟ پھر وہ کہتا ہے اچھا اس کا یہ، تو کہتا ہے اگر ایسا ہو گیا پھر؟ تو پھر اگر ایسا ہو گیا؟ اب اس طرح یہ تو لامتناہی سلسلہ ہے۔
ایک Contractor کہہ رہا تھا کہ کوئی آرمی کا کوئی Project تھا۔ تو انہوں نے کہا کہ سر ہم نے یہ بنایا ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ اگر یہ یہاں حملہ ہو گیا اور یہ قابو ہو گیا تو پھر؟ تو انہوں نے کہا پھر فلاں جگہ سے ہم نے پہاڑ سے راستہ نکالا ہے۔ انہوں نے کہا وہ راستہ بھی بند ہو گیا تو پھر؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم نے پھر فلاں جگہ پل بنایا ہوا ہے۔ تو انہوں نے کہا اگر وہ اڑا دیا تو پھر؟ انہوں نے کہا:
Sir then you have to fight.
مطلب ظاہر ہے آپ کو پھر جنگ ہی لڑنی پڑے گی۔ آپ کیا کریں گے، ظاہر ہے ساری چیزیں تو اس طرح نہیں ہوتیں۔ آپ کی مرضی کے مطابق۔ مطلب کوئی آپ کو تھالی میں سجا کر تو کوئی چیز نہیں دے گا نا۔ جنہوں نے ڈرامے دیکھے ہوں نا، ڈراموں میں لڑائیاں دیکھی ہوتی ہیں۔ تو پھر اس کا اپنا ذہن ہوتا ہے کہ میں اس طرح کروں گا، اس طرح کروں گا، اس طرح کروں گا۔ لیکن جب Actual لڑائی ہوتی ہے وہ تو آپ کی مرضی کے مطابق نہیں ہوگی۔ وہ تو جو ہوگا، تو ہوگا۔ تو اس کے حساب سے آپ کو مار بھی کھانی پڑے گی، مارنا بھی پڑے گا۔ تو وَيَقْتُلُوْنَ وَيُقْتَلُوْنَ۔ مطلب دونوں آتے ہیں نا، وہ بھی مار بھی رہے ہوتے ہیں، مارے بھی جا رہے ہوتے ہیں۔ تو یہ ساری چیزیں ہوتی ہیں۔
اب آپ نے مشورہ کرنا ہے۔ مشورے میں اسباب کو دیکھنا ہے، اور اللہ کے حکم کو دیکھنا ہے۔ اب مشورہ ہو گیا۔ تو جو وہمی چیزیں ہیں اب ان کو دفع کرو۔ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَی اللّٰهِ۔ جب آپ نے عزم کر لیا تو پھر اللہ پر بھروسہ کرو۔ وہ، اللہ پاک پر جو بھی بھروسہ کرتا ہے اس کے لیے اللہ کافی ہو جاتا ہے۔
تو یہی مطلب اس کا مراد ہے کہ ہم لوگ اس میں جب بھی اجتماعی کوئی کام ہو۔ تو اس میں ہم مشورہ کر لیں۔ اور مشورے کے امیر کی جو رائے ہو جائے پھر اس پر سب اس کے ساتھ متفق ہو جائیں۔ پھر یہ نہیں کہ میں نے تو یہ کہا تھا، میں نے تو یہ کہا تھا۔ یہ والی پھر غلط بات ہے۔ جو کہا تھا وہ کہا تھا، وہ سنا گیا۔ اب فیصلہ ہو گیا۔ اب فیصلہ ہو گیا تو اب اس میں، درمیان میں، کوئی اور بات نہیں ہے۔ اب امیر کی رائے کے ساتھ سب کی رائے ہے۔ یہی بات ہے۔ تو اگر ہم لوگ ان چیزوں پر عمل کر لیں تو شیطان کو درمیان میں گھسنے کا موقع نہیں ملے گا۔
اللہ جل شانہٗ ہم سب کی حفاظت فرما دے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ، وَسَلَامٌ عَلَی الْمُرْسَلِيْنَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔