توکل علَی اللہ: فانی دنیا کے بجائے حیّ و قیوم رب پر بھروسا

درس نمبر 106- باب فی الیقین والتوکل - (اشاعتِ اول) 3 نومبر، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

اہم موضوعات:

  •  اللہ تعالیٰ پر توکل کی اہمیت اور قرآنی احکامات کی روشنی میں اس کی ترغیب۔
    • حیّ (ہمیشہ زندہ رہنے والی ذات) کا حقیقی مفہوم۔
      • دنیاوی نظام (System) اور افسران کی مثال سے فانی سہاروں کی حقیقت کی وضاحت۔
        • حضرت خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ کا سنہری فرمان: باقی اور فانی کاموں کا فرق۔
          • انبیاءِ کرام کی تعلیمات کی روشنی میں توکل کا تقاضائے ایمان ہونا۔
            • نفع و نقصان کا مالک صرف اللہ کو مان کر معاملات اسی کے سپرد کرنا (تفویض)۔

              الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ،

              فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،

              بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ۔


              اللہ ہی پر توکل کرنا چاہئے


              وَقَالَ تَعَالٰی: ﴿وَتَوَكَّلْ عَلَى الْحَيِّ الَّذِيْ لَا يَمُوْتُ﴾ (الفرقان: 58)

              ارشادِ باری تعالیٰ: ”اور اس (خدائے) زندہ پر بھروسہ رکھو جو کبھی نہیں مرے گا۔“

              وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿وَعَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ﴾ اور اللہ ہی پر مومنوں کو بھروسا کرنا چاہیے۔

              یہ سورۂ فرقان اور سورۂ ابراہیم کی آیاتِ مبارکہ کے حصے ہیں

              اس میں ترغیب دی جا رہی ہے کہ آدمی اعتماد کرے اسی ذات پر جو ہمیشہ زندہ رہے گی اس کو موت نہیں آئے گی۔

              اصل میں ”حئی“ اس کو کہتے ہیں کہ جو زندہ رہے بغیر روح کے، تمام جاندار روح کے ساتھ زندہ ہے ان کی زندگی کسی بھی وقت ختم ہوسکتی ہے، اگر اللہ کے سوا کسی اور پر اعتماد کیا تو وہ کسی بھی وقت بے یارومددگار چھوڑ دے گا، یعنی چلا جائے گا دنیا سے، مگر اللہ جل شانہ کی حیات پر کبھی بھی موت طاری ہونے کا وہم بھی نہیں ہوسکتا، تو ایسی ذات پر اعتماد کرنے والا کبھی بھی بے یارومددگار نہیں ہوسکتا۔

              یہ آرمی میں اکثر یہ جو ہوتے ہیں industries، یعنی workshops ہوتے ہیں، یا اس طرح اور، تو اس میں جو انجینیر ہوتے ہیں وہ دو سال، تین سال کے لیے آتے ہیں۔ اس کے بعد چلے جاتے ہیں۔ تو آدمی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں فلاں آدمی کے ساتھ ہوں تو محفوظ ہوں۔ کیوں؟ اس کو سسٹم کے ساتھ loyal ہونا چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دو تین سال کے بعد چلے جاتے ہیں، یہ تو ادھر رہتا ہے۔ foreman ہے یا جو بھی ہے، اور وہ officer تو چلا جاتا ہے۔ تو ایسی صورت میں پھر کیا ہوگا؟ اب اگر ایک کو خوش کرنے کے لیے اس نے کوششیں کی ہیں اور system کے ساتھ loyal نہیں ہے، تو تین سال کے بعد وہ چلا جائے گا پھر اس کے بعد کوئی اور آ جائے گا۔ تو اور کے ساتھ تمہارا کیا ہوگا؟ تو مطلب یہ ہے کہ یعنی اس طرح ہم دنیا میں اگر دیکھتے ہیں تو اگر ہم دنیا کی چیزوں پر بھروسا کریں۔ تو وہ تو فانی ہیں۔ تو اگر ہم نے ان کا دل جیت بھی لیا تو کیا ہو گیا؟ وہ چلا جائے گا۔ جبکہ اللہ جل شانہٗ کی ذات باقی ہے۔ اور اس کے لیے جو چیز ہوگی تو... تو حضرت خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ کا ایک ملفوظ ہے۔ فرماتے ہیں کہ... جو کام باقی کے لیے کیا جائے وہ باقی رہتا ہے۔ اور جو کام فانی کے لیے کیا جائے وہ فانی ہو جاتا ہے۔ ماشاء اللہ! بہت ہی balance قسم کا ملفوظ ہے۔

              جو دوسری آیت ہے اس میں انبیاءِ کرام سے خطاب ہے اپنی قوم کو... ﴿قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ إِن نَّحْنُ إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ﴾ تو آیت کا مطلب ہوا کہ انبیاء نے اپنے ایمان والے ساتھیوں کو ہدایت فرمائی کہ کافروں کے مقابلے کے وقت اللہ پر اعتماد اور بھروسا کرنا چاہیے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ پر بھروسا کرنا تقاضائے ایمان بھی ہے۔ جب مومن کا یہ پختہ عقیدہ ہو جاتا ہے کہ ہر خیر و شر پیدا کرنے والا اور نفع و ضرر پہنچانے والا اللہ جل شانہٗ کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔ تو اس صورت میں وہ لازمی طور پر اپنے تمام معاملات اللہ کے سپرد کر دیتا ہے۔

              ہمیں بھی تمام کام اللہ پاک کے سپرد کرنے چاہییں، اسی کو تفویض کہتے ہیں اور توکل کہتے ہیں۔ تو... ﴿وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ﴾ جو اللہ پاک پر بھروسا کرتا ہے اللہ اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسا قلب و جگر نصیب فرما دے، جس سے ہم اس پر عمل کر سکیں۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔

              توکل علَی اللہ: فانی دنیا کے بجائے حیّ و قیوم رب پر بھروسا - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور